Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 77

سورة الحج

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾

O you who have believed, bow and prostrate and worship your Lord and do good - that you may succeed.

اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to worship Allah and engage in Jihad Allah said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ O you who believe! Bow down, and prostrate yourselves, and worship your Lord and do good that you may be successful. It was reported from Uqbah bin Amir that the Prophet said: فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِسَجْدَتَيْنِ فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَ يَقْرَأْهُمَا Surah Al-Hajj has been blessed with two Sajdah, so whoever does not prostrate them should not read them.

سورہ حج کو دوسجدوں کی فضلیت حاصل ہے اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں ۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کردی ہے جس میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورہ حج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں ۔ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے ۔ امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت اپنے مال ، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو ۔ جیسے حکم دیا ہے کہ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کرلیا ہے ۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت وکرامت عزت وبزرگی عطافرمائی ۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں سربرآوردہ کیا ، تمہیں آسان ، سہل اور عمدہ دین دیا ۔ وہ احکام تم پر نہ رکھے وہ سختی تم پر نہ کی وہ بوجھ تم پر نہ ڈالے جو تمہارے بس کے نہ ہوں جو تم پر گراں گزریں ۔ جنہیں تم بجا نہ لاسکو ۔ اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا ، رکن نماز ہے ۔ اسے دیکھئے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں ۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو ، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو ، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کاہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں ۔ پھر نماز کا قیام بھی بوجہ بیماری کے ساقط ہوجاتا ہے ۔ مریض بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے ، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹے لیٹے ادا کرلے ۔ اسی طرح اور فرائض اور واجبات کو دیکھو کہ کس قدر ان میں اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں ۔ اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں ۔ جب آپ نے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا تو خوشخبری سنانا ، نفرت نہ دلانا ، آسانی کرناسختی نہ کرنا اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ تمہارے دین میں کوئی تنگی وسختی نہیں ۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ملتہ کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں کملتہ ابیکم تھا ۔ اور ہوسکتا ہے کہ الزموا کو محذوف مانا جائے اور ملتہ کو اس کا مفعول قرار دیا جائے ۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہوجائے گا دینا قیما الخ ، اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنادے ۔ لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے سے ہو اس لئے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا ۔ پہلے سے کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں ۔ یہی قول حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے ۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے ۔ پھر انہیں دین کی مزید رغبت دلانے کے لئے بتایا جارہا ہے کہ یہ دین وہ ہے جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام لے کر آئے تھے پھر اس امت کی بزرگی کے لئے اور انہیں مائل کرنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ تمہارا ذکر میری سابقہ کتابوں میں بھی ہے ۔ مدتوں سے انبیاء کی آسمانی کتابوں میں تمھارے چرچے چلے آرہے ہیں ۔ سابقہ کتابوں کے پڑھنے والے تم سے خوب آگاہ ہیں پس اس قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلم ہے اور خود اللہ کا رکھا ہوا ہے ۔ نسائی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے ( یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے ) وہ جہنم کا ایندھن ہے ۔ کسی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو ۔ یعنی مسلمین ، مومنین اور عباد اللہ ۔ سورۃ بقرہ کی آیت ( يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 21۝ۙ ) 2- البقرة:21 ) کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کرچکے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے ہم نے تمہیں عادل عمدہ بہتر امت اسلئے بنایا ہے اور اس لئے تمام امتوں میں تمہاری عدالت کی شہرت کردی ہے کہ تم قیامت کے دن اور لوگوں پر شہادت دو ۔ تمام اگلی امتیں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی ۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لئے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی ۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے ، وہ تبلیغ کا فرض ادا کرچکے ہیں اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے کہ آپ نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کردیا ۔ اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورۃ بقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت ( وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ١٤٣؁ ) 2- البقرة:143 ) کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں ۔ اس لئے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے ۔ وہیں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کردیا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اتنی بڑی عظیم الشان نعمت کا شکریہ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہے ۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اللہ کے فرائض تم پر ہیں انہیں شوق خوشی سے بجا لاؤ خصوصا نماز اور زکوٰۃ کا پورا خیال رکھو ۔ جو کچھ اللہ نے واجب کیا ہے اسے دلی محبت سے بجالاؤ اور جو چیزیں حرام کردیں ہیں اس کے پاس بھی نہ پھٹکو ۔ پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں ۔ ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہوجاتا ہے ۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ ۔ زکوٰۃ کے کل احکام سورۃ توبہ کی آیت زکوٰۃ ( اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 60؀ ) 9- التوبہ:60 ) کی تفسیر میں ہم نے بیان کردئے ہیں وہیں دیکھ لئے جائیں ۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اللہ پر پورا بھروسہ رکھو ، اسی پر توکل کرو ، اپنے تمام کاموں میں اس کی امداد طلب کیا کرو ، ہر وقت اعتماد اس پر رکھو ، اسی کی تائید پر نظریں رکھو ۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے ، تمہارا حافظ ہے ناصر ہے ، تمہیں تمہارے دشمنوں پر کامیابی عطا فرمانے والا ہے ، وہ جس کا ولی بن گیا اسے کسی اور کی ولایت کی ضرورت نہیں ، سب سے بہتر والی وہی ہے سب سے بہتر مددگار وہی ہے ، تمام دنیا گو دشمن ہوجائے لیکن وہ سب قادر ہے اور سب سے زیادہ قوی ہے ۔ ابن ابی حاتم میں حضرت وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کرلیا کر ۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا ۔ اور جن پر میرا عذاب نازل ہوگا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا ۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا ۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے ، مجھ پر نگاہیں رکھ ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے ۔ ( اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین ) واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

77۔ 1 یعنی اس نماز کی پابندی کرو جو شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ آگے عبادت کا بھی حکم آرہا ہے۔ جس میں نماز بھی شامل تھی، لیکن اس کی اہمیت و افضلیت کے پیش نظر اس کا خصوصی حکم دیا۔ 77۔ 2 یعنی فلاح (کامیابی) اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی افعال خیر اختیار کرنے میں ہے، نہ کہ اللہ کی عبادت و اطاعت سے گریز کرکے محض مادی اسباب و وسائل کی فراہمی اور فراوانی میں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٧] اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خطاب انفرادی طور پر ہو۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اخروی نجات اور کامیابی کے لئے تین کاموں کا سرانجام دینا نہایت ضروری ہے۔ نماز کی درست طور پر ادائیگی۔ خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کی عبادت جس میں مشرک کی آمیزش نہ ہو۔ اور نیک اعمال کی بجا آوری اور اور یہ خطاب مجموعی طور پر بحیثیت امت سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس قوم میں یہ صفات موجود ہوں ان کی اخروی کامیابی تو یقینی ہے ہی، ان کی دنیا میں بھی کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ سورة حج کے فضیلت یہ ہے کہ اس میں دو سجدے آئے ہیں (لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ١٨٩۔ ) 2 ۔ البقرة :189) بھی مقام سجدہ تلاوت ہے۔ اس سورة کا پہلا سجدہ تو متفق علیہ ہے۔ لیکن یہ دوسرا سجدہ اختلافی ہے سجدہ کے قائلین کی دلیل یہ ہے۔ یہاں ایمان لانے والوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا ہے۔ اور دوسرے گروہ کی دلیل یہ ہے کہ یہاں رکوع اور سجدہ کا اکٹھا حکم آیا ہے۔ اور جہاں یہ دونوں الفاظ اکٹھے آئیں تو اس سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے کیونکہ یہ دونوں نماز کے ہی جزء اشرف ہیں اور جزء اشرف بول کر اسے کل مراد لینا اہل عرب کا عام دستور ہے۔ بلکہ بعض دفعہ قرآن میں صرف رکوع یا صرف سجود کے لفظ سے بھی پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں قائلین کا موقف ہی راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض روایات بھی ان کی تائید کرتی ہیں اگرچہ وہ روایات اتنی قوی نہیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا ۔۔ : یہ ساری سورت قیامت اور توحید کے حق ہونے کے دلائل اور انکار قیامت اور شرک کی تردید اور مذمت کے دلائل پر مشتمل ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خطاب فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں کہ ایمان لائے ہو تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ سب سے پہلا کام جو ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور ضروری ہے اور کافر و مسلم کی پہچان ہے، وہ نماز ہے، سو نماز ادا کرو۔ ” نماز ادا کرو “ کے بجائے ” رکوع کرو اور سجدہ کرو “ کے الفاظ استعمال فرمائے، کیونکہ یہ دونوں آدمی کی عام حالت مثلاً قیام و قعود وغیرہ سے مختلف ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہا رہوتا ہے، اسی لیے کئی متکبر لوگوں نے اس لیے اسلام لانے سے انکار کردیا کہ انھیں اللہ کے سامنے عاجزی کی آخری حد تک جانا پڑتا ہے۔ وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ : ایک خاص عبادت نماز کی تاکید کے بعد رب تعالیٰ کی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات کا حکم دیا کہ ” اپنے رب کی عبادت کرو “ اس میں دوسری عبادات کے ساتھ نماز بھی شامل ہے۔ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ : عبادت کے حکم کے بعد ہر خیر یعنی ہر اچھے کام کا حکم دیا۔ خیر میں نماز اور تمام عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اچھے اعمال بھی کہ نیت ہو تو عبادت ہوتے ہیں، نیت نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتے، مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، بیماری پرسی اور دوسرے اخلاق عالیہ۔ مقصد یہ ہے کہ خیر کے خاص اور عام کام کرتے رہو، تاکہ وہ تمہاری عادت بن جائیں اور ان کی ادائیگی میں تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔ ابوحیان نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے پہلے خاص چیزوں کا ذکر فرمایا پھر عام کا۔ “ (بقاعی) لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : تاکہ تمہیں دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْ‌كَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَ‌بَّكُمْ (0 those who believe, bow down in Ruku& and bow down in Sajdah and worship your Lord - 22:77) Verse 18 of this Surah is a verse of sajdah by consensus of the jurists, which means that whoever recites verse 18 or listens to someone reciting it must offer a sajdah. However, there is a difference of opinion about the present verse. Imam Abu Hanifah, Imam Malik and Sufyan Thauri رحمۃ اللہ علیہم are among those who think that the present verse is not a verse of sajdah in the sense that reciting this verse or listening to it does not entail the obligation to offer a sajdah, because the command to &bow down& in sajdah in the present verse is combined with bowing down in ruku& and this circumstance is a clear indication that in the present context sajdah means the normal sajdah which is performed during the course of prayers. For example all the scholars are unanimously of the opinion that in the verse (And prostrate and bow down (in Ruku& ) with those who bow - 3:43) the sajdah is وَاسْجُدِي وَارْ‌كَعِي مَعَ الرَّ‌اكِعِينَ the normal sajdah of the prayers. However, in the context of the present verse Imam Shafi` i and Imam Ahmad) رحمۃ اللہ علیہم hold contrary views and quote a hadith according to which Surah Hajj enjoys a position of greater merit as compared to other Surahs because of two verses of sajdah occurring in it. Imam Abu Hanifah (رح) questions the authenticity of this lhadith.

