Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 48

سورة الأنبياء

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِکۡرًا لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۴۸﴾

And We had already given Moses and Aaron the criterion and a light and a reminder for the righteous

یہ بالکل سچ ہے کہ ہم نے موسیٰ و ہارون کو فیصلے کرنے والی نورانی اور پرہیزگاروں کے لئے وعظ و نصیحت والی کتاب عطا فرمائی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Revelation of the Tawrah and the Qur'an We have already noted that Allah often mentions Musa and Muhammad together -- may the peace and blessings of Allah be upon them both -- and He often mentions their Books together as well. He says: وَلَقَدْ اتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ ... And indeed We granted to Musa and Harun the criterion. Mujahid said, "This means the Scripture." Abu Salih said: "The Tawrah." Qatadah said: "The Tawrah, what it permits and it forbids, and how Allah differentiated between truth and falsehood." In conclusion, we may say that the heavenly Books included the distinction between truth and falsehood, guidance and misguidance, transgression and the right way, lawful and unlawful, and that which will fill the heart with light, guidance, fear of Allah and repentance. So Allah says: ... الْفُرْقَانَ وَضِيَاء وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa. meaning, a reminder and exhortation for them. Then He describes them as:

کتاب النور ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی ۔ اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی ۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت وگمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں ۔ ان سے دلوں میں نورانیت ، اعمال میں حقانیت ، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور وروشنی ہے ۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے ہیں رہتے ہیں ۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ( مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33؀ۙ ) 50-ق:33 ) جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ۔ اور آیت میں ہے جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں ۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا ۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے ۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 یہ تورات کی صفات بیان کی گئی ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ اس میں بھی متقین کے لئے ہی نصیحت تھی۔ جیسے قرآن کریم کو بھی (ھُدَی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) کہا گیا، کیونکہ جن کے دلوں میں اللہ کا تقوٰی نہیں ہوتا، وہ اللہ کی کتاب کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، تو آسمانی کتاب ان کیلئے نصیحت اور ہدایت کا ذریعہ کس طرح بنے، نصیحت یا ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے اور اس میں غور و فکر کیا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] یعنی یہ ہدایت اور انذار کا سلسلہ قریش مکہ سے ہی مختص نہیں، پہلی قوموں کی طرف بھی ہم رسول اور اپنی کتابیں نازل کرتے رہے ہیں۔ انہی کتابوں میں سے سرفہرست تورات ہے جو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی تھی۔ یہ حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب تھی۔ ان کے آپس میں اختلافات کی حقیقت واضح کرکے صحیح راہ کی نشاندہی کرتی تھی۔ اور اس کی روشنی میں سیدھا راستہ صاف صاف نظر آنے لگتا تھا۔ نیز وہ اولاد آدم کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے والی نصیحت تھی۔ اور اس میں پندونصیحت کے وافر اسباق موجود تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ ۔۔ : سورت کے شروع سے توحید، نبوت اور قیامت پر بات چلی آرہی ہے، اب چند انبیاء کے واقعات کا آغاز ہوتا ہے۔ مقصد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی پوری تن دہی سے دعوت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل میں صبر و استقامت سے کام لیں، اس کے علاوہ اس بات کی تفصیل ہے کہ پہلے تمام انبیاء بشر تھے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں اکثر موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور دونوں کی کتابوں کا ذکر اکٹھا آتا ہے، کیونکہ دعوت کے ساتھ جہاد کا سلسلہ موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع ہوتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں دونوں کے درمیان بڑی مماثلت ہے۔ الْـفُرْقَانَ وَضِيَاۗءً وَّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ : ” الْـفُرْقَانَ “ اور ” اَلْفَرْقُ “ کا معنی ایک ہی ہے، الف اور نون کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے، یعنی حق و باطل کے درمیان خوب فرق کرنے والی چیز۔ اس سے مراد تورات بھی ہے، معجزے اور جادو کے درمیان فرق کرنے والے معجزے بھی اور موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو فرعونیوں پر حاصل ہونے والی فتح و نصرت بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یوم بدر کو یوم الفرقان قرار دیا۔ گویا ” الْـفُرْقَانَ “ کتاب، معجزات اور نصرت الٰہی تینوں کی صفت ہوسکتی ہے، کیونکہ تینوں ہی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہیں۔ اسی طرح ” وَضِيَاۗءً “ اور ” َّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ “ بھی تینوں کی صفت ہیں، کیونکہ تورات، معجزات اور نصرت الٰہی تینوں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بھی ہیں، ایمان کی روشنی بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ مگر کتاب، معجزات اور نصرت الٰہی کے مشاہدے سے حق و باطل کے درمیان فرق، ایمان کی روشنی اور نصیحت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو متقی ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary الْفُرْ‌قَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرً‌ا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْ‌قَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 & (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْ‌قَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh&s house, then at the time of his contest with the Egyptian magicians which resulted in the Pharaoh&s discomfiture, and again when he was pursued by the Pharaoh and his army and Allah saved him by causing dry passageways to appear in the river and, after the Bani Isra&il had crossed over to the other side, by drowning the Pharaoh and his army. Even after this incident Allah&s help was available to him at all times. Qurtubi has pointed out that whereas (ضِيَاءً light) and ذِکر (advice) are the attributes of Torah, o4 (criterion) is something else and not an attribute of Torah, because of the use of the conjunctive letter Wa.&o (و) after the word فُرْ‌قَانَ (Allah knows best).

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (آپ کے قبل) موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو ایک فیصلہ کی اور روشنی کی اور متقیوں کے لئے نصیحت کی چیز (یعنی توریت) عطا فرمائی تھی جو (متقی) اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور (خدا ہی سے ڈرنے کے سبب) وہ لوگ قیامت سے (بھی) ڈرتے ہیں (کیونکہ قیامت میں اس کا خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور سزا نہ ہونے لگے) اور (جیسے ان کو وہ کتاب ہم نے دی تھی اسی طرح) یہ (قرآن بھی) ایک کثیر الفائدہ نصیحت (کی کتاب) ہے جس کو ہم نے نازل کیا، سو کیا (بعد اس کے کہ تنزیل کتب کا عادة اللہ ہونا معلوم ہوگیا اور خود اس کا منزل من اللہ ہونا دلیل سے ثابت ہے) پھر بھی تم اس کے (منزل من اللہ ہونے کے) منکر ہو۔ معارف و مسائل الْـفُرْقَانَ وَضِيَاۗءً وَّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ ، یہ تینوں صفتیں تورات کی ہیں کہ فرقان یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی ہے اور قلوب کے لئے ضیاء و نور ہے اور لوگوں کے لئے ذکر و تذکیر اور ذریعہ ہدایت ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ فرقان سے مراد اللہ تعالیٰ کی مدد ہے جو ہر موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہی کہ فرعون کے گھر میں پرورش ہوئی اور پھر اس سے مقابلے کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ذلیل کیا پھر لشکر فرعون کے تعاقب کے وقت دریا میں راستے پیدا ہو کر اس سے نجات ملی اور لشکر فرعون غرق کیا گیا اسی طرح بعد کے ہر موقع پر اس مدد خداوندی کا مشاہدہ ہوتا رہا اور ضیاء و ذکر دونوں تورات کی صفتیں ہیں، قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ الفرقان کے بعد واؤ کے ذریعہ فاصلہ کرنے سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ فرقان تورات کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَہٰرُوْنَ الْـفُرْقَانَ وَضِيَاۗءً وَّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ۝ ٤٨ۙ هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب . تَّفْرِيقُ أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ : فَارَقُوا «1» والفِراقُ والْمُفَارَقَةُ تکون بالأبدان أكثر . قال : هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] ، وقوله : وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] ، أي : غلب علی قلبه أنه حين مفارقته الدّنيا بالموت، وقوله : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] ، أي : يظهرون الإيمان بالله ويکفرون بالرّسل خلاف ما أمرهم اللہ به . وقوله : وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] ، أي : آمنوا برسل اللہ جمیعا، والفُرْقَانُ أبلغ من الفرق، لأنه يستعمل في الفرق بين الحقّ والباطل، وتقدیره کتقدیر : رجل قنعان : يقنع به في الحکم، وهو اسم لا مصدر فيما قيل، والفرق يستعمل في ذلک وفي غيره، وقوله : يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، أي : الیوم الذي يفرق فيه بين الحقّ والباطل، والحجّة والشّبهة، وقوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] ، أي : نورا وتوفیقا علی قلوبکم يفرق به بين الحق والباطل «1» ، فکان الفرقان هاهنا کالسّكينة والرّوح في غيره، وقوله : وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، قيل : أريد به يوم بدر «2» ، فإنّه أوّل يوم فُرِقَ فيه بين الحقّ والباطل، والفُرْقَانُ : کلام اللہ تعالی، لفرقه بين الحقّ والباطل في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والصالح والطّالح في الأعمال، وذلک في القرآن والتوراة والإنجیل، قال : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] ، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] ، تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] ، شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] . والفَرَقُ : تَفَرُّقُ القلب من الخوف، واستعمال الفرق فيه کاستعمال الصّدع والشّقّ فيه . قال تعالی: وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] ، ويقال : رجل فَرُوقٌ وفَرُوقَةٌ ، وامرأة كذلك، ومنه قيل للناقة التي تذهب في الأرض نادّة من وجع المخاض : فَارِقٌ وفَارِقَةٌ «3» ، وبها شبّه السّحابة المنفردة فقیل : فَارِقٌ ، والْأَفْرَقُ من الدّيك : ما عُرْفُهُ مَفْرُوقٌ ، ومن الخیل : ما أحد وركيه أرفع من الآخر، والفَرِيقَةُ : تمر يطبخ بحلبة، والفَرُوقَةُ : شحم الکليتين . التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ۔ اور آیت کریمہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ نیز آیت : ۔ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے میں احد کا لفظ چونکہ حرف نفی کے تحت واقع ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے لہذا تفریق کی نسبت اس کی طرف جائز ہے اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے رستے نکالے ۔ میں ایک قرات فارقوا ہے اور فرق ومفارقۃ کا لفظ عام طور پر اجسام کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] اب مجھ میں اور تجھ میں علیحد گی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] اس ( جان بلب ) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب دنیا سے مفارقت کا وقت قریب آپہنچا ہے اور آیت کریمہ : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں مگر حکم الہی کی مخالفت کر کے اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ الفرقان یہ فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ رجل وقنعان ( یعنی وہ آدمی جس کے حکم پر قناعت کی جائے ) کی طرح اسم صفت ہے مصدر نہیں ہے اور فرق کا لفظ عام ہے جو حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] مومنوں اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دیگا ( یعنی تم کو ممتاز کر دے گا ۔ میں فر قان سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر نور اور توفیق پیدا کر دیگا جس کے ذریعہ تم حق و باطل میں امتیاز کرسکو گے تو گویا یہاں فرقان کا لفظ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ سکینۃ اور روح کے الفاظ ہیں اور قرآن نے یوم الفرقان اس دن کو کہا ہے جس روز کہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے مابین فرق اور امتیاز ظاہر ہوا چناچہ آیت : ۔ وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] اور اس ( نصرت ) پر ایمان رکھتے ہو جو ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن نازل فرمائی ۔ میں یوم الفرقان سے جنگ بدر کا دن مراد ہے کیونکہ وہ ( تاریخ اسلام میں ) پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا کھلا امتیاز ہوگیا تھا ۔ اور کلام الہی ( وحی ) بھی فرقان ہوتی ہے کیونکہ وہ حق اور باطل عقائد میں فرق کردیتی ہے سچی اور جھوٹی باتوں اور اچھے برے اعمال کو بالکل الگ الگ بیان کردیتی ہے اس لئے قرآن کریم تورات اور انجیل کو فرقان سے تعبیر فرما گیا ہے چناچہ توراۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون هْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] (علیہ السلام) کو ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی ۔ ،۔۔ عطا کی ۔ تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو معجزے دیئے روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور حق و باطل کو ) الگ الگ کرنے والا ہے الفرق کے معنی خوف کی وجہ سے دل کے پرا گندہ ہوجانے کے ہیں اور دل کے متعلق اس کا استعمال ایسے ہی ہے جس طرح کہ صدع وشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] اصل یہ ہے کہ یہ ڈر پوک لوگ ہے ۔ اور فروق وفروقۃ کے معنی ڈرپوک مرد یا عورت کے ہیں اور اسی سے اس اونٹنی کو جو درندہ کی وجہ سے بدک کر دور بھاگ جائے ۔ فارق یا فارقۃ کہا جاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر اس بدلی کو بھی فارق کہا جاتا ہے جو دوسری بد لیوں سے علیحد ہ ہو ۔ وہ مرغ جس کی کلفی شاخ در شاخ ہو ( 2 ) وہ گھوڑا جس کا ایک سرین دوسرے سے اونچا ہو ۔ الفریقۃ دودھ میں پکائی ہوئی کھجور ۔ الفریقہ گردوں کی چربی ۔ ضوأ الضَّوْءُ : ما انتشر من الأجسام النّيّرة، ويقال : ضَاءَتِ النارُ ، وأَضَاءَتْ ، وأَضَاءَهَا غيرُها . قال تعالی: فَلَمَّا أَضاءَتْ ما حَوْلَهُ [ البقرة/ 17] ، كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، يَكادُ زَيْتُها يُضِيءُ [ النور/ 35] ، يَأْتِيكُمْ بِضِياءٍ [ القصص/ 71] ، وسَمَّى كُتُبَهُ المُهْتَدَى بها ضِيَاءً في نحو قوله : وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ وَضِياءً وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] . ( ض و ء ) الضوء ۔ کے معنی نور اور روشنی کے ہیں ضائت النار واضائت : آگ روشن ہوگئی اور اضائت ( افعال ) کے معنی روشن کرنا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ & فَلَمَّا أَضاءَتْ ما حَوْلَهُ [ البقرة/ 17] جب آگ نے اس کے ارد گرد کی چیزیں روشن کردیں ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ يَأْتِيكُمْ بِضِياءٍ [ القصص/ 71] جو تم کو روشنی لادے ۔ اور سماوی کتابوں کو جو انسان کی رہنمائی کے لئے نازل کی گئی ہیں ضیاء سے تعبیر فرمایا ہے ۔ چناچہ ( تورات کے متعلق ) فرمایا :۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ وَضِياءً وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسٰی اور ہارون کو ( ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی اور ( سرتاپا ) روشنی اور نصیحت ( کی کتاب ) عطاکی ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٨) اور ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کو ایک فیصلہ یعنی شبہات سے نکالنے کی یا یہ کہ فرعون پر غلبہ اور قوت پانے کی اور گمراہی سے روشنی اور اس کے لیے بیان اور کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے نصیحت کی چیز عطا فرمائی تھی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. From here begin the stories of the Prophets. If we consider these stories in the context in which they occur, it becomes clear that these have been related to impress the following themes. (1) All the former Prophets were human beings. Therefore there is nothing strange or unusual that a human being like Muhammad (peace be upon him) has been sent as a Messenger. (2) The mission and teachings of this Prophet are the same as of those who were sent before him. (3) All the Prophets had been granted a privileged position by Allah, Who blessed them with special favors. For instance, though they were made to suffer from hardships and persecutions for years, ultimately Allah heard their prayers and helped them in miraculous ways against their enemies and persecutors. (4) In spite of Allah’s special favors on them they were no more than His humble servants and human beings and had no share whatever in Godhead. So much so that sometimes they committed errors of judgment, fell ill, were put to trials and even committed faults, for which they were called to account by Allah. 50. All the three words have been used in praise of the Torah: (1) Alfurqan: A criterion which distinguished the truth from falsehood. (2) Dhiaun: A light which showed the right way of life. (3) Zikrun: An admonition, which reminded the erring descendants of Adam to remember the lesson they had forgotten. 51. Though it was sent for the good of all human beings, only the pious people, having these characteristics, could benefit from it.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :49 یہاں سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر شروع ہوتا ہے اور پے در پے بہت سے انبیاء کی زندگی کے مفصل یا مختصر واقعات کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں ۔ یہ ذکر جس سیاق و سباق میں آیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے حسب ذیل باتیں ذہن نشین کرنی مقصود ہیں : اول یہ کہ تمام پچھلے انبیاء بھی بشر ہی تھے ، یہ نئی نرالی مخلوق نہ تھے ۔ تاریخ میں یہ کوئی نیا واقعہ آج پہلی مرتبہ ہی پیش نہیں آیا ہے کہ ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ دوم یہ کہ پہلے انبیاء بھی اسی کام کے لیے آئے تھے ، جو کام اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر ہے ہیں ۔ یہی ان کا مشن تھا اور یہی ان کی تعلیم تھی ۔ سوم یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ رہا ہے ۔ بڑے بڑے مصائب سے وہ گزرے ہیں ۔ سالہا سال مصائب میں مبتلا رہے ہیں ۔ شخصی اور ذاتی مصائب میں بھی اور اپنے مخالفوں کے ڈالے ہوئے مصائب میں بھی ، مگر آخر کار اللہ کی نصرت و تائید ان کو حاصل ہوئی ہے ۔ اس نے اپنے فضل و رحمت سے انکو نوازا ہے ، ان کی دعاؤں کو قبول کیا ہے ، ان کی تکلیفوں کو رفع کیا ہے ، ان کے مخالفوں کو نیچا دکھایا ہے ، اور معجزانہ طریقوں پر ان کی مدد کی ہے ۔ چہارم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقبول بارگاہ ہونے کے باوجود ، اور اس کی طرف سے بڑی بڑی حیرت انگیز طاقتیں پانے کے باوجود ، تھے وہ بندے اور بشر ہی ۔ الوہیت ان میں سے کسی کو حاصل نہ تھی ۔ رائے اور فیصلے میں ان سے غلطی بھی ہو جاتی تھی ۔ بیمار بھی وہ ہوتے تھے ۔ آزمائشوں میں بھی ڈالے جاتے تھے ۔ حتٰی کہ قصور بھی ان سے ہو جاتے تھے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ بھی ہوتا تھا ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :50 تینوں الفاظ توراۃ کی تعریف میں استعمال ہوئے ہیں ۔ یعنی وہ حق و باطل کا فرق دکھانے والی کسوٹی تھی ، وہ انسان کو زندگی کا سیدھا راستہ دکھانے والی روشنی تھی ، اور وہ اولاد آدم کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے والی نصیحت تھی ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :51 یعنی اگرچہ بھیجی گئی تھی وہ تمام انسانوں کے لیے ، مگر اس سے فائدہ عملاً وہی لوگ اٹھا سکتے تھے جو ان صفات سے متصف ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٨۔ ٥٠:۔ سورة قصص میں آوے گا ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر فرعون تک پچھلے نافرمان لوگوں کے قصے ملا کر توراۃ کی ترتیب ایسی ہے جس سے لوگوں کے دلوں پر پورا اثر پڑے گا اب قرآن شریف میں توراۃ کی باتیں بھی ہیں اور انجیل کی بھی ‘ اور موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تورات اور انجبیل میں جو خرابیاں پڑگئی تھیں ‘ ان کا بھی ذکر ہے ‘ اسی واسطے قرآن شریف میں اکثر جگہ توراۃ اور قرآن کا ذکر ساتھ آیا ہے جس سے یہ جتلایا گیا ہے کہ توراۃ میں لوگوں کے دل پر اثر پڑنے کی جو باتیں تھیں قرآن میں ان سے بڑھ کر ہیں اس پر بھی قرآن کی نصیحت جو لوگ نہیں مانتے وہ اللہ کے علم غیب میں بدنصیب ٹھہر چکے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام دنیا کی نبوت کو ایک خوشنما محل کی مثال سے سمجھا کر پھر یہ فرمایا ہے کہ اس خوشنما محل کے پورے ہوجانے میں ایک روہ کی کسر تھی ‘ میرے رسول ہوجانے کے بعد وہ روہ پورا ہو کر اس خوش نما محل کی تعمیر پوری ٢ ؎ ہوگئی ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اگرچہ تورات کی ترتیب ایسی تھی جس سے لوگوں کے دل پر بڑا اثر پڑتا تھا لیکن پھر بھی نبوت کے محل کے پورا ہونے میں ایک روہ کی کسر تھی ‘ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہوجانے اور قرآن کے نازل ہونے کے بعد وہ روہ پورا ہو کر نبوت کے محل کی تعمیر کامل ہوگئی اسی واسطے مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان میں جابر بن عبداللہ سے اور مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے جو صحیح روایتیں ٣ ؎ ہیں ‘ ان میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ میرے زمانہ میں اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو سوائے میری پیروی کے اور کچھ بن نہ آتا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہوجانے کے بعد انہیں تورات کی پیروی کافی ہوتی ‘ سورة الکہف میں گزر چکا ہے کہ قریش نے یہود کو اہل کتاب اور تورات کو کتاب آسمانی جان کر یہود کے پاس خاص طور پر اس غرض سے چند آدمی بھیجے تھے کہ یہود تورات میں سے کچھ مشکل باتیں قریش کو بتلا دیں تاکہ قریش ان باتوں کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت کو آزمائیں اس پر یہود نے روح کا خضر (علیہ السلام) ‘ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال پوچھنے کا مشورہ قریش کو دیا اور یہ باتیں قریش نے یہود کے مشورہ کے مطابق اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھیں اور سورة بنی اسرائیل وسورۃ الکہف میں ان باتوں کے جواب کی آیتیں نازل ہوئی ‘ اسی واسطے ان آیتوں میں قرآن اور تورات کا ذکر ساتھ فرما کر قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی جس سے قیامت کے دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں کے ہاتھ میں گویا روشن مشعل آگئی کہ اس سے وہ سب عقبیٰ کی بہبودی کی باتوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ‘ دنیا میں عقبیٰ کی باتیں بن دیکھی ہیں اس لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ ان باتوں کو غیب کی باتیں فرمایا ‘ چکوتی سے مطلب فیصلہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا جادوگروں نے اپنی لکڑیوں اور رسیوں کے جھوٹے سانپ زمین پر چھوڑے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ سے ایک لکڑی کا سانپ ان سب جھوٹے سانپوں کو نگل گیا جس سے اس وقت کے سب لوگوں کے سامنے پورا پورا فیصلہ ہوگیا اگرچہ فرقان کی تفسیر میں سلف کے اور بھی قول ہیں لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عبدالرحمن بن زید کے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ فرقان سے مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے ہیں اور ضیاء سے مقصود تورات ہے اس واسطے اردو کے دونوں ترجموں میں یہی قول لیا ہے یہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ‘ سفیان بن عیینہ کے مرتبہ کے تبع تابعین میں ہیں اگرچہ حدیث کی روایت میں ان عبدالرحمن کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن تفسیر کے باب میں ان کے قول کا اعتبار ہے ‘ اسی واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان کا قول لیا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی اسی طرح خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کہ تورات کو کتاب آسمانی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو انسان رسول مان کر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن قرآن کی پیروی کرنے والوں کی تعداد اور آسمانی کتابوں کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی ‘ قرآن کی نصیحت کو برکت کی نصیحت جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی نصیحت کی برکت سے اس کے پیرو قیامت کے دن زیادہ ہوں گے اور دوسری آسمانی کتابوں کے پیرو کم۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین ) (٣ ؎ مشکوٰۃ مع تنیقح الرواۃ ص ٤٢ ج ١ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:48) القرقان (حق و باطل کو الگ الگ کردینے والی) ضیاء (روشنی) ذکرا۔ نصیحت۔ سب توریت کے اوصاف ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اصالتا اور حضرت ہاروں پر نیابتا اتاری گئی تھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 ۔ اوپر بیان ہوا ہے کہ پچھلے تمام انبیا بشر ہی تھے۔ (آیت 7) اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت کا جو وعدہ فرمایا اسے پورا کیا۔ (آیت 9) اور پچھلے انبیاء کا مشن بھی یہی توحید کی طرف دعوت تھا۔ (آیت 52) اب یہاں سے اسی احمال کی تفصیل کے پیش نظر بہت سے انبیاء کے واقعات بیان کئے جارہے ہیں۔ (کبیر، شوکانی) 13 ۔ جیسے دوسری آیت میں فرمایا : ” فیہ ھدی ونور “ (مائدہ : 64) جہالت اور گمراہی کی تاریکی کو دور کرنے کے اعتبار سے اسے ضیا (روشنی) فرمایا ہے اور ” الفرقان “ سے بعض نے معجزات اور بعض نے دشمنوں پر غلبہ بھی مراد لیا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 50 اتینا ہم نے دیا۔ الفرقان حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ ضیاء روشنی۔ ذکر نصیحت نامہ۔ یخشون وہ ڈرتے ہیں۔ الغیث بن دیکھی حقیقتیں۔ مبارک برکت والا۔ منکرون انکار کرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 48 تا 50 یوں تو قرآن کریم کی ہر سورت میں بہت سے انبیاء کرام کا ذکر مبارک ہے۔ چونکہ اس سورت میں سترہ پیغمبروں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اس لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الانبیائ “ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر خیر کر کے چند باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ (1) جتنے پیغمبروں کو بھیجا گیا ہے ان کی تعلیمات، مقصد اور مشن ایک ہی تھا جس کی تکمیل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرمائی گیء ہے۔ جس بات کو تمام انبیاء کرام کہتے آئے ہیں اسی بات کو آپ بھی ارشاد فرما رہے ہیں۔ (2) اللہ نے سارے پیغمبروں کو اپنا کالم عطا فرمایا براہ راست یا بالواسطہ یعنی رسولوں پر کتابوں کو نازل کیا گیا اور نبیوں نے رسولوں کی لائی ہوئی کتابوں اور پیغام کو اپنی اپنی امتوں تک پہنچایا۔ (3) سارے پیغمبروں نے ایک ہی بات فرمائی اور وہ یہ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت اور بندگی کی جائے اور اللہ کے سوا کسی کو ” الہ “ اور معبود تسلیم نہ کیا جائے۔ (4) اللہ کا یہ پیغام لانے والے نہایت پاکیزہ اور معصوم بشر ہوتے ہیں۔ ان کا بشر ہونا ہی ان کی سب سے اعلیٰ اور بہتر شان ہے اور بشر کامل ہوتے ہیں کوئی نرالی اور انوکھی مخلوق نہیں ہوتے۔ ان کی زندگی تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے۔ (5) وہ پیغمبر اللہ کے دین کو ہر شخص تک پہنچانے کی جدوجہد فرماتے ہیں اور ہر باطل سے ٹکرا جاتے ہیں حق اور صداقت کی اس آواز کو پہنچانے میں ان کو شدید مصائب اور پریشانیوں سے واسطہ پڑتا ہے مگر وہ نہایت تحمل اور برداشت سے اپنی امت کی خیر خواہی میں لگے رہتے ہیں۔ (6) اللہ کا دین پہنچانے میں ان کو شدید مصائب سے واسطہ پڑتا ہے لیکن آخر کار ان کو بھرپور کامیابی عطا کی جاتی ہے یہ کامیابی ان کو اور ان کے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت میں سرخرو کرتی ہے۔ مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کو ایک ایسی کتاب عطا فرمائی تھی جو فرقان ضیاء اور خوف الٰہی رکھنے والوں کے لئے ذکر اور یاد دہانی تھی۔ جو لوگ بھی اللہ سے ڈرنے والے، غیب پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھنے والے اور قیامت کے ہولناک دن کا خوف رکھنے والے ہیں ان کے لئے رہبر و رہنما کتاب تھی اسی طرح اللہ نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن کریم ” ذکر مبارک “ کے طور پر نازل فرمایا ہے جس کا انکار بدقسمت لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعہ ساری دنیا کو اور خاص طور پر کفار مکہ کو آگاہ کیا ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیاب فرمایا اور فرعون اور فرعونیوں کو ناکام اور نامراد بنایا اس طرح حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانثاروں کو بھی کامیابی حاصل ہوگی اور ان پر ایمان نہ لانے والوں کو شدید شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توریت کی تین صفات بیان فرمائی ہے۔ (1) فرقان (2) ضیاء (3) اور ذکر۔ فرقان کے معنی ہے وہ چیز جس سے حق اور باطل میں امتیاز کیا جاسکتا ہے یعنی ایک ایسی کسوٹی جس پر پرکھ کر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس میں کتنا کھرا اور کتنا کھوٹا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ فرقان سے مراد اللہ کی مدد ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ پیدائش سے آخر تک اللہ کا خصوصی معاملہ اور مدد رہی ہے۔ ضیاء روشنی اور نور کو کہتے ہیں یعنی یہ کتاب دین کے راستہ چلنے والے کے لئے ایک ایسی روشنی ہے جو اس کو منزل مراد تک پہنچانے والی ہے۔ ذکر یاد دہانی یعنی خواہشات اور دنیا کے مال و دولت کے لالچ میں پڑ کر آخرت کو بھول جانے والوں کے لئے یاد دہانی اور ذکر ہے۔ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔ فرقان، ضیاء اور ذکریہ تین صفتیں اللہ کے ہر اس کلام کی ہے جو اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجی ہے۔ چونکہ توریت، زبور اور انیجل میں اس قدر تبدیلیاں لائی جا چکی ہیں اور لوگوں نے اپنے اغراض کے لئے تحریف کر ڈالی ہے اس لئے اب ان کتابوں کے لئے کسوٹی نور اور ذکر مبارک قرآن کریم ہے۔ جو تعلیمات اور احکامات بائبل میں قرآن کریم کے مطابق ہیں وہی صحیح ہیں جو قرآن کے خلاف ہیں وہ سب چیزیں اور باتیں باطل ہیں اور اللہ کا کلام نہیں ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی کتاب کو نازل کیا ہے۔ اگر قرآن کریم نہ ہوتا تو ساری دنیا کے انسان ہمیشہ بھٹکتے رہتے۔ ان کو راستہ اور روشنی ، نصیب نہ ہوتی اب ساری دنیا مل کر بھی اس سچائی کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی کہ قیامت تک صرف قرآن کریم ہی فرقان، روشنی اور ذکر مبارک ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت پر ایمان لانا اور اس کے حساب کی تیاری کرنے کے بارے میں صرف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی لوگوں کو نہیں سمجھاتے تھے اس عقیدہ کی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) بھی تلقین کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات متعدد مقامات پر عیاں فرمائی ہے کہ نہ تو نبی آخر الزّماں پہلے نبی ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کی تعلیمات انوکھی ہیں۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں اور پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ قرآن مجید اپنے سے پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتا ہے۔ بالخصوص تورات اور انجیل کے بنیادی مضامین اور احکام معمولی تبدیلی کے ساتھ وہی ہیں جن کی قرآن تعلیم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن الفاظ میں قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں تورات کا تعارف کروایا ہے۔ یہاں تورات کو الفرقان، روشنی اور ذکر کہا گیا ہے۔ تورات وانجیل سے ان لوگوں نے ہی فائدہ اٹھایا تھا جو برائی سے بچنے والے، اپنے رب سے غیب میں ڈرنے والے اور قیامت سے لرزاں رہنے والے تھے۔ یہی اصول قرآن مجید کی پہلی آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں یہ ان لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے جو نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور غیب پر ایمان لاتے ہوئے پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن مجید کو الفرقان، ذکر اور بابرکت کہا گیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے لیکن اس کے باجود اہل کتاب اور دیگر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر قرآن مجید اور تورات کے نزول کا مقصد یکساں الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے کہ اے نبی ! اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا تاکہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ ( ابراہیم : ١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یوں ارشاد ہوا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی آیات نازل فرمائیں تاکہ ان کے ساتھ اپنی قوم کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ (ابراہیم : ٥) قرآن مجید اور تورات کو اللہ تعالیٰ نے فرقان، روشنی اور ذکر قرار دیا ہے۔ اللہ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں۔ قرآن مجید ذکر، نصیحت اور برکت والی کتاب ہے۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے مگر بیشمار لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ پہلی آسمانی کتب اس دور کے متقین کے لیے باعث نصیحت تھیں۔ ٢۔ مومن اپنے رب اور قیامت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ ٣۔ قرآن مجید بڑی بابرکت کتاب ہے۔ مومن غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : ١۔ قرآن مجید شک و شبہ سے بالا تر کتاب ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٢۔ قرآن مجید ایمان والوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (النحل : ٦٤) ٣۔ قرآن کریم برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : ١٨٥) ٤۔ قرآن حمید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : ١) ٥۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٦۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے باعث رحمت اور شفا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٢) ٧۔ اس کتاب کی آیات محکم ہیں اور یہ حکیم وخبیر کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (ھود : ١) ٨۔ یقیناً قرآن سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٩) ٩۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٤١ ایک نظر میں اس سورة کا یہ تیسرا سبق تمام رسولوں کے گروہ پر ایک سرسری نظر ہے۔ اس میں تمام رسولوں کا احاطہ تو نہیں کیا گیا لیکن بڑے بڑے رسولوں کا ذکر ہے۔ بعض کی طرف اس میں نہایت ہی مختصر اشارہ ہے اور بعض کے بارے میں ذرا تفصیلی ذکر ہے اور بعض کا مختصر ذکر ہے۔ ان تمام اشارات اور مفصل اور مختصر تذکروں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں پر کیا کیا رحمتیں کیں اور جن لوگوں نے تببیہات اور معجزات دیکھ کر بھی ان کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا۔ نیز ان میں رسولوں کی آزمائش کے بھی واقعات ہیں۔ بعض اوقات انہیں خیر میں آزمایا گیا اور بعض اوقات شر میں اور یہ کہ وہ ان امتحانوں میں کس طرح کامیاب رہے۔ پھر اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں میں سے رسول بھیجے اور ان کا نظریہ بھی ایک ہی رہا۔ عقیدے کے ساتھ ساتھ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں ان کا طریقہ کار بھی ایک رہا اور زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود یوں نظر آتا ہے کہ وہ ایک ہی امت اور گروہ ہیں۔ رسولوں کا ایک نظریہ اور ایک امت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے ‘ اس لیے رسولوں کا عقیدہ ایک عقیدہ دینے والا ایک ‘ اس کائنات کی اندر قوانین فطرت پیدا کرنے والا ایک اور ان تمام رسولوں کو ‘ انسانوں کو ‘ کائنات کو ایک ہی جہت میں ایک ہی خدا کیساتھ مربوط کرنا بھی اس سبق سے معلوم ہوتا ہے۔ انا ربکم فاعبدون ” میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری اطاعت کرو “۔ درس نمبر ٢٤١ تشریح آیات ٨٤۔۔ تا۔۔۔۔ ٢٩ ولقد اتینا موسی۔۔۔۔۔۔ افانتم لہ منکرون (٨٤ : ٠٥) ” اس سورة میں یہ بات آئی تھی کہ مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کرتی تھے کہ آپ رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ آپ ہم جیسے بشر ہیں ‘ پھر وہ قرآن مجید کو وحی ماننے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یا شعر ہے یا افتراء پر دازی ہے۔ چناچہ اس پوریے سبق میں ان کے اس الزام کا جواب ہے کہ رسول اس سے قبل بھی بھیجے گئے اور یہ سنت الہیہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے اور کتاب بھیجنا بھی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی رسولوں کو کتابیں دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو کتاب دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی وہ بھی فرقان تھی۔ فرقان قرآن کی بھی صفت ہے۔ گویا تمام رسولوں کا سلسلہ بھی ایک ہے ‘ کتابیں بھی ایک ہیں ‘ اور ان کی صفات بھی ایک ہیں ‘ کیونکہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتب حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی تھیں ‘ اس لیے ان کو فرقان کہا گیا۔ یہ ہدایت و ضلالت کی درمیان تمیز کرتی تھیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظام کے درمیان فرق کرتی تھیں۔ یہاسلامی رحجانات اور غیر اسلامی رحجانات میں فرق کرتی تھیں اس لیے ان کو عمومی طور پر فرقان کہا گیا اور تورات اور قرآن کو صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہ فرقان ہیں۔ تورات کو یہاں روشنی بھی کہا گیا ‘ اس لیے کہ وہ نظریات و افکار کی ظلمتوں کو روشن کرنے والی تھی ‘ باطل کے اندھیروں کو دور کرنے والی تھی ‘ اور یہ ایسے اندھیرے ہوتے ہیں جن میں عقل و خرد ‘ ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں اور انسان کی دلی دنیا پر اس وقت تک سورج طلوع نیں ہوتا جب تک اس کے اندر شعلہ ایمان روشن نہ ہو اور وہ اپنے ماحول کو روشن نہ کرے۔ اس کو زندگی کا منہاج نہ دے دے اور زندگی کے اقدامات کی سمت متعین نہ کردے تاکہ اقدار ‘ منصوبوں اور مطالب کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہو۔ تورات بھی قرآن کی طرح متقین کے لیے ذکر اور ہدایت تھی۔ یعنی تورات کے ذریعہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر آج تک ہے جبکہ تورات سے قبل بنی اسرائیل کی کیا تاریخی حیثیت تھی ؟ پہلے وہ فرعون کے غلام تھے۔ جو انکے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور انکو ذلت کے ساتھ اور تشدد کے تحت رکھتا ۔ یہاں متقین کے ساتھ یہ صفت بھی لگائی گئی کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

توریت شریف اور قرآن مجید کی صفات یہ تین آیات ہیں۔ پہلی دو آیات میں توریت شریف کا ذکر ہے اور تیسری آیت میں قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ توریت کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو عطا کی جو فرقان ہے۔ یعنی حق و باطل کا فیصلہ کرنے والی ہے اور ضیاء یعنی روشنی ہے جس سے قلوب منور ہوتے ہیں اور ذکر یعنی نصیحت ہے۔ اس کے یہ فوائد ہیں تو سبھی کے لیے، لیکن خاص کر ان لوگوں کے لیے ہیں جو متقی ہیں یعنی گناہوں سے بچتے ہیں اور بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور قیامت کے دن سے یعنی وہاں کے حساب کتاب سے بھی خوفزدہ ہیں۔ یہ صفات ان لوگوں کی تھیں جو توریت پرچلتے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ فرقان سے اللہ تعالیٰ کی مدد مراد ہے جو حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے شامل حال رہی دونوں نے فرعون کے لشکر سے اپنی قوم کے ساتھ نجات پائی۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں طرح طرح کی مدد سے نوازا اور ضیاء اور ذکر سے توریت شریف مراد ہے الفاظ میں اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ یہاں سے دلائل نقلیہ تفصیلیہ کا بیان شروع ہوتا ہے ان دلائل کا حاصل یہ ہے کہ بیشک ان انبیاء (علیہم السلام) سے خارق عادت امور کا اظہار ہوتا رہا۔ لیکن وہ متصرف فی الامور نہیں تھے۔ اور نہ کچھ ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ یہ پہلی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے یعنی ہم نے موسیٰ و ہارون کو جو کتاب (تورات) دی تھی اس میں حق و باطل اور توحید و شرک کا واضح امتیاز تھا اور وہ کتاب نور توحید اور ذکر ہدایت سے لبریز تھی۔ اس کتاب کا بھی یہی دعوی تھا کہ اللہ تعالٰ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں اس لیے صرف اللہ ہی کو پکارو۔ اور یہی دعوی قرآن کا ہے اس لیے آگے بڑھو اور اسے مان لو۔ ضیاء اور ذکر سے مراد تورات ہے یا فرقان سے مراد معجزات ہیں۔ والاول ارجح۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل کے مابین فرق کرنے والی اور ایک روشن اور ڈرنے والوں یعنی متقیوں کے لئے ایک نصیحت کی چیز عطا کی تھی۔ مراد توریت ہے یعنی اس پیغمبر کو جس طرح قرآن کریم عطا ہوا ہے اسی طرح اس سے پہلے پیغمبروں کو کتابیں اور صحائف دیئے گئے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب توریت دی تھی جس کے مضامین حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والے تھے اور اس کے مضامین ایک روشنی تھے جس سے گمراہوں کو روشنی ملتی تھی اور متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے وہ کتاب توریت ایک نصیحت تھی جس طرح وہ کتاب تھی اسی طرح قرآن کریم بھی ایک کتاب ہے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے اسی طرح یہ بھی پیغمبر ہیں۔ انہوں نے کون سی نئی بات کہی ہے جو منکر ان کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ آگے ان متقیوں کی تعریف ہے جنہوں نے توریت کے مضامین پر عمل کیا اور ان سے روشنی حاصل کی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