Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 41

سورة الأنبياء

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾  3

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by what they used to ridicule.

اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Lessons to be learned from Those Who mocked the Messengers in the Past Allah says consoling His Messenger for the pain and insult caused by the mockery and disbelief of the idolators, وَلَقَدِ اسْتُهْزِيَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِوُون Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock. meaning, the punishment which they thought would never come to pass. This is like the Ayah: وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ وَلَقدْ جَأءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt; till Our help reached them, and none can alter the Words of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you). (6:34) Then Allah mentions His favor for His creatures; He protects them by night and by day, taking care of them and watching over them with His Eye that never sleeps.

انبیاء کی تکذیب کافروں کاشیوہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہاہے ، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پر یشان نہ ہونا ، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے ۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34؀ ) 6- الانعام:34 ) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی ۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کررہاہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ۔ من الرحمان کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں عربی شعروں میں بھی من بدل کے معنی میں ہے ۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں؟ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے ان کا گمان یہ محض غلط ہے ، بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی حفاظت کے بھی مالک نہیں ۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے ۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں ۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مشرکین کے مذاق اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تجھ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا، بالآخر وہی عذاب ان پر الٹ پڑا، یعنی اس نے انھیں گھیر لیا، جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس کا وقوع ان کے نزدیک ابھی مستبعد تھا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا) 6 ۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے پس انہوں نے تکذیب پر اور ان تکلیفوں پر جو انھیں دی گئیں صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے ساتھ کفار و مشرکین کے لیے اس میں تہدید و وعید بھی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] یعنی اللہ کے جس عذاب کی وعید کا مذاق اڑاتے تھے۔ اسی عذاب میں پھنس گئے۔ ان کا مذاق انہی پر الٹ پڑا اور اس کے وبال میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اب دوسرے لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ ۔۔ :” حَاقَ یَحِیْقُ “ گھیر لینا۔ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ کفار کے مذاق اڑانے اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، آپ سے پہلے پیغمبروں کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ انھوں نے اللہ کے جس عذاب سے ڈرایا اس کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ آخر کار ان مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ آپ کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بھی یہی ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَـاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِــرُوْا مِنْہُمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ ٤١ۧ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ حاق قوله تعالی: وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] . قال عزّ وجلّ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ، أي : لا ينزل ولا يصيب، قيل : وأصله حقّ فقلب، نحو : زلّ وزال، وقد قرئ : فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطانُ [ البقرة/ 36] ، وأزالهما «2» وعلی هذا : ذمّه وذامه . ( ح ی ق ) ( الحیوق والحیقان) ( ض ) کے معنی کسی چیز کو گھیر نے اور اس پر نازل ہونے کے ہیں ۔ اور یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اسکے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے وحاق بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) اور آپ سے پہلے جتنے پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے مذاق کیا جیسا کہ آپ کا آپ کی قوم مذاق اڑاتی ہے سو جن لوگوں نے انبیاء کرام کے ساتھ مذاق کیا تھا تو ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کے ساتھ وہ مذاق کیا کرتے تھے یا یہ کہ ان کیا ستہزاء اور تمسخر کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوگیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) ” لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس صورت حال کو برداشت کیجیے اور صبر کا دامن تھام کر اپنا فرض ادا کرتے رہیے۔ (فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ) ” پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق عذاب موعود آیا تو ان مذاق اڑانے والوں کو نیست و نابود کر کے نَسْیًا مَّنْسِیًّاکر دیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:41) استھزیء ب استھزاء (استفعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا گیا۔ استھزیء برسل رسولوں کا مذاق اڑایا گیا۔ فحاق بپس نازل ہوا (ان پر) گھیر لیا اس نے (ان کو) حاق یحیق (ضرب) ۔ سخروا۔ سخر مصدر (باب سمع) ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ حاق فعل الذین۔ اسم موصول۔ سخروا منہم اسم موصول کی تعریف اسم موصول معہ اپنی تعریف کے حاق کا مفعول ہوا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ان میں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے ما اسم موصول کانوا بہ یستھزء ون۔ اسم موصول کی تعریف۔ اس عذاب نے جس کے متعلق وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ یہ جملہ ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل ہے فعل حاق کا۔ یعنی جس عذاب کے متعلق وہ تمسخر کیا کرتے تھے ان تمسخر کرنے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا۔ یعنی پہلے رسولوں نے جب اپنی اپنی امتوں کو مخصوص افعال قبیحہ کے عذاب سے ڈرایا (مثلاً حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو لواطت کے عذاب سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ماپ تول کی کمی بیشی کرنے کے عذاب سے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کے ساتھ برائی کے ساتھ سلوک کرنے کے عذاب سے) تو انہوں نے تمسخر اڑایا اور کہا کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اسے ابھی کیوں نہیں لے آئے اور پھر ہوا یہ کہ اس عذاب نے جس وہ تمسخر اڑاتے تھے اسی دنیا میں ان کو آلیا۔ منہم میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم کا مرجع الذین سخروا ہے یعنی ان کافروں میں سے وہ لوگ جو ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ یا اس کا مرجع رسول ہیں جن کے ساتھ وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے یعنی وہ عذاب جس کے متعلق وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ مراد ہے خدا کا عذابط جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ کفر موجب عذاب ہے، پس اگر دنیا میں وقوع نہ ہو تو آخرت میں ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کا وہ تمسخر کرتے تھے) اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ سے پہلے بھی حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی گئی، ان کا مذاق بنایا گیا۔ پھر انجام کے طور پر تمسخر کرنے والوں نے اپنے تمسخر اور تکذیب کا مزہ چکھ لیا اور جس عذاب کا وہ مذاق بناتے تھے یہ عذاب ان پر نازل ہوگیا۔ آپ کے مخالفین جو عذاب کا مذاق بنا رہے ہیں یہ بھی اطمینان سے نہ بیٹھیں گے ان پر بھی دنیا میں عذاب آسکتا ہے۔ اگر دنیا میں نہیں تو آخر میں تو ہر کافر کو عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے۔ یعنی آپ مشرکین کے استہزاء و سخریہ سے دل برداشتہ نہ ہوں ایسے ایسے بد قماش لوگوں کا ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ یہی وطیرہ رہا ہے۔ لیکن آخر کار ان کو اپنی بدکرداری کی سخت سزا ملی۔ اور وہ دنیا ہی میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

41 اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ہے پھر ان مذاق کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس عذاب کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یعنی جس عذاب کے آنے کا مذاق اڑاتے تھے وہی عذاب گلے کا ہار بن گیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس چیز کی جزا نے انہیں گھیر لیا۔ 12