Surat ul Mominoon
Surah: 23
Verse: 10
سورة المؤمنون
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
Those are the inheritors
یہی وارث ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
Those are the inheritors
یہی وارث ہیں ۔
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔۔ : ان سات صفات کے مالک فردوس کے وارث ہوں گے۔ انھیں وارث کہنے کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وراثت کسی چیز کے حق دار ہونے کا سب سے مضبوط سبب ہے، یعنی یہ لوگ جنت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ جنت ان کے والد مکرم آدم (علیہ السلام) کی ملکیت تھی، جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کی اولاد جو یہ اعمال کرے گی اپنے والد کی جائداد کی وارث ہوگی۔ تیسری وجہ حدیث میں آئی ہے، ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَہُ مَنْزِلَانِ ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّۃِ ، وَ مَنْزِلٌ فِي النَّارِ ، فَإِذَا مَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَرِثَ أَھْلُ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَہُ ، فَذٰلِکَ قَوْلُہُ تَعَالٰی : (ۘاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب صفۃ الجنۃ : ٤٣٤١۔ صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٢٢٧٩ ] ” تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں، ایک گھر جنت میں اور ایک گھر آگ میں۔ پھر اگر کوئی فوت ہوجائے اور آگ میں چلا جائے تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں، سو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا : (ۘاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ) ۔ “ ” الْفِرْدَوْسَ “ لغت میں وسیع باغ کو کہتے ہیں، جس میں کئی قسم کے باغات ہوں، جن میں ہر طرح کے پھل دار درخت خصوصاً انگور اور خوشبو دار پھول کثرت سے ہوں۔ قرآن میں مذکور فردوس کی تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آئی ہے، ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَ أَعْلَی الْجَنَّۃِ ، أُرَاہُ قَالَ : وَ فَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَ مِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین۔۔ : ٢٧٩٠ ] ” جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنت کا اوسط اور جنت کا اعلیٰ (سب سے بلند) حصہ ہے۔ “ راوی حدیث کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں پھر یوں فرمایا : ” اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ اوسط کا معنی افضل بھی ہے اور سب سے درمیان بھی۔ شاید درمیان سے مراد یہ ہو کہ وہ طول و عرض کے لحاظ سے جنت کے عین درمیان ہے اور بلندی کے لحاظ سے جنت کی سب سے بلند منزل ہے۔
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ Those are the inheritors who will inherit Firdaus (Paradise) - 23:10, 11. The good Muslims who possess the attributes described above have been declared in this verse to be the heirs to the garden of Paradise. There is a suggestion here that just as the assets of a deceased person must devolve on his heirs, similarly the possessors of these attributes will, without doubt, enter Paradise. It should be noted that the possessors of these seven qualities have been mentioned in the beginning as those who attain falah or success, then after describing these qualities it is mentioned in this last sentence that possessors of these qualities will inherit Paradise. This indicates that the total falah (success) may be achieved in Paradise only.
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ، الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ، اوصاف مذکورہ کے حامل لوگوں کو اس آیت میں جنت الفردوس کا وارث فرمایا ہے۔ لفظ وارث میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کے وارث کو پہنچنا قطعی اور لازمی ہے اسی طرح ان اوصاف والوں کا جنت میں داخلہ یقینی ہے اور قد افلح کے بعد اوصاف مفلحین پورے ذکر کرنے کے بعد اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ فلاح کامل اور اصلی فلاح کی جگہ جنت ہی ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ ١٠ۙ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً : قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ أَبَواهُ [ النساء/ 11] ، وَعَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ [ البقرة/ 233] ويقال : أَوْرَثَنِي الميّتُ كذا، وقال : وَإِنْ كانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً [ النساء/ 12] وأَوْرَثَنِي اللهُ كذا، قال : وَأَوْرَثْناها بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 59] ، وَأَوْرَثْناها قَوْماً آخَرِينَ [ الدخان/ 28] ، وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ [ الأحزاب/ 27] ، وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الآية [ الأعراف/ 137] ، وقال : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّساءَ كَرْهاً [ النساء/ 19] ويقال لكلّ من حصل له شيء من غير تعب : قد وَرِثَ كذا، ويقال لمن خُوِّلَ شيئا مهنّئا : أُورِثَ ، قال تعالی: وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوها[ الزخرف/ 72] ، أُولئِكَ هُمُ الْوارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ [ المؤمنون/ 10- 11] وقوله : وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ [ مریم/ 6] فإنه يعني وِرَاثَةَ النّبوّةِ والعلمِ ، والفضیلةِ دون المال، فالمال لا قدر له عند الأنبیاء حتی يتنافسوا فيه، بل قلّما يقتنون المال ويملکونه، ألا تری أنه قال عليه الصلاة ( ور ث ) الوارثۃ ولا رث کے معنی عقد شرعی یا جو عقد کے قائم مقام ہے اوکے بغیر کسی چیز کے ایک عقد کے قائم مقام ہے کے بغیر کسی چیز کے ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دسرے کی ملکیت میں چلے جانا کئے ہیں اسی سے میت کی جانب سے جو مال ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے اسے اذث تراث اور کیراث کہا جاتا ہے اور تراث اصل میں وراث ہے واؤ مضموم کے شروع میں آنے کی وجہ سے اسے تا سے تبدیل کرلو اسے چناچہ قرآن میں سے ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] اور حج کے موقعہ پر آنحضرت نے فرمایا : ۔ کہ اپنے مشاعر ( مواضع نسکہ ) پر ٹھہرے رہو تم اپنے باپ ( ابراہیم کے ورثہ پر ہو ۔ تو یہاں ارث کے معنی اصل اور بقیہ نشان کے ہیں ۔۔ شاعر نے کہا ہے ( 446 ) فینظر فی صحف کالریا فیھن ارث کتاب محی وہ صحیفوں میں تالت باندھنے والے کی طرح غور کرتا ہے جن میں کہ مٹی ہوئی کتابت کا بقیہ ہے ۔ اور محاورہ میں ورث مالا عن زید وو رثت زیدا ( میں زید کا وارث بنا دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے ۔ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ [ النساء/ 11] اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں ۔ وَعَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ [ البقرة/ 233] اور اسی طرح نان ونفقہ بچے کے وارث کے ذمہ ہے يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّساءَ كَرْهاً [ النساء/ 19] مومنوں تم کو جائز نہیں ہے کہ زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ ۔ اور اوثنی المیت کذا کے معنی ہیں میت نے مجھے اتنے مال کا وارث بنایا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً [ النساء/ 12] اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا ۔ اور اور ثنی اللہ کذا کے معنی کسی چیز کا وارث بنا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَأَوْرَثْناها بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 59] اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا ۔ وَأَوْرَثْناها قَوْماً آخَرِينَ [ الدخان/ 28] اور ان کی زمین کا تم کو وارث بنایا : ۔ وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ [ الأحزاب/ 27] اور جو لوگ ( کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو وارث کردیا ۔ وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الآية [ الأعراف/ 137] ہر وہ چیز جو بلا محنت ومشقت حاصل ہوجائے اس کے متعلق ورث کذا کہتے ہیں اور جب کسی کو خوشگوار چیز بطور دی جانے تو اورث کہا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوها[ الزخرف/ 72] اور یہ جنت جس کے تم مالک کردیئے گئے ہو
مومنین کے خاص سات اوصاف بیان فرمانے کے بعد (جن میں اول نمبر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا اور آخر میں نماز کی پابندی کرنا ہے) ان مومنین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ وہ لوگ ہیں جو فردوس کے وارث ہونگے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اچھا اور سب سے بلند مقام ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں۔ (رواہ البخاری)
10:۔ ” اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الخ “ یہ مومنون کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” اُولٰئِکَ “ سے ” المومنون “ مراد ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف ثلٰثہ سے متصف ہوں یعنی خداوند تعالیٰ سے ڈرتے رہیں۔ ہر قسم کے شرک اور ہر قسم کے ظلم سے بچتے رہیں ایسے مومن ہی جنت الفردوس کے مستحق اور وارث ہیں ” ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ “ اور وہ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت فنا ہوگا نہ جنتی فنا ہوں گے اور نہ انہیں اس سے نکالا ہی جائے گا۔ ومعنی الکلام لا یموتون ولا یخرجون منھا (روح ج 18 ص 12) عذاب سے بچنے کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کرنے کے بعد آگے اصل دعوے پر دلائل کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