The Idolators seek to hasten on the Punishment
Allah also tells us how the idolators seek to hasten punishment upon themselves, out of denial, rejection, disbelief, stubbornness and a belief that it will never happen.
He says:
وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful".
And Allah says:
خود عذاب کے طالب لوگ
عذاب الٰہی کو ، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو ۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے ، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے ، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ کرو ، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ۔