Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 45

سورة الفرقان

اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَ لَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا ﴿ۙ۴۵﴾

Have you not considered your Lord - how He extends the shadow, and if He willed, He could have made it stationary? Then We made the sun for it an indication.

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Evidence of the existence of the Creator and the extent of His Power Here Allah begins explaining the evidence for His existence and His perfect power to create various things and pairs of opposites. Allah says: أَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ... Have you not seen how your Lord spread the shadow. Ibn Abbas, Ibn Umar, Abu Al-Aliyah, Abu Malik, Masruq, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, An-Nakha`i, Ad-Dahhak, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others said, "This refers to the period from the beginning of the dawn until the sun rises." ... وَلَوْ شَاء لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ... If He willed, He could have made it still, meaning, immobile, never changing. This is like the Ayat: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَداً ... Say: "Tell me! If Allah made the night continuous for you..." (28:71) ... ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلً but We have made the sun its guide. means, were it not for the sun rising, it would not be there, for a thing can only be known in contrast to its opposite. Qatadah and As-Suddi said, "The sun is a guide which follows the shade until the shade disappears." ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے ۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ وقت صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا ۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کرسکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لاسکتا ۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا ۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے سائے کے پیچھے دھوپ دھوپ کے پیچھے سایہ بھی قدرت کا انتظام ہے ۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں ۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے ۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کرکے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں ۔ اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے قسم ہے رات کی جب کہ ڈھانپ لے ، اسی نے نیند کو سبب راحت وسکون بنایا کہ اس وقت حرکت موقوف ہوجاتی ہے ۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی وہ اس آرام سے اترجاتی ہے ۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہوجاتی ہے ۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو پھیل جاتے ہو ۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو ۔ جیسے فرمان ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کردیا ہے کہ تم سکون وآرام بھی حاصل کرلو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

451یہاں سے پھر توحید کے دلائل کا آغاز ہو رہا ہے۔ دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کس طرح سایہ پھیلایا ہے، جو صبح صادق کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی، دھوپ کے ساتھ یہ سمٹتا سکڑنا شروع ہوتا جاتا ہے۔ 452یعنی ہمیشہ سایہ ہی رہتا، سورج کی دھوپ سائے کو ختم ہی نہ کرتی۔ 453یعنی دھوپ سے ہی سایہ کا پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا، تو سائے سے بھی لوگ متعارف نہ ہوتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٧] سایوں کا سورج سے گہرا تعلق ہے۔ طبعی اصول یہ ہے کہ روشنی کی شعاعیں یا کرنیں ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے جہاں بھی روشنی ہوگی چیزوں کا سایہ ہوگا۔ اب اگر کسی چیز کا سایہ روشن چیز روشن چیز سے کم درجہ پر واقع ہوگا تو سایہ لمبا ہوگا اور زاویہ بڑھتا جائے گا تو سایہ چھوٹا ہوتا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر یہ سایہ ٩٠ درجہ پر پہنچ جائے تو ہر چیز کا سایہ اس کے قدموں پر پڑے گا اور بہت چھوٹا رہ جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ غائب بھی ہوسکتا ہے۔ اب چونکہ روشنی کا مستقل منبع اور بااعتماد اور منظم منبع یہی سورج ہی ہے۔ لہذا سایوں کے مستقبل منبع کا ذکر کیا اور یہ ذکر اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی نباتات اور تمام جاندار اشیاء کی تربیت اور نشوونما پر اثر انداز ہونے کی چیز سورج کی روشنی یا دھوپ اور سایہ ہی ہوتا ہے اب اگر کسی چیز پر ہمیشہ دھوپ پڑتی رہے یا کوئی چیز ہمیشہ سایہ میں رہے تو اس کی تربیت اور نشوونما کبھی درست طور پر نہ ہوسکے گی۔ دھوپ اور سایہ دونوں ہی اللہ کی نعمتیں ہیں اور دونوں سے ہر چیز کی زندگی کا گہرا تعلق ہے۔ اگر ہمیشہ سایہ ہی رہتا تو زندگی کی یہ بہاریں کبھی قائم نہ رہ سکیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ۔۔ : سورت کی ابتدا توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل سے ہوئی ہے، کفار کی گمراہی کے بیان کے بعد ایک بار پھر توحید کے دلائل کا بیان ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سائے کے پھیلنے اور سکڑنے کو کائنات میں تدریج کے اصول کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہی اصول قرآن کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں کار فرما ہے۔ 3 آیت کے شروع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ) ” کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا۔ “ کیونکہ اصل مقصود سائے کی کیفیت کی طرف توجہ دلانا ہے اور آخر میں اپنا ذکر اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا : (جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا ) ” پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔ “ 3 سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے سائے سے مراد رات کی ظلمت لی ہے، جسے اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے کے ساتھ بتدریج پھیلاتا ہے اور طلوع آفتاب تک بتدریج ختم کرتا ہے۔ 3 یعنی تم نے اپنے رب کی عجیب کاری گری نہیں دیکھی کہ اس نے سائے کو اس طرح بنایا کہ طلوع آفتاب تک ہر جگہ پھیلا ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو وہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا، جس سے دھوپ پھیلنا شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سائے کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ پھر سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہر چیز کا سایہ مغرب کی طرف بہت لمبا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا جاتا ہے، حتیٰ کہ دھوپ پھیلنے سے بالکل ختم ہوجاتا ہے یا تھوڑا سا رہ جاتا ہے، پھر سایہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتا ہے جو آخر کار رات کی تاریکی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ سائے کے اس پھیلنے اور سکڑنے میں انسان، حیوان حتیٰ کہ زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کے لیے بیشمار فائدے ہیں، بلکہ ان کی زندگی ہی سائے کے اس گھٹنے بڑھنے پر موقوف ہے۔ ہمیشہ سایہ رہے تو زمین پر کوئی جان دار مخلوق بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ ان سب کی زندگی سورج کی حرارت پر موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ ملنے کی صورت میں نہ جان دار زندہ رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کا وجود باقی رہنا مشکل ہے، پھر اللہ کا فضل یہ ہے کہ دھوپ چھاؤں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ بدلتا ہے، اگر یہ تبدیلی یک لخت ہو تب بھی زمین کی مخلوقات کی خیر نہیں۔ دن رات، دھوپ چھاؤں اور موسموں کے تغیر و تبدل کا سارا سلسلہ تدریج کے اصول پر قائم ہے، جس سے مقصود انسان کی ضروریات بہم پہنچانا ہے۔ دن بھر کے اوقات، نمازوں کے ہوں یا کسی اور کام کے، سائے کے بڑھنے گھٹنے سے وجود میں آتے ہیں۔ وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (٧١، ٧٢) ۔ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا : یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے، کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) اس کے علاوہ سورج کا سائے پر دلالت کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے، دھوپ ہی کے اعتبار سے وہ بڑھتا گھٹتا اور پھیلتا سمٹتا ہے، گویا دھوپ اس کے لیے بمنزلہ دلیل و راہنما ہے۔ (شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Relationship between causes and effects and their being subject to Allah&s will The above verses describe complete and total omnipotence of Allah Ta’ ala and His bounties and favors showered on human kind. This also proves Oneness of Allah and that no one can share His right of worship. أَلَمْ تَرَ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). Sunlight and shade are such blessings of God that without them it would not have been possible for mankind to survive and carry on its day to day functions. If there is sunlight all the time, it will create problems not only for humans but for all living things. On the other hand, if there is shade all the time, then also neither man nor other living creatures can survive. Allah Ta’ ala has created these two blessings by His limitless power and made them beneficial for the mankind. At the same time Allah Ta’ ala, through His infinite wisdom, has tied up all created things with specific causes in the sense that these things come into existence only when such causes are available, and if they are absent, these things do not exist. Similarly, if the causes are strong and available in abundance, the existence of their effects is also strong and abundant, and vice versa. Creation of crops and grass is dependent upon availability of land, water and air. Similarly, light is dependent on availability of the sun and the moon. Rain is dependent on clouds and air. Then there is such a strong bond between these causes and effects that it binds them together in such a way that there has not been the slightest deviation in the working of things even after the passage of centuries. For instance look at the solar system. This system has been working for centuries, yet there has not been the minutest change or deviation in its working, nor has there been a split of a second&s difference in the movements of the entire system. Neither there is any change in the movements of the sun and the moon nor do they require any overhauling or repair work. They are moving along their orbits since the origin of the universe at a defined speed. One can calculate their movements with precision and predict their positions in advance for centuries. This marvelous system of causes and effects was, in fact, a masterpiece of Allah&s creation and a solid proof of His boundless power and infinite wisdom, but it was this firmness of the system which ultimately made people neglectful of Allah&s power. When they perceived that all the &effects& in this universe are linked with some visible causes, they confined their eyes to these visible causes only and started believing them to be the original creator of all these events. The real power of the Creator which was the original cause of all causes remained hidden behind the covers of visible causes only. The prophets are sent and the divine books are revealed to remind human beings that they must rise above this shortsightedness, and see behind the cover of these apparent causes and the omnipotence of their creator who is in fact running and controlling the whole system. This is the only way to discover the real truth about this universe. The verses under consideration are meant to point out to this reality. In the verse أَلَمْ تَرَ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). People are reminded of the perfect solar system and the benefits people draw from it. It is a common experience to see the sun rising from the east when the shades are long. Then with the passage of time they are shortened and at noon become the shortest. Then again as the sun moves toward west the shades start lengthening and before the sunsets become the longest. In this whole process the entire humanity draws unlimited benefits from sunlight and its shades, and clearly realizes that there are the effects of the movements of the sun between East and West, but little attention is paid to the question as to who has created this sun and who has bound it to a well - planned system. Answer to this question cannot be found by one&s eyes, but it can be perceived by the insight of heart and mind. If He so willed, Allah would have made sunlight and shades stationary so that where there was sunlight it would have stayed as such, and where there was shade it would have remained such forever. Just think of the problems it would have brought about. But in His Wisdom He has not done so and instead created things which are beneficial and useful for humanity. The next verse وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا (and if He so willed, He would have made it stand still - 45) means exactly that. In order to explain the phenomenon of lengthening and shortening of shades, it is stated in the verse قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرً‌ا (46) that is |"We pulled it toward Us in a gradual manner.|" It is well known that Allah Ta’ ala is beyond the purview of body or direction and hence there is no question of the shade being pulled toward Him. What it means is that shortening of the shades takes place by His Supreme Power.

