Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 46

سورة النور

لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ ؕ وَ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۶﴾

We have certainly sent down distinct verses. And Allah guides whom He wills to a straight path.

بلاشک و شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالٰی جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah states: لَقَدْ أَنزَلْنَا ايَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ ... We have indeed sent down manifest Ayat. Allah states that in this Qur'an He has revealed many clear and unambiguous rulings, words of wisdom and parables, and that He guides people of understanding, insight and intellect to ponder and understand them. He says: ... وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ And Allah guides whom He wills to the Straight Path.

یہ حکمت بھرے احکام ، یہ روشن ، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں ۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے ، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

461اللہ تعالیٰ اسے نظر صحیح اور قالب صادق عطا فرما دیتا ہے جس سے اس کے لئے ہدایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد یہی ہدایت کا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں، اسے اختیار کر کے انسان اپنی منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٤] یعنی یہ جتنی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں، غور و فکر کرنے والوں کو ان سے اللہ تعالیٰ کی بخوبی معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور جو ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے اسے ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (٣٤) کی تفسیر۔ وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (٣٥) کی تفسیر۔ 3 یہ آیت آئندہ آیات کی تمہید ہے، جن میں منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ یقیناً ہم نے تو کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیات نازل کی ہیں، مگر ان کے ذریعے سے صراط مستقیم کی ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آگے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں ہدایت دینا اللہ کی مشیت نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل ( ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو اور صاحب حق اس منافع سے درخواست کرے کہ چلو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقدمہ لے چلیں اس موقع پر یہ سرتابی کرتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ آپ کے اجلاس میں جب حق ثابت ہوجاوے گا تو اسی کے موافق آپ فیصلہ کریں گے جیسا عنقریب آیت وَاِذَا دُعُوْٓا میں اس موقع کا یہی بیان آتا ہے اور تخصیص ایک فریق کی باوجودیکہ تمام منافقین ایسے ہی تھے اس لئے ہے کہ غریب غرباء کو باوجود کراہت قلبی کے صاف انکار کرنے کی جرأت و ہمت نہیں ہوا کرتی یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کو کچھ وجاہت اور قوت حاصل ہو) اور یہ لوگ بالکل ایمان نہیں رکھتے (یعنی دل میں تو کسی منافق کے بھی ایمان نہیں مگر ان کا تو وہ ظاہری ملمع شدہ ایمان بھی نہ رہا جیسا اس آیت میں ہے وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ اور اس آیت میں ہے قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ اور بیان اس حکم عدولی کا یہ ہے کہ) یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے (اور ان کے خصوم کے) درمیان میں فیصلہ کردیں تو ان میں کا ایک گروہ (وہاں حاضر ہونے سے) پہلو تہی کرتا ہے (اور ٹالتا ہے اور یہ بلانا اگرچہ رسول ہی کی طرف ہے مگر چونکہ آپ کا فیصلہ حکم خداوندی کی بناء پر ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھی نسبت کردی گئی غرض جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہے تب تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے) اور اگر (اتفاق سے) ان کا حق (کسی دوسرے کے ذمہ ہو) تو سر تسلیم خم کئے ہوئے (بےتکلف آپ کے بلانے پر) آپ کے پاس چلے آتے ہیں (کیونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہاں حق کا فیصلہ ہوگا اس میں ہمارا فائدہ ہے۔ آگے ان لوگوں کے اعراض اور حاضر نہ ہونے کی وجہ و اسباب چند احتمالات کے طور پر بیان کر کے اور سب احتمالات کی نفی اور ایک احتمال کا اثبات ہے) آیا (اس اعراض کا سبب یہ ہے کہ) ان کے دلوں میں (کفر یقینی کا) مرض ہے (یعنی ان کو اس کا یقین ہے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں) یا یہ (نبوت کی طرف سے) شک میں پڑے ہیں (کہ رسول نہ ہونے کا یقین تو نہیں مگر رسول ہونے کا بھی یقین نہیں) یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرنے لگیں (اور ان کے ذمہ جو حق ہے اس سے زائد دلا دیں، سو واقعہ یہ ہے کہ ان اسباب میں سے کوئی بھی سبب) نہیں (ہے) بلکہ (اصلی سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ (ان مقدمات میں) برسر ظلم (ہوتے) ہیں (اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے کہ ہم ہار جاویں گے اور باقی اسباب سابقہ سب منفی ہیں) مسلمانوں (کی شان اور ان) کا قول تو جب ان کو (کسی مقدمہ میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے یہ ہے کہ وہ (خوشی خوشی) کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے (تمہارا کلام) سن لیا اور (اس کو) مان لیا (اور پھر فوراً چلے جاتے ہیں یہ ہے علامت اس کی کہ ایسوں کا آمنا اور اطعنا کہنا دنیا میں بھی صادق ہے) اور ایسے (ہی) لوگ (آخرت میں میں بھی) فلاح پائیں گے اور (ہمارے یہاں کا تو قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے بس ایسے لوگ بامراد ہوں گے اور (نیز ان منافقین کی یہ حالت ہے کہ) وہ لوگ بڑا زور لگا کر قسمیں کھایا کرتے ہیں کہ واللہ (ہم ایسے فرمانبردار ہیں کہ) اگر آپ ان کو (یعنی ہم کو حکم دیں (کہ گھر بار سب چھوڑ دو ) تو وہ (یعنی ہم) ابھی (سب چھوڑ چھاڑ) نکل کھڑے ہوں آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) فرمانبرداری کی حقیقت معلوم ہے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے ( اور اس نے مجھ کو بتلا دیا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤ ْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ اور) آپ (ان سے) کہئے کہ (باتیں بنانے سے کام نہیں چلتا کام کرو یعنی) اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو (آگے اللہ تعالیٰ اہتمام شان مضمون کے واسطے خود ان لوگوں کو خطاب فرماتا ہے کہ رسول کے اس کہنے کے اور تبلیغ کے بعد) پھر اگر تم لوگ (اطاعت سے) روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ (رسول کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ) رسول کے ذمہ وہی تبلیغ (کا کام) ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے۔ (جس کو وہ کرچکے اور سبکدوش ہوگئے) اور تمہارے ذمہ وہ (اطاعت کا کام) ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے (جس کو تم نہیں بجا لائے پس تمہارا ہی ضرر ہوگا) اور اگر (روگردانی نہ کی بلکہ) تم نے ان کی اطاعت کرلی (جو عین اطاعت اللہ ہی کی ہے) تو راہ پر جا لگو گے اور (بہرحال) رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (آگے تم سے باز پرس ہوگی کہ قبول کیا یا نہیں۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ۝ ٠ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝ ٤٦ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سہدھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٦) ہم نے بذریعہ جبریل امین اوامرو نواہی کے واضح احکامات اور دلائل نازل فرمائے اور اللہ تعالیٰ جس کو اہل سمجھتا ہے اسے پسندیدہ دین اسلام کی طرف خاص ہدایت فرماتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٦:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ١ ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ اب جس قابل جو پیدا ہوا ہے ویسے ہی وہ کام کرتا ہے ‘ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کی کھلی کھلی نصیحت ہے لیکن اس نصیحت سے راہ راست پر آنے کا وہی لوگ قصد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور ان ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر آنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہ خود تو راہ راست پر آنے کا قصد نہیں کرتے اور زبردستی کسی کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے علم غیب کے ظہور کے طور پر نیک وبد کے امتحان کے لیے دنیا کو پیدا کیا ہے ‘ مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ جس کی بدولت وہ اپنی اخروی زندگی میں جنت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے اور اس کی دنیوی زندگی سکون و اطمینان سے گزرتی ہے۔ الابذکر اللہ تطمئن القلوب۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٥٥ ایک نظر میں سابق عظیم دور اور طویل سبق نور کے موضوع پر تھا اور یہ نور اس کائنات کے مظاہر میں سے بھی تھا۔ اب کلام کا رخ پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آجاتا ہے ‘ یعنی وہ آداب جن پر قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کی تعمیر چاہتا ہے۔ اور جن کے مطابق مسلمانوں کے ظاہرو باطن کو پاک کرنا مطلوب ہے۔ اور اسلامی سوسائٹی کو اس نور سے منور کرنا مطلوب ہے جس نور سے یہ پوری کائنات منور ہے ( گویا اسلامی نظام بھی ایک نور ہے کیونکہ اس کا نازل کرنے والا بھی ایک نور ہے) ۔ جو لوگ اللہ کے نور سے منور ہوں وہ کیسے ہوتے ہیں ‘ درس سابق میں اس کی ایک جھلک دکھائی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرسکتے اور وہ دنیاوی کاموں کی وجہ سے اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے اور جو لوگ اس نور کائنات سے محروم تھے وہاں ان کی بھی ایک جھلک دکھائی گئی تھی کہ وہ جن دنیاوی مقاصد کے پیچھے رات اور دن بھاگ رہے ہیں وہ تو سراب ہے۔ حقیقت کچھ بھی نہیں۔ اور ان کی زندگی اس طرح ہے جس طرح موجوں میں گھری ہوئی کشتی جس کے اوپر گہرے بادل ہوں اور کچھ نظر نہ آرہا ہو۔ اب یہاں ان منافقین کا ذکر ہے جو اللہ کی روشن نشانیوں سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ اسلام کو ظاہر کرتے ہیں لیکنوہ آداب مومنین کو نہیں اپناتے۔ مومنین تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے لیے ہر وقت تیار ہوں ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ سنجیدگی اور رضا مندی سے مطیع فرمان ہوں۔ یہاں ان کے اور مومنین صادقین کے ایمان کے درمیان موازانہ کیا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین کی خلافت دی جائے گی اور ان کا اقتدار اس زمین پر مستحکم کردیا جائے گا۔ یہ انعام ان کو اس لیے دیا جائے گا کہ وہ اللہ اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہایت ہی ادب اور اطاعت کا تعلق رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احترام کرتے ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کا یہ تعلق اس حقیقت کے باوجود ہے کہ کافر اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن ہیں اور یہ کہ اہل کفر اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کرئہ ارض پر عاجز نہیں کرسکتے۔ کفار کا تو خود اپنا انجام برا ہونے والا ہے۔ درس نمبر ١٥٥ تشریح آیات ٤٦۔۔ تا۔۔۔۔ ٥٧ (لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم ) (٤٦) اللہ کی بات صاف صاف حقیقت بتلانے والی ہے۔ ان سے اللہ کا نور معلوم ہوتا ہے۔ یہ ہدایت کے شر چشمے بتانے والی ہیں۔ ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ طیب کیا ہے اور خبیث کیا ہے۔ یہ آیات اسلامی نظام زندگی کو نہایت ہی مفصل طریقے سے کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ یہ آیات زمین پر رائج کیے جانے والے احکام و قوانین کو بالکل ظاہر کر کے بتاتی ہیں کہ جب بھی لوگ اپنے فیصلے کرنا چاہیں تو احکام اور قوانین واضح ہوں۔ ان قوانین میں کسی فریق کی کوئی حق تلفی نہیں ہے۔ نہ ان میں حق و باطل کے درمیان کوئی التباس ہے ۔ نہ حلال و حرام کا التباس ہے ۔ ہر چیز واضح اور مفصل ہے۔ (واللہ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم) (٢٤ : ٤٦) ” اور اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتا ہے “۔ اللہ کی مشیت بےقید ہے ‘ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہاں اللہ نے ہدایت کے لیے ایک ضابطہ مقرر کیا ہوا ہے جو شخص اپنے نفس کو اس طریق ہدایت کی طرف متوجہ کردے وہ راہ ہدایت کو پالیتا ہے لیکن ہدایت کی راہوں پر چل نکلتا ہے۔ تو وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہدایت پا لیتا ہے اور جو شخص منہ موڑ لیتا ہے اور اس روشنی میں راہ نہیں ڈھونڈتا جو اس کائنات میں اللہ نے بکھیر رکھی ہے وہ ضلالت کے طریق پر چل نکلتا ہے۔ یہ ضلالت بھی اللہ کی مثیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اگلی آیات میں ایک ایسے فریق کا ذکر ہے جو مدینہ میں بہت ہی متحرک تھا۔ یہ فریق منافقین تھے جو بظاہر مسلمان تھے اور اسلامی طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے لیکن اندر تاریک تر تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر نامی منافق کا قصہ ہے۔ ایک واقعہ بعض مفسرین نے ان آیات کے ذیل میں لکھا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مغیرہ بن وائل سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا دونوں نے آپس میں بخوشی اس زمین کو تقسیم کرلیا اس کے بعد مغیرہ نے کہا کہ تم اپنی زمین مجھے بیچ دو حضرت علی اس پر راضی ہوگئے بیع مکمل ہوگئی حضرت علی (رض) نے قیمت پر اور مغیرہ نے زمین پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد کسی نے مغیرہ کو سمجھایا کہ تو نے یہ نقصان کا سودا کیا ہے۔ یہ شور زمین ہے اس پر اس نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے کہا کہ آپ اپنی زمین واپس لے لیں کیونکہ میں اس سودے پر راضی نہیں تھا حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا کہ تو نے اپنی خوشی سے یہ معاملہ کیا ہے اور اس زمین کا حال جانتے ہوئے تو نے خریدا ہے۔ مجھے اس کا واپس کرنا منظور نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ چل ہم دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا مقدمہ پیش کریں اس پر وہ کہنے لگا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں جاتا وہ تو مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ فیصلہ کرنے میں مجھ پر ظلم کردیں اس پر آیت بالا نازل ہوئی چونکہ وہ شخص منافق تھا اس لیے اس نے مذکورہ بالا بےہودہ گستاخی والی بات کہی۔ اور چونکہ منافقین آپس میں اندرونی طور پر ایک ہی تھے گھل مل کر رہتے تھے نیز ایک دوسرے کا تعاون بھی کرتے تھے اس لیے آیت شریفہ میں طرز بیان اس طرح اختیار فرمایا کہ سب منافقین کو شامل فرما لیا۔ مفسرابن کثیر نے حضرت حسن (رح) سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جب منافقین میں سے کسی سے جھگڑا ہوتا اور وہ جھگڑا نمٹانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بلایا جاتا اور اسے یقین ہوتا کہ آپ میرے ہی حق میں فیصلہ فرمائیں گے تو حاضر خدمت ہوجاتا اور اگر اس کا ارادہ ہوتا کہ کسی پر ظلم کرے اور اسے خصومت کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے کہا جاتا تو اعراض کرتا تھا اور کسی دوسرے شخص کے پاس چلنے کو کہتا تھا منافقین نے اپنا یہ طریقہ کار بنا کر رکھا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ سبب نزول سمجھے کے بعد اب آیات کا ترجمہ اور مطلب سمجھئے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ (یعنی منافقین) ظاہری طور پر زبان سے یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور ہم فرمانبر دار ہیں اس ظاہری قول وقرار کے بعد عملی طور پر ان میں سے ایک جماعت منحرف ہوجاتی ہے چونکہ حقیقت میں مومن نہیں ہیں اس لیے انہوں نے ایسا طرز عمل اپنا رکھا ہے جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آؤ تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کردیا جائے تو ان کی ایک جماعت اس سے اعراض کرتی ہے (کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ظلم کر رکھا ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونگے تو فیصلہ ہمارے خلاف جائے گا) اور اگر ان کا حق کسی پر آتا ہو تو اس حق کے وصول کرنے کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بڑی ہی فرماں برداری کے ساتھ حاضر ہوجاتے ہیں۔ مقصد ان کا صرف دنیا ہے ایمان کا اقرار اور فرماں برداری کا قول وقرار دنیاوی منافع ہی کے لیے ہے۔ خدمت عالی میں حاضر ہونے کی صورت میں بھی طالب دنیا ہی ہیں اور حاضری دینے سے اعراض کرنے میں بھی دنیا ہی پیش نظر ہوتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ ” ولقد انزلنا الخ “ : یہ ترغیب الی القرآن کا تیسری بار اعادہ ہے۔ فرمایا ہم نے قرآن مجید میں دلائل توحید کو واضح کر کے بیان کردیا ہے لیکن اس کے باوجود ہدایت کی توفیق صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو صدق دل اور اخلاص نیت سے ہدایت کے طالب و متلاشی ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) بلاشبہ ہم نے واضح اور روشن دلائل نازل فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے یعنی عام طور پر دلائل واضحہ بیان کردیئے گئے ہیں مگر خاص طورپرمشیت اور ارادے کا تعلق جس سے ہوتا ہے اسی کو سیدھی راہ چلنے کی توفیق ہوتی ہے۔