48. “The benefits” include both religious and worldly benefits. It was due mainly to the Kabah that during the period of 2500 years between the times of Prophet Abraham and the Prophet (peace be upon them), the Arabs, in spite of their tribal life, remained attached to one central place and continued to visit it from all parts of Arabia for performing Hajj year after year. This in turn preserved their language, their culture and their Arab identity. Then during the course of the year they were afforded at least four months of perfect peace when anybody and everybody could safely travel alone or in trade caravans; thus the ritual of Hajj was directly beneficial to economic life of the country as well. For details see (Surah Aal-Imran, Ayat 97 and E.Ns 80, 81) thereof, and (Surah Al-Maidah, Ayat 97 and E.N. 113 )thereof.
49. “The cattle” here imply the camel, cow, sheep and goat as has been clearly mentioned in (Surah Al-Anaam, Ayats 142-144), “they should mention the name of Allah over the cattle”, implies that they should slaughter the cattle for Allah’s sake and in His name, as is clear from the subsequent sentences. Allah’s name should be recited at the time the cattle are slaughtered to show that the Muslims are to slaughter and sacrifice animals in Allah’s name alone so as to distinguish them from the disbelievers who slaughtered animals without mentioning Allah’s name or by mentioning other names than that of Allah.
As regards to “the appointed days”, there is a difference of opinion as to their exact identity. Some of the opinions as to what the appointed days mean are.
(1) The first ten days of Zil-Hajj. This view is supported by Ibn Abbas, Hasan Basri, Ibrahim Nakhai, Qatadah and several other companions and their followers. Imams Abu Hanifah, Shafai and Ahmad bin Hanbal have also favored this view.
(2) The tenth of Zil-Hajj and the three days following it. This view is supported by Ibn Abbas, Ibn Umar, Ibrahim Nakhai, Hasan and Ata. Imams Shafai and Ahmad are also reported to have favored this in a saying each.
(3) The tenth day of Zil-Hajj and the two following days. This view has been supported by Umar, Ali, Ibn Umar, Ibn Abbas, Anas bin Malik, Abu Hurairah, Said bin Musayyab and Said bin Jubair. Sufyan Thauri, Imam Malik, Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad from among the jurists have also adopted it, and the Hanafites and the Malikites are also generally agreed on this.
50. The imperative mood of the verb has given rise to the misunderstanding that it is obligatory to eat their flesh and also to give of it to the needy people, Imams Shafai and Malik opine that it is good to eat of it and it is obligatory to give of it to others. According to Imam Abu Hanifah, both these things are permitted but are not obligatory. It is good to eat of it, for the people in the days of ignorance considered it unlawful to eat sacrificial meat of their own animals, and it is good to give of it to the poor by way of help. Ibn Jarir has cited instances from Hasan Basri, Ata, Mujahid and Ibrahim Nakhai to prove that the imperative mood does not always imply a command, as for example in (Surah Al-Maidah, Ayat 2) Thus, “give of it to the indigent" does not mean that the flesh cannot be given to a rich person for the companions of the Prophet (peace be upon him) used to give of it to their friends, neighbors, relatives whether they were rich or poor. According to Ibn Umar, one third of the flesh may be consumed at home, one third may be given to the neighbors and the remaining one third distributed among the needy.
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :48
اس سے مراد صرف دینی فائدے ہی نہیں ہیں بلکہ دنیوی فائدے بھی ہیں ۔ یہ اسی خانہ کعبہ اور اس کے حج کی برکت تھی کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک ڈھائی ہزار برس کی مدت میں عربوں کو ایک مرکز وحدت حاصل رہا جس نے ان کی عربیت کو قبائلیت میں بالکل گم ہو جانے سے بچائے رکھا ۔ اس کے مرکز سے وابستہ ہونے اور حج کے لیے ہر سال ملک کے تمام حصوں سے آتے رہنے کی بدولت ان کی زبان ایک رہی ، ان کی تہذیب ایک رہی ، ان کے اندر عرب ہونے کا احساس باقی رہا ، اور ان کو خیالات ، معلومات اور تمدنی طریقوں کی اشاعت کے مواقع ملتے رہے ۔ پھر یہ بھی اسی حج کی برکت تھی کہ عرب کی اس عام بدامنی میں کم از کم چار مہینے ایسے امن کے میسر آ جاتے تھے جن میں ملک کے ہر حصے کا آدمی سفر کر سکتا تھا اور تجارتی قافلے بھی بخیریت گزر سکتے تھے ۔ اس لیے عرب کی معاشی زندگی کے لیے بھی حج ایک رحمت تھا ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، آل عمران ، حواشی ، 80 ۔ 81 ۔ المائدہ ، حاشیہ 113 ۔