خلاصہ تفسیر اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے (جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے اس وقت کھڑی ہوئی چیزوں کے) سایہ کو کیونکر (دور تک) پھیلایا ہے (کیونکہ طلوع کے وقت ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا (یعنی آفتاب کے بلند ہونے سے بھی نہ گھٹتا اس طرح پر کہ اتنی دور تک آفتاب کی شعاعوں کو نہ آنے دیتا کیونکہ آفتاب کی شعاعوں کا زمین کے حصوں پر پہنچنا بارادہ حق ہے نہ کہ بالاضطرار مگر ہم نے اپنی حکمت سے اس کو ایک حالت پر نہیں رکھا بلکہ اس کو پھیلا ہوا بنا کر) پھر ہم نے آفتاب کو (یعنی اس کے افق کے قریب ہونے اور پھر افق سے بلند ہونے کو) اس (سایہ کی درازی و کو تاہی) پر ( ایک ظاہری) علامت مقرر کیا ( مطلب یہ کہ اگرچہ روشنی اور سایہ اور ان کے گھٹنے بڑھنے کی اصل علت حق تعالیٰ کا ارادہ اور مشیت ہے، آفتاب یا کوئی دوسری چیز موثر حقیقی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پیدا ہونے والی چیزوں کے لئے کچھ ظاہری اسباب بنا دیئے ہیں اور اسباب کے ساتھ ان کے مسببات کا ایسا رابطہ قائم کردیا کہ سبب کے تغیر سے مسبب میں تغیر ہوتا ہے) پھر ( اس تعلق ظاہری کی وجہ سے) ہم نے اس (سایہ) کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا (یعنی جوں جوں آفتاب اونچا ہوا وہ سایہ زائل اور معدوم ہوتا گیا اور چونکہ اس کا غائب ہونا محض قدرت الٰہیہ سے بلا شرکت غیرے ہے اور عام لوگوں کی رویت سے غائب ہونے کے باوجود علم الٰہی سے غائب نہیں ہے اس لئے یہ فرمایا گیا کہ اپنی طرف سمیٹ لیا) اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ کی چیز اور نیند کو راحت کی چیز بنایا اور دن کو (اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے گویا) زندہ ہونے کا وقت بنایا اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کرنے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کریں اور ہم اس (پانی) کو (بقدر مصلحت) ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ غور کریں ( کہ یہ تصرفات کسی بڑے قادر کے ہیں کہ وہی مستحق عبادت ہے) سو (چاہئے تھا کہ غور کرکے اس کا حق ادا کرتے لیکن) اکثر لوگ بغیر ناشکری کئے نہ رہے ( جس میں سب سے بڑھ کر کفر و شرک ہے لیکن آپ ان کی اور بالخصوص اکثر کی ناشکری سنا کر یا دیکھ کر سعی فی التبلیغ سے ہمت نہ ہاریئے کہ میں تنہا ان سب سے کیسے عہدہ برآ ہوں گا بلکہ آپ تنہا ہی اپنا کام کئے جائیے کیونکہ آپ کو تنہا ہی نبی بنانے سے خود ہمارا مقصود یہ ہے کہ آپ کا اجر اور قرب بڑھے) اور اگر ہم چاہتے تو (آپ کے علاوہ اسی زمانہ میں) ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے (اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے) سو (اس نعمت کے شکریہ میں) آپ کافروں کو خوشی کا کام نہ کیجئے (یعنی کافر تو) اس سے خوش ہوں گے کہ تبلیغ نہ ہو یا کمی ہوجائے اور ان کی آزادی سے تعرض نہ کیا جاوے) اور قرآن ( میں جو دلائل حق کے مذکور ہیں جیسا اسی مقام پر دلائل توحید کے ارشاد ہوئے ہیں ان) سے ان کا زور شور سے مقابلہ کیجئے (یعنی عام اور مکمل دعوت و تبلیغ کیجئے، یعنی سب سے کہیئے اور بار بار کہیئے اور ہمت قوی رکھئے جیسا اب تک آپ کرتے رہے ہیں اس پر قائم رہئے۔ آگے پھر بیان ہے دلائل توحید کا) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو (صورة) ملایا جن میں ایک (کا پانی) تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک ( کا پانی) شور تلخ ہے اور (باوجود اختلاط صوری کے حقیقتہ) ان کے درمیان میں (اپنی قدرت سے) ایک حجاب اور (اختلاط حقیقی سے) ایک مانع قوی رکھ دیا ( جو خود خفی غیر محسوس ہے مگر اس کا اثر یعنی امتیاز دونوں پانی کے مزہ میں محسوس اور مشاہد ہے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقیٰ کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ۔ دنیا میں جہاں جس جگہ شیریں پانی کی نہریں چشمے سمندر کے پانی میں گرتے ہیں وہاں اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ میلوں دور تک میٹھا اور کھاری پانی الگ الگ چلتے ہیں، دائیں طرف میٹھا بائیں طرف تلخ کھاری یا اوپر نیچے شیریں اور تلخ پانی الگ الگ پائے جاتے ہیں (حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ارکان سے چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبین بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطلم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے۔ کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا، اھ، اور مجھ سے باریسال کے بعض طلباء نے بیان کیا کہ ضلع باریسال میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں، ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آجکل مقیم ہے (ڈابھیل سملک ضلع سورت) سمندر وہاں سے تقریباً دس بارہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر کی ندیوں میں برابر مد و جزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے بکثرت ثقافت نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر کھاری رہتا ہے نیچے میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں میٹھا باقی رہ جاتا ہے۔ واللہ اعلم، ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باوجود بھی کسی طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں) اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے ( یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا ( چناچہ باپ دادا وغیرہ شرعی خاندان اور ماں، نانی وغیرہ عرفی خاندان ہیں جن سے پیدائش کے ساتھ ہی تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں پھر شادی کے بعد سسرالی رشتے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ دلیل قدرت بھی ہے کہ نطفہ کیا چیز تھا پھر اس کو کیسا بنادیا کہ وہ اتنی جلد خون والا ہوگیا اور نعمت بھی ہے کہ ان تعلقات پر تمدن اور امداد باہمی کی تعمیر قائم ہے) اور (اے مخاطب) تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے اور (باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایسا کامل ہے جیسا بیان ہوا اور یہ کمالات مقتضی ہیں کہ اسی کی عبادت کی جاوے مگر) یہ (مشرک) لوگ (ایسے) خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ( جو عبادت کرنے پر) نہ ان کو کچھ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ (درصورت عبادت نہ کرنے کے) اور کو کچھ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور کافر تو اپنے رب کا مخالف ہے (کہ اس کو چھوڑ کر دوسرے کی عبادت کرتا ہے اور کفار کی مخالفت معلوم کرکے آپ نہ تو ان کے ایمان نہ لانے سے غمگین ہوں کیونکہ) ہمنے آپ کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ (ایمن والوں کو جنت کی) خوشخبری سنائیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کرکے فکر میں پڑیں کہ جب یہ حق تعالیٰ کے مخالف ہیں تو میں جو حق تعالیٰ کی طرف دعوت کرتا ہوں اس دعوت کو یہ لوگ خیر خواہی کب سمجھیں گے بلکہ میری خود غرضی پر محمول کرکے التفات بھی نہ کریں گے تو ان کے گمان کی کیونکہ اصلاح کی جاوے تاکہ مانع مرتفع ہو۔ سو اگر آپ کو ان کا یہ خیال قرینہ سے یا زبانی گفتگو سے معلوم ہو تو) آپ (جواب میں اتنا) کہہ دیجئے (اور بےفکر ہوجائے) کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی معاوضہ (مالی یا جاہی) نہیں مانگتا ہاں جو شخص یوں چاہے کہ اپنے رب تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے ( تو البتہ میں یہ ضرور چاہتا ہوں چاہے اس کو معاوضہ کہو یا نہ کہو) اور (نہ اس مخالفت کفار کو دریافت کرکے ان کی ضرر رسانی سے اندیشہ کیجیئے بلکہ تبلیغ میں) اس حی لایموت پر توکل رکھئے اور (اطمینان کے ساتھ) اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیئے اور (نہ مخالفت سن کر تعجیل عقوبت کی اس خیال سے تمنا کیجئے کہ ان کا ضرر دونوں کو نہ پہنچ جاوے کیونکہ) وہ (خدا) اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی (طور پر) خبردار ہے ( وہ جب مناسب سمجھے گا سزا دیدے گا۔ پس ان جملوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حزن و فکر اور خوف کو زائل فرمایا ہے آگے پھر توحید کا بیان ہے) وہ ایسا ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا ( جو کہ اس کی شان کے لائق ہے جس کا بیان سورة اعراف کے رکوع ہفتم کے شروع آیت میں گزر چکا) وہ بڑا مہربان ہے سو اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنا چاہیئے ( کہ وہ کیسا ہے کافر مشرک کیا جانیں اور اس معرفت صحیحہ کے نہ ہونے سے شرک کرتے ہیں کما قال اللہ تعالیٰ وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ) اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو (بوجہ جہل وعناد کے) کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے (جس کے سامنے ہم کو سجدہ کرنے کو کہتے ہو) کیا ہم اس کو سجدہ کرنے لگیں گے جس کو تم سجدہ کرنے کے لئے ہم کو کہو گے اور اس سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے (لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو محاورات اور بول چال میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس کی بھی مخالفت کر بیٹھے) وہ ذات بہت عالیشان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور (ان ستاروں میں سے دو بڑے نورانی اور فائدہ بخش ستارے بنائے یعنی) اس (آسمان) میں ایک چراغ (یعنی آفتاب) اور نورانی چاند بنایا (شاید آفتاب کو سراج بوجہ تیزی کے کہا) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے بنائے ( اور یہ سب کچھ جو دلائل توحید اور اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے) اس شخص کے (سمجھنے کے) لئے (ہیں) جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہئے ( کہ اس میں سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں) ورنہ اگر صد باب حکمت پیش ناداں بخوانی آیدش بازیچہ در گوش معارف ومسائل مخلوقات الٰہیہ میں اسباب و سببات کا رشتہ اور ان سب کا قدرت حق کا تابع ہونا : مذکور الصدر آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بندوں پر اس کے انعامات و احسانات کا ذکر ہے جس سے حق تعالیٰ کی توحید اور استحقاق عبادت میں اس کے ساتھ کسی کا شریک نہ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ، دھوپ اور چھاؤں دونوں ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر انسانی زندگی اور اس کے کاروبار نہیں چل سکتے۔ ہر وقت ہر جگہ دھوپ ہی دھوپ ہوجائے تو انسان اور ہر جاندار کے لئے کیسی مصیبت ہوجائے۔ یہ تو ظاہر ہے اور سایہ کا بھی یہی حال ہے کہ اگر ہر جگہ ہر وقت سایہ ہی رہے کبھی دھوپ نہ آوے تو انسان کی صحت و تندرستی نہیں رہ سکتی، اور بھی ہزاروں کاموں میں خلل آئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں نعمتیں اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمائیں اور انسانوں کے لئے ان کو موجب راحت و سکون بنایا۔ لیکن حق تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے اس دنیا میں پیدا ہونے والی تمام اشیاء کو خاص خاص اسباب کے ساتھ مربوط کردیا ہے کہ جب وہ اسباب موجود ہوتے ہیں تو یہ چیزیں موجود ہوجاتی ہیں جب نہیں ہوتے تو یہ چیزیں بھی نہیں رہتیں۔ اسباب قوی یا زیادہ ہوتے ہیں تو ان کے مسببات کا وجود قوی اور زیادہ ہوجاتا ہے، وہ کمزور یا کم ہوتے ہیں تو مسببات بھی کمزور یا کم ہوجاتے ہیں۔ غلہ اور گھاس اگانے کا سبب زمین اور پانی اور ہوا کو بنا رکھا ہے روشنی کا سبب آفتاب مہتاب کو بنا رکھا ہے۔ بارش کا سبب بادل اور ہوا کو بنا رکھا ہے اور ان اسباب اور ان مرتب ہونے والے اثرات میں ایسا مستحکم اور مضبوط ربط قائم فرما دیا ہے کہ ہزاروں سال سے بغیر کسی ادنی فرق کے چل رہے ہیں۔ آفتاب اور اس کی حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے دن رات اور دھوپ چھاؤں پر نظر ڈالو تو ایسا مستحکم نظام ہے کہ صدیوں بلکہ ہزاروں سال میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ نہ کبھی آفتاب و ماہتاب وغیرہ کی مشینری میں کوئی کمزوری آتی ہے، نہ کبھی ان کو اصلاح و مرمت کی ضرورت ہوتی ہے جب سے دنیا وجود میں آئی ایک انداز ایک رفتار سے چل رہے ہیں حساب لگا کر ہزار سال بعد تک کی چیزوں کا وقت بتلایا جاسکتا ہے۔ سبب اور مسبب کا یہ مستحکم نظام جو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی عجیب و غریب شاہکار اور اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی برہان قطعی ہے اس کے استحکام ہی نے لوگوں کو غفلت میں ڈال دیا کہ ان کی نظروں میں صرف یہ اسباب ظاہرہ ہی رہ گئے اور انہی اسباب کو تمام چیزوں اور تاثیرات کا خالق ومالک سمجھنے لگے۔ مسبب الاسباب کی اصلی قوت جو ان اسباب کی پیدا کرنے والی ہے وہ اسباب کے پردوں میں مستور ہوگئی۔ اس لئے انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں انسان کو بار بار اس پر تنبہ کرتی ہیں کہ ذرا نظر کو بلند اور تیز کرو، اسباب کے پردوں کے پیچھے دیکھو کون اس نظام کو چلا رہا ہے، تاکہ حقیقت تک راہ پاؤ۔ اسی سلسلے کے ایہ ارشادات ہیں جو آیات مذکورہ میں آئے۔ آیت اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ میں غافل انسان کو اس پر تنبیہ کیا گیا ہے کہ تو روزانہ دیکھتا ہے کہ صبح کو ہر چیز کا سایہ جانب غرب دراز ہوتا ہے، پھر وہ گھٹنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ نصف النہار کے وقت معدوم یا کالعدم ہوجاتا ہے پھر زورال کے بعد یہی سایہ اسی تدریجی رفتار کے ساتھ مشرق کی جانب میں پھیلنا شروع ہوتا ہے۔ ہر انسان اس دھوپ اور چھاؤں کے فوائد ہر روز حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ یہ سب کچھ آفتاب کے طلوع ہونے پھر بلند ہونے پھر غروب کی طرف مائل ہونے کے لازمی نتائج وثمرات ہیں، لیکن آفتاب کے کرہ کی تخلیق پھر اس کے ایک خاص نظام کے تحت باقی رکھنے کا کام کس نے کیا، یہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا اس کیلئے دل کی آنکھیں اور بصیرت درکار ہے۔ آیت مذکورہ میں یہی بصیرت انسان کو دینا مقصود ہے کہ یہ سایوں کا بڑھنا گھٹنا اگرچہ تمہاری نظروں میں آفتاب سے متعلق ہے مگر اس پر بھی تو غور کرو کہ آفتاب کو اس شان کے ساتھ کس نے پیدا کیا اور اس کی حرکت کو ایک خاص نظام کے اندر کس نے باقی رکھا، جس کی قدرت کاملہ نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ ہی درحقیقت اس دھوپ چھاؤں کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اگر وہ چاہتا تو اس دھوپ چھاؤں کو ایک حالت پر قائم کردیتا جہاں دھوپ ہے وہاں ہمیشہ دھوپ رہتی، جہاں چھاؤں ہے ہمیشہ چھاؤں رہتی مگر اس کی حکمت نے انسانی ضروریات فوائد پر نظر کرکے ایسا نہیں کیا وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا کا یہی مطلب ہے۔ انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے سایہ کے واپس لوٹنے اور گھٹنے کو آیت مذکورہ میں اس عنوان سے تعبیر فرمایا ہے کہ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا، یعنی پھر سایہ کو ہم نے اپنی طرف سمیٹ لیا، یہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور جہت اور سمت سے بالاتر ہے، اس کی طرف سایہ کا سمٹنا، اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس کی قدرت کاملہ سے یہ سب کام ہوا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۝ ٠ۚ وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَہٗ سَاكِنًا۝ ٠ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْہِ دَلِيْلًا۝ ٤ ٥ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ شاء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی الفاعل کقوله : فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] . والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) «3» ، والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادة الإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» ، وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترک ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ما سوی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجودات اور معدومات سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ شے صرف موجود چیز کو کہتے ہیں ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق شے کا لفظ استعمال ہو تو یہ بمعنی شاء یعنی اسم فاعل کے ہوتا ہے ۔ اور غیر اللہ پر بولا جائے تو مشیء ( اسم مفعول ) کے معنی میں ہوتا ہے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ۔ میں لفظ شی چونکہ دوسرے معنی ( اسم مفعول ) میں استعمال ہوا ہے اس لئے یہ عموم پر محمول ہوگا اور اس سے کسی قسم کا استثناء نہیں کیا جائیگا کیونکہ شی مصدر بمعنی المفعول ہے مگر آیت کریمہ : ۔/ قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر ( قرین انصاف ) کس کی شہادت ہے میں شے بمعنی اسم فاعل ہے اور اللہ تعالیٰ کو اکبر شھادۃ کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری ایت ۔ فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] ( تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے ) میں ذات باری تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے ۔ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ دلَ الدّلالة : ما يتوصّل به إلى معرفة الشیء، کدلالة الألفاظ علی المعنی، ودلالة الإشارات، والرموز، والکتابة، والعقود في الحساب، وسواء کان ذلک بقصد ممن يجعله دلالة، أو لم يكن بقصد، كمن يرى حركة إنسان فيعلم أنه حيّ ، قال تعالی: ما دَلَّهُمْ عَلى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ [ سبأ/ 14] . أصل الدّلالة مصدر کالکتابة والإمارة، والدّالّ : من حصل منه ذلك، والدلیل في المبالغة کعالم، وعلیم، و قادر، وقدیر، ثم يسمّى الدّالّ والدلیل دلالة، کتسمية الشیء بمصدره . ( د ل ل ) الدلا لۃ ۔ جس کے ذریعہ کسی چی کی معرفت حاصل ہو جیسے الفاظ کا معانی پر دلالت کرن اور اشارات در ہو ز اور کتابت کا اپنے مفہوم پر دلالت کرنا اور حساب میں عقود کا عدد مخصوص پر دلالت کرنا وغیرہ اور پھر دلالت عام ہے کہ جاہل یعنی واضح کی وضع سے ہوا یا بغیر وضع اور قصد کے ہو مثلا ایک شخص کسی انسان میں حرکت دیکھ کر جھٹ جان لیتا ہے کہ وہ زندہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ما دَلَّهُمْ عَلى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ [ سبأ/ 14] تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑز سے ۔ اصل میں دلالۃ کا لفظ کنایہ وامارۃ کی طرح مصدر ہے اور اسی سے دال صیغہ صفت فاعل ہے یعنی وہ جس سے دلالت حاصل ہو اور دلیل صیغہ مبالغہ ہے جیسے ہے کبھی دال و دلیل بمعنی دلالۃ ( مصدر آجاتے ہیں اور یہ تسمیہ الشئ بمصدر کے قبیل سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥۔ ٤٦) اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار کی اس قدرت وصنعت پر نظر نہیں کی کہ وہ صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشرق سے مغرب تک کس طرح سایہ کو پھیلاتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس سایہ کو ہمیشہ ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا کہ آفتاب کی بلندی کا بھی اس پر کچھ اثر نہ پڑتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس سایہ کی درازی وکوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ جہاں بھی سورج ہوتا ہے، سایہ فورا اس کے ساتھ ہوتا ہے، پھر ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ج) ” جب رات ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پوری زمین پر ایک سیاہ چادر اوڑھا دی گئی ہے۔ (وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ج) ” اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو پوری زمین پر ہمیشہ رات ہی رہتی ‘ دن کا اجالا کبھی نمودار ہی نہ ہوتا۔ جیسے کہ سورة القصص میں فرمایا گیا : (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ) ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ان لوگوں سے پوچھئے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لیے تم پر رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ “ (ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ) ” تُعْرَفُ الْاَشْیَاءُ بِاَضْدَادِھَا (چیزیں اپنی مخالف چیزوں سے پہچانی جاتی ہیں) کے مصداق سورج کے وجود سے ہی ہمیں روشنی اور تاریکی کا پتاچلتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58 The word dalil has been used in the sense of the "pilot", who is a person trained to take ships safely in or out of a harbour, or along a waterway. The sun has been trade the pilot of the shadow because the lengthening out of the shadow and its being rolled up depends on the rising, declining and setting of the sun.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :58 یہاں لفظ دلیل ٹھیک اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس میں انگریزی لفظ ( Pilot ) استعمال ہوتا ہے ۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راست بتاتا ہوا چلے ۔ سائے پر سورج کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کا پھیلنا اور سکڑنا سورج کے عروج و زوال اور طلوع و غروب کا تابع ہے ۔ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو صبح کے وقت طلوع آفتاب سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں ، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٥۔ ٤٧:۔ صبح صادق کے شروع سے آفتاب کے نکلنے تک بغیر آفتاب کی دھوپ کے جو ایک سایہ ہوتا ہے اس آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ یہ سایہ جنت میں ایک نشانی ہے ‘ جنت میں آفتاب کی دھوپ نہیں ہوگی یہی سایہ ہوگا ‘ تفسیر عبدالرزاق میں حسن بصری اور قتادہ کی روایت سے اور تفسیر ابن ابی حاتم میں علی بن طلحہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے اس آیت میں جو سایہ کا ذکر ہے ‘ اس کی یہی تفسیر آئی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور یہی تفسیر امام بخاری نے صحیح بخاری ١ ؎ میں بیان کے ہے۔ بعضے مفسروں نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ غروب آفتاب کے شروع سے رات کے اندھیرے کے شروع ہونے تک بھی بغیر آفتاب کی دھوپ کے ایک اجالا ہوتا ہے ‘ اس کو بھی اس آیت کی تفسیر قرار دینا چاہیے حافظ ابن حجر نے فتح الباری ٢ ؎ میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ جب آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ غروب آفتاب کے وقت کا سایہ ایک الگ چیز ہے ‘ اس کو آیت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم اور ترمذی میں ابوسعید خدری سے روایت ٣ ؎ ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ جنت میں بعضے سایہ دار درخت ایسے ہیں کہ ان کا سایہ گھوڑے کے سوار شخص سے بھی سو برس کے عرصہ میں طے نہیں ہوسکتا ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی معتبر روایتوں کے موافق جنت میں نہ سورج ہے نہ دھوپ ‘ بلکہ جنت میں تو ہمیشہ ایسا وقت رہے گا ‘ جیسا وقت دنیا میں طلوع سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے ‘ اس حدیث سے اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی معتبر روایتوں سے وَلَوْ شَآئَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صاحب قدرت اس پر قادر ہے کہ اس کی قدرت سے جنت میں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا ‘ جیسا وقت دنیا میں طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے ‘ وہ صاحب قدرت اگر چاہے تو دنیا میں بھی سارے دن طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک کے وقت کو قائم رکھ سکتا ہے لیکن سورج اس بات کا راستہ بتاتا ہے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے کا سایہ اور چیز ہے اور سورج کی دھوپ میں مکانوں اور درختوں وغیرہ کا جو سایہ ہوتا ہے وہ اور ہے ‘ پھر فرمایا سورج کے نکلنے کے بعد سورج سے وہ پہلے کا ٹھنڈا سایہ سہج سہج اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمیٹ لیا جاتا ہے اور بجائے اس ٹھنڈے سایہ کے تمام دنیا میں دھوپ پھیل جاتی ہے یہ ٹھنڈا سایہ رات کے اندھیرے کے بعد طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور پھر دن کے گزر جانے کے بعد رات ہوتی ہے اس واسطے اس ٹھنڈے سایہ کے ذکر میں رات اور دن کا تذکرہ فرمایا جس طرح اوڑھنے اور پہننے کے کپڑے سے انسان کا بدن ڈھانک دیا جاتا ہے اسی طرح رات کا اندھیرا ہر ایک چیز کو ڈھانک لیتا ہے اسی واسطے رات کو لباس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے دن کو ہر طرح کے کام دھندے میں لگ کر آدمی کو تھکان ہوجاتی ہے اور رات کی نیند سے وہ تھکان رفع ہوجاتی ہے اس لیے رات کی نیند کو آرام فرمایا اور دن کے کام دھندے کو اٹھنا اور نکلنا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ سونے کے بعد جاگنا مرنے کے بعد دوبارہ جینے کی نشانی ہے ‘ اسی واسطے صحیح بخاری میں حذیفہ (رض) سے جو روایت ١ ؎ ہے اس میں ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے وقت یہ کہا کرتے تھے یا اللہ تیرے نام پر میں مرتا ہوں اور تیرے نام پر اٹھوں گا اور جب سو کر اٹھا کرتے تھے تو یہ کہتے اس کا شکر ہے جس نے نیند کی موت سے جس طرح ہمیں زندہ کیا ہے اسی طرح موت کے بعد ایک دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کے روبرو جانا پڑے گا۔ (١ ؎ کتاب التفسیر سورة الفرقان ) (٢ ؎ ص ٢٨٣ ج ٤ کتاب التفسیر ) (٣ ؎ الترغیب والترہیب ص ٥٢٠ ج ٤ ) (١ ؎ مشکوٰۃ باب مایقول عند الصباح والمساء والمنام )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:45) الم تر۔ الف استفہامیہ ہے لم تر مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر حاضر کیا تو نے نہیں دیکھا۔ الی ربک : ای الی صنع ربک۔ تیرے رب کی کاریگری کی طرف۔ اپنے رب کی کاریگری کی طرف۔ ساکنا۔ اسم فاعل واحد مذکر سکون سے۔ غیر متحرک ، ٹھہرا ہوا۔ ولا شاء لجعلہ ساکنا جملہ معترضہ ہے۔ ثم حرف عطف ہے، بمعنی پھر۔ اور جعلنا کا عطف مد (جملہ سابقہ پر ہے۔ اسی طرح اگلی آیت میں قبضنہ کا عطف بھی مد پر ہے۔ دلیلا۔ راہنما ۔ راہبر۔ راہ بتانے والا۔ نشانی۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راہ بتاتا ہوا چلے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی طلوع فجر سے لے کر سورج نکلنے تک یا غروب سے طلوع تک صرف سایہ رہتا ہے اس کے ساتھ کوئی دھوپ نہیں ہوتی۔ (قرطبی) ان کی گمراہی بیان کرنے کے بعد اب دلائل توحید کا بیان ہے۔ (شوکانی) 7 ۔ یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) یا مطلب یہ ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے۔ دھوپ کے اعتبار سے ہی اس میں نقص و زیادت اور امتداد و تقلص ہوتا ہے تو گویا دھوپ اس کے لئے بمزملہ دلیل اور راہنما کے ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٥) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے ہیں اگر چاہتا تو انہیں وجود ہی نہ بخشتا کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کی صنعت کا کمال ہے اور وہ ایسا قادر ہے کہ اس نے رات بنا دی جو سارے نظام پر چھا جاتی ہے اور اس میں نیند کا موقع بخشا خود نیند کو پیدا فرمایا جو انسان کو آرام بخشتی ہے اور اس کے بدن کی کھوئی ہوئی توانائیاں دوبارہ بحال ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ رات بھی نہیں رہتی اس کے بعد طلوع ہوتا ہے جو جاگ اٹھنے اور کام کاج کی دعوت دیتا ہے ، یوں ہر کوئی تازہ دم اٹھ کر کاروبارحیات پھر سے شروع کرتا ہے اگر یہ رشتے مجروح ہوں کہ رات دن کا آنا جانا درست نہ رہے بلکہ جو بھی مسلط ہوجائے جانے کا نام نہ لے کبھی برسوں رات مسلط رہے اور کبھی صدیوں دن ٹلنے کا نام لے تو انسانی زندگی کس قدر دشوار ہوجائے پھر ان بادلوں اور ہواؤں میں خشکی اور بارش میں ایک خوبصورت رشتہ اور تعلق پیدا فرما دیا اور وہ اتنا مضبوط رشتہ ہے کہ ایک خاص ہوا سے لوگ بارش کی نوید پاتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے اور پھر واقعی بارش برستی ہے اور خوبصورت پاکیزہ صحت مند اور میٹھا پانی کتنی بلندیوں سے برسایا جاتا ہے جو سراپا حیات اور حیات آفریں ہوتا ہے کہ ہم اس سے مرادہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس میں سے سبزہ وگل اگلتے اور فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور جانداروں کے پینے کے کام آتا ہے اور بیشمار انسان بھی محض بارشی پانی پر گذارہ کرتے ہیں جہاں کوئی دریا وچشمہ نہیں ہوتا بارش وہاں بھی پانی پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے یہ سارے کام رشتوں ہی کی وجہ سے خوبصورتی اور آرام سے انجام پاتے ہیں جو اللہ جل جلالہ نے عالم اسباب میں سبب اور نتیجے میں رکھ دئیے ہیں اور انہیں قائم رکھے ہوئے ہے جہاں کہیں اور جب کبھی اس نے ان میں ذرا سی تبدیلی فرمائی تو لوگوں پر تباہی آئی اور عذاب نازل ہوا ، کبھی طوفان میں غرق ہوئے تو کبھی بادلوں سے آگ برسی ، یہ سب رشتے اس بات کی کھلی دعوت دیتے ہیں اور بہت بڑی نصیحت ہیں کہ مالک اور بندے ہیں جو رشتہ ہے وہ بھی کس قدر اہم اور ضروری ہے پھر جبکہ مالک اپنی طرف سے بہت خوبصورتی سے نبھاتا ہے پیدا کرنے وجود اور قوتیں عطا کرنے میں جوانی طاقت مال و دولت دینے میں تو بندے کو بھی اپنا بندہ ہونے کا رشتہ نبھانا ضروری ہے اگر یہ توڑے گا تو انسانی حیات کس قدر پریشان اور تباہ کن ہوگی اور اکثر لوگوں نے انکار ، کفر اور اللہ کی ناشکری کرکے اس کو تباہ کردیا ہوا ہے اور حیات انسانی کو مصیبت و پریشانی میں ڈال رکھا ہے اب یہ کفر وناشکری دنیا میں بہت ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں بیشمار خرابیاں بھی ہیں جو بہت زیادہ کام ہے اگر ہم چاہتے تو ہر آبادی میں ایک نبی معبوث فرما دیتے جو ان لوگوں کو نافرمانی کے اثرات بد اور تکلیف دہ نتائج سے خبردار کرتا ، مگر اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سارا کام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو کرنا ہے گویا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ قوت عطا ہوئی علوم کا وہ بےبہا خزانہ عطا ہوا کہ ساری کائنات اور ساری انسانیت کی تمام خرابیوں کا حل اور سارے سوالوں کا جواب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ آپ کفار کی بات کو ذرا اہمیت نہ دیجئے کہ ان کا خیال ہے روئے زمین پہ تو کفر قابض ہے بھلا ایک بندہ اس کا کیا مقابلہ کرسکے گا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اللہ جل جلالہ کے ارشادات پورے زور شور سے اور پوری محنت سے بیان کرتے رہیے مفسرین کرام کے مطابق اس وقت تک جہاد کا حکم نازل نہ ہوا تھا لہذا اس کا معنی احکام الہی کو پہنچانے اور تبلیغ میں سخت محنت سے کیا گیا اور یہ بھی جہاد ہی کی ایک صورت ہے مگر آج جبکہ جہاد بالسیف کا حکم موجود ہے اسے چھوڑ کر صرف تبلیغ پہ قناعت کرنا ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا وہ ایسا قادر ہے کہ اس نے دو طرح کے پانی بنا دیئے کڑوا اور میٹھا اور دونوں اسی دنیا میں اپنی اپنی خصوصیات کے ساتھ موجود ہیں کبھی ایک دوسرے کو مغلوب نہیں کرسکے کہ سب کڑوا ہوجائے بلکہ درمیان میں حد فاصل ہے جو انسان کو نظر نہ آئے مگر اپنا کام کر رہی ہے کہ تین حصے زمین پر گہرے سیاہ سمندر چھائے ہوئے ہیں جن کا پانی سخت تلخ اور کڑوا ہے مگر جب اللہ جل جلالہ چاہتا ہے تو بادل اٹھاتا ہے بارش برساتا ہے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کے خوبصورت چشمے ندیاں ، نہریں جاری کردیتا ہے ، دریا بہا دیتا ہے چوٹیوں پر برف کے خزانے جمع کردیتا ہے کیا سمندر کی کڑواہٹ اس کی سیاہی یا اس کی کثرت اس عمل کو روک سکتی ہے ہرگز نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنا کام جاری رکھیے جو قبول کریں گے اللہ جل جلالہ انہیں کفر کے سمندر سے نکال کر میٹھا چشمہ بنانے پر قادر ہے ، مفسرین کرام نے یہاں خوبصورت بحث لکھی ہے جو اپنی جگہ درست بھی ہے اور بہت مفید بھی کہ سمندر کی کڑواہٹ بھی اسی کی بنائی ہوئی اور دنیا کی آبادی کا سبب ہے مگر یہاں اس تفصیل کی گنجائش نہیں ہاں مفہوم عرض کیا جا رہا ہے ، اب کلام کا رخ انسان کی طرف ہوا کہ ایسے ہی اسباب وعلل سے انسانوں میں رشتے پیدا کردیے کہ نطفے سے وجود بخشا مگر ذرات کو نطفہ بننے تک اور نطفے سے انسان بننے تک کتنے انسانی رشتے قائم فرما دیئے کہیں والدین کی طرف سے اور کہیں پھر آگے سسرال اور اولاد کے باعث کہ اللہ جل جلالہ بہت بڑی قدرت کاملہ کا مالک ہے تو یہ سب رشتے اپنی اہمیت کے حامل ہیں جہاں یہ ٹوٹتے ہیں تو کس قدر تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں ایسے ہی خالق و مخلوق ، رب اور مربوب اللہ اور اس کے بندے کا رشتہ ہے یہ کیسے اللہ کو چھوڑ کر رشتہ عبدیت توڑ کر غیر اللہ کی عبادت کرنے لگتے ہیں جو اس رشتے کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے نقصانات کا مداوا بھی نہیں