Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 71

سورة الأنبياء

وَ نَجَّیۡنٰہُ وَ لُوۡطًا اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۱﴾

And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds.

اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut Allah tells: وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الاَْرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations. Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.

ہجرت خلیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے ۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا ۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا ۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے ۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے ۔ یہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے ، یہیں دجال قتل کیا جائے گا ۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے ۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں ، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے ، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے ۔ اس میں آجانے والا امن وسلامتی میں آجاتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت ( فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71؀ ) 11-ھود:71 ) چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت ( رب ہب لی من الصالحین ) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا ۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے ۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی ۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا ۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ۔ پھر حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے ۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام ۔ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی ۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت ( فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26؀ ) 29- العنكبوت:26 ) حضرت لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا ۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا ۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی ۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے ، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک ملک شام ہے۔ جسے شادابی اور پھلوں اور نہروں کی کثرت نیز انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن ہونے کے لحاظ سے بابرکت کہا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٠] یہ واقعہ دیکھ کر بھی حضرت لوط کے سوا کوئی شخص بھی حضرت ابراہیم پر ایمان نہ لایا۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھائی ہماران کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ جب قوم سے دشمنی چھن گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ شام کا علاقہ بابرکت اس لئے ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ بہت زرخیز اور شاداب خطہ زمین ہے۔ اور روحانی لحاظ سے اس لئے کہ یہی خطہ دو ہزار سال تک انبیاء کا مسکن و مدفن رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا ۔۔ : اس واقعہ کو دیکھ کر لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (٢٦) اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔ شام کی طرف ہجرت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے رہنے والے تھے۔ برکت والی زمین کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْ‌ضِ الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ And We rescued him and Lut towards the land We blessed for all the worlds. - 71 That is, We delivered Sayyidna Ibrahim and Sayyidna Lut (علیہ السلام) from the land (&Iraq) where Namrud ruled and sent them to the peaceful land of Syria where our bounties were in abundance, not only for the locals but for the people of the world. Syrian land abounds both inwards and outwards bounties of Allah Ta ala. Inward bounties in the sense that many prophets were born in this land, and outward bounty in the sense that it has a moderate climate and is full of natural beauty with greenery, springs and streams all around and sustains a large variety of vegetation, fruits and flowers.

وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ ، یعنی حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھ لوط (علیہما السلام) کو ہم نے اس زمین سے جس پر نمرود کا غلبہ تھا (یعنی عراق کی زمین) نجات دے کر ایک ایسی زمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی ہے مراد اس سے ملک شام کی زمین ہے کہ وہ اپنی ظاہری اور باطنی حیثیت سے بڑی برکتوں کا مجموعہ ہے باطنی برکت تو یہ ہے کہ یہ زمین مخزن انبیاء ہے بیشتر انبیاء (علیہم السلام) اسی زمین میں پیدا ہوئے اور ظاہری برکات آب و ہوا کا اعتدال، نہروں اور چشموں کی فراوانی پھل پھول اور ہر طرح کی نباتات کا غیر معمول نشو و نما وغیرہ ہے جس کے فوائد صرف اس زمین کے رہنے والوں کو نہیں بلکہ عام دنیا کے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَنَجَّيْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا لِلْعٰلَمِيْنَ۝ ٧١ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں جاگزیں اور پیوست ہوجانے کے ہیں ۔ حدیث میں ہے ۔ (115) الولد الوط بالکید ۔ کہ اولاد سے جگری محبت ہوتی ہے ۔ ھذا امر لایلنا ط بصفری ۔ یہ بات میرے دل کو نہیں بھاتی ۔ لطت الحوض بالطین لوطا ۔ میں نے حوض پر کہگل کی ۔ گارے سے پلستر کیا ۔۔۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے نام سے اشتقاق کرکے تولط فلان کا محاورہ ستعمال ہوتا ہے جس کے معنی خلاف فطرت فعل کرنا ہیں حالانکہ حضرت لوط (علیہ السلام) تو اس فعل سے منع کرتے تھے اور اسے قوم لوط س مشتق نہیں کیا گیا جو اس کا ارتکاب کرتے تھے ۔ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧١) اور ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے اور لوط (علیہ السلام) کو خسف سے بچا کر ان دونوں کو سرزمین مقدس فلسطین اور اردن کی طرف بھیج دیا جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لیے پانی اور پھلوں کی بھی برکت رکھی تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧١ (وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا لِلْعٰلَمِیْنَ ) ” حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ وہ ( علیہ السلام) آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت لوط (علیہ السلام) بھی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے۔ آپ ( علیہ السلام) لوگ عراق کے مشرقی علاقے کے راستے سے ہوتے ہوئے شام پہنچے۔ درمیان میں چونکہ شرق اردن وغیرہ کا علاقہ ناقابل عبور صحرا پر مشتمل تھا اس لیے شام کے شمالی علاقے سے ہوتے ہوئے اور پھر نیچے کی طرف سفر کرتے ہوئے فلسطین پہنچے اور وہاں مستقل طور پر سکونت اختیار کی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63. According to the Bible, Prophet Abraham (peace be upon him) had two brothers, Nahor and Haran; Prophet Lot was the son of Haran (Gen. 11:26), and he was the only person to believe in Prophet Abraham (peace be upon him). (Surah Al-Ankaboot, Ayat 26). 64. The blessed land refers to Syria and Palestine, which contains both material and spiritual blessings. It is one of the most fertile regions in the world. Moreover, it was blessed for two thousand years with more Prophets than any other region of the world.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :63 بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ انکی قوم میں سے صرف ایک حضرت لوط ہی ان پر ایمان لائے تھے ( ملاحظہ ہو آیت 26 ) ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :64 یعنی شام و فلسطین کی سر زمین ۔ اس کی برکتیں مادی بھی ہیں اور روحانی بھی ۔ مادی حیثیت سے وہ دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے ۔ اور روحانی حیثیت سے وہ 2 ہزار برس تک انبیاء علیہم السلام کا مہبط رہی ہے ۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں اتنی کثرت سے انبیاء مبعوث نہیں ہوئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

29: لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور سورۃ عنکبوت آیت 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے تنہا وہی ان پر ایمان لائے تھے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش ناکام ہوگئی تو نمرود نے مرعوب ہو کر ان سے تعرض نہیں کیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بھتیجے کو لے کر عراق سے شام کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر شام اور فلسطین کے علاقے کو برکتوں والا علاقہ قرار دیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧١۔ ٧٥:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے سب نبی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں پیدا ہوئے ‘ اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو پیشوا فرمایا ‘ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو نماز ‘ زکوٰۃ ‘ ہر ایک طرح کے نیک کاموں کے بجا لانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی ‘ ملک عراق سے ملک شام کی طرف جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) جب ملک شام میں پہنچ کر رہنے لگے تو ملک شام کی ایک بستی سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) نبی ہوئے قوم لوط ( علیہ السلام) کے لوگوں کو لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ اسی کو گندے کام فرمایا مدت تک لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اس گندے کام سے باز آنے کی نصیحت کی ‘ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) اور اسرائیل (علیہ السلام) کو انسان کی صورت میں قوم لوط ( علیہ السلام) کے عذاب کے لیے بھیجا ‘ پہلے یہ انسان کی شکل کے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور پھر پتھروں کے مینہ اور بستی کے الٹ دینے کے عذاب سے تمام قوم لوط کو غارت کردیا ‘ لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے بچا لیا ‘ اسی کا ذکر آخری آیت میں ہے ‘ یہ سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ سورة ہود کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جن فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی تھی ‘ وہی فرشتے قوم لوط کے عذاب کا حکم بھی لے کر آئے تھے ‘ اسی واسطے ایک ہی جگہ دونوں باتوں کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی روایت اور انس (رض) بن مالک کی روایت جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزر چکی ہیں وہی روایتیں ان آیتوں کی تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان کیا گیا ملک شام بڑا سرسبز ملک ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیا گزرے ہیں اس واسطے وہاں کی زمین کو برکت والی زمین فرمایا جب تک لوط (علیہ السلام) قوم لوط میں تھے تو اپنے علم نبوت کے موافق قوم کے لوگوں کے ہر طرح کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتے تھے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو صاحب علم اور صاحب فہم ہونے کی نعمت دی تھی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:71) نجیناہ (ہم نے اس کو نجات دی) میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ابراہیم ہے۔ برکنا۔ ہم نے برکت دی۔ ہم نے بابرکت بنایا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ یعنی شام و فلسطین کی سرزمین جو روحانی اور مادی دونوں قسم کی برکتون سے مالا مال ہے۔ ( سورة اسرار :1) معلوم ہوا کہ قوم سے مقابلہ اور پھر آگ میں ڈالے جانے کا واقع ارض بابل میں پیش آیا تھا۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75 گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سات دن تک اس آگ میں رہے۔ پھر نہایت خاموشی سے انہوں نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی چونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام پر اس وقت تک ایمان لانے والے دو ہی افراد تھے آپ کی اہلیہ حضرت سارہ (رض) اور حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام، ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کے ساتھ یہی دونوں افراد تھے جن کو لے کر انہوں نے فلسطین میں جا کر قیام فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو نمرود اور اس کی قوم سے نجات عطا فرمائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو فلسطین میں قیام فرمایا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو جب اللہ نے نبوت عطا فرمائی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو سدوم کے عاقے میں بھیج دیا۔ موجودہ زمانہ میں سدوم اردن اور اس اسرائیل کے درمیان کا وہ علاقہ ہے جس کو بحرمیت سے کہا جاتا ہے۔ یہاں سدوم اور عمورہ کی سات بستیاں تھیں جن کو شدید گناہوں کی سزا میں اس طرح تباہ و برباد کردیا گیا اور بستیوں کو الٹ دیا گیا کہ ” آج ان بستویں کی جگہ ایک ایسا سمندر ہے جس کو بحرمیت یا بحر مردار کہا جاتا ہے یہاں کی زمین سطح سمندر سے کئی سو فٹ نیچے چلی گئی ہے اس سمندر میں کوئی کشتی تک نہیں چل سکتی یہاں تک کہ اس کے پانی میں چھوٹے سے چھوٹا جانور جیسے بیکٹیریا وغیرہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس سر زمین پر پوری قوم ایسی بد اخلاقی اور برائیوں میں مبتلا تھی جوان سے پہلے ساری دنیا میں کوئی قوم بھی اس برائی میں مبتلا نہیں ہوئی تھی اس قوم کے مزاج میں بدچلنی ، بد اخلاقی ، سرکشی، تکبر اور غرور کے ساتھ غیر فطری عمل کی محبت رچ بس گئی تھی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے بعد ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ایسی سر زمین کی طرف بھیج کر بچا لیا جس سر زمین میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت ہی برکت رکھی ہے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے اسحاق (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا کیا اور انعام کے طور پر یعقوب (علیہ السلام) جیسا پوتا عنایت کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اس لئے ان کے بارہ بیٹوں کو اللہ نے اس کثرت سے اولاد عطا کی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کہلانے لگے اور بارہ بیٹے بارہ قبیلے اور خاندان بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل اور حضرت سارہ کے بطن سے اٹھارہ اسل بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو پیدا کیا جو بہت نیک اور صالح تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ ساری دنیا کی پیشوائیت اور امامت بھی عطا فرمائی تھی جو اللہ کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کا سامان کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ اس بات کی تعلیم دے دی تھی کہ وہ ہمیشہ نیکیاں اور بھلائیاں کرتے رہیں۔ نماز قائم کرتے اور زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتیر ہیں چناچہ وہ اللہ ہی کی عبادت اور بندگی کرتے تھے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو علم و حکمت اور دانئای سے نوازا تھا اور ان کو اس بستی سے بچا لیا تھا جو ہر طرح کی بدکاریوں میں مبتلا ہو کر اپنی آخرت کو برباد کر رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قوم لوط صرف اسی فعل میں مبتلا نہیں تھی بلکہ ان میں اور بھی بہت سے عیب تھے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر فطری عمل یعنی مردوں کا مردوں کے ساتھ بد فعلی کرنا تمام برائیوں کی جڑ ہے اس کے بعد بہت سی برائیاں خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) پر خصوصی رحم و کرم نازل فرمایا اور وہ خود بھی انتہائی نیک انسان تھے۔ جس بستی میں وہ تھے صرف اس کو بچا لیا گیا باقی سب بستیوں کو برباد کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ تشریح میں عرض کیا گیا ہے کہ خلاف فطرت (لواطت) بدکاری اس قدر شدید فعل ہے کہ اس سے قومیں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں اور ایسی قوموں کا اللہ کے عذاب سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں نام نہاد ترقی یافتہ قومیں جس طرح اس فعل بد کو قانونی تحفظ دیتی چلی جا رہی ہیں اس کے اثرات تو ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور ہر روز کوئی نہ کوئی بیماری کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر قوموں نے اس فعل سے توبہ نہ کی تو دنیا میں کوئی ایسی خطرناک اور ناقابل تصور بیماری پھیلے گی جس سے کروڑوں لوگ مر جائیں گے یا ہمیشہ کے لئے اپاہج ہوجائیں گے کیونکہ اس عمل بد کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ جس سے کسی حالت میں بچنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیں اور ایسے قوانین سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائیں جس سے ساری انسانیت کے تباہ ہوجانے کا امکان ہے کیونکہ جب کسی قوم پر اللہ کا عذاب بھڑک اٹھتا ہے تو اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ ساری انسانیت کو ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ دنیوی بھی کہ فواکہ وجوب بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی اس سے منتفع ہوسکتے ہین، اور دینی بھی کہ بکثرت وہاں انبیاء (علیہم السلام) ہوئے جن کے شرائع کی برکت دور دور عالم میں پھیلی، یعنی انہوں نے ملک شام کی طرف باذن الہی ہجرت فرمائی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ونجینہ۔۔۔۔۔۔۔ فیھا للعلمین (١٧) ” ‘۔ یہ شام کی سرزمین ہے جس کی طرف آپ اور آپ کے بھتیجے لوط نے ہجرت کی۔ چناچہ یہ سرزمین ایک عرصے تک وحی کے نزول کا علاقہ بنی رہی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے کئی رسول اس علاقے میں مبعوث ہوتے رہے۔ اس علاقے میں ارض مقدسہ اور مسلمانوں کا دو سرا حرم ہے۔ اور یہی علاقہ ہے جو سرسبز و شاداب علاقہ ہے اور اس میں بڑی برکات ہیں یعنی اس علاقے میں روحانی اور مادی برکات نسلاً بعد نسل موجودر ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا مبارک سر زمین کی طرف ہجرت کرنا حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کے بیٹے تھے۔ ان آیات میں ان دونوں کی ہجرت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دونوں اپنے علاقہ کو چھوڑ کر شام کے علاقہ فلسطین میں چلے گئے تھے۔ بتوں کی سر زمین کو اور بتوں کے پوجنے والوں کو چھوڑ کر اس سر زمین کے لیے ہجرت کی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکات رکھی ہیں۔ اور یہ برکات دنیا جہان والوں کے لیے ہیں، ان کے اس ہجرت کرنے کو نجات سے تعبیر فرمایا کیونکہ کافروں سے چھوٹ کر بابرکت سر زمین میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو اسحاق نامی بیٹا عطا کیا اور پھر اس بیٹے کا بیٹا یعقوب بھی دیا جو مزید انعام تھا۔ اسی مزید انعام کی وجہ سے پوتے کو نافلہ سے تعبیر فرمایا، اور ان سب کو صالحین میں سے بنا دیا۔ سب اللہ تعالیٰ کے احکام پرچلتے تھے اور اس کے اوامر کی پابندی کرتے تھے، چونکہ نبی تھے اور پیشوا تھے۔ اس لیے دوسروں کو بھی اللہ کی توحید اور اللہ کی دعوت دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ نیک کام کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ ان کاموں میں لگے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت ان کا خصوصی امتیاز تھا جس کا انہیں اہتمام تھا۔ اسی کو فرمایا وَ کَانُوْا لَنَا عَابِدِیْنَ ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ ” وَ نَجَّیْنَاہُ وَ لُوطًا الخ “ ہم نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ وہ خود نہیں بچ سکتے تھے۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ اِسْحٰق الخ “ اور ہم نے ان کو نعمت اولاد سے نوازا۔ اولاد عطا کرنا بھی ہمارا کم ہی کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ضمیر منصوب سے حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر وقت نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ” قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ الخ “ آگ کو ٹھنڈا ہونے کا ہم ہی نے حکم دیا۔ ” فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ “ مشرکوں کو ہم ہی نے رسوا کیا۔ ” وَوَھَبْنَا لَهٗ “ ابراہیم کو اولاد ہم ہی نے عطا کی۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ان کو ائمہ ہدایت ہم ہی نے بنایا۔ ” وَ اَوْحَیْنَا اِلَیْھِمْ “ ان کو نیک کاموں کا حکم ہم ہی نے دیا۔ ” کَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ “ وہ مصائب میں ہمیں ہی پکارتے تھے۔ یہ سارے کام ہم ہی نے کیے کسی اور کا ان میں دخل نہیں تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(71) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کو ایک ایسی سرزمین کی طرف بچا کرلے گئے جس میں ہم نے اقوام (علیہ السلام) عالم کیلئے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں یعنی دشمنوں کی ایذا رسانی سے بچاکر اور لوط (علیہ السلام) جو ان کی تصدیق کرنے والے اور ان کے بھتیجے تھے ان کو بھی ان سے بچا کر ملک عراق سے ملک شام پہنچا دیا جہاں ظاہری اور باطنی برکتیں رکھی ہیں اور مختلف اقوام عالم ان برکتوں سے بہرہ مند ہیں یعنی پھلوں کی کثرت اور بےثمار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مدفن اور ان کی شرائع کا فیض جس سے اقوامِ عالم کو روشنی اور روحانیت نصیب ہوتی ہے۔