Building of the Ka`bah and the Proclamation of the Hajj
This is a rebuke to those among Quraysh who worshipped others than Allah and joined partners with Him in the place which from the outset had been established on the basis of Tawhid and the worship of Allah Alone, with no partner or associate.
Allah says:
وَإِذْ بَوَّأْنَا لاِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ
...
And (remember) when We showed Ibrahim the site of the House (saying):
Allah tells us that He showed Ibrahim the site of the `Atiq House, i.e., He guided him to it, entrusted it to him and granted him permission to build it.
Many scholars take this as evidence to support their view that Ibrahim was the first one to build the House and that it was not built before his time.
It was recorded in the Two Sahihs that Abu Dharr said,
"I said, `O Messenger of Allah, which Masjid was the first to be built?'
He said,
الْمَسْجِدُ الْحَرَام
(Al-Masjid Al-Haram) .
I said, `Then which?'
He said,
بَيْتُ الْمَقْدِس
(Bayt Al-Maqdis).
I said, `How long between them?'
He said,
أَرْبَعُونَ سَنَة
(Forty years)."
And Allah says:
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكاً
Verily, the first House (of worship) appointed for mankind was that at Bakkah (Makkah), full of blessing, (3:96) until the end of following two Ayat.
Allah says:
وَعَهِدْنَأ إِلَى إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّأيِفِينَ وَالْعَـكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
and We commanded Ibrahim and Ismail that they should purify My House for those who are circumambulating it, or staying (I`tikaf), or bowing or prostrating themselves. (2:125)
And Allah says here:
...
أَن لاَّ تُشْرِكْ بِي شَيْيًا
...
Associate not anything with Me,
meaning, `Build it in My Name Alone.'
...
وَطَهِّرْ بَيْتِيَ
...
and sanctify My House,
Qatadah and Mujahid said,
"And purify it from Shirk.
...
لِلطَّايِفِينَ وَالْقَايِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
for those who circumambulate it, and those who stand up, and those who bow, and make prostration (in prayer).
means, `and make it purely for those who worship Allah Alone, with no partner or associate.'
What is meant by "those who circumambulate it" is obvious, since this is an act of worship that is done only at the Ka`bah and not at any other spot on earth.
وَالْقَايِمِينَ
(and those who stand up), means, in prayer.
Allah says:
...
وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
and those who bow, and make prostration.
Tawaf and prayer are mentioned together because they are not prescribed together anywhere except in relation to the House.
Tawaf is done around the Ka`bah and prayer is offered facing its direction in the majority of cases, with a few exceptions, such as when one is uncertain of the direction of the Qiblah, during battle and when praying optional prayers while traveling.
And Allah knows best.
مسجد حرام کی اولین بنیاد توحید
یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کردیا ۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ علیہ السلام ہیں سب سے پہلے آپ نے ہی اسے بنایا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا مسجد حرام ۔ میں نے کہا پھر؟ فرمایا بیت المقدس ۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟ فرمایا چالیس سال کا ۔ اللہ کا فرمان ہے آیت ( اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 96ۚ ) 3-آل عمران:96 ) ، دو آیتوں تک ۔ اور آیت میں ہے ہم نے ابراہیم واسماعیل علیہ السلام سے وعدہ کرلیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا الخ بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لئے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ یہاں فرمایا اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کردے ان کے لئے جو موحد ہیں ۔ طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے ۔ پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام ، رکوع ، سجدے ، کا ذکر فرمایا اس لئے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہوجائے گی واللہ اعلم ۔ اور یہ حکم ملاکہ اس گھر کے حج کی طرف تمام انسانوں کو بلا ۔ مذکور ہے کہ آپ نے اس وقت عرض کی کہ باری تعالیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟ جواب ملاکہ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے ۔ آپ نے مقام ابراہیم پر یا صفا پہاڑی پر ابو قیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر ندا کی کہ لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو ۔ پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی ۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی ۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا ۔ بہت سے سلف سے یہ منقول ہے ، واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے ۔ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لئے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لئے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا ۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا ۔ اس لئے کہ فرمان الٰہی میں پیدل والوں کا ذکر ہے ۔ لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پاپیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتدا ہے پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لئے آئیں گے خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی کہ آیت ( فاجعل افئدۃ من الناس تہوی الیہم ) لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کردے ۔ آج دیکھ لو وہ کونسا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہو؟ اور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں ۔ ( اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے )