Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 61

سورة الحج

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۶۱﴾

That is because Allah causes the night to enter the day and causes the day to enter the night and because Allah is Hearing and Seeing.

یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اوربیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Creator and Controller of this World is Allah Allah tells: ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ... That is because Allah merges the night into the day, and He merges the day into the night. Allah tells us that He is the Creator Who directs the affairs of His creation as He wills. He tells us: قُلِ اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ تُوْتِى الْمُلْكَ مَن تَشَأءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَأءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَأءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَأءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ تُولِجُ الَّيْلَ فِى الْنَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الَمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَأءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ Say: "O Allah! Possessor of the power, You give power to whom You will, and You take power from whom You will, and You endue with honor whom You will, and You humiliate whom You will. In Your Hand is the good. Verily, You are able to do all things. You make the night to enter into the day, and You make the day to enter into the night, You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living. And You give wealth and sustenance to whom You will, without limit. (3:26-27) The meaning of "merging" the night into the day and the day into the night is that the one encroaches upon the other, and vice versa. Sometimes the night is long and the day is short, as in winter, and sometimes the day is long and the night is short, as in summer. ... وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ And verily, Allah is All-Hearer, All-Seer. He hears what His servants say, and He sees them, nothing about them or their movement is hidden from Him whatsoever. When Allah tells us that He is controlling the affairs of all that exists, and that He judges, and there is none to reverse His judgement, He says:

اس پر کوئی حاکم نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے ، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے فرمان ہے آیت ( قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26؀ ) 3-آل عمران:26 ) الٰہی توہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے ، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے ، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ دن کو رات ، رات کو دن میں توہی لے جاتا ہے ۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے توہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب روزیاں پہنچاتا ہے ۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے ۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں ۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کرسکتا ۔ وہی سچا معبود ہے ۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں ۔ زبردست غلبے والا ، بڑی شان والا وہی ہے ، جو چاہتا ہے ہوتا ہے ، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے ۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر ، ہر ایک اس کے آگے عاجز ۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل ، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں ، وہ بلندیوں والا ، عظمتوں والا ہے ۔ ہر چیز اس کے ماتحت ، اس کے زیر حکم ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، نہ اس کے سوا کوئی رب ، نہ اس سے کوئی بڑا ، نہ اس پر کوئی غالب ۔ وہ تقدس والا ، وہ عزت وجلال والا ، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک ، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 یعنی جو اللہ اس طرح کام کرنے پر قادر ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس کے جن بندوں پر ظلم کیا جائے ان کا بدلہ وہ ظالموں سے لے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] کائنات میں اللہ تعالیٰ کے تصرف اور قدرت کا یہ عالم ہے کہ دن اور رات کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے کبھی دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور کبھی راتیں گھٹنا اور دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اب جو ہستی کائنات میں اس قدر تصرف کی قدرت رکھتی ہے کیا وہ ظالم سے بدلہ نہ لے سکے گی۔ لہذا جہاں تک ہوسکے ظلم اور زیادتی سے اجتناب کرو اور اس سے بہتر یہ روش ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کردیا کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم اور بےنوا کی مدد کرتا ہے، وہ اس لیے ہے کہ یہ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، رات کو دن میں داخل کرکے دن کو رات پر غالب کردیتا ہے اور دن بڑا ہوجاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے رات کو دن پر غالب کردیتا ہے اور رات بڑی ہوجاتی ہے۔ تو اس کے لیے مظلوموں کو ظالموں پر غالب کرنا کیا مشکل ہے ؟ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کے مظلوم کی مدد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے، سنتے اور دیکھتے ہوئے وہ ظلم کو کس طرح برداشت کرے گا ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر یہ (مومنین کا غالب کردینا) کہ اللہ تعالیٰ (کی قدرت بڑی کامل ہے وہ) رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے (یہ کائناتی انقلاب ایک قوم کو دوسری پر غالب کرنے والے انقلاب سے زیادہ عجیب ہے) اور اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ (ان سب کے اقوال و احوال کو) خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے (وہ کفار کے ظلم اور مومنین کی مظلومیت کو سنتا دیکھتا ہے اس لئے وہ سب حالات سے باخبر بھی ہے اور قوت وقدرت بھی اس کی سب سے بڑی ہے یہ مجموعہ سبب ہوگیا کمزوروں کو غالب کرنے کا) اور (نیز) یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ (اس میں کسی طاقت کی مجال نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کی مزاحمت کرے کیونکہ) اللہ ہی ہستی میں کامل ہے اور جن چیزوں کی اللہ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے وہ ہی لچر ہیں۔ (کہ وہ خود اپنے وجود میں محتاج بھی ہیں کمزور بھی وہ کیا اللہ کی مزاحمت کرسکتے ہیں) اور اللہ ہی عالیشان سب سے بڑا ہے (اس میں غور کرنے سے توحید کا حق ہونا اور شرک کا باطل ہونا ہر شخص سمجھ سکتا ہے اس کے علاوہ) کیا تجھ کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین سرسبز ہوگئی (پھر) بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان سب باتوں کی خبر رکھنے والا ہے (اس لئے بندوں کی ضرورتوں پر مطلع ہو کر ان کے مناسب مہربانی فرماتا ہے) سب اسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے (اور اے مخاطب) کیا تجھ کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے کام میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو (بھی) کہ وہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے ہاں مگر یہ کہ اسی کا حکم ہوجاوے (تو یہ سب کچھ ہوسکتا ہے اور بندوں کے گناہ اور برے اعمال اگرچہ ایسا حکم ہوجانے کے مقتضی ہیں مگر پھر بھی جو ایسا حکم نہیں دیتا تو وجہ یہ ہے کہ) بالیقین اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی شفقت اور رحمت فرمانے والا ہے اور وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پھر (وقت موعود پر) تم کو موت دے گا پھر (قیامت میں) تم کو زندہ کرے گا (ان انعامات و احسانات کا تقاضا تھا کہ لوگ توحید اور اللہ کے شکر کو اختیار کرتے مگر) واقعی انسان ہے بڑا ناشکر (کہ اب بھی کفر و شرک سے باز نہیں آتا۔ مراد سب انسان نہیں بلکہ وہی جو اس ناشکری میں مبتلا ہوں) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ وَاَنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ۝ ٦١ ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے ۔ اور آیت : ۔ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61]( کہ خدا ) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ میں اس نظام کائنات پت متنبہ کیا گیا ہو جو اس عالم میں رات کے دن اور دن کے رات میں داخل ہونے کی صورت میں قائم ہے اور مطالع شمسی کے حساب سے رونما ہوتا رہتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے تو بعض اوقات دن رات سے لمبا ہوتا ہے اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کرتا ہے تو بسا اوقات رات دن سے زیادہ لمبی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١ (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ) ” یعنی اس کائنات کا پورا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ رات دن کا یہ الٹ پھیر اس نظام کے اندر موجود اعتدال و توازن کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایسے ہی چل رہا ہے جیسے کہ اسے چلنا چاہیے۔ اس نظام کو درست رکھنے کے لیے قدرت کی طرف سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ان سے متعلق قبل ازیں آیت ٤٠ میں ایک راہنما اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام میں ظالم اور مفسد قوتوں کو مستقلاً برداشت نہیں کرتا اور دوسری قوتوں کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرتا رہتا ہے : (وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط) ” اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا ‘ تو ڈھا دیا جاتا خانقاہوں ‘ گرجوں ‘ معبدوں اور مسجدوں کو ‘ جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے “۔ چناچہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے کے نظام کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے انتظامات کرتا ہے اسی طرح اس نے کائناتی اور آفاقی نظام کو بھی ٹھیک ٹھیک چلانے کا اہتمام کر رکھا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

106. “That is” (as stated in the preceding paragraph) because Allah is the Ruler of the universe and has the power to give punishments and rewards to those who deserve them. 107. The fact that “Allah causes.........night” is a proof that He is the Master, Sovereign and Ruler of the universe. But the deeper meaning of the verse is that Allah, Who is able to bring forth the light of the day out of the darkness of the night, has the power to bring out the light of the truth out of the darkness of disbelief and ignorance, and the light of justice out of the darkness of tyranny. 108. He hears everything and sees everything and is not unaware of anything.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :106 اس پیرا گراف کا تعلق اوپر کے پورے پیراگراف سے ہے نہ کہ صرف قریب کے آخری فقرے سے ۔ یعنی کفر و ظلم کی روش اختیار کرنے والوں پر عذاب نازل کرنا ، مومن و صالح بندوں کو انعام دینا ، مظلوم اہل حق کی داد رسی کرنا ، اور طاقت سے ظلم کا مقابلہ کرنے والے اہل حق کی نصرت فرمانا ، یہ سب کس وجہ سے ہے ؟ اس لیے کہ اللہ کی صفات یہ اور یہ ہیں ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :107 یعنی تمام نظام کائنات پر وہی حاکم ہے اور گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو خدا رات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری کر دیتا ہے ، وہی خدا اس پر بھی قادر ہے کہ آج جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے ان کے زوال و غروب کا منظر بھی دنیا کو جلدی ہی دکھاوے ، اور کفر و جہالت کی جو تاریکی اس وقت حق و صداقت کی فجر کا راستہ روک رہی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حکم سے چھٹ جائے اور وہ دن نکل آئے جس میں راستی اور علم و معرفت کے نور سے دنیا روشن ہو جائے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :108 یعنی وہ دیکھنے اور سننے والا خد ہے ، اندھا بہرا نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

29: یعنی ایک موسم میں جو دن کا وقت تھا، دوسرے موسم میں اللہ تعالیٰ نے اسے رات بنا دیا، اور ایک موسم میں جو رات کا وقت تھا، اسے دوسرے موسم میں دن بنادیا۔ چاند سورج کی گردش کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیشمار مظاہر میں سے یہاں خاص طور پر اس کو شاید اس لیے ذکر کیا گیا ہو کہ یہاں مظلوم کی مدد فرمانے کا ذکر ہے، اور جس طرح رات دن کے اوقات بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح جو کبھی مظلوم تھا، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کر کے اسے فتح دلا دیتے ہیں، اور جو ظالم اور بالا دست تھا، اسے نیچا دکھا دیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١: ٦٤:۔ اوپر مظلوم کی غیبی مدد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں رات دن کے گھٹنے بڑھنے اور اس موسم کی تبدیلی سے برسات کا موسم آجانے اور اس موسم میں مینہ کے برسنے اور اس مینہ سے طرح طرح کی پیداوار کے پیدا ہونے قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا تاکہ ہر شخص کی سمجھ میں آجاوے کہ جس کی قدرت میں یہ خلاف عقل آنکھوں کے سامنے کی سب باتیں ہیں اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ جس کمزور کو چاہے خلاف عقل بڑے سے بڑے ظالم دشمن پر فتح یاب کر دے ‘ صحیح بخاری میں براء بن العازب سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر (رض) سے جو ٢ ؎ روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر نہیں تھی ‘ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کی فوج اس لڑائی میں ہزار آدمی کے قریب تھی ‘ یہ بھی گزر چکا ہے کہ مدد غیبی سے جو فتح ہوئی وہ بالکل خلاف عقل تھی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں سے پہلے کی آیت میں مظلوم کی مدد کا وعدہ فرما کر ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیوں سے قوت مقررہ پر اس وعدہ کے ظہور کا جو یقین دلایا گیا تھا وہ ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ایسا ہوا کہ مشرکین مکہ میں کے جن بڑے بڑے سرکش ظالموں نے ہجرت سے پہلے غریب مسلمانوں پر طرح طرح کا ظلم کیا تھا ‘ اس لڑائی میں وہ ظالم بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سرکش ظالموں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پالیا ‘ صحیح بخاری کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے بدر کی لڑائی کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس اللہ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ بڑا صاحب قدرت ہے ‘ جب یہ ہے کہ جس اللہ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ بڑا صاحب قدرت ہے ‘ جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے ‘ اسی طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے ‘ یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں ہے ‘ یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو جو شریک کرتے ہیں ‘ مکہ کے قحط کے وقت ان بت پرستوں کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہوچکی ہے کہ ان بتوں کو یا جن کے نام کی یہ مورتیں ہیں ان کو اللہ کے کار خانے میں کسی کو کچھ دخل نہیں ‘ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسیٰ کی تبدیلی سے ہر سال برسات میں آسمان سے مینہ کے برسنے کا حکم دیتا ہے جس سے تمام زمین سرسبز ہوجاتی ہے ‘ یہ سب تدبیریں اس کے اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کی ضرورتوں سے واقف اور ان ضرورتوں کی خبر رکھتا ہے ‘ پھر فرمایا کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اس کے حکم میں ہے اس واسطے اس کے کسی انتظام کو کوئی روک نہیں سکتا ‘ اس کو آسمان و زمین کی کسی چیز کی کچھ پرواہ نہیں اس لیے اس کے سب کام دوسروں کے فائدہ کے لیے اور قابل تعریف ہیں۔ (٢ ؎ صحیح بخاری مع شرح فتح الباری ‘ باب عدۃ اصحاب بدر )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:61) ذلک۔ یہ اس لئے کہ۔ ذلک کا اشارہ کس طرف ہے اس میں دو مختلف قول ہیں۔ اول یہ کہ اس کا مشار الیہ خداوند تعالیٰ کی وہ قدرت اور طاقت ہے جس کا بیان آیت ہذا میں ایلاج لیل ونہار کی صورت میں آیا ہے۔ دوم۔ مشار الیہ اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات ہیں جو آیات 56 تا 60 میں مذکور ہوئی ہیں یعنی قیامت کے روز اس وحدہ لا شریک کی بلا شرکت غیرے مکمل بادشاہی ۔ روز قیامت اس کا خلقت کے لئے واحد حاکم ہونا۔ صالحین کو جنت النعیم میں داخل کرنے کی قدرت کا مالک ہونا۔ اور کفار و مکذبین کو عذاب مہین میں مبتلا کرنا اور اپنے مومن بندوں میں سے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو اس کی امداد کرنا۔ ان تمام صفات کی دلیل اس کی وہ قدرت ہے جو آیت ہذا (61) میں ایلاج لیل ونہار کی صورت میں بیان ہوئی ہے۔ بان۔ میں ب سببیہ ہے۔ بان۔ یعنی یہ سبب اس امر کے کہ۔۔ یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب ایلاج (افعال) مصدر ولج مادہ۔ وہ داخل کرتا ہے۔ الولوج کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کے ہیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے نہ نکل جائے۔ یولج الیل فی النھار وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں۔ اسی سے ولیجۃ ہے جس کے معنی ولی دوست۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ (9:16) انہوں نے خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو ولی دوست نہیں بنایا۔ ایلاج الیل فی النہار وایلاج النہار فی الیل سے مراد یہ ہے کہ اس نے نظام فلکی کچھ اس طرح منظم فرمایا ہے کہ زمین جب اپنے مدار میں سورج کے گرد اپنے طور پر گردش کرتی ہے تو آہستہ آہستہ رات کا کچھ حصہ (یعنی رات کی تاریکی) دن میں (دن کی روشنی میں) داخل ہوجاتا ہے ۔ اور یوں دن طویل ہوتے جاتے ہیں۔ اور پھر دن کا کچھ حصہ (یعنی دن کی روشنی) رات (کی تاریکی) میں داخل ہوجاتا ہے۔ تو دن (جوں جوں رات میں داخل ہوتا جاتا ہے) چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ اور رات طویل ہوتی جاتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم کی مدد کرتا ہے وہ اس لئے ہے کہ…3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور یہ اسی کے کمال قدرت کا کرشمہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے چناچہ کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : رات اور دن کی گردش سے بتلایا گیا ہے کہ اے رب کے راستے کے راہی تجھے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے یہ تو گردش ایام ہے۔ جو ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ بہتر حالات پیدا کرے گا۔ کیونکہ جس رب کی خاطر تو ہجرت کر رہا ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق کو ضرور غلبہ دے گا کیونکہ ” اللہ “ بالا دست اور بڑا ہے۔ ہجرت کا ذکر کرنے کے بعد اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یقیناً وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حق ہے۔ اس کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ جھوٹ ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلند وبالا اور سب سے بڑا ہے۔ رات اور دن کا تذکرہ کرنے کے ساتھ فرمایا کہ اللہ ہر بات سننے اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح رات اور دن ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں بالکل یہی کیفیت انسان کی زندگی کی ہے کہ اس کی زندگی میں دکھ اور پریشانیاں بھی ہیں اور خوشیاں اور کامیابیوں کے روشن پہلو بھی موجود ہیں۔ جو ” اللہ “ رات کی تاریکیوں کو دن کے اجالے میں تبدیل کرتا اور دن کے اجالے کو رات میں بدلتا ہے۔ وہی غم کو خوشی میں تبدیل کرتا ہے اور وہی خوشی کی جگہ غم نازل کرتا ہے۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی رات کو دن اور دن کو رات، خوشی کو غم اور غم کو خوشی میں تبدیل کرنے والا نہیں۔ جب اس کے سوا کوئی ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ” اللہ “ ہی حق ہے باقی سب باطل ہیں ’۔ لہٰذا ہر حال میں اسی سے مانگا کرو۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ باطل اور جھوٹ پر ہیں۔ یہاں باطل کے دو مفہوم ہیں ایک تو ان کا پکارنا باطل ہے دوسرا جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں یہ جھوٹ اور باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بلند وبالا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ تَعَوَّذُوا باللَّہِ مِنْ جَہْدِ الْبَلاَءِ ، وَدَرَکِ الشَّقَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، وَشَمَاتَۃِ الأَعْدَاءِ ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ تَعَوَّذَ باللَّہِ مِنْ دَرَکِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ ] ” حضرت ابی ہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اللہ سے پناہ مانگا کرو حد سے زیادہ مشقت، بدبختی، بری تقدیر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ ٣۔ اللہ کا فرمان اور اس کی ذات برحق ہے۔ مشرک جن کو پکارتے ہیں وہ باطل اور جھوٹ ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ مشرک کے تصورات اور عقیدہ سے بلند وبالا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ حق ہے اور مشرک کا عقیدہ اور عمل باطل ہے : ١۔ ” اللہ “ ہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ ( الحج ٦٢) ٢۔ ” اللہ “ حق ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ ( الحج ٦) ٣۔ اللہ ہی تمہارا حقیقی پروردگار ہے اس کے علاوہ باقی سب باطل ہیں۔ ( یونس ٣٢) ٤۔ ” اللہ “ ہی حقیقی مولا ہے، باقی سب باطل ہیں۔ ( یونس ٣٠) ٥۔ یقیناً ” اللہ “ ہی حقیقی الٰہ ہے، و ہی حق کو واضح کرنے والا ہے۔ ( النور : ٢٥) ٦۔ ” اللہ “ ہی حقیقی بادشاہ ہے۔ ( المومنون : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذلک بان اللہ ……بصیر (١٦) یہ ایک طبیعی کائناتی منظر ہے اور رات دن ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی صورت میں ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں۔ سورج کے غروب کے وقت رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور سورج کے طلوع کے وقت دن رات میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رتا دن میں داخل ہوتی ہے اور سردیوں میں دن کے حدود کو چھوٹا کردیتی ہے اور دن رات میں داخل ہوتا ہے ، گرمیوں میں اور رات کی حدود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ انسان ان مناظر کو رات اور دن دیکھتا رہتا ہے کہ دن رات میں اور رات دن میں داخل ہو رہے ہیں لیکن بہت زیادہ انس کی وجہ سے اور بہت زیادہ تکرار کی وجہ سے یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے لئے دلکش نہیں رہے اور ہم اس نظام پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام کس قدر باریکی سے چل رہا ہے۔ اس میں ایک منٹ کے لئے بھی خلل نہیں پڑتا۔ کبھی یہ نظام موقوف نہیں ہوتا۔ یہ امر شہادت ہے قادر مطلق کی قدرت پر جس نے یہ نظام جاری کیا ہے۔ قرآن کریم اس منظر کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ تم ایسے مناظر کو بہت غفلت سے کیوں دیکھ کر گزر جاتے ہو ، تاکہ وہ بتا سکے کہ اللہ کی قدرت کا کیا عالم ہ۔ ایک طرف سے وہ ان کی بساط لپیٹ لیتا ہے ، رات کو بجھا دیتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تاریکی کو دور کر کے دن کا اجالا پھیلا دیتا ہے۔ یہ نظام اس قدر باریک ہے کہ اس میں کوئی خلیل نہیں پڑتا ، صدیاں گزر گئیں۔ یہی حال اس نصرت کا ہے جس کا اعلان مظلوموں کی حمایت میں ہوا ہے۔ یہ اس طرح یقینی ہے جس طرح رات اور دن کا یہ نظام یقینی ہے۔ اس طرح اللہ جباروں کی سلطنت کے نظام کو اب لپیٹ رہا ہے اور دنیا میں صالح اور عادل لوگوں کا نظام زندگی نافذ کر رہا ہے۔ یہ سیاسی انقلاب بھی انقلاب روز و شب کی طرح یقینی اور اٹل ہے اور ایک تکوینی سنت ہے۔ یہ سنت بھی رات اور دن جاری وساری ہے لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ جس طرح وہ اس کائنات میں دلائل کونیہ سے غافل ہیں حالانکہ یہ دلائل ایک کھلی کتاب کی شکل میں ہر لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر فرما دیا یعنی تمہارے کام میں لگا دیا جو کچھ زمین میں ہے کشتیاں اسی کے حکم سے چلتی ہیں اور یہ آسمان جو تمہاری نظر کے سامنے ہے جو اللہ کی بڑی مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اسے محض اپنی قدرت سے روک رکھا ہے لہٰذا وہ زمین پر نہیں گرتا اگر وہ چاہے تو آسمان کو گرا سکتا ہے لیکن وہ اسے اپنی قدرت سے تھامے ہوئے ہے اللہ تعالیٰ بہت بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اگر وہ آسمان کو نہ روکے اور آسمان زمین پر گرپڑے تو کوئی زندہ نہیں بچ سکتا ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ کافروں اور فاسقوں کو بھی زندہ رکھتا ہے اور سب کے لیے زندگی کے اسباب فراہم کرتا ہے اسی نے پہلی بار زندگی بخشی اس زندگی کے بعد وہی موت دیتا ہے پھر زندہ فرمائے گا انسان دنیا کے انقلابات کو دیکھتا ہے اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرتا ہے لیکن ناشکری اختیار کرتا ہے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کفر و شرک سے باز نہیں آتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

74:۔ ” ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الخ “ یہ فتح و نصرت کی دلیل انی ہے وعدہ فتح و نصرت کا اعادہ کیا گیا تاکہ اس کی دو دلیلیں ذکر کی جائیں قلت عدد کے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے کثیر العدد لشکر اور مسلح فوجوں پر فتح دے سکتا ہے۔ کیونکہ یہ نظام شب و روز اسی کے قبضہ میں ہے جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاسکتا ہے وہ ایک جماعت کو دوسری جماعت پر غلبہ بھی دے سکتا ہے ای ذلک النصر کائن بسبب ان اللہ تعالیٰ شانہ قادر علی تغلیب بعض مخلوقاتہ علی بعض والمداولۃ بین الاشیاء المتضادۃ و من شانہ ذلک (روح ج 17 ص 190) ۔ 75:۔ ” وَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بَصِیْر “ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا بھی ہے یہ ماقبل کا تتمہ ہے کیونکہ جس طرح ناصر (مدد کرنے والے) کے لیے ضروری ہے کہ وہ مظلوم کی مدد پر قادر ہو۔ اس طرح کے لیے لابدی ہے کہ وہ مظلوم کے حال سے باخبر ہو۔ من تتمہ الحکم لا بد منہ اذ لا بد للناصر من القدرۃ علی نصر المظلوم و من العلم بانہ کذالک (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(61) یہ وعدئہ نصرت اور یہ وعدئہ غلبہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا یہ اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب کی سنتا سب کو دیکھتا ہے یعنی جس اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی قدرت اور عالم علوی اور سفلی پر اتنی بڑی فرمانروائی ہے کہ رات کے اجزا کو دن میں اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کردیتا ہے اور کبھی کا دن بڑا اور کبھی کی رات بڑی ہوجاتی ہے۔ وہی اللہ تعالیٰ اس کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ مظلوم کی مدد فرما کر اس کو ظالم پر غالب کردے وہ مظلوم مسلمانوں کی دعا کو سننے والا اور کافروں کے مظالم اور ان کی زیادتیوں کو دیکھنے والا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو مجبور کیا اور مکہ کو چھوڑ کر گھر سے بےگھر ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی طرح کفر میں اسلام غالب کردے گا۔ 12