The Revelation of the Tawrah and the Qur'an
We have already noted that Allah often mentions Musa and Muhammad together -- may the peace and blessings of Allah be upon them both -- and He often mentions their Books together as well.
He says:
وَلَقَدْ اتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ
...
And indeed We granted to Musa and Harun the criterion.
Mujahid said,
"This means the Scripture."
Abu Salih said:
"The Tawrah."
Qatadah said:
"The Tawrah, what it permits and it forbids, and how Allah differentiated between truth and falsehood."
In conclusion, we may say that the heavenly Books included the distinction between truth and falsehood, guidance and misguidance, transgression and the right way, lawful and unlawful, and that which will fill the heart with light, guidance, fear of Allah and repentance.
So Allah says:
...
الْفُرْقَانَ
وَضِيَاء وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa.
meaning, a reminder and exhortation for them.
Then He describes them as:
کتاب النور
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی ۔ اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی ۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت وگمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں ۔ ان سے دلوں میں نورانیت ، اعمال میں حقانیت ، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور وروشنی ہے ۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے ہیں رہتے ہیں ۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ( مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33ۙ ) 50-ق:33 ) جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ۔ اور آیت میں ہے جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں ۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا ۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے ۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ۔