The Lessons to be learned from Those Who mocked the Messengers in the Past
Allah says consoling His Messenger for the pain and insult caused by the mockery and disbelief of the idolators,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِيَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِوُون
Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock.
meaning, the punishment which they thought would never come to pass.
This is like the Ayah:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ وَلَقدْ جَأءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt; till Our help reached them, and none can alter the Words of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you). (6:34)
Then Allah mentions His favor for His creatures; He protects them by night and by day, taking care of them and watching over them with His Eye that never sleeps.
انبیاء کی تکذیب کافروں کاشیوہ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہاہے ، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پر یشان نہ ہونا ، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے ۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34 ) 6- الانعام:34 ) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی ۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کررہاہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ۔ من الرحمان کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں عربی شعروں میں بھی من بدل کے معنی میں ہے ۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں؟ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے ان کا گمان یہ محض غلط ہے ، بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی حفاظت کے بھی مالک نہیں ۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے ۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں ۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ۔