Commentary Relationship between causes and effects and their being subject to Allah&s will The above verses describe complete and total omnipotence of Allah Ta’ ala and His bounties and favors showered on human kind. This also proves Oneness of Allah and that no one can share His right of worship. أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). Sunlight and shade are such blessings of God that without them it would not have been possible for mankind to survive and carry on its day to day functions. If there is sunlight all the time, it will create problems not only for humans but for all living things. On the other hand, if there is shade all the time, then also neither man nor other living creatures can survive. Allah Ta’ ala has created these two blessings by His limitless power and made them beneficial for the mankind. At the same time Allah Ta’ ala, through His infinite wisdom, has tied up all created things with specific causes in the sense that these things come into existence only when such causes are available, and if they are absent, these things do not exist. Similarly, if the causes are strong and available in abundance, the existence of their effects is also strong and abundant, and vice versa. Creation of crops and grass is dependent upon availability of land, water and air. Similarly, light is dependent on availability of the sun and the moon. Rain is dependent on clouds and air. Then there is such a strong bond between these causes and effects that it binds them together in such a way that there has not been the slightest deviation in the working of things even after the passage of centuries. For instance look at the solar system. This system has been working for centuries, yet there has not been the minutest change or deviation in its working, nor has there been a split of a second&s difference in the movements of the entire system. Neither there is any change in the movements of the sun and the moon nor do they require any overhauling or repair work. They are moving along their orbits since the origin of the universe at a defined speed. One can calculate their movements with precision and predict their positions in advance for centuries. This marvelous system of causes and effects was, in fact, a masterpiece of Allah&s creation and a solid proof of His boundless power and infinite wisdom, but it was this firmness of the system which ultimately made people neglectful of Allah&s power. When they perceived that all the &effects& in this universe are linked with some visible causes, they confined their eyes to these visible causes only and started believing them to be the original creator of all these events. The real power of the Creator which was the original cause of all causes remained hidden behind the covers of visible causes only. The prophets are sent and the divine books are revealed to remind human beings that they must rise above this shortsightedness, and see behind the cover of these apparent causes and the omnipotence of their creator who is in fact running and controlling the whole system. This is the only way to discover the real truth about this universe. The verses under consideration are meant to point out to this reality. In the verse أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). People are reminded of the perfect solar system and the benefits people draw from it. It is a common experience to see the sun rising from the east when the shades are long. Then with the passage of time they are shortened and at noon become the shortest. Then again as the sun moves toward west the shades start lengthening and before the sunsets become the longest. In this whole process the entire humanity draws unlimited benefits from sunlight and its shades, and clearly realizes that there are the effects of the movements of the sun between East and West, but little attention is paid to the question as to who has created this sun and who has bound it to a well - planned system. Answer to this question cannot be found by one&s eyes, but it can be perceived by the insight of heart and mind. If He so willed, Allah would have made sunlight and shades stationary so that where there was sunlight it would have stayed as such, and where there was shade it would have remained such forever. Just think of the problems it would have brought about. But in His Wisdom He has not done so and instead created things which are beneficial and useful for humanity. The next verse وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا (and if He so willed, He would have made it stand still - 45) means exactly that. In order to explain the phenomenon of lengthening and shortening of shades, it is stated in the verse قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا (46) that is |"We pulled it toward Us in a gradual manner.|" It is well known that Allah Ta’ ala is beyond the purview of body or direction and hence there is no question of the shade being pulled toward Him. What it means is that shortening of the shades takes place by His Supreme Power.
خلاصہ تفسیر اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے (جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے اس وقت کھڑی ہوئی چیزوں کے) سایہ کو کیونکر (دور تک) پھیلایا ہے (کیونکہ طلوع کے وقت ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا (یعنی آفتاب کے بلند ہونے سے بھی نہ گھٹتا اس طرح پر کہ اتنی دور تک آفتاب کی شعاعوں کو نہ آنے دیتا کیونکہ آفتاب کی شعاعوں کا زمین کے حصوں پر پہنچنا بارادہ حق ہے نہ کہ بالاضطرار مگر ہم نے اپنی حکمت سے اس کو ایک حالت پر نہیں رکھا بلکہ اس کو پھیلا ہوا بنا کر) پھر ہم نے آفتاب کو (یعنی اس کے افق کے قریب ہونے اور پھر افق سے بلند ہونے کو) اس (سایہ کی درازی و کو تاہی) پر ( ایک ظاہری) علامت مقