48 Here by "the Book" is not meant the Torah, which was given to Prophet Moses after the exodus from Egypt, but it implies that Divine Guidance which was given to him after his appointment as a Prophet up to the Exodus. It included the orations delivered by him in the court of Pharaoh and also the instructions given to him during his conflict with Pharaoh as mentioned in the Qur'an here and there. Most probably, these things were not included in the Torah; the Torah began with the Ten Commandments which were given to Moses engraved on stone tablets on Mount Sinai after the Exodus.
سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :48
یہاں کتاب سے مراد غالباً وہ کتاب نہیں جو توراۃ کے نام سے معروف ہے اور مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی ، بلکہ اس سے مراد وہ ہدایات ہیں جو نبوت کے منصب پر مامور ہونے کے وقت سے لے کر خروج تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی جاتی رہیں ۔ ان میں وہ خطبے بھی شامل ہیں جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے دربار میں دیے ، اور وہ ہدایات بھی شامل ہیں جو فرعون کے خلاف جدوجہد کے دوران میں آپ کو دی جاتی رہیں ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان چیزوں کا ذکر ہے ، مگر اغلب یہ ہے کہ یہ چیزیں توراۃ میں شامل نہیں کی گئیں ۔ توراۃ کا آغاز ان احکام عشر سے ہوتا ہے جو خروج کے بعد طور سینا پر سنگین کتبوں کی شکل میں آپ کو دیے گئے تھے ۔