Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 44

سورة الحج

وَّ اَصۡحٰبُ مَدۡیَنَ ۚ وَ کُذِّبَ مُوۡسٰی فَاَمۡلَیۡتُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۚ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۴۴﴾

And the inhabitants of Madyan. And Moses was denied, so I prolonged enjoyment for the disbelievers; then I seized them, and how [terrible] was My reproach.

اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں ۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا پھر میرا عذاب کیسا ہوا ؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَصْحَابُ مَدْيَنَ وَكُذِّبَ مُوسَى ... And if they deny you, so did deny before them the people of Nuh, `Ad and Thamud. And the people of Ibrahim and the people of Lut, And the dwellers of Madyan; and denied was Musa. means, despite all the clear signs and evidence that they brought. ... فَأَمْلَيْتُ لِلْكَافِرِينَ ... But I granted respite to the disbelievers for a while, means, `I delayed and postponed.' ... ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ then I seized them, and how (terrible) was My punishment! means, `how great was My vengeance against them and My punishment of them!' In the Two Sahihs it is reported from Abu Musa that the Prophet said: إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه Allah lets the wrongdoer carry on until, when He seizes him, He will never let him go. Then he recited: وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe. (11:102) Then Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ نئی بات نہیں ہے پچھلی قومیں بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں اور میں بھی انھیں مہلت دیتا رہا۔ پھر جب ان کا وقت مہلت ختم ہوگیا تو انھیں تباہ برباد کردیا گیا۔ اس میں تعریض وکنایہ ہے مشرکین مکہ کے لیے کہ تکذیب کے باوجود تم ابھی تک مؤاخذہ الہی سے بچے ہوئے ہو تو یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمارا کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے جو وہ ہر قوم کو دیا کرتا ہے لیکن اگر وہ اس اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار نہیں کرتی تو پھر اسے ہلاک یا مسلمانوں کے ذریعے سے مغلوب اور ذلت و رسوائی سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی کس طرح میں نے انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کرکے عذاب و ہلاکت سے دو چار کردیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧١] ان آیات میں ایک تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ کفار و مشرکین کے انکار، ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت کا واقعہ صرف آپ سے ہی پیش نہیں آیا بلکہ سب سابقہ انبیاء ایسے ہی حالات سے دو چار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے مصائب پر صبر کیا تھا۔ لہذا آپ بھی صبر کیجئے۔ اور دوسرے یہاں ایک قانون بیان کیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ انبیاء اس وقت مبعوث کئے جاتے ہیں۔ جب معاشرہ میں خاصا بگاڑ پیدا ہوچکا ہو۔ لوگ اللہ وحدہ کو بھول چکے ہوں۔ شرک کی وبا عام ہو۔ غریبوں اور کمزوروں کو ظلم و تشدد ہو رہا ہو۔ حکومت اور قیادت بڑے بڑوں کے ہاتھ میں ہو۔ ان حالات میں جب بنی آکر اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تو جن بڑے بڑے لوگوں پر اس دعوت کی زد پڑتی ہے وہ سب اس نبی اور اس کی مختصر اور کمزور سی پیروکار جماعت کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ جس پر نبی انھیں اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈراتا ہے اور جب عذاب میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ بڑے بڑے فوراً یہ کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے کیوں نہیں آتے ؟ گویا نبی کی تکذیب کے لئے انھیں ایک اور دلیل ہاتھ آجاتی ہے۔ [٧٢] اللہ کے عذاب یا اس کی گرفت کے لئے بھی ایک قانون ہے۔ یہاں ایسی اندھیر نگری نہیں کہ ادھر کسی نے جرم کیا تو فوراً عذاب الٰہی سے وہ تباہ ہوگیا۔ ایسا ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی۔ اس کے بجائے اس کائنات میں اللہ کا قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اور عذاب کے سلسلہ میں یہی قانون ہے۔ اللہ مجرمین کو مہلت دیتا ہے۔ تاکہ انھیں انتباہ کے بعد سنبھلنے کا اور توبہ کرنے کا موقع میسر ہو۔ اس دوران اگر وہ سنبھل جائیں تو عذاب الٰہی رک جاتا ہے اور اگر نہ رکیں تو بھی عذاب اپنے معینہ مدت پر ہی آتا ہے اور جب اس کا معینہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ آکے رہتا ہے۔ اس آیت میں عذاب کے لئے نکیر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے مادہ نکر میں ناگواری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور اجنبیت کا بھی لہذا اس کی ضد عرف بھی آتی ہے اور عجب بھی اور نکیر کا لفظ کسی ناگوار بات کے معنوں میں بھی آتا ہے اور کسی ناگوار بات پر گرفت کے معنوں میں بھی۔ پھر نکر کے معنی کسی چیز کی شکل و صورت کو اس طرح بدلنا ہے کہ اس کا حلیہ بگڑ جائے۔ لہذا نکیر کے معنی ایسی گرفت یا عذاب ہوگا جو اس عذاب میں خود لوگوں کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَصْحٰبُ مَدْيَنَ۝ ٠ۚ وَكُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ۝ ٠ۚ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ۝ ٤٤ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ ملي ( مهلت) الْإِمْلَاءُ : الإمداد، ومنه قيل للمدّة الطویلة مَلَاوَةٌ من الدّهر، ومَلِيٌّ من الدّهر، قال تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] وتملّيت دهراً : أبقیت، وتملّيت الثَّوبَ : تمتّعت به طویلا، وتملَّى بکذا : تمتّع به بملاوة من الدّهر، ومَلَاكَ اللهُ غير مهموز : عمّرك، ويقال : عشت مليّا . أي : طویلا، والملا مقصور : المفازة الممتدّة «1» ، والمَلَوَانِ قيل : اللیل والنهار، وحقیقة ذلک تكرّرهما وامتدادهما، بدلالة أنهما أضيفا إليهما في قول الشاعر : 428- نهار ولیل دائم ملواهما ... علی كلّ حال المرء يختلفان «2» فلو کانا اللیل والنهار لما أضيفا إليهما . قال تعالی: وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] أي : أمهلهم، وقوله : الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] أي : أمهل، ومن قرأ : أملي لهم «3» فمن قولهم : أَمْلَيْتُ الکتابَ أُمْلِيهِ إملاءً. قال تعالی: أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] . وأصل أملیت : أمللت، فقلب تخفیفا قال تعالی: فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] ، وفي موضع آخر : فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] . ( م ل ی ) الا ملاء کے معنی امداد یعنی ڈھیل دینے کے ہیں اسی سے ملا وۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا ۔ تملیت الثوب میں نے اس کپڑا سے بہت فائدہ اٹھایا ۔ تملیٰ بکذا اس نے فلاں چیز سے عرصہ تک فائدہ اٹھا یا ۔ ملاک اللہ ( بغیر ہمزہ ) اللہ تیری عمر دراز کرے ۔ چناچہ اسی سے غشت ملیا کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں تم عرصہ دراز تک جیتے رہو ۔ الملا ( اسم مقصود ) وسیع ریگستان ۔ بعض نے کہا ہے کہ الملوان کے معنی ہیں لیل ونہار مگر اصل میں یہ لفظ رات دن کے تکرار اور ان کے امتداد پر بولا جاتا ہے ۔ کیونکہ لیل ونہار کی طرف اس کی اضافت ہوتی ہے ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( 413 ) مھار ولیل دائم ملوا ھما علیٰ کل جال المرء یختلفان رات دن کا تکرار ہمیشہ رہتا ہے اور ہر حالت میں یہ مختلف ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ملوان کا اصل لیل ونہار ہوات تو ان کی ضمیر کی طرف مضاف ہو کر استعمال نہ ہوتا اور آیت کریمہ : ۔ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں ۔ میری تدبیر ( بڑی ) مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی ( بڑی مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی مہلت دینے کے ہیں ۔ نیز فرمایا : ۔ أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] کہ ہم ان کو مہلے دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] طول ( عمر کا وعدہ دیا ۔ میں املا کے معنی امھل یعنی مہلت دینے کے ہیں ۔ ایک قراءت میں املا لھم ہے جو املیت الکتاب املیہ املاء سے مشتق ہے اور اس کے معنی تحریر لکھوانے اور املا کروانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] اور وہ صبح شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اصل میں املیت املک ( مضاف ) ہے دوسرے لام کو تخفیف کے لئے یا رسی تبدیل کرلیا گیا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] وقد يُستعمَلُ ذلک فيما يُنْكَرُ باللّسانِ ، وسَبَبُ الإِنْكَارِ باللّسانِ هو الإِنْكَارُ بالقلبِ لکن ربّما يُنْكِرُ اللّسانُ الشیءَ وصورتُه في القلب حاصلةٌ ، ويكون في ذلک کاذباً. وعلی ذلک قوله تعالی: يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] ، فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ( ن ک ر ) الانکار ضد عرفان اور انکرت کذا کے معنی کسی چیز کی عدم معرفت کے ہیں اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو لہذا یہ ایک درجہ جہالت ہی ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہین جاتے ( یعنی وہ کھانا نہین کھاتے ۔ تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا ۔ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے ۔ اور کبھی یہ دل سے انکار کرنے پر بولا جاتا ہے اور انکار لسانی کا اصل سبب گو انکار قلب ہی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات انسان ایسی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے جسے دل میں ٹھیک سمجھتا ہے ۔ ایسے انکار کو کذب کہتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ۔ يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر ان سے انکار کرتے ہیں ۔ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [ المؤمنون/ 69] اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ان کی قبطی قوم کی طرف سے جھٹلایا گیا ہے، ان کافروں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی پھر میں نے ان کو عذاب میں جکڑ لیا، سو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھیے میری گرفت کیسی سخت ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْج فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) ” ان اقوام کے انجام سے متعلق تفصیلات قرآن میں بار بار بیان ہوئی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

