Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 52

سورة الحج

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾

And We did not send before you any messenger or prophet except that when he spoke [or recited], Satan threw into it [some misunderstanding]. But Allah abolishes that which Satan throws in; then Allah makes precise His verses. And Allah is Knowing and Wise.

ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا ، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالٰی دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے اللہ تعالٰی دانا اور باحکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Shaytan threw some Falsehood into the Words of the Messengers, and how Allah abolished that Allah says: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلاَ نَبِيٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ايَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ Never did We send a Messenger or a Prophet before you but when he did recite (the revelation or narrated or spoke), Shaytan threw (some falsehood) in his recitation (of the revelation). But Yansakh Allah that which Shaytan throws in. Then Allah establishes His revelations. And Allah is All-Knower, All-Wise: At this point many of the scholars of Tafsir mentioned the story of the Gharaniq and how many of those who had migrated to Ethiopia came back when they thought that the idolators of the Quraysh had become Muslims, but these reports all come through Mursal chains of narration and I do not think that any of them may be regarded as Sahih. And Allah knows best. Al-Bukhari narrated that Ibn Abbas said, فِي أُمْنِيَّتِهِ (in his recitation (of the revelation), "When he spoke, the Shaytan threw (some falsehood) into his speech, but Allah abolished that which the Shaytan threw in." ... ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ايَاتِهِ ... Then Allah establishes His revelations. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ (when he did recite (the revelation), Shaytan threw (some falsehood) in it). "When he spoke, the Shaytan threw (some falsehood) into his speech." Mujahid said: إِذَا تَمَنَّى (when he did recite), "When he spoke." It was said that it refers to his recitation, whereas, إِلاَّ أَمَانِىَّ (but they trust upon Amani), means they speak but they do not write. Al-Baghawi and the majority of the scholars of Tafsir said: تَمَنَّى (he did recite), "Reciting the Book of Allah." أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ (Shaytan threw (some falsehood) in it), "In his recitation." Ad-Dahhak said: إِذَا تَمَنَّى (when he did recite), "When he recited." Ibn Jarir said, "This comment is more akin to interpretation." ... فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ... But Yansakh Allah that which Shaytan throws in. The meaning of the word Naskh in Arabic is to remove or lift away. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "This means, Allah cancels out that which the Shaytan throws in." ... وَاللَّهُ عَلِيمٌ ... And Allah is All-Knower, means, He knows all matters and events that will happen, and nothing whatsoever is hidden from Him. ... حَكِيمٌ All-Wise. means, in His decree, creation and command, He has perfect wisdom and absolute proof, hence He says:

شیطان کا تصرف غلط ہے یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکے آگئے ۔ لیکن یہ روایت ہرسند سے مرسل ہے ۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں ، واللہ اعلم ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت ( اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19؀ۙ ) 53- النجم:19 ) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ ( تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی ) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی نہیں کی ۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گرپڑے اس پر یہ آیت اتری اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے ۔ مسند بزار میں بھی اس کے ذکرکے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلا مروی ہے ۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں ۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے ۔ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں ، ابن جریر میں بھی مرسل ہے قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آگئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا عربی ( وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی ) نکلوادیا ۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی ۔ اس پر یہ آیت اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورۃ نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اصحاب پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے ۔ آپ کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ نجم کی تلاوت آپ نے شروع کی اور ولہ الانثی تک پڑھا تو شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے عربی ( وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی ۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہوگئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گرپڑے ، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لئے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا ۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے ۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں ، یقین نہیں ، پھر ہمارے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا ؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کرسکتے تھے ۔ وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کرچکا تھا کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے ۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا ۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی ۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا ۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے ۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کردیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے ۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں واللہ اعلم ۔ امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں ۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی ۔ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ۔ واللہ اعلم ۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں ۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفا میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم پر ناممکن ہے ۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ ، اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ آپ اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں پر بھی ایسے اتفاقات آئے ۔ بخاری میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کردیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کرکے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے مجاہد کہتے ہیں تمنی کا معنی قال کے ہیں امنیتہ کے معنی قرأت ہ کے ہیں الا امانی کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں ۔ بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں تمنی کے معنی تلاکے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے ۔ شعر ( تمنی کتاب اللہ اول لیلتہ واخرہا لاقی حمام المقادر ) ۔ یہاں بھی لفظ تمنی پڑھنے کے معنی میں ہے ۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے ۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتا ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کردیتا ہے ۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے ۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں ، وہ حکیم ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں ۔ یہ اس لئے کہ جن کے دلوں میں شک ، شرک ، کفر اور نفاق ہے ، ان کے لئے یہ فتنہ بن جائے ۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے ۔ لہذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں ۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں ۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہوگئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہوجائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے ۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی ۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس انکے دل تصدیق سے پر ہوجاتے ہیں ، جھک کر رغبت سے متوجہ ہوجاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

52۔ 1 تمنی کے ایک معنی ہیں آرزو کی یا دل میں خیال آیا۔ دوسرے معنی ہیں پڑھایا تلاوت کی۔ اسی اعتبار سے امنیۃ کا ترجمہ آرزو، خیال یا تلاوت ہوگا پہلے معنی کے اعتبار سے مفہوم ہوگا اس کی آرزو میں شیطان نے رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ پوری نہ ہوں۔ اور رسول و نبی کی آرزو یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایمان لے آئیں، شیطان رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایمان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم ہوگا کہ جب بھی اللہ کا رسول یا نبی وحی شدہ کلام پڑھتا اور اس کی تلاوت کرتا ہے۔ تو شیطان اس کی قرأت و تلاوت میں اپنی باتیں ملانے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بابت لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈالتا اور میں میخ نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیطان کی رکاوٹوں کو دور فرما کر یا تلاوت میں ملاوٹ کی کوشش ناکام فرما کر شیطان کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا ازالہ فرما کر اپنی بات کو یا اپنی آیات کو محکم (پکا) فرما دیتا ہے۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ شیطان کی یہ کارستانیاں صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی نہیں ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو رسول اور نبی آئے، سب کے ساتھ یہی کچھ کرتا آیا ہے۔ تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائیں نہیں شیطان کی ان شرارتوں اور سازشوں سے جس طرح ہم پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بچاتے رہے ہیں یقینا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی محفوظ رہیں گے اور شیطان کے علی الرغم اللہ تعالیٰ اپنی بات کو پکا کرکے رہے گا۔ یہاں بعض مفسرین نے غرانیق علی کا قصہ بیان کیا ہے جو محققین کے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے اس لیے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھی کی گئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ شخصتیں ہوتی ہیں۔ نبی عام ہے اور رسول خاص بالفاظ دیگر ہر رسول نبی تو ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا 54؀ۚ ) 19 ۔ مریم :54) && یعنی موسیٰ رسول بھی تھے اور نبی بھی && لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ نبی اور رسول کا فرق پہلے سورة مائدہ کی آیت ٦٧ کے تحت واضح کیا جاچکا ہے۔ [٨١] تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتا ہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کرلیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو) تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے رکاوٹیں کھڑی کردیتا ہے۔ اور ایسا وسوسہ بعض دفعہ تو شیطان نبی اور اس کے پیروکاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسے کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ پر خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے دل میں یہ خیال آنے لگا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا دے تو اس سے کئی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں یا مثلاً رؤسائے قریش نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ ان ناتواں اور حقیر لوگوں (یعنی کمزور مسلمانوں) کو اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی دعوت غور سے سننے کو تیار ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی عدم مخالفت اور اسلام کے غلبہ کی خاطر کافروں کے اس مطالبہ پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہوگئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بروقت تنبیہ ہوجاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسی آیات نازل فرما دیتا جو خود اسے منظور ہوتا تھا اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شیطان نبی یا رسول کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے، اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں اور یہ لوگ دو ہی قسم کے ہوسکتے ہیں ایک منافقین اور دوسرے وہ لوگ جن کے دل قبول حق کے سلسلہ میں پتھر کی طرح سخت ہوچکے ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالآخر ایسے لوگوں کی تمام تر سازشوں اور کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اور جس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرماتا ہے اسے پختہ سے پختہ تر بنا دیتا ہے۔ اور اگر تمنی کا معنی تلاوت کرنا سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول کوئی آیت تلاوت کرتا ہے۔ تو اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے سلسلہ میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انھیں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیت نازل فرمائی کہ (حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ ١٧٣۔ ) 2 ۔ البقرة :173) تو بعض لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ اللہ کا مارا ہوا جانور تو حرام ہو اور انسان کا مارا ہوا (ذبح کیا ہو) حلال ؟ یہ خالصتہ شیطانی وسوسہ تھا۔ اسی طرح جب یہ آیت نازل ہوئی ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21 ۔ الأنبیاء :98) (یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو سب جہنم کا ایندھن بنیں گے) اور آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو کافروں نے فوراً یہ اعتراض جڑ دیا کہ پرستش تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کی بھی کی جاتی رہی ہے تو کیا یہ ہستیاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گی ؟ یہ بھی خالصتہ شیطانی وسوسہ تھا۔ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ دوسری صریح اور محکم آیات نازل فرما کر شکوک و شبہات اور شیطانی وساوس کو دور فرما کر اپنے حکم کی وضاحت فرما دیتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق بعض تفاسیر میں ایک واقعہ مندرج ہے جو یوں ہے کہ ایک دفعہ آپ سورة النجم کی تلاوت فرما رہے تھے اور یہ تلاوت مشرکین مکہ بھی پاس موجود تھے۔ جب آپ نے آیات تلاوت فرمائیں۔ (اَفَرَاَیْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزّٰی وَمَنَات الثَّالِثَۃَ الاُخْرٰی) تو شیطان نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر درج ذیل الفاظ یوں پڑھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ الفاظ آپ ہی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ (تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنْ شَفَاعَتُھُنَّ لَتُرْجٰی) (یہ اونچی گردنوں والی دیویاں ہیں یعنی لات، عزی اور منات۔ اور اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کی یقیناً توقع کی جاسکتی ہے) چناچہ جب مشرکین مکہ نے جب یہ الفاظ سنے تو ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوگئے کہ ان کے بتوں کا بھلائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ وہ بڑے غور سے آپ کی تلاوت سننے لگے اور سورة والنجم کے اختتام پر آپ نے اور دیگر مسلمانوں نے سجدہ کیا تو ساتھ ہی مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا اگلا حصہ یہ ہے کہ پھر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ مسلمانوں اور کفار مکہ میں صلح و سمجھوتہ ہوگیا ہے یہ خبر اڑتی اڑتی جب مہاجرین حبشہ کو ملی تو ان میں سے بعض مہاجر مکہ واپس آگئے۔ لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔ یہ واقعہ کئی لحاظ سے غلط ہے مثلاً : ١۔ ان تمام روایات کی اسناد مرسل اور متقطع ہیں۔ لہذا یہ روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ اسی وجہ سے صحاح ستہ میں اس قسم کی کوئی روایت مذکور نہیں۔ ٢۔ ان آیات میں && اس شیطانی وسوسہ && سے پہلے ہی بتوں اور دیویوں کی مذمت مذکور ہے اور بعد میں بھی۔ لہذا درمیان میں بتوں کا یہ ذکر خیر کسی لحاظ سے بھی فٹ نہیں بیٹھتا۔ ٣۔ تاریخی لحاظ سے یہ روایات اس لئے غلط ہیں کہ ہجرت کا واقعہ ٥ نبوی میں پیش آیا تھا اور جو مہاجر اس غلط افواہ کی بنا پر واپس مکہ آئے تھے وہ صرف تین ماہ بعد آئے تھے۔ جبکہ یہ سورت مدنی ہے اور ہجرت حبشہ سے واپسی اور اس سورة کے نزول کے درمیان کم از کم آٹھ نو سال کا وقفہ ہے۔ [٨٢] ان روایات میں دراصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو یہ ہے کہ && اللہ تعالیٰ جو بعد میں محکم اور واضح آیات نازل کرکے شکوک و شبہات کو رد کرتا ہے وہ پہلے ہی ایسے واضح احکام کیوں نہیں بھیج دیتا جن سے شکوک و شبہات پیدا ہی نہ ہوں && یہ اعتراض بھی دراصل کج رو اور کج فطرت کافروں کی عیاری کا غماز ہے اور اس کا جواب سورة آل عمران کے ابتداء میں آیات متشابہات اور آیات محکمات (آیت نمبر ٧) میں بیان ہوچکا ہے اور یہاں بھی انھیں دوسرے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ : ١۔ شکوک میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم کے کافر۔ ٢۔ ایسی آیات سے ہی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔ ٣۔ ایسی آیات دراصل سب لوگوں کے لئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے ؟ آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتا ہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ۔۔ : لغت میں ” تَمَنّٰی یَتَمَنّٰی تَمَنِّیًا “ کا معنی تمنا، آرزو اور خواہش کرنا بھی ہے اور تلاوت کرنا اور پڑھنا بھی ہے، سورة بقرہ کی آیت (٧٨) : (وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ ) میں ” اَمَانِیَّ “ ” أُمْنِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی آرزو بھی ہے اور تلاوت کرنا بھی۔ پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول یا نبی بھیجا شیطان اس کی ہر آرزو اور خواہش کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ ظاہر ہے پیغمبر کی آرزو لوگوں کے ایمان قبول کرنے اور دین حق کے غلبے کے سوا کیا ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انبیاء و رسل کی ہر کوشش کو شیطان ناکام کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم اور اپنے دین کو غالب کرتا رہا، جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ ) [ التوبۃ : ٣٣ ] ” وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ “ دوسرے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسول یا نبی آیا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا تو شیطان اس کے سننے میں رکاوٹ ڈالتا، جیسا کہ فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ ) [ حٰآ السجدۃ : ٢٦ ] ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔ “ مگر اللہ تعالیٰ اس کی رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم کردیتا۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ پیغمبروں کے آیات کی تلاوت کے وقت شیطان ان آیات کے معانی کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈال دیتا جنھیں اللہ تعالیٰ بعد میں وضاحت کرکے دور کردیتا، جیسا کہ سورة نحل کی آیت (١١٥) : (اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ ) میں شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا حلال کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے کو حرام کہتے ہیں۔ سورة انبیاء کی آیت (٩٨) : ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ) میں شبہ ڈالا کہ پھر تو مسیح (علیہ السلام) بھی نعوذ باللہ جہنم میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی وضاحت فرما کر شیطان کے ڈالے ہوئے شبہ کو دور فرما دیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔ 3 بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (٢٠) : (وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى ) پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کردیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے : ” تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَ إِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجَی “ ” یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔ “ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت غم لاحق ہوا، چناچہ سورة حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے) ۔ دیکھیے سورة جن کی آخری آیات ” عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ “ سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی (رض) کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ (رض) نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بےدین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ” الشفاء “ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر (رض) نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی (رض) نے اپنے رسالہ ” نَصْبُ الْمَجَانِیْقِ لِنَسْفِ قِصَّۃِ الْغَرَانِیْقِ “ میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بےاصل ہونا ثابت فرمایا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary مِن رَّ‌سُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّ‌سُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa& (علیہ السلام) belong to the first category, whereas Sayyidna Harun (علیہ السلام) ، who was directed to propagate the teachings of Torah and the Mosaic Laws, falls in the second category. On the other hand a Rasul رَّ‌سُولٍ is a person who receives from Allah Ta’ ala a Scripture and a code of laws. Thus every رَّ‌سُولٍ Rasul is necessarily a Nabi also, but every Nabi is not a Rasul. These distinctions are applicable to human beings only. That an angel who carries wahy from Allah Ta’ ala is also named as Rasul does not contradict this position. This subject has already been discussed in detail in Surah Maryam in the beginning of this volume. أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ (The Shaitan cast (doubts) about what he recited - 22:52) In this verse the word تَمَنَّىٰ has been used as a synonym for قَرَأَ thus أُمْنِيَّتِهِ would mean قِرَأت (recitation). This verse explains that the disputes raised by the disbelievers in regard to Allah&s message is not something new as similar doubts were raised by earlier people as well when their prophets presented to them the message of Truth, and the Shaitan cast doubts about it in the hearts of disbelievers. This explanation of the verse is quite clear and straight-forward, and has been adopted by many commentators including Abu Hayyan in his Bahr-ul-Muhit. However, some books of traditions have reported here an incident which is not proved by authentic sources. The incident is known as حَدِیث الٖغرانیق (hadith-ul¬gharaniq). Some scholars have held that it is invented by some heretics and enemies of Islam. But even those who believe this tradition to be worthwhile have taken pains to remove the doubts, which the words raise about the categorical and undisputed laws of Qur&an and Sunnah. The plain and simple meaning of the verse has been explained above and the alleged incident in no way affects this meaning. Making this incident as a part and parcel of the commentary on this verse, thereby creating unnecessary doubts, and then attempting to answer those doubts is an exercise in futility and absolutely undesirable وَاللہُ سبحانَہُ و تعالیٰ اَعلَم .

