Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 39

سورة الفرقان

وَ کُلًّا ضَرَبۡنَا لَہُ الۡاَمۡثَالَ ۫ وَ کُلًّا تَبَّرۡنَا تَتۡبِیۡرًا ﴿۳۹﴾

And for each We presented examples [as warnings], and each We destroyed with [total] destruction.

اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباہ و برباد کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَكُلًّ ضَرَبْنَا لَهُ الاَْمْثَالَ ... And for each We put forward examples, meaning, `We showed them the proof and gave them clear evidence,' as Qatadah said, "They had no excuse." ... وَكُلًّ تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا and each (of them) We brought to utter ruin. means, `We destroyed them completely.' This is like the Ayah, وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ And how many generations (Qurun) have We destroyed after Nuh! (17:17) "Generations" (Qurun) here refers to nations among mankind. This is like the Ayah, ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قُرُوناً ءَاخَرِينَ Then, after them, We created other generations (Qurun). (23:42) Some defined a generation as being 120 years, or it was said that a generation was one hundred years, or eighty, or forty, etc. The most correct view is that a generation refers to nations who are one another's contemporaries, living at the same time. When they go and others succeed them, this is another generation, as it was recorded in the Two Sahihs: خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم The best of generations is my generation, then the one that follows it, then the one that follows that.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

