Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 35

سورة الفرقان

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ جَعَلۡنَا مَعَہٗۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ وَزِیۡرًا ﴿۳۵﴾ۚ ۖ

And We had certainly given Moses the Scripture and appointed with him his brother Aaron as an assistant.

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Frightening the Idolators of Quraysh Allah tells: وَلَقَدْ اتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَهُ أَخَاهُ هَارُونَ وَزِيرًا فَقُلْنَا اذْهَبَا إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِأيَاتِنَا فَدَمَّرْنَاهُمْ تَدْمِيرًا

انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی ، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا ۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے ۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا ۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام نبی کے ساتھ کیا ۔ یہ مطلب نہیں کہ انکی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے تھے بلکہ ان کے پاس تو صرف حضرت نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے ہر طرح انہیں سمجھایا بجھایا لیکن سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا ۔ اس لئے اللہ نے سب کو غرق کر دیا ۔ سوائے ان کے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے ایک بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا ۔ لوگوں کے لئے انکی ہلاکت باعث عبرت بنادی گئی ۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کرلیا تاکہ تم اسے اپنے لئے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنادیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچالیا اور ایماندار اور ایمان داروں کی اولاد میں رکھا ۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہوچکا ہے جیسے کہ سورۃ اعراف وغیرہ میں اصحاب الرس کی بابت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے ۔ عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ خلیج والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائی جان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی ۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ان کو کنویں والے اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا ۔ ابن اسحاق رحمۃاللہ علیہ محمد بن کعب رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں ویران میدان میں ڈالدیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مرجائیں ۔ یہ غلام جنگل میں جاتا لکڑیاں کاٹ کر لاتا انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا اس پتھر کو سرکا دیتا ۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھاپی لیتے ۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا ۔ ایک مرتبہ یہ گیا لکڑیاں کاٹیں ، چنیں ، جمع کیں ، گھٹری باندھی ، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا ، سوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی ۔ سات سال تک وہ سوتا رہا ۔ سات سال کے بعد آنکھ کھلی ، انگڑائی لی اور کروٹ بدل کر پھر سورہا ۔ سات سال کے بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گھٹڑی اٹھائی اور شہر کی طرف چلا ۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لئے سوگیا تھا ۔ شہر میں آکر لکڑیاں فروخت کیں ۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا ۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا ۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے ، انہوں نے جاکر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا ۔ سب کے سب ایمان لائے پھر نبی فوت ہوگئے ۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا ۔ پھر اس شخص کو نبی کے انتقال کے بعد اس کی نیند سے جگایا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا ۔ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت ونکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے واللہ اعلم ۔ اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے اس لئے کہ یہاں مذکور ہے کہ انہین ہلاک کیا گیا ۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کردئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہوگئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی ۔ امام ابن جریر رحمۃ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہے جن کا ذکر سورۃ بروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدائی تھیں ۔ واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کردی گئیں ۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کردیا تھا ۔ دلیلیں پیش کردی تھیں ۔ معجزے دکھائے تھے ، عذر ختم کردئے تھے پھر سب کو غارت اور برباد کردیا ۔ جیسے فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کردیں ۔ قرن کہتے ہیں امت کو ۔ جیسے فرمان ہے کہ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں ۔ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے کوئی کہتا ہے سو سال کوئی کہتا ہے اسی سال کوئی کہتا ہے چالیس سال اور بھی بہت سے قول ہیں ۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے ۔ جیسے بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں ۔ یہیں لوطی آباد تھے ۔ جن پر زمیں الٹ دی گئی اور آسمان سے پھتر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا ۔ یہ دن رات وہاں سے آمدو رفت رکھتے پھر بھی عقلمندی کا کام نہیں لیتے ۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہیں ہیں ان کے واقعات مشہور ہیں کیا تم انہیں نہیں دیکھتے ؟ یقینا دیکتھے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہوگئے ۔ بس انہیں اڑادیا گیا بےنشان کردئے گئے ۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں ۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو ۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہوگی جو قیامت ہی کے منکر ہیں ۔ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یہاں کتاب سے مراد تورات نہیں کیونکہ تورات تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر اس وقت دی گئی تھی۔ جب بنی اسرائیل میدان تبہ میں قیام پذیر تھے۔ بلکہ اس سے مراد وہ منزل من اللہ ہدایات و احکام ہیں۔ جو آپ کو مصر سے خروج سے پہلے دیئے جاتے رہے۔ ایسی ہی منزل من اللہ کو اصطلاحی زبان وحی خفی یا سنت بھی کہتے ہیں اور ایسے احکام پر کتاب اللہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ ایسی وحی یا سنت پر عمل کرنا ایسے ہی واجب ہے جیسے وحی جلی یا وحی متلو یا اللہ کی کتاب پر۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ رسولوں اور ان کی اقوام کے قصّے اور قوم لوط کی بستیوں کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ فرمایا ہے، مقصد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے والوں کو گزشتہ اقوام جیسے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے جو کتاب عطا فرمائی گئی اس کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ تورات ہی تھی اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب الواح کی شکل میں ” طُور “ پر عطا کی گئی وہ پوری تورات نہ تھی، بلکہ اس کا ایک حصہ تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو ” طور “ پر ملی، اس سے پہلے فرعون کی طرف روانہ ہوتے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب عطا ہوئی اس سے مراد وحی الٰہی پر مشتمل وہ احکام ہیں جو تورات کے علاوہ تھے، انھیں بھی ” کتاب اللہ “ کہا جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مزدور کے فیصلے کے متعلق فرمایا تھا جس نے اس شخص کی بیوی سے زنا کیا تھا جس کی وہ مزدوری کر رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَاب اللّٰہِ ) ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنوارے مزدور کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کا اور عورت کو اعتراف کی صورت میں رجم کا حکم دیا۔ [ بخاري، الشروط، باب الشروط التي لا تحل في الحدود : ٢٧٢٤، ٢٧٢٥ ] اس قول کے مطابق فرعون اس کتاب اللہ کی تکذیب کی وجہ سے غرق ہوا جو تورات کے علاوہ تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف حدیث کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔ وَجَعَلْنَا مَعَهٗٓ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا : دیکھیے سورة طٰہٰ (٢٩ تا ٣٥) اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی رسول کو اگر واقعی ضرورت ہو تو اس کا بوجھ بٹانے کے لیے فرشتہ نہیں بھیجا جاتا، جیسا کہ کفار کا مطالبہ ہے، بلکہ آدمی ہی بھیجا جاتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ وَزِيْرًا۝ ٣٥ ۚ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب . وَزِيرُ : المتحمِّلُ ثقل أميره وشغله، والوِزَارَةُ علی بناء الصّناعة . وأَوْزَارُ الحربِ واحدها وِزْرٌ: آلتُها من السّلاح، والمُوَازَرَةُ : المعاونةُ. يقال : وَازَرْتُ فلاناً مُوَازَرَةً : أعنته علی أمره . قال تعالی: وَاجْعَلْ لِي وَزِيراً مِنْ أَهْلِي[ طه/ 29] ، وَلكِنَّا حُمِّلْنا أَوْزاراً مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ [ طه/ 87] . الوزیر وہ ہے جو امیر کا بوجھ اور اس کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہو ۔ اور اس کے اس عہدہ کو وزارۃ کہا جاتا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَاجْعَلْ لِي وَزِيراً مِنْ أَهْلِي[ طه/ 29] اور میرے گھر والوں میں سے ( ایک کو ) میرا وزیر ( یعنی مدد گار امقر ر فرمایا ۔ ارزار الحرب اس کا مفرد ورر ہے اور اس سے مراد اسلحہ جنگ ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنَّا حُمِّلْنا أَوْزاراً مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ [ طه/ 87] بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے ۔ میں زیورات کے بوجھ مراد ہیں ۔ الموزراۃ ( مفاعلۃ ) کے معنی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے ہیں اور وازرت فلانا موازرۃ کے معنی ہیں میں نے اس کی مدد کی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو معین و مددگار بنایا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ وَزِیْرًا ) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد اور معاونت کے لیے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کے مددگار کے طور پر رسالت کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ وزیر ” وِزر “ (بوجھ) سے ہے ‘ یعنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے میں معین و مددگار۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

