Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 93

سورة الأنبياء

وَ تَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ؕ کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴿۹۳﴾٪  6

And [yet] they divided their affair among themselves, [but] all to Us will return.

مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کرلیں سب کے سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ... But they have broken up and differed in their religion among themselves. meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says: ... كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ (And) they all shall return to Us. meaning, `on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

93۔ 1 یعنی دین توحید اور عبادت رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہوگیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی گروہ بن گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور اور بدقسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گیں۔ تو وہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] یہ دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے عموماً مذہبی پیشوا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ یہ علمائے کرام ہوں یا مشائخ عظام اور اس سے ان کا مقصد عموماً حصول مال و جاہ ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں مقامات پر فرمایا کہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر، حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی تمام انبیاء کا مشترکہ دین تھا۔ اب یہ حضرات یہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ انبیاء اور ہمارے بزرگان کرام سب ہی غیب کی خبریں جانتے ہیں اور اپنے اپنے مریدوں کے احوال پر حاضر و ناظر ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ خواہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ ان کو پکارا جائے یا ان سے فریاد کی جائے تو وہ بھی لوگوں کی فریادیں سنتے اور ان کی امداد کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان باتوں پر وہ اپنا سارا زور صرف کرتے، ایسے واقعات اور قصے تراش کر انھیں عوام میں اتنا مشہور کردیتے ہیں کہ وہ الٹا توحید پرستوں کو شامت لے آتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کی گدیاں بحال رہیں اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔ لوگ ان کے در دولت پر حاضری دیتے رہیں۔ اور یہ حضرات انھیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کے سبز باغ دکھلاتے رہیں اور قیامت کے دن شفاعت کرکے انھیں بخشوا دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ کتاب و سنت کی رو سے یہ سب راہیں شیطانی راہیں ہیں۔ انبیاء کے مشترکہ دین کے خلاف ہیں۔ پھر بعض دفعہ علماء کی طرف سے ایسی بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں۔ جن کا دین سے کچھ تعلق نہیں ہوتا نہ ان کا دین میں کچھ مقام ہوتا ہے اور نہ ہی پھر ان پر کوئی عملی فائدہ مرتب ہوتا ہے مثلاً یہ کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ؟ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر قادر ہے وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ کوا حلال ہے یا حرام ؟ یا نصاریٰ میں یہ ایک مسئلہ مدتوں زیر بحث رہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خمیری روٹی کھایا کرتے تھے یا فطیری ؟ یا اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی ؟ پھر ایسے مسائل پر بحث و بدال اور مناظرے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ دونوں طرف سے کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ پوری قوم کے وقت کا ضیاع ہے۔ اور ایسے مسائل عموماً اس وقت علماء کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں جب قوم عملی انحطاط کا شکار ہو رہی ہو اور علماء کا عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھنا مقصود ہو۔ یہ سلسلہ بھی بالآخر فرقہ بازی پر منتج ہوجاتا ہے۔ جو کتاب و سنت کی رو سے کفر و شرک اور اللہ کا عذاب ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ :” تَقَطَّعُوْٓا “ باب تفعل سے ہے جو لازم ہے۔ اصل میں ” تَقَطَّعُْوْا فِي أَمْرِھِمْ “ تھا، یعنی وہ اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ” فِیْ “ کو حذف کرنے کی وجہ سے ” اَمْرَھُمْ “ پر نصب آگیا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں ” تَقَطَّعُوْٓا “ باب تفعیل (قَطَّعُوْا) کے معنی میں ہے جو متعدی ہے، یعنی انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر پہلا معنی راجح ہے۔ یعنی سب کا دین ایک اور رب ایک ہے، اس لیے لازم تھا کہ سب ایک جماعت رہتے اور اپنے نبی کی کتاب اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، مگر وہ سب کچھ جانتے ہوئے محض باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے بارے میں کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢١٣) اور سورة شوریٰ (١٣، ١٤) ہماری امت کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ کتاب و سنت پر متحد ہونے کے بجائے فقہ و تصوف کے الگ الگ پیشوا بنا کر بہت سے فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو حق پر قرار دیتا ہے۔ سیاسی طور پر خلافت اسلامیہ کو ختم کر کے چھپن (٥٦) خود مختار ملکوں میں تقسیم ہوگئے، جن میں سے ایک بھی حقیقت میں خود مختار نہیں ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ 3 اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : (اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ڮ وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ) یعنی یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ اب اس آیت میں انھیں مخاطب کرنے کے بجائے ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا اور ” تَقَطَّعْتُمْ أَمْرَکُمْ بَیْنَکُمْ “ (تم اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے) کے بجائے فرمایا : ” تَقَطَّعُوْا أَمْرَھم بَیْنَھمْ “ کہ وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ یہ مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہے، گویا اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرنے کے بعد ان کی گروہ بندی کی وجہ سے انھیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ان سے خطاب کیا جائے، اس لیے ان کا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا۔ كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ : یعنی یہ لوگ جتنے گروہ چاہیں بنالیں، آخر سب نے ہمارے پاس آنا ہے، پھر ہم سب کا فیصلہ کریں گے، فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ) [ الزمر : ٤٦ ] ” تو کہہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَيْنَہُمْ۝ ٠ۭ كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ۝ ٩٣ۧ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٣) اگر لوگوں نے اس حقیقت کے باوجود اپنے درمیان اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا ہے اور یہودیوں نے علیحدہ دین اور عیسائیوں نے علیحدہ اور مجوس نے اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کرلیا ہے تو باقی ہر ایک گروہ ہمارے پاس آنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٣ (وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط) ” بقول اقبالؔ : ؂ اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری ! یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : (کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) ” (یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے) جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے “۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت ‘ گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کا کوئی ایک موضوع اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔ مثلاً ایک گروہ قرآن میں سے ُ چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر و تقریرکا موضوع بناتا ہے جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہ حصہ اپنے لیے الاٹ کرا لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) (الکہف : ١١٠) اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو ان کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور (اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (یونس ) ہی ہوتا ہے۔ الغرض ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چناچہ آج کے اس دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ جس کے لیے ہر صاحب علم کو استطاعت بھر کوشش کرنی چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91. In this verse, the addressees are the entire mankind. It means: O mankind, in reality all of you belonged to one community and had one and the same religion and all the Prophets brought one and the same creed which was this: Allah alone is the Lord of all mankind, therefore they should worship Him alone. But afterwards the people corrupted this creed and invented and adopted the things they liked and mixed their own theories, whims and practices in it. This brought into being countless communities and religions. Thus it is absolutely wrong to say that a particular Prophet was the founder of a particular religion and another of another, and so on. The very fact that different religions came into being at different periods of time, does not prove that the Prophets created these differences. It is obvious that the Prophets of God could not found different religions nor could they teach their followers to worship any beings other than Allah.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :91 تم کا خطاب تمام انسانوں کی طرف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسانو ، تم سب حقیقت میں ایک ہی امت اور ایک ہی ملت تھے ، دنیا میں جتنے نبی بھی آئے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ، اور وہ اصل دین یہ تھا کہ صرف ایک اللہ ہی انسان کا رب ہے اور اکیلے اللہ ہی کی بندگی و پرستش کی جانی چاہیے ۔ بعد میں جتنے مذاہب پیدا ہوئے اور اسی دین کو بگاڑ کر بنا لیے گئے ۔ اس کی کوئی چیز کسی نے لی ، اور کوئی دوسری چیز کسی اور نے ، اور پھر ہر ایک نے ایک جز اس کا لیکر بہت سی چیزیں اپنی طرف سے اس کے ساتھ ملا ڈالیں ۔ اس طرح یہ بے شمار ملتیں وجود میں آئیں ۔ اب یہ خیال کرنا کہ فلاں نبی فلاں مذہب کا بانی تھا اور فلاں نبی نے فلاں مذہب کی بنیاد ڈالی ، اور انسانیت میں یہ ملتوں اور مذہبوں کا تفرقہ انبیاء کا ڈالا ہوا ہے محض ایک غلط خیال ہے ۔ محض یہ بات کہ یہ مختلف ملتیں اپنے آپ کو مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں کے انبیاء کی طرف منسوب کر رہی ہیں ، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ملتوں اور مذہبوں کا یہ اختلاف انبیاء کا ڈالا ہوا ہے ۔ خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء دس مختلف مذہب نہیں بنا سکتے تھے اور نہ ایک خدا کے سوا کسی اور کی بندگی سکھا سکتے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:93) تقطعوا ماضی جمع مذکر غائب تقطع (تفعل) مصدر۔ انہوں نے کاٹ دیا۔ انہوں نے توڑدیا۔ انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا امرہم۔ ای امر دینہم۔ اپنے دین کے معاملہ کو۔ اپنے دین کے کام کو۔ یعنی اپنے دین کو۔ وتقطعوا امرہم بینہم۔ انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یعنی اختلافات کو جگہ دی پھر ایک گروہ ایک بات پر جم گیا۔ دوسرے نے دوسری بات کو گرہ میں باندھ لیا۔ علی ہذا القیاس۔ اختلفوا فی الدین فصا روا فرقا واحزابا حتی لعن بعضہم بعضا وتبرا بعضہم من بعض (الخازن) دین میں اختلاف کرنے لگے اور فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے لگے۔ اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ آیت سابقہ (21:92) میں خطاب حاضر سے تھا اب غائب کا صیغہ استعمال ہو رہا ہے یہ التفات ضمائر قرآن حکیم میں عام ہے۔ کل۔ ای کل واحد من الاحزاب۔ فرقوں کا ہر ایک ۔ یعنی ہر ایک فرقہ یا گروہ ۔ راجعون۔ لوٹ آنے والے (یوم حشر کو) رجوع سے اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ کل الینا راجعون۔ مطلب یہ کہ۔ اب یہ جو کچھ کرنا چاہیں کرلیں۔ آخر کار ایک دن انہوں نے ہمارے پاس آنا ہے اس دن ان کو ان کے اعمال کی جزاسزا بھگتنا ہی پڑے گی !