391یعنی دلائل کے ذریعے سے ہم نے حجت قائم کردی۔ 392یعنی تمام حجت کے بعد۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] یعنی ہر قوم کے متعلق ہمارا طریقہ یہی رہا کہ ان کی طرف نبی بھیجا گیا جس نے اس قوم کو ساتھ اقوام کے انجام سے متنبہ کیا۔ پھر انھیں مختلف انداز سے مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا۔ پھر انھیں غور و فکر کے لئے مہلت بھی دی گئی۔ ان سب باتوں کے بعد بھی جب وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور ان پر حجت قائم ہوگئی تو پھر ہم نے انھیں اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نام و نشان نہ رہنے دیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ : یعنی ہم نے ہر ایک کو مثالیں اور دلائل دے دے کر سمجھایا۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کو پہلی تباہ شدہ قوموں کی مثالیں بیان کرکے سمجھایا۔ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا : ” تَبَّرَ یُتَبِّرُ تَتْبِیْرًا “ کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کردینا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ۝ ٠ۡوَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا۝ ٣٩ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ تبر التَّبْر : الکسر والإهلاك، يقال : تَبَرَهُ وتَبَّرَهُ. قال تعالی: إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] ، وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] ، وَلِيُتَبِّرُوا ما عَلَوْا تَتْبِيراً [ الإسراء/ 7] ، وقوله تعالی: وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] ، أي : هلاكا . ( ت ب ر ) التبر ( ض ) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ تبرہ وتبرہ اس نے اسے ہلاک کرڈالا ۔ قرآن میں ہے ؛ إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] یہ لوگ جس ( شغل ) میں ( پھنسے ہوئے ) ہیں وہ بربادہونیوالا ہے ۔ وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں ۔ وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) اور ہم نے قوم ہود (علیہ السلام) قوم صالح (علیہ السلام) اور قوم شعیب (علیہ السلام) اور ان کے درمیان اور بہت سی امتوں کو ہلاک کیا ہے اور ان پہلی قوموں میں سے ہم نے ہر ایک قوم کو عذاب سے ڈرایا مگر اس کے باوجود وہ نہ مانے تو ہم نے ان سب کو یکے بعد دیگرے بالکل ہی تباہ کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ (وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَز) ” اپنے اپنے وقت پر ان سب قوموں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ان کے ماحول اور حالات کے مطابق ہم ٹھوس دلائل اور واضح حقائق پر مبنی تعلیمات ان کے سامنے پیش کرتے رہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:39) کلا ضربنا لہ الامثال۔ الامثال۔ مثالیں۔ مثل اور مثل کی جمع ہے۔ جس کے معنی مانند اور نظیر کے ہیں۔ قرآن حکیم میں مثالیں عبرت پکڑنے کی خاطر بیان کی گئی ہیں۔ ضربنا الامثال۔ ہم نے مثالیں بیان کیں (تاکہ مخاطبین عبرت حاصل کریں) ۔ یہاں ضربنا الامثال۔ بمعنی انذرنا وحذرنا ہے۔ یعنی ہم نے ڈرایا اور متنبہ کیا۔ اور اس معنی کی رعایت سے کلا منصوب ہے۔ ای حذرنا کل واحد منہم ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر (اعمال بد کے انجام سے) ڈرایا۔ یا حذرنا کلہم ہم نے ان سب کو متنبہ کیا۔ کلا تبرنا تتبیرا۔ کلا مفعول ہے تبرنا کا ۔ مقدم لایا گیا ہے۔ التبر (ضرب) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولیتبروا ما علوا تتبیرا (17:7) اور تاکہ جس چیز پر بھی ان کا زور چلے اسے تہس نہس کر ڈالیں۔ آیت کا مطلب یوں ہے وبینا لکل واحد منہم القصص العجیبۃ من قصص الاولین انذارا فلما اصروا تبرنا ہم تد میرا۔ اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو پہلے ہلاک ہونے والی قوموں کی مثالیں بیان کیں لیکن جب وہ اپنے طریقہ کار پر اڑے رہے تو ہم نے ان کو بالکل ہی برباد کردیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد قوم عاد، ثمود اور کنویں والوں کا انجام۔ یہاں چند الفاظ میں قوم عاد، ثمود، کنویں والوں اور ان کے بعد نامعلوم اقوام کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کے بیان کا مقصد ان کے بعد آنے والی اقوام بالخصوص امت مسلمہ اور دیگر لوگوں کے لیے عبرت کے دلائل مہیا کرنا ہے تاکہ لوگ اپنے آپ کو ان جرائم سے بچانے کی کوشش کریں جن جرائم کی بنیاد پر ان قوموں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کی تاریخ رہتی دنیا کے لیے حسرت کا پیغام بنا دی گئی۔ یہاں قرآن مجید نے ان قوموں کی تاریخ کو چند الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اسی اختصار کے پیش نظر اِ ن اقوام کی تباہی کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے تاکہ ان قوموں کے بیان کا مقصد ہمارے سامنے رہے۔ قوم عادجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ بھی کہا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی سرمین پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے تھے جس وجہ سے انہیں احقاف والے کہا گیا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : ١۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : ٦٩) ٢۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر ٦ تا ٨ ) انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : ١٣٣) ٣۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء ١٢٩ تا ١٣٣) [ تفصیل جاننے کے لیے فہم القرآن، جلد ٢ : سورة الاعراف، آیت ٦٥ تا ٧٣ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ] قوم ثمود کا کردار اور انجام : اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ آئے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ تم ہمارے لیے نحوست کا سبب ہو اور حضرت صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ (الشعراء : ١٤٢ تا ١٥٣) انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے گابھن اونٹنی نمودار نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس طرح معجزہ طلب نہ کرو۔ اگر تمہارا منہ مانگا معجزہ ظاہر کردیا گیا اور تم نے اس کا انکار کیا تو پھر تمہارا بچنا مشکل ہوگا۔ لیکن قوم ثمود اپنے مطالبہ پر مصر رہی۔ چناچہ انہیں اونٹنی کا معجزہ دیا گیا مگر انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ جسکے سبب عذاب نا زل ہوا۔ جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن، جلد ٢: سورة الاعراف، آیت ٧٣ تا ٨٤ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) اصحاب الرّس کون لوگ تھے ان کے متعلق مفسرین نے بہت سے اقوال نقل کیے ہیں لیکن کسی نے یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا۔ ابن جریر (رض) نے کہا ہے کہ اس سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا تذکرہ سورة البروج میں ہوا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ الرّس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نبی کو قتل کرکے ویران کنویں میں پھینک دیا تھا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ ہلاک کر دئیے گئے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے عاد، ثمود اور کنویں والوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے تباہ و برباد کیا۔ ٢۔ تباہ ہونے والی قوموں کی تاریخ آئندہ نسلوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ تفسیر بالقرآن عاد، ثمود کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : ٦) ٢۔ قوم عاد وثمود کے برے اعمال کو شیطان نے انکے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٣۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٤۔ قوم عاد کو تند وتیز آندھی کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : ٦) ٥۔ قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : ٢٢) ٦۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : ٥) ٧۔ ہم نے قوم ثمود کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت کو پسند کیا۔ (حم السجدۃ : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اور ہم نے ان سب کے سمجھانے کے لئے عجیب عجیب واقعات اور عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے تھے اور ان کے انکار پر انجام کار ان سب کو ہلاک کرڈالا یعنی عاد اور ثمود اور اصحاب رس اور ان کے درمیان اور بہت سی بستیوں کو اور قوموں کو تباہ و برباد کردیا حالانکہ ان کے سامنے ہر قسم کے دلائل و شواہد اور اچھے اچھے مضامین بیان کئے گئے لیکن انہوں نے مان کر نہ دیا اور بالآخر ان سب کو ہلاک کردیا گیا کنویں والے شاید یہ بھی کوئی قوم ہوگی جو اپنی نافرمانی کے باعث ہلاک ہوئی شاید ثمود کی بقیہ قوم کی طرف اشارہ ہو رس کچے کنویں کو کہتے ہیں جس میں اینٹ نہ لگائی جائے صرف پتھررکھ دئیے مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کنویں والے کہتے ہیں ای امت کو جس نے اپنے رسول کو کنویں میں موندا پھر ان پر عذاب آیا تب وہ رسول خلاص ہوا۔ (واللہ اعلم بالصواب)