معارف و مسائل سورة حج کا سجدہ تلاوت : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ ، سورة حج میں ایک آیت تو پہلے گزر چکی ہے جس پر سجدہ تلاوت کرنا باتفاق واجب ہے۔ اس آیت پر جو یہاں مذکور ہے سجدہ تلاوت کے وجوب میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، سفیان ثوری رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس میں سجدہ کا ذکر رکوع وغیرہ کے ساتھ آیا ہے جس سے نماز کا سجدہ مراد ہونا ظاہر ہے جیسے واسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ میں سب کا اتفاق ہے کہ سجدہ نماز مراد ہے اس کی تلاوت کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا اسی طرح آیت مذکورہ پر بھی سجدہ تلاوت واجب نہیں۔ امام شافعی، امام احمد وغیرہ کے نزدیک اس آیت پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے ان کی دلیل ایک حدیث ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ سورة حج کو دوسری سورتوں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدہ تلاوت ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس روایت کے ثبوت میں کلام ہے۔ تفصیل اس کی کتب فقہ و حدیث میں دیکھی جاسکتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝ ٧٧ۚ۞ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔ ركع الرُّكُوعُ : الانحناء، فتارة يستعمل في الهيئة المخصوصة في الصلاة كما هي، وتارة في التّواضع والتّذلّل، إمّا في العبادة، وإمّا في غيرها نحو : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا[ الحج/ 77] ، وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَٓ [ البقرة/ 43] ، وَالْعاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ [ البقرة/ 125] ، الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ [ التوبة/ 112] ، قال الشاعر : أخبّر أخبار القرون الّتي مضت ... أدبّ كأنّي كلّما قمت راکع ( ر ک ع ) الرکوع اس کے اصل معنی انحناء یعنی جھک جانے کے ہیں اور نماز میں خاص شکل میں جھکنے پر بولا جاتا ہے اور کبھی محض عاجزی اور انکساری کے معنی میں آتا ہے خواہ بطور عبادت ہو یا بطور عبادت نہ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا[ الحج/ 77] مسلمانوں ( خدا کے حضور ) سجدے اور رکوع کرو وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ [ البقرة/ 43] جو ہمارے حضور بوقت نماز جھکتے ہیں تم بھی انکے ساتھ جھکا کرو ۔ وَالْعاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ [ البقرة/ 125] مجاوروں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں ( کے لئے ) الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ [ التوبة/ 112] رکوع کرنے والے اور سجدہ کرنے والے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) أخبّر أخبار القرون الّتي مضت ... أدبّ كأنّي كلّما قمت راکع میں گذشتہ لوگوں کی خبر دیتا ہوں ( میں سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے ) رینگ کر چلتا ہوں اور خمیدہ پشت کھڑا ہوتا ہوں سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ فلح الفَلْحُ : الشّقّ ، وقیل : الحدید بالحدید يُفْلَح أي : يشقّ. والفَلَّاحُ : الأكّار لذلک، والفَلَاحُ : الظَّفَرُ وإدراک بغية، وذلک ضربان : دنیويّ وأخرويّ ، فالدّنيويّ : الظّفر بالسّعادات التي تطیب بها حياة الدّنيا، وهو البقاء والغنی والعزّ ، ( ف ل ح ) الفلاح کے معنی پھاڑ نا کے ہیں مثل مشہور ہے الحدید بالحدید یفلح لوہالو ہے کو کاٹتا ہے اس لئے فلاح کسان کو کہتے ہیں ۔ ( کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے ) اور فلاح کے معنی کامیابی اور مطلب وری کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان سعادتوں کو حاصل کرلینے کا نام ہے جن سے دنیوی زندگی خوشگوار بنتی ہو یعنی بقاء لمال اور عزت و دولت ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) لہذا اے ایمان والو نماز میں رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی تابعداری کیا کرو اور نیک اعمال کیا کرو امید ہے کہ تم غضب الہی اور عذاب الہی سے نجات پاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ) ” یہاں صرف اصطلاحی رکوع اور سجدہ ہی مراد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کا حکم ہے۔ اسی طرح ” عبادت “ کے حکم میں بھی ” مکمل بندگی “ کا مفہوم پنہاں ہے۔ ؂ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی ! (وَافْعَلُوا الْخَیْرَ ) ” یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ واعْبُدُوْا (بندگی کرو ! ) کے حکم میں تو گویا سب کچھ آگیا۔ اب اس کے بعد مزید نیک کام کون سے ہیں ؟ دراصل ” فعل خیر “ سے یہاں مراد خدمت خلق ہے۔ اس حکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدمت خلق میں لگا دو ! اور خدمت خلق صرف بھوکے کو کھانا کھلانے تک ہی محدود نہیں بلکہ سب سے بڑی خدمت خلق یہ ہے کہ لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ اس حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ اے اللہ کے بندو ! ایمان و عمل کے جو حقائق تم پر منکشف ہوگئے ہیں ان سے دوسرے لوگوں کو بھی روشناس کراؤ ‘ تاکہ وہ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔ (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ” سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ بہت اہم بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! کہیں تم یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ ایمان کا اقرار کرلیا تو بس اب فلاح ہی فلاح ہے۔ بس کلمہ پڑھ لیا اور کامیابی ہوگئی۔ نہیں ایسا نہیں ! ع ” یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے ! “ تم لوگوں نے اس شہادت گاہ میں قدم رکھا ہے تو اب اس کے تقاضے پورے کرو گے تو تب کامیابی ہوگی۔ اگر تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ بس ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اب بیٹھے بٹھائے ہمیں جنت مل جائے گی تو یہ تمہارا اپنا خیال ہے ‘ تمہاری اپنی دل خوش کن تمنا (wishful thinking) ہے۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا : (تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ ط) (البقرہ : ١١١) ” یہ ان کی تمنائیں ہیں۔ “ امام شافعی (رح) کی رائے ہے کہ سورة الحج کی اس آیت کی تلاوت پر سجدۂ تلاوت کرنا چاہیے ‘ جبکہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ آیت سجدہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ آیات سجدہ پر سجدۂ تلاوت کرنا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مستحب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

127. This is the right way of attaining the success, but even after adopting these ways of worship and performing good deeds one should not rest content or be proud that he would surely attain success because he is worshiping Allah and is doing good deeds. He should only expect that Allah will by His grace accept his services and bless him with the success. Imam Shafai, Ahmad bin Hanbal, Abdullah bin Mubarak and Ishaq bin Rahawayah hold the view that this verse of Surah Al-Hajj requires a prostration. But Imam Abu Hanifah, Imam Malik, Hasan Basri, Said bin al-Musayyab, Said bin Jubair, Ibrahim Nakhai and Sufyan Thauri dispute this. The arguments of the two sides are briefly as follows: The former group of commentators base their opinion on the following: (1) The verb in the verse is in the imperative mood. (2) The tradition of Uqbah bin Amir which has been reported by Imam Ahmad, Abu Dawud, Tirmizi, Ibn Marduyah and Baihaqi, says: I asked, O Messenger of Allah! Does the merit of Surah Al-Hajj consist in the fact that it contains two verses requiring prostration? He replied: Yes, the one who does not prostrate on these two verses, should not recite them. (3) The tradition of Abu Dawud and Ibn Majah in which Amr bin Aas says that he was told by the Prophet (peace be upon him) that there were two verses requiring prostration in Surah Al-Hajj. (4) Sayings of Umar, Ali, Uthman, Ibn Umar, Ibn Abbas, Abul Darda, Abu Musa Ashari and Ammar bin Yasir to the effect that Surah AIHajj contains two prostrations. The latter group of commentators argue as follows; (1) The verse contains a command both for Sajdah (prostration) and for Ruku (bowing in prayer), which implies the whole Islamic Prayer according to the Quranic usage, and not prostration alone. (2) The tradition reported by Uqbah bin Amir is unauthentic as it has weak links. (3) The tradition of Amr bin Aas is also unreliable, because its reporters are not well known. (4) As for the sayings of the companions, Ibn Abbas has clearly explained that prostration in respect of the first verse (in Surah Al-Hajj) is obligatory, whereas in regard to the second, it is only suggestive.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :127 یعنی فلاح کی توقع اگر کی جا سکتی ہے تو یہ روش اختیار کرنے سے کی جا سکتی ہے ۔ لیکن جو شخص بھی یہ روش اختیار کرے اسے اپنے عمل پر گھمنڈ نہ ہونا چاہیے کہ میں جب ایسا عبادت گزر اور نیکو کار ہوں تو ضرور فلاح پاؤں گا ، بلکہ اسے اللہ کے فضل کا امیدوار رہنا چاہیے اور اسی کی رحمت سے توقعات وابستہ کرنی چاہییں ۔ وہ فلاح دے تب ہی کوئی شخص فلاح پا سکتا ہے ۔ خود فلاح حاصل کر لینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو ۔ یہ فقرہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح فلاح نصیب ہونا مشکوک ہے ۔ بلکہ دراصل یہ شاہانہ انداز بیان ہے ۔ بادشاہ اگر اپنے کسی ملازم سے یہ کہے کہ فلاں کام کرو ، شاید کہ تمہیں فلاں منصب مل جائے ، تو ملازم کے گھر شادیانے بج جاتے ہیں کیونکہ یہ اشارۃً ایک وعدہ ہے اور ایک مہربان آقا سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کسی خدمت پر ایک صلے کی امید وہ خود دلائے اور پھر اپنے وفادار خادم کو مایوس کرے ۔ امام شافعی ، امام احمد ، عبداللہ بن مبارک اور اسحاق بن راھَوَیہ کے نزدیک سورہ حج کی یہ آیت بھی آیت سجدہ ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، حسن بصری ، سعید بن المسیب ، سعید بن جبیر ، ابرہیم نخعی اور سفیان ثوری اس جگہ سجدہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں ۔ دونوں طرف کے دلائل ہم مختصراً یہاں نقل کر دیتے ہیں ۔ پہلے گروہ کا اولین استدلال ظاہر آیت سے ہے کہ اس میں سجدے کا حکم ہے ۔ دوسری دلیل عقبہ بن عامر کی وہ روایت ہے جسے احمد ، ابو داؤد ، ترمذی ، ابن مردویہ اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ : قلت یا رسول اللہ افضلت سورۃ الحج علیٰ سائر القراٰن بسجدتین؟ قال نعم فمن لم یسجدھما فلا یقرأھما ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، کیا سورہ حج کو سارے قرآن پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، پس جو ان پر سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔ تیسری دلیل ابو داؤد اور ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں عمر ، علی ، عثمان ، ابن عمر ، ابن عباس ، ابو الدرداء ، ابو موسیٰ اشعری اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے یہ بات منقول ہے کہ سورہ حج میں دو سجدے ہیں ۔ دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ آیت میں محض سجدے کا حکم نہیں ہے بلکہ رکوع اور سجدے کا ایک ساتھ ہے اور قرآن میں رکوع و سجود ملا کر جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے ۔ نیز رکوع و سجود کا اجتماع نماز ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ عقبہ بن عامر کی روایت کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔ اس کو ابن لہیعہ ابو المصعب بصری سے روایت کرتا ہے اور یہ دونوں ضعیف راوی ہیں ۔ خاص کر ابو المصعب تو وہ شخص ہے جو حجاج بن یوسف کے ساتھ کعبے پر منجنیق سے پتھر برسانے والوں میں شامل تھا ۔ عمرو بن عاص والی روایت کو بھی وہ پایہ اعتبار سے ساقط قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کو سعید العتقی عبداللہ بن منین الکلابی سے روایت کرتا ہے اور دونوں مجہول ہیں ، کچھ پتہ نہیں کہ کون تھے اور کس پایہ کے آدمی تھے ۔ اقوال صحابہ کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے سورہ حج میں دو سجدے ہونے کا یہ مطلب صاف بتایا ہے کہ : الاولیٰ عزمۃ و الاخرۃ تعلیم ، یعنی پہلا سجدہ لازمی ہے ، اور دوسرا سجدہ تعلیمی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

34: شافعی مذہب میں یہاں سجدہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٧:۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس وقت کوئی آدمی سجدہ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور رو کر یہ کہتا ہے کہ افسوس انسان کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے اس حکم کی تعمیل کی اس سبب سے وہ جنت کا مستحق ٹھہرا اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا ‘ میں نے اس حکم کی نافرمانی کی ‘ اس سبب سے میں دوزخ کے قابل ٹھہرا ‘ اگرچہ بعض علماء نے اس سورت میں دو سجدے ہونے کے باب میں اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سورت میں ایک ہی سجدہ ہے لیکن امام احمد بن حنبل اور ترمذی اور ابوداود وغیرہ کی روایتوں میں خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سورت میں دو سجدے ہونے کی صراحت آچکی ہے لیکن اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر کی ٣ ؎ روایتوں کے سوا اور کوئی روایت نہیں ہے اور ان دونوں روایتیں کی سند کو علماء نے ضعیف قرار ٤ ؎ دیا ہے ‘ اچھے کاموں میں لگے رہنا اور برے کاموں سے بچنا بھلائی میں یہ سب داخل ہے۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ باب السجودو فضلہ ‘ فصل اول ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢١١ ج ٣ ) (٤ ؎ تاہم حافظ ابن کثیر (رح) کا فیصلہ یہ ہے کہ سب مل کر مضبوطی ہوجاتی ہے فھذہ شواھذ یشھد بعضھا بعضا (ص ٢١٢ ج ٣) ؎ تفسیرابن کثیر ص ٢١١ ج ٣ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی اپنے جملہ اطوار و اخلاق و معاملات کی بنیاد نیکی پر رکھو اس لئے حضرت ابن عباس (رض) نے اس جگہ ” خیر “ کی تفسیر صلۃ الرحم و مکارم اخلاق سے کی ہے۔ (معالم) 7 ۔ اس مقام پر سجدہ کا حکم دیا گیا ہے اس لئے یہاں سجدہ کرنا مستحب ہے۔ صحابہ (رض) میں حضرت عمر (رض) ، علی (رض) ، ابن مسعود (رض) اور ابن عباس (رض) کا، اور ائمہ (رح) میں سے عبد اللہ بن مبارک (رح) ، شافعی (رح) ، احمد (رح) ( اور دوسرے محدثین) کا یہی قول ہے (معالم) اس بارے میں بعض مرفوع احادیث بھی آئی ہیں۔ مثلاً عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قرآن مجید میں پندرہ سجدے پڑھائے جن میں سے تین سورة مفصل ہیں اور دو سورة حج میں ہیں۔ (ابو دائود) احناف کے نزدیک سورة حج میں اس مقام پر سجدہ نہیں وہ کہتے ہیں یہاں خاص طور پر سجدہ کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ عام نیکیوں کا حکم دیا گیا ہے جن میں ایک سجدہ بھی ہے۔ (التعلیق الصبیح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور کافر انکار کرتے ہیں تو کریں مومنوں تمہیں تو ہر صورت اپنے رب کے سامنے جھکنا اور اس کی غلامی میں زندگی بسر کرنا ہے۔ جب ہر چیز کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے وقف کردیں۔ اس آیت کریمہ میں انسان کی زندگی کا مقصد نہایت مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور رکوع و سجود اور اس کی بندگی کرے اور جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے خیر قرار دیا ہے اسے بجالانے کی اخلاص کے ساتھ کوشش کرتا رہے۔ یہی دنیا و آخرت میں فلاح کا راستہ ہے۔ اسی بندگی کا جامع تصور یوں بھی بیان کیا ہے۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗج وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) [ الانعام : ١٦٢ تا ١٦٣] ” فرما دیجیے ! یقیناً میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہونے والا ہوں۔ “ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہ بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ ایمان، کفر اور نفاق کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز تمام طبقات انسانی کو عبادت کا حکم دیتے ہوئے اپنی عبادت کے استحقاق کی یہ دلیل دی ہے کہ اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں، تمہارے آباؤ اجداد اور سب لوگوں کو پیدا فرمایا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو سائبان، پھر آسمان سے پانی نازل کیا جس سے تمہارے رزق کا بندوبست فرمایا یہ سب کچھ ایک رب نے پیدا کیا لہٰذا اپنے ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (البقرۃ : ٢١۔ ٢٢) یہ ہیں وہ حقائق جن کو تم بھی جانتے ہو کہ تخلیقِ کائنات اور ان امور میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے پھر ایسے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانے کی کس طرح جرأت کرتے ہو ؟ جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لہٰذا تمہیں صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنا چاہیے۔ توحید ربوبیت اور خالقیت کا شعور دلا کر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ تاکہ انسان سمجھے کہ کسی غیر کی نہیں بلکہ میں اپنے خالق، رازق اور مالک کی ہی عبادت کر رہا ہوں۔ رکوع و سجود کے آداب : ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سنو مجھے رکوع اور سجود میں تلاوت قرآن مجید سے منع کیا گیا ہے لہٰذا تم رکوع میں رب کی عظمت اور سجدے میں کثرت سے تسبیحات پڑھا کرو۔ امید ہے تمہاری مناجات قبول کی جائیں گی۔ “ [ رواہمسلم : باب النَّہْیِ عَنْ قِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندہ سجدہ میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہٰذا سجدہ میں کثرت کے ساتھ دعا کیا کرو۔ “ [ رواہ مسلم : باب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ] مسائل ١۔ رکوع سجود کرنے سے مراد نماز کی مکمل ادائیگی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ تفسیر بالقرآن رکوع و سجود کی اہمیت : ١۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، سجدہ اسے کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (حٰم السجدۃ : ٣٧) ٢۔ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : ٩٨) ٣۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : ٤٥) ٤۔ اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ (الحج : ٧٧) ٥۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : ٦٢) ٦۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : ٤٦) ٧۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : ٦) ٨۔ جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : ٢٠٦) ٩۔ ” اللہ “ کو زمین و آسمانوں کی ہر چیز، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بیشمار لوگ سجدہ کرتے ہیں۔ ( الحج : ١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یایھا الذین ……النصیر (٤٧) ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟ ٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔ ٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔ اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟ وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (٢٢ : ٨٨) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔ ھو اجتبکم (٢٢ : ٨٨) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔ پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔ وما جعل علیکم فی الدین من حرج (٢٢ : ٨٨) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔ ملۃ ابیکم ابرھیم (٢٢ : ٨٨) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “ یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔ اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔ لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (٢٢ : ٨٨) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔ امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔ یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔ فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (٢٢ : ٨٨) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “ ٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔ ٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔ ٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔ یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔ اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔ انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَ اسْجُدُوْا) (اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو) یعنی نماز پڑھو نماز میں کیونکہ رکوع سجدہ دو بڑے رکن ہے اس لیے ان کا خصوصی حکم دیا جس میں پوری نماز پڑھنے کا حکم آگیا (وَ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ) (اور اپنے رب کی عبادت کرو) نماز کے علاوہ جو دیگر عبادات ہیں یہ حکم ان سب عبادات کو شامل ہوگیا (وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ ) (اور خیر کے کام کرو) اس کا عموم تمام نیک اعمال کو شامل ہے اور جانی عبادات اور فرائض واجبات، مکارم اخلاق، محاسن افعال، محاسن آداب، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے احکام سب کو حکم شامل ہے (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی امید رکھو۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ سجدہ کی آیت ہے اور امام ابوحنیفہ و امام مالک ; کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت نہیں ہے فریقین کے دلائل شروح حدیث و شروح فقہ میں مذکور ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

90:۔ ” یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ مضامین سورت کا بالاجمال اعادہ ہے۔ ” اِرْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا الخ “ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو متصرف و کارساز سمجھو صرف اسی کو پکارو اور نذریں منتیں بھی اسی کے نام کی والغرض ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کرو اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو۔ اعبدوہ ولا تعبدوا غیرہ (کبیر ج 6 ص 263) ۔ ” وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ الخ “ اور اللہ تعالیٰ کے باقی تمام احکام بجا لاؤ۔ کیونکہ اللہ توحید اور اس کے احکام کی پیروی ہی پر نجات اخروی اور فلاح سرمدی موقوف ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(77) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور بھلے کام کرتے رہا کرو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے یعنی عقائد اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد اور اعمال بھی بجالائو نماز اداکرو رکوع اور سجدہ کرو جو ارکانِ نماز ہیں اور یہ عبادت صرف اپنے پروردگار کی کیا کرو یعنی نماز میں کسی دوسرے کی شرکت نہ ہو، ہر عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہو اور فرائض و واجبات کے علاوہ اور بھی اعمال خیر اور بھلے کام کرتے رہو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگے۔