اسلام کے بعد حج کے دینی فائدوں کے ساتھ اس کے دنیوی فائدے بھی کئی گنے زیادہ ہو گئے ۔ پہلے وہ صرف عرب کے لیے رحمت تھا ۔ اب وہ ساری دنیا کے اہل توحید کے لیے رحمت ہو گیا ۔
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :49
جانوروں سے مراد مویشی جانور ہیں ، یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری ، جیسا کہ سور انعام 142 ۔ 144 میں بصراحت بیان ہوا ہے ۔
ان پر اللہ کا نام لینے سے مراد اللہ کے نام پر اور اس کا نام لے کر انہیں ذبح کرنا ہے ، جیسا کہ بعد کا فقرہ خود بتا رہا ہے ۔ قرآن مجید میں قربانی کے لیے بالعموم جانور پر اللہ کا نام لینے کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے ، اور ہر جگہ اس سے مراد اللہ کے نام پر جانور کو ذبح کرنا ہی ہے ۔ اس طرح گویا اس حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اللہ کا نام لیے بغیر ، یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر جانور کو ذبح کرنا کفار و مشرکین کا طریقہ ہے ۔ مسلمان جب کبھی جانور کو ذبح کرے گا اللہ کا نام لے کر کرے گا ، اور جب کبھی قربانی کرے گا اللہ کے لیے کرے گا ۔
ایام معلومات ( چند مقرر دنوں ) سے مراد کون سے دن ہیں ؟ اس میں اختلاف ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ ، حسن بصری ، ابراہیم نَخعی ، قتادہ اور متعدد دوسرے صحابہ و تابعین سے یہ قول منقول ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یوم النحر ( یعنی ، 10 ذی الحجہ ) اور اس کے بعد کے تین دن ہیں ۔ اس کی تائید میں ابن عباس رضی اللہ عنہ ، ابن عمر رضی اللہ عنہ ، ابراہیم نخعی ، حسن اور عطاء کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں ، اور امام شافعی رحمہ اللہ و احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک ایک قول اس کے حق میں منقول ہوا ہے ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین دن ہیں ، یوم النحر اور دو دن اس کے بعد ۔ اس کی تائید میں حضرات عمر ، علی ، ابن عمر ، ابن عباس ، انس بن مالک ، ابو ہریرہ ، سعید بن مُسیّت اور سعید بن حبیر رضی اللہ عنہم کے اقوال منقول ہوئے ہیں ۔ فقہاء میں سے سفیان ثوری ، امام مالک ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے یہی قول اختیار کیا ہے اور مذہب حنفی و مالکی میں اسی پر فتویٰ ہے ۔ باقی کچھ شاذ اقوال بھی ہیں ، مثلاً کسی نے یکم محرم تک قربانی کے ایام کو دراز کیا ہے ، کسی نے صرف یوم النحر تک اسے محدود کر دیا ہے ، اور کسی نے یوم النحر کے بعد صرف ایک دن مزید قربانی کا مانا ہے ۔ لیکن یہ کمزور اقوال ہیں جن کی دلیل مضبوط نہیں ہے ۔
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :50
بعض لوگوں نے اس ارشاد کا یہ مطلب لیا ہے کہ کھانا اور کھلانا دونوں واجب ہیں ، کیونکہ حکم بصیغہ امر دیا گیا ہے ۔ دوسرا گروہ اس طرف گیا ہے کہ کھانا مستحب ہے اور کھلانا واجب ۔ یہ رائے امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کی ہے ۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ کھانا اور کھلانا دونوں مستحب ہیں ۔ کھانا اس لیے مستحب ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ اپنی قربانی کا گوشت خود کھانا ممنوع سمجھتے تھے ، اور کھلانا اس لیے پسندیدہ کہ اس میں غریبوں کی امداد اعانت ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے ۔ ابن جریر نے حسن بصری ، عطاء ، مجاہد اور ابراہیم نخعی کے یہ اقوال نقل کیے ہیں کہ : فَکُلُوْا مِنْھَا ۔ میں صیغۂ امر کے استعمال سے کھانے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ امر ویسا ہی ہے جیسے فرمایا: و اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ، جب تم حالت احرام سے نکل آؤ تو پھر شکار کرو ( المائدہ ۔ آیت 2 ) اور : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ ، پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ( الجمعہ ۔ آیت 10 ) ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ احرام سے نکل کر شکار کرنا اور نماز جمعہ کے بعد زمین میں پھیل جانا واجب ہے ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ پھر ایسا کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے ۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ لوگ اپنی قربانی کا گوشت خود کھانے کو ممنوع سمجھتے تھے اس لیے فرمایا گیا کہ نہیں ، اسے کھاؤ ، یعنی اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
تنگ دست فقیر کو کھلانے کے متعلق جو فرمایا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غنی کو نہیں کھلایا جا سکتا ، دوست ، ہمسائے ، رشتہ دار ، خواہ محتاج نہ ہوں ، پھر بھی انہیں قربانی کے گوشت میں سے دینا جائز ہے ۔ یہ بات صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے ۔ عَلْقمہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ قربانی کے جانور بھیجے اور ہدایت فرمائی کہ یوم النحر کو انہیں ذبح کرنا ، خود بھی کھانا ، مساکین کو بھی دینا ، اور میرے بھائی کے گھر بھی بھیجنا ۔ ابن عمر کا بھی یہی قول ہے کہ ایک حصہ کھاؤ ، ایک حصہ ہمسایوں کو دو ، اور ایک حصہ مساکین میں تقسیم کرو ۔