Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 39

سورة النور

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَعۡمَالُہُمۡ کَسَرَابٍۭ بِقِیۡعَۃٍ یَّحۡسَبُہُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَہٗ لَمۡ یَجِدۡہُ شَیۡئًا وَّ وَجَدَ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ فَوَفّٰىہُ حِسَابَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿ۙ۳۹﴾

But those who disbelieved - their deeds are like a mirage in a lowland which a thirsty one thinks is water until, when he comes to it, he finds it is nothing but finds Allah before Him, and He will pay him in full his due; and Allah is swift in account.

اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں ہوجسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے ۔ اللہ بہت جلد حساب کر دینے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Two Examples of two kinds of Disbelievers These are two examples which Allah sets forth of two kinds of disbelievers. Similarly He sets forth two parables of the hypocrites at the beginning of Surah Al-Baqarah: one involving fire and the other involving water. Similarly, in Surah Ar-Ra`d He gives two parables of the guidance and knowledge that are instilled in the heart, again involving fire and water; we have discussed each of them in the appropriate place and there is no need to repeat it here, praise be to Allah. Allah says: وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْأنُ مَاء حَتَّى إِذَا جَاءهُ ... As for those who disbelieved, their deeds are like a mirage in a Qi`ah. The thirsty one thinks it to be water until he comes up to it, The first of these two examples is that of the disbelievers who call others to their disbelief, thinking that they have good actions and beliefs, when this is not in fact the case. Their likeness is that of a mirage which is seen in a desert plain, looking from a distance as if it is a deep sea. The word Qi`ah refers to a vast, flat, level area of land in which the mirage may appear. There are different kinds of mirage, one which appears after midday, and another which appears in the morning and looks like water between heaven and earth. If a person who is in need of water sees the mirage, he thinks that it is water so he heads towards it in order to drink from it, but when he reaches it, ... لَمْ يَجِدْهُ شَيْيًا ... he finds it to be nothing. Similarly the disbeliever thinks that he is doing something good and that he has achieved something, but when Allah judges him on the Day of Resurrection, and brings him to account and examines his deeds, he will find that nothing has been accepted at all, either because of a lack of sincere belief or because he did not follow the proper ways of the Shariah. As Allah says: وَقَدِمْنَأ إِلَى مَا عَمِلُواْ مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَأءً مَّنثُوراً And We shall turn to whatever deeds they did, and We shall make such deeds as scattered floating particles of dust. (25:23) And He says here: ... وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ but he finds Allah with him, who will pay him his due. And Allah is swift in taking account. A similar view was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Ibn Abbas, Mujahid, Qatadah and others. In the Two Sahihs, it is reported that on the Day of Resurrection it will be said to the Jews, "What did you used to worship!" They will say, "We used to worship `Uzayr the son of Allah." It will be said to them, "You have lied. Allah has not begotten a son. What do you want!" They will say, "O Lord, we are thirsty, give us something to drink." It will be said to them, "Do you not see!" Then Hell will be shown to them as if it is a mirage, parts of it consuming other parts, and they will go and fall into it. This is the parable of one whose ignorance is deep and advanced. As for those whose ignorance is simple, those who are uneducated and foolish and blindly follow the leaders of disbelief, knowing and understanding nothing, their parable is as Allah says:

دو قسم کے کافر یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں ۔ جیسے سورہ بقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں ۔ ایک آگ کی ایک پانی کی ۔ اور جیسے کہ سورہ رعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے ۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں ۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے ۔ فالحمد للہ یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں ۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے ۔ قیعہ جمع ہے قاع کی جیسے جار کی جمع جیرہ اور قاع واحد بھی ہوتا ہے اور جمع قیعان ہوتی ہے جیسے جار کی جمع جیران ہے ۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں ۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں ۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے ۔ جنگل میں جو پیاسا ہو ، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کر کے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے ۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام ونشان بھی نہیں ۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں ، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہوچکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے ۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہوچکے ہیں ، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں ۔ حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا ۔ چنانچہ بخاری ومسلم میں ہے کہ یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی ۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں ۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں ، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آرہا ہے ؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے ؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے ۔ یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی ۔ اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے ، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے ۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں ۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو ۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو ۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کاہے کہ نرے مقلد ہیں ۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے ؟ چنانچہ مثالا کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جارہا ہے ؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں ۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں ؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں ۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں ، اسی طرح کافر کے دل پر ، اس کے کانوں پر ، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے ۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے آیت ( اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة 23؀ ) 45- الجاثية:23 ) ، تو نے انہیں دیکھا ؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں ( ١ ) کلام ( ٢ ) عمل ( ٣ ) جانا ( ٤ ) آنا ( ٥ ) اور انجام سب اندھیروں میں ہیں ۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے ۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا آیت ( مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ١٨٦؁ ) 7- الاعراف:186 ) جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا ۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے ۔ اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کردے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے ۔ آمین ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] سراب اور شراب کا لغوی فرق : عربی زبان میں ہر مشروب یعنی پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور جو چیز بظاہر تو شراب نظر آئے مگر حقیقت اس کے برعکس ہو اسے سراب کہتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا استعمال اس تودہ ریت پر ہونے لگا جو دور سے ایک خاص زاویہ سے سورج کی روشنی میں ٹھاٹھیں مارتا پانی نطر آتا ہے مگر حقیقتاً وہاں پانی وانی کچھ نہیں ہوتا۔ عام کافروں اور منافقوں کی مثال : یہ مثال ایسے کافروں اور منافقوں سے تعلق رکھتی ہے جو فی الجملہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں۔ خواہ وہ نمودو نمائش کے لئے ہوں پھر انھیں یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ آخرت میں انھیں ان کا اجر ملے گا۔ اور چونکہ ان کے اکثر اعمال اللہ کی مرضی نہیں بلکہ ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا : کہ جس طرح کسی ریگستان میں ایک پیاسا دور سے چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف جاتا ہے تاکہ اس سے اپنی پیاس بجھائے۔ وہ پیاس کا مارا جب گرم ریت کا میدان طے کرکے دوڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے تو اسے وہاں کچھ نہیں ملتا۔ اور سخت مایوس اور درماندہ ہوجاتا ہے۔ یہی حال ایسے کافروں کا ہے۔ موت کا وقت ان کے لئے سراب ہے۔ اور وہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ انھیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ ملے گا۔ مگر کفر نفاق اور شامت اعمال کی بنا پر انھیں وہاں کچھ بھی ان کے اعمال کا بدلہ نہ ملے گا۔ اور جس طرح پیاسے کو سراب تک پہنچنے میں تھکاوٹ اور گرمی کی شدت بھی جھیلنا پڑی تھی اس طرح ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کا بدلہ جہنم کے عذاب کی صورت میں دیا جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ ۔۔ : ” سَرَابٌ“ چٹیل میدان یا ریگستانی صحرا میں دوپہر کے وقت سورج کی روشنی کی وجہ سے دور سے ایسا نظر آتا ہے جیسے پانی لہریں مار رہا ہو، اسے ” سراب “ کہتے ہیں، جو محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ ” قِیْعَۃٌ“ اور ” قَاعٍ “ دونوں کا معنی چٹیل میدان ہے۔ ” الظَّمْاٰنُ “ ” فَعْلَانُ “ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، معنی ہے سخت پیاسا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کے دل میں ہدایت کے نور کی مثال بیان فرمائی، اب کفار کے اعمال کے لیے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کے لیے آگ اور پانی کی مثال بیان فرمائی اور سورة رعد میں اس ہدایت اور علم کی جو دلوں میں جاگزین ہوجاتے ہیں، دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک پانی کی اور دوسری آگ کی۔ یہاں کفار کے اعمال کی دو مثالیں لفظ ” او “ کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ بعض اہل علم نے سراب والی مثال کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ کافر دو قسم کے ہیں، ایک وہ جو اپنے گمان کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے، جیسا کہ بیت اللہ کی خدمت، حاجیوں کو پانی پلانا، صدقہ و خیرات وغیرہ کرنا، حالانکہ ان کا کوئی بھی کام، اگرچہ وہ بظاہر اچھا ہی ہو، پھر بھی کفر کی شامت سے اللہ کے ہاں قبول و معتبر نہیں۔ ان لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کی جزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : ( اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ) [ الأحقاف : ٢٠ ] ” تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے۔ “ آخرت میں ان کے اعمال ” ھَبَاءً مَّنْثٗوْراً “ (بکھرا ہوا غبار) کردیے جائیں گے۔ (دیکھیے فرقان : ٢٣) دوسری جگہ ان کے اعمال کی مثال اس راکھ سے بیان فرمائی جس پر آندھی والے دن میں سخت ہوا چلی ہو۔ دیکھیے سورة ابراہیم (١٨) ۔ زیر تفسیر آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال کی مثال اس طرح ہے جیسے دوپہر کے وقت ایک سخت پیاسے شخص کو دور سے پانی دکھائی دے، جو دراصل سراب ہو، وہ سخت پیاس کی وجہ سے اسے پانی سمجھ کر وہاں پہنچے، تو وہاں پانی وغیرہ کچھ نہ ہو، بلکہ وہاں اس سے حساب کا تقاضا کرنے والے ہوں جو اسے پکڑ کر اپنے حساب میں باندھ لیں۔ اسی طرح کافر اپنے گمان میں اپنے اچھے کاموں کو قیامت کے دن فائدہ پہنچانے والے گمان کرتا ہے، مگر قیامت کے دن وہ سراب کی طرح بےحقیقت ہوجائیں گے اور جزا ملنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ سے سابقہ پیش آئے گا، جو اس سے اپنا حساب پورا لے گا۔ ” وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ “ یعنی اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں کو ہر چیز کا علم نہیں، نہ ان میں سے کوئی ایک وقت میں ایک سے زیادہ کا حساب لے سکتا ہے، اس لیے ان کے حساب میں تاخیر ہوجاتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کو پہلی پچھلی ہر چیز کا مکمل علم ہے، وہ کسی لکھنے پڑھنے کا محتاج نہیں اور وہ ایک لمحے میں ساری کائنات کا حساب بھی لے سکتا ہے، اس لیے وہ ” وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ “ ہے۔ اسے حساب میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ دوسری قسم کے کافر وہ ہیں جنھیں آخرت کی فکر ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ کوئی اچھا کام کریں، وہ سر سے پاؤں تک دنیا کی لذتوں میں غرق ہیں اور کفر و ضلالت، ظلم و جہل، خواہش پرستی اور اللہ کی نافرمانی میں غوطے کھا رہے ہیں۔ ان کی مثال آگے بیان فرمائی کہ ان کے پاس روشنی کی اتنی چمک بھی نہیں جتنی سراب پر دھوکا کھانے والے کو نظر آتی تھی۔ یہ لوگ خالص اندھیروں اور تہ بہ تہ ظلمات میں بند ہیں، روشنی کی کوئی شعاع کسی طرف سے ان تک نہیں پہنچتی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ كَسَرَابٍؚبِقِيْعَۃٍ يَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً۝ ٠ۭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَہٗ لَمْ يَجِدْہُ شَـيْــــًٔـا وَّوَجَدَ اللہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰىہُ حِسَابَہٗ۝ ٠ۭ وَاللہُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۝ ٣٩ۙ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ سرب السَّرَبُ : الذّهاب في حدور، والسَّرَبُ : الْمَكَانُ الْمُنْحَدِرُ ، قال تعالی: فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَباً [ الكهف/ 61] ، يقال : سَرَبَ سَرَباً وسُرُوباً «2» ، نحو مرّ مرّا ومرورا، وانْسَرَبَ انْسِرَاباً كذلك، لکن سَرَبَ يقال علی تصوّر الفعل من فاعله، وانْسَرَبَ علی تصوّر الانفعال منه . وسَرَبَ الدّمع : سال، وانْسَرَبَتِ الحَيَّةُ إلى جُحْرِهَا، وسَرَبَ الماء من السّقاء، وماء سَرَبٌ ، وسَرِبٌ: متقطّر من سقائه، والسَّارِبُ : الذّاهب في سَرَبِهِ أيّ طریق کان، قال تعالی: وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ [ الرعد/ 10] ، والسَّرْبُ : جمع سَارِبٍ ، نحو : رکب وراکب، وتعورف في الإبل حتی قيل : زُعِرَتْ سَرْبُهُ ، أي : إبله . وهو آمن في سِرْبِهِ ، أي : في نفسه، وقیل : في أهله ونسائه، فجعل السِّرْبُ كناية، وقیل : اذهبي فلا أنده سِرْبَكِ «3» ، في الکناية عن الطّلاق، ومعناه : لا أردّ إبلک الذّاهبة في سربها، والسُّرْبَةُ : قطعة من الخیل نحو العشرة إلى العشرین . والْمَسْرَبَةُ : الشّعر المتدلّي من الصّدر، السَّرَابُ : اللامع في المفازة کالماء، وذلک لانسرابه في مرأى العین، وکان السّراب فيما لا حقیقة له کا لشّراب فيما له حقیقة، قال تعالی: كَسَرابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ ماءً [ النور/ 39] ، وقال تعالی: وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ فَكانَتْ سَراباً [ النبأ/ 20] ( س ر ب ) السرب ( مصدر ن ) اس کے اصل معنی نشیب کی طرف جانے کے ہیں اور ( اسم کے طور پر ) نشیبی جگہ کو بھی سرب کہہ دیتے ہیں قرآن میں ہے ؛فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَباً [ الكهف/ 61] تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیا ۔ سرب ( ن ) سربا و سروبا ( جیسے مر مرا و مرورا ) اور انسرب ( انفعال ) کے ایک ہی معنی آتے ہیں لیکن سرب بالذات فاعل سے فعل صادر ہونے پر بولا جاتا ہے اور انسرب کبھی انفعالی معنی کے لحاظ سے بولا جاتا ہے یعنی وہ فعل جو دوسرے سے متاثر ہوکر کیا جائے ۔ سرب الدمع ( س) آنسو رواں ہونا ۔ انسرب الحیۃ الی حجرھا سانپ کا اپنے بل میں اتر جانا اسی طرح سرب ( س ) الماء من السقاء کے معنی مشکیزے سے پانی ٹپکنا کے ہیں اور وہ پانی جو مشکیزے سے ٹپک رہا ہو اسے ماء سرب و سرب کہتے ہیں ۔ السارب کسی راستہ پر ( اپنی مرضی سے ) چلا جانے والا ۔ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ [ الرعد/ 10] یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن ( کی روشنی ) میں کھلم کھلا چلے پھرے ۔ سارب کی جمع سرب آتی ہے ۔ جیسے رکب و راکب اور عرف میں اونٹوں کے گلہ کو سرب کہا جاتا ہے ۔ مثلا محاورہ ہے ۔ زعرت سربہ اس کے اونٹ ڈر کر متفرق ہوگئے ( یعنی بد حال ہوگیا ) اور ھو آمن فی سربہ ( وہ خوش حال ہے ) میں سرب کے معنی نفس کے ہیں اور بعض نے کنایتہ اہل و عیال مراد لیا ہے ۔ اسی سے کنایہ کے طور پر کہا جاتا ہے ۔ اذهبي فلا أنده سِرْبَكِ : جاؤ تجھے طلاق ہے اور اصل معنی یہ ہے کہ تمہارے اونٹ جدھر جانا چاہیں آزادی سے چلے جائیں میں انہیں نہیں روکونگا ۔ السربۃ : دس سے کے لے کر بیس تک گھوڑوں کی جماعت کو سربۃ ، ، کہا جاتا ہے ۔ المسربۃ ( بضمہ را ) سینہ کے درمیان کے بال جو نیچے پیٹ تک ایک خط کی صورت میں جلے جاتے ہیں ۔ السراب ( شدت گرما میں دوپہر کے وقت ) بیابان میں جو پانی کی طرح چمکتی ہوئی ریت نظر آتی ہے اسے ، ، سراب ، ، کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بظاہر دیکھنے میں ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے پانی بہہ رہا ہے پھر اس سے ہر بےحقیقت چیز کو تشبیہ کے طور پر سراب کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل جو چیز حقیقت رکھتی ہوا سے شراب کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَسَرابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ ماءً [ النور/ 39] جیسے میدان میں سراب کہ پیاسا اسے پانی سمجھے ۔ وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ فَكانَتْ سَراباً [ النبأ/ 20] اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب ہو کر رہ جائیں گے ۔ قيع قوله تعالی: كَسَرابٍ بِقِيعَةٍ [ النور/ 39] . والقِيعُ والْقَاعُ : المستوي من الأرض، جمعه قِيعَانٌ ، وتصغیره : قُوَيْعٌ ، واستعیر منه : قَاعَ الفحل الناقة : إذا ضربها . ( ق ی ع ) القیعتہ ۔ ہموار میدان ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَسَرابٍ بِقِيعَةٍ [ النور/ 39] جیسے میدان میں ریت ؛ القیح وا القاع کے معنی ہموار زمین کے ہیں ۔ اس کی جمع قیعان اور تصغیر توقع آتی ہے اور اسی سے قاع الفحل الناقتہ کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ناقہ کے ساتھ جفتی کرنے اور پوری طرح سوار ہوکر اس پر بیٹھ جانے کے ہیں ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ ظمأ الظِّمْءُ : ما بين الشّربتین، والظَّمَأُ : العطش الذي يعرض من ذلك . يقال : ظَمِئَ يَظْمَأُ فهو ظَمْآَنُ. قال تعالی: لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] ، وقال : يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ ماءً حَتَّى إِذا جاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئاً [ النور/ 39] . ( ظ م ء ) الظمئ ۔ دو مرتبہ پانی پینے کے درمیان کا وقفہ اظلماء پیاس جو اس وقفہ میں عارض ہو دراصل یہ ظمئ یظماء فھو ظمآن کا مصدر ہے ۔ قرآن میں ہے : لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] اور یہ کہ نہ پیا سے رہو اور نہ دہوپ کھاؤ ۔ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ ماءً حَتَّى إِذا جاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئاً [ النور/ 39] کہ پیاسا اسے پانی سمجھ کر اس کیطرف جاتا ہے مگر جب وہاں پہنچتا ہے تو کچھ نہیں پاتا ۔ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) اور جن لوگوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کیا تو ان کے اعمال کی آخرت میں یہ حالت ہوگی کہ جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کہ پیاسا آدمی اس کو دور سے پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب دوڑتا ہوا اس کے پاس اپنے گناہوں کی سزا پائے گا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے عذاب کے لیے مستعد پائے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پوری پوری سزا دے دی اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے یا یہ کہ جس کی میعاد آجاتی ہے تو پل بھر میں اس کے حساب کا فیصلہ کردیتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) ” یعنی اگر کسی شخص کا دل حقیقی ایمان سے محروم ہے تو خدمت خلق کے میدان میں اس کے کارناموں اور دوسرے نیک کاموں کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ ایسی نیکیاں تو گویا سراب (دھوکہ ) ہیں۔ جیسے صحرا میں ایک پیاسا شخص سراب (چمکتی ہوئی ریت) کو پانی سمجھتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے اعمال کو نیکیوں کا ڈھیرسمجھتے ہیں ‘ لیکن روز حساب ان پر اچانک یہ حقیقت کھلے گی کہ ان کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہیں پاسکا۔ سورة ابراہیم کی آیت ١٨ میں ایسے لوگوں کے اعمال کو راکھ کے اس ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جو تیز آندھی کی زد میں ہو۔ اس سلسلے کی دوسری مثال ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کی زندگیاں ایسی جھوٹ موٹ کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں اور ان کے باطن سرا سر شہوات نفس اور دنیا پرستی کی گندگی سے بھرے پڑے ہیں :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

70. That is, they refused to accept sincerely the divine message which was brought by the Prophets, and which at that time was being given by the Prophet Muhammad (peace be upon him). These verses clearly show that the truthful and righteous believers only can benefit from Allah’s Light. In contrast to them, the state of those people is being described here, who refused to believe and obey the Prophet (peace be upon him), who was the real and sole means of attaining the Light of Allah. 71. This parable describes the condition of those people who, in spite of disbelief and hypocrisy, practice some good deeds and also believe, among other things, in the life after death in the hope that their good deeds will be of some help to them in the Hereafter even if they did not believe and follow the Prophet and lacked the qualities of true believers. In this parable they are being told that their expectations of reaping benefits of their ostentatious deeds of virtue in the Hereafter are no more than a mirage. Just as a traveler in the desert takes the glittering sands for a surging pool of water and runs towards it for quenching his thirst, so are these people traveling on the road to death cherishing false hopes on account of their good deeds. But just as the one running towards a mirage does not find anything there to quench his thirst, so will these people find nothing to avail them when they enter the state of death. On the contrary, they will find Allah there, Who will require them to account for their disbelief, hypocrisy and misdeeds, which they committed along with their ostentatious deeds of virtue, and will deal with them in full justice.

سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :70 یعنی اس تعلیم حق کو بصدق دل قبول کرنے سے انکار کر دیا جو اللہ کی طرف سے اس کے پیغمبروں نے دی ہے اور جو اس وقت اللہ کے پیغمبر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے ۔ اوپر کی آیات خود بتا رہی ہیں کہ اللہ کا نور پانے والوں سے مراد سچے اور صالح مومن ہیں ۔ اس لیے اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی حلت بتائی جا رہی ہے جو اس نور کو پانے کے اصلی اور واحد ذریعے ، یعنی رسول ہی کا ماننے اور اس کا اتباع کرنے سے انکار کر دیں ، خواہ دل سے انکار کریں اور محض زبان سے اقراری ہوں یا دل اور زبان دونوں ہی سے انکاری ہوں ۔ سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :71 اس مثال میں ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو کفر و نفاق کے باوجود بظاہر کچھ نیک اعمال بھی کرتے ہوں اور فی الجملہ آخرت کے بھی قائل ہوں ، اور اس خیال خام میں مبتلا ہوں کہ ایمان صادق اور صفات اہل ایمان ، اور اطاعت و اتباع رسول کے بغیر ان کے یہ اعمال آخرت میں ان کے لیے کچھ مفید ہوں گے ۔ مثال کے پیرایے میں ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم اپنے جن ظاہری و نمائشی اعمال خیر سے آخرت میں فائدے کی امید رکھتے ہو ان کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں ہے ۔ ریگستان میں چمکتی ہوئی ریت کو دور سے دیکھ کر جس طرح پیاسا یہ سمجھتا ہے کہ پانی کا ایک تالاب موجیں مار رہا ہے اور منہ اٹھائے اس کی طرف پیاس بجھانے کی امید لیے ہوئے دوڑتا چلا جاتا ہے ، اسی طرح تم ان اعمال کے جھوٹے بھروسے پر موت کی منزل کا سفر طے کرتے چلے جا رہے ہو ۔ مگر جس طرح سراب کی طرف دوڑنے والا جب اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اسے تالاب نظر آ رہا تھا تو کچھ نہیں پاتا ، اسی طرح جب تم منزل موت میں داخل ہو جاؤ گے تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جس کا تم کوئی فائدہ اٹھا سکو ، بلکہ اس کے برعکس اللہ تمہارے کفر و نفاق کا ، اور ان بد اعمالیوں کا جو تم ان نمائشی نیکیوں کے ساتھ کر رہے تھے ۔ حساب لینے اور پورا پورا بدلہ دینے کے لیے موجود ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

35: ریگستان میں جو ریت چمکتا نظر آتا ہے، دور سے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اپنی ہو، اسے ’’ سراب‘‘ کہتے ہیں۔ جس طرح سفر کرتے ہوئے آدمیوں کو سراب دھوکا دیتا ہے کہ وہ اسے پانی سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ کچھ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح کافر لوگ جو عبادت نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، وہ سراب کی طرح ایک دھوکا ہے۔ 36: یہ مثال ان کافروں کی ہے جو آخرت کو مانتے ہیں، لیکن توحید اور رسالت کے منکر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن اعمال کے بارے میں یہ کافر لوگ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ ان کو آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، مرنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا پورا حساب دنیا میں چکا کر انہٰیں سزا کا مستحق قرار دیا ہے، اور اس طرح ان سارے کاموں نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٩۔ ٤٠:۔ عالم ارواح میں جن لوگوں نے نور ہدایت کا حصہ پایا ‘ اوپر ان کے نیک عملوں کا ذکر تھا کہ قیامت کے دن ان کے نیک عملوں کا اچھا بدلہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے لوگوں کو کچھ زیادہ بھی دیوے گا جو نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر ہوگا اب ان آیتوں میں ان لوگوں کے عملوں کی دو مثالیں بیان فرمائی جو عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے ‘ اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ‘ آخر وہ پیاسا مرجاتا ہے ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ جن اچھے لوگوں کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ اچھے لوگ اپنے پوجا کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کر کے ان کو عذاب دوزخ سے بچالیں گے ‘ لیکن قیامت کے دن جب وہ اچھے لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے تو وقت پر یہ ایسا ہی پچھتاویں گے جس طرح وہ پیاسا مسافر جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کے پاس پہنچ کر پچھتاتا ہے اور جس طرح پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آیا ‘ وہی حال قیامت کے دن ان لوگوں کا ہوگا ‘ کیونکہ ادھر تو سوائے اللہ تعالیٰ کے جن کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ان سے بیزار ہوجائیں گے اور ادھر اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہو کر شرک کا پورا حساب دینا پڑے گا اور دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں یہ لوگ حساب و کتاب کے دن کو جھٹلاتے تھے ‘ جب وہ دن ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا تو دنیا کی زندگی کو ایک دن یا پہر دو پہر کی زندگی خیال کریں گے اور پھر بےوقت یہ بات ان کی سمجھ میں اچھی طرح آجاوے گی کہ جس حساب کتاب کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت فرمایا تھا ‘ دنیا کی ناپائیدار زندگی کے حساب سے بہت ہی جلد گویا ایک دن یا پہر دو پہر میں اس وعدہ کا ظہور سر پر آگیا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس حدیث وَاللّٰہُ سَرِیْعَ الِحْسَابِ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے آگے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جب تمام دنیا کے حساب و کتاب کا لوح محفوظ میں لکھا جانا کچھ دیر طلب کام نہیں تھا تو دنیا کے پیدا ہوجانے اور ہر ایک کام کے ظہور کے بعد دنیا بھر کے نیک وبد کا حساب و کتاب اس کے علم غیب کے آگے کونسا دیر طلب کام ہوسکتا ہے ‘ دوسری مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی کشتی کا مسافر گہرے دریا کی گہرائی کے اندھیرے میں علاوہ موجوں اور گہرے ابر کے ایسے اندھیرے میں پھنس جاوے کہ اندھیرے کے مارے اس کو اپنا ہاتھ تک نہ سوجھے، اسی طرح یہ مشرک لوگ عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ اسی سبب سے دنیا میں شرک کی جہالت کا اندھیرا ان کے دل پر زندگی بھر چھایا رہا۔ پھر مرنے کے بعد دوزخ کے اندھیرے میں جا پڑیں گے ‘ حاصل یہ ہے کہ ہر حال میں ایسے لوگوں پر اندھیرے کے بادل چھائے ہوئے ہیں ‘ آخر کو فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق نور ہدایت سے محروم ہیں ان کا انجام بھی اندھیرے کے بادل میں ‘ عالم ارواح میں ایسے لوگوں کا اندھیرے میں رہ جانے کا حال تو صحیح روایتوں کے حوالہ سے ابھی اوپر گذر چکا ہے ‘ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی صحیح روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ کی طرح کا اندھیرا چھا جاتا ہے ‘ دوزخ کی آگ کے سیاہ ہونے کے حال میں ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ کی انس بن مالک کی صحیح ١ ؎ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ ان روایتوں کو ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ایسے لوگ نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہ کر عالم ارواح کے اندھیرے میں رہے اور پھر بغیر توبہ کے شرک کا اندھیرا ان کے دل پر زندگی بھر چھایا رہا اور مرنے کے بعد دوزخ کی سیاہ آگ کے اندھیرے میں جا پڑے۔ (١ ؎ نیز دیکھئے الترغیب والترہیب ص ٢٦٤ ج ٤ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:39) کسراب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ سراب (شدت گرما میں دوپہر کے وقت) بیابان میں جو پانی کی طرح چمکتی ہوئی ریت نظر آتی ہے اسے سراب کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ بظاہر دیکھنے ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے پانی بہہ رہا ہو۔ پھر اس سے ہر بےحقیقت چیز کو تشبیہ کے طور پر سراب کہا جاتا ہے۔ کسراب۔ سراب کی طرح۔ قیعۃ۔ القیعۃ۔ ہموار میدان ۔ صحرا۔ دشت بےآب۔ کسراب بقیعۃ جیسے میدان میں سراب۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے و سیرت الجبال فکانت سرابا (78:20) اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو کر رہ جائیں گے۔ الظمان۔ ظمیء یظما کا مصدر ہے۔ لیکن یہاں بروزن فعلان صیغہ صفت آیا ہے۔ یعنی پیاسا۔ تشنہ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وانک لا تظمؤ فیھا ولا تضحی (20:119) اور تو نہ وہاں پیاسا رہے اور نہ دھوپ کھائے۔ ظ م ء مادہ۔ جاء ہ۔ ای جاء الی ما توھم انہ مائ۔ وہ اس کے پاس آیا جسے وہ پانی خیال کرتا تھا۔ یا ہ ضمیر سے مراد موضع سراب ہے۔ وہ جگہ جہاں اسے پانی نظر آتا تھا۔ لم یجدہ۔ میں بھی ہ ضمیر کا مرجع پانی ہے یا موضع سراب۔ شیئا۔ یا تو ہ ضمیر کے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا لم یجد کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے۔ لم یجدہ شیئا اسے کچھ بھی نہ پایا۔ ووجد اللہ ۔ اس کا عطف جملہ لم یجد پر ہے اور یہ تشبیہ میں ہی شامل ہے۔ عندہ۔ میں ہ ضمیر کا مرجع ظمان ہے یا موضع سراب ہے۔ اپنے پاس۔ جائے سراب پر۔ ووجد اللہ عندہ۔ اور وہاں اس کے پاس (جائے سراب کے پاس) یا اپنے سامنے۔ اپنے نزدیک۔ اللہ کو پایا۔ (یعنی تڑپ کر مرگیا اور اپنے آپ کو اللہ کے حضور پایا) ۔ فوہ حسابہ۔ سو اللہ نے اس کا حساب پورا پورا چکا دیا۔ وفی یوفی توفیۃ (باب تفعیل) پورا پورا دینا۔ سریع الحساب۔ مضاف مضاف الیہ۔ بہت ہی جلدی حساب کردینے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ کفروا اوپر مومنوں کے اعمال کی حالت بیان کی ہے اور اب یہاں کفار کے اعمال کی حالت بیان کی جا رہی ہے لہٰذا یہ ایک قصے کا عطف دوسرے قصہ پر ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ایک پانی کی اور دوسری آگ کی، اور پھر سورة رعد میں اس علم و ہدایت کی آگ اور پانی سے دو مثالیں بیان فرمائیں جو لوگوں کے دلوں میں قرار یاب ہوتا ہے۔ اب یہاں دو قسم کے کفار (ایک لیڈر اور دوسرے ان کے مقلدین) کی دو مثالیں بیان کی جا رہی ہیں ایک سراب اور دوسری ظلمات کی۔ پہلی مثال ان کفار کی ہے جو کفر کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنے اعمال و اعتقادات کو قابل اعتماد سمجھتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ آخرت میں ان کی بہتر جزا ملے گی مگر دراصل ان کے اعمال سراب کی طرح بےحقیقت ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہل مرکب میں مبتلا ہیں اور آگے ان لوگوں کی مثال ظلمات سے بیان کی ہے جو جہل بسیط میں مبتلا ہیں اور ائمہ ٔ کفر کی تقلید کر رہے ہیں۔ (ابن کثیر) یہاں کفار کے اعمال ہی کی دو مثالیں بیان کی ہیں۔ پہلی مثال کا تعلق وجدان سے ہے اور دوسری کا رؤیت سے۔ امام جرجانی (رح) فرماتے ہیں۔ پہلی مثال کفار کے اعمال کی ہے جو اپنے گمان کے مطابق کچھ نیک اعمال، صدقہ و خیرات، خدمت بیت اللہ وغیرہ) کرتے ہیں۔ اس امید پر کہ آگے چل کر یہ ہمارے کام آئیں گے۔ مگر جب آخرت میں پہنچیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان نیکیوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ اور دوسری مثال نفس کفر کی ہے۔ پھر ان کفار کے حکم میں وہ فلاسفہ بھی داخل نہیں ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر ان کے عقائد و اعمال شریعت کے منافی ہیں۔ (شوکانی، شرح) واضح رہے کہ کفار کے اعمال کی تمثیل ” لم یجدہ شیئا “ پر تمام ہوجاتی ہے اس کے بعد ووجد انہوں نے بطور تکملہ ان کے بقیہ احوال کا بیان ہے۔ یعنی صرف اسی پر بس نہیں ہے کہ صرف یاس و قسوط اور ناکامی کا سامنا ہوگا بلکہ وہاں محاسبہ الٰہی سے انہیں ایسی بدحالی سے دوچار ہونا پڑے گا کہ اس کے مقابلے میں یاس و ناکامی کی کچھ حیثیت نہیں رہے گی۔ (روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صالح کردار اور بہتر انجام پانے والے نیک لوگوں کے ذکر کے بعد کفار کا تذکرہ۔ جن لوگوں نے توحید و رسالت اور آخرت کا انکار کیا بیشک وہ جس قدر اچھے اخلاق اور بہتر کردار کے حامل ہوں۔ ان کے اعمال کی مثال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہے۔ جسے پیاسا آدمی دور سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی سمجھتا ہے جب پیاس بجھانے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے تو تھکاوٹ اور مایوسی کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہی حال قیامت کے دن کافر اور مشرک کا ہوگا، جو دنیا میں یہ سمجھ کر فلاح و بہبود کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا رہا کہ اسے موت کے بعد بھی فائدہ پہنچے گا۔ لیکن عقیدہ توحید صحیح نہ ہونے، نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان نہ لانے اور آخرت کے حساب و کتاب پر یقین نہ رکھنے کی وجہ سے موت کے بعد اس کی حالت اس پیاسے شخص جیسی ہوگی جو پیاس سے تلملا تا ہوا پانی سمجھ کر سراب کی طرف گیا لیکن وہاں پہنچ کر اسے تھکاوٹ اور پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ بےانتہا پیاس کی شدّت اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے ہے اسے اپنی موت کا یقین ہوچکا ہے اب اسے ذات کبریا کے سوا کوئی سہارا نظر نہیں آتا گویا کہ وہ ذات اس کے سامنے ہے جس کا انکار کرتا تھا، جائے تو کہاں جائے یہی حالت کفار کی ہوگی۔ جب قیامت کے دن اپنے اچھے اعمال اور صدقہ و خیرات کو رائیگاں پائیں گے جو انہوں نے خون پسینے کی کمائے سے خیراتی کاموں میں صرف کیے نہ صرف وہ رائیگاں ہوں گے بلکہ ان کے لیے عذاب میں اضافہ کا سبب ثابت ہوں گے۔ اس وقت ان کی پریشانی اور حسرت میں اضافہ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے کفر کی پوری پوری سزا دے گا۔ جو دنیا کی زندگی اور اس کے وسائل کو دائمی سمجھتے تھے انہیں ان کی موت کے بعد جلد حساب چکا دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ جلد حساب لینے کا تصور دے کر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی اور تھوڑی ہے۔ (قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰے شَاکِلَتِہٖ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلًا) [ بنی اسرائیل : ٨٤] ” فرما دیں ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے تمہارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون سیدھے راستے پر ہے۔ “ مسائل ١۔ کفار کے اعمال کی مثال سراب کی طرح ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ٢۔ جس طرح سراب پر پہنچ کر پیاسے آدمی کی پریشانی اور تھکاوٹ میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کفار کا حال ہوگا۔ ٣۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا حساب چکا دے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کفار کے اعمال کی حیثیت : ١۔ کفار کے اعمال اس طرح غارت ہوجائیں گے جیسے تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے (ابراہیم : ١٨) ٢۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال تباہ کردیے گئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبۃ : ١٧) ٣۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کردیے جائیں گے۔ (التوبۃ : ٦٩) ٤۔ جو لوگ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ (الکھف : ١٠٥) ٥۔ جو لوگ ہماری آیات کی اور آخرت میں ملاقات کی تکذیب کرتے ہیں ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف : ١٤٧) ٦۔ کافر کے اعمال غارت ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (المائدۃ : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے اعمال ریت کی طرح سے ہیں جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے اہل ایمان کے اعمال کی جزا بتانے کے بعد کافروں کے اعمال کا تذکرہ فرمایا اور آخرت میں ان کے منافع سے محرومی ظاہر کرنے کے لیے دو مثالیں ظاہر فرمائیں۔ کافر لوگ دنیا میں بہت سے اعمال کرتے ہیں۔ مثلاً صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ جانوروں کو کھلاتے ہیں، چیونٹیوں کے بلوں میں آٹا ڈالتے ہیں مسافر خانے بناتے ہیں کنویں کھدواتے ہیں اور پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے موت کے بعد فائدہ پہنچے گا ان کی اس غلط فہمی کو واضح کرنے کے لیے دو مثالیں ذکر فرمائیں۔ پہلی مثال یہ کہ ایک شخص پیاسا ہو وہ دور سے سراب یعنی ریت کو دیکھے اور اسے یہ سمجھے یہ پانی ہے (سخت دوپہر کے وقت جنگلوں کے چٹیل میدانوں میں سے دور سے ریت پانی معلوم ہوتا ہے) اب وہ جلدی جلدی اپنے خیال میں پانی کی طرف چلا وہاں پہنچا تو جو کچھ اس کا خیال تھا اس کے مطابق کچھ بھی نہ پایا وہاں تو ریت نکلی (جو سخت گرم تھی نہ اسے کھا سکتا ہے نہ اس سے پیاس بجھ سکتی ہے) جس طرح پیاسے کا گمان جھوٹا نکلا اسی طرح کافروں کا یہ خیال کہ ظاہری صورت میں جو اچھے اعمال کرتے ہیں یہ موت کے بعدنفع بخش ہونگے غلط ہے کیونکہ اعمال صالحہ کے اخروی ثواب کے لیے ایمان شرط ہے وہاں پہنچیں گے تو کسی عمل کا جسے نیک سمجھ کر کیا تھا کچھ بھی فائدہ نہ پہنچے گا کما قال تعالیٰ (وَ قَدِ مْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا) (اور ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار) ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کافروں