88 The instances of some peoples who rejected their Prophets have been cited to impress that they were given respite to reform themselves before they were punished. Therefore: O people of Makkah, you should not be deluded by the delay in your punishment. When the term of respite comes to an end, you shall also be punished like the former people, if you do not mend your ways in the meantime. 89. The Arabic word nakeer is very comprehensive and implies two meanings: (1) Displeasure at the evil conduct of the other. (2) A terrible punishment which disfigures the culprit so badly that he cannot even be recognized. The sentence therefore will mean: Just see when I seized them for this evil conduct, how terrible was My chastisement.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :88 یعنی ان میں سے کسی قوم کو بھی نبی کی تکذیب کرتے ہی فوراً نہیں پکڑ لیا گیا تھا ، بلکہ ہر ایک کو سوچنے سمجھنے کے لیے کافی وقت دیا گیا اور گرفت اس وقت کی گئی جبکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو چکے تھے ۔ اسی طرح کفار مکہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ ان کی شامت آنے میں جو دیر لگ رہی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ نبی کی تنبیہات محض خالی خولی دھمکیاں ہیں ۔ درحقیقت یہ مہلت غور و فکر ہے جو اللہ اپنے قاعدے کے مطابق ان کو دے رہا ہے اور اس مہلت سے اگر انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کا انجام بھی وہی ہو کر رہنا ہے جو ان کے پیش روؤں کا ہو چکا ہے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :89 اصل میں لفظ نکیر استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم عقوبت یا کسی دوسرے لفظ سے ادا نہیں ہوتا ۔ یہ لفظ دو معنی دیتا ہے ۔ ایک یہ کہ کسی شخص کی بری روش پر ناخوشی کا اظہار کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ اس کو ایسی سزا دی جائے جو اس کی حالت دگرگوں کر دے ۔ اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا جائے ۔ کوئی دیکھے تو پہچان نہ سکے کہ یہ وہی شخص ہے ۔ ان دونوں مفہومات کے لحاظ سے اس فقرے کا پورا مطلب یہ ہے کہ اب دیکھ لو کہ ان کی اس روش پر جب میرا غضب بھڑکا تو پھر میں نے ان کی حالت کیسی دگرگوں کر دی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ 8 ۔ یا تو آرام و عزت کی زندگی گزار رہے تھے یا پھر ایسے تباہ ہوئے کہ نام و نشان تک مٹ گیا۔ ’ نکیر ‘(جس کا ترجمہ پلٹنے سے کیا گیا ہے) کا پورا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کی بری روش کو ناپسند کرتے ہوئے اس کی خوشالی کو بدحالی سے بدل ڈالا جائے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58:۔ ” فَاَمْلَیْتُ الخ “ ان مکذبین کو ہم نے فوراً نہیں پکڑا بلکہ تکذیب و انکار کے بعد انہیں مہلت دی تاکہ انہیں سوچنے اور غور و فکر کرنے کا موقع مل سکے۔ جب طویل مہت سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا اور خداداد عقل و خرد سے کام نہ لیا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا۔ ان کی خوشحالی اور آرام و راحت کو بدحالی اور دردناک عذاب سے بدل دیا۔ مشرکین مکہ بھی اسی لیے مہلت دی گئی ہے لیکن اگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا اور انکار وعناد پر اڑے رہے تو انکا حشر بھی وہی ہوگا جو اقوام سابقہ کا ہوا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) اور مدین والے بھی اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا جاچکا ہے پس میں نے ان کافروں کو چندے مہلت دی پھر میں نے ان کی گرفت کی اور ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا یعنی اگر یہ کفار عرب آپ کی تکذیب کرنے کے درپے ہیں تو اس پر غم نہ کیجئے یہ اہل باطل کا پرانا طریقہ ہے۔ یہ لوگ اپنے زمانے میں اپنے پیغمبروں کو جھوٹا کہتے رہے ہیں۔ چناچہ ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور ثمود یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم اور حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کی قومیں اور اہل مدین یعنی حضرت شعیب کی قوم۔ غرض ! ان سب نے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے اسی طرح یہ اہل مکہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں ان سب کا انجام یہ ہوا کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور آخرکار ان کو پکڑا پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی ہوئی آگے اس کی مختصر تفصیل ہے۔