127. This is the right way of attaining the success, but even after adopting these ways of worship and performing good deeds one should not rest content or be proud that he would surely attain success because he is worshiping Allah and is doing good deeds. He should only expect that Allah will by His grace accept his services and bless him with the success.
Imam Shafai, Ahmad bin Hanbal, Abdullah bin Mubarak and Ishaq bin Rahawayah hold the view that this verse of Surah Al-Hajj requires a prostration. But Imam Abu Hanifah, Imam Malik, Hasan Basri, Said bin al-Musayyab, Said bin Jubair, Ibrahim Nakhai and Sufyan Thauri dispute this. The arguments of the two sides are briefly as follows:
The former group of commentators base their opinion on the following:
(1) The verb in the verse is in the imperative mood.
(2) The tradition of Uqbah bin Amir which has been reported by Imam Ahmad, Abu Dawud, Tirmizi, Ibn Marduyah and Baihaqi, says: I asked, O Messenger of Allah! Does the merit of Surah Al-Hajj consist in the fact that it contains two verses requiring prostration? He replied: Yes, the one who does not prostrate on these two verses, should not recite them.
(3) The tradition of Abu Dawud and Ibn Majah in which Amr bin Aas says that he was told by the Prophet (peace be upon him) that there were two verses requiring prostration in Surah Al-Hajj.
(4) Sayings of Umar, Ali, Uthman, Ibn Umar, Ibn Abbas, Abul Darda, Abu Musa Ashari and Ammar bin Yasir to the effect that Surah AIHajj contains two prostrations.
The latter group of commentators argue as follows;
(1) The verse contains a command both for Sajdah (prostration) and for Ruku (bowing in prayer), which implies the whole Islamic Prayer according to the Quranic usage, and not prostration alone.
(2) The tradition reported by Uqbah bin Amir is unauthentic as it has weak links.
(3) The tradition of Amr bin Aas is also unreliable, because its reporters are not well known.
(4) As for the sayings of the companions, Ibn Abbas has clearly explained that prostration in respect of the first verse (in Surah Al-Hajj) is obligatory, whereas in regard to the second, it is only suggestive.
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :127
یعنی فلاح کی توقع اگر کی جا سکتی ہے تو یہ روش اختیار کرنے سے کی جا سکتی ہے ۔ لیکن جو شخص بھی یہ روش اختیار کرے اسے اپنے عمل پر گھمنڈ نہ ہونا چاہیے کہ میں جب ایسا عبادت گزر اور نیکو کار ہوں تو ضرور فلاح پاؤں گا ، بلکہ اسے اللہ کے فضل کا امیدوار رہنا چاہیے اور اسی کی رحمت سے توقعات وابستہ کرنی چاہییں ۔ وہ فلاح دے تب ہی کوئی شخص فلاح پا سکتا ہے ۔ خود فلاح حاصل کر لینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔
شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو ۔ یہ فقرہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح فلاح نصیب ہونا مشکوک ہے ۔ بلکہ دراصل یہ شاہانہ انداز بیان ہے ۔ بادشاہ اگر اپنے کسی ملازم سے یہ کہے کہ فلاں کام کرو ، شاید کہ تمہیں فلاں منصب مل جائے ، تو ملازم کے گھر شادیانے بج جاتے ہیں کیونکہ یہ اشارۃً ایک وعدہ ہے اور ایک مہربان آقا سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کسی خدمت پر ایک صلے کی امید وہ خود دلائے اور پھر اپنے وفادار خادم کو مایوس کرے ۔
امام شافعی ، امام احمد ، عبداللہ بن مبارک اور اسحاق بن راھَوَیہ کے نزدیک سورہ حج کی یہ آیت بھی آیت سجدہ ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، حسن بصری ، سعید بن المسیب ، سعید بن جبیر ، ابرہیم نخعی اور سفیان ثوری اس جگہ سجدہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں ۔ دونوں طرف کے دلائل ہم مختصراً یہاں نقل کر دیتے ہیں ۔
پہلے گروہ کا اولین استدلال ظاہر آیت سے ہے کہ اس میں سجدے کا حکم ہے ۔ دوسری دلیل عقبہ بن عامر کی وہ روایت ہے جسے احمد ، ابو داؤد ، ترمذی ، ابن مردویہ اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ : قلت یا رسول اللہ افضلت سورۃ الحج علیٰ سائر القراٰن بسجدتین؟ قال نعم فمن لم یسجدھما فلا یقرأھما ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، کیا سورہ حج کو سارے قرآن پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، پس جو ان پر سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔ تیسری دلیل ابو داؤد اور ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں عمر ، علی ، عثمان ، ابن عمر ، ابن عباس ، ابو الدرداء ، ابو موسیٰ اشعری اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے یہ بات منقول ہے کہ سورہ حج میں دو سجدے ہیں ۔
دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ آیت میں محض سجدے کا حکم نہیں ہے بلکہ رکوع اور سجدے کا ایک ساتھ ہے اور قرآن میں رکوع و سجود ملا کر جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے ۔ نیز رکوع و سجود کا اجتماع نماز ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ عقبہ بن عامر کی روایت کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔ اس کو ابن لہیعہ ابو المصعب بصری سے روایت کرتا ہے اور یہ دونوں ضعیف راوی ہیں ۔ خاص کر ابو المصعب تو وہ شخص ہے جو حجاج بن یوسف کے ساتھ کعبے پر منجنیق سے پتھر برسانے والوں میں شامل تھا ۔ عمرو بن عاص والی روایت کو بھی وہ پایہ اعتبار سے ساقط قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کو سعید العتقی عبداللہ بن منین الکلابی سے روایت کرتا ہے اور دونوں مجہول ہیں ، کچھ پتہ نہیں کہ کون تھے اور کس پایہ کے آدمی تھے ۔ اقوال صحابہ کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے سورہ حج میں دو سجدے ہونے کا یہ مطلب صاف بتایا ہے کہ : الاولیٰ عزمۃ و الاخرۃ تعلیم ، یعنی پہلا سجدہ لازمی ہے ، اور دوسرا سجدہ تعلیمی ۔