Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 59

سورة طه

قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾

[Moses] said, "Your appointment is on the day of the festival when the people assemble at mid-morning."

موسیٰ ( علیہ السلام ) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہوجائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ ... (Musa) said: "Your appointed meeting is the day of the festival, That was the day of their celebration and their New Year's festivity. It was a holiday for them when they took vacation from their work and came together for a large gathering. This day was selected so that all of the people could witness the power of Allah to do whatever He wills. They would see the miracles of the prophets and the futility of magic to contest the supernatural prophetic powers. This is why Musa said, ... وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ... and let the people assemble, meaning all of them. ... ضُحًى when the sun has risen (forenoon). meaning in the morning, just before noon. In this way the contest will be most visible, well lit, apparent and obvious in plain view. This is the way of the Prophets. Their work is always clear and apparent. It is never something hidden, or something for sale. This is why he did not say that the meeting should be at night, but rather, it was to be held during the bright part of the day. Ibn Abbas said, "The day of their festivity was the day of `Ashura'." As-Suddi, Qatadah and Ibn Zayd said, "It was the day of their great celebration." Sa`id bin Jubayr said, "It was the day of their great bazaar." These statements are not contradictory. I say that Allah destroyed Fir`awn and his armies on a day similar to this, just as is confirmed in the Sahih. Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "It was a flat place where all of the people were on the same level, having an equal view of the event. There was nothing there that would obstruct the view so that some people could see what others did not."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 اس سے مراد نو روز یا کوئی اور سالانہ میلے یا جشن کا دن ہے جسے وہ عید کے طور پر مناتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١] جادوگرو کا مقابلہ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دو شرطیں فرعون کا یہ چیلنج دراصل موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی آواز تھی۔ مگر ایسا کھلے میدان میں مقابلہ کرانا ان کے وسائل سے خارج تھا۔ فرعون نے چیلنج کیا تو آپ نے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے فورا ً قبول کر یا۔ اور ساتھ دو باتیں یا شرائط اور بھی کہہ ڈالیں۔ ایک تو یہ مقابلہ صرف کھلے میدان میں ہی نہیں بلکہ جشن سالانہ کے دن ہونا چاہئے۔ جبکہ لوگ ہر طرف سے کھیچنے کر دارالسلطنت میں میلہ دیکھنے آتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مقابلہ کو دیکھ سکیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ مقابلہ دن کی صاف روشنی میں چاشت کے وقت ہونا چائیے تاکہ لوگوں کو اس منظر مقابلہ کے دیکھنے اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ ۔۔ : ” ضُـحًي “ وہ وقت جب سورج نکلنے کے بعد اس کی حرارت کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو خود چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں، تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچے اور وہ معجزات الٰہی کو اور حق کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چناچہ ” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “ اور دوپہر کا وقت مقرر کردیا گیا، تاکہ لوگ چھٹی کی وجہ سے فارغ ہوں اور دوپہر تک تمام علاقوں سے ہر شخص آسانی سے پہنچ جائے، دن کی روشنی زیادہ سے زیادہ ہو اور اگر مقابلہ طول پکڑ جائے تو مغرب تک لمبا وقت مل جائے۔ ” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “ مصریوں کے ہاں معروف دن تھا، یہ اس دن منایا جاتا جب نیل کی طغیانی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اور دور تک پانی پھیل جاتا، جس کے بعد فصلوں کی کاشت کا آغاز ہوتا۔ ابن عاشور (رض) نے اس کا اندازہ پندرہ ستمبر لگایا ہے۔ تفصیل ” التحریر والتنویر “ میں دیکھیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جگہ کا ذکر نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “ میں تمام لوگوں کا جشن منانے کے لیے کسی خاص جگہ جمع ہونا معروف تھا، جیسا کہ حکومتوں نے بڑے بڑے سٹیڈیم بنا رکھے ہوتے ہیں، اس لیے زینت کا دن اور وقت طے کرنے کے بعد جگہ کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ‌ النَّاسُ ضُحًى (Your appointment is the festival day and that the people are assembled at forenoon - 20:59). يَوْمُ الزِّينَةِ has been explained differently by different authorities. Some say it was a special festival when the Egyptians, attired in beautiful dresses, gathered outside the towns, while others say that it was a Saturday (& یوم السَّبت), and according to some others it was the tenth day of Muharram (عاشُورا). The great advantage in fixing for the contest It was a wise move on the part of Sayyidna Musa (علیہ السلام) to fix festival day as the day of contest when all Egyptians, high and low, were expected to assemble at an appointed place. There was also a point in fixing early forenoon as the time for the contest because this is the time when people, having finished their daily chores, are free to engage in other things. Also daylight and visibility are at their best in the early forenoon and people, while dispersing after witnessing a momentous event, spread the news far and wide. Thus when, with Allah&s help, Sayyidna Musa (علیہ السلام) inflicted a crushing defeat on the Egyptian magicians, the story became known the same day to people living in far flung places. Magic - its truth, forms and the rules governing it For a detailed discussion on this subject reference may be made to the story of Harut and Marut in Surah Al-Baqarah at page 265 to 278 of Ma&ariful Qur&an vol. I.

مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُـحًي، یعنی یہ مقابلہ یوم الزینتہ میں ہونا چاہئے۔ مراد عید یا کسی میلے وغیرہ کے اجتماع کا دن ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ کونسا دن تھا ؟ بعض نے کہا کہ آل فرعون کی کوئی عید مقرر تھی جس میں وہ زینت کے کپڑے پہن کر شہر سے باہر نکلنے کے عادی تھے، بعض نے کہا کہ وہ نیروز کان تھا کسی نے کہا کہ یوم السبت یعنی ہفتہ کا دن تھا جس کی یہ لوگ تعظیم کرتے تھے، بعض نے کہا کہ وہ عاشورا، یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ فائدہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دن اور وقت کی تعیین میں بڑی حکمت سے کام لیا کہ دن ان کی عید کا تجویز کیا جس میں سب چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں کا اجتماع پہلے سے متعین تھا جس کا نتیجہ لازمی یہ تھا کہ یہ اجتماع بہت بڑا پورے شہر کے لوگوں پر مشتمل ہوجائے اور وقت ضحی یعنی چاشت کا رکھا جو آفتاب کے بلند ہونے کے بعد ہوتا ہے جس میں ایک مصلحت تو یہ ہے کہ سب لوگوں کو اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر اس میدان میں آنا آسان ہو۔ دوسری مصلحت یہ بھی ہے کہ یہ وقت روشنی اور ظہور کے اعتبار سے سارے دن میں بہتر ہے ایسے ہی وقت میں دلجمعی اور سکون کے ساتھ اہم کام کئے جاتے ہیں اور ایسے وقت کے اجتماع سے جب لوگ منتشر ہوتے ہیں تو بات دور دور تک پھیل جاتی ہے چناچہ اس روز جب حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعونی ساحروں پر غلبہ عطا فرمایا تو ایک ہی دن میں پورے شہر میں بلکہ دور دور تک اس کی شہرت ہوگئی۔ جادو کی حقیقت اور اس کی اقسام اور شرعی احکام : یہ مضمون پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ ہاروت و ماروت کے قصہ میں معارف القرآن جلد اول ص ٢١٧ سے ٢٢٣ تک بیان ہوچکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَۃِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًي۝ ٥٩ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ ضحی الضُّحَى: انبساطُ الشمس وامتداد النهار، وسمّي الوقت به . قال اللہ عزّ وجل : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] ، إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ، وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] ، وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] ، وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى [ طه/ 59] ، وضَحَى يَضْحَى: تَعَرَّضَ للشمس . قال : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] ، أي : لك أن تتصوّن من حرّ الشمس، وتَضَحَّى: أَكَلَ ضُحًى، کقولک : تغدّى، والضَّحَاءُ والغداءُ لطعامهما، وضَاحِيَةُ كلِّ شيءٍ : ناحیتُهُ البارزةُ ، وقیل للسماء : الضَّوَاحِي ولیلة إِضْحِيَانَةٌ ، وضَحْيَاءُ : مُضيئةٌ إضاءةَ الضُّحَى. والأُضْحِيَّةُ جمعُها أَضَاحِي وقیل : ضَحِيَّةٌ وضَحَايَا، وأَضْحَاةٌ وأَضْحًى، وتسمیتها بذلک في الشّرع لقوله عليه السلام : «من ذبح قبل صلاتنا هذه فليُعِدْ» ( ض ح و ) الضحی ٰ ۔ کے اصل معنی دہوپ پھیل جانے اور دن چڑھ آنے کے ہیں پھر اس وقت کو بھی ضحی کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ایک شام یا صبح وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] آفتاب کی روشنی کی قسم اور رات کی تاریکی کی جب چھاجائے ۔ وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] اور اسکی روشنی نکالی ۔ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى[ طه/ 59] اور یہ لوگ ( اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں ۔ ضحی یضحیٰ شمسی یعنی دھوپ کے سامنے آنا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ۔ یعنی نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاؤ گے ۔ تضحی ضحی کے وقت کھانا کھانا جیسے تغدیٰ ( دوپہر کا کھانا کھانا ) اور اس طعام کو جو ضحی اور دوپہر کے وقت کھایا جائے اسے ضحاء اور غداء کہا جاتا ہے ۔ اور ضاحیۃ کے معنی کسی چیز کی کھلی جانب کے ہیں اس لئے آسمان کو الضواحی کہا جاتا ہے لیلۃ اضحیانۃ وضحیاء روشن رات ( جس میں شروع سے آخر تک چاندنی رہے ) اضحیۃ کی جمع اضاحی اور ضحیۃ کی ضحایا اور اضحاۃ کی جمع اضحیٰ آتی ہے اور ان سب کے معنی قربانی کے ہیں ( اور شرقا قربانی بھی چونکہ نماز عید کے بعد چاشت کے وقت دی جاتی ہے اس لئے اسے اضحیۃ کہاجاتا ہے حدیث میں ہے (9) من ذبح قبل صلوتنا ھذہ فلیعد کہ جس نے نما زعید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا وہ دوبارہ قربانی دے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارے مقابلہ کے مقابلہ کے وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں تمہارا بازار لگتا ہے یا یہ کہ تمہارے میلے اور خوشی کا دن یا یہ کہ نیروز اور جس میں تمام شہروں سے دن چڑھے لوگ جمع ہوتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٩ (قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ ) ” ان کے ہاں یہ کوئی تہوار تھا جس کے سلسلے میں وہ لوگ بڑی تعداد میں کسی میدان میں جمع ہو کر جشن مناتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اسی تہوار کے اجتماع کو مقابلے کے لیے مخصوص کرلیا۔ (وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی ) ” یہ ضحی کا وقت وہی ہے جس وقت ہم عیدین کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی جب دھوپ ذرا سی اٹھ جائے اس وقت لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31. The object of Pharaoh was this: Once the sorcerers are able to transform the staffs and ropes into serpents, the entire effect of the miracle performed by Moses (peace be upon him) would disappear from the people’s minds. That was exactly to Moses’(peace be upon him) advantage, who suggested that it was no good fixing an ordinary day or place for the purpose. The Day of the Feast was at hand. People would flock on that occasion from all corners of the empire. Therefore, the encounter should be held in the open so that all might witness it, and in the day time so that everyone should be able to see it clearly.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :31 فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک دفعہ جادوگروں سے لاٹھیوں اور رسیوں کا سانپ بنوا کر دکھا دوں تو موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہو جائے گا ۔ یہ حضرت موسیٰ کی منہ مانگی مراد تھی ۔ انہوں نے فرمایا کہ الگ کوئی دن اور جگہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔ جشن کا دن قریب ہے ، جس میں تمام ملک کے لوگ دار السلطنت میں کھنچ کر آ جاتے ہیں ۔ وہیں میلے کے میدان میں مقابلہ ہو جائے تاکہ ساری قوم دیکھ لے ۔ اور وقت بھی دن کی پوری روشنی کا ہونا چاہیے تاکہ شک و شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