کے اعمال کو جو بظاہر نیک ہوں بالکل ضائع نہیں فرماتا ان کا بدلہ دنیا میں دے دیتا ہے۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشہ اللہ کسی مومن پر ایک نیکی کے بارے میں بھی ظلم نہیں فرمائے گا دنیا میں بھی اس کا بدلہ دے گا اور آخرت میں بھی اس کا اجز دے گا لیکن کافر جو نیکیاں اللہ کے لیے کرتا ہے دنیا میں اس کا بدلہ دے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی بھی نیکی نہ بچی ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔ (رواہ مسلم) (وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفَّاہُ حِسَابَہٗ ) (اور اس نے اللہ کو اپنے عمل کے پاس پایا سو اس نے اس کا حساب پورا کردیا) یعنی دنیا میں اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا چکا ہوگا قال صاحب معالم التنزیل ص ٣٤٩ ج ٣ ووجد اللّٰہ عندہ ای عند عملہ فوفہ حسابہ ای جزاء عملہ اہ و قال صاحب الروح ٨٨٧ ج ١٨ و قیل و جد اللّٰہ تعالیٰ محاسبا ایاہ علی ان العندیۃ بمعنی الحساب لذکر التوفیۃ بعد بقولہ سبحانہ فوفاہ حسابہ ای اعطاہ وافیا کاملا حساب عملہ وجزاء ہ او اتم حسابہ بعرض الکتبۃ ما قدمہ۔ (وَاللّٰہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) (اور اللہ جلدی حساب لینے والا ہے) یعنی اسے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی اور ایک کا حساب کرنا دوسرے کا حساب لینے سے مانع نہیں ہوتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44:۔ ” والذین کفروا الخ “ یہ دلیل نقلی مذکور پر ایک شب ہے کا جواب ہے دلیل مذکور پر شبہہ وارد ہوتا تھا کہ دونوں کی عبادت اور پکار میں زمین و آسمان کا فرق ہے مسلمان صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اس کی عبادت و دعا میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے برعکس مشرکین اللہ کی عبادت کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے سوا اپنے کود ساختہ معبودوں کو بھی کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اس لیے ان کے تمام اعمال بےسود اور رائیگاں ہیں۔ مشرکین کے اعمال دو قسم کے ہیں۔ اول وہ جو بظاہر اچھے ہیں مگر حقیقت میں بےفائدہ ہیں جیسا کہ مشرکین خیرات کرتے، سرائیں اور مسافر خانے بنواتے ہیں۔ دوم وہ جو بظاہر بھی برے ہوں اور حقیقت میں بھی ضرر رساں ہوں جیسا کہ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور حاجت روا سمجنا وغیر۔ ” اعمالھم کسراب الخ “ میں پہلی قسم کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے۔ ” سراب “ وہ ریت جو دھوپ میں چمکتی ہوئی نطر آتی ہے۔ ” قیعۃ “ صاف میدان۔ ایک مسافر جو لق و دق صحرا میں سفر کر رہا ہو۔ سورج کی گرمی تیز ہو اور وہ پیاس سے بدحال ہوچکا ہو، دور سے اسے سراب نظر آئے جو سورج کی شعاعوں کی وجہ سے پانی معلوم ہو لیکن جب وہاں پہنچے تو سوا ریت کے کچھ بھی نہ ہو۔ مشرکین اپنے ان اعمال خیر سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں لیکن خدا کے یہاں جب حاضر ہوں گے تو اعمال کا نام و نشان تک نہ دیکھیں گے۔ اذا رای السراب من ھو محتاج الی الماء یحسبہ ماء قصد یشرب منہ فلما انتھی الیہ (لم یجدہ شیئا) فکذالک الکافر یحسب ان عمل عملا وانہ قد حصل شیئا فاذا وافی اللہ یوم القیمۃ وحاسبہ علیھا ونوقش علی افعالہ لم یجد شیئا بالکلیۃ (ابن کثیر ج 3 ص 296) ۔ 45:۔ ” حتی اذا الخ “۔ حتی غایت کے لیے ہوتا ہے مگر اس کا ربط ماقبل سے ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ پہلے سراب کی مثال بیان کی گئی ہے اور اس کے بعد شبہات کا ذکر ہے اس لیے یہاں یہ محذوف ہوگا کہ کافر اب تو نہیں مانتے لیکن جب وہ اللہ کے پاس جائینگے اور وہاں اپنے معبودان باطلہ کو نہیں پائیں گے، انہیں امید تھی ثواب کی مگر اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اور جو لوگ منکر ہیں اور کفر کے خوگر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا اس کو دور سے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ پانی سمجھ کر اس پانی کے قریب آیا تو اس پانی کو کچھ بھی نہ پایا اور وہاں پہنچ کر اپنے پاس اللہ تعالیٰ کو حساب لینے کے لئے موجود پایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا پورا پورا حساب اس کو چکا دیا اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔ کافر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دوسرے عالم اور دوسری زندگی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس اعتقاد کی بنا پر کچھ اچھے اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کی خدمت کرنا ، خیرات کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ان کی مثال بیان فرمائی کہ وہ اعمال جن کو وہ اچھا سمجھ کر کرتے رہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے گرمی کے موسم میں چمکتا ہوا ریت پانی کا دریامعلوم ہوتا ہے مگر جب پیاسا وہاں پہنچتا ہے تو سوائے چمکتے ہوئے ریت کے اور کچھ نہیں ہوتا اور جن اعمال کو اس نے توقع پر کیا تھا کہ وہ مرنے کے بعد کام آئیں گے وہ سب بیکار ثابت ہوئے اور عقائد لغویہ کی وجہ سے وہ تمام اعمال خبط و برباد ہوگئے اور وہاں اللہ تعالیٰ یعنی قضائے الٰہی کو موجود پایا چناچہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے عمر بھر کی شرارتوں کا اسی وقت حساب چکادیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حساب کرنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ مطلب یہ ہے کہ قضائے الٰہی نے ہلاک کردیا تمام عمل اس کے اکارت ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر دو طرح کے ہیں ایک عیب کی طرف تاکتے ہیں پھر بہک کر اللہ کا دین چھوڑتے ہیں غلط راہیں پکڑتے ہیں یہ ان کی کہاوت ہے۔ ریت کو پانی سمجھ کو دوڑے وہاں پانی نہ ملا آخرت میں اپنے گناہوں کی سزا ملی۔ دوسرے وے ہیں جو دنیا میں غرق ہیں یا پتھر پوجتے ہیں ان کی کہاوت آگے فرمائی۔ ان کے پاس ریت بھی نہیں اندھیرے میں بند ہورہے ہیں۔ 12