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر مکتلف گروہوں میں بٹ گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی بت پرست وغیرہ۔ 10 ۔ اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ توحید کی اصل راہ چھوڑنے کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا رہا ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 143 ایک نظر میں یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، پہلے اسباق میں اس کائنات کے اندر جاری تکوینی قوانین قدرت کا ذکر تھا ، جو اس بات کے لئے نشانی تھے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے۔ جن قوانین کے مطابق اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے ، وہ بھی ایک ہیں اور بتاتے ہیں کہ تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی تھا۔ اس سبق میں مناظر قیامت اور اس کی علامات کا ذکر ہے۔ اس منظر میں مشرکین اور اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ متصرف اور متدبر ہے جو پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار اعلیٰ عطا کرنے کے لئے بھی قوانین اور سنن الہیہ جاری کر رکھے ہیں اور خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھیجا جانا ، اس دنیا پر درحقیقت اللہ کی رحمت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جاتا ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے دست بردار ہوجائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اللہ کے مقرر کردہ قدرتی انجام تک پہنچ جائیں اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ان کے کفر ، تکذیب اور استہزاء پر اللہ سے معاونت طلب کریں۔ انہیں چھوڑ دیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں۔ یوم الحساب تو دور نہیں ہے۔ وتقطعوٓا……لایرجعون (95) رسولوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ ایک ہی نظریہ پر قائم ہے او ان کی امت بھی ایک ہی امت ہے۔ اس امت کی بنیاد کلمہ طیبہ اور توحید پر ہے۔ اس کی شہادت اس پوری کائنات میں جاری وساری قوانین قدرت بھی دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی کلمہ ہے جس کی طرف ابتداء سے لے کر انتہاء تک تمام رسولوں نے لوگوں کو بلایا ہے۔ اسلام کا یہ اصل کبیر ہے۔ ہاں مختلف رسولوں کے ہاں قائم ہونے والا مفصل نظام زندگی اور نظام قانون بہرحال مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ مختلف ادوار میں نظام قانونی اقدام کی استعداد اور ان کے درجہ ترقی کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔ اس میں ان اقوام کے تجربات اور ان کے ذہنی ترقی اور قوت ادراک کو مدنظر رکھا جاتا رہا ہے۔ حیات ، وسائل زندگی اور لوگوں کے باہم ارتباط کے طور طریقوں ، سب کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ رسول ایک تھے ، ان کا نظریہ حیات اور عقیدہ ایک تھا ، بعد میں آنے والے ان کے متبین نے اس ایک ہی دین ، نظریہ اور نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گوہ دین کا ایک ایک ٹکڑا لے کر علیحدہ ہوگیا او اس کے بعد ان گروہوں کے درمیان اختلافات زیادہ ہوگئے ، عداوت شروع ہوگئی ، دشمنی اس قدر بڑھی کہ جنگ وجدال شروع ہوگئی اور لوگ دینی عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے حالانکہ عقائد ایک تھے ، کیونکہ امت ہی ایک تھی۔ انہوں نے دنیا میں تو اپنے ایک دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ یہ سب کے سب قیامت کی طرف بڑی جلدی سے بڑھ رہے ہیں۔ کل الینا رجعون (٢١ : ٩٣) ” سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ “ کیونکہ لوٹنے کی جگہ تو اللہ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اللہ ہی ان سے حساب و کتاب لینے والا ہے اور اس کو علم ہے کہ ان میں حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

66:۔ ” وَ تُقَطِّعُوْا اَمْرَھُمْ الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے یعنی جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور سب توحید پر متفق تھے اور سب توحید ہی کی اشاعت کرتے رہے تو پھر بعد کے لوگوں میں شرک کہاں سے آگیا ؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ بعد کے بد عمل اور ناخلف جانشینوں نے توحید میں اختلاف ڈال دیا اور دنیوی دولت اور لالچ کی وجہ سے شرک کو رواج دینے میں منہمک ہوگئے اچھا سب کو ہمارے پاس ہی آنا ہے اس لیے اپنے کیے کی سزا پالیں گے۔ یعنی دین سب کا ایک تھا سب کا کارساز بھی ایک ہی تھا۔ اور تمام پیغمبر ایک ہی ملت پر متفق تھے لیکن بعد کے لوگوں نے ملت توحید کو پارہ پارہ کردیا۔ وحاصل المعنی الملۃ واحدۃ والرب واھد والانبیاء (علیہم السلام) متفقون علیھا وھؤلاء البعداء جعلوا امر الدین الواحد قطعا الخ (روح ج 17 ص 89) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(93) اور لوگوں نے آپس میں اختلاف ڈال کر اپنے کام کو اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں۔ یہ سب ہماری طرف واپس ہونے والے ہیں۔ یعنی لوگوں نے دین کی وحدت کو پارا پارا کرکے آپس میں تقسیم کرلیا اور باہم بانٹ لیا ان سب کو ہماری طرف واپس آنا ہے واپسی پر ہم ان کو بتائیں گے اور جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے ان کی حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی۔