Allah says:
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَيِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ
...
They swear by Allah their strongest oaths that if only you would order them, they would leave.
Allah says about the hypocrites who had promised the Messenger and sworn that if he were to command them to go out for battle, they would go:
...
قُل لاَّ تُقْسِمُوا
...
Say: "Swear you not..."
meaning, do not swear this oath.
...
طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ
...
obedience is known.
It was said that the meaning is, your obedience is known, i.e., it is known that your obedience is merely verbal and is not accompanied by action. Every time you swear an oath you lie.
This is like the Ayah:
يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ
They swear to you that you may be pleased with them... (9:96)
And Allah says:
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً
They have made their oaths a screen (for their evil actions). (58:16)
It is part of their nature to tell lies, even in the issues they choose, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَـفَقُواْ يَقُولُونَ لاِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَيِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلاَ نُطِيعُ فيكُمْ أَحَداً أَبَداً وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
لَيِنْ أُخْرِجُواْ لاَ يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَيِن قُوتِلُواْ لاَ يَنصُرُونَهُمْ وَلَيِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الاٌّدْبَـرَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ
Have you not observed the hypocrites who say to their friends among the people of the Scripture who disbelieve: "If you are expelled, we indeed will go out with you, and we shall never obey any one against you; and if you are attacked, we shall indeed help you." But Allah is Witness that they verily are liars.
Surely, if they are expelled, never will they go out with them; and if they are attacked, they will never help them. And if they do help them, they will turn their backs, and they will not be victorious. (59:11-12)
...
إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
Verily, Allah knows well what you do."
Then Allah says:
مکار منافق
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بےقرار ہیں ، آپ کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھر بار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے ، زبانی ڈینگیں بہت ہیں ، عملی حصہ صفر ہے ۔ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے ، دل میں کچھ ہے ، زبان پر کچھ ہے ، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے ۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہیں ۔ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے ۔ اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا ۔ تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں ، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں ۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے ۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے ۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر ، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو ، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں ۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الہٰی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے ۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا ، عمل کرنا وغیرہ ۔ ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے ، اس لئے کہ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے ۔ سب کا حساب ہمارے ذمے ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21ۭ ) 88- الغاشية:21 ) ، تو صرف ناصح و واعظ ہے ۔ انہیں نصیحت کر دیا کر ، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں ۔ وہب بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شعیاء کی طرف وحی الہٰی آئی کہ تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہو جا ۔ میں تری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا ، چنانچہ آپ کھڑے ہوئے تو آپ کی زبان سے بہ حکم الہٰی یہ خطبہ بیان ہوا ۔
اے آسمان سن ، اے زمین خاموش رہ ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے ۔ ویرانے کو بسا دے ، صحراوں کو سرسبز بنا دے ، فقیروں کو غنی کر دے ، چرواہوں کو سلطان بنا دے ، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو ، نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا ہو ، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے ، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو ۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے ۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا ، وہ زبان کا پاک ہوگا ، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہوجائیں گی ، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے ، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے ۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا ۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی ، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی ، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی وبھلائی چاہنا اس کی خصلت ہوگی ۔ حق اس کی شریعت ہوگی ، عدل اس کی سیرت ہوگی ، ہدایت اس کی امام ہوگی ۔ اسلام اس کی ملت ہوگا ۔ احمد اس کا نام ہوگا ۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا ، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا ، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہوگی ۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی ۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی ، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا ۔ اس کی ذات سے جداجدا لوگوں کو میں ملا دوں گا ، فرقت کے بعد الفت ہوگی ، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا ، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا ، مختلف دل ، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی ۔ بیشمار بند گان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے ، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کردوں گا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی ، بیشمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے ، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دونگا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی ، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی ، موحد مومن مخلص ہوں گے ، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے ، کسی کے منکر نہ ہوں گے ۔