Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 54

سورة المؤمنون

فَذَرۡہُمۡ فِیۡ غَمۡرَتِہِمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۵۴﴾

So leave them in their confusion for a time.

پس آپ ( بھی ) انہیں انکی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ ... So, leave them in their error, meaning their misguidance, ... حَتَّى حِينٍ for a time. means, until the appointed time of their destruction comes. This is like the Ayah: فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً So give a respite to the disbelievers; deal gently with them for a while. (86:17) And Allah says: ذَرْهُمْ يَأْكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلْهِهِمُ الاٌّمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ Leave them to eat and enjoy, and let them be preoccupied with (false) hope. They will come to know! (15:3) أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

541گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ : یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَذَرْہُمْ فِيْ غَمْرَتِہِمْ حَتّٰى حِيْنٍ۝ ٥٤ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] «1» . ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ غمر أصل الغَمْرِ : إزالة أثر الشیء، ومنه قيل للماء الکثير الذي يزيل أثر سيله، غَمْرٌ وغَامِرٌ ، قال الشاعر : 342- والماء غَامِرُ جدّادها «1» . وبه شبّه الرّجل السّخيّ ، والفرس الشّديد العدو، فقیل لهما : غَمْرٌ كما شبّها بالبحر، والغَمْرَةُ : معظم الماء الساترة لمقرّها، وجعل مثلا للجهالة التي تَغْمُرُ صاحبها، وإلى نحوه أشار بقوله : فَأَغْشَيْناهُمْ [يس/ 9] ، ونحو ذلک من الألفاظ قال : فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ [ المؤمنون/ 54] ، الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ ساهُونَ [ الذاریات/ 11] ، وقیل للشَّدائِد : غَمَرَاتٌ. قال تعالی: فِي غَمَراتِ الْمَوْتِ [ الأنعام/ 93] ، ورجل غَمْرٌ ، وجمعه : أَغْمَارٌ. والغِمْرُ : الحقد المکنون «2» ، وجمعه غُمُورٌ والْغَمَرُ : ما يَغْمَرُ من رائحة الدّسم سائر الرّوائح، وغَمِرَتْ يده، وغَمِرَ عِرْضُهُ : دنس، ودخل في غُمَارِ الناس وخمارهم، أي : الذین يَغْمُرُونَ. والْغُمْرَةُ : ما يطلی به من الزّعفران، وقد تَغَمَّرْتُ بالطّيب، وباعتبار الماء قيل للقدح الذي يتناول به الماء : غُمَرٌ ، ومنه اشتقّ : تَغَمَّرْتُ : إذا شربت ماء قلیلا، وقولهم : فلان مُغَامِرٌ: إذا رمی بنفسه في الحرب، إمّا لتوغّله وخوضه فيه کقولهم يخوض الحرب، وإمّا لتصوّر الغَمَارَةِ منه، فيكون وصفه بذلک کو صفه بالهوج «3» ونحوه . ( غ م ر ) الغمر ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کے اثر کو زائل کردینے کے ہیں ۔ اسی سے غمرۃ غامر اس زیادہ پانی کو کہتے ہیں جس کا سیلاب ہر قسم کے اثرات کو چھپا کر زائل کردے شاعر نے کہا ہے ( المتقاریب ( 330 ) والماء غامر خدا دھا اور پانی اپنے گڑھوں کو چھپانے والا تھا ۔ اسی مناسبت سے فیاض آدمی اور تیز رو رگھوڑی کو بھی غمر کہا جاتا ہے جس طرح کہ تشبیہ کے طور پر اسے بحر کہہ دیا جاتا ہے اور غمرۃ اس پانی کثیر کو کہتے ہیں جس کی اتھا ہ نظڑ نہ آئے ۔ اور یہ اس جہالت کے لئے ضرب المثل ہے جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور قرآن پاکنے وغیرہ الفاظ سے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ [ المؤمنون/ 54] تو ان کو ۔۔۔۔ ان کی غفلت ہی میں رہنے دو ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ ساهُونَ [ الذاریات/ 11] جو بے خبر ی میں بھولے ہوئے ہیں ۔ اور غمرات کے معنی شدائد کے ہیں ( کیونکہ وہ بھی انسان پر ہجوم کر کے اسے بد حواس کردیتے ) ہیں فرمایا : ۔ فِي غَمَراتِ الْمَوْتِ [ الأنعام/ 93]( جب موت کی سختی میں ۔ اور نا تجربہ کار آدمی کو بھی غمر کہا جاتا ہے والجمع اغمار نیز غمر کے معنی پوشیدہ کینہ کے بھی آتے ہیں ۔ والجمع غمور اور غمر کے معنی چربی کی بدبو کے آتے ہیں جو تمام چیزوں کی بو پر غالب آجاتی ہے غمرت یدہ اس کا ہاتھ میلا ہوگیا غمر عر ضہ اس کی عزت پر بٹہ لگ گیا محاورہ ہے ۔ وہ لوگوں کے ہجوم میں داخل ہوگیا ۔ الغمرۃ زعفران سے تیار کیا ہوا طلا جو چہرے پر ملتے ہیں تغمرت باالطیب میں نے ( اپنے چہرہ پر ) زعفرانی خوشبو اور پانی پینے کے چھوٹے پیا لے کو غمر کہا جاتا ہے اسی سے تغمرت ہے جس کے معنی تھوڑا سا پانی پینے کے ہیں اور کسی شخص کو مغافر اس وقت کہتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو لڑائی کی آگ میں جھونک دے اور یہ یا تو دشمن کی صفوں میں گھسنے کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ فلان یخوض الحرب کا محاورہ ہے اور یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے اور اس صؤرت میں اسے مغافر کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ اناڑی آدمی کو ھوج وغیرہ کہا جاتا ہے ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٤) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کو ان کی جہالت میں نزول عذاب کے وقت تک یعنی بدر کے واقعہ تک یوں ہی رہنے دیجیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. There is a gap between (verses 53 and 54), which has been left to the listener to fill, because the background of the whole discourse itself helps to fill it. Five years had passed since the Prophet (peace be upon him) had been inviting his people to the original religion. He had left no stone unturned to convince them by reasoning and by historical evidence that his message was based on the truth. His people had seen the practical results of the acceptance of his message and had witnessed his own high character which was by itself a guarantee that he was a trustworthy man. But in spite of all this, his people were rejoicing in their erroneous beliefs which they had inherited from their forefathers. This was not all. They had become his bitter enemies and were trying to defeat him and his message by every wicked machination. After filling the gap, the meaning of (verse 51) becomes quite clear. It does not mean that the Prophet (peace be upon him) should give up his preaching and leave the disbelievers to themselves. This way of address has been employed to shake and rouse the disbelievers. This verse warns them to realize that the time was coming near when they would see for themselves that the Messenger was in the right and they were in the wrong.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :49 پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک خلا ہے جسے بھرنے کے بجائے سامع کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہے ، کیونکہ اس کو تقریر کا پس منظر خود بھر رہا ہے ۔ پس منظر یہ ہے کہ خدا کا ایک بندہ پانچ چھ سال سے لوگوں کو اصل دین کی طرف بلا رہا ہے ، دلائل سے بات سمجھا رہا ہے ، تاریخ سے نظیر پیش کر رہا ہے ، اس کی دعوت کے اثرات و نتائج عملاً نگاہوں کے سامنے آ رہے ہیں ، اور پھر اس کا ذاتی کردار بھی اس امر کی ضمانت دے رہا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد آدمی ہے ۔ مگر اس کے باوجود لوگ صرف یہی نہیں کہ اس باطل میں مگن ہیں جو ان کو باپ دادا سے ورثے میں ملا تھا ، اور صرف اس حد تک بھی نہیں کہ وہ اس حق کو مان کر نہیں دیتے جو روشن دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ، بلکہ وہ ہاتھ دھو کر اس داعی حق کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور ہٹ دھرمی ، طعن ، ملامت ، ظلم ، جھوٹ ، غرض کوئی بری سے بری تدبیر بھی اس کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کر نے سے نہیں چوکتے ۔ اس صورت حال میں اصل دین حق کی وحدت ، اور بعد کے ایجاد کردہ مذاہب کی حقیقت بیان کرنے کے بعد یہ کہنا کہ چھوڑو انہیں ، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ، خود بخود اس معنی پر دلالت کرتا ہے کہ اچھا ، اگر یہ لوگ نہیں مانتے اور اپنی گمراہیوں ہی میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو چھوڑو انہیں ۔ اس چھوڑو کو بالکل لفظی معنوں میں لے کر یہ سمجھ بیٹھنا کہ اب تبلیغ ہی نہ کر ، کلام کے تیوروں سے نا آشنائی کا ثبوت ہو گا ۔ ایسے مواقع پر یہ بات تبلیغ و تلقین سے روکنے کے لیے نھیں بلکہ غافلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کہی جایا کرتی ہے ۔ پھر ایک وقت خاص تک کے الفاظ میں ایک بڑی گہری تنبیہ ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ غفلت کا یہ استغراق زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے گا ، ایک وقت آنے والا ہے جب یہ چونک پڑیں گے اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ بلانے والا جس چیز کی طرف بلا رہا تھا وہ کیا تھی اور یہ جس چیز میں مگن تھے وہ کیسی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:54) فذرہم۔ پس چھوڑ ان کو۔ پس رہنے دے ان کو۔ ذر۔ وزر سے (سمع فتح) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اس کی ماضی نہیں آتی۔ یہاں خطاب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب ہے جس کا مرجع اہل قریش یا جملہ کفار مکہ ہیں۔ غمرتہم۔ مضاف مضاف الیہ ای جھا لتہم او حیرتہم او غفلتہم او ضلالتہم۔ بقول صاحب مفردات غمرۃ اس پانی کثیر کو کہتے ہیں جس کی تہ نظر نہ آئے اور یہ اس جہالت کے لئے ضرب المثل ہے جو آدمی پر جھا جاتی ہے۔ اور قرآن نے فاغشینہم وغیرہ الفاظ سے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حتی حین۔ کچھ وقت تک۔ ای الی وقت موتہم۔ ان کی موت تک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47:۔ ” فَذَرْھُمْ الخ “ یہ مشرکین قریش پر شکوی ہے بطور زجر۔ یعنی مشرکین قریش بھی ان لووں سے کم نہیں ہیں انہوں نے بھی دین کے معاملے میں گروہ بندی کر رکھی ہے وہ خالص شرک کو اپنا دین سمجھتے ہیں اور پھر اس پر خوش بھی ہیں فرمایا ایسے واضح اور روشن دلائل کے باوجود بھی اگر وہ نہیں مانتے تو آپ انہیں ان کے حال پر چھور دیں اور انہیں ایک وقت تک غفلت میں پڑے رہنے دیں جب ہم نے انہیں پکڑ لیا اس وقت ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں سے غفلت کے پردے خود بخود اٹھ جائیں گے لیکن اس وقت حق کو سمجھنے اور ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(54) پس اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو ان کی غفلت میں ایک وقت خاص تک چھوڑ دیجئے اور پڑا رہنے دیجئے غمرہ اصل میں اس ڈبائو پانی کو کہتے ہیں جو گلے گلے تک آجائے اور انسان کو بچنے کی توقع نہ رہے یہاں ان کی جہالت اور غفلت کو اس ڈبائو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے گویا غفلت و جہالت نے ان کے ہوش ہو حواس ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرح کھو رکھے ہیں لہٰذا آپ ان کو نظرانداز کیجئے اور اپنے قلب کو بلاوجہ ان کی فکر میں مبتلا نہ کیجئے۔ ایک وقت خاص فرمایا موت کے وقت کو یا قتل کے وقت کو یا عذاب آنے تک۔ اس آیت میں کفار کو تنبیہہ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ظاہر کی گئی ہے چونکہ کفار اپنے عیش و تنعم اور کثرت اموال و اولاد اور عذاب کی تاخیر کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھتے تھے آگے اس کا جواب فرمایا۔