Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 44

سورة النور

یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۴۴﴾

Allah alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.

اللہ تعالٰی ہی دن اور رات کو ردو بدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لئے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ... Allah causes the night and the day to succeed each other. He is controlling them, so that He takes something from the length of one and adds it to the other, which is short, until they become equal, then He does the opposite so that the one which was short becomes long and vice versa. Allah is the One Who is controlling that by His command, power, might and knowledge. ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لاُِّوْلِي الاَْبْصَارِ Truly, in this is indeed a lesson for those who have insight. means, this is an indication of His greatness, may He be exalted. This is like the Ayah: إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding. (3:190)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

441یعنی کبھی دن بڑے، راتیں چھوٹی اور کبھی اس کے برعکس۔ یا کبھی دن کی روشنی، کو بادلوں کی تاریکیوں سے اور رات کے اندھیروں کو چاند کی روشنی سے بدل دیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٢] رات اور دن کا باری باری آنا بھی اللہ کی معرفت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ جسے اللہ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیاروں کی گردش کا ایسا مربوط نظام بنادیا ہے جس سے دن اور رات باری باری آتے رہتے ہیں۔ کسی مقام پر ایک ہی وقت راتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسرے مقام پر اسی وقت چھوٹی ہو رہی ہیں۔ پھر اسی نظام سے ہر مقام پر موسموں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ جو مختلف قسم کی اجناس اور نباتات کے پکنے میں ممدو ثابت ہوتی ہے۔ فصلوں کے پکنے اور موسم میں ایک گہرا تعلق ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام اس قدر محیرالعقول اور کثیر الفوائد ہے کہ جتنا بھی اس میں غور کیا جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا سکہ انسان کے دل میں بیٹھتا جاتا ہے۔ موجودہ نظریہ کے مطابق یہ سب نتائج زمین کی محودی گردش اور سورج کے گرد سالانہ گردش سے حاصل ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر زمین جیسے عظیم الجثہ کرے کو آخر کس ہستی نے مجبور کیا ہے کہ وہ سورج کے گرد اپنے محور پر ساڑھے چھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی رہے اور ہمیشہ گھومتی رہے اور اس گردش میں سرمو بھی فرق نہ آنے دے ؟ پھر بروقت اس کڑی نگرانی بھی رکھے ہوئے ہے (فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ ۝) 59 ۔ الحشر :2)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۔۔ : یہ اس بات کی تیسری دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی زمین و آسمان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے، چناچہ فرمایا، اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے، نہ ہمیشہ دن رہتا ہے نہ رات۔ دیکھیے قصص (٧١ تا ٧٣) پھر کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے کبھی دن۔ دیکھیے لقمان (٢٩) واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں، اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی، یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ رات دن کو یا اس نظام کو برا بھلا کہنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی یُؤْذِیْنِي ابْنُ آدَمَ ، یَقُوْلُ یَا خَیْبَۃَ الدَّھْرِ ! فَلَا یَقُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّھْرِ ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّھْرُ ، أُقَلِّبُ لَیْلَہُ وَ نَھَارَہُ ، فَإِذَا شِءْتُ قَبَضْتُھُمَا ) [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر : ٣؍٢٢٤٦ ] ” اللہ عز و جل فرماتا ہے، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، کہتا ہے، ہائے زمانے کی کم بختی ! سو تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے، ہائے زمانے کی کم بختی ! اس لیے کہ میں ہی زمانہ ہوں، میں رات دن کو بدل بدل کر لاتا ہوں اور میں جب چاہوں گا دونوں کو سمیٹ لوں گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُقَلِّبُ اللہُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ۝ ٠ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۝ ٤٤ تَقْلِيبُ الشیء : تغييره من حال إلى حال نحو : يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ الأحزاب/ 66] وتَقْلِيبُ الأمور : تدبیرها والنّظر فيها، قال : وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ [ التوبة/ 48] . وتَقْلِيبُ اللہ القلوب والبصائر : صرفها من رأي إلى رأي، قال : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصارَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، وتَقْلِيبُ الید : عبارة عن النّدم ذکرا لحال ما يوجد عليه النادم . قال : فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ [ الكهف/ 42] أي : يصفّق ندامة . قال الشاعر کمغبون يعضّ علی يديه ... تبيّن غبنه بعد البیاع والتَّقَلُّبُ : التّصرّف، قال تعالی: وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ [ الشعراء/ 219] ، وقال : أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَما هُمْ بِمُعْجِزِينَ [ النحل/ 46] . ورجل قُلَّبٌ حُوَّلٌ: كثير التّقلّب والحیلة «2» ، والْقُلَابُ : داء يصيب القلب، وما به قَلَبَةٌ «3» : علّة يُقَلِّبُ لأجلها، والْقَلِيبُ. البئر التي لم تطو، والقُلْبُ : الْمَقْلُوبُ من الأسورة . تقلیب الشئی کے معنی کسی چیز کسی چیز کو متغیر کردینے کے ہیں جیسے فرمایا : يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ الأحزاب/ 66] جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائیں جائیں گے۔ اور تقلیب الامور کے معنی کسی کام کی تدبیر اور اس میں غوروفکر کرنے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ [ التوبة/ 48] اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دلوں اور بصیرتوں کی پھیر دینے سے ان کے آراء کو تبدیل کردینا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصارَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے ۔ اور تقلیب الید پشیمانی سے کنایہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ عام طور پر نادم آدمی کا یہی حال ہوتا ہے ( کہ وہ اظہار ندامت کے لئے اپنے ہاتھ ملنے لگ جاتا ہے ) قرآن پاک میں ہے : فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ [ الكهف/ 42] تو ۔۔۔۔۔ و حسرت سے ) ہاتھ ملنے لگا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 358) کمغبون یعض علی یدیہ تبین غبتہ بعدالبیاع جیسے خسارہ اٹھانے والا آدمی تجارت میں خسارہ معلوم کرلینے کے بعد اپنے ہاتھ کاٹنے لگتا ہے ۔ اور تقلب ( تفعل ) کے معنی پھرنے کے ہیں ۔ ارشاد ہے : وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ [ الشعراء/ 219] اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی ۔ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَما هُمْ بِمُعْجِزِينَ [ النحل/ 46] یان کو چلتے پھرتے پکڑلے وہ ( خدا کو ) عاجز نہیں کرسکتے۔ رجل قلب بہت زیادہ حیلہ گر اور ہوشیار آدمی جو معاملات میں الٹ پھیر کرنے کا ماہر ہو ۔ القلاب دل کی ایک بیماری ( جو اونٹ کو لگ جاتی ہے) مابہ قلبہ : یعنی وہ تندرست ہے اسے کسی قسم کا عارضہ نہیں ہے جو پریشانی کا موجب ہو القلیب۔ پراناکنواں جو صاف نہ کیا گیا ہو ۔ القلب ایک خاص قسم کا کنگن ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ عبرت والعِبْرَةُ : بالحالة التي يتوصّل بها من معرفة المشاهد إلى ما ليس بمشاهد . قال تعالی: إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً [ آل عمران/ 13] ، فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصارِ [ الحشر/ 2] عبرت والاعتبار اس حالت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی دیکھی چیز کی وساطت سے ان دیکھے نتائج تک پہنچا جائے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً [ آل عمران/ 13] اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے ۔ فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصارِ [ الحشر/ 2] اے اصحاب بصیرت اس سے عبرت حاصل کرو ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بھی بدلتا رہتا ہے کہ رات ختم ہوئی اور دن آیا اور دن پورا کیا تو رات کو لایا ان تمام مذکورہ بالا چیزوں میں دین میں سمجھ وبصیرت رکھنے والوں یا صرف آنکھوں سے دیکھنے والوں کے لیے استدلال کا موقع ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:44) یقلب۔ مضارع واحد مذکر غائب تقلیب (تفعیل) مصدر۔ وہ ادل۔ بدل کرتا ہے ۔ وہ الٹتا پلٹتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

