Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 25

سورة النور

یَوۡمَئِذٍ یُّوَفِّیۡہِمُ اللّٰہُ دِیۡنَہُمُ الۡحَقَّ وَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِیۡنُ ﴿۲۵﴾

That Day, Allah will pay them in full their deserved recompense, and they will know that it is Allah who is the perfect in justice.

اس دن اللہ تعالٰی انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالٰی ہی حق ہے ( اور وہی ) ظاہر کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَيِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ ... On that Day Allah will pay Dinahum, Ibn Abbas said, دِينَهُمُ (Dinahum), "Meaning `their account.' Every time Dinahum appears in the Qur'an it means `their account."' This was also the view of other scholars. ... وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ and they will know that Allah, He is the Manifest Truth. means, His promise, His threat and His reckoning are all just and there is no unfairness in them.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] دین کا لفظ چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے (١) اللہ کی خالصتؤہ اور مکمل حاکمیت (٢) بندے کی خالصتؤہ اور مکمل عبودیت (٣) قانون سزا و جزاء اور (٤) قانون جزا و سزا کا عملاً نفاذ۔ اس آیت میں دین تیسرے اور چوتھے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ اہل عرب کہتے ہیں کما تدین تدن (یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ جو ان مجرموں کو بدلہ دے گا۔ وہ ٹھیک ٹھیک جزا و سزا کے اس قانون کے مطابق ہوگا۔ جس کا ذکر قرآن میں بیشمار مقامات مذکور ہے۔ اور ہر شخص کو واضح طور پر یہ معلوم ہوجائے گا کہ اسے جو سزا دی جارہی ہے فی الواقعہ وہ اللہ کے قانون عدل کے مطابق اسی سزا کا مستحق تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ ۔۔ : ” دِيْنَهُمُ “ سے مراد جزا ہے، کیونکہ وہی پوری دی جائے گی۔ دوسری جگہ فرمایا : (ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى) [ النجم : ٤١ ] ” پھر اسے اس کا بدلا دیا جائے گا، پورا بدلا۔ “ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ : اللہ تعالیٰ کی صفت ” الْحَقُّ “ کے دو معنی ہیں، ایک معنی ” ثابت “ ہے، کیونکہ اس کی ذات ہمیشہ سے ہے، نہ اس پر پہلے عدم ہے اور نہ اس پر کبھی فنا ہے، دوسری کسی چیز میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ لفظ ” اَللّٰه “ اور اس کی خبر ” الْحَقُّ “ پر الف لام آنے سے اور ان دونوں کے درمیان ” ھُوْ “ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، باقی سب باطل ہیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں باطل ہے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَھَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیْدٍ : أَلَا کُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ ) [ بخاري، مناقب الأنصار، باب أیام الجاھلیۃ : ٣٨٤١ ] ” سب سے سچی بات جو شاعر نے کہی ہے، وہ لبید کی بات ہے کہ سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ “ ” حق “ کا دوسرا معنی عدل و انصاف ہے، مراد ” ذُو الْحَقِّ أَيْ ذو الْعَدْلِ “ ہے، یعنی عدل و انصاف والا ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ بول کر مراد ” ذُوالْعَدْلِ “ لیتے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بہتان لگانے والوں کو ان کا صحیح بدلا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو حق فیصلہ کرنے والا ہے، سچ کو سچ ظاہر کرنے والا ہے۔ کیونکہ دوسرے حاکم حق فیصلہ کریں بھی تو اس میں خطا اور کوتاہی کا امکان رہتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جس کا ہر فیصلہ حق ہے۔ 3 اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ” اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ ۔۔ “ سے مراد کفار و منافقین ہی ہیں، کیونکہ مومن کو تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے ” الْحَقُّ الْمُبِيْنُ ‘ ہونے کا علم ہے، اس لیے اگر اس سے بہتان کی غلطی سرزد ہوجائے تو وہ اللہ کے خوف سے توبہ کرلیتا ہے، جبکہ کافر اور منافق اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے بہتان باندھنے پر جمے رہتے ہیں، انھیں قیامت کو اللہ تعالیٰ کے ” الْحَقُّ الْمُبِيْنُ “ ہونے کا علم ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْہِمُ اللہُ دِيْنَہُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ الْمُبِيْنُ۝ ٢٥ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥) اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور اس روز ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیا میں فرمایا تھا وہ حق ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥ (یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ ) ” یہاں پر لفظ ” دین “ بدلے کے معنی میں آیا ہے ‘ جیسے سورة الفاتحہ میں ” یَوْمِ الدِّیْنِ “ کے معنی ہیں ” بدلے کا دن۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:25) یوفیہم اللہ۔ یوفی فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ توفیۃ تفعیل سے مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اللہ فاعل۔ اللہ ان کو پورا پورا دے گا۔ دینہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یوفی کا مفعول ثانی۔ بمعنی جزا ان کا بدلہ۔ الحق۔ منصوب بوجہ صفت دین موصوف کے۔ پورا پورا۔ واجب۔ جس کے وہ مستحق ہیں یعنی اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا۔ الحق المبین۔ یعنی ٹھیک ٹھیک صحیح فیصلہ کرنے والا۔ اور ہر امر کے پہلو کو ب وضاحت تامہ بیان کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی سچ کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ واضح رہے کہ قرآن میں ہر مقام پر ” دینھم “ کے معنی حسابہم کے ہیں۔ (ابن کثیر، عبن ابن عباس)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہ آیتیں غیر تائبین کے بارے میں ہیں کہ نزول آیت کے بعد بھی اعتقاد افک سے باز نہیں آئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق (٢٤ : ٢٥) ” اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں “۔ اور اس دن اللہ ان کو شرمندہ کرے گا ‘ اور یہ ان کی مناسب سزا ہوگی کیونکہ انہوں نے بےگناہوں کو شرمندہ کیا تھا۔ ان کا پورا پورا حساب ان کو دیا جائے گا اور اس دن ان کو پھر ان باتوں کا یقین آجائے گا جن کا انہیں یقین نہ آرہا تھا۔ ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین ” اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ حق ہے سچ کو سچ کو کر دکھانے والا “۔ واقعہ افک کے اس سلسلہ کلام کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار دیا ہے اور جو لوگوں کی عملی زندگی میں موجود ہے اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ایک خبیث نفس کا جوڑ خبیث نفس سے ہوتا ہے اور ایک طیب اور پاک نفس کا جوڑ پاک نفس سے ہوتا ہے اس اصول کے مطابق یہی ممکن ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کا جوڑ پاک ترین نفس سے ہوجائے ‘ لہذا ان لوگوں کا یہ الزام اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ قدرت کی تقسیم میں عائشہ صدیقہ (رض) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصے میں آئیں اس لیے وہ طیبہ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیہِمْ اللّٰہُ ) (الایۃ) اس روز اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا بدلہ دے دیگا جو ان کا واقعی بدلہ ہوگا۔ یہ بدلہ عذاب کی صورت میں سامنے آئے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ صحیح اور ٹھیک فیصلہ دینے والا ہے اور وہ حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ یہاں دنیا میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے اعمال کا محاسبہ نہیں ہوگا یہ اس کی جہالت اور ضلالت کی بات ہے قیامت کے دن جب محاسبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے سامنے آجائیں گے جو بالکل حق اور صحیح ہونگے، مجرمین یہ جان لیں گے کہ ہمارا یہ سمجھنا کہ ہماری حرکتوں کا کسی کو پتہ نہ چلے گا غلط نکلا اللہ تعالیٰ نے سب کو ظاہر فرما دیا۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں ہیں جنہوں نے آیات برأت نازل ہونے کے بعد بھی توبہ نہ کی اور تہمت والی بات سے باز نہ آئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) اس دن یہ لوگ جس سزا کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ وہ سزا ان کو پوری پوری دے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا اور وہ یہ بات جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات برحق ہے اور وہی ہر بات کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے بعض مفسرین نے ان آیتوں کو عموم پر حمل کیا ہے کہ جو لگ عفائف اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کے لئے ان آیتوں میں وعید بیان کی گئی ہے اور بعض مفسرین نے بیوی عائشہ صدیقہ (رض) کے ساتھ آیتوں کا تعلق ظاہر کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو عائشہ صدیقہ (رض) کی برات نازل ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف تہمت کا اظہار کریں گے او عیب لگائیں گے ان ک سزا یہ ہوگی کہ وہ دارین میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور رہیں گے اور قیامت میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں سب ان کی بداعمالی پر شہادت دیں گے اور اس دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا اور ہر بات کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اس تقدیر پر ان آیات سے وہ منافق مراد ہوں گے جو باوجود نزول برات کے پھر بھی حضرت عائشہ (رض) کی شان میں گستاخیوں سے باز نہیں آتے۔ جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے حمایتی بہرحال جو مخلص مسلمان اپنی نادانی سے اس بہتان میں شریک ہوگئے تھے ان کی توبہ قبول فرما کر ان کو بچالیا اور منافقوں کیلئے وعید فرمائی اور محصنات فرمایا اگرچہ صرف حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی تھی لیکن حضرت عائشہ (رض) کی تہمت کا اثر ازواج مطہرات پر بھی پڑا بلکہ انبیائے سابقین کی عورتوں پر بھی یہ شبہ کیا جانے لگا کہ کا نبی کی عورت بدکار ہوسکتی ہے حالانکہ بعض نبیوں کی بیویوں کا کافر ہونا تو ثابت ہے لیکن کسی پیغمبر کی بیوی کا بدکار ہونا ثابت نہیں ولاینبغی لا مراۃ تحت نبی ان تفجر۔ کوئی عورت جو کسی نبی کے نکاح میں ہو اس کا بدکار ہونا کسی طرح مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول مشہور ہے کہ کسی نبی کی عورت نے بدکاری کا ارتکاب نہیں کیا حضرت عائشہ (رض) کے خلاف جو طوفان اٹھایا گیا اس سے چونکہ علاوہ دیگر خاندانوں کے حضرات انبیاء کی بیویوں کی پوزیشن مشتبہ ہوتی تھی اس لئے جمع سے تعبیر فرمایا۔