کرسکتے اور اگر ان کی پوجا نہ کی جائے تو کچھ بگڑتا ہی نہیں کوئی رشتہ ہی نہیں ٹوٹتا کہ وہ اس کا حق ہی نہیں رکھتے ہاں یہ کفار بےنصیب ہیں اور انہوں نے اللہ کی طرف سے منہ ہی موڑ لیا ہوا ہے کہ اس کے ارشادات بھی نہیں سنتے نہ اس کی تخلیق اور نظام تخلیق میں فکر کرتے ہیں ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب جلیلہ تو یہ ہے کہ آپ ان بندوں کو بشارت دیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کریں ایمان لائیں اور رشتہ بندگی بنائیں اور جو ان رشتوں کو توڑنے پہ تل گئے ہیں انہیں ان کے اس خطرناک کام کے انجام بد سے خبردار کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرما دیجئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے کوئی مال و دولت یا اقتدار وغیرہ کی خواہش نہیں ہے نہ ان سے کوئی اجرت لینا ہے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ جل جلالہ کے رسول ہیں اسی کا کام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرنا ہے اسی سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدلہ اور انعام لینا ہے لہذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشی تو اس میں ہے کہ ان میں سے بھی جو چاہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول کرکے اپنے رب سے رشتہ استوار کرلے جو اسی کے لیے فائدہ مند بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی ، اگر کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات ماننے کو تیار نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ نہیں بگاڑ رہا خود اپنا ہی نقصان کر رہا ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اللہ جل جلالہ پر بھروسہ کیجئے جو ہمیشہ زندہ ہے اور جس پر کبھی موت نہیں یعنی جس کی ذات پہ کوئی تبدیلی نہیں آسکتی جس کو کوئی سبب متاثر نہیں کرسکتا جو ہمیشہ سے قدرت کاملہ کا مالک ہے اور ہمیشہ کے لیے قادر ہے وہی ایک ذات بھروسے کے لائق بھی ہے اور جو ذوات خود تغیر پذیر ہیں وہ بھلا بھروسے کے قابل کیسے ہو سکتی ہیں آپ اسی کی عظمت بیان کیجئے اسی کے کمالات بیان کیجئے اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں سننا چاہتے اور بدستور برائی کفر اور گناہ کا ارتکاب کیے جا رہے ہیں اللہ جل جلالہ ان سے خوب واقف ہے یہ حقیر بندے بھلا کہاں جائیں گے کہ سارا وسیع تر نظام ارض وسما اور ان کا سارا نظام اس نے چھ دن میں پیدا فرمایا ایسا قادر کہ جب چاہتا بغیر کسی دیر کے سب کچھ بن جاتا مگر اس نظام کی تخلیق تک میں ترتیب رکھی ، اوقات اور تبدیلیوں کا رشتہ قائم رکھا پھر عرش کو مرکز قرار دے دیا کہ سارے نظام کی ڈور وہاں سے ہلتی ہے ساری دعائیں ، آرزؤئیں تمنائیں ادھر کو اٹھتی ہی اور سارے احکام وہاں سے ملتے ہیں ، وہ بہت ہی بڑا رحمت کرنے والے ہے ، اے مخاطب ذرا جاننے والوں سے پوچھ پہلی کتابوں کے علماء سے اس کی عظمت شان کا پتہ لے مگر یہ تو ایسے بدک گئے ہیں کہ اگر انہیں اس عظیم اور بہت بڑی رحمت والی ذات کو سجدہ کرنے کا کہا جائے تو کہتے ہیں بھلا رحمن ہے کیا کس کی بات کرتے ہو اور کیا ہم ایسے گئے گذرے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس کو کہیں ہم سجدہ کریں گے ہرگز نہیں اور یوں ان کے دلوں میں مزید کدورت بڑھتی ہے اور حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 : مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے سائے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک سایہ ہوتا ہے جو گھٹتا بڑھتارہتا ہے اور جب دن کا پورا اجالا پھیل جاتا ہے تو سایہ تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ سائے کا پیدا ہونا ‘ گھٹنا ‘ بڑھنا اور سکڑنا سورج کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر آسمان پر بادل چھا جائیں تو سورج ہونے کے باوجود سائے کا وجود نہیں ہوتا۔ اس طرح کائنات پر مختلف کیفیات آتی رہتی ہیں۔ اللہ کو اس بات پر پوری قدرت حاصل ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ سایہ ایک ہی طرح رہتا مگر اس نے ہر جگہ اپنی قدت کا مظاہرہ فرمایا ہے تاکہ ہر شخص اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے اور ذہن میں بٹھا لے کہ یہ سب کارخانہ قدرت اللہ کے قبضے اور اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری مثال رات اور دن کے آنے جانے کی بیان کی ہے۔ فرمایا کہ دن اور رات کے آنے اور جانے میں بھی اللہ کی قدر تیں صاف نظر آرہی ہیں۔ فرمایا کہ نیند اس لباس کی طرح ہے جو انسانی وجود کو ڈھانپ لیتی اور اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے۔ جب یہ نیند آتی ہے تو انسان کتنا ہی تھکا ماندہ ہو وہ کچھ دیر میں پر سکون اور تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس کے اعضا کو سکون ملتا ہے۔ اگر دن ہی دن ہوتا تو آدمی تھک کر اپنا وجود کھو بیٹھتا۔ معلوم ہوا کہ رات دن کی تبدیلی میں انسان کے لئے معاشی اور جسمانی سکون ہے جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ تیسری مثال بارش سے دی گئی ہے کہ جب آدمی زمین کی خشکی اور گرمی سے نڈھال ہوجاتا ہے تو اللہ ایسی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بھیجتا ہے جو طبعیت میں سکون پیدا کردیتی ہیں اور اس بات کی علامت بھی ہوتی ہیں کہ اب بارش ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش کی ذریعہ نہ صرف مردہ زمین کو ایک نئی زندگی عطا فرماتے ہیں بلکہ بارش کا صاف ستھرا اور پاکیزہ پانی جو ہر طرح کی گندگی سے پاک و صاف ہوتا ہے وہ زمین میں ہی نہیں بلکہ پیاسے انسانوں اور جانوروں میں بھی ایک نئی زندگی پھون دیتا ہے۔ پھر پانی کو بھی اللہ تعالیٰ ایسے اندازے اور مقدار سے برساتے ہیں کہ جہاں جتنی ضرورت ہے اتنا ہی پانی برستا ہے تاکہ یہ انسانوں کے لئے باعث سکون ہو کیونکہ بہت زیادہ پانی کا برس جانا بھی ایک مشکل اور مصیبت بن جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرئیل سے بادلوں کے متعلق پوچھا۔ حضرت جبرائیل نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں پر جس فرشتے کو مقرر کیا ہے وہ حاضر ہے۔ آپ اس سے جو چاہیں پوچھ سکتے ہیں۔ فرشتے نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس جب اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں بستی میں اتنے اتنے پانی کے قطرات پہنچا دو تو ہم اللہ کے حکم کے مطابق اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ سمجھنا کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی ہے بہت غلط ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ لمبے لمبے سائے ‘ دن اور رات کا بدل بدل کر آنا ‘ نیند کے ذریعے سکون اور دن کے اجالے میں فکر معاش اور بادلوں کا اٹھنا ان کا برسنا یہ سب چیزیں اللہ کو پہچاننے کی نشانیاں ہیں۔ اگر انسان ذرا بھی غور فکر سے کام لے تو کائنات میں بکھری ہوئی یہ تمام حقیقتیں ایک اللہ کی قدرت کو پہچاننے کی نشانیاں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نفس کی پیروی کرنے والا شخص اپنے گردوپیش کو دیکھے اور اس پر غور کرے تو اپنے نفس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے رب کا تابعدار بن جائے گا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان کیا تو اس بات پر غور نہیں کرتا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح زمین پر بچھاتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو سائے کو ایک ہی جگہ جامد کردیتا۔ اس نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے وہی رب سورج کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور سائے کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ سورج ایک مقررہ وقت کے مطابق طلوع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت اپنے شباب کو پہنچنے کے بعد آہستہ آہستہ ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے بالآخر غروب ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کے ایک حصہ کو رات اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ لیتی ہے۔ سورج کی رفتار کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا سایہ زمین پر پھیلتا ہے سورج مشرق کی جانب ہو تو سایہ مغرب کی جانب ہوتا ہے۔ سورج مغرب کی جانب ہو تو ہر چیز کا سایہ سورج کی الٹی جانب چلتا ہے۔ جس سائے سے انسان، چوپائے اور جانور فائدہ اٹھاتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ سورج کا مدار اس طرح بنا دیتا کہ جس سے چیزوں کا سایہ ختم ہوجائے تو انسان اور دیگر جانوروں کا کیا حال ہوتا ؟ کیونکہ اس طرح گھر سے باہر انسان کے آرام کی کوئی جگہ نہ رہتی۔ جس سے ناصرف انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی بلکہ دنیا کی ترقی ناممکن ہوجاتی یا سورج کی گردش اس طرح مقرر کی جاتی کہ جس سے سایہ زمین پر پھیلنے کی بجائے ایک ہی جگہ پر قائم رہتا تو اس سے فصلوں کو اور پھلوں کے پکنے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی۔ اس کا اس قدر نقصان ہوتا کہ تلافی ناممکن ہوجاتی۔ کیونکہ بیشمار فصلیں اور پودے ایسے ہیں جو زیادہ مدت تک سائے میں نہیں رہ سکتے۔ ایک طرف سائے سے لوگوں کو فوائد پہنچ رہے ہیں اور دوسری طرف ہر چیز کا سایہ اپنے حال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے یہاں سورج کو دلیل کے طور پر بنایا گیا ہے۔ عربی زبان میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو سمندر میں ملاحوں کو راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ گویا کہ سورج باالفاظ دیگر سائے کے پھیلنے میں دلیل کا کام دیتا ہے۔ اس طرح سورج اور سایہ لازم ملزوم بنا دئیے گئے ہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے اس کو اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سایہ پیدا فرمایا جس سے انسان، حیوانات اور نباتات مستفید ہوتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سائے کو ایک جگہ جامد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سورج اور سائے کی رفتار پر کنٹرول کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کو ہر چیز اور اس کا سایہ بھی سجدہ کرتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سایہ بنایا ہے۔ (النحل : ٤٨) ٢۔ ہر چیز کا سایہ اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : ٤٨) ٣۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : ٤٦) ٤۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : ٦) ٥۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : ١٥) ٦۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : ٢٠٦) ٧۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے انسان سجدہ کرتے ہیں۔ (الحج : ١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٥٩ ایک نظر میں اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم انسانوں کے دل و دماغ کو ہمیشہ اس کائنات کے مشاہد و حقائق پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور انسانی تدبر اور مشاہدات قدرت کے درمیان ربط پیدا کیا جاتا ہے۔ اور انسان کے ذرائع شعور و ادراک کو جگا کر اس بات کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ ان کے مشاہد اور مناظر کو بالکل ایک جدید احساس کے ساتھ دیکھیں۔ اور مشاہد قدرت اور فطرت کے عجوبوں کی پکار کو سنیں اور ان کی پکار پر لبیک کہیں۔ قرآن انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کائنات کی سیر کرے اور اس کے اندر بکھرے ہوئے دلائل قدرت اور آیات فطرت کو اخذکر لے۔ کیونکہ یہ کائنات دراصل ایک کھلی کتاب ہے اور اس کے صفحات میں صائع کائنات کی کاریگریاں اور صنعت کاریاں ہمارے تدبر کے لیے چشم براہ ہیں۔ قرآن کریم انسان کو حکمدیتا ہے کہ وہ دست قدرت کے ان آثار کو پانے کی کوشش کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی آنکھ کو بینا ‘ احساس کو تیز اور کانوں کو کھلا رکھے اور اپنے ان ذرائع ادراک کے ذریعے غور و تدبر کے موضوعات تلاش کرے۔ اس طرح وہ اتصال با للہ حاصل کرے یعنی اللہ کی صنعت کاریوں کے ذریعے اللہ کی ذات کی معرفت حاصل کرے۔ جب انسان اس کائنات میں کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے زندگی بسر کرے ‘ اس کی روح اور اس کا احساس جاگ رہا ہو۔ اس کی فکر اور اس کی سوچ مربوط ہو ‘ تو اس پر دنیا کی معمولی و ابستگیوں سے ذرا بلند ہوجاتی ہے۔ اور اس کا تصور حیات بلند ہوجاتا ہے اور اس کا احساس بہت تیز ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس محدود دنیا کے مقابلے میں کائنات کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں۔ پھر اس کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے ‘ یہ فقط ایک ہی ارادے کے نتیجے میں موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی ناموس حیات کے اندر بندھی ہوئی ہیں۔ پھر اپنی حرکت میں یہ تمام چیزیں ایک ہی خالق کی طرف متوجہ ہیں۔ اور خود انسان بھی اس کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ہے اور یہ بھی دست قدرت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور اس کا پورا ماحول دست قدرت جکڑا ہوا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اور جو کچھ چھو رہا ہے وہ قدرت کی صنعت کاریاں ہیں۔ اس تصور سے انسان کے پردہ احساس پر شعور تقویٰ ‘ شعور محبت اور شعور اعتماد کی ایک امتزاجی کیفیت نمودارہوتی ہے۔ جس سے انسان کی روح سرشارہوتی ہے اور اس کی دنیا معنویت سے بھر جاتی ہے اور انسان کو ایک خاص اندرونی تطہیر ‘ اطمینان اور انس و محبت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اس روح ‘ اس مفہوم اور اس تصور کے ساتھ انسان اس کرئہ ارض پر چلتا پھرتا ہے اور آخر کار وہ اللہ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان کی یہ زندگی نہایت ہی خوشگوار تفریحی سفر بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کی صنعت کاریوں کی ایک نمائش اور ایک میلے میں گم ہوتا ہی اور وہ ہر وقت اللہ کی اس خوبصورت کائنات کے ایسے دسترخوان پر ہوتا ہے جسطرح طرح کی نعمتیں چنی ہوئی ہیں۔ اس سبق کا آغاز سایہ کی تصویرکشی سے ہوتا ہے۔ دست قدرت اس سائے کو طویل تر کردیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے سیکڑا جاتا ہے۔ فیض و ہاط کا یہ عمل نہایت ہی نرمی اور لطف اور غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ پھر ہم رات کے اندھیرے میں اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ پوری کائنات پر سکون اور خاموشی طاری ہوجاتی ہے ۔ پھر ہم دن میں داخل ہوتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب سے زندگی کی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ پھر رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں ‘ بادل لاتی ہیں اور بارش برساتی ہیں۔ پھر ہم سمندر میں ہیں ‘ ساتھ ساتھ میٹھے پانی اور کھارے پانی باہم ملے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو دست قدرت کی صنعت کاری ہے۔ یہ دونوں سمندر اور دونوں پانی آپس میں مل نہیں پاتے۔ پھر عام پانیوں سے ہم مرد کے ساغر حیات کی طرف آجاتے ہیں۔ یہ نطفے کی ایک بوند ہوتی ہے۔ اچانک یہ ایک زندہ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر ایک منظر پر ہم دیکھتے ہیں کہ پوری زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہے۔ زمین و آسمان کے اندر بروج ہیں۔ سراج منیر اور قمر منیر ہیں۔ پھر رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں اور زمانے گزرجاتے ہیں۔ کائنات کی اس سیر کے اندر ہمارا دل زندہ ہوجاتا ہے اور ہماری سوچ مدبر کائنات کی صنعت کاریوں میں گم ہوجاتی ہے ۔ اور انسان کے دل میں اللہ کی قدرت اور تدبیر کے نظارے میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ مشرکین کس قدر احمق ہیں کہ وہ اس رب کیساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں اور ایسے چیزوں کی بندگی کرتے جو ان کو نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور نہ ضرر دے سکتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ رب تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں اور اللہ کی ذات پر کس قدر جرات کرتے ہیں اور کفر و انکار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کائنات کے اندر موجود دلائل اور آیات اور شواہد و نشانات کے ان عجوبوں کے ہوتے ہوئے مشرکین کا رویہ نہایت ہی عجیب لگتا ہے۔ اس کائنات کے یہ مناظر اور اللہ کی تخلیق کے یہ نمونے انسانی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہیں۔ آیئے ذرا دست قدرت کی ان صنعت کارویں کی سیر کریں جس کا ہر پہلو ہمیں واصل باللہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور جس کی صرف ایک وادی کی سیر ہی ہماری پوری زندگی کے لیے کافی ہے۔ (الم تر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبضا یسیرا) (٤٥ : ٤٦) کشادہ اور لطیف سائے کا تصور ہی ایک کبیدہ خاطر اور تھکے ہوئے انسان کے لیے فرحت بخش ہوتا ہے۔ ایسے سائے میں انسان اپنے آپ کو نہایت ہی پر سکون تصور کرتا ہے۔ انسان کو یوں لگتا ہے کہ ایک نہایت ہی رحیم و کریم دست شفقت انسان کی روح اور جسم کو چھورہا ہے اور زندگی کے آرام اور زخموں پر نہایت ہی آڑام دہ مرہم پٹی ہورہی ہے۔ تھکے ہارے دلوں کو قدرت کا یہ ماحول دست شفقت فراہم کرتا ہے۔ کیا اللہ یہی چاہتا کہ اس کے بندے پر طرح طرح کے الزام لگا کر ‘ اس کے ساتھ مذاق کر کے ‘ اس کے دل کو دکھایا گیا ہے ‘ لہذا اسے قدرتی شفقت کا یہ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسے تھوڑی دیر کے لیے اس جاں گسل کشمکش کے ماحول سے نکال کر قدرتی سکون کا ماحول فراہم کیا جائے اور اس زبردست معرکہ آرائی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دکھے ہوئے دل کو سکون فراہم کیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ مکی دور ہے اور آپ کو مشرکین مکہ کے جودو انکار ‘ کبروعناد اور مکرو قریب کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک طویل زمانہ گزر گیا ہے۔ آپ کے ساتھی کم ہیں ‘ مشرکین ہر طرف سے پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ اور اہل ایمان کو اس اذیت استہزاء اور دست درازیوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسے مشکل حالات میں آپ کے دل پر قرآن کریم کا جو ٹکڑا نازل ہوتا تھا وہ بہت ہی آرام دہ مرہم کا کام دیتا تھا۔ یہ دراصل تھکے ماندے مسافر کے لیے وسیع اور گہرا سایہ ہوتا تھا۔ اور کفر و حجود اور عناد اور عصبیت کی گرم لو میں ٹھنڈی اور خوشگوار چھائوں ہوتی تھی۔ سایہ خصوصاً ایک تپتے ہوئے صحراء میں ‘ اس سورت کی روح ‘ موضوع ‘ مضمون اور جدل وجدال کے گرم ماحول میں امن و سکون اور ملجاو ماویٰ فراہم کرتا ہے۔ قرآن کریم اس سایہ کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ دست قدرت اسے لمبا کرتا جاتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔ پھر نہایت ہی نرمی اور غیر محسوس طور پر اسے لپیٹا جاتا ہے۔ الم تر الی ربک کیف مد الظل (٢٥ : ٣٥) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔ “ ثم قبضنہ الینا قبضاً یسیرا (٢٥ : ٣٦) ” پھر ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف لپیٹتے چلے جاتے ہیں۔ “ سایہ کیا چیز ہے۔ کوئی جسم جب سورج کی شعاعوں کے سامنے حائل ہوتا ہے تو وہ ایک خفیف قسم کا اندھیرا پیدا کرتا ہے۔ جوں جوں زمین سورج کے سامنے حرکت کرتی ہے۔ یہ سایہ بھی حرکت کرتا رہتا ہے۔ اس کی وضع اور اس کی شکل بدلتی رہتی ہے۔ اس کی شکل و صورت کو سورج کی شعاعیں روشنی اور حرارت سے متعین کرتی ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کو خوشی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی روح کے اندر لطیف و شفاف بیداری پیدا ہوتی ہے اور نفس انسانی دست قدرت کی لطیف صنعت کاری کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے۔ سورج اور سائے کا یہ منظر جب غائب ہونے پر آتا ہے تو یہ سایہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب یہ طوالت کی آخری حد تک پہنچتا ہے تو یہ سایہ سورج کے غروب کے ساتھ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ یہ کہاں چلا گیا کیا ایک یہ دست قدرت ہے جس نے اسے لپیٹ اور سمیٹ لیا۔ ایک ہمہ گیر سایہ چھا گیا اور اس کے اندر آہستہ آہستہ اب رات کی تاریکی نمودار ہونا شروع ہوگئی۔ یہ ہے صنعت دست قدرت کی ۔ انسان ہے کہ قدرت کے ان آثار و علامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے اردگرد قدرت کے شواہد پھیلے ہوئے ہیں لیکن اس کی کند عقل ان آثار کو نہیں پا رہی ہے۔ ولو شاء لجعلہ ساکنا (٢٥ : ٣٥) ” اگر اللہ چاہتا تو اسے دائمی بنا دیتا۔ “ لیکن اللہ نے ایسا نہ چاہا۔ کیونکہ اس کائنات کی تنظیم ہی اس طرح کی گئی ہے۔ اس نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ ہم روز اس سائے کو یوں دیکھتے رہیں کہ اس کا مدو جزر یوں ہی جاری رہے۔ اگر اس کے اندر ذرا بھی تدبیلی کردی جائے اور اس سایہ کو ساکن بنا دیاج ائے تو اس پوری کائنات کے آثار ہی بدل جائیں۔ اگر زمین ایک جگہ رکی ہوئی ہوتی تو یہ سایہ بھی رکا ہوتا ہے۔ اس کا مدو جزر تو ختم ہوجاتا ۔ اگر زمین کی یہ حرکت نرم ہوتی تو اس سائے کے آثار بھی سست رفتار ہوتے اور اگر زمین کی حرکت تیز ہوتی تو سایوں کا مدو جزر بھی تیز ہوجاتا۔ یہ زمین کی ایک متعین حرکت ہے جو سایوں کو یہ مظاہر عطا کرتی ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ آثار پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں اور جن کے خواص کو ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ گردش زمین اور گردش ظلال اور ان کا مدو جزر تو ہم رات دن دیکھتے ہیں اور غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں از سر نو اس طرف متوجہ فرماتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان کا ایک مخصوص طریقہ ہے کہ وہ انسانی ضمیر کے اندر ایک مردہ تاثر کو زندہ کردیتا ہے۔ ہمارے اندر انفعالیت جگاتا ہے اور ہمیں اپنے ماحول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ہمارے احساسات کو جگاتا ہے ، ہمارے شعور کو تیز کرتا ہے تاکہ ہم ان مشاہد اور آیات بینات کی تہہ پر غور کریں۔ یوں ہمارے دل اس کائنات میں تدبر کے عادی ہوجائیں کیونکہ یہ کائنات بہت ہی عظیم اور عجیب ہے۔ سائے کا یہ منظر رات پر آ کر ختم ہوتا ہے۔ جب سائے طویل ہوتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے۔ رات کے پس پردہ انسانیت آرام و سکون حاصل کرتی ہے اور پھر دن جس میں لوگ زندگی کی تگ و دو میں داخل ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سایہ اور آفتاب، رات اور دن ہوائیں اور بارشیں سب تصرفات الہٰیہ کا مظہر ہیں اول ارشاد فرمایا کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلایا ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ خوب لمبا ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا جو آفتاب کے بلند ہونے پر بھی نہ گھٹتا، نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے آفتاب کو سایہ کی درازی اور کوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ آفتاب طلوع ہوا تو چیزوں کا سایہ لمبا ظاہر ہوا پھر آفتاب چڑھتا گیا تو سایہ گھٹتا گیا، حتیٰ کہ عین زوال کے وقت ذرا سا سایہ رہ گیا، پھر جب آفتاب آگے بڑھا تو سایہ کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا جو زوال کے وقت تک مغرب کی طرف تھا۔ گو بظاہر آفتاب کی رفتار ان چیزوں کی علامت ہے لیکن حقیقت میں سب خالق کائنات جل مجدہ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے۔ ثانیاً یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا جو تمہارے لیے پردہ ہے جیسے تمہیں لباس چھپاتا ہے رات بھی تمہیں پوشیدہ رکھتی ہے اور چونکہ عموماً نیند رات ہی میں ہوتی ہے اس لیے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ نیند کو ہم نے راحت کی چیز بنایا، دن میں محنت کرتے ہیں کام کاج میں رہتے ہیں پھر رات کو اپنے ٹھکانوں پر آجاتے ہیں تو کھا پی کر سو جاتے ہیں، دن بھر کی محنت و مشقت کی وجہ سے جو نڈھال ہوگئے تھے اور جان میں جو کمزوری آگئی تھی سونے کی وجہ سے وہ ختم ہوجاتی ہے اور صبح کو گویا نئی زندگی مل جاتی ہے، رات میں چونکہ تاریکی ہے اس لیے اس میں خوب مزے دار نیند آتی ہے، دن میں سونے کی کوشش کی جائے تو کھڑکیوں پر پردے ڈال کر باقاعدہ رات کی فضا بنائی جاتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اثبات رسالت کے بعد پھر دلائل توحید کا بیان ہے اے پیغمبر ! کیا آپ نے اپنے پروردگار کی طرف نظر نہیں کی کہ اس نے سائے کو کس طرح پھیلایا اور دراز کیا اور اگر وہ چاہتا تو اس سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے اس سائے کے لئے آفتاب کو ایک علامت اور دلیل قرار دیا۔