Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 75

سورة الحج

اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿ۚ۷۵﴾

Allah chooses from the angels messengers and from the people. Indeed, Allah is Hearing and Seeing.

فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے بیشک اللہ تعالٰی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah chooses Messengers from the Angels and Messengers from Mankind Allah tells: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَيِكَةِ رُسُلً وَمِنَ النَّاسِ ... Allah chooses Messengers from angels and from men. Allah tells us that He chooses Messengers from His angels as He wills by His law and decree, and He chooses Messengers from mankind to convey His Message. ... إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer. means, He hears all that His servants say, and He sees them and knows who among them is deserving of that, as He says: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ Allah knows best with whom to place His Message. (6:124) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الامُورُ

منصب نبوت کا حقدار کون؟ اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے ، مقرر کرلیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے ۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کامستحق کون ہے ؟ جیسے فرمایا آیت ( اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ ١٢٤؁ ) 6- الانعام:124 ) رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے ؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے ، کیا اس تک پہنچا ، کیا اس نے پہنچایا ، سب اس پر ظاہر وباہر ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا 26؀ۙ ) 72- الجن:26 ) ، یعنی وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا ۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کردیتا ہے ۔ تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے ۔ پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ 67؀ ) 5- المآئدہ:67 ) ، اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے ، پہنچادے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہوگا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے ، الخ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 رسل رسول (فرستادہ، بھیجا ہوا قاصد) کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بھی رسالت کا یعنی پیغام رسانی کا کام لیا ہے، جیسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی وحی کے لئے منتخب کیا کہ وہ رسولوں کے پاس وحی پہنچائیں۔ یا عذاب لے کر قوموں کے پاس جائیں اور لوگوں میں سے بھی، جنہیں چاہا، رسالت کے لئے چن لیا اور انھیں لوگوں کی ہدایت و راہنمائی پر مامور فرمایا۔ یہ سب اللہ کے بندے تھے، گو منتخب اور چنیدہ تھے لیکن کسی کے لئے ؟ خدائی اختیارات میں شرکت کے لئے ؟ جس طرح کے بعض لوگوں نے انھیں اللہ کا شریک گردان لیا۔ نہیں، بلکہ صرف اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے۔ 75۔ 2 وہ بندوں کے اقوال سننے والا ہے اور بصیر ہے۔ یعنی یہ جانتا ہے کہ رسالت کا مستحق کون ہے ؟ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ( اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام :124) ' ' ' اس موقع کو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے '

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] یعنی اللہ پیغام رسانی کے لئے فرشتوں میں سے اور آدمیوں سے بھی انتخابت خود اپنی حکمت اور صوابدید کے مطابق کرتا ہے۔ فرشتوں میں سے حضرت جبریل یا وہ فرشتے جو حضرت زکریا، حضرت مریم، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے پاس پیغام رساں بن کر آئے تھے اور لوگوں میں سے تمام انبیاء و رسل اللہ ہی کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں اور احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ جس طرح لوگوں میں سے پیغمبر سب سے افضل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیغام رساں فرشتے بھی دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔ اس آیت میں دراصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ مکہ اور طائف کی بڑی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی کا انتخاب کرتا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ بات بھی اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ لوگوں میں سے رسالت کا اہل کون ہے اور اس معاملہ میں کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ : یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب سے بہتر مخلوق مقرب فرشتے اور انبیاء مکھی بھی نہیں بنا سکتے تو ان کی عظمت کیا ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ ان کی عظمت یہ نہیں کہ وہ خالق بن کر اللہ کے شریک بن گئے ہوں، ان کی عظمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں میں سے ان فرشتوں کو اور تمام انسانوں میں سے ان انسانوں کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب فرمایا ہے، اس سے بڑھ کر مخلوق کی عظمت کیا ہوگی ؟ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کس منصب کے لائق کون ہے ؟ لہٰذا اس کے انتخاب میں غلطی نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے بہتر انتخاب کسی کا ہوسکتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے رسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے (جن فرشتوں کو چاہے) احکام (الٰہیہ نبیوں کے پاس) پہنچانے والے (مقرر فرما دیتا ہے) اور (اسی طرح) آدمیوں میں سے بھی جس کو چاہے عامہ ناس کے لئے احکام پہنچانے والے مقرر کردیتا ہے یعنی رسالت کا مدار اصطفاء خداوندی پر ہے اس میں کچھ ملکیت یعنی فرشتہ ہونے کی خصوصیت نہیں بلکہ جس طرح ملکیت کے ساتھ رسالت جمع ہو سکتی ہے جس کو مشرکین بھی مانتے ہیں چناچہ فرشتوں کے رسول ہونے کی وہ خود تجویز کرتے تھے اسی طرح بشریت کے ساتھ بھی وہ جمع ہو سکتی ہے رہا یہ کہ اصطفا کسی ایک خاص کے ساتھ کیوں واقع ہوا تو ظاہری سبب تو اس کا خصوصیات احوال ان رسل کے ہیں اور یہ) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (یعنی) وہ ان (سب فرشتوں اور آدمیوں) کی آئندہ اور گزشتہ حالتوں کو (خوب) جانتا ہے (تو حالت موجودہ کو بدرجہ اولیٰ جانے گا غرض سب احوال مسموعہ و مبصرہ اس کو معلوم ہیں ان میں بعض کا حال مقتضی اس اصطفا کا ہوگیا) اور (حقیقی سبب اس کا یہ ہے کہ) تمام کاموں کا مدار اللہ ہی پر ہے (یعنی وہ مالک مستقل بالذات و فاعل مختار ہے اس کا ارادہ مرجح بالذات ہے۔ اس ارادہ کے لئے کسی مرجح کی ضرورت نہیں، پس سبب حقیقی ارادہ خداوندی ہے اور اس کا سبب پوچھنا لغو ہے وھو معنی قولہ تعالیٰ لا یسئل عما یفعل، یعنی اللہ تعالیٰ سے اس کے کسی فعل کا سبب دریافت کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ (آگے ختم سورت پر اول فروع و شرائع کا بیان ہے اور ملتہ ابراہیم پر استقامت کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی ترغیب کے لئے بعض مضامین ارشاد فرمائے ہیں) اے ایمان والو (تم اصول کے قبول کرنے کے بعد فروع کی بھی پابندی رکھو۔ خصوصاً نماز کی، پس تم) رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور (عموماً دوسرے فروع بھی بجا لا کر) اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور نیک کام کیا کرو۔ امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تم فلاح پاؤ گے اور اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تم کو (دوسری امتوں سے) ممتاز فرمایا (جیسا کہ آیت جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا وغیرہ میں مذکور ہے) اور تم پر دین میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی (اور اے ایمان والو، جس اسلام کا تم کو امر کیا گیا ہے کہ احکام کی پوری بجا آوری ہو اور یہی ملت ابراہیمی ہے) تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم رہو اس نے تمہارا لقب مسلمان رکھا پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ تمہارے لئے رسول اللہ گواہ ہوں اور (اس شہادت رسول کے قبل) تم (ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالف قومیں ہوں گی ان مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو (اور رسول کی شہادت سے تمہاری شہادت کی تصدیق ہو اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں فیصلہ ہو) سو (ہمارے احکام کی پوری بجا آوری کرو، پس) تم لوگ (خصوصیت کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہو اور (بقیہ احکام میں بھی) اللہ ہی کو مضبوط پکڑے رہو (یعنی عزم و ہمت کے ساتھ دین کے احکام بجا لاؤ، غیر اللہ کی رضا و عدم رضا اور اپنے نفس کی مصلحت و مضرت کی طرف التفات مت کرو) وہ تمہارا کار ساز ہے سو کیسا اچھا کار ساز ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ۝ ٠ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ۝ ٧٥ۚ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ اصْطِفَاءُ : تناولُ صَفْوِ الشیءِ ، كما أنّ الاختیار : تناول خيره، والاجتباء : تناول جبایته . واصْطِفَاءُ اللهِ بعضَ عباده قد يكون بإيجاده تعالیٰ إيّاه صَافِياً عن الشّوب الموجود في غيره، وقد يكون باختیاره وبحکمه وإن لم يتعرّ ذلک من الأوّل، قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75] ، إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَنُوحاً [ آل عمران/ 33] ، اصْطَفاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفاكِ [ آل عمران/ 42] ، اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ [ الأعراف/ 144] ، وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ [ ص/ 47] ، واصْطَفَيْتُ كذا علی كذا، أي : اخترت . أَصْطَفَى الْبَناتِ عَلَى الْبَنِينَ [ الصافات/ 153] ، وَسَلامٌ عَلى عِبادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى [ النمل/ 59] ، ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا[ فاطر/ 32] ، والصَّفِيُّ والصَّفِيَّةُ : ما يَصْطَفِيهِ الرّئيسُ لنفسه، قال الشاعر : لک المرباع منها والصَّفَايَا وقد يقالان للناقة الكثيرة اللّبن، والنّخلة الكثيرة الحمل، وأَصْفَتِ الدّجاجةُ : إذا انقطع بيضها كأنها صَفَتْ منه، وأَصْفَى الشاعرُ : إذا انقطع شعره تشبيها بذلک، من قولهم : أَصْفَى الحافرُ : إذا بلغ صَفًا، أي : صخرا منعه من الحفر، کقولهم : أكدى وأحجر «2» ، والصَّفْوَانُ کالصَّفَا، الواحدةُ : صَفْوَانَةٌ ، قال تعالی: كَمَثَلِ صَفْوانٍ عَلَيْهِ تُرابٌ [ البقرة/ 264] ، ويقال : يوم صَفْوَانٌ: صَافِي الشّمسِ ، شدید البرد . الاصطفا ء کے معنی صاف اور خالص چیز لے لینا کے ہیں جیسا کہ اختیار کے معنی بہتر چیز لے لینا آتے ہیں اور الا جتباء کے معنی جبایتہ یعنی عمدہ چیا منتخب کرلینا آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا کسی بندہ کو چن لینا کبھی بطور ایجاد کے ہوتا ہے یعنی اسے ان اندرونی کثافتوں سے پاک وصاف پیدا کرتا ہے جو دوسروں میں پائی جاتی ہیں اور کبھی بطریق اختیار اور حکم کے ہوتا ہے گو یہ قسم پہلے معنی کے بغیر نہیں پائی جاتی ۔ قرآن میں ہے : اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75] خدا فرشتوں اور انسانوں میں رسول منتخب کرلیتا ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَنُوحاً [ آل عمران/ 33] خدا نے آدم اور نوح ۔۔۔۔۔۔ کو ( تمام جمان کے لوگوں میں ) منتخب فرمایا تھا ۔ اصْطَفاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفاكِ [ آل عمران/ 42] خدا نے تم کو برگزیدہ کیا اور پاک بنایا اور ۔۔۔۔۔ منتخب کیا ۔ اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ [ الأعراف/ 144] میں نے تم کو ۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں سے ممتاز کیا ۔ وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ [ ص/ 47] اور یہ لوگ ہمارے ہاں منتخب اور بہتر افراد تھے ۔ اصطفیت کذا علی کذا ایک چیز کو دوسری پر ترجیح دینا اور پسند کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ أَصْطَفَى الْبَناتِ عَلَى الْبَنِينَ [ الصافات/ 153] کیا اس نے بیتوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ۔ وَسَلامٌ عَلى عِبادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى [ النمل/ 59] اس کے بندوں پر سلام جن کو اس نے منتخب فرمایا : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا[ فاطر/ 32] پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا ۔ الصفی والصفیۃ مال غنیمت کی وہ چیز جسے امیر اپنے لئے منتخب کرنے ( جمع صفایا ) شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (274) لک المریاع منھا والصفایا تمہارے لئے اس سے ربع اور منتخب کی ہوئی چیزیں ہیں ۔ نیز صفی وصفیۃ (1) بہت دودھ دینے والی اونٹنی (2) بہت پھلدار کھجور ۔ اصفت الدجاجۃ مرغی انڈے دینے سے رک گئی گویا وہ انڈوں سے خالص ہوگئی اس معنی کی مناسبت سے جب شاعر شعر کہنے سے رک جاے تو اس کی متعلق اصفی الشاعر کہاجاتا ہے اور یہ اصفی الحافر کے محاورہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کنواں کھودنے والا صفا یعنی چٹان تک پہنچ گیا جس نے اسے آئندہ کھدائی سے روک دیا جیسا کہ اکدی واحجر کے محاورات اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اور الصفا کی طرح صفوان کے معنی بھی بڑا صاف اور چکنا پتھر کے ہیں اس کا واحد صفوانۃ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : كَمَثَلِ صَفْوانٍ عَلَيْهِ تُرابٌ [ البقرة/ 264] اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو ۔ یوم صفوان خنک دن میں سورج صاف ہو ( یعنی بادل اور غبارہ نہ ہو ) ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے رسالت کے لیے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے، فرشتوں میں سے جیسے جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائیل (علیہ السلام) ، اسرافیل (علیہ السلام) اور ملک الموت اور اسی طرح آدمیوں میں سے بھی جیسا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام انبیاء کریم (علیہ السلام) ہیں اور جو کفار بکتے ہی کہ اس رسول کو کیا ہوا کھانا بھی کھاتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے انجام کو خوب دیکھنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

( اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ ) ” یہاں رسالت کے دونوں واسطوں کا ذکر کردیا گیا ہے جس میں ایک ” رسول ملک “ ہے اور دوسر ا ” رسول بشر “ ہے۔ چناچہ فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) کو چنا گیا اور انسانوں میں سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو۔ اور یوں رسول ملک کے ذریعے رسول بشر تک پیغام پہنچایا گیا تاکہ وہ اپنے ابنائے نوع تک اسے پہنچا دیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

124. In continuation of the refutation of shirk, Allah has taken two kinds of the most revered of deities to show their real status, as if to say: The angels and the Prophets whom you have set up as deities are mere Messengers of Allah. Allah has chosen them to convey His messages to human beings and this does not make them God or partners in His Godhead.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :124 مطلب یہ ہے کہ مشرکین نے مخلوقات میں سے جن جن ہستیوں کو معبود بنایا ہے ان میں افضل ترین مخلوق یا ملائکہ ہیں یا انبیاء ۔ اور ان کی حیثیت بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ وہ اللہ کے احکام پہنچانے کا ذریعہ ہیں جن کو اس نے اس خدمت کے لیے چن لیا ہے ۔ محض یہ فضیلت ان کو خدا ، یا خدائی میں اللہ کا شریک تو نہیں بنا دیتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

33: کونسے فرشتے پیغمبروں کے پاس وحی کا پیغام لے کر جائیں، اور کن انسانوں کو پیغمبری کے مقام پر سرفراز کیا جائے، ان سب باتوں کا تعین اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٥۔ ٧٦:۔ سورة الزخرف میں آوے گا کہ اکثر مشرکین مکہ جب یہ سمجھ گئے کہ جس طریقہ پر وہ لوگ ہیں ‘ ملت ابراہیمی کے وہ طریقہ بالکل خلاف ہے تو ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ دست ہیں اس واسطے مکہ کے ولید بن مغیرہ یا طائف کے عمرو بن مسعود جیسے مالدار شخص کو ہم اپنا رسول بنانا اور اس سے ملت ابراہیمی کو سیکھنا چاہتے ہیں مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورة الزخرف میں تفصیل سے دیا ہے اور یہاں مختصر طور پر اتنا ہی جواب دیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے بےبہرہ ہیں اسی طرح اللہ کی حکمت کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اپنی حکمت کے موافق فرشتوں اور بنی آدم میں سے رسول بنایا ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا نہ کچھ بھید معلوم ہے نہ ان کو اللہ تعالیٰ کی حکمت میں فضل دینے کا کچھ حق حاصل ہے۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ سے روایت ١ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مری ہوئی بکری کو پڑا ہوا دیکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے مال ومتاع کی قدر اس بکری سے بھی کم ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ فقط مالداری کے سبب سے ولیدبن مغیرہ اور عمرو بن مسعود کو مشرکین مکہ قابل نبوت جو خیال کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشرکین مکہ کا یہ خیال غلط تھا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کی مالداری کچھ قابل قدر چیز نہیں ان اللہ سمیع بصیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو تنگدست خیال کر کے یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ اللہ سب سنتا ہے اور اللہ کے رسول ان باتوں پر صبر جو کرتے ہیں اس کو بھی اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ‘ آگے فرمایا سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں ‘ اس لیے کسی کا حاضر و غائب کوئی حال اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ کتاب الرقاق ‘ فصل اول )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:75) یصطفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصطفی مصدر باب افعال وہ چن لیتا ہے وہ منتخب کرلیتا ہے ۔ وہ برگزیدہ بنا لیتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ یعنی جس فرشتے اور جس آدمی کو چاہتا ہے اپنا پیغمبر بنا لیتا ہے۔ فرشتوں میں سے اس نے جبرئیل ( علیہ السلام) و میکائیل ( علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا، اور آدمیوں میں سے آدم ( علیہ السلام) ، نوح ( علیہ السلام) ، ابراہیم ( علیہ السلام) ، موسیٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہم کو اور اب اپنا آخری پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنایا تمہیں اس پر کیوں اعتراض ہے کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا :” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “ کیا ہم میں سے خدا کا پیغام اس شخص (یعنی محمد ﷺ) پر نازل ہونا تھا۔ (معالم) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے، فرشتوں میں سے بھی وہ فرشتے اعلیٰ ہیں ان کو (یعنی ان کی ہدایت کو) چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہو ؟ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی رسالت کا مدار اصطفاء خداوندی پر ہے، اس میں کچھ ملکیت کی خصوصیت نہیں، بلکہ جس طرح ملکیت کے ساتھ رسالت جمع ہوسکتی ہے جس کو مشرکین بھی مانتے ہیں اسی طرح بشریت کے ساتھ بھی وہ جمع ہوسکتی ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کو یہ اعتراض تھا کہ اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی کیوں منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ دولت اور اثر رسوخ کے اعتبار سے اس سے فلاں فلاں آدمی زیادہ موزوں تھے۔ یہودیوں کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) پر اعتراض ہے کہ اس نے ہمارے آباو اجداد پر عذاب نازل کیا ہے۔ اس لیے اس کی بجائے وحی لانے پر کسی اور فرشتے کو مامور کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حسن انتخاب ہے کہ وہ ملائکہ میں جس کو چاہے اپنی وحی کے لیے منتخب فرمائے اور بندوں میں سے جس کو چاہیے نبی بنائے۔ وہ ہر بات سنتا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس نیت کے ساتھ اعتراض کرتا ہے اور کس کا کیا کردار ہے ؟ وہ ہر کسی کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے۔ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹایا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کوئی اس کی توحید کا انکار کرے یا اس کے نبی کی رسالت یا جبریل امین کا بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اور سب کا انجام بھی اس کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ ” جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ رسالت کسے دے۔ جنہوں نے جرم کیے عنقریب انہیں اللہ کے ہاں ذلّت اٹھانا پڑے گی اور انہیں سخت عذاب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (الانعام : ١٢٤) ” جو جبریل اور میکائل کا دشمن ہے وہ ” اللہ “ کا بھی دشمن ہے۔ “ ( البقرۃ : ٩٧) مسائل ١۔ کسی کو اپنے پیغام کے لیے منتخب کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ ٢۔ سلسلہ نبوت حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوچکا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے۔ ٤۔ سب کام اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ یصطفی من ……الامور (٦٧) ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔ ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والے چن لیتا ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے ساری مخلوق اللہ ہی کی مخلوق ہے اس نے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا ہے جو مرتبہ دیدیا اور جسے چاہا کسی بڑے اور برتر کام کے لیے چن لیا، رسالت اور نبوت بہت بڑا مرتبہ ہے رسول کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اس کے احکام اس کے بندوں تک پہنچائے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے سفارت اور رسالت کی یہ عزت بخشی کہ ان کے ذریعہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی طرف پیغام بھیجے اور صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں جنہیں انسانوں میں سے منتخب فرما کر نبوت اور رسالت سے نوازا پھر ان نبیوں اور رسولوں نے انسانوں تک وہ احکام پہنچائے جو فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس پہنچے، فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جن میں سے جنہیں چاہا پیغمبر بنایا اور اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہا یہ مرتبہ عطا کیا کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ یوں سوال کرے کہ فلاں کو کیوں نہیں بنایا، اللہ سمیع ہے بصیر ہے وہ سب کی باتیں سنتا ہے سب کے احوال دیکھتا ہے، جو اس کے فیصلوں کو قبول کرے گا اسے اس کا بھی علم ہے اور جو اس کے فیصلوں پر اعتراض کرے گا وہ اس سے باخبر ہے اور جس جس میں اللہ تعالیٰ نے جو استعداد رکھی ہے اسے اس کا بھی پتہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88:۔ ” اَللّٰهُ یَصْطَفِی الخ “ یہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور پیارے بندے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیارات دے کر اپنا نائب بنا لیا ہے اور وہ باذن اللہ مخلوق کی کارسازی کرتے ہیں فرمایا یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے پیارے اور برگزیدہ بندے ہیں مگر وہ اللہ کے نائب اور کارخانہ عالم میں متصرف و مختار اور کارساز نہیں ہیں کیونکہ کارسازی کے لیے غیب دان ہونا ضروری ہے اور وہ غیب دان نہیں ہیں۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی سمیع لکل شیء (ہر بات کو سننے والا) اور بصیر بکل شیء (ہر چیز کو دیکھنے والا) ہے۔ ” وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْر “ اور کارساز بھی وہی ہے دوسرا کوئی نہیں یا یہ تمثیل مذکور سے متعلق ہے۔ معبود من دون اللہ کی عاجزی اور بےبسی کو ایک مثال سے واضح کر کے فرمایا۔ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) بیشک میرے منتخب اور محبوب بندے ہیں۔ مگر معبود بننے کے لائق وہ بھی نہیں کیونکہ وہ خواص معبودیت اور صفات کارسازی سے عاری ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(75) اللہ تعالیٰ پیغام پہنچانے والوں کو منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سنتا اور خوب دیکھتا ہے۔ یعنی فرشتوں میں سے رسولوں کے لئے پیغام پہنچانے والے منتخب فرماتا ہے اور انسانوں میں سے جس کو چاہتا ہے عام انسانوں کے لئے پیغمبر منتخب فرماتا ہے۔ رہی یہ بات ! کہ کون انتخاب کا مستحق ہے اور کون نہیں کس کو انتخاب کیا اور کس کو نہیں یہ اسی کی مرضی پر ہے کیونکہ وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ وہی ہر فرشتے اور ہر بشر کی حالت کو جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے فرشتوں میں بھی وے فرشتے اعلیٰ ہیں ان کو چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہوں گے۔ 12۔ خلاصہ ! یہ ہے کہ جو اعلیٰ ہیں ان کے طریقے کو چھوڑ کر بت پرستی کا طریقہ اختیار کرتے ہو۔