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ) پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو (جوابات قاطعہ و دلائل واضحہ سے) نیست و نابود کردیتا ہے (جیسا کہ ظاہر ہے کہ جواب صحیح کے بعد اعتراض دفع ہوجاتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات (کے مضامین) کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے (گو وہ فی نفسہا بھی مستحکم تھیں لیکن اعتراضات کے جواب سے اس استحکام کا زیادہ ظہور ہوگیا) اور اللہ تعالیٰ (ان اعتراضات کے متعلق) خوب علم والا ہے (اور ان کے جواب کے تعلیم میں) خوب حکمت والا ہے (اور یہ سارا قصہ اس لئے بیان کیا ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لئے آزمائش (کا ذریعہ) بنا دے جن کے دل میں (شک کا) مرض ہے اور جن کے دل (بالکل ہی) سخت ہیں (کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا یقین کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں) اور واقعی (یہ) ظالم لوگ (یعنی اہل شک بھی اور اہل یقین بالباطل بھی) بڑی مخالفت میں ہیں (کہ حق کو باوجود واضح ہونے کے محض عناد کے سبب قبول نہیں کرتے شیطان کو وسوسہ ڈالنے کا تصرف تو اس لئے دیا گیا تھا کہ آزمائش ہو) اور (ان شبہات کا اجوبہ صحیحہ و نور ہدایت سے ابطال اس لئے ہوتا ہے) تاکہ جن لوگوں کو فہم (صحیح) عطا ہوا ہے وہ (ان اجوبہ و نور ہدایت سے) اس امر کا زیادہ یقین کرلیں کہ یہ (جو نبی نے پڑھا ہے وہ) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے سو ایمان پر زیادہ قائم ہوجاویں پھر (زیادہ یقین کی برکت سے اس (پر عمل کرنے) کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جاویں اور واقعی ان ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی راہ راست دکھلاتا ہے (پھر کیونکر ان کو ہدایت نہ ہو۔ یہ تو ایمان والوں کی کیفیت ہوئی) اور (رہ گئے) کافر لوگ (سو وہ) ہمیشہ اس (پڑھے ہوئے حکم) کی طرف سے شک ہی میں رہیں گے (جو ان کے دل میں شیطان نے ڈالا تھا) یہاں تک کہ ان پر دفعةً آ جاوے (جس کی ہول ہی کافی ہے گو عذاب نہ بھی ہوتا) یا (اس سے بڑھ کر یہ کہ) ان پر کسی بےبرکت دن کا (کہ قیامت کا دن ہے) عذاب آپہنچے (اور دونوں کا جمع ہونا جو کہ واقع میں ہوگا اور بھی اشد مصیبت ہے مطلب یہ ہے کہ یہ بدون مشاہدہ عذاب کفر سے باز نہ آویں گے مگر اس وقت نافع نہ ہوگا) بادشاہی اس روز اللہ ہی کی ہوگی وہ ان سب (مذکورین) کے درمیان (عملی) فیصلہ فرما دے گا۔ سو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور اچھے کام کئے ہوں گے وہ چین کے باغوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہوگا۔ معارف و مسائل مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ، ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ایک نہیں، ان دونوں میں فرق کیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں مشہور اور واضح یہ ہے کہ نبی تو اس شخص کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت قوم کی اصلاح کے لئے عطا ہوا ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہو خواہ اس کو کوئی مستقل کتاب اور شریعت دی جائے یا کسی پہلے نبی ہی کی کتاب اور شریعت کی تبلیغ کے لئے مامور ہو۔ پہلے کی مثال حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور خاتم الانبیاء (علیہم السلام) کی ہے اور دوسرے کی مثال حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات اور انہی کی شریعت کی تبلیغ وتعلیم کے لئے مامور تھے۔ اور رسول وہ ہے جس کو مستقل شریعت اور کتاب ملی ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں، یہ تقسیم انسانوں کیلئے ہے۔ فرشتہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتا ہے اس کو رسول کہنا اس کے منافی نہیں، اس کی تفصیل سورة مریم میں آ چکی ہے۔ اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ لفظ تمنی اس جگہ بمعنے قراء ہے اور امنیہ کے معنی قراءت کے ہیں۔ عربی لغت کے اعتبار سے یہ معنے بھی معروف ہیں۔ اس آیت کی جو تفسیر اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھی ہے وہ بہت صاف بےغبار ہے۔ ابو حیان نے بحر محیط میں اور بہت سے دوسرے حضرات مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ کتب حدیث میں اس جگہ ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے جو غرانیق کے نام سے معروف ہے یہ واقعہ جمہور محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ بعض حضرات نے اس کو موضوع ملحدین و زنادقہ کی ایجاد قرار دیا ہے اور جن حضرات نے اس کو معتبر بھی قرار دیا ہے تو اس کے ظاہری الفاظ سے جو شبہات قرآن و سنت کے قطعی اور یقینی احکام پر عائد ہوتے ہیں ان کے مختلف جوابات دیئے ہیں لیکن اتنی بات بالکل واضح ہے کہ اس آیت قرآن کی تفسیر اس واقعہ پر موقوف نہیں بلکہ اس کا سیدھا سادہ مطلب وہ ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے بلاوجہ اس کو اس آیت کی تفسیر کا جزء بنا کر شکوک و شبہات کا دروازہ کھولنا اور پھر جوابدہی کی فکر کرنا کوئی مفید کام نہیں اس لئے اس کو ترک کیا جاتا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّآ اِذَا تَـمَنّٰٓي اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِہٖ۝ ٠ۚ فَيَنْسَخُ اللہُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللہُ اٰيٰتِہٖ۝ ٠ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ ٥٢ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» «3» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ تَّمَنِّي : تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] والأُمْنِيَّةُ : الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له وإيراده باللفظ صار التّمنّي کالمبدإ للکذب، فصحّ أن يعبّر عن الکذب بالتّمنّي، وعلی ذلک ما روي عن عثمان رضي اللہ عنه :( ما تغنّيت ولا تَمَنَّيْتُ منذ أسلمت) «1» ، وقوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] قال مجاهد : معناه : إلّا کذبا «2» ، وقال غيره إلّا تلاوة مجرّدة عن المعرفة . من حيث إنّ التّلاوة بلا معرفة المعنی تجري عند صاحبها مجری أمنيّة تمنیتها علی التّخمین، وقوله : وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] أي : في تلاوته، فقد تقدم أنّ التّمنّي كما يكون عن تخمین وظنّ فقد يكون عن رويّة وبناء علی أصل، ولمّا کان النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کثيرا ما کان يبادر إلى ما نزل به الرّوح الأمين علی قلبه حتی قيل له : لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] ، ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] سمّى تلاوته علی ذلک تمنّيا، ونبّه أنّ للشیطان تسلّطا علی مثله في أمنيّته، وذلک من حيث بيّن أنّ «العجلة من الشّيطان» «3» . وَمَنَّيْتَني كذا : جعلت لي أُمْنِيَّةً بما شبّهت لي، قال تعالیٰ مخبرا عنه : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] . ۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھے اور اس کی تصویرکھنیچ لینے کے ہیں پھر کبھی یہ تقدیر محض ظن وتخمین پر مبنی بر حقیقت مگر عام طور پر تمنی کی بنا چونکہ ظن وتحمین پر ہی ہوتی ہے اس لئے ا س پر جھوٹ کا رنگ غالب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر طور پر تمنی کا لفظ دل میں غلط آرزو میں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] تو موت کی آرزو تو کرو ۔ وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] اور یہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ الامنیۃ کسی چیز کی تمنا سے جو صورت ذہن میں حاصل ہوتی ہے اسے امنیۃ کہا جاتا ہے ۔ اور کزب چونکہ کسی وغیرہ واقعی چیز کا تصور کر کے اسے لفظوں میں بیان کردینے کو کہتے ہیں تو گویا تمنی جھوت کا مبدء ہے مہذا جھوٹ کو تمنی سے تعبیر کر نا بھی صحیح ہے اسی معنی میں حضرت عثمان (رض) کا قول ہے ۔ ماتغنیت ولا منذ اسلمت کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں نہ راگ گایا ہے اور نہ جھوٹ بولا ہے اور امنیۃ کی جمع امانی آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا ( خدا کی ) کتاب سے واقف نہیں ہیں ۔ مجاہد نے الا امانی کے معنی الا کذبا یعنی جھوٹ کئے ہیں اور دوسروں نے امانی سے بےسوچے سمجھے تلاوت کرنا مراد لیا ہے کیونکہ اس قسم کی تلاوت بھی اس منیۃ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ہے جس کی بنا تخمینہ پر ہوتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آروزو میں ( وسوسہ ) ڈال دیتا تھا ۔ میں امنیۃ کے معنی تلاوت کے ہیں اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمنی ظن وتخمین سے بھی ہوتی ہے ۔ اور مبنی بر حقیقت بھی ۔ اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر روح الامین جو وحی لے کر اترتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کے لئے مبا ورت کرتے تھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] اور ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] کے ذریعہ منع فرما دیا گیا ۔ الغرض اس وجہ سے آپ کی تلاوت کو تمنی سے موسوم کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ایسی تلاوت میں شیطان کا دخل غالب ہوجاتا ہے اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا ہے ان العا جلۃ من الشیطان کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے منیتی کذا کے معنی فریب وہی سے جھوٹی امید دلانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن نے شیطان کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا ۔ اور امید دلاتا رہوں گا ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو نسخ النَّسْخُ : إزالةُ شَيْءٍ بِشَيْءٍ يَتَعَقَّبُهُ ، كنَسْخِ الشَّمْسِ الظِّلَّ ، والظِّلِّ الشمسَ ، والشَّيْبِ الشَّبَابَ. فَتَارَةً يُفْهَمُ منه الإزالة، وتَارَةً يُفْهَمُ منه الإثباتُ ، وتَارَةً يُفْهَم منه الأَمْرَانِ. ونَسْخُ الکتاب : إزالة الحُكْمِ بحکم يَتَعَقَّبُهُ. قال تعالی: ما نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِها نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْها [ البقرة/ 106] قيل : معناه ما نُزيل العملَ بها، أو نحْذِفها عن قلوب العباد، وقیل : معناه : ما نُوجِده وننزِّله . من قولهم : نَسَخْتُ الکتابَ ، وما نَنْسأُه . أي : نُؤَخِّرُهُ فلَمْ نُنَزِّلْهُ ، فَيَنْسَخُ اللَّهُ ما يُلْقِي الشَّيْطانُ [ الحج/ 52] . وَنَسْخُ الکتابِ : نَقْلُ صُورته المجرَّدة إلى کتابٍ آخرَ ، وذلک لا يقتضي إزالةَ الصُّورَةِ الأُولی بل يقتضي إثباتَ مثلها في مادَّةٍ أُخْرَى، كاتِّخَاذِ نَقْشِ الخَاتم في شُمُوعٍ كثيرة، والاسْتِنْسَاخُ : التَّقَدُّمُ بنَسْخِ الشیءِ ، والتَّرَشُّح، للنَّسْخ . وقد يُعَبَّر بالنَّسْخِ عن الاستنساخِ. قال تعالی: إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ ما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ الجاثية/ 29] . والمُنَاسَخَةُ في المیراث : هو أن يموت ورثةٌ بعد ورثةٍ والمیراثُ قائمٌ لم يُقْسَمْ ، وتَنَاسُخُ الأزمنةِ والقرونِ : مُضِيُ قَوْمٍ بعدَ قَوْمٍ يَخْلُفُهُمْ. والقائلون بالتَّناسُخ قومٌ يُنْكِرُونَ البعثَ علی ما أَثْبَتَتْهُ الشَّرِيعةُ ، ويزعُمون أنّ الأرواحَ تنتقلُ إلى الأجسام عَلَى التَّأبِيدِ «1» . ( ن س خ) النسخ اس کے اصل معنی ایک چیز کو زائل کر کے دوسری کو اس کی جگہ پر لانے کے ہیں ۔ جیسے ۔ دھوپ کا سائے کو۔ اور سائے کا دھوپ کو زائل کر کے اس کی جگہ لے لینا یا جوانی کے بعد بڑھاپے کا آنا و غیرذلک پھر کبھی اس سے صرف ازالہ کے معنی مراد ہوتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَيَنْسَخُ اللَّهُ ما يُلْقِي الشَّيْطانُ [ الحج/ 52] تو جو دو سوسہ شیطان ڈلتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے ۔ اور کبھی صرف اثبات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس سے معا دونوں مفہوم ہوتے ہیں ۔ لہذا نسخ الکتاب یعنی کتاب اللہ کے منسوخ ہونے سے ایک حکم نازل کرنا مراد ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ ما نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِها نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْها[ البقرة/ 106] ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا اسے فراموش کردیتے ہیں ۔ تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے نسخ اور انساء کے معنی اس پر عمل سے منع کرنے یا لوگوں کے دلوں سے فراموش کردینے کے لئے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نسخت الکتاب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کتاب کو نقل کرنے کے ہیں اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ جو آیت بھی ہم نازل کرتے ہیں یا اس کے نزدل کو ایک وقت تک کے لئے ملتوی رکھتے ہیں تو اس سے بہتر یاویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں ۔ نسخ الکتاب کے معنی کتاب کی کاپی کرنے کے ہیں یہ پہلی صورت کے ازالہ کو مقتضی نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے مادہ ہیں اس جیسی دوسری صؤرت کے اثبات کو چاہتا ہے جیسا کہ بہت سے شمعوں میں انگوٹھی کا نقض بنا دیا جاتا ہے ۔ الا ستنساخ کسی چیز کے لکھنے کو طلب کرنے یا لکھنے کے لئے تیار ہونے کے ہیں کبھی استنساخ بمعنی نسخ بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ ما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ الجاثية/ 29] جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے ۔ اور علم وراثت میں مفاسخۃ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وراث یکے بعد دیگر مرتے رہیں اور میراث تقسیم نہ ہوئی ہو ۔ تنا سخ لا زمنۃ والقرآن ایک قوم کا گزر جانا اور دوسری کا اس کے قائم مقام ہونا ۔ اور تنا سخیۃ اس فرقے کو کہتے ہیں جو شریعت کے ثابت کرو وہ حشر ونشر کا انکار کرتے ہیں ۔ اور ارواح کے مختلف اجسام میں متفقل ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

تمنائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن لترنجی “ (یہ اونچے اونچے آبی پرندے یعنی بت، ان کی شفاعت کی ضرو رامید کی جاسکتی ہے) شیطان کے خلل انداز ہونے کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ کچھ حضرات کا قول ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت یعنی سورة نجم کی تلاوت کی اور اس میں بتوں کا ذکر ہوا تو کافروں کو علم ہوگیا کہ ان کے بتوں کی مذمت ہو رہی ہے اور ان کے عیوب و نقائص بیان ہو رہے ہیں۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلاوت کرتے ہوئے آیت (اقرایتم الات والعزی) رپر پہنچے تو ان کافروں میں سے ایک بول اٹھا ” تلک الغرانیق العلی “ یہ بات مسجد حرام میں کفار قریش کے ایک بڑے مجمع کی موجودگی میں کہی گئی ۔ جو کافر ذرادور تھے وہ کہنے لگے کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ” تلک الغرانیق العلیٰ “ بھی آپ کی تلاوت کا جز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس قول کو باطل قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ آپ نے اس فقرے کو اپنی تلاوت میں شامل نہیں کیا تھا بلکہ مشرکین میں سے کسی نے یہ فقرہ ادا کیا تھا، اللہ نے اس شخص کو شیطان کے نام سے موسوم کیا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت کے دوران یہ فقرہ ادا کیا تھا۔ اس لئے کہ وہ انسانی شیطانوں میں سے ایک تھا جس طرح یہ قول باری ہے (شیاطین الانس والجن شیاطین انس (جن) شیطان نام ہے جن وانس میں سے ہر اس فرد کا جو سرکش اور مفسد ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ وہ شیاطین جن میں سے کوئی شیطان ہو جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت کے دوران یہ فقرہ کہا ہو۔ ایسی بات ابنیاء (علیہم السلام) کے زمانوں میں ممکن ہوتی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی حکایت اپنے اس قول میں کی ہے (واذا زین لھم الشیطان اعمالھم وقال لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جائو لکم، فلما تراء ت الفئتان تکص علی عقبیہ وقال انی بری منکم انی اری مالا ترون۔ ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ الٹے پائوں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے) یہ بات ابلیس نے ان سے کہی تھی۔ وہ قریش کے پاس سراق بن مالک کے بھیس میں اس وقت آیا تھا جب وہ دارالندوہ میں بیٹھ کر مقام بدر کی طرف جانے کے لئے مشورہ میں مصروف تھے۔ ابلیس ایک مرتبہ نجدی شیخ کے بھیس میں قریش کے پاس آیا تھا جب وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف دارالندوہ کے اندر سازش میں مصروف تھے۔ ایسی بات تدبیر الٰہی کے طور پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ممکن تھی، اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ کسی شیطان نے درج بالا فقرہ کیا ہو اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ یہ فقرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے سہو کے طور پر یہ کلمہ نکلا ہو کیونکہ سہو سے کوئی انسان عاری نہیں ہوتا۔ اس کلمہ کی ادائیگی کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متنبہ کردیا گیا ہو۔ بعض علماء نے اس توجیہ کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ اصل مفہوم یہ ہے کہ شیطان اپنے وساوس کے ذریعے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں خلجان پیدا کردیتا جس کی بنا پر آپ کی توجہ تلاوت کی طرف سے ہٹ جاتی اور آپ یکسانیت رکھنے والے قصص کی قرأت میں غلطی کر جاتے۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعن کو اقعات جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ہوا ہے۔ جب منافقین اور مشرکین اس غلط قرأت کو سنتے تو کہتے کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے اپنی سابقہ تلاوت سے رجوع کرلیا ہے۔ یہ صورت حال سہو کی بناپر پیدا ہوئی تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے آگاہ کردیا۔ رہ گئی یہ بات کہ آپ نے تلاوت کے دوران غلطی سے فقرہ پڑھ لیا تھا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات سے اس کا سر زد ہونا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہوسکتا جس طرح یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے کرتے درمیان میں کوئی شعر اس انداز سے پڑھ دیتے کہ یہ بھی قرآن کا حصہ ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ جب آپ نے وہ آیات تلاوت کیں جن میں بتوں کا ذکر تھا تو آپ نے مشرکین سے فرمایا کہ تمہارے نزدیک یہ بڑی اونچی حیثیتوں کے مالک ہیں اور تم یہ سمجھتے ہو کہ ا ن کی شفاعت اور سفارش پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، آپ نے دراصل ان کی بت پرستی پر کڑی تنقید اور نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢) بلکہ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کو یہ واقعہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احکام خداوندی میں سے کچھ پڑھا، یا اس نبی نے کچھ بیان کیا تو شیطان نے اس رسول کے پڑھنے اور اس نبی کے بیان کرنے میں کچھ شبہ ڈال دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی شبہات کو اپنی نبی کی زبانی بیان کروا دیا تاکہ ان پر کوئی عمل نہ کرے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بیان کردیتا ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور شیطان جو شبہات ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا اور نیست ونابود کردینے میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ ومآ ارسلنا من قبلک “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن منذر (رح) نے سند صحیح کے ساتھ سعید بن جبیر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ میں سورة نجم کی تلاوت فرمائی جس وقت آپ ( آیت) ” افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری “۔ (الخ) پر پہنچے تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلوا دیے ”۔ تلک الغرانیق العلی، وان شفاعتھن لترتجی “۔ (الخ) (کہ ان بڑے بڑے بتوں کی سفارش قبول کی جائے گی) مشرکین کہنے لگے آج سے پہلے ہمارے بتوں کا اچھائی کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا غرض کہ آپ نے سورت کے اختتام پر سجدہ کیا اور تمام لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بزار (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے دوسرے طریقے سے سعید بن جبیر (رح) کے ذریعے حضرت ابن عباس (رض) سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ روایت نقل کی ہے اور اس سند کے علاوہ اور دوسری سند سے یہ روایت متصلا مروی نہیں ہے اور صرف امیہ بن خالد اس روایت کو متصلا بیان کر رہے ہیں، باقی وہ ثقہ اور مشہور آدمی ہیں اور نیز اسی روایت کو امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں واقدی (رح) ہے اور ابن مردویہ (رح) نے کلبی (رح)، ابو صالح (رح) کے طریق سے ابن عباس (رض) سے اور ابن جریر (رح) نے عوفی کے ذریعے سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ اور ابن اسحاق (رح) نے اسی روایت کو سیرت میں محمد بن کعب (رح) اور موسیٰ بن عقبہ (رح) کے ذریعے سے ابن شہاب (رح) سے اور ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب (رح) اور محمد بن قیس (رح) سے اور ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے اور یہ سب روایات قریب قریب ایک ہی مضمون کی ہیں باقی یہ تمام روایات سعید بن جبیر (رض) کی سند کے علاوہ جو سب سے پہلے روایت کی ہے ضعیف ہیں یا منقطع، حافظ بن حجر عسقلانی (رح) فرماتے ہیں کہ روایت کے کثرت طرق اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ اس واقعہ کی کوئی اصلیت موجود ہے اور پھر جب کہ دو مرسل صحیح طریق بھی اس روایت کے موجود ہیں جنھیں ابن جریر (رح) نے روایت کیا ہے ایک طریق تو ان میں سے زہری عن ابی بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام کا طریق ہے اور دوسرا داؤد بن ہند عن ابی العالیہ کا طریق ہے اور شیخ ابن عربی اور قاضی عیاض کے اس قول کا کہ یہ سب روایات باطل ہیں، کی کوئی اصلیت نہیں اور کچھ اعتبار نہیں۔ (یہ واقعہ امام بیہقی (رح)، قاضی عیاض (رح) محمد بن اسحاق (رح)، شیخ ابو منصور، ماتریدی (رح) اور ابن عربی (رح) کی تصریح کے مطابق غیر ثابت، بےسن، موضوع اور گھڑا ہوا ہے، اور اس کی کوئی اصلیت نہیں، واللہ اعلم) (مترجم )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج) ” لفظ ” تمنا “ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لغوی اعتبار سے اس مادہ میں آرزو اور خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک عام آدمی سوچتا ہے ‘ خواہش کرتا ہے اور مختلف امور میں منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح نبی ( علیہ السلام) اور رسول ( علیہ السلام) بھی سوچتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مثلاً ابو طالب کی وفات کے بعد جب ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا اور اس کی ذاتی دشمنی کے باعث آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے قبیلے کی پشت پناہی حاصل نہ رہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوچا کہ اب کیا کروں ؟ (ع ” کس طرف جاؤں ‘ کدھر دیکھوں ‘ کسے آواز دوں ! “ ) چناچہ ان حالات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ‘ لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ ملا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بظاہر ناکام لوٹنا پڑا۔ بلکہ حضرت عائشہ (رض) کی روایت کے مطابق وہ دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا سخت ترین دن (یوم احد سے بھی زیادہ سخت) ثابت ہوا۔ بہر حال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منصوبہ بندی بھی کی اور اس کے مطابق کوشش بھی کی۔ یہ الگ بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ سعادت اہل طائف کے بجائے اہل یثرب کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ تو جب کوئی نبی اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے تو شیطان اپنی طرف سے ان کے خیال میں کچھ نہ کچھ خلل ضرور ڈالتا ہے۔ عصمت انبیاء کے بارے میں تمام اہل ایمان چونکہ بہت حساس ہیں اس لیے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ سے جو مفہوم بظاہر سامنے آتا ہے وہ گویا ہر مسلمان کے حلق میں پھنس جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کی تفسیر و تشریح میں بہت سی دور ازکار تاویلات بھی لائی گئی ہیں۔ بہر حال میرے خیال میں یہ بالکل سیدھا سادہ مسئلہ ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ کسی رسول یا نبی کی شخصیت اور خواہشات وتعلیمات کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو وہ ہے جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہے۔ اس پہلو سے متعلق معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے سے براہ راست واضح ہدایات ملتی رہتی ہیں۔ ان ہدایات یا احکام میں کسی خطا یا غلطی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی اس میں شیطان یا شیطانی قوتیں کسی قسم کی در اندازی کرسکتی ہیں۔ دوسری طرف نبی ( علیہ السلام) کی شخصیت کا ایک ذاتی اور نجی پہلو بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نبی ( علیہ السلام) کی کوئی ذاتی شخصیت یا سوچ ہوتی ہی نہیں ‘ بلکہ بہت سے معاملات میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو ایک حکم دے دیا جاتا ہے اور اس حکم پر عمل کرنے کے بارے میں نبی ( علیہ السلام) خود سوچتا ہے ‘ خود منصوبہ بندی کرتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے۔ مثلاً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک حکم دے دیا گیا : (وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ) (الشعراء) کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ شروع کیجیے اور اس سلسلے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک ضیافت کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو ہاشم کے تمام مردوں کو مدعو کیا اور سب کو کھانا کھلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تک اپنا دعوتی پیغام پہنچانے کے لیے یہی طریقہ مناسب خیال کیا۔ گویا ایسے کسی حکم پر عمل کے لیے جزئیات کی منصوبہ بندی کرنے کا تعلق نبی ( علیہ السلام) کے ذاتی اجتہاد سے ہے۔ چناچہ ان تدبیری معاملات کا وہ درجہ نہیں ہوتا جو براہ راست وحی کی ہدایت کا ہوتا ہے۔ اس فرق کو صحابہ کرام (رض) بہت اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کی بہت سی عملی مثالیں بھی ہمیں سیرت سے ملتی ہیں۔ مثلاً غزوۂ بدر کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ کی تخصیص فرما کر حکم دیا کہ لشکر کا کیمپ اس جگہ پر لگایا جائے۔ اس پر کچھ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر اس جگہ کے انتخاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم ہے تو سر تسلیم خم ہے ! لیکن اگر یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے ہے تو ہمیں بھی اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ صرف انہیں رائے دینے کی اجازت دی بلکہ ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور لگے لگائے کیمپ کو اکھاڑ کر ان کی تجویز کردہ جگہ پر لگانے کا حکم دیا۔ یہ چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذاتی تدبیر تھی اس لیے صحابہ (رض) کو بھی اس میں اختلاف کی گنجائش محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنے عملی تجربات کی روشنی میں رائے دی۔ دوسری طرف اگر یہ فیصلہ وحی کی روشنی میں کیا گیا ہوتا تو کیمپ کے اکھاڑے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی طرح ” تابیر نخل “ کے معاملے کی مثال بھی بہت واضح ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ وہاں پر کھجور کے درختوں کو بار آور کرنے کے لیے زیرہ پوشی کا مصنوعی طریقہ (artificial pollination) اختیار کیا جاتا تھا ‘ یعنی نر درخت کے پھولوں کو مادہ درخت کے پھولوں پر جھاڑا جاتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کو یہ عمل کرتے دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم لوگ ایسا نہ کرو تو شایدبہتر ہو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایسا فرمانے پر لوگوں نے اس سال وہ عمل نہ کیا تو اس کے نتیجے میں فصل واضح طور پر کم ہوئی۔ اس پر ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اس سال ہم نے تابیر نخل کے مروّجہ طریقے پر عمل نہیں کیا تو ہماری فصل کم ہوئی ہے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ ) (١) یعنی آپ لوگ اپنے دنیوی امور کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محدثین عظام پر اپنی خصوصی رحمتیں ‘ برکتیں اور نعمتیں نازل فرمائے۔ ان لوگوں کی محنتوں اور کوششوں سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث محفوظ ہوئیں اور پھر ہم تک پہنچ کر ہماری راہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کا مقصد اور مفہوم یہی ہے کہ دنیوی معاملات کے مختلف شعبوں میں تم لوگوں کو ایسے تجربات حاصل ہیں جو مجھے حاصل نہیں اور میں تم لوگوں کو ان معاملات میں تعلیم دینے کے لیے مبعوث بھی نہیں ہوا۔ میں تم لوگوں کو زراعت کے اصول سکھانے کے لیے نہیں آیا۔ میں تو تم لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں اور یہی میری رسالت کا بنیادی مقصد اور موضوع ہے۔ چناچہ رسالت سے متعلق امور میں آپ لوگوں کے لیے میرا اتباع لازمی ہے ‘ لیکن دنیوی معاملات تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دو ۔ اگر دیکھا جائے تو اہل مدینہ کا تابیر نخل سے متعلق مذکورہ عمل سائنسی اصولوں پر مبنی تھا۔ سائنس کی بنیاد تجربات پر رکھی گئی ہے اور سائنسی علوم کا ارتقاء (development) بھی تجربات کے ذریعے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ چناچہ یہ فرما کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجرباتی یا سائنسی علوم کی گویا حوصلہ افزائی فرمائی کہ اپنے دنیوی معاملات کو تم لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہو اور یہ کہ ان امور کو تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دیا کرو۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی ( علیہ السلام) یا رسول ( علیہ السلام) کی وہ تعلیمات اور وہ ہدایات جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہوں ان میں نہ تو کسی قسم کی خطا کا امکان ہے اور نہ ہی ان کے اندر شیطانی قوتوں کی در اندازی کا کوئی احتمال ہے ‘ لیکن عام دنیوی امور اور ان کی جزئیات کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے جہاں ایک نبی یا رسول اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے رہا ہو وہاں پر کسی خطا یا شیطانی خلل اندازی کا امکان موجود رہتا ہے۔ میری یہ توجیہہ ” موضح القرآن “ میں بیان کردہ شاہ عبدالقادر (رح) کی رائے کے قریب ترین ہے ‘ لہٰذا مجھے اس پر پورا اطمینان ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

96. For the distinction between Nabi and Rasul, refer to (E. N. 30 of Surah Maryam). 97. The Arabic word tamanna has two meanings: “desire” and “to recite” something. 98. If the first meaning is taken, it will imply: Satan tried to prevent the fulfillment of his desire. If the second meaning is taken, it will imply: When the Prophet recited the Revelations, Satan created different sorts of doubts about its truth and meanings in the minds of the people. 99. If the first meaning is adopted, it will imply: Allah fulfills the Prophet’s desire and makes his mission successful in spite of the obstacles of Satan and confirms the truth of His revelations by fulfilling His promises to the Prophet. In case of the second meaning, it will imply: Allah eradicates all the doubts and objections inspired by Satan in the hearts of the people and clarifies the confusion created about any verse of the Quran in subsequent revelations. 100. “Allah is All-Knower” and has full knowledge of the mischief worked by Satan and of its effects, and being All- Wise, He counteracts every mischief of Satan.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :96 رسول اور نبی کے فرق کی تشریح سورہ مریم حاشیہ 30 میں کی جا چکی ہے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :97 تمنّٰی کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ایک معنی تو وہی ہیں جو اردو میں لفظ تمنا کے ہیں ، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو ۔ دوسرے معنی تلاوت کے ہیں ، یعنی کسی چیز کو پڑھنا ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :98 تمنا کا لفظ اگر پہلے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں ۔ دوسرے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب بھی اس نے کلام الہٰی لوگوں کو سنایا ، شیطان نے اس کے بارے میں طرح طرح کے شبہے اور اعتراضات پید ا کیے ، عجیب عجیب معنی اس کو پہنائے ، اور ایک صحیح مطلب کے سوا ہر طرح کے الٹے سیدھے مطلب لوگوں کو سمجھائے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :99 پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی خلل اندازیوں کے باوجود آخر کار نبی کی تمنا کو ( اور آخر نبی کی تمنا اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی مساعی بار آور ہوں اور اس کا مشن فروغ پائے ) پورا کرتا ہے اور اپنی آیات کو ( یعنی ان وعدوں کو جو اس نے نبی سے کیے تھے ) پختہ اور اٹل وعدے ثابت کر دیتا ہے ۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات و اعتراضات کو اللہ رفع کر دیتا ہے اور ایک آیت کے بارے میں جو الجھنیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالتا ہے انہیں بعد کی کسی واضح تر آیت سے صاف کر دیا جاتا ہے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :100 یعنی وہ جانتا ہے کہ شیطان نے کہاں کیا خلل اندازی کی اور اس کے کیا اثرات ہوئے ۔ اور اس کی حکمت ہر شیطانی فتنے کا توڑ کر دیتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

27: آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک وشبہات کا اظہار ہورہا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ پچھلے انبیائے کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اﷲ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دِل میں شکوک وشبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ اِیمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک وشبہات اصل میں بے بنیاد ہوتے ہیں، اِس لئے اﷲ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا، بلکہ اُنہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔ اس آیت کا ایک اور ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ: ’’تم سے پہلے ہم نے جو کوئی رسول یا نبی بھیجا، تو اُس کے ساتھ یہی ہوا کہ جب اُس نے کوئی تمنا کی تو شیطان نے اُس کی تمنا میں کوئی کھنڈت ڈال دی، پھر شیطان جو کھنڈت ڈالتا ہے، اﷲ اُسے ختم کردیتا ہے پھر اپنی آیتوں کو اور مضبوط کردیتا ہے۔‘‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انبیائے کرام اپنی قوم کی اصلاح کے لئے کسی بات کی تمنا کرتے تھے، مگر شروع میں شیطان اس تمنا کے پورے ہونے میں کوئی رُکاوٹ پیدا کردیتا تھا، لیکن آخرکار اﷲ تعالیٰ اُس رُکاوٹ کو دُور فرما کر اپنی اُن آیتوں کو مزید مستحکم بنادیتا جن میں انبیائے کرام کی مدد کی بشارت دی گئی تھی، البتہ شیطان نے جو رُکاوٹ ڈالی تھی، وہ کافر لوگ جن کے دِلوں میں روگ ہے، اُسے انبیائے کرام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرکے فتنے میں مبتلا ہوجاتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٢۔ ٥٣:۔ مسند بزار تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن منذر ‘ تفسیر ابن مردویہ ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن جریر وغیرہ ٢ ؎ میں مختلف سندوں سے اس آیت کی شان نزول میں جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت سورة والنجم مکہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سورت کو مشرکین مکہ کے روبرو پڑھنے لگے اور سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات، عزی اور منات بتوں کا نام ہے تو شیطان نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت کے سکتہ کے وقت کچھ کلمے پڑھ دیئے ‘ جس کے معنوں سے ان بتوں کی تعریف کا ذکر اور ان کی شفاعت کا ذکر نکلتا ہے ‘ ان کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور اس شیطان کی آواز کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز خیال کیا اور کہنے لگے کہ سوا آج کے اور کبھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے بتوں کا اچھی طرح نام نہیں لیا اور اپنے بتوں کی تعریف سن کر خوش ہوگئے اور آخر سورة پر جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکین نے بھی سجدہ کیا ‘ اس سے یہ خبر مشہور ہوگئی کہ مکہ کے تمام مشرک مسلمان ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں نماز پڑھی ‘ چناچہ اس خبر کو سن کر مشرکین کی ایذا سے تنگ آن کر جو مسلمان لوگ حبشہ کے ملک کو چلے گئے تھے ان میں سے اکثر آدمی مکہ کو پھر کر واپس چلے آئے پھر مکہ میں آن کر ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی کیونکہ شیطان کی اس شرارت کے بعد فورا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے شیطان کی شرارت کا حال حضرت سے کہہ دیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین پر یہ حال ظاہر کردیا کہ مشرکوں کے کانوں میں جو آواز گئی تھی وہ شیطان کی آواز تھی اور وہ کلمے جو شیطان نے کہے وہ بھی شیطان کے بناوٹی کلمے تھے ‘ اللہ کا کلام وہ نہیں تھا ‘ محی ١ ؎ الدین ابن عربی ٢ ؎ اور قاضی ٣ ؎ عیاض (رض) اور بعضے علمائ ٤ ؎ نے اگرچہ اس قصہ کا انکار کیا ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری ٥ ؎ شرح صحیح بخاری میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ پھر روایت کسی درجہ میں ثابت بھی مان لی جائے تو اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ ہی کرنی پڑی ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر (رح) اور حضرت مفسر (رح) نے کوشش فرمائی ہے تاہم جو کچھ بھی ہو آیت زیر بحث کا فہم اس قصہ پر موقوف نہیں جیسا کہ تینوں دہلوی ترجموں کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے جن میں ” تمنی “ کے معنی ” آرزو “ یا ” خیال “ کے کئے گئے ہیں کہ اس قصہ کو مرسل کے طور پر کئی سند سے معتبر (حاشیہ متعلقہ تین) اس آیت پر موضح القرآن کا فائدہ یہ ہے :۔ نبی کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے ‘ اس میں ہرگز تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کا خیال اس میں جیسے اور آدمی ‘ کبھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا جیسے حضرت نے خواب میں دیکھا کہ مدینے سے مکہ میں گئے عمرہ کیا خیال میں آیا کہ شاید اب کے برس وہ ٹھیک پڑا اگلے برس ‘ یا وعدہ ہوا کافروں پر غلبہ ہوگا خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں اس میں نہ ہوا ‘ پھر اللہ جتا دیتا ہے لڑائی کا حکم تھا ‘ اس میں تفاوت نہیں۔ نیز مناسب ہے کہ شاہ عبدالقادر کے والد (شاہ ولی اللہ (رح) کا فارسی اور ان کے بھائی شاہ رفیع الدین کا (تحت اللفظ) اردو ترجمہ دونوں یہاں ذکر کردیئے جائیں کیونکہ اس سے فہم آیت میں صحیح راہ نمائی ملتی ہے (ع۔ ح) (فارسی) “ ونہ فرستادیم پیش ازتو ہیچ فرستادہ نہ صاحب وحی الاچوں آرزوئے بخاطربست ‘ بافگند شیطان چیزے در آرزوئے وے پس دورمے کند خدا آنچہ شیطان انداختہ اسب۔ باز محکم مے کند خدا آیات خودارا و خدا دانا باحکمت است “ (فتح الرحمان) (اردو) اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی ‘ مگر جس وقت آرزو کرتا تھا ڈال دیتا تھا شیطان بیچ آرزو اس کے ‘ پس موقوف کردیتا ہے اللہ جو ڈالتا ہے شیطان ‘ پھر محکم کرتا ہے اللہ نشانیوں اپنی کو اور اللہ جاننے والا ہے ‘ حکمت والا ہے۔ راویوں نے روایت کیا ہے ‘ اس سبب سے اس قصہ کو بےاصل نہیں کہا جاسکتا ‘ تابعی کسی حدیث کو اللہ کے رسول سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں ‘ دنیا اور دنیا کے تمام معاملے اللہ تعالیٰ نے امتحان کے طور پر پیدا کئے ہیں ‘ یہ معاملہ بھی امتحان کے طور پر پیش آیا ہو تو اس کو شیطان کی ایسی شرارت خیال کرنی چاہیے جس طرح اس نے شرارت سے جنگ احد میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہید ہوجانے کی خبر لوگوں کے کانوں میں پھونک دی تھی جس خبر سے ایک بڑا موقع جانچ وامتحان کا پیش آیا تھا ‘ مشرکین اور یہود کی گمراہی اس خبر سے قریش سے امان مانگنے کو مستعد ہوگئے تھے مضبوط ایمان کے جو صحابہ (رض) تھے ان کے ایمان اس خبر سے اور مضبوط ہوگئے تھے ‘ چناچہ انس (رض) ہاتھ سے شہید بھی ہوگئے تو ہمارا اللہ حی وقائم ہے ہم کو اب بھی ویسی ہی جانبازی کرنی چاہیے جو آنحضرت کے روبرو کرتے تھے غرض اس آیت کے مضمون سے بھی وہی امتحان کا موقع پوری طور پر نکلتا ہے اور سند صحیح سے اس قصہ کی روایت بھی ہے ‘ پھر اس قصہ کو شان نزول ٹھہرانے میں کون سا امر شرعی مانع ١ ؎ ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قصہ کی سند مرسل طور پر ہے تو جب اس مرسل روایت کی سندیں کئی ہیں اور ایک کو دوسری سندے سے قوت اور تائید ملتی ہے اور اس طرح کی مرسل روایت باتفاق محدثین قابل قبول ہے تو پھر اس مرسل روایت کے ماننے میں کیا عذر ہے ‘ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ صحابی کا نام ذکر کرنے کے بغیر کسی تابعی کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی قول یا فعل کو روایت کرنا اس طرح کی روایت کو محدثین کی بول چال میں مرسل کہتے ہیں ‘ رسول اور نبی دونوں لفظ اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمائے کہ شریعت میں رسول ان پیغمبروں کو کہتے ہیں جن کے پاس حضرت جبرئیل وحی لے کر آئے تھے اور نبی کے لئے جدید وحی کا آنا ضرور نہیں بلکہ اپنے سے پہلے رسول کی کتاب کے موافق بھی نبی لوگوں کو ہدایت کرسکتے ہیں جس طرح آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اتر کر شریعت محمدی کے موافق ہدایت فرمادیں گے یا حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک کئی ہزار نبی تورات کے موافق ہدایت کرتے رہے ‘ قرآن شریف میں جو یہ مضمون موجود ہے کہ شیطان اللہ کے کلام میں جو بات ملاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹا کر اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے ‘ اس سے بھی شان نزول کے قصہ کی اصلیت پائی جاتی ہے کیونکہ قرآن شریعت کے اس مضمون سے یہ بات نکلتی ہے ‘ کہ شیطان نے قرآن کی آیتوں میں کوئی بات ملائی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے مٹا کر اپنی آیتوں کو پکا کردیا ‘ علاوہ اس کے جب صحیح بخاری کی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت میں یہ ذکر موجود ہے کہ سورة والنجم کے ختم پر مسلمانوں کے سجدہ کرنے کے وقت مشرکوں نے بھی سجدہ کیا تو مشرکوں کے سجدہ جو اس آیت کے شان نزول کی روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات منات اور عزی بتوں کا نام ہے تو شیطان نے اللہ کے رسول کی آواز بنا کر ان بتوں کی تعریف کے چند کلمے پڑھ دیئے جن کلموں سے مشرکین مکہ خوش ہوگئے اور آخر سورت پر جب اللہ کے رسول مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ یہ شان نزول کی روایت مسندبزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی آئی ہے ‘ اگرچہ بعضے علماء نے اس سند پر اعتراض کیا ہے کہ اس سند میں ایک راوی امیہ بن خالد اکیلے ہیں لیکن یہ امیہ بن خالد امام شافعی (رح) کے زمانہ کے ثقہ اور مشہور تبع تابعیوں میں ہیں اس لئے ان کے اکیلے ہونے سے روایت کو ضعیف نہیں کہا جاسکتا۔ پھر جب یہ روایت ضعیف نہیں اور اصول حدیث میں یہ مسئلہ ٹھہر چکا ہے کہ شان نزول کے باب میں صحابہ (رض) کا قول حدیث نبوی کے برابر شمار کیا جاتا ہے اور اس شان نزول کے راوی بھی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ہیں ‘ جن کا لقب امام المفسرین ١ ؎ ہے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بعضے مفسروں نے اس شان نزول کو کیوں نامعتبر ٢ ؎ ٹھہرایا۔ تمنی کے معنی قراءت کے بھی ہیں تینوں ترجموں میں دوسرے معنی کو ملحوظ رکھ کر ہی معنی کے مناسب حال فارسی اور اردو کا فائدہ بھی لکھا ہے ‘ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق آیت کی تفسیر میں پہلے معنی زیادہ معتبر ٣ ؎ ہیں اس واسطے امام بخاری نے صحیح بخاری میں ان ہی معنی کو لیا ہے ان معنی کے موافق آیت کا مطلب وہی ہوا جو اوپر بیان کیا گیا کہ سورة والنجم کی قراءت کے وقت اللہ کے رسول کی آواز بنا کر شیطان نے چند کلمے بتوں کی تعریف کے پڑھ دیئے جن کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور شیطان کی آواز کو اللہ کہ رسول کی آواز سمجھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کے لائے کلموں کا حال کھول کر قرآن کی آیتوں کو پکا کردیا۔ واللہ علیم حکیم اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے جو شرارت کی اگرچہ وہ اللہ کے حکم سے باہر نہیں تھی ‘ اللہ چاہتا تو وہ شرارت ظہور میں نہ آتی لیکن اس شرارت کے ظاہر ہونے میں وہ حکمت تھی جس کا ذکر آگے فرمایا کہ اس شیطان کی شرارت سے ان مشرکوں کی گمراہی کا حال مسلمانوں پر اچھی طرح کھل گیا کیونکہ جب ان مشرکوں نے بتوں کی تعریف اور ان کی سفارش کے اعتقاد کو قرآن کی آیت کا مضموں سمجھا تو مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کرنے کو تیار ہوگئے پھر جب ان مشرکوں کو یہ جتلایا گیا کہ وہ بتوں کی تعریف کے کلمے شیطان کی شرارت کا ایک ظہور تھا تو یہ مشرک اللہ کے رسول اور مسلمان سے زیادہ دشمنی کرنے لگے جس سے یہ بات اچھی طرح کھل گئی کہ بارگاہ الٰہی میں ان بتوں کو سفارشی ٹھہرانے کا اعتقاد جو ان مشرکوں کو جب یہ جتلادیا گیا کہ ثابت کرنا چاہیے تھا نہ یہ کہ جس طرح جھوٹا شخص سچے آدمی کا دشمن بن جاتا ہے اسی طرح ایک سچی بات پر یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ دشمنی کرنے لگے ‘ اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت میں حق سے دور جا پڑے۔ (٢ ؎ الدر المنثور ص ٣٦٦ ج ٤ ) (١ ؎ یہ ابن عربی “ محی الدین (محمد بن علی الطائی) (٦٣٨ ھ) نہیں بلکہ بن العربی المالکی (ابوبکر محمد بن عبداللہ) ٥٤٣ ھ) ہیں جیسا کہ فتح الباری میں ہے۔ ) (٢ ؎ ابن العربی مالکی (رح) کی کتاب احکام القرآن (١٢٨٨ ج ٣) طبع جدید میں یہ مبحث ہے ) ٣ ؎ قاضی عیاض بن موسیٰ المالکی (٥٤٤ ھ) یہ مبحث ان کی مشہور تصنیف الشفاء فی تعریف حقوق المصطفے (ص ٢٦٠٢٥٩۔ ) طبع صدیقی بریلی (ہند) میں ہے (ع۔ ح) نیز دیکھئے نووی شرح صحیح مسلم (ص ٢١٥ ج ١) ٤ ؎ مثلا حافظ ابن کثیر (رح) کا رحجان انکار ہی کی طرف ہے جبکہ ان کے استاد شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کا میلان حافظ ابن حجر (رح) کی طرح اس کے اثبات کی جانب ہے ملاحظہ ہو فتاوی ابن تیمیہ جلد دوسری ص ٢٨٢۔ ٢٨٣ ٥ ؎ دیکھئے ص ٢٥٧ ج ٤ تفسیر سورة الحج لیکن مولانا عبدالرحمن مبارک پوری (رح) اور ہمارے معاصر مولانا عبید اللہ صاحب رحمانی مبارک پوری حافظ ابن حجر کی اس تحقیق پر مطمئن نہیں اور وہ ان روایتوں کے مسترد کرنے والوں کے ہم نوا ہیں ملاحظہ ہو تحفتہ الاحوذی (ص ٣٩٩ ج ١) اور مرعاۃ شرح مشکوٰۃ (ص ٤٤ ج ٢) (١ ؎ مانع یہی ہے کہ اس سے قرآن مجید میں دخل اندازی کا پہلو نکلتا ہے جن واقعات کو حضرت مفسیر نے نظائر بنایا ہے ان پر اس کو قیاس کرنا مشکل ہے ) (١ ؎ لیکن ابن عباس (رض) کی طرف منسوب بعض روایتیں مجروح ہیں اور جو صحیح ہیں ان میں مبہنی تفیصلات نہیں ‘ ان کو توجیہ صحیح سے ان تفصیلات کی ضرورت ہی نہیں رہتی ‘ تفسیر قرطبی ص ٨٥١ ج ١٢ میں وہ توجیہ ملاحظہ کی جاسکتی ہے (ع۔ ح ) (٢ ؎ کیونکہ اس شان نزول کے مطابق آیت کے معنی پر ایک یہ اشکال وارد ہوسکتا ہے کہ اس وحی الٰہی میں ” بےشعوری “ کی صورت پھر سب رسل وانبیاء کو اگر پیش آتی رہی تو نقلا اس کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے۔ (ع۔ ح ) (٣ ؎ اگر امام بخاری (رح) نے واقعی ” قرأ“ کو ترجیح دی تو بھی یہ صحت قصہ کو مستلزم نہیں کہ اس کو درمیان میں لائے بغیر آیت سمجھی نہ جاسکے چناچہ تفسیر ثنائی میں زیر بحث آیت کے تحت جو ترجمہ اور تفسیر کا انداز اختیار کیا گیا ہے وہ دہلوی تراجم دفوائد کی ترجمانی ہے جس سے آیت کا مطلب بہت حد تک واضح ہوجاتا ہے۔ (ع۔ ح )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:52) تمنی۔ المنی سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے (باب تفعل) المنجد میں اس کے معنی یہ دئیے ہیں۔ (1) تمنی الشیء ارادہ کرنا۔ (2) تمنی الکتاب۔ پڑھنا۔ (3) تمنی الرجل جھوٹ بولنا۔ (4) تمنی الحدیث۔ جھوٹی بات گھڑنا۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھنے اور اس کی تصویر کھینچ لینے کے ہیں۔ (التمنی تقدیر شیء فی النفس وتصویرہ فیھا) ۔ بہت سے مفسرین نے آیہ ہذا میں اس کے معنی قرات کے لئے ہیں (تمنی الکتاب) اور اس بابت انہوں نے انحصار کیا ہے اولاً آیت شریفہ ومنہم امیون لا یعلمون الکتب الا امانی (2:78) پر اور ثانیا اس شعر پر۔ تمنی کتب اللہ اخر لیلۃ تمنی داود الزبور علی الرسل مگر یہ بات واضح رہے کہ تمنی کے اصل معنی وہی ہیں جو امام راغب نے بیان کئے ہیں۔ قرات اس کے تقدیری معنی ہیں اور ان معنوں کے لئے کوئی قرینہ حالیہ چاہیے۔ آیت مذکورہ بالا اور شعر مندرجہ بالا ہر دو میں قرینہ حالیہ کتب موجود ہے۔ لیکن آیہ ھذا (22:52) میں کوئی ایسا قرینہ حالیہ موجود نہیں کہ اس کے معنی قرات کے لئے جائیں۔ دوسری طرف تمنا، آرزو، خیال باندھنے کے معنی میں قرآن مجید میں متعدد آیات ہیں مثلاً :۔ یعدہم ویمنیہم (4:120) (شیطان) ان سے وعدے ہی کرتا اور ہوسیں ہی دلاتا رہتا ہے۔ دی گئی۔ اذن کا متعلق محذوف ہے ای اذن لہم فی القتال۔ ان کو قتال کی (جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے۔ ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین (62:6) اگر تمہارا یہ دعوی ہے کہ تم ہی تم بلا شرکت غیرے اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کر دکھائو۔ اگر تم سچے ہو۔ لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب (4:123) نہ تمہاری تمنائوں پر ہے نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر۔ وغیرہ۔ تفصیل بالا سے واضح ہے کہ آیت زیر بحث میں ” تمنی “ کو آرزو اور تمنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کو قرات کے معنی پہنانا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے اور اسی سے قصہ غرانیق نے جنم لیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں (اس قصہ کی تفصیل کے لئے کتب تفاسیر ملاحظہ ہوں) القی۔ اس نے ڈالا۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ امنیتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ امنیۃ واحد۔ اس کا خیال۔ اس کی تمنا اس کی جمع امانی ہے ای القی الشیطان امنیتہ فی امنیتہ یعنی شیطان اس کی آرزو میں اپنی آرزو شامل کردیتا ہے۔ ینسخ مضارع واحد مذکر غائب نسخ مصدر (باب فتح) وہ دور کردیتا ہے وہ منسوخ کردیتا ہے۔ النسخ کے اصل معنی ایک چیز کو زائل کر کے دوسری کو اس کی جگہ پر لانے کے ہیں اور کبھی عرف ازالہ کے معنی ہی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں۔ پس فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن کا ترجمہ ہوا۔ پس جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ اسی سے باب استفعال سے استنساخ کے معنی کسی چیز کے لکھنے کو طلب کرنے یا لکھنے کے لئے تیار ہونے کے ہیں۔ اور کبھی اسی باب سے بمعنی نسخ (کتاب کی کاپی کرنا۔ یا لکھنا) بھی آجاتا ہے جیسا کہ انا کنا نستنسخ ما کنتم تعلمون (45:29) جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ اسی سے تناسخ الازمنۃ (باب تفاعل) ایک زمانے کا گذر جانا اور دوسرے زمانے کا اس کی جگہ آجانا۔ مولانا ابو الکلام آزاد (رح) نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول اور جتنے نبی بھیجے سب کے ساتھ یہ معاملہ ضرور پیش آیا کہ جونہی انہوں نے (اصلاح و سعادت کی) آرزو کی شیطان نے ان کی آرزو میں کوئی نہ کوئی فتنہ کی بات ڈال دی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی وسوسہ اندازیوں کا اثر مٹایا اور اپنی نشانیوں کو اور زیادہ مضبوط کردیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ لفظ ” امنیۃ “ اور ” تمنی “ کے یہ دونوں معنی آتے ہیں۔ اس لئے مفسرین (رح) نے دونوں معنی ہی بیان کئے ہیں۔ پہلے معنی ” خیال باندھا “ پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے اس میں ہرگز تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کا خیال اس میں جیسے اور آدمی، بھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا۔ جیسے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھا کہ مدینے سے مکہ گئے، عمرہ کیا، خیال میں آیا کہ شاید اب کے برس ( ہوگا مگر) وہ ٹھیک پڑا اگلے برس… پھر اللہ جتا دیتا ہے کہ جتنا حکم تھا اس میں تفاوت نہیں۔ (موضح) اس صورت میں اس خیال کے غلط ہونے کی بنا پر اسے شیطان کی طرف منسوب کردیا ہے۔ دوسرے معنی یعنی ” کچھ پڑھنا شروع کیا “ کے تحت بعض علمائے تفسیر نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة ” النجم “ تلاوت فرما رہے تھے جب آیت ” و مناۃ الثالثۃ الاخریٰ “ پر پہنچے تو بےشعوری کے عالم میں شیطان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر یہ کلمات جاری کردیئے : ” تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجیٰ “ کہ یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت متوقع ہے) اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت غم لاحق ہوا۔ چناچہ سورة حج کی یہ آیت نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیا ( علیہ السلام) کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوئے وغیرہ۔ مگر محققین علما (رح) نے اس قصہ کی پرزور تردید کی ہے اور اسے بےاصل قرار یا ہے۔ ابن خزیمہ (رح) نے تو اس قصہ کو زنادقہ (ملحدین) کی سازش قرار دیا ہے تاکہ دین میں شک و شبہات پیدا کرسکیں۔ یہی بات محمد بن اسحاق صاحب سیرۃ اور ابو منور ماتریدی (رح) نے لکھی ہے گو حافظ ابن حجر اور ان کے بعد ابراہیم کو رانی نے اسنادی حیثیت سے اسے قابل اعتبار قرار دیا ہے اور پھر معنوی حیثیت سے جو اعتراضات اس پر وارد ہوتے ہیں ان کے جوابات میں بہت طویل بحث کی ہے مگر بہتر رائے ابن خزیمہ وغیرہ کی ہے کیونکہ اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو وحی سے اعتبار اٹھ جاتا ہے حالانکہ وحی کی تبلیغ میں انبیا ( علیہ السلام) کا معصوم اور محفوظ ہونا متفق علیہ امر ہے اور جیسا کہ قاضی عیاض نے ” الشفا “ میں تصریح کی ہے اور امت کا اتفاق ہے کہ وہ قصداً یا سہواً اس میں غلطی نہیں کرسکتے۔ (مزید دیکھئے سورة النجم :20 مختصر از کبیر و روح) لہٰذا ان دوسرے معنی کی رو سے آیت کا صحیح مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اس وحی کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شب ہے ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ ” متشابہات “ میں اہل زیغ (کج ذہن) فتنہ پردازی اور ملمع سازی کی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ دوسری محکم آیات نازل فرما کر ان کی ” تاویلات فائدہ “ کا سدباب کردیتا ہے واللہ اعلم۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ گو وہ فی نفسہا بھی مستحکم تھیں، لیکن اعتراضات کے جواب سے اس استحکام کا ظہور ہوگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے ساتھ یہ بتلایا گیا ہے کہ شیطان اور اس کے چیلے ہمیشہ سے ہی شرارتیں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ میرے رسول ! آپ کو دل نہیں ہارنا۔ اس لیے کہ آپ سے پہلے جتنے نبی اور رسول مبعوث کیے گئے ان کی ذات اور کام کے ساتھ شیطانی قوتوں نے یہی رویہ اختیار کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی شیطنت کو ہمیشہ سے مٹاتا رہا ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو محکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اس آیت میں تمنا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل تفسیر نے اس کے دو مفہوم لیے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ ہر رسول اور نبی اس بات کی خواہش اور تمنا رکھتا تھا کہ اس کی دعوت عام ہوجائے لیکن شیطان اور اس کے چیلے اس دعوت کو مٹانے کے درپے رہتے تھے۔ یہی معاملہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے شیطانی قوتوں کو مٹا کر اپنے ارشادات کو استحکام دیتا رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی دعوت کو بھی پھیلاؤ اور استحکام دیا جائے گا۔ دوسرا مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ جب کسی رسول اور نبی نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی تلاوت اور اس کے ابلاغ کی کوشش کی تو شیطان نے ہر پیغمبر کو الجھانے اور اس پر نازل ہونے والی وحی کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کو شیطان کے اختلاط اور وسوسے سے محفوظ رکھا اور اس پیغمبر کے ذہن میں وہی کچھ مستحضر فرمایا۔ جو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے ذریعے نازل فرمایا تھا۔ کچھ مفسرین نے بعض روایات سے متاثرہو کر لکھا ہے کہ ایک موقع پر شیطان نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے خلط، ملط الفاظ نکلوانے میں کامیاب ہوا جس وجہ سے یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یہ ایسی بات ہے کہ اگر اس پر اعتماد کرلیا جائے تو قرآن مجید اور احادیث کا سارا ذخیرہ تشکیک کی نظر ہوجاتا ہے۔ ان حضرات کی اسی بات کا فائدہ اٹھا کر دشمنان اسلام نے یہ پراپیگنڈہ کیا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی پر نازل ہونے والی وحی میں کبھی نہ کبھی شیطان بھی داخل انداز ہوجایا کرتا تھا۔ حالانکہ یہ بات عقل و نقل کے حوالے سے غلط ہے۔ اس آیت میں رسول اور نبی کے منصب کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر رسول نبی ضرور ہوتا تھا لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوا کرتا تھا۔ جس کی سادہ تشریح یہ ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے رسول کی شریعت کی اتباع کرتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی (رح) کی تحریر من و عن نقل کی جاتی ہے۔ ” علماء نے نبی اور رسول میں درج ذیل فرق بیان فرمائے ہیں۔ یاد رہے یہ غالب احوال کے لیے ہیں ورنہ نبی اور رسول کو متبادل اصطلاح کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ آنے والے رسول کی بشارت پہلے سے دے دی جاتی ہے جب کہ نبی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ رسول پر اللہ کی کتاب اور صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ اپنی الگ امت تشکیل دیتا ہے جب کہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا ہے۔ رسولوں کی حفاظت کی ذمہ داری براہ راست اللہ تعالیٰ لے لیتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سترہ دفعہ قاتلانہ حملے ہوئے۔ اللہ نے بچایا ہے جب کہ کئی انبیاء کو ان کی قوم نے قتل کردیا۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ (تیسیر القرآن۔ جلد ٣) مسائل ١۔ شیطان نے ہر رسول اور نبی کی دعوت میں رکاوٹ پیدا کی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ شیطان کے وسوسہ سے وحی کو محفوظ رکھتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کی بات کو مستحکم فرمایا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کا علم رکھتا ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے : ١۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : ٥) ٢۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : ٢١٦) ٣۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : ٣٠) ٤۔ ہر گرنے والا پتہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام : ٥٩) ٥۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : ١٩) ٦۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : ٥٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما ارسلنا ……صراط مستقیم (٤٥) اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم ! ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس طرح تنقید نہیں کرتا جس طرح ہمارے الموں کو گالیاں دیتا ہے اور شر سے ذکر کرتا ہے۔ اس زمانے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات شاق گزرتی تھی کہ مشرکین مکہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور آپ کے پیروکاروں کو اذیتیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی ضلالت پر آپ بہت ہی دل گرفتہ تھے۔ آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ جب سورة نجم نازل ہوئی تو آپ نے تلاوت کی۔ افرء یتم اللت ……لہ الانثی (١٢) (٣٥ : ٩١-١٢) توعین اس وقت شیطان نے ان بتوں کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی طرف سے چند کلمات ادا کئے۔ اس نے کہا : انھن لھن الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لھی التی ترتجی یہ الفاظ شیطان نے اپنی طرف سے بطور فتنہ ملا دیئے۔ یہ الفاظ مکہ کے ہر مشرک کے دل میں بیٹھ گئے۔ چناچہ انہوں نے ان کو نقلک رنا شروع کردیا اور ایک دور سے کو خوشخبریاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اپنے پہلے دین اور اپنی قوم کے دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة نجم کی تلاوت کر کے آخر میں پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور جو مسلم اس کو سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا اور جو مشرک سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ ولید ابن مغیرہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ دونوں گروہوں کو تعجب ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں کا تعجب تو اس بات پر تھا کہ مشرکین ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے بغیر ایمان لانے اور یقین کرنے کے۔ یہ اس لئے کہ شیطان نے جو الفاظ ادا کئے تھے وہ مسلمانوں نے نہیں سنے تھے۔ صرف مشرکین نے سنے تھے۔ اس لئے مشرکین مطمئن ہوگئے کیونکہ شیطان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امنیہ (قرأت) میں اپنے فقرے ملا دیئے اور مشرکین کو تسلی دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة میں تلاوت کیے ہیں تو انہوں نے اپنے الموں کی تعظیم میں سجدہ کرلیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اس بات کو شیطان نے بہت ہی پھیلایا یہاں تک کہ یہ خبر حبشہ میں پہنچ گئی اور وہاں جو مسلمان تھے انہوں نے سنی۔ وہاں مسلمان عثمان ابن مظعون کی قیادت میں ھتے۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یکجا نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولید ابن مغیرہ نے اپنی ہتھیلی پر مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب مسلمان مکہ میں امن و چین سے ہیں۔ چناچہ یہ مہاجرین بڑی جلدی سے وہاں سے لوٹے۔ اللہ نے شیطان کے الفاظ کو منسوخ کردیا ، اپنی آیات کو مستحکم کردیا اور اس افتراء سے قرآن کو محفوظ کردیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وما ارسلنا ……شقاق بعید (٢٢ : ٣٥) ” اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم۔ (وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ “ جب اللہ نے اپنا فیصلہ بتا دیا اور شیطان نے جو شوشہ چھوڑا تھا اس سے برأت کردی تو مشرکین الٹے پائوں پھرگئے اور گمراہی اختیار کر کے مسلمانوں کے ساتھ عداوت شروع کردی بلکہ اور سختی شروع کردی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے کلام کی پوری روایات جمع کی ہیں اور محمد ابن کعب قرظی نے بھی اس طرح جمع کی ہیں اور پھر یہاں انہوں نے سوال کیا ہے کہ یہ واقعہ اس طرح یکونکر ہو ہے جبکہ اللہ نے اس معاملے میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصمت کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لوگوں کے جوابات نقل کئے ہیں۔ سب سے گہرا جواب یہ ہے کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں یہ فقرے ڈال دیئے تھے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ شاید یہ فقرے بھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت کئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ حضرت شیطان نے ادا کے اور رسول اللہ ؐ نے یہ نہیں ادا کئے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کا ہے۔ فی امنیتہ کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے آپ کی باتوں میں یہ فقرے ڈال دیئے۔ اللہ نے ان کو باطل کردیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔ مجاہد کہتے ہیں اذا تمنی کے معنی ہیں اذا قال لہٰذا کہا جاتا ہے امنیۃ قراتہ یعنی اس کا پڑھنا۔ بغوی کہتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ تمنی کے معنی میں تلا یعنی تلاوت کی اور اللہ کی کتاب پڑھی۔ القی الشیطن فی امنیتہ کے معنی ہیں ” شیطان نے ان کی ملاوٹ میں ڈال دیا۔ ‘ ابن جریر کہتے ہیں کہ تمنی کے معنی ہیں (تلا) یعنی تلاوت کی اور کلام کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ یہ ہے خلاصہ کلام روایات اور ان احادیث کا جن کو حدیث ” غرانیق “ کہتے ہیں۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔ علمائے حدیث کہتے ہیں۔ اہل صحاح نے اس حدیث کو نہیں لیا نہ اس کی کوئی سند صحیح و متصل ہے ثقہ راویوں سے۔ ابوابکر بزار کہتے ہیں۔ یہ حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ کسی جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قابل ذکر اسناد متصل سے نقل کی گئی ہو اور موضوع کے اعتبار سے تو یہ اسلام کے بنیادی اصول سے ٹکراتی ہے۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں عقیدہ عصمت سے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تبلیغ رسالت کے کام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔ مستشرقین اور اسلام پر تنقید کرنے والوں نے اس حدیث میں بڑی دلچسپی لی ہے۔ اس کی انہوں نے بڑی اشاعت کی ہے اور اس کے اردگرد انہوں نے مزید مخالفانہ اقوال جمع کئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کوئی قابل حجت بات نہیں کی بلکہ اس موضوع پر بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔ خود ان آیات کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا ایسا کوئی انفرادی واقعہ ہوا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیش آیا ہو۔ آیات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمام رسولوں کو پیش آتی رہی ہے۔ ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے اور نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہعے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ “ لہٰذا اس آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کے درمیان صفت مشترکہ ہے اور اس کا تعلق ان کی صفت بشریت سے ہے اور یہ بات اس عصمت کے خلاف نہیں ہے جو رسولوں کے لئے مقرر ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کے بیان کی ہم یہاں کوشش کریں گے انشاء اللہ۔ اصل مراد تو اللہ ہی جانتا ہے ہم جو تفسیر بیان کرتے ہیں اپنے انسانی قوائے مدرکہ کسی حد تک ہی کرتے ہیں۔ جب رسولوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ہنچائیں۔ ان کے نزدیک محبوب ترین شے یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوجائیں اور اس بھلائی کا ادراک کرلیں جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ان کے تابع ہوجائیں۔ لیکن دعوت کے مقابلے میں بہت ہی مشکلات اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رسول انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی محدود ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو برق رفتاری سے اپنی دعوت کی طرف کھینچ لائیں۔ مثلاً ان کے دلوں میں یہ بات آئی ہے کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں اور جو باتیں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہیں ، مثلاً ان کی عادات ، رسومات ، موروثی شعائر ، ان پر وہ خاموش ہوجائیں۔ وقتی طور پر ، اور شاید اس طرح لوگ دعوت کی طرف آجائیں اور جب وہ دعوت کو قبول کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ یہ موروثی عادات چھوڑ دیں ، جو اب ان کے لئے بہت عزیز ہیں۔ مثلاً معمولی معمولی باتوں پر وہ ان کے ساتھ نرمی کریں اور کسی انکل سے ان کو دعوت کے اندر لے آئیں۔ اس امید پر کہ اندر لا کر پھر انکی تربیت کردی جائے گی اور اس طرح ان کی خلاف اسلام عادات چھوٹ جائیں گی۔ غرض رسول اور نبی اس قسم کی بہت سی تمنائیں کرتے رہے ہیں جن کا تعلق ان کی دعوت کی نشر و اشاعت سے ہوتا ہے جبکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ دعوت کے حاملین دعوت کو اس کے پورے اصولوں پر جم کر چلائیں۔ دعوت اسلامی کے باریک اقدار کے مطابق اور اس پیمانے کے مطابق کہ من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ “ کیونکہ اللہ کی تقدیر میں دعوت اسلامی کی کارکردگی یہ ہے کہ وہ خالص اصول انداز کی ہو اور اس میں انسانوں کی کسی تدبیر اور خواہش کی آمیزش نہ ہو کہ دعوت حقیقی اصول پر انہی پیمانوں کے مطابق اگرچہ اس طریقے کے مطابق آغاز میں تعداد کا خسارہ ہوگا۔ کیونکہ دعوت اگر اپنے اصول پر مبنی پیمانوں کے مطابق کوئی رہے تو اخرکار یہ اشخاص بھی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ ان اشخاص ہے بھی زیادہ با اثر اور اچھے دعوت کو قبول کریں گے اور دعوت اور دعوت بھی خالص صحیح وسالم رہے گا ، اپنی راہ پر سیدھی ہوگی اور اس کے اندر کوئی کجی کوئی پیدا نہ ہوگی۔ نہ اس میں کسی طرح کوئی جھکائو ہوگا۔ انسان کی ان خواہشات اور ان خواہشات کے اظہار کے لئے رسول جو کلمات استعمال کرتا ہے خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ سازش کر کے دعوت کو اپنی اصلی راہ سے ہٹا دے۔ اس طرح شیطان دعوت کے پھیلانے کے اجتہادی معاملات میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی کار ستانیوں کا دفعیہ کردیتا ہے اور ایسے معاملات میں اللہ کی طرف سے حکم محکم آجاتا ہے اور رسولوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکم فیصلے / عوام تک پہنچا دیا اور رسولوں اور نبیوں کے دلوں میں اجتہادی امور میں جن کا تعلق دعوت کے پھیلانے سے ہوتا تھا جو لغزش ہوگئی تھی اللہ کی طرف سے اس کا بیان آجاتا ہے ، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض تصرفات میں بیان آیا ہے۔ یہ شیطان کی سازش ہوتی ہے اور اللہ کو اس کو باطل کر دیات ہے اور حکم محکمہ آجاتا ہے اور شبہ نہیں رہتا ، اجتہادی عمر کی جگہ محکم آیت آجاتی ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ جن لگوں کے دلوں میں نفاق اور انحراف کی بیماری ہے یا جن کے دل پتھر بن گئے ہیں یعنی کفار اور معاندین ، وہ ایسے معاملات میں بحث وسوال کا موقعہ پا لیتے ہیں۔ ان الظلمین لفی شقاق بعید (٢٢ : ٣٥) ” حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ عناد میں دور نکل گئے ہیں۔ “ رہے وہ لوگ جن کو علم و معرفت دی گئی ہے تو ان کے دل اس بیان اور حکم فیصل پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی حکمت کو پا لیتے ہیں۔ ان اللہ لھاد الذین امنوآ الی صراط مستقیم (٢٢ : ٣٥) ” یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ راستہ دکھاتا ہے۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں ہم ایسی مثالیں پاتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمیں اس تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جس طرح ابن جریر نے اشارہ کیا ہے۔ قصہ ابن ام مکتوم یہ بات نظر آتی ہے۔ وہ ایک اندھے اور فقیر تھے۔ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور وہ علم سکھائیں جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے رہے۔ اس وقت رسول اللہ ولید ابن مغیرہ کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے اور وہ قریش کے ممتاز اکابرین میں تھے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ ابن ام مکتوم کو معلوم نہ تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے ہی اہم معاملے میں مشغول ہیں۔ رسول اللہ نے اس موقعہ پر ان کی بار بار کی مداخلت کو ناپسند کیا اور ان سے منہ موڑ یا۔ چناچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة نازل کی جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذرا سخت بات کی گئی۔ عبس وتولی ……ذکرہ (٢١) (٠٨ : ١ تا ٢١) ترجمہ :۔ ” مسترد ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ سندھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو ، جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرے۔ “ یوں اللہ تعالیٰ نے دعوت اسلامی کو اپنے صحیح اور نہایت ہی دقیق اقدار اور پیمانوں کی طرف لوٹا دیا اور یوں رسول اللہ کے اس طرز عمل کی تصحیح کردی جو آپ نے اکابرین قریش کی بات محض اس لئے اختیار یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں اور ان کے ساتھ عام کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرلے۔ اللہ نے اس پر دعوت کا جو صحیح اوصول اور طریقہ بنایا وہ یہ تھا کہ اکابر قریش کے اسلام قبول کرنے کے مقابلے میں یہ بات اہم ہے کہ دعوت اسلامی اپنے صحیح خطوط پر کام کرے اس طرح شیطان کے اس وسوسے کو باطل کردیا جو اس نے رسول اللہ کی اس خواہش کے راستے سے ڈال دیا تھا کہ اکابر قریش اگر اسلام قبول کرلیں تو دعوت جلدی پھیل جائے گی۔ اللہ نے اپنی آیات محکمہ نازل کر کے اس رویہ کو درست کردیا اور اہل ایمان کے دل پر مطمئن ہوگئے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ام مکتوم کی بہت قدر کرتے تھے۔ جب بھی اس کو دیکھتے ، یہ فرماتے ہیں شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے جھڑکا ہے۔ آپ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ پوچھتے تمہیں کچھ ضرورت ہے۔ وہ دفعہ آپ نے اپنی عدم موجودگی میں انہیں مدینہ اپنا خلیفہ بنایا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایات کی ہے۔ بواسطہ ابوبکر ، ابن ابوشیبہ ، محمد ابن عبداللہ اسد ، اسرائیل ، ہندم ابن شروع ۔ اس کے بعد دوالد سعد ابن ابو وقاص سے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ، چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا ان کو ذرا ہٹا دو یہ ہم سے آگے بڑھتے ہیں کہتے ہیں اس وقت میں تھا ، ابن سعود تھے۔ ہذیل کا ایک شخص تھا۔ بلال تھے اور دو دور سے لوگ تھے جن کا نام میں بھول گیا۔ اس حضور کے دل میں کوئی بات آئی۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا بات آئی۔ حضور نے دل میں کوئی بات کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ ولا تطرد الذین یدعون ……وجھہ ” اور ان لوگوں کو نہ بھکائو ، جو اپنے اپنے کو صحبح کو شامل پکارتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا منادی چاہتے ہیں۔ “ یہاں بھی اللہ نے دعوت اسلامی کے نہایت ہی باریک ناپ و تول کرنے والے پیمانے واپس کردیئے اور شیطان نے اس نکتے پر جو وسوسہ اندازی کی تھی ، اس کے اظہار سے قبل اللہ نے اس کی تصویر کردی۔ شاید حضور نے یہ سوچا کہ آئندہ اکابرین قریش کے ساتھ یہ غریب لوگ مجلس میں نہ بیٹھیں جب کہ اللہ کے نزدیک دعوت اسلامی اسلامی کی اقدار کی افادیت ان اکابر قریش کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ نیز دعوت کی اقدار اور پیمانوں کی اہمیت ان ہزار لوگوں کے اسلام سے بھی زیادہ تھی جو ان اکابرین قریش کی بیعت میں تحریک کا ساتھ دیتے اور جن کی تمنا رسول اللہ کرتے تھے۔ اللہ تحریک کے لئے حقیقی قوت کے مراکز کو خوب جانتے تھے۔ تحیک کے لئے اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ چلے اور کسی شخص یا کسی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہ کیر۔ زینب بنت بخش کے واقعہ میں بھی یہی پیش آیا۔ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، رسول اللہ نے ان کو زید بن حارثہ کی زوجیت میں دے دیا تھا۔ زید حضور کے معنی تھے اور زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ زینب کے ساتھ نکاح بعد ان کی ازدواجی زندگی کی کامیاب نہ ہوئی۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ اگر متنبیٰ فوت ہوجائے یا اپنی بیوی / طلاق دے تو اس کے ساتھ اس کا منہ بولا باپ نکاح نہ کرتا تھا۔ اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ جس طرح بیٹے کی نسبت والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف کرنے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا تھا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو آپ اس کے ساتھ نکاح کرلیں تاکہ اس رسم کا ابطال ہوجائے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو اپنے دل میں خفیہ رکھا اور کسی کو نہ بتایا۔ زید جب بھی اپنی بیوی کی شکایت کرتے رسول اللہ : ان کو یہی مشورہ دیتے کہ ” تم اپنی بیوی کو رکھو۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مطلب یہ تھا کہ اگر زید طلاق دیتے ہیں تو مجھے اس سے نکاح کرنا ہوگا اور اس بات کو مطابق رواج عرب پسند نہیں کرتے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو اس طرح مخفی رکھا یہاں تک کہ زید نے تنگ آ کر زینب کو طلاق دے دی۔ اللہ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا اور اس میں اس بات کی وضاحت کردی جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں تھی اور متنبیٰ کے سلسلہ میں اسلامی شریعت کا جو منشا تھا وہ پورا کردیا گیا۔ چناچہ اللہ نے فرمایا : واذ تقول للذی …… اللہ مفعولا (٣٣ : ٨٣) ” اے نبی آیا کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑا اور اللہ سے ڈر “ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ “ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو وہ اس آیت کو چھپاتے۔ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ (٣٣ : ٨٣) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الہل کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ “ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور اس کے احکام کو نافذ کردیا اور اس بات کو بھی کھول کر رکھ دیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں خلجان برپا کر رہی تھی کہ لوگ متنبی کی بیوی سے نکاح کو برا خیال کرتے ہیں۔ اللہ نے یہاں بھی شیطان کی راہ کو بند کردیا اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی ، یا جن کے دل دعوت اسلامی کے لئے سخت تھے وہ اس واقعہ کو بھی سامان فتنہ بتاتے رہے اور آج تک اسلام کے دشمن اسے سامان فتنہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ بات جس پر اس آیت کی تفسیر میں ہمارا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ اللہ ہی صحیح راستہ بتانے الا ہے۔ رسول اللہ کے بعد دعوت اسلامی کی لیڈر شپ بھی بعض اوقات یہ کوشش کرتی ہے کہ انتہائی با اثر لوگوں کو دعوت اسلامی کی طرف مائل کیا جائے اور ابتداء میں دعوت کے تقاضے میں سے بعض امور میں چشم پوشی کی جائے۔ یہ کام وہ اس جذبے کے تحت کرتے ہیں کہ دعوت اسلامی کو فروغ حاصل ہو اور وہ جلدی غلبہ حصال کرے۔ اس لیڈر شپ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ امور دعوت کے بنیادی امور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ ان با اثر لوگوں کے ساتھ ان امور میں نرمی کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر نہ ہوجائیں اور اس کی مخاصمت اختیار نہ کریں۔ یہ لوگ بعض ایسے وسائل اور ذرائع بھی اپناتے ہیں جو دعوت اسلامی کے باریک پیمانوں اور اقدار کے ساتھ بےجوڑ ہوتے ہیں نہ یہ امور دعوت اسلامی کے سیدھے سادے طریقے سے لگا کھاتے ہیں یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ دعوت جلدی پھیل جائے اور کامیاب ہوجائے۔ یہ لوگ ان امور کو اپنانے کے لئے دعوت کی مصلحت کے تحت بطور اجتہاد یہ کام کرتے ہیں حلاان کہ دعوت اسلامی کی مصلحت تو اس میں ہے کہ اس کے حقیقی منہاج سے ذرہ برابر انحراف نہ کیا جائے نہ کم اور نہ زیادہ کسی بات میں بھی۔ رہے نتائج تو وہ تو امر غیبی ہیں۔ ان کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لہٰذا کسی حامل دعوت کو نتائج کا حساب و کتاب اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ حاملین دعوت کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو لے کر سیدھے چل پڑیں۔ دعوت اسلامی کے حقیقی راستے پر چلنے میں ہی کامیاب ہے۔ قرآن کریم صراحت سے کہتا ہے کہ قرآن مجید حاملین دعوت اسلامی پر ان کی آرزئو وں اور تمنائوں کے راستے سے داخل ہوتا ہے تاکہ اس طرح وہ دعوت اسلامی کی صفوں کے اندر داخل ہوجائے۔ جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی عصمت کی ضمانت تو اللہ نے دے دی تھی۔ شیطان کے لئے ممکن نہ رہا کہ وہ انبیاء کی فطری تمنائوں کی راہ سے دخل اندازی کرسکے۔ لیکن بعد میں آنے والی لیڈر شپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ بہت زیادہ چوکنی رہے اور بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے خیال میں کوئی کام اسلام کی بہترین دعوت کے پھیلنے اور کامیاب ہونے کے لئے کر رہے ہوں اور اس میں دعوت کی مصلحت سمجھتے ہوں اور دراصل وہ شیطانی مداخلت ہو۔ داعیان کو چاہئے کہ دعوت کی مصلحت کا لفظ ہی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دیں کیونکہ یہ لغزش کا مقام ہے ، اس مقام سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب شیطان افراد کی مصلحتوں کی راہ سے اندر نہیں آسکتا تو پھر وہ دعوت کی مصلحت کی راہ سے حملہ کرتا ہے۔ دعوت کی مصلحت اب ایک بت بن گیا ہے۔ آج کل داعیان حق اس کو بہت پوجتے ہیں لیکن اس لباس میں وہ دعوت کے اصل منہاج سے جی چراتے ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ دعوت کے اصل منہاج کو نہ بھولیں اور اس منہاج پر خوف غور کریں اور خصوصاً اس بات کی طرف توجہ نہ کریں کہ فلاں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں دعوت کے لئے خطرہ ہے ، یا کارکنان کے لئے خطرہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اصل خطرہ یہی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملیں دعوت کا حقیقی منہاج چھوڑ دیں ، کسی ھی وجہ سے ، اور صحیح راستے سے انحراف کریں خواہ یہ انحراف قلیل ہو یا کثیر ہو۔ اللہ اپنی دعوت کی مصلحت کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور پھر دعوت کے بچانے اور کامیاب کرانے کے ہم ذمہ دار اور مکلف ہیں ہیں ہمارا فریضہ صرف ایک ہے کہ ہم اپنے منہاج سے انحراف نہ کریں اور اپنے صراط مستقیم سے بالکل ادھر ادھر نہ ہوں۔ آخر میں تنبیہ آتی ہے کہ تم دعوت اسلامی کو شیطانی وسوسوں سے بچانے کی سعی کرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ مانیں یا دعوت کامیاب ہوجائے۔ اگر کفار اس کو نہیں مانتے وہ دراصل اس کے بارے میں شک میں ہیں اور ان کے انتظار میں درد ناک اور توہین آمیز عذاب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) (اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے بہت سے دشمن شیطان بنا دیئے جو انسانوں اور جنوں میں سے ہیں جو ایک دوسرے کی طرف ایسی باتیں ڈالتے ہیں جو بظاہر خوشنما ہوتی ہیں) نیز سورة انعام میں فرماما (وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ ) (اور بلاشبہ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف ایسی چیزیں ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں) ۔ شیاطین اور ان کے دوست اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اسلام قبول نہیں کرتے اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے جن کو ہدایت ملنا ہے اور ہدایت پر مستقیم رہنا ہے وہ لوگ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کے باو جود دین میں اور زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو اور زیادہ مضبوط اور محکم بنا دیتا ہے۔ اور شیطانی شکوک و شبہات سے وہ متاثر ہوتے ہیں جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی نفاق ہے اور جن کے دل سخت ہیں یعنی وہ کافر جنہوں نے جھوٹے منہ سے بھی اسلام قبول نہیں کیا، شیطان جو وسو سے ڈالتا ہے یہ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بن جاتا ہے اور یہ ظالم لوگ یعنی شک میں پڑنے والے دور کی مخالفت میں جا پڑتے ہیں، کیونکہ حق واضح ہوجانے کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے جن کی طبیعت میں عناد ہے ان کے عناد کو وساوس شیطانیہ سے تقویت پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان ہی کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور جن حضرات کو علم دیا گیا ہے وہ یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ نبی نے پڑھا وہ اللہ کی طرف سے ہے، حق ہے، سچ ہے، رب کی طرف سے ہے، اپنے اس یقین کی وجہ سے ایمان پر اور زیادہ ثابت ہوجاتے ہیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جاتے ہیں، اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام ہے کہ وہ انہیں صراط مستقیم پر رکھتا ہے اسی کو فرمایا (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) اور کافروں کے بارے میں فرمایا ہے (وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ) اور کافر لوگ اس بات کی طرف سے جو نبی نے تلاوت کی ہے شک میں رہیں گے اور ان کا یہ شک یہاں تک رہے گا کہ یا تو ان پر دفعتہ قیامت آجائے یا قیامت سے پہلے ان پر ایسے دن کا عذاب آجائے جو ان کے حق میں بالکل خیر سے خالی ہو لیکن اس وقت ایمان لانا نافع نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

66:۔ ” وَ مَا اَرْسَلْنَا الخ “ یہ مشرکین کے نہ ماننے کی وجہ ہے جب اللہ کا پیغبر کلام اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اس وقت شیطان سننے والوں کے دلوں میں کئی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے مثلا یہ کہ یہ پیگمبر جادوگر ہے، شاعر و مجنون ہے اور ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے وغیرہ۔ مشرکین ان شبہات کی وجہ سے راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں لیکن ایمان والوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ ان ناپاک شبہات سے پاک فرما دیتا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون قرآن مجید کی آیت ذیل میں بھی مذکور ہے ” وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفِ الْقَوْلِ غُرُوْرًا “ (انعام رکوع 14) ” تمنی “ بمنعی ” قرا “ ہے یعنی جب تلاوت کرتا تھا جیسا کہ حضرت حسان (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے مرثیہ میں کہا تھا۔ تمنی کتاب اللہ اول لیلۃ واٰخرھا لاقی حمام المقادر (بحر) اور ” امنیته “ ای قراءت ہ و تلاوتہ (مدارک ) ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واہی اور باطل قصہ نقل کیا جاتا ہے ایک بار آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ شریف میں سورة والنجم اذا ھوی تلاوت فرم ارہے تھے۔ سامعین میں مسلمانوں کے علاوہ مشرکین بھی تھے جب اس آیت پر پہنچے ” وَ مَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰي “ تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات جاری کرادئیے۔ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی (یعنی ہمارے یہ معبود بہت بلند رتبہ ہیں اور آڑے وقت میں ان کی شفاعت کی امید ہے) ۔ ان کلمات میں مشرکین کے معبودان باطلہ کی تعریف تھی اس لیے مشرکین بہت خوش ہوئے کہ آج محمد نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی ہے چناچہ جبریل (علیہ السلام) نے آکرحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس غلطی پر متنبہ کیا۔ یہ شیطانی القاء تھا یہ قصہ شان نبوت کے سراسر منافی ہے اس لیے تمام مفسرین نے اسے رد کیا ہے یہ قصہ بھی صحیح سند سے مروی نہیں۔ امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور امام بیہقی نے کہا ہے کہ یہ قصہ موضوع اور من گھڑت ہے۔ زندیقوں اور ملحدوں کا ساختہ ہے اور نقل کے اعتبار سے ثابت نہیں۔ امام محمد بن اسحاق نے اس قصہ کے رد میں ایک کتاب بھی تصنیف کی وھی قصۃ سئل عنھا لامام محمد بن اسحاق جامع السیرۃ النبویۃ فقال ھذا من وضع الزنادقۃ و صنف فی ذالک کتابا۔ وقال الامام الحافظ ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی ھذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل (بحر ج 6 ص 383) (حاشیہ : محمد بن اسحاق سے اگر امام المغازی مراد ہے تو امام ابی حیان مؤلف البحر المحیط کو اس میں سہو ہوگیا ہے یہ قول محمد بن اسحاق امام المغازی کا نہیں ہے بلکہ یہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ صاحب الصحیح کا قول ہے۔ جو ابن خزیمہ کے نام سے مشہور ہیں اور بڑے پایہ کے محدث، ثقہ اور مستند ہیں۔ جیسا کہ امام رازی کی عبادت میں اس کی صراحت موجود ہے (سجاد بخاری) ۔ امام قرطبی ہیں اس سلسلے کی ایک روایت بھی صحیح نہیں ولیس منھا شیء یصح (قرطبی ج 12 ص 80) ۔ علامہ خازن لکھتے ہیں انہ لم یروھا احد من اھل الصحۃ ولا اسندھا ثقۃ بسند صحیح او سلیم متصل (خازن ج 5 ص 23) ۔ امام ابن خزیمہ اور بیہقی کا مذکورہ بالا قول امام رازقی نے بھی تقل کیا ہے۔ روی عن محمد بن اسحاق بن خزیمۃ انہ سئل عن ھذہ القصۃ فقال ھذا وضع من الزنادقۃ وصنف فیہ کتابا الخ (کبیر ج 6 ص 245) ۔ امام ابو السعود رقمطراز ہیں۔ وھو المردود عند المحققین (ابو السعود ج 6 ص 256) ۔ امام رازی (رح) نے مفسرین اہل التحقیق کا یہ فیصلہ نقل کیا ہے کہ یہ قصہ باطل اور من گھڑت ہے اما اہل التحقیق فقالوا ھذہ الروایۃ باطلۃ موجوعۃ (کبیر) ۔ بہ شرط صحت قصہ مفسرین نے لکھا ہے کہ جبحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لہجہ میں مذکورہ بالا الفاط ادا کردئیے جس سے سامعین کو دھوکہ ہوا کہ یہ کلمات خودحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھے ہیں۔ وانما الامر ان الشیطان نطق بلفظ اسمعہ الکفار عند قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری وقرب صوتہ من صوت النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی التبس الامر علی المشرکین وقالوا محمد قراھا الخ (قرطبی ج 12 ص 81) ۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے (اذا تمنی) ای تلا (القی الشیطان) الوساوس والشبہات فی قلوب السامعین (فی امنیتہ) ای فی اثناء تلاوتہ۔ یعنی ہم نے نے جو بھی رسول یا نبی دنیا میں بھیجا ہے وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتا شیطان اس دوران میں لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبہات ڈالتا تاکہ وہ پیغمبر کی تلاوت سے متاثر نہ ہوں اور کلام اللہ سے بدظن ہوجائیں اور اسے ماننے سے انکار کردیں۔ اذا تمنی پر دو باتیں متفرع ہیں۔ اول ” القی الشیطن “۔ دوم ” فینسخ اللہ الخ “۔ ایک شیطان کا فعل ہے اور ایک اللہ کا اور ہر ایک پر ایک امر متفرع ہے۔ ” اَلْقٰی “ پر ” لِیَجْعَلَ “ اور ” فَیَنْسِخ “ پر ” لِیَعْلَمَ “۔ جیسا کہ تفصیل آگے آرہی ہے۔ ” فَیَنْسِخُ الخ “ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ تعالیٰ دور فرما کر اپنی آیتوں کو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک کر کے محکم کردیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(52) اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں اور اس کے پڑھے ہوئے الفاظ میں شکوک و شبہات ڈالے۔ یعنی نبی نے تلاوت فرمائی اور شیطان نے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کو مٹا دیتا ہے اور زائل کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور زیادہ مستحکم اور مضبوط کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کے حال سے باخبر اور حکمت والا ہے۔ مفسرین نے آیت کی تفسیر کئی طرح بیان کی ہے بعض کو اہل تحقیق نے جو مرجوع قرار دیا ہے اور بعض کو راجح کہا ہے۔ ایک طریقہ وہ ہے جس کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے اختیار کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نبی کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے اس میں کچھ تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کے خیال اس میں جیسے اور آدمی۔ کبھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا۔ جیسے حضرت نے خواب میں دیکھا کہ مدینہ سے مکہ میں گئے عمرہ کیا خیال کیا شاید اب کے برس وہ ٹھیک پڑا اگلے برس یا وعدہ ہوا کافروں پر غلبہ ہوگا۔ خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں اس میں نہ ہوا پھر اللہ تعالیٰ جتا دیتا ہے کہ جتنا حکم تھا اس میں تفاوت نہیں۔ 12 جو طریقہ آیت کی تفسیر کا ہم نے اختیار کیا ہے وہ بعض محققین کا طریقہ ہے یعنی جب آپ کوئی آیت تلاوت کرتے ہیں تو شیطان موقعہ پاکر لوگوں کے قلوب میں شبہات پیدا کرتا ہے۔ شاید آیات متشا بہات کی طرف اشارہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ آیات محکمات سے ان شکوک و شبہات کا ازالہ فرمادیتا ہے۔ اس تفسیر سے قرآن کریم کی بعض آیات مطابقت کرتی ہیں اور اوپر کی آیت والذین سعوانی اٰیٰتنا کے بھی یہی مناسب ہے۔ رہی ! وہ تفسیر جو بعض حضرات نے کی ہے کہ آپ والنجم کی تلاوت کررہے تھے اور آپ کی زبان مبارک سے تلک العرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی جاری ہوا تو یہ واقعہ قابل اعتماد نہیں ہے۔ امام رازی نے اس قصہ کو باطل کہا۔ امام بیہقی نے فرمایا یہ قصہ غیر ثابت ہے۔ امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا یہ قصہ زنادقہ کی وضع ہے۔ آگے وجہ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان اس قسم کے شبہات کیوں پیدا کرتا ہے۔