10 ۔ پہلے رات آتی ہے اور پھر دن اور پھر رات اور پھر دن۔ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی دن۔ واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں۔ اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی۔ یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ منظر نہایت ہی آرام سے اور طوالت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ دعوت دی جاتی ہے کہ اس منظر کے ہر جزء پر غور کرو۔ اس منظر کے اجزاء پھر جمع ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس پر گہرے مشاہدے اور غورو فکر کی وجہ سے انسانی احساس کو جگایا جائے اور اس گہری صنعت کاری کے اندر جو گہری بصیرت ہے اس کے بارے میں انسانی احساس کو تیز کیا جاتا ہے تاکہ انسان عبرت آموز نگاہوں سے اس منظر کو دیکھے۔ اللہ بادلوں کو چلاتے ہیں ‘ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کیطرف۔ یہ بادل آسمان میں ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پھر یہ جمع ہوتے ہیں۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ تہوں کے اوپر تہیں جم جاتی ہیں۔ جب یہ اچھی طرح بوجھل ہوجاتے ہیں تو ان میں سے پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ بارش کے موٹے موٹے قطرے تم گرتے دیکھتے ہو۔ یہ بادل بڑے بڑے پہاڑروں کی شکل میں آسمانوں میں نظر آتے ہیں۔ جب یہ بہت اوپر چلے جاتے ہیں تو ان میں برف جم جاتی ہے۔ یہ بادل پہاڑوں کی طرح خوب نظر آتے ہیں۔ جب طیارہ ان سے اوپر چلا جاتا ہے اس واقت فی الواقعہ یہ بادل پہاڑ نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اور ان کے اندر بڑے بڑے نشیب و فراز ہوتے ہیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان نے اس کو اچھی طرح اس وقت سمجھا جب وہ طیارے پر سوار ہو کر بادلوں سے اوپر چلا گیا۔ بادلوں کے یہ پہاڑ ‘ اللہ کے احکام میں ‘ اللہ کے نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ اس کے کائناتی ناموس کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ان کے ذریعے پانی دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ اس سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ اس منظر کا تکملہ یوں آتا ہے۔ یکاد سنا برقہ یذھب بالابصار (٢٤ : ٤٣) ” اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے “۔ یہ منظر اس لیے لایا گیا ہے کہ کائنات کے نور اعظم کے ساتھ بجلی کا نور ایک ہوجائے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہم جنس معانی کو ایک جگہ لاتا ہے کیونکہ یہ سورة ‘ سورة نور ہے۔ اب تیسرا کائناتی منظر گردش لیل و نہار کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ یقلب اللہ الیل والنھار ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار ” رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کررہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے “۔ گردش لیل و نہار کے نظام پر غور و فکر قرآن مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیر و تبدل نہیں ہے۔ اس سے وہ ناموس ‘ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو اس کائنات میں متصرف ہے۔ اس ناموس پر غورفکر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلارہا ہے۔ قرآن کریم اپنے مئوثر انداز بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔ انسان پھر ان مناظر کو ایک نئے احساس کیساتھ دیکھتا ہے اور ہر بار اس سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ یہ سوچنا یوں ہے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کے اس نظام کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو۔ اس نظام میں صدیاں گزر جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تبدیلی اگر ہے تو صرف انسان کی نگاہ میں ہے۔ انسانی احساس اور ادراک گرش لیل و نہار کے مناظر کو دیکھتے بجھ سا گیا ہے جبکہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوبصورتی اور انوکھے پن میں سے کسی چیز میں کمی نہیں کی ہے۔ جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت کو گنوا دیتا ہے بلکہ اس کائنات کی حقیقی خوبصورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ مناظر جو انسان کے سامنے اگر از سر نو پیش ہوں تو بہت ہی اثر انگیز ہوں اور حسین نظر آئیں۔ قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ وہہماری بجھی ہوئی حس کو تازہ کردیتا ہے اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید بخشتا ہے۔ ہمارا ٹھنڈا دل گرم ہوجاتا ہے اور ہمارا کندوجدان تیز ہوجاتا ہے۔ پھر ہم اس کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ ہم پھر اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں اور اس کے سربستہ اور پوشیدہ کمالات کو معلوم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آتا ہے کہ دست قدرت ہر جگہ کام کررہا ہے۔ ہمارے ماحول کی ہر چیز میں اس کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کے نشانات ہیں اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں۔ اللہ ہم پر احسان کرتا رہتا ہے کہ جب بھی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک حیات تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہر چیز کے بارے میں ایک نیا احساس ملتا ہے اور یوں مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ گویا اس احساس کے ساتھ ہم اس کائنات کو کئی مرتبہ اور بیشمار مرتبہ دریافت کرتے ہیں اور خوشی پاتے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوبصورت ہے اور ہماری فطرت ‘ فطرت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہماری فطرت اس سر چشمے سے پھوٹی ہوئی ہے جس سے اس کائنات نے وجود اور فطرت اور ناموس فطرت اخذ کیا ہے۔ جب ہم اس کائنات کی روح کے ساتھ پیوستہ ہوجاتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب اطمینان و سکون مل جاتا ہے ‘ نہایت ہی گہرا رابطہ اور خوشی ملتی ہے۔ انس اور طمانیت ملتی ہے۔ یوں جس طرح ایک شخص اپنے محبوب کو بلا واسطہ مل جاتا ہے۔ اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں اس میں ہمیں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور یہ ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض کا ۔ جب ہم اپنے وجود ‘ اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس میں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور ہم اس وقت اصل حقیقت سے مل چکے ہوتے ہیں اور ہمیں نظر آتا ہے کہ تدبیر کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ کے مناظر کو ذرا گہرے غور و فکر کے ساتھ دیکھیں۔ ہمارے احساس اور ہمارے تدبر کے لیے قرآن کریم بار بار اور مختلف قسم کے مناظر و مظاہر پیش کرتا ہے جو نہایت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ ان مظاہرو مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو ‘ آنکھیں بند کر کے کیونکہ اس دنیا میں تمہارا یہ سفر نہایت ہی با مقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو لیکن انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں۔ مزید مشاہد قدرت پیش کئے جاتے ہیں اور ہمارے احساس کو مزید تیز کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک ہی اصول پر یہ زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک ہی مزاج ہے۔ اس کی ایک جیسی تخلیق کے بعد پھر زندگی کے بھی کئی مشاہد اور مظاہر ہیں اور اس میں تنوع ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انہی تصرفات میں سے رات اور دن کا الٹنا پلٹنا بھی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اسی کو فرمایا (یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ ) (اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو پلٹتا ہے) رات اور دن کا تعلق ظاہری اعتبار سے آفتاب کے طلوع و غروب ہونے سے ہے لیکن آفتاب بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اللہ نے جو طلوع و غروب کا نظام مقرر فرما دیا ہے اسی کے مطابق چلتا ہے۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُوْلِی الْاَبْصَارِ ) (بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے) جو شخص اپنی عقل و فہم اور بصیرت سے کام لے گا اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تکوین کے مظاہروں پر غور کرے گا اسے ضرور اللہ تعالیٰ کی توحید واضح طور سے سمجھ میں آجائے گی اور جس نے اپنے لیے یہ طے کرلیا کہ مجھے دلائل میں غور نہیں کرنا اور حق کو نہیں ماننا تو وہ گمراہ ہی رہے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) اور نیز اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یقیناً رات اور دن کے اس ردوبدل میں ان لوگوں کے لئے بڑا استدلال ہے جو اہل دانش ہیں اور ان کو جو آنکھوں والے ہیں دھیان کرنے کا بڑاموقع ہے۔ یعنی یہ اسی کی قدرت کاملہ اور اسی قادرمطلق کا کام ہے کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات یہ تبدیلی سوائے اس کے کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ کبھی کفر کی برتری اور کبھی ہدایت اور روشنی کا عروج یہ سب اس کی قدرت کا اظہار ہے اور اس میں صاحبان دانش اور آنکھوں والوں کے لئے بڑے استدلال اور بڑی عبرت کے مواقع ہیں۔