48 Here by "the Book" is not meant the Torah, which was given to Prophet Moses after the exodus from Egypt, but it implies that Divine Guidance which was given to him after his appointment as a Prophet up to the Exodus. It included the orations delivered by him in the court of Pharaoh and also the instructions given to him during his conflict with Pharaoh as mentioned in the Qur'an here and there. Most probably, these things were not included in the Torah; the Torah began with the Ten Commandments which were given to Moses engraved on stone tablets on Mount Sinai after the Exodus.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :48 یہاں کتاب سے مراد غالباً وہ کتاب نہیں جو توراۃ کے نام سے معروف ہے اور مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی ، بلکہ اس سے مراد وہ ہدایات ہیں جو نبوت کے منصب پر مامور ہونے کے وقت سے لے کر خروج تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی جاتی رہیں ۔ ان میں وہ خطبے بھی شامل ہیں جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے دربار میں دیے ، اور وہ ہدایات بھی شامل ہیں جو فرعون کے خلاف جدوجہد کے دوران میں آپ کو دی جاتی رہیں ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان چیزوں کا ذکر ہے ، مگر اغلب یہ ہے کہ یہ چیزیں توراۃ میں شامل نہیں کی گئیں ۔ توراۃ کا آغاز ان احکام عشر سے ہوتا ہے جو خروج کے بعد طور سینا پر سنگین کتبوں کی شکل میں آپ کو دیے گئے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٥۔ ٣٧:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث ٢ ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں سب انبیاء سے اللہ تعالیٰ کے وحدانیت کے سکھانے کا اور سب مخلوقات سے اس پر قائم رہنے کا عہد لیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس (رض) کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ پہلے پہلے بت پرستی قوم نوح سے دنیا میں شروع ہوئی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ قوم نوح ( علیہ السلام) سے لے کر قوم فرعون تک کسی قوم نے اس عہد کے موافق عمل نہیں کیا جب سزا میں وہ سب قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ‘ جن میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے اور آخری قوم فرعون کی ‘ ان آیتوں میں ان ہی دونوں کی ہلاکت کا ذکر ہے ‘ ہاں حلال و حرام کے احکام ہر زمانہ کی ضرورت کے موافق بدلتے رہے ہیں ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ قوم نوح نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس قوم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو جھٹلایا ‘ اس نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے کسی رسول کا دین خالی نہیں ہے ‘ قریب کے زمانہ کی بات زیادہ مشہور ہوتی ہے اس لیے قوم فرعون کے ذکر سے آیتوں کو شروع کیا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے فرعون کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے کے وبال میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی اگر قریش بھی تمہارے جھٹلانے سے باز نہ آئے تو ان پر بھی کوئی آفت ضرور آوے گی ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے ‘ بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو ظہور ہوا اس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گذر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس لڑائی میں مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے اللہ کے رسول کے جھٹلانے والے دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ (٢ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٥٠٩ باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کی غرض سے ان واقعات میں اشارہ فرمایا ہے کہ انبیا کی تکذیب تو مشرکین کی پرانی عادت ہے۔ (شوکانی) 6 ۔ جس کی انہوں نے دعا کی تھی۔ (دیکھئے سورة طہٰ :29)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو نہ کیا اور یہ دلیل نہ مانی کہ یکبارگی نازل ہونے والی کتاب کو مانا جائے اور یہ ایک مثال ہی تو نہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ جل جلالہ کے رسولوں کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کردیا کہ عقائد تو سارے نبی وہی بیان فرماتے ہیں لہذا ایک کا انکار تمام انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم کا انکار ہے ، چناچہ اس انکار کے نتیجہ میں یوں غرق ہو کر تباہ ہوئے کہ درس عبرت بن گئے یہ سزا اور برائی کا انجام تو دنیا کی زندگی میں تھا آخرت میں ایسے منکرین کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے یہی حال عاد قوم ثمود اور اصحاب الرس یعنی کچے کنوؤں پر