22: یہ کوئی تہوار تھا جس میں فرعون کی قوم جشن منایا کرتی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا انتخاب اس لیے فرمایا تاکہ ایک بڑا مجمع موجود ہو اور اس کے سامنے حق کی فتح کا مظاہرہ ہوسکے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:59) یوم الزینۃ۔ جشن کا دن ۔ عید کا دن۔ یحشر۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) اکٹھے کئے جاویں ۔ جمع کئے جاویں۔ ضحی۔ وقت چاشت دن چڑھے۔ وہ وقت جبکہ دھوپ چڑھ جائے۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں۔ نیز اس وقت کو بھی ضحی کہتے ہیں یعنی سارے لوگ اکٹھے کئے جاویں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 حضرت موسیٰ نے عید کا دن اس لئے تجویز فرمایا کہ اس روز ملک کے تمام عالقوں کے لوگ کھچ کر دارالسلطنت میں جمع ہوتے ہیں اور نیز تجویز کیا کہ ضحی کے وقت مقابلہ شروع ہوتا کہ اگر مقابلہ لمبا ہوجائے تو تمام دن قائم رہ سکے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال موعدکم یوم الزینۃ (٠٢ : ٩٥) موسیٰ نے کہا جشن کا دن طے ہوا۔ “ اور یہ بھی کہا کہ سورج نکلتے ہیں لوگ جمع ہوں تاکہ جگہ کھلی ہو ، وقت لوگوں کے اجتماع کا ہو ، صبح کا وقت اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ آسکیں ، نہ گرمی ہو ، نہ رات کا اندھیرا ہو۔ بہت سویرے بھی نہ ہو کہ لوگ گھروں سے نکلنے کے لیء ابھی فارغ ہی نہ ہوئے ہوں۔ دوپہر بھی نہ ہو کہ بہت گرمی ہوتی ہے ، شام بھی نہ ہو کہ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ لوگ جمع بھی نہیں ہوتے اور پھر روشنی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ الصحیٰ یعنی دن چڑھنے کا وقت سب سے موزوں ہے۔ اب یہ منظر موسیٰ و ہارون اور فرعون کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کا منظر یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ایک مومن داعی ہے اور دوسری طرف ایک متکبر اور سرکش مقتدر اعلیٰ …پردہ گرتا ہے اور آئندہ ملاقات کے میدان میں ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

59 حضرت موسیٰ نے فرمایا تمہارے وعدے کا دن وہی ہے جس دن تمہارے جشن کا میلا ہوا کرتا ہے بس وہی دن وعدے کا وقت ہے اور یہ لوگ دن چڑھے اور چاشت کے وقت جمع ہوجائیں یعنی جس دن تمہارے ہاں جشن ہوتا ہے اور جشن کا میلہ بھرتا ہے وہی دن مقرر کرلو اور دن چڑھنے تک لوگوں کو جمع کرلیا جائے اول تو خود ہی لوگ میلے میں آتے ہیں تمہارے طرف سے تاکید ہوجائے گی تو لوگ بکثرت جمع ہوجائیں گے اور سب کے سامنے مقابلہ کا فیصلہ ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کو غرض تھی وہ چاہے کہ ان کو ہرا دحے سب کے روبرو دے چاہیں کہ دے ہارے جشن کا دن سارے مصر کے شہر میں مقرر تھا فرعون کی سال گر کا۔ 12