Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 10

سورة الحج

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۱۰﴾٪  8

"That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."

یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے ۔ یقین مانو کہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ ... and on the Day of Resurrection We shall make him taste the torment of burning. That is because of what your hands have sent forth, means, this will be said to him by way of rebuke. ... وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّمٍ لِّلْعَبِيدِ and verily, Allah is not unjust to the servants. This is like the Ayah: خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, Then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!" (44:47-50)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] اب شخص دراصل تین جرائم کا مرتکب ہوتا ہے ایک تو اس نے جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر وحی الٰہی کا انکار کیا۔ جبکہ اس کے پاس نہ کوئی تجرباتی دلیل تھی، نہ عقلی اور نہ نقلی۔ دورے تکبر اور پندار نفس کا مظاہرہ کیا اور تیسرے اور لوگوں کو بھی راہ حق سے دور رکھنے کا سبب بنا۔ لہذا اس عذاب شدید سے بہتر واضح طور پر بتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی بھیجے ہوئے اعمال کا بدلہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شوق نہیں اور نہ ہی کسی پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (١٨٢) اور انفال (٥١) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ ” فَعَّالٌ“ کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی ” ذُوْ شَيْءٍ “ (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے ” سَمَّانٌ“ (گھی والا) ، ” قَطَّانٌ“ (روئی والا) ، ” حَدَّادٌ“ (لوہار) ، تَمَّارٌ (کھجوروں والا) ، مطلب یہ ہے کہ یہاں ” ظَلَّامٌ“ مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہوسکتی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ وَاَنَّ اللہَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ۝ ١٠ۧ قدم وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] ( ق د م ) القدم عموما القدیم کا لفظ قدم باعتبار زمانہ یعنی پرانی چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ۔ اور آیت کریمہ : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے ۔ میں قدم صدق سے سابقہ فضیلت مراد ہے ۔ اور یہ اسم مصدر ہے اور قدمت کذا کے معنی پہلے کسی کوئی کام کرچکنے یا بھیجنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو، ڈرگئے ہو ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) اور اس سے کہا جائے گا کہ بدر کے دن جو تو مارا گیا اور اب یہ سزا ملی یہ تیرے ہاتھ کے کیے ہوئے شرکیہ کاموں کا نتیجہ ہے ، ( آیت) ” ومن الناس من یجادل فی اللہ “۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم و قصور کے اپنے بندوں کی گرفت کرنے والا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:10) ذلک۔ ای یقال لہ ذلک۔ اس سے کہا جائے گا۔ ظلام۔ ظلم سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ظلم کرنے والا۔ عبید۔ عبد کی جمع ۔ بندے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ کہ وہ کسی کو بےقصور سزا دے یا قصور وار کو چھوڑ دے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اس سے کہا جائے گا یہ اس کئے کا بدلہ ہے جس کو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ صاحبِ مدارک نے فرمایا کہ یہ آیت ابو جہل کی حرکات قبیحہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ تین باتیں اس کی جہالت کے متعلق فرمائیں۔ علم نہی۔ یعنی علم ضروری اور بدیہی بھی نہیں۔ دلیل عقلی سے بھی یکسر خالی اور کوئی روشن کتاب یعنی دلیل نقلی بھی نہیں اور باوجود اس کم مایگی اور حماقت و جہل کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا اور موشگافی کرتا ہے اور ہر قسم کے دلائل سے عاری اور خالی ہوتے ہوئے بھی تکبر کا یہ عالم کہ سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ پہلو پھیر کر اور منہ موڑ کر بات کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا اس لئے کرتا ہے تاکہ لوگوں کو شبہات اور شکوک میں مبتلا کرکے صحیح راہ سے روک دے۔ دنیا کی رسوائی کا مطلب یہ ہے کہ اہل دانش کی نگاہ میں بےعزتی اور جنگ میں شکست اور آخرت میں آگ کا عذاب، جہنم کے عذاب میں داخل کرتے وقت فرشتے کہیں گے یہ سزا تجھ کو ان کاموں کے بدلے دی جارہی ہے جو تونے اور تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجے۔