Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 26

سورة الحج

وَ اِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰہِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّ طَہِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۲۶﴾

And [mention, O Muhammad], when We designated for Abraham the site of the House, [saying], "Do not associate anything with Me and purify My House for those who perform Tawaf and those who stand [in prayer] and those who bow and prostrate.

اور جبکہ ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Building of the Ka`bah and the Proclamation of the Hajj This is a rebuke to those among Quraysh who worshipped others than Allah and joined partners with Him in the place which from the outset had been established on the basis of Tawhid and the worship of Allah Alone, with no partner or associate. Allah says: وَإِذْ بَوَّأْنَا لاِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ ... And (remember) when We showed Ibrahim the site of the House (saying): Allah tells us that He showed Ibrahim the site of the `Atiq House, i.e., He guided him to it, entrusted it to him and granted him permission to build it. Many scholars take this as evidence to support their view that Ibrahim was the first one to build the House and that it was not built before his time. It was recorded in the Two Sahihs that Abu Dharr said, "I said, `O Messenger of Allah, which Masjid was the first to be built?' He said, الْمَسْجِدُ الْحَرَام (Al-Masjid Al-Haram) . I said, `Then which?' He said, بَيْتُ الْمَقْدِس (Bayt Al-Maqdis). I said, `How long between them?' He said, أَرْبَعُونَ سَنَة (Forty years)." And Allah says: إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكاً Verily, the first House (of worship) appointed for mankind was that at Bakkah (Makkah), full of blessing, (3:96) until the end of following two Ayat. Allah says: وَعَهِدْنَأ إِلَى إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّأيِفِينَ وَالْعَـكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ and We commanded Ibrahim and Ismail that they should purify My House for those who are circumambulating it, or staying (I`tikaf), or bowing or prostrating themselves. (2:125) And Allah says here: ... أَن لاَّ تُشْرِكْ بِي شَيْيًا ... Associate not anything with Me, meaning, `Build it in My Name Alone.' ... وَطَهِّرْ بَيْتِيَ ... and sanctify My House, Qatadah and Mujahid said, "And purify it from Shirk. ... لِلطَّايِفِينَ وَالْقَايِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ for those who circumambulate it, and those who stand up, and those who bow, and make prostration (in prayer). means, `and make it purely for those who worship Allah Alone, with no partner or associate.' What is meant by "those who circumambulate it" is obvious, since this is an act of worship that is done only at the Ka`bah and not at any other spot on earth. وَالْقَايِمِينَ (and those who stand up), means, in prayer. Allah says: ... وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ and those who bow, and make prostration. Tawaf and prayer are mentioned together because they are not prescribed together anywhere except in relation to the House. Tawaf is done around the Ka`bah and prayer is offered facing its direction in the majority of cases, with a few exceptions, such as when one is uncertain of the direction of the Qiblah, during battle and when praying optional prayers while traveling. And Allah knows best.

مسجد حرام کی اولین بنیاد توحید یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کردیا ۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ علیہ السلام ہیں سب سے پہلے آپ نے ہی اسے بنایا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا مسجد حرام ۔ میں نے کہا پھر؟ فرمایا بیت المقدس ۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟ فرمایا چالیس سال کا ۔ اللہ کا فرمان ہے آیت ( اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 96؀ۚ ) 3-آل عمران:96 ) ، دو آیتوں تک ۔ اور آیت میں ہے ہم نے ابراہیم واسماعیل علیہ السلام سے وعدہ کرلیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا الخ بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لئے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ یہاں فرمایا اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کردے ان کے لئے جو موحد ہیں ۔ طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے ۔ پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام ، رکوع ، سجدے ، کا ذکر فرمایا اس لئے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہوجائے گی واللہ اعلم ۔ اور یہ حکم ملاکہ اس گھر کے حج کی طرف تمام انسانوں کو بلا ۔ مذکور ہے کہ آپ نے اس وقت عرض کی کہ باری تعالیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟ جواب ملاکہ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے ۔ آپ نے مقام ابراہیم پر یا صفا پہاڑی پر ابو قیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر ندا کی کہ لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو ۔ پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی ۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی ۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا ۔ بہت سے سلف سے یہ منقول ہے ، واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے ۔ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لئے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لئے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا ۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا ۔ اس لئے کہ فرمان الٰہی میں پیدل والوں کا ذکر ہے ۔ لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پاپیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتدا ہے پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لئے آئیں گے خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی کہ آیت ( فاجعل افئدۃ من الناس تہوی الیہم ) لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کردے ۔ آج دیکھ لو وہ کونسا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہو؟ اور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں ۔ ( اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

26۔ 1 یعنی بیعت اللہ کی جگہ بتلا دی اور وہاں ہم نے ذریت ابراہیم (علیہ السلام) کو ٹھہرایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کی ویرانی کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' سب سے پہلی مسجد جو زمین میں بنائی گئی، مسجد حرام ہے، اور اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصٰی تعمیر ہوئی ' (مسند احمد 5۔ 150، 166، 167 و مسلم کتاب المساجد) ف 4 یہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی غرض بیان کی کہ اس میں صرف میری عبادت کی جائے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین نے اس میں جو بت سجا رکھے ہیں جن کی وہ یہاں آکر عبادت کرتے ہیں یہ ظلم صریح ہے کہ جہاں صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے تھی وہاں بتوں کی عبادت کی جاتی ہے۔ 26۔ 2 کفر بت پرستی اور دیگر گندگیوں اور نجاستوں سے۔ یہاں ذکر صرف نماز پڑھنے والوں کا کیا ہے، کیونکہ یہ دونوں عبادت خانہ کعبہ کے ساتھ خاص ہیں، نماز میں رخ اس کی طرف ہوتا ہے اور طواف صرف اسی کے گرد کیا جاتا ہے۔ لیکن اہل بدعت نے اب بہت سی قبروں کا طواف بھی ایجاد کرلیا ہے اور بعض نمازوں کے لیے قبلہ بھی کوئی اور۔ اعاذنا اللہ منہما

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣] حضرت آدم نے سب سے پہلے کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ جس کے اب نشانات بھی زمین بوس ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی چلائی جس سے اوپر کی مٹی اور ریت اڑ کر دور چلی گئی اور کعبہ کی بنیادی ننگی اور ظاہر ہوگئیں۔ انہی بنیادوں پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ ملا کر کعبہ کی تعمیر شروع کی تھی۔ اور حضرت ابراہیم کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس گھر کی بنیادیں خالص توحید پر رکھو۔ کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم بجا نہ لائے۔ لیکن مشرکین مکہ نے جو دین ابراہیمی کی پیروی کے مدعی تھے۔ اس ہدیت کی ایسی نافرمانی کی کہ وہاں تین سو ساٹھ بٹ لا کھڑے کئے بالآخر فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے اس گھر کو بتوں کی نجاست سے پاک فرمایا۔ [٣٤] اللہ کے گھروں یعنی مساجد کو صاف ستھرا رکھنا اتنا افصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولعزم انبیاء کو خصوصاً اس کام کی ہدایت کی۔ صفائی سے مراد ظاہری صفائی بھی ہے اور احادیث میں اس کی بھی تاکید آئی ہے۔ لیکن اللہ کے گھروں کی اصل پاکیزگی اور صفائی یہی ہے کہ وہاں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو نہ پکارا جائے اور نہ ہی وہاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کا ذکر اذکار اور کرامات بیان کی جاتی رہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ : ” بَوَّاْنَا “ (تَفْعِیْل) جگہ دینا، جگہ مقرر کرنا، یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کی۔ بیت اللہ اس سے پہلے تعمیر ہوچکا تھا، بلکہ زمین پر اللہ کا سب سے پہلا گھر یہی تھا اور ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے بہت پہلے آدم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر آدم (علیہ السلام) نے کی یا اس سے پہلے فرشتوں نے اسے تعمیر کیا تھا۔ ایک ٹیلے پر اس کی بنیادیں موجود تھیں جس پر ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) نے کعبہ کی عمارت تعمیر فرمائی۔ صحیح بخاری میں ابن عباس (رض) کی لمبی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے ایک اونچی جگہ تعمیر ہوا تھا۔ چناچہ اس حدیث میں زمزم کے نمودار ہونے کے بعد فرشتے کے ام اسماعیل (علیہ السلام) کو تسلی دینے کا ذکر ہے : ( فَقَالَ لَھَا الْمَلَکُ لاَ تَخَافُوا الضَّیْعَۃَ فَإِنَّ ھٰھُنَا بَیْتَ اللّٰہِ ، یَبْنِيْ ھٰذَا الْغُلَامُ وَ أَبُوْہُ وَ إِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ أَھْلَہُ وَ کَانَ الْبَیْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ کَالرَّابِیَۃِ تَأْتِیْہِ السُّیُوْلُ فَتَأْخُذُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَ عَنْ شِمَالِہِ فَکَانَتْ کَذٰلِکَ حَتّٰی مَرَّتْ بِھِمْ رُفْقَۃٌ مِنْ جُرْھُمَ ) [ بخاري، الأنبیاء، باب ( یزفون ): ٣٣٦٤ ] ” تو فرشتے نے اس سے کہا، تم ضائع ہونے سے مت ڈرو، کیونکہ یہاں اللہ کا گھر ہے، یہ لڑکا اور اس کا باپ اسے بنائے گا اور اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ بیت اللہ زمین سے ٹیلے کی طرح بلند تھا، سیلاب آتے اور اس کے دائیں بائیں طرف ہوجاتے۔ ام اسماعیل ایسے ہی رہیں، حتیٰ کہ جرہم قبیلے کے کچھ لوگ ان کے پاس سے گزرے۔ “ اس حدیث کے آخر میں بیت اللہ کی تعمیر کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمزم کے نمودار ہونے کے وقت بھی ایک ٹیلے پر بیت اللہ موجود تھا مگر اس کی از سر نو تعمیر اسماعیل (علیہ السلام) کے جوان ہونے پر ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) نے کی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٢٧) کی تفسیر۔ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا ۔۔ : ” الرُّكَّعِ “ ” رَاکِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” سُجَّدٌ“ ہے۔ ” السُّجُوْد “ ” سَاجِدٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” رَاقِدٌ“ اور ” جَالِسٌ“ کی جمع ” رُقُوْدٌ“ اور ” جُلُوْسٌ“ ہے۔ طواف کا معنی کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا ہے۔ یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، ہر شخص یہاں آ کر صرف اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ مگر کفار مکہ نے اس کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھ دیے جن کا وہ طواف کرتے تھے، اب بھی کئی مسلمان کہلانے والے قبروں اور آستانوں کا طواف کرتے ہیں، حالانکہ طواف اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ایک گھر کا رکھا ہے، جسے کعبۃ اللہ کہتے ہیں، اس کے سوا کسی جگہ کا یا شخص کا طواف جائز نہیں۔ کعبہ کو ” بَيْتِيَ “ (میرا گھر) کہنے میں اس کی جو شان بیان ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ یعنی بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور میرے گھر کو طواف، قیام، سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ بیت اللہ کو صاف ستھرا رکھنے سے مراد عام صفائی کے علاوہ شرک و بت پرستی سے پاک صاف رکھنا ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔ نیز دیکھیے سورة بقرہ (١٢٥) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The previous verse contains a warning of severe punishment to the infidels who prevented the Muslims from entering the Sacred Mosque and the precincts of Haram. This verse describes the eminence and the superior status of the Baitullah which magnifies manifold the evil of their deeds. The start of founding the structure of the House of Allah (the Holy Ka&bah) وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌اهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ (And [ remember ] when We pointed out for Ibrahim the place of the House - 22:26.) The word بَوَّء literally means ` to assign to someone a place for his residence.& The verse calls to attention the fact that Allah assigned to Sayyidna Ibrahim علیہ السلام a place where Baitullah was located. There is a hint here that he was not settled there already, since he migrated here from Syria. And a reference to مَکَانَ البَیت (the place of the House) suggests that the House of Allah pre-existed the arrival of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، because according to reliable traditions its first foundations were laid about the time when Sayyidna &Adam (علیہ السلام) was sent upon the earth and he, and the prophets who came after him, used to make tawaf (circumambulation) around it. At the time of Deluge in the days of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) its upper-structure was removed but the foundations remained intact. Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was brought to this place and commanded by Allah Ta’ ala أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِي شَيْئًا (Do not associate with Me any one - 22:26). It is quite evident that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) could not commit shirk, because he had himself suffered considerable torment at the hands of polytheists after they accused him of having destroyed their idols. The intention here is to warn the people at large against the great sin of polytheism. The second command was وَطَهِّرْ‌ بَيْتِيَ (purify My House - 22:26), even though the House of Allah did not exist at that time. But the fact of the matter is that Baitullah is not just a structure of bricks and mortar, rather the term encompasses that entire piece of sacred land where Baitullah once stood and whose structure Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was now commanded to raise once again on the original foundations. As for the command to purify the place, Qurtubi says that in those days the tribes of Jurhum (جُرھَم) and Amalakites (عمالقہ) had placed idols there, which they worshipped. (Qurtubi) Another view is that this command is for the future generations not only to keep the place free from infidelity and polytheism but also to pay special attention to its external cleanliness and purity.

خلاصہ تفسیر اور (اس قصہ کا تذکرہ کیجئے) جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلا دی (کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا اور حکم دیا) کہ (اس مکان کو عبادت کے لئے تیار کرو اور اس عبادت میں) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا (یہ دراصل ان کے بعد کے لوگوں کو سنانا تھا اور بناء بیت اللہ کے ساتھ شرک کی ممانعت کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بیت اللہ کی طرف نماز اور اس کا طواف کرنے سے کسی جاہل کو یہ شبہ نہ ہوجائے کہ یہی معبود ہے) اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور (نماز میں) قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے واسطے (ظاہری اور باطنی نجاسات یعنی کفر و شرک سے) پاک رکھنا (یہ بھی دراصل دوسروں کو سنانا تھا ابراہیم (علیہ السلام) سے تو اس کے خلاف کا احتمال ہی نہ تھا) اور (ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا گیا کہ) لوگوں میں حج (کے فرض ہونے) کا اعلان کردو ( اس اعلان سے) لوگ تمہارے پاس (یعنی تمہاری اس مقدس عمارت کے پاس) چلے آئیں گے پیادہ بھی اور (طول سفر کی وجہ سے دبلی ہوجانے والی) اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی (اور وہ لوگ اس لئے آویں گے) تاکہ اپنے (اپنے دینی اور دنیوی) فوائد کیلئے حاضر ہوجاویں (دینی فوائد تو معلوم و مشہور ہیں دنیوی فوائد بھی اگر مقصود نہ ہوں مثلاً خریدو فروخت اور قربانی کا گوشت وغیرہ تو یہ بھی کوئی مذموم نہیں) اور (اس لئے آویں گے) تاکہ ایام مقررہ میں (جو قربانی کے ایام دسویں سے بارہویں ذی الحجہ تک ہیں) ان مخصوص چوپاؤں پر (یعنی قربانی کے جانوروں پر ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو خدا تعالیٰ نے ان کو عطا کئے ہیں (ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب کا مضمون ہوچکا آگے امت محمدیہ مخاطب ہے) ان (قربانی کے) جانوروں میں سے تم بھی کھایا کرو۔ (کہ یہ جائز ہے اور مستحب یہ ہے کہ) مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلایا کرو پھر (قربانی کے بعد) لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں (یعنی احرام کھول ڈالیں سر منڈا لیں) اور اپنے واجبات کو (خواہ نذر سے قربانی وغیرہ واجب کرلی ہو یا بلا نذر جو افعال حج کے واجب ہیں ان سب کو پورا کریں اور (انہی ایام معلومات میں) اس مامون و محفوظ گھر (یعنی بیت اللہ) کا طواف کریں (یہ طواف زیارت کہلاتا ہے) ۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیت میں مسجد حرام اور حرم سے روکنے والوں پر عذاب شدید کی وعید آئی ہے آگے اس کی مناسبت سے بیت اللہ کے خاص فضائل اور عظمت کا بیان ہے جس سے ان کے فعل کی قباحت اور زیادہ واضح ہوجائے۔ بناء بیت اللہ کی ابتدا : وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ ، بوء کا لفظ لغت میں کسی کو ٹھکانا اور رہنے کا مکان دینے کے معنے میں آتا ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ بات قابل ذکر اور یاد رکھنے کی ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس جگہ کا ٹھکانا دیا جہاں بیت اللہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے سے اس زمین پر آباد نہ تھے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے کہ ان کو ملک شام سے ہجرت کرا کر یہاں لایا گیا تھا۔ اور مکان البیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے موجود تھا جیسا کہ معتبر روایات میں ہے کہ اس کی پہلی بناء تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر لانے سے پہلے یا اس کے ساتھ ہوئی تھی اور آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے وقت بیت اللہ کی تعمیر اٹھا لی گئی تھی بنیادیں اور اس کی معین جگہ موجود تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہیں لا کر ٹھہرایا گیا اور ان کو حکم دیا گیا اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا، یعنی میری عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے شرک کرنے کا کوئی احتمال نہیں۔ ان کی بت شکنی اور شرک کرنے والوں کا مقابلہ اور اس میں سخت ترین آزمائش کے واقعات پہلے ہوچکے تھے اس لئے مراد اس سے عام لوگوں کو سنانا ہے کہ شرک سے پرہیز کریں۔ دوسرا حکم یہ دیا گیا وّطَهِّرْ بَيْتِيَ (یعنی میرے گھر کو پاک کیجئے) اس وقت اگرچہ گھر موجود نہیں تھا مگر بیت اللہ دراصل در و دیوار اور تعمیر کا نام نہیں، وہ اس بقعہ مقدسہ کا نام ہے جس میں بیت اللہ پہلے بنایا گیا تھا اور اب دوبارہ بنانے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہ بقعہ اور مکان بہرحال موجود تھا اس کو پاک کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس زمانے میں بھی قوم جرہم اور عمالقہ نے یہاں کچھ بت رکھے ہوئے تھے جن کی پوجا پاٹ ہوتی تھی (ذکرہ القرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم آئندہ آنے والوں کو سنانا ہو اور پاک کرنے سے مراد جیسے کفر و شرک سے پاک رکھنا ہے ایسے ہی ظاہری نجاسات اور گندگیوں سے پاک رکھنا بھی مراد ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کا خطاب کرنے سے دوسرے لوگوں کو اہتمام کی فکر دلانا مقصود ہے کہ جب خلیل اللہ کو اس کا حکم ہوا جو خود ہی اس پر عامل تھے تو ہمیں اس کا اہتمام کتنا کرنا چاہئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۝ ٢٦ بَوءَ أصل البَوَاء : مساواة الأجزاء في المکان، خلاف النّبو الذي هو منافاة الأجزاء . يقال : مكان بَوَاء : إذا لم يكن نابیا بنازله، وبَوَّأْتُ له مکانا : سوّيته فَتَبَوَّأَ ، وبَاءَ فلان بدم فلان يَبُوءُ به أي : ساواه، قال تعالی: وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما بِمِصْرَ بُيُوتاً [يونس/ 87] ، وَلَقَدْ بَوَّأْنا بَنِي إِسْرائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ [يونس/ 93] ( ب و ء ) البواء ۔ کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزا کا مساوی ( اور سازگار موافق) ہونے کے ہیں ۔ یہ نبوۃ کی ضد ہے جس کے معنی اجزاء کی ناہمواری ( ناسازگاری ) کے ہیں ۔ لہذا مکان بواء اس مقام کے کہتے ہیں ۔ جو اس جگہ پر اترنے والے کے ساز گار اور موافق ہو ۔ بوات لہ مکانا میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا اور تبوات اس کا مطاوع ہے جس کے معنی کسی جگہ ٹھہرلے کے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ { وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا } ( سورة يونس 87) اور ہم نے موسیٰ اور اس گے بھائی کی طرف دحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ ۔ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، طهر والطَّهَارَةُ ضربان : طَهَارَةُ جسمٍ ، وطَهَارَةُ نفسٍ ، وحمل عليهما عامّة الآیات . يقال : طَهَّرْتُهُ فَطَهُرَ ، وتَطَهَّرَ ، وَاطَّهَّرَ فهو طَاهِرٌ ومُتَطَهِّرٌ. قال تعالی: وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] ، أي : استعملوا الماء، أو ما يقوم مقامه، قال : وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] ، ( ط ھ ر ) طھرت طہارت دو قسم پر ہے ۔ طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے کہا جاتا ہے : ۔ طھرتہ فطھروتطھر واطھر فھو طاھر ومتطھر میں نے اسے پاک کیا چناچہ وہ پاک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو نہاکر پاک ہوجایا کرو ۔ یعنی یا جو چیز اس کے قائم مقام ہو اس کے ذریعہ طہارت کرلیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ۔ طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال تعالی: فَطافَ عَلَيْها طائِفٌ [ القلم/ 19] ، تعریضا بما نالهم من النّائبة، وقوله : أَنْ طَهِّرا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ [ البقرة/ 125] ، أي : لقصّاده الذین يَطُوفُونَ به، والطَّوَّافُونَ في قوله : طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلى بَعْضٍ [ النور/ 58] عبارة عن الخدم، وعلی هذا الوجه قال عليه السلام في الهرّة : (إنّها من الطَّوَّافِينَ عليكم والطَّوَّافَاتِ ) «5» . وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا «1» ، وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . والطُّوفَانُ : كلُّ حادثة تحیط بالإنسان، وعلی ذلک قوله : فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الطُّوفانَ [ الأعراف/ 133] ، وصار متعارفا في الماء المتناهي في الکثرة لأجل أنّ الحادثة التي نالت قوم نوح کانت ماء . قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ [ العنکبوت/ 14] ، وطَائِفُ القوسِ : ما يلي أبهرها «2» ، والطَّوْفُ كُنِيَ به عن العَذْرَةِ. ( ط و ف ) الطوف ( ن ) کے معنی کسی چیز کے گرد چکر لگانے اور گھومنے کے ہیں ۔ الطائف چوکیدار جو رات کو حفاظت کے لئے چکر لگائے اور پہرہ دے طاف بہ یطوف کسی چیز کے گرد چکر لگانا گھومنا ۔ قرآن میں ہے : يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے ان کے آس پاس پھیریں گے ۔ فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے ۔ اور اسی سے بطور استعارہ جن خیال ، حادثہ وغیرہ کو بھی طائف کہاجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] جب ان کو شیطان کیطرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے ۔ میں طائف سے وہ شیطان مراد ہے جو انسان کا شکار کرنے کے لئے اس کے گرد چکر کاٹتا رہتا ہے ایک قرآت میں طیف ہے ، جس کے معنی کسی چیز کا خیال اور اس صورت کے ہے جو خواب یابیداری میں نظر آتی ہے اسی سے خیال کو طیف کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ : فَطافَ عَلَيْها طائِفٌ [ القلم/ 19] کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ( راتوں رات ) اس پر ایک آفت پھر گئی ۔ میں طائف سے وہ آفت یا حادثہ مراد ہے جو انہیں پہنچا تھا ۔ اور آیت کریمہ : أَنْ طَهِّرا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ [ البقرة/ 125] طواف کرنے والوں ۔۔۔ کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو۔ میں طائفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو حج یا عمرہ کرنے کے لئے ) بیت اللہ کا قصد کرتے اور اس کا طواف کرتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلى بَعْضٍ [ النور/ 58] اور نہ ان پر جو کام کے لئے تمہارے اردگرد پھرتے پھراتے رہتے ہیں ۔ میں طوافون سے نوکر چاکر مراد ہیں ( جنہیں خدمت گزاری کے لئے اندروں خانہ آنا جا نا پڑتا ہے ) اسی بنا پر بلی کے متعلق حدیث میں آیا ہے (33) انما من الطوافین علیکم والطوافات ۔ کہ یہ بھی ان میں داخل ہے جو تمہارے گرد پھرتے پھراتے رہتے ہیں ۔ الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) الطوفان وہ مصیبت یا حادثہ جو انسان کو چاروں طرف سے گھیرے اس بنا پر آیت کریمہ ؛فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الطُّوفانَ [ الأعراف/ 133] تو ہم ان پر طوفان ( وغیرہ کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں ۔ میں طوفان بمعنی سیلاب بھی ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کی قوم پر جو عذاب آیا تھا ۔ وہ پانی کی صورت میں ہی تھا اور دوسری جگہ فرمایا : فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ [ العنکبوت/ 14] پھر ان کو طوفان کے عذاب ) نے آپکڑا ۔ طائف القوس خانہ کمان جو گوشہ اور ابہر کے درمیان ہوتا ہے ۔ الطوف ( کنایہ ) پلیدی ۔ ركع الرُّكُوعُ : الانحناء، فتارة يستعمل في الهيئة المخصوصة في الصلاة كما هي، وتارة في التّواضع والتّذلّل، إمّا في العبادة، وإمّا في غيرها نحو : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا[ الحج/ 77] ، وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَٓ [ البقرة/ 43] ، وَالْعاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ [ البقرة/ 125] ، الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ [ التوبة/ 112] ، قال الشاعر : أخبّر أخبار القرون الّتي مضت ... أدبّ كأنّي كلّما قمت راکع ( ر ک ع ) الرکوع اس کے اصل معنی انحناء یعنی جھک جانے کے ہیں اور نماز میں خاص شکل میں جھکنے پر بولا جاتا ہے اور کبھی محض عاجزی اور انکساری کے معنی میں آتا ہے خواہ بطور عبادت ہو یا بطور عبادت نہ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا[ الحج/ 77] مسلمانوں ( خدا کے حضور ) سجدے اور رکوع کرو وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ [ البقرة/ 43] جو ہمارے حضور بوقت نماز جھکتے ہیں تم بھی انکے ساتھ جھکا کرو ۔ وَالْعاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ [ البقرة/ 125] مجاوروں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں ( کے لئے ) الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ [ التوبة/ 112] رکوع کرنے والے اور سجدہ کرنے والے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) أخبّر أخبار القرون الّتي مضت ... أدبّ كأنّي كلّما قمت راکع میں گذشتہ لوگوں کی خبر دیتا ہوں ( میں سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے ) رینگ کر چلتا ہوں اور خمیدہ پشت کھڑا ہوتا ہوں ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦) اور ان لوگوں کے سامنے وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کی جگہ بتا دی یعنی ایک بادل بھیجا جو اس جگہ کے چاروں طرف رک گیا درمیان میں وحی کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی اور ہم نے انکو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان بتوں میں سے کسی کو شریک مت ٹھہرانا اور میری اس مسجد کو طواف کرنے والوں کے لیے اور تمام شہروں کے نمازیوں کے لیے نماز میں قیام و سجود و رکوع کرنے والوں کے لیے خواہ وہ کسی طرح کریں بتوں کی گندگی سے پاک رکھنا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ (وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے نشاندہی کردی گئی کہ ٹھیک اس جگہ پر بیت اللہ کی تعمیر کی جائے۔ غالباً یہ وہی جگہ تھی جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ بعد میں سیلاب کی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعمیر شدہ دیواریں گرگئیں اور ان کے آثار بھی ناپید ہوگئے لیکن زمین کے اندر بنیادیں موجود تھیں۔ (اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْءًا وَّطَہِّرْ بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْقَآءِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) ” ( یہی مضمون سورة البقرۃ کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : (وَعَہِدْنَآ اِلآی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ” اور عہد لیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) سے کہ پاک رکھیں میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے “۔ دونوں آیات کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں ‘ صرف یہ فرق ہے کہ سورة البقرۃ میں لفظ ” العٰکِفِیْن “ آیا ہے اور آیت زیر نظر میں اس کی جگہ ” القَاءِمِیْن “ استعمال ہوا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45. Some commentators opine that the address to Prophet Abraham (peace be upon him) ends with (verse 26) and say that the command contained in (verse 27) was addressed to the Prophet (peace be upon him); but this opinion does not fit in with the context. For it is obvious that this command was also addressed to Prophet Abraham (peace be upon him) when he had built the Kabah. Moreover, the command implies that the House of Allah had been built for the worship of One Allah and there was general permission from the very first day for all worshipers to visit it for performing Hajj.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :45 بعض مفسرین نے پاک رکھو پر اس فرمان کو ختم کر دیا ہے جو حضرت ابراہیم کو دیا گیا تھا ، اور حج کے لیے اذن عام دے دو کا خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مانا ہے ۔ لیکن انداز کلام صاف بتا رہا ہے کہ یہ خطاب بھی حضرت ابراہیم ہی کی طرف ہے اور اسی حکم کا ایک حصہ ہے جو ان کو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دیا گیا تھا ۔ علاوہ بریں مقصود کلام بھی یہاں یہی بتانا ہے کہ اول روز ہی سے یہ گھر خدائے واحد کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور تمام خدا پرستوں کو یہاں حج کے لیے آنے کا اذن عام تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: جیسا کہ سورۃ بقرہ : 127 میں گذر چکا ہے، بیت اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے تعمیر ہو کر منہدم ہوگیا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہٰں وہ جگہ بتائی جہاں بیت اللہ کو دوبارہ تعمیر کرنا منظور تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٦:۔ اس تفسیر میں یہ بات کئی جگہ جتلادی گئی ہے کہ قرآن شریف میں پچھلے قصے فقط قصہ کے طور پر نہیں ذکر کیے جاتے بلکہ ان کے ذکر سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کو تاریخی ثبوت کے طور پر بیان کیا جا کر قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے کا کوئی مطلب اس تاریخی شہادت سے ثابت کیا جائے ‘ چناچہ مشرکین مکہ نے اللہ کے گھر میں بت پرستی کا شرک جو پھیلا رکھا تھا اوپر اس کا ذکر فرما کر ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ سے ان مشرکین کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ اگرچہ کعبہ کے بنانے کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ کعبے میں شرک نہ پھیلنے پائے بلکہ خالص نیت سے طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کے لیے یہ جگہ خاص کردی جائے لیکن عمروبن لحی کے زمانہ سے ان مشرکوں کے بڑوں نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل چھوڑ دی اور یہ حال کے مشرک اپنے بڑوں کی رسم کے پابند ہیں اب اس شرک کے دفع کرنے کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو پیدا کیا ہے اور وقت مقررہ پر اللہ کا یہ ارادہ ضرور پورا ہوگا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابربن عبداللہ کی روایت ٣ ؎ سورة بقر میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب کی بت پرستی سے تو اب مایوس ہوگیا ہے ہاں جزیرہ عرب میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا اس کا کام باقی رہ گیا ہے ‘ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیدا اور رسول ہونے سے جس قدر شرک مٹا اس کا مطلب جابر بن عبداللہ کی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ طواف تین ہیں ایک تو مکہ میں داخل ہوتے ہی کیا جاتا ہے یہ طواف اگر جاتا رہے تو اس کی کچھ تاکید ہے نہ اس کا کچھ بدلہ دینا پڑتا ہے ‘ دوسرا طواف عرفات سے پلٹنے ‘ احرام کے کھولنے اور شیاطینوں کے کنکریاں مارنے کے بعد دسویں ذی الحجہ کو کیا جاتا ہے اس طواف کے بغیر مکہ سے سفر کرنا جائز نہیں ہے ‘ تیسرا طواف مکہ کے چھوڑنے کے وقت ہے۔ یہ طواف اگر جاتا رہے تو اس قصور کے بدلے میں قربانی لازم آتی ہے مگر حیض والی عورت اس حکم سے مستثنیٰ ہے ‘ چناچہ صحیح بخاری، مسلم اور مسند امام احمد کی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی حدیث ١ ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر حیض والی عورت نے حیض کے آنے سے پہلے دسویں ذی الحجہ کا طواف عرفات سے آن کر کرلیا ہے تو پھر آخری طواف کے لیے اس کو مکہ میں ٹھہرنا ضروری نہیں ہے نہ اس پر کچھ فدیہ ہے ‘ حج اور عمرہ کی باقی باتوں کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ (٣ ؎ مشکوٰۃ ص ١٩‘ باب فی الوسوستہ۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص ١٧ ج ٢ باب اذا حاضت المرأۃ بعد ما افاضت )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:26) واذ۔ واذکر حین۔ اور یاد کر جب۔ بوانا۔ ماضی جمع متکلم۔ تبویۃ (تفعیل) سے ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے مناسب مقام کا تعین کیا۔ جیسے کہ تبوی المؤمنین مقاعد للقتال (3:121) تاکہ مؤمنوں کو لڑائی کے لئے مناسب مورچوں پر متعین کرے۔ البواء (مادہ ب و ع) کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (ساز گار۔ موافق) ہونے کے ہیں۔ لہٰذا مکان بواء کے معنی ہیں وہ مقام جو اس جگہ پر اترنے والے کے لئے سازگار و موافق ہو۔ بوأت لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا واذ بوانالابراہیم مکان البیت اور یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے (حضرت) ابراہیم کے لئے بیت اللہ (کی تعمیر کے لئے ) جگہ مقرر کردی بعض نے اسے باء یبوء بواء سے لیا ہے۔ یعنی لوٹنا۔ چناچہ مدارک التنزیل میں ہے۔ جعلنا لابراہیم مکان البیت مباء ۃ ای مرجعا یرجع الیہ للعمارۃ والعبادۃ۔ اور روح المعانی میں ہے۔ جعلنا مکان البیت مباء ۃ لجدہم ابراہیم (علیہ السلام) ای مرجعا یرجع الیہ للعمارۃ والعبادۃ۔ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کو مباء ۃومرجع (یعنی بار بار لوٹ آنے کی جگہ) بنادیا۔ کیونکہ اس کی تعمیر کے لئے عبادت کے لئے وہ بار بار وہاں آتے تھے۔ الزجاج نے لکھا ہے کہ ۔ المعنی بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ۃ لہ ولعقبہ یرجعون الیہ ویحجونہ۔ لیکن قرآن مجید میں اکثر اول الذکر معنی میں ہی بوا کا استعمال ہوا ہے مثلاً آیت شریف (3:121) متذکرہ بالا۔ یا جیسے کہ والذین امنوا عملوا الصلحت لنبؤنہم من الجنۃ غرفا (29:58) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہین ہم جنت کے بالا خانوں میں ٹھہرائیں گے۔ یا جگہ دیں گے) یا والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا لنبوئنہم فی الدنیا حسنۃ (16:41) جن لوگوں نے اللہ کے واسطے ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا تھا ہم ان کو دنیا میں بہت اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ عمرو بن معدی کرب کا شعر ہے :۔ کم من اخ لی ماجد ۔ بواتہ بیدی لحدا کتنے ہی میرے شریف و بزرگ بھائی تھے۔ کہ میں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا ان لا تشرک بی۔ میں ان مفسرہ ہے اور اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنی پر مشتمل ہو۔ خواہ لفظا ہو۔ جیسے فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک باعیننا (23:27) پھر ہم نے اس کو حکم بھیجا کہ کشتی بنا۔ خواہ دلالت معنوی ہو جیسے وانطلق الملا منہم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی پنچ چل کھڑے ہوئے کہ چلو (یعنی اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی چلو۔ یہاں اس آیت میں قلنا لہ۔ مقدر ہے۔ گویا تقدیر کلام ہے : واذ بوانا لابراہیم مکان البیت قلنا لہ ان لا تشرک بی شیئا۔۔ اس کو حکم دیا کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا۔ طھر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تطھیر (تفعیل) مصدر۔ تو پاک رکھ۔ ای من الشرک والاوثان والاقذار۔ یعنی شرک سے ۔ بتوں سے اور گندگی سے اسے پاک رکھو۔ طائفین۔ طائف کی جمع ۔ طواف کرنے والے۔ قائمین۔ قیام کرنے والے۔ قائم کی جمع رکع۔ رکوع کرنے والے۔ راکع کی جمع۔ السجود۔ سجدہ کرنے والے۔ ساجد کی جمع۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کی اور وہ اس سے پہلے موجود نہ تھا جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ابوذر (رض) نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سب سے پہلے کونسی مسجد تعمیر ہوئی فرمایا ” مسجد حرام “ انہوں نے پوچھا : پھر کونسی ؟ فرمایا : ” بیت المقدس “۔ پھر پوچھا دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ فرمایا : ” چالیس سال “ (ابن کثیر) 2 ۔ صاف ستھرے رکھنے سے مراد شرک و بت پرستی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا اور انہیں وہ جگہ بتانا اور ان کی تعمیر بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز فرمانا بیان ہو رہا ہے کہ گھر سے ہجرت پھر مختلف مصائب کا مقابلہ آخر بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑنا یہ سب ایک عمر کی قربانیاں اور بڑی کٹھن منزلیں ہیں مگر جب پھل لگا تو پتہ چلا کہ یہ درخت جو عمر بھر سینچا کیے کتنا قیمتی تھا انہیں وہ جگہ بتائی گئی انہوں نے بیت اللہ تعمیر فرمایا جس کی تب سے لے کر آج تک اور آئندہ قیامت تک حرمت وعزت بھی ہے اور ایک عالم جس کا بےتابانہ شب وروز طواف کرتا رہتا ہے چناچہ تعمیر کعبہ کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ یہاں کبھی شرک نہ کیا جائے بلکہ یہ مرکز روئے زمین شرک کو مٹانے کی تربیت دینے کیلئے ہے نیز اسے ہمیشہ پاک صاف رکھا جائے ظاہری وباطنی فسادات وغیرہ تک سے ان اللہ کے بندوں کے لیے جو اس کا طواف کرنے کو آئیں اور اس میں قیام و سجود کے لیے حاضر ہوں نیز اے ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر مکمل کرکے آپ اولاد آدم میں اعلان فرما دیجئے کہ کعبہ تیار ہے اور جو یہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان پر حج فرض ہوچکا تو لوگ دور دراز سے سواریوں پر اور پاپیادہ یہاں حاضر ہوں گے مفسرین کرام نے ارشادات نبوی نقل فرمائے ہیں کہ انہوں نے عرض کی اے اللہ یہاں تو ویرانہ ہے کون سنے گا فرمایا ۔ (اللہ نے آواز پہنچا دی) آپ اعلان تو کیجئے جب انہوں نے آواز لگائی تو اللہ جل جلالہ نے روئے زمین پر ہر بندے تک پہنچا دی نیز عالم ارواح میں ہر روح تک پہنچا دی تو جواب میں لوگوں اور ارواح نے پکار کر کہا ” لبیک اللھم لبیک “ حج کی یہ تلبیہ اسی کی یاد گار ہے چناچہ جس جس نے جواب دیا اسے ضرور حج نصیب ہوتا ہے جہاں تک زندہ انسانوں تک آواز پہنچنے کا معاملہ ہے تو آج سائنس نے سیٹ لائٹ سسٹم سے آواز بھی اور تصویر بھی ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا دی ، اگر اللہ جل جلالہ چاہے تو کیا مشکل ہے اور روحوں کو پہنچانا بندوں کے بس کی بات نہیں مگر اللہ کریم کے لیے ویسے ہی آسان ہے جیسے زندوں تک پہنچانا ، لہذا تعجب کی کوئی بات نہیں ۔ (قربانی کا گوشت) لوگ یہاں اپنے منافع حاصل کرنے کو حاضر ہوں گے کہ حج کی سعادت بھی نصیب ہوگی اور دنیا کا فائدہ بھی اشیاء کی خرید وفروخت منع نہیں بشرطیکہ حج ہو نہ کہ تجارت اور حج کے معین دنوں میں اللہ جل جلالہ کے نام کا ذکر کریں گے اور اس کے نام پر قربانی کے جانور ذبح کریں گے نیز اجازت ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھاؤ پیو اور محتاج وفقیروں کو کھلاؤ ، قربانی ، منت یا نذر کا گوشت ہر آدمی کھا سکتا ہے ، امیر ہو یا غریب ، دوستوں رشتہ داروں کو کھلایا جاسکتا ہے اور مستحب ہے کہ تیسرا حصہ فقراء میں تقسیم کردیا جائے مگر جو قربانی کسی خطا کے باعث واجب ہوجائے جیسے حج کے بعض احکام کی خلاف ورزی پہ دینا پڑتی ہے تو اس کا گوشت قربانی دینے والا نہیں کھا سکتا ۔ تو اس طرح حج پورا کریں اور قربانی دینے اور نذر ومنت پوری کرنے کے بعد اگر کوئی مان رکھی ہو تو اپنا ظاہر و باطن صاف کریں ، ظاہر احرام کھول دیں حجامت بنوائیں نہا دھو کر صاف ہوں اور باطن کو یاد الہی سے مزین کریں اور رکھیں اور کعبۃ اللہ کا طواف کریں کہ سب سے آخری کام حج کا طواف زیارت کہلاتا ہے یہ فرض ہے اور دوسرا رکن ہے ، ایک رکن عرفات کا قیام ہے اور دوسرا یہ بیت العتیق کے معنی آزاد گھر ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ یہ ہمیشہ کفار کے قبضے سے آزاد رہے گا ” اوکماقال “ یہ بات تو حج کی ہوچکی ، اب قاعدہ کہ جو بھی اللہ کے قابل احترام احکام کی عزت کرے گا تو اللہ جل جلالہ کے نزدیک خود اس کے اپنے لیے بہت بہتر ہوگا اور نتائج سے خود وہی فائدہ پائے گا تمہارے لیے سب جانور حلال ہیں سوائے ان جانوروں کے جن کا حرام ہونا تمہیں بتا دیا گیا ہے لہذا علماء کا مسلک یہ ہے کہ اصل شے میں ابا حت اور جواز ہے جب تک اس کا حرام ہونا شریعت میں مقرر نہ ہو اور بتوں کی خباثت سے الگ رہو نہ پوجے جائیں نہ بنائے اور بیچے جائیں یعنی کسی طرح ان میں ملوث نہ ہوں اور جھوٹ سے دور رہو کہ شرک بھی تو ایک بہت بڑا جھوٹ ہی ہے ، اللہ کے لیے بالکل کھرے کوئی شائبہ تک کسی قسم کے شرک کا نہ ہو اور جان لو کہ جس کسی نے شرک کیا تو ایسا ہے جیسے کوئی آسمان کی بلندیوں سے گرے اور راستے میں مردار خور پرندے اسے اچک لیں یا ہوا کے بگولے اسے اڑا کر کسی دور ویرانے میں پھینک دیں یعنی عظمتوں سے گر کر تباہیوں کی نذر ہوا اور جس کسی نے اللہ کے مقرر کردہ شعائر کی قدر کی یہ اس کے دل کی پاکیزگی پہ گواہ ہے یعنی تقوی ، کردار اور اعمال سے ظاہر ہوتا ہے نیز قربانی کے جانوروں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو مگر وقت مقررہ تک جب وقت آجائے تو ان کا اصل مقام تو بیت اللہ اور قربانی کا مقام حرم ہے یعنی قربانی کے جانور کو بھی جب تک حرم کے لیے نامزد کرکے ہدی نہ بنا لیا جائے اس سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے اور ہدی کے جانور سے بغیر اشد مجبوری کے جائز نہیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 : بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔ بتوں) ‘ الزور (جھوٹ۔ گھڑی ہوئی بات) ‘ حنفاء (حنیفۃ) یکسو ہونے والے۔ ایک رخ اختیار کرنے والے) ‘ خر (گرپڑا) ‘ تخطف (اچک لیتی ہے) ‘ سحیق (دور۔ بہت دور۔ دور دراز) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 33 : اعلان نبوت کے وقت مکہ مکرمہ اور آس پاس کے رہنے والے قبیلوں کے اکثر لوگ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا بیحد احترام کرتے اور ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے تھے لیکن ان تمام محبتوں اور نسبتوں کے باوجود وہ لوگ مشرکانہ اور جاہلانہ عقیدوں کی گندگیوں میں مبتلا تھے۔ جن مشرکانہ عقائد سے دوررہنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بےانتہا قربانیاں پیش کیں ‘ جدوجہد کی اور ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں اور جن باتوں سے وہ زندگی بھر روکتے رہے وہی ساری حرکتیں کرنے میں کفار مکہ سب سے آگے تھے۔ (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت شکن تھے لیکن ان کے نام پر فخر کرنے والوں نے اللہ کے گھر میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے ۔ (2) وہ اللہ کے گھر میں اللہ سے مانگنے کے بجائے اپنی حاجتوں ‘ ضرورتوں اور تمناؤں کو (اپنا سفارشی سمجھ کر) بےجان اور بےحقیقت بتوں سے مانگتے تھے۔ (3) وہ اپنی قربانیوں کے جانوروں کو اللہ کا نام لینے کے بجائے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے جس کے لیے انہوں نے طرح طرح کی رسمیں گھڑ رکھی تھیں۔ (4) حج جیسی عبادت کے بعد وہ عکاظ میں میلے ٹھیلے مناتے جس میں کھیل کود ‘ مشاعرے ‘ ناچ رنگ کی محفلیں اور بےحیائیوں کے انداز اختیار کرتے تھے۔ (5) انہوں نے اللہ کے گھر کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا تھا جس کو چاہتے بیت اللہ کی زیارت سے روک دیتے تھے اور جس کو چاہتے اجازت دیتے تھے۔ (6) عقیدوں کی لاتعداد گندگیوں میں مبتلا تھے۔ (7) وہ اللہ کے شعائر (نشانیوں) کا احترام نہ کرتے تھے ۔ ان آیات میں یہ بتایا جارہا ہے کہ جب طوفان نوح میں بیت اللہ شریف کی دیواریں گرچکی تھیں تو اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس گھر کی دوبارہ تعمیر فرمائی تھی انہوں نے اس بات کا کھل کر اعلان کردیا تھا کہ یہ گھر صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے ہے جس میں ہر طرح کے مشرکانہ عمل اور کافر انہ رسموں سے مکمل پرہیز کیا جائے گا۔ لیکن کفار مکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانیوں ‘ مقصد اور مشن کو قطعاً نظر انداز کردیا تھا اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج کر ان تمام باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کو لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ۔ حضرت ابراہیم ؐ خلیل اللہ کی زبان مبارک سے یہ کہلایا گیا ہے کہ اے الوگو ! (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (2) اللہ کے گھر طواف کرنے والوں ‘ وہاں کے رہنے والوں ‘ رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے (بتوں کی ہر گندگی سے) اس گھر کو پاک و صاف رکھو۔ (3) حج کے لئے اذن عام ہے ہر شخص جس طرح اور جیسے جس سواری پر سوار ہو کر آسکتا ہے آئے اور اس عبادت کے ہر طرح کے فائدوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھے۔ (4) تمام مویشیوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ بتوں کے نام پر ذبح نہ کیا جائے۔ ان جانوروں کے گوشت کو خود بھی کھائے (مستحب ہے کہ) غریبوں اور رشتہ داروں کو بھی کھلائے۔ (5) حج کے بعد اللہ کا ذکر کیا جائے اور ہر طرح کی جسمانی اور روحانی پاکیزگی حاصل کی جائے۔ (6) جو جائز منتیں مان رکھی ہیں ان کو پورا کیا جائے۔ (7) حج کے بعد بیت اللہ کا طواف (طواف زیارت) کیا جائے اور خوب دیوانہ وار بیت اللہ کے گرد طواف کئے جائیں۔ (8) دلوں کا تقویٰ حاصل کرنے کے لئے اللہ کے شعائر (بیت اللہ ‘ صفا ‘ مروہ ‘ منیٰ ‘ عرفات ‘ مساجد ‘ قرآن) کا احترام کیا جائے۔ (9) بیت اللہ کو ہر طرح کے بتوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ (10) ہر طرح کی جھوٹ ‘ من گھرٹ رسموں اور جھوٹی باتوں سے دورہا جائے۔ (11) بیت اللہ میں صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (12) حج کی تمام قربانیوں کے جانوروں کو حرم محترم ہی میں (مقرر دنوں میں) ذبح کیا جائے۔ یہی وہ احکامات ہیں جن کو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتیں وضاحت کے لئے پیش ہیں۔ بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر دس مرتبہ ہوئی ہے۔ (1) اللہ کے حکم سے اللہ کے فرشتوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کی تجویز کی گئی جگہ پر تعمیر کی۔ (2) حضرت آدم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمائی۔ (3) حضرت شیث (علیہ السلام) نے ۔ (4) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے ۔ (5) عمالقہ نے ۔ (6) حارث جرہمی نے ۔ ۔ (7) قریش کے مورث اعلی قصی نے ۔ (8) قریش مکہ نے ۔ (9) 24؁ ٍْحضرت عبداللہ ابن زبیر (رض) نے (10) اور حجاج ثقفی نے ۔ گیارہوں صدی ہجرت میں مکہ مکرمہ میں زبردست طوفانی بارش ہوئی جس سے بیت اللہ شریف میں پانی بھر گیا۔ پانی اتنا اونچا تھا کہ پانی بیت اللہ کے دروازے (ملتزم) تک پہنچ گیا تھا۔ اس طوفان سے رکن شامی اور غربی دیوار کو زبردست نقصان پہنچا اور دیواریں شکستہ ہوگئی تھیں سلطان مراد کے حکم سے دوبارہ تعمیر بیت اللہ کی گئی۔ موجودہ زمانہ میں بیت اللہ کی یہی عمارت ہے جس پر کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ٭اللہ نے اب حرمین کی حفاظت اور ہر طرح کی عقیدہ کی گندگیوں سے پاک صاف رکھنے کا یہ انتظام فرمادیا کہ حرمین میں کسی غیر مسلم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ موجودہ سعودی حکومت توحید کے عقیدے پر اس سختی سے قائم ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا ( اور انشا اللہ جاری رہے گا) تو کبھی عقیدے کی گندگی بھی اس گھر تک نہ پہنچ سکے گی۔ کیونکہ حکومت سعودی عربیہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ بیت اللہ شریف اور روضہ مبارک پر کوئی کسی طرح کی فضول رسم جاری نہ ہونے پائے۔ اگر بیت اللہ شریف کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا جنہوں نے معمولی معمولی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیا ہے تو نجانے بیت اللہ شریف اور روضہ مبارک پر کیا کچھ نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ حکومت سعودی عربیہ کو مزید ہمت و طاقت عطا فرمائے اور اللہ کا گھر قیامت تک ہر طرح کی گندگیوں سے محفوظ رہے ۔ آمین ٭فرمایا کہ حج کے فائدوں کو ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر چہ بعض دنیاوی فائدے حاصل کرنے کی بھی اجازت ہے لیکن درحقیقت یہ فائدہ ہر شخص کو کھلی آنکھوں سے نظر آتا ہے کہ جو سکون قلب اور تکمیل کا احساس حج کے دوران نصیب ہوتا ہے وہ ساری دنیا کی دولت خرچ کرے کے باوجود نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ دعاؤں کا مرکز ہے۔ یہاں ہر شخص براہ راست اپنے اللہ سے مانگتا ہے اور ایک خاص سکون حاصل کرتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ پھر حج کے بعد اس کی حاضری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر ہوتی ہے یہاں انوارات اور برکتوں کا ایک سلسلہ ہے جو انسان کو کھلی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فائدے کے سامنے ہر فائدہ بہت معمولی ہے بلکہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ٭حج کے دنوں میں اور بعد میں جب تک جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیاجائے اس وقت تک وہ حلال نہیں ہوتے۔ کفار بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے ایک مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ اللہ کا نام لئے بغیر کسی جانور کا ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جس وقت جانور کو ذبح کیا جارہا ہے اسی وقت اللہ کا نا لیا جائے۔ ٭اس سفر میں باہمی محبت ‘ خلوص اور ہم آہنگی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس سے اہل ایمان کو ایک خاص قوت و طاقت حاصل ہوتی ہے۔ ہر ایک کا ایک ہی لباس ہوتا ہے خواہ وہ باد شاہ ہو یا ایک غریب آدمی۔ ایک ہی کلمہ ‘ ایک ہی جذبہ اور ایک ہی رخ ہوتا ہے۔ یہ فائدے بھی ہیں جو انسان کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا۔ 5۔ یہ ان کے مابعد والوں کو سنان ہے، اور ذکر بیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی حقیقت ناشناس کو تعظیم بیت سے اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا ابہام نہ ہوجاوے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بیت اللہ کی تعمیر نو اور اس کے چاروں طرف تعمیر ہونے والی مسجد حرام کے آداب اور حقوق۔ تاریخ کعبۃ اللہ حافظ ابن حجر عسقلانی (رض) نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں ایک روایت ذکر کی ہے جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی اساس حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھی گئی اور فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس جگہ کی نشاندہی کی جسے بعدازاں طوفان نوح اور ہزاروں سال کے حوادث نے بےنشان کردیا تھا۔ البتہ بیت اللہ کے کچھ نشان باقی تھے جن پر حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) نے بنیاد رکھی تھی۔ یہی وہ مقام بنیاد ہے جس کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے : اور یہی وہ مقام ہے جس کا ذکر حضرت خلیل (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ[ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں چھوڑتے وقت کیا تھا : (رَبَّنَا إِنِّیْ أسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَےْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَےْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) [ ابراہیم : ٣٧ ] ” اے ہمارے رب ! میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تبلیغ دین کے لیے اردن ‘ شام اور حجاز مقدس کو پیغامِ حق کا مرکز بنایا اور گاہے گاہے ان مراکز کا دورہ کرتے اور ہدایات دیتے رہتے تھے۔ اس طرح آپ حسب حکم الٰہی ہاجرہ[ اور اسماعیل (علیہ السلام) کی خبر گیری کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اسی اثناء میں تعمیر کعبہ کا حکم ہوا جس کی تفصیل نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں بیان فرمائی ہے : (ثُمَّ لَبِثَ عَنْھُمْ مَّا شَاء اللّٰہُ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَإسْمَاعِےْلُ ےُبْرِئُ نَبَلًالَہٗ تَحْتَ دَوْحَۃٍ قَرِےْباً مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَاٰہٗ قَامَ إِلَےْہِ فَصَنَعَا کَمَا ےَصْنَعُ الْوَالِدُ بالْوَلَدِ ثُّمَ قَالَ ےَا إِسْمَاعِےْلُ إنَّ اللّٰہَ أمَرَنِیْ أَنْ اَبْنِیَ ھٰھُنَا بَےْتًا وَأشَارَ إِلٰی اَکْمَۃٍ مُرْتَفِعَۃٍ عَلٰی مَا حَوْلَھَا قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَےْتِ فَجَعَلَ إسْمَاعِےْلُ ےَأْتِیْ بالْحِجَارَۃِ وَ إبْرَاھِےْمُ ےَبْنِیْ حتّٰی إِذَا إِرْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَآءَ بِھٰذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَہٗ لَہَ فَقَامَ عَلَےْہِ وَھُوَ ےَبْنِیْ وَإِسْمَاعِےْلُ ےُنَاوِلُہُ الْحِجَارَۃً ) [ رواہ البخاری : باب (یَزِفُّونَ ) النَّسَلاَنُ فِی الْمَشْیِ ] ” جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ملک (فلسطین) میں ٹھہرے رہے اس کے بعد جب اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو اسماعیل (علیہ السلام) زمزم کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تیر ٹھیک کر رہے تھے۔ جب اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو اٹھ کر استقبال کیا دونوں اسطرح ملے جس طرح باپ بیٹے سے ملتا ہے ابراہیم (علیہ السلام) فرمانے لگے : بیٹا ! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس اونچی جگہ پر بیت اللہ تعمیر کروں اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی میں حاضرخدمت ہوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں اسی جگہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے جا رہے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرما رہے تھے۔ جب دیواریں اونچی ہوگئیں یعنی زمین پر کھڑے ہو کر پتھر لگانا مشکل ہوگیا تو جبرائیل (علیہ السلام) پتھر لے کر آئے جس کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس پتھر پر چڑھ کر کعبہ کی تکمیل فرمائی اور اسماعیل (علیہ السلام) معاونت کرتے رہے۔ “ (وَإِذْ ےَرْفَعُ إِبْرَاھِےْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَےْتِ وَ إِسْمَاعِےْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِےْعُ الْعَلِےْمُ ) [ البقرۃ : ١٢٧] ” اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل گھر (بیت اللہ) کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے اے ہمارے پرو ردگار ! ہماری یہ خدمت قبول فرما۔ تو سب کی سننے اور جاننے والا ہے۔ “ کعبۃ اللہ کی عظمت و فضیلت : اس جہان رنگ وبو میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت ترین عمارات ومحلات موجود ہیں جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے لگائے گئے اور مزیدخرچ کیے جارہے ہیں۔ ان کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں۔ یہ اکرام ومقام صرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے، اللہ رب العزت نے اسے بیت اللہ قرار دیا ہے۔ مرکز ملت اسلامیہ : اسے قبلہ بنا کر ملت اسلامیہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے تاکہ جس طرح ان کے احساسات و جذبات کا رخ ایک ہی طرف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اسی طرح ان کا جسمانی زاویہ بھی ایک ہی رخ اختیار کرے تاکہ ملت کی مرکزیت قائم رہ سکے : (وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ) [ البقرۃ : ١٥٠] ” اور جہاں سے نکلیں تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور مسلمانو ! تم جہاں بھی ہو مسجد حرام کی طرف منہ کرلو۔ “ بیت اللہ میں حاضری کے آداب اور احرام کا فلسفہ : حج اور عمرہ کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ بیت اللہ میں حاضری دینے والے اپنے روز مرہ کے لباس میں آنے کی بجائے فقیرانہ لباس میں حاضر ہوں جو کفن سے مشابہت رکھتا ہے۔ رب کریم کا کرم ہے کہ اس نے موسم اور لوگوں کی کمزوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے گھروں سے احرام باندھنے کا حکم دینے کی بجائے میقات یعنی حدود حرم مقرر فرمائے تاکہ یہاں پہنچ کر زائرروزمرہ کا لباس اتار کر اپنے اپ کو دو چادروں میں لپیٹ لے۔ وہ قیمتی لباس جس کے رنگ ڈھنگ اور ڈیزائن پر یہ اترایا کرتا تھا، وہ دستار فضیلت جس کو سر پر سجاتے ہوئے سر بلند کیا کرتا تھا، وہ کیپ جو کمانڈر انچیف ہونے کی علامت تھی، وہ تاج جو بادشاہی کی جلالت وتمکنت کا نشان تھا یکایک اس کو اتارنے کا حکم ہوا اور اب بندہ مؤمن عاجزی کا پیکر بن چکا ہے۔ یہاں واقعتا شاہ و گدا ایک ہی مقام اور انداز میں کھڑے ہیں، حکم ہوا کہ اس وقت تک قدم آگے نہ اٹھنے پائیں جب تک اپنی زبان سے اللہ کے حضور پیشی اور اس کی بلا شرکت غیرے بادشاہی اور اس کی نعمتوں کا برملا اعتراف نہ کرلیا جائے پھر یہ حاضری اور تلبیہ اس صدا کا جواب ہے جو ہزاروں سال پہلے معمار کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کردی تھی : حرم کو پاک صاف رکھنے کا صرف یہ معنٰی نہیں کہ اس کو کوڑے کرکٹ سے پاک صاف رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اصل صفائی یہ ہے کہ اس کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا جائے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں واضح ارشاد موجود ہے کہ مشرک کو حرم میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ مشرک روحانی طور پر گندہ اور پلید ہوتا ہے۔ (التوبہ : ٢٨) نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو تمام بتوں کو مسمار کرتے ہوئے ان تصویروں کو بھی مٹادیا جو مشرکین نے دیواروں پر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی بنا رکھی تھیں۔ ( رواہ البخاری : باب أَیْنَ رَکَزَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرَّایَۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ ) مسائل ١۔ کعبۃ اللہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا۔ ٢۔ بیت اللہ توحید کا مرکز اور ترجمان ہے۔ اس میں شرکیہ کام نہیں ہونے چاہئیں۔ ٣۔ بیت اللہ طواف، قیام، رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ کے آداب : ١۔ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھا جائے۔ (الحج : ٢٦) ٢۔ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لے پاک صاف رکھیں۔ (البقرۃ : ١٢) ٣۔ کفار کے ساتھ مسجد حرام کے پاس لڑائی نہ کرو۔ (البقرۃ : ١٩١) ٤۔ مشرک پلید ہے وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ (لتوبہ : ٢٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (٢٩) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (٢٢ : ٢٥) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (٢٢ : ٢٥) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔ مشرکین کے لئے نہیں بنایا گیا جو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی بیت اللہ کو حکم دیا کہ ان مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کے بعد لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ حج کے لئے آئیں اور اللہ نے وعدہ کیا کہ لوگ اس اعلان کو قبول کریں گے۔ لہٰذا وہ قطار در قطار اونٹوں پر اور پیدل دور دراز مقامات سے آئیں گے۔ اتنی دور سے کہ ان کے اونٹ دوری سفر کی وجہ سے دبلے ہوجائیں گے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی پورا ہو رہا ہے اور کل بھی ہوگا۔ آج تک لوگوں کے دل خانہ کعبہ کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنے اور طواف کے لئے لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جو غنی ہے ، زاد سفر پر قدرت رکھتا ہے سواری کی سہولت رکھتا ہے وہ سواری پر ، جدید ترین سواری پر ، اور جس کے پاس صرف پائوں ہیں وہ اپنے پائوں پر چل کر اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔ لاکھوں افراد دور دراز علاقوں سے فج عمیق سے ، بلکہ فضائے بلند سے قطار اندر قطار ہر سال ٹوٹ پڑتے ہیں ، ہزارہا سال گزر گئے ہیں اور حضرت ابراہیم کا اعلان اور اللہ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ یہاں حج کے بعض شعائر اور بعض مقاصد بھی بتا دیئے جاتے ہیں : لیشھدوا منافع ……بالبیت العتیق (٢٩) (٢٢ : ٢٨-٢٩) ” تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ وہ منافع کیا ہیں جو حجاج دیکھتے ہیں ؟ حج دراصل ایک عالمی اجتماع اور میلہ ہے ، یہ تجارت کا موسم اور عبادت کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے ، جس میں تمام دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں جمع ہوتی ہیں اور یہ دراصل اسلامی نظریہ حیات کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی ہے۔ سامان زیارت اور مصنوعات والے لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین منڈی ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامان خوردو نوش اور دنیا کے پھل اس گھر کی طرف ، اطراف زمین سے آتے ہیں اور لائے جاتے ہیں۔ تمام علاقوں سے حجاج کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے علاقوں کی بھلائیاں اور حسن اخلاق بھی آتے ہیں اور پھر یہ خوشبو پورے عالم اسلام میں بکھرتی ہے۔ یہ تمام لوگ بیت الحرام میں مختلف موسموں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک موسم میں بھی جمع ہوتے ہیں گویا یہ ایک تجارتی منڈی ہے اور تجارتی میلہ بھی۔ پھر حج عبادات کا ایک عالمی اجتماع ہے ، جس میں روحانی صفائی کی جاتی ہے۔ انسان کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ اللہ کے اس محترم گھر میں وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوگئی ہے۔ یہ روح خانہ کعبہ کی طرف مشتاق ہوتی ہے اور خانہ کعبہ کے ساتھ جو روحانی یادیں وابستہ ہیں ، جن برگزیدہ ہستیوں کی ذات اس سے وابستہ ہے ان کی روحیں اسے یہاں گھومتی محسوس ہوتی ہیں ، زمانہ قریب کی روحیں اور زمانہ بعید کی روحیں۔ دیکھیے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح ہے ، وہ بیت اللہ میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے ڈرنے والے اور دھڑکنے والے دل کے ساتھ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ربنا انی اسکنت ……لعلھم یشکرن (١٣ : ٣٨) پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ پھر حضرت ہاجرہ کی تصویر پر دہ خیال پر آتی ہے ، وہ اپنے لیے اور اپنے شیر خوار بچے کے لئے پانی کی تلاش میں جھلسا دینے والی گرمی میں ، بیت اللہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی نظر آتی ہیں ، وہ پیاس سے نڈھال ہیں ، تھک کر چور چور ہوگئی ہیں اور ان کو اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے۔ وہ جب ساتویں بار واپس آتی ہیں تو مایوسی کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ اس خوبصورت بچے کے سامنے شفاف پانی کا ایک چشمہ اہل برہا ہے۔ یہ ہے چشمہ زم زم۔ خشکی اور مایوسی کے صحرا میں چشمہ رحمت الٰہی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تصور پردہ خیال پر نمودار ہوتا ہے۔ آپ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ فوراً اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے بھی تردد نہیں کرتے اور مومنانہ اطاعت شعاری کا بلند مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ” اس نے کہا ، اے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی بڑی فرمانبرداری سے جواب دیتے ہیں : یا ابت افعل ماتومر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین ” ابا جان ، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے ، اسے کر گزریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ جب وہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس قربانی کے بدلے فدیہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ونادینہ ان یا ابراہیم (١٠٣) قد صدقت الرء یا انا کذلک نجزی المحسنین (١٠٥) ان ھذا لھو البلوء المبین (١٠٦) وقدینہ بذبح عظیم (١٠٨) (٣٨ : ١٠٣ تا ١٠٨) اور ہم نے نداوی کہ ” اے ابراہیم “ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائی تھی۔ “ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور پھر حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔ ربنا تقبل منا ………الرحیم (١٢٨) ” اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے الا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ خیالی تصویر اور شخصیت پردہ خیال پر آگے پیچھے آرہی ہیں اور یہ یادیں سامنے آتی ہیں اور جاتی ہیں کہ اچانک حضرت عبدالمطلب سامنے آتے ہیں۔ وہ یہ نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے دس بیٹے عطا کئے تو میں دسویں بیٹے کو تیرے لئے نذر کر دوں گا۔ دسواں بیٹا عبداللہ ہے۔ عبدالمطلب نذر پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کی قوم ان کے اردگرد جمع ہے اور وہ تجویز دے رہے ہیں کہ آپ فدیہ دے دیں۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد وہ تیر نکالتے ہیں اور ہر بار تیر عبداللہ کے ذبح کرنے کا نکلتا ہے۔ وہ فدیہ بڑھاتے جاتے ہیں یہاں تک کہ فدیہ کے اونٹ سو تک پہنچ جاتے ہیں حالانکہ فدیہ کا ابتدائی نصاب ، دس اونٹنیاں تھیں۔ آخر کار فدیہ کا تیر نکلا۔ انہوں نے سو اونٹ ذبح کئے اور عبداللہ کی جان بخشی ہوئی۔ یہ اللہ کی منشاء تھی کیونکہ اللہ نے ان کی پشت اور رحم آمنہ سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا کرنا تھا۔ گویا یہ فدیہ ، عظیم فدیہ اللہ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر دلایا۔ اس کے بعد بھی اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور تخلیل کے پردے پر بار بار نئی شخصیات ابھر رہی ہیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدارج طفولیت طے کر رہے ہیں ، بیت اللہ کے اردگرد وہ گھوم رہے ہیں۔ دیکھیے ، آپ حجر اسود کو اپنے پاک ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں اور اپنی جگہ پر رکھ رہے ہیں تاکہ اس فتنے کو فرد کردیں جس کی وجہ سے خیال کے اندر جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا۔ آپ نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ، طواف کرتے نظر آتے ہیں ، خطبہ دیتے نظر آتے ہیں ، اعتکاف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے قدم پردہ خیال پر ہیں۔ آپ کی صورت ضمیروں پر زندہ ہے۔ قریب ہے کہ ایک حاجی آپ کو آنکھوں سے دیکھ لے جبکہ وہ ان یادوں کی وسچ میں گم اور مستغرق ہوتا ہے۔ پھر ہمارے سامنے آپ کے صحابہ کرام غول کے غول آتے ہیں اور اس مٹی پر گھومتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ نقشے ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ کان سنیں اور نظریں دیکھیں۔ اور پھر ان یادوں اور تصورات کے علاوہ حج مسلمانوں کا ایک جامع عالمی اجتماع ہے۔ اس میں ان کو اپنی اصلیت اور جڑ کا پتہ چلتا ہے جو دور تک تاریخ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک چلی گئی ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا ” اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس میں بھی۔ “ یہ مسلمانوں کا محور ہے جس کے اردگرد وہ گھومتے ہیں ، جس نے انہیں متحد کر رکھا ہے۔ یہ ان کے لئے ایک شعار اور ایک جھنڈا یہ۔ اس کے نیچے سب جمع ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا نظریاتی شعار اور نظریاتی جھنڈا ہے جس کے سائے میں تمام اقوام کے افراد ، تمام نسلوں اور تمام رنگوں اور تمام زبانوں کے لوگ آ کر جمع ہوجاتے ہیں۔ تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں آ کر مسلمان اپنی اس قوت کو ایک محدود وقت کے لئے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید کی قوت ، ایک ملت ہونے کی قوت اور اربوں مسلمانوں کے باہم اتحاد و اتفاق کی قوت۔ اس اجتماع میں وہ اپنی بھلائی ہوئی قوت کو ایک محدود وقت کے لئے ہی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک ہوجائیں تو ان کے سامنے دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی بشرطیکہ یہ سب لوگ عقیدہ توحید پر ایک جھنڈ تلے جمع ہوجائیں۔ اللہ جو فرماتے ہیں لیشھدوا منافع لھم (٢٢ : ٢٨) ” تاکہ وہ اپنے ان مفادات کو دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ “ ہر نسل اپنے ظروف و احوال کے مطابق ، اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق ، اپنے تجربے اور اپنے تقاضوں کے مطابق اس اجتماع سے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ یہ بات اس وقت سے اللہ نے اس اجمتاع کے مقاصد میں رکھی ہے جب سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس گھر کی زیارت کے لئے بلائو۔ قرآن مجید اس اجتماع کے لئے بعض مناسک اور بعض بنیادی شعائر دیتا ہے اور سب میں سب کا بھلا ہے۔ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (٢٢ : ٢٨) ” اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ “ اس آیت میں اشارہ ہے قربانی کی طرف جو عید کے دن اور ایام تشریق میں کی جاتی ہے اور قربانی کے مختلف جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم قربانی کے ذکر میں سب سے پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اس پر اللہ کا نا ملیا جائے کیونکہ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے۔ یہاں قربانی کے عمل میں سب سے زیادہ امتیاز کے ساتھ جس عمل کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اپ پر اللہ کا نام لینا ہے۔ (احناف کا فتویٰ اس پر ہے کہ یوم نحر کے بعد صرف دو دنوں میں قربانی جائز ہے۔ ) یہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح عظیم کی یادگار ہے۔ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزے اور اللہ کی اطاعتوں میں سے ایک عظیم تعمیل حکم کی بھی یادگار ہے۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے یادگار کے طور پر چھوڑی۔ اس یادگار میں فائدہ یہ ہے کہ فقفراء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ہے۔ (گائے اور بھینس دونوں کے لئے عربی میں بقر کا لفظ آتا ہے) فکلوا منھا وا طعموا البائس الفقیر (٢٢ : ٢٨) ” اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔ “ قربانی کے گوشت کے استعمال کے لئے جو حکم قربانی کرنے والے کو ہے یہ استحبابی ہے لیکن فقیروں کو دینے کے لئے جو حکم ہے وہ وجوبی ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فقراء محسوس کریں کہ یہ پاک صاف اور طیب گوشت ہے۔ قربانی کرتے ہی حاجی کے لئے وہ باتیں جائز ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے دوران حج ممنوع تھیں۔ مثلاً بال منڈوانا ، کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغلوں کے بال کاٹنا اور غسل وغیرہ جو کام بھی احرام کے دوران منع تھے وہ جائز ہوجاتے ہیں ، اس کے بارے میں کہا گیا۔ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم (٢٢ : ٢٩) ” پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔ “ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں یعنی حج کی قربانی کے علاوہ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق (٢٢ : ٢٩) ” اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ اس سے مراد طواف اقامہ یا طواف زیارت (جو نام بھی دیں) ہے۔ طواف اقامہ طواف وراع سے علیحدہ ہے۔ بیت عتیق سے مراد مسجد حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی بھی جبار کی حکمرانی سے بچایا ہے اور اسی طرح اسے گرنے اور نشانات کے مٹ جانے سے بھی بچایا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباد کرنے سے یہ ہمیشہ آباد رہا ہے اور رہے گا۔ یہ تھا قصہ بیت الحرام کی تعمیر کا۔ اور یہ ہے وہ بنیادی عقیدہ جس پر اس کی تعمیر ہوئی ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اسے توحید کے گھر کے طور پر تعمیر کریں اور اسے شرک و بت پرستی سے پاک رکھیں اور حکم دیا کہ عامتہ الناس کو حکم دیں کہ وہ اس کی زیارت کو آئیں۔ قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، اس کے سوا کسی دوسرے الہ کا نام نہ لیں۔ قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور فقیر کو بھی کھلائیں۔ یہ بیت الحرام ہے اور اس میں اللہ کی حرمتیں محفوظ ہیں۔ ان پر عمل ہوگا اور اللہ کی حرمتوں میں سے پہلی چیز اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید ہے۔ اس گھر کے دروازے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور یہاں سب لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں ، یہاں تمام عہد پورے کئے جائیں اور امن و سلامتی کا احترام کیا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بحکم الٰہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کعبہ شریف تعمیر فرمانا اور حج کا اعلان کرنا طواف زیارت کی فرضیت اور جانور ذبح کرنے کی مشروعیت ان آیات میں کعبہ شریف کی تعمیر ابراہیمی اور لوگوں کو حج کی دعوت دینے اور ایام منیٰ میں جانوروں کو ذبح کرنے اور اس میں سے کھانے اور کھلانے اور احرام سے نکلنے کے لیے سر مونڈنے اور نذریں پوری کرنے اور طواف زیارت کرنے کا حکم مذکور ہے۔ اولاً فرشتوں نے پھر ان کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) نے کعبہ شریف تعمیر کیا پھر عرصہ دراز کے بعد جب طوفان نوح کی وجہ سے اس کی دیواریں مسمار ہوگئیں اور عمارت کا ظاہری پتہ نہ رہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر کعبہ شریف کی بنیادیں اٹھائیں اور کعبہ بنایا (کماذ کرہ الارزقی) چونکہ جگہ معلوم نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو متعین کر کے اس کی جگہ بتادی گئی جس کا ذکر سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں تذکرہ فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بیت اللہ بنائیں تو انہیں اس کی جگہ معلوم کرنے کی ضرورت تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی جو خوب تیز چلی اور اس نے پرانی بنیادوں کو ظاہر کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ بیشک مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک کام کا حکم دیا ہے انہوں نے عرض کیا کہ آپ اپنے رب کے حکم کی فرمانبر داری کیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم میری مدد کرنا عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کرونگا، ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں اس کے بعد دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا شروع کیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب دیواریں اونچی ہوگئیں تو یہ پتھر لے آئے جسے مقام ابراہیم کہا جاتا ہے یہ زینہ کا کام دیتا تھا اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے جاتے تھے۔ یہاں سورة حج میں فرمایا (وَّ طَھِّرْبَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ ) فرمایا اور سورة بقرہ میں حضرت ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کے بارے میں فرمایا ہے (وَ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآءِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) (اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کی طرف حکم بھیجا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے اور وہاں کے مقیمین کے لیے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو) اس میں کعبہ شریف کو پاک رکھنے کا حکم ہے اور کعبہ شریف کے ساتھ مسجد حرام کے پاک رکھنے کا بھی حکم دیا گیا کیونکہ طواف اور نماز کی ادائیگی اس میں ہوتی ہے، پاک کرنے میں سب کچھ داخل ہے باطنی نا پاکی شرک و کفر اور بت پرستی سے، گندی باتوں سے، جھوٹ سے، فریب سے، بد عملی سے پاک رکھیں اور ظاہری نا پاکی سے بھی پاک صاف رکھیں، کوڑا کباڑ سے بد بودارچیزوں سے محفوظ رکھیں طواف ایک ایسی عبادت ہے جو صرف مسجد حرام ہی میں ہوسکتی ہے طواف کعبہ شریف کے چاروں طرف ہوتا ہے سورة بقرہ میں جو لفظ العاکفین وارد ہوا ہے اس کے بارے میں حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس سے مکہ مکرمہ کے رہنے والے مراد ہیں اور حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دوسرے شہروں سے آتے ہیں اور مسجد حرام میں قیام کرلیتے ہیں، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہم جب بھی مسجد حرام میں بیٹھ گئے تو عاکفین میں شمار ہوگئے اور اس کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو مسجد حرام میں اعتکاف کریں کیونکہ لفظ عکوف ان پر بھی صادق آتا ہے۔ دونوں سورتوں میں جو (وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) فرمایا ہے اس سے نماز پڑھنے والے مراد ہیں سورة حج میں القائمین بھی فرمایا ہے اس سے بھی نمازی مراد ہیں اور اس طرح سے نماز کے تینوں عملی ارکان قیام، رکوع اور سجود کا تذکرہ آگیا بعض حضرات نے القائمین سے مقیمین مراد لیے ہیں۔ بہر صورت مسجد حرام کا اہتمام اور تولیت سنبھالنے والوں پر لازم ہے کہ کعبہ شریف کو اور مسجد حرام کو پاک صاف رکھیں اور طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کو ہر وقت مسجد حرام میں داخل ہونے دیں اور نماز و طواف میں مشغول ہونے اور اعتکاف کرنے سے منع نہ کریں الحمد للہ فتح مکہ کے دن ہی سے آج تک اس پر عمل ہو رہا ہے اور مسجد حرام کے دروازے برابر رات دن کھلے رہتے ہیں جس وقت فرض نماز کھڑی ہوتی ہے اس وقت طواف کرنے والے نماز میں شریک ہوجاتے ہیں اور اس کے علاوہ ہر وقت طواف ہوتا رہتا ہے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ دوسرا حصہ۔ نفی شرک فعلی :۔ ” وَ اِذْ بَوَّانَا الخ “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے خانہ کعبہ کی اصل جگہ بتائی جہاں انہوں نے اس کی تعمیر کی تاکہ آنے والی نسلیں اس میں اللہ کی خالص عبادت کیا کریں۔ بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ه لعقبہ یرجعون و یحجونہ (روح ج 17 ص 141) ۔ مشرکین سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرو کیونکہ وہ اولاد ابراہیم میں اور ملت ابراہیمی کے پیرو کار ہونے کے مدعی ہیں انہوں نے کس طرح بیت اللہ کی تعمیر کی اور پھر اسے ہر قسم کے شرک سے پاک رکھا اور ایام حج میں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اس کی نذریں نیازیں دیں مگر ان مشرکین کے عقائد و اعمال سراسر ان کے خیال ہیں۔ 36:۔ ” اَنْ لَّا تُشْرِک الخ “ اَنْ مفسرہ ہے ماقبل کے لیے کیونکہ تبوئۃ امر اور قول کے معنوں کو متضمن ہے ہم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ عقائد و اعمال میں اللہ کا شریک نہ بنانا اور میرے گھر کو ظاہری پلیدی اور شرک کی نجاست سے پاک رکھنا اور چاروں عبادات بدنیہ یعنی طواف، قیام رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے خانہ کعبہ کو صاف رکھنا اور لوگوں میں اعلان کردینا کہ وہ دنیا کے تمام اطرارف و اکناف سے آ کر میرے گھر کا طواف کریں اور صرف اللہ کے نام کی نذریں دیں۔ ” لِیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ “ منافع سے دینی اور دنیوی منافع مراد ہیں۔ حج سے دینی فائدہ اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے اور دنیوی فائدہ یہ ہے کہ وہاں قربانی کا گوشت وافر ملتا ہے نیز مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مال کی خریدو فروخت سے نفع اٹھانے کا موقع میسر آتا ہے عن ابن عباس منافع فی الدنیا و منافع فی الاخرۃ فاما منافع الاخرۃ فرضوان اللہ تعالیٰ واما منافع الدنیا فما یصیبون من لحوم البدن فی ذالک الیوم والذبائح والتجارات (روح ج 17 ص 145) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(26) اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کی جگہ بتائی اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ کیجیو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھیو۔ مسجد حرام اور اس کی عظمت و احترام کے سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر و تطہیر کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی حرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو حرم میں بسا آئے اور وہاں آتے جاتے رہے تب ہم نے ان کو شہر بسانے کا حکم دیا اور کعبہ کی بنیادوں کو انہیں بتایا اور کعبہ بنانے کا حکم دیا اور دونوں باپ بیٹوں نے کعبہ کی تعمیر کی اس وقت ابراہیم کو یہ حکم دیا کہ اس گھر کو ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے پاک رکھیو یعنی ظاہری گندگی سے بھی اور کفر و شرک کی نجاست سے بھی یہ گھر پاک و صاف رہے اور تو میرا کسی کو شریک نہ کیجیو۔ اس گھر میں چونکہ طواف کرنے والے اور قیام کرنے والے رکوع و سجدہ کرنے والے آئیں گے اس لئے اس کا پاک و صاف رہنا ضروری ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ کعبہ شریف کی جگہ آگے سے بزرگ تھی پھر بعد مدتوں کے نشان نہ رہا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا۔ پھر عمارت بنائی اور تازہ کیا ایک بادل غیب سے آکھڑا ہوا اس کی چھائوں پر لکیر ڈالی اور بنیاد رکھی اور امتوں میں رکوع نہ تھا یہ خاص اسی امت میں ہے تو خبر دے کہ آگے لوگ ہوں گے اس کو آباد کرنے والے۔ 12 یہ جو شاہ صاحب (رح) نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا شاید اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی امتوں میں نماز کی یہ شکل نہ ہوگی یعنی یہ ہیئت مجموعی مع تعداد رکعات وغیرہ جو اس امت میں ہے وہ شاید نہ ہو۔ (واللہ اعلم)