آباد قوم کا بھی ہوا اور بھی بہت سی اقوام جنہوں نے انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کو جھٹلایا اسی بربادی ہی سے دو چار ہوئیں ، ان سب کے لیے اللہ کریم نے بڑے موثر انداز میں اور مثالیں دے کر تعلیمات نازل فرمائیں مگر وہ نہ مانے اور یوں سب کے سب تباہی و بربادی ہی سے دو چار ہوئے اور یہ کفار جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کا انکار کر رہے ہیں اپنے تجارتی سفروں میں قوم لوط (علیہ السلام) کے تباہ شدہ کھنڈروں پر سے ہو کر گذرتے ہیں جن پر پتھر برسائے گئے تھے تو کیا یہ عبرت کے لیے کافی نہیں مگر انکی گمراہی کا سبب ان کا آخرت سے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے سے انکار پر ہے انہیں یہ یقین ہی نہیں کہ پھر زندہ ہو کر جواب دینا ہے لہذا اس تباہی کو حادثات اور اتفاقات سمجھتے ہیں کفر و انکار کا وبال نہیں سمجھتے اور ان کے اندھے پن کا یہ حال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذرا دیکھو تو انہیں اللہ جل جلالہ نے رسول مبعوث کردیا ہے یعنی دل کے اندھے ہیں آپ کا حسن و جمال نظر آتا ہے نہ آپ کے کمالات کی طرف دھیان جاتا ہے بلکہ اپنے معیار کے مطابق بڑے بڑے دنیا داروں ہی کی عزت کرتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ ان کے روساء میں سے کسی کو رسول ہونا چاہیے تھا اور کہتے ہیں کہ انہوں نے تو حد کردی اگر ہم ڈٹ کر نہ رہتے تو یہ ہمیں ہمارے بتوں سے ہٹا کر گمراہ کردیتے گویا خود کو ہدایت پر اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاذ اللہ گمراہ سمجھتے ہیں ، ان کی یہ کج فہمی بہت جلد درست ہوجائے گی ، جب اللہ جل جلالہ کا عذاب ان کے روبرو ہوگا عذاب الموت بھی اور روز حشر بھی انہیں پتہ چل جائے گا کہ واقعی گمراہ کون ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی زندگی کو مشاہدہ فرما لیا یہ سب اپنی خواہشات کے بندے ہیں اور کافرانہ رسومات جو مذہب کے نام پر گھڑی جاتی ہیں ان کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ لوگوں کی خواہشات کو ان سے متعلق بنایا جاتا ہے اس بت کو پوجا کرو دولت مند ہوجاؤ گے یا فلاں رسم سے صحت ملے گی وغیرہ لہذا یہ دراصل اپنی خواہشات کے پجاری ہیں اور اپنی آرزوؤں کو معبود بنا رکھا ہے ، ایسے لوگوں کو ہدایت پر لانے کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذمہ دار نہیں ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام اللہ کا پیغام دینا ہے جسے سمجھنے کے لیے عقل و شعور کی ضرورت ہے جو یہ اپنے گناہوں کے باعث گم کرچکے اب نہ انہیں کوئی دلیل سنائی ہی دیتی ہے نہ ان میں غور وفکر کی استعداد باقی ہے بس چوپایوں کی زندگی گذار رہے ہیں کہ پیٹ بھر لیا رہنے کا ٹھکانہ مل گیا بچے پیدا کیے اور مر گئے یہ چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کہ انسانی اوصاف عطا ہوئے تھے جنہیں گناہوں کی دلدل میں گم کر کے حیوانی زندگی کی سطح پر آگئے جیسے مغرب کا معاشرہ کہ انسانی رشتے تک قدر کھو چکے ہیں اور محض مال یا جنس کا رشتہ رہ گیا ہے اور حقیقی رشتے تک ان سے چھوٹ گئے جو زندگی کی راحتوں کا باعث تھے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 : اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔ تشریح آیت نمبر 35 تا 44 : دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔ وہ لوگوں کو جدھر چلانا چاہیں لوگ اسی طرف چلیں۔ ہر جگہ ہر موقع پر اس کی ہر بات کو مانا جائے۔ لیکن اگر اس کے بر خلاف وہ تو وہ غرور وتکبر کا پیکربن کر بےکس و بےبس لوگوں کو زبردستی اپنے سامنے سرجھکا نے پر مجبور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس خواہش کو وپرا کرنے اور اپنے اقتدار و قوت کو بچانے کے لئے ننھے اور معصوم بچوں کو ذبح کرنا پڑے تو اس میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا ۔ وہ لوگوں کی گردنوں پر سواررہنے کے لئے کبھی جھوٹے معبودوں کبھی چاند ‘ سورج ‘ ستاروں اور پتھر کے بےجان بتوں کے سامنے جھکا نے کی کوشش کرتا ہے۔ آگ کی پرستش اور شجر وحجر کو ان کا معبود بنادیتا ہے۔ بادشاہ بن بیٹھتا ہے اور اقتدار کے نشے میں خود ہی معبود بن جاتا ہے۔ لیکن ایسے لوگ وقتی خوش حالیوں میں ایسے بد مست ہوجاتے ہیں کہ ان کو اپنا انجام یاد نہیں رہتا۔ وہ ہر اس تحریک کو کچل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی خواہشوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔ غرضیکہ وہ مال و دولت اور حکومت و سلطنت کے حاصل کرنے کے لئے جانوروں کی سطح سے بھی نیچے پہنچ جاتے ہیں۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہالت میں ڈوبی ہوئی قوم کو دین اسلام کی سچائیوں کی طرف بلانے کی جدوجہد کی تو ابتدا میں کفار مکہ نے آپ کا اور آپ کے ارشادات کا مذاق اڑایا۔ آپ پر پھبتیاں کسیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ ان پر کسی جن یا جادو کا اثر ہوگیا ہے جس سے یہ بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آج یہ کفار جو کچھ کررہے ہیں یا کہہ رہے ہیں وہ ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جو اس سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) سے نہ کہی گئی ہو۔ ایسا ہوتارہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا کیونکہ حق و صداقت کی ہر آواز سے باطل پرستوں کے ایوانوں میں زلزلے آجاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ نبیوں کی سچی بات سن لی گئی تو پھر ہماری سرداریوں اور چودھراہٹوں کا کیا ہوگا۔ فرمایا کہ اہل مکہ تو شام و فلسطین جاتے ہوئے ان بستیوں کے کھنڈرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جو کبھی آباد تھیں ‘ لوگوں کی چہل پہل تھی ‘ مال و دولت کے ڈھیر تھے ‘ لوگ خوش حالیوں میں مست تھے لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہاء کردی تب اللہ نے ان کی بستیوں کو ان کی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا اور آج ان شہروں کے کھنڈرات عبرت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی یہ کفار اس سچائی پر غور فکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی سب باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب عطا فرمائی اور ان کی بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبی بناکر انکا مدد گار بنایا۔ دونوں ہمارے حکم سے فرعون کے دربار میں پہنچے فرعون کو سمجھایا مگر وہ اپنے اقتدار کی مبد مستی میں حق و صداقت کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوا اور اس نے ہر طرح کے ظلم و ستم کی انتہاء کردی۔ آخر کار اللہ کا وہ فیصلہ آگیا جو نافرمان قوموں کا مقدر ہوا کرتا ہے اور اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادی اور فرعون ‘ اس کے ساتھیوں اور قوت اقتدار کو سمندر میں غرق کر کے نشان عبرت بنادیا۔ حضرت نوح ؐ نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اللہ کے دین اور اس کی سچائیوں کو دلوں میں اتارنے کی جدوجہد فرمائی۔ آپ نے ہر طرح اپنی قوم کو سمجھایا مگر وہ کسی بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک بڑی کشتی بنانے کا حکم دیا جس میں تمام اہل ایمان کو اور ہر جانور کے ایک ایک جوڑے کو رکھنے کا حکم دیا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں کل تین سو تیرہ اہل ایمان سوار ہوئے بقیہ تمام لوگوں کو پانی کے اس طوفان میں غرق کر کے مقام عبرت بنادیا۔ قوم عاد نے دنیا پر ایک ہزار سال کت حکومت کی۔ قوم ثمود نے اپنے معیار زندگی کو انتہائی بلند کیا۔ وہ صنعت و حرفت میں بہت آگے جا چکے تھے اور بیس بیس منزلہ بلڈنگیں پہاڑ کاٹ کاٹ کر بنایا کرتے تھے ۔ بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان کی اصلاح کرنا چاہیمگر جب یہ قومیں بھی اللہ کو بھول گئیں اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کو جھٹلانا شروع کیا تو اللہ کا قہرو غضب ان قوموں پر نازل ہوا اور ان کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل مکہ سے قوم لوط کی برباد بستیاں اور کھنڈرات دور نہیں ہیں وہ جب بھی شام و فلسطین کا سفر کرتے ہیں تو راستے میں قوم لوط کی بستیاں بھی پڑتی ہیں جن کو الٹ کر پتھروں کی بارش کی گئی تھی۔ آج انکی آباد بستیوں کی جگہ ایک ایسا بےجان ( بحرمردار) سمندر ہے جو اپنے اندر کسی جان دار کو برداشت تک نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ان کو اس بات پر یقین نہیں ہے جب یہ مرجائیں گے تو پھر ان کو دوبارہ زندہ بھی ہونا ہے اگر ان کو اس بات کا یقین ہوتا کہ جب یہمرجائیں گے تو پھر ان کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا جواب دینا ہے تو ان کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔ آج وہ کفار مکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا تو یہ ہیں وہ جن کو اللہ نے اپنا رسول بنا کرب بھیجا ہے ؟ یہ تو اچھا ہوا کہ ہم اپنے معبودوں پر جمے بیٹھے ہیں ورنہ اگر ہم اپنی جگہ سے ذرا ہل جاتے اور ان کا کہنا مان لیتے تو نجات ہمارا اور ہمارے معبودوں کا کیا انجام ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دراصل یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی خواہشات ہی ان کی معبود ہیں۔ جب یہ حالت ہوجائے تو ان خواہش پرستوں سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے جو دیکھ کر سن کر بھی سچائی کو قبول نہیں کرتے تو وہ ان چوپایوں اور جانوروں سے بھی بدتر ہیں جو کم ازکم کہیں تو اپنی گردن جھکا دیتے ہیں۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ ان میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا کوئی جذبہ ہی باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا انجام گذشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ بلکہ اگر انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت وفرماں برداری نہ کی تو ان کی زندگیاں بھی مقام عبرت بن جائیں گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی وہ بہت جلیل القدر صاحب کتاب نبی تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے دشمن اور آسمانی کتابوں کا انکار کرنیوالی اقوام میں سے ایک قوم کا انجام۔ جن قوموں نے انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت اور آسمانی کتابوں کا انکار کیا ان میں سرفہرست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے تورات عنایت فرمائی اور ان کی درخواست پر ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون نامزد فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اس قوم کی طرف جاؤ جنھوں نے ہمارے احکام اور ارشادات کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ (١) موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے دین ابراہیم حضرت یوسف کے دور مصر میں پہنچ چکا تھا۔ (٢) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ فرعون اور اس کے حواری موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلیم نہیں کرینگے اس لیے پہلے ہی ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جناب ہارون (علیہ السلام) نے ایک طویل مدت تک فرعون اور اس کے حواریوں کو سمجھایا، بڑے بڑے معجزات پیش کیے، فرعون نے ہر میدان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا مگر ناکام رہا۔ یہاں تک کہ پورے ملک کے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے مقابلے میں لاکھڑ کیا۔ جب جادوگروں نے حقیقت حال کو براہ راست دیکھا اور آزمایا تو انھوں نے سرعام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانے کا اعلان کیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اتنی بڑی حقیقت آشکارا ہونے کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیکفر و شرک پر قائم رہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر میں ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان آیات میں اسی بات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو ان کا معاون نبی نامزد فرمایا۔ ٣۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے پے درپے اللہ تعالیٰ کی آیات کو ٹھکرایا جس کے نتیجہ میں انھیں تباہ و برباد کردیا گیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (٣٥ تا ٤٠) ” یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔ القوم الذین کذبوا بایتنا (٢٥ : ٣٦) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔ فدمرنھم تد میرا (٢٥ : ٣٦) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔ اس کے بعد قوم نوح کا حال کذبوا الرسل اغرقنھم (٢٥ : ٣٧) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “ قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔ وجعلنھم للناس ایۃ (٢٥ : ٣٧) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔ واعتدنا للظلمین عذابا الیما (٢٥ : ٣٧) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔ یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔ وکلا تبرنا تتبیرا (٢٥ : ٤٠) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور (واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (٤١ تا ٤٤) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔ لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ اھذا الذی بعث اللہ (٢٥ : ٤١) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔ یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بتاتے رہتے۔ یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔ زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔ (ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (٢٥ : ٤٢) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ (وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (٢٥ : ٤٢) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔ اب روئے سخن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرسکتا ہے۔ (ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ ٢٥ : ٤٣) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔ اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔ افانت تکون علیہ وکیلا (٢٥ : ٤٣) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔ (ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (٢٥ : ٤٤) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔ (ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (٢٥ : ٤٤) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس پیغام توحید لائے، قوم نے تکذیب کی تو انہیں بھی غرق کر کے آئندہ نسلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ ” وعادا و ثمودا “ تا ” وقرونا بین ذلک کثیرا “ یہ تیسری تا چھٹی نقلی دلیلیں ہیں قوم عاد کی طرف ہود (علیہ السلام) کو، قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو اصحاب الرس کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو اور ان اقوام کے درمیانی زمانوں میں کئی دوسری قوموں کے پاس کئی پیغمبروں کو بھیجا گیا ان قوموں نے اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور دعوت توحید کو ٹھکرایا تو ان سب کو ہلاک کردیا گیا۔ ” وکلا ضربنا لہم الخ “ ان تمام قوموں کے پاس ہم نے پیغمبروں کے ذریعے دلائل وبراہین اور امثال و اشباہ سے مسئلہ توحید کو واضح کیا مگر ان معاند اقوام نے پھر بھی انکار کردیا تو ہم نے ان کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(35) اب اس سلسلہ میں بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات کا تذکرہ اشارہ ہوتا ہے اور بلاشبہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی توریت دی تھی اور ہم نے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ ان کا معین و مددگار بنایا تھا۔