The Creator and Controller of this World is Allah
Allah tells:
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ
...
That is because Allah merges the night into the day, and He merges the day into the night.
Allah tells us that He is the Creator Who directs the affairs of His creation as He wills.
He tells us:
قُلِ اللَّهُمَّ مَـلِكَ الْمُلْكِ تُوْتِى الْمُلْكَ مَن تَشَأءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَأءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَأءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَأءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
تُولِجُ الَّيْلَ فِى الْنَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الَمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَأءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
Say: "O Allah! Possessor of the power, You give power to whom You will, and You take power from whom You will, and You endue with honor whom You will, and You humiliate whom You will. In Your Hand is the good. Verily, You are able to do all things.
You make the night to enter into the day, and You make the day to enter into the night, You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living. And You give wealth and sustenance to whom You will, without limit. (3:26-27)
The meaning of "merging" the night into the day and the day into the night is that the one encroaches upon the other, and vice versa. Sometimes the night is long and the day is short, as in winter, and sometimes the day is long and the night is short, as in summer.
...
وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
And verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.
He hears what His servants say, and He sees them, nothing about them or their movement is hidden from Him whatsoever.
When Allah tells us that He is controlling the affairs of all that exists, and that He judges, and there is none to reverse His judgement, He says:
اس پر کوئی حاکم نہیں
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے ، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے فرمان ہے آیت ( قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26 ) 3-آل عمران:26 ) الٰہی توہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے ، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے ، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ دن کو رات ، رات کو دن میں توہی لے جاتا ہے ۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے توہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب روزیاں پہنچاتا ہے ۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے ۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں ۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کرسکتا ۔ وہی سچا معبود ہے ۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں ۔ زبردست غلبے والا ، بڑی شان والا وہی ہے ، جو چاہتا ہے ہوتا ہے ، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے ۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر ، ہر ایک اس کے آگے عاجز ۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل ، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں ، وہ بلندیوں والا ، عظمتوں والا ہے ۔ ہر چیز اس کے ماتحت ، اس کے زیر حکم ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، نہ اس کے سوا کوئی رب ، نہ اس سے کوئی بڑا ، نہ اس پر کوئی غالب ۔ وہ تقدس والا ، وہ عزت وجلال والا ، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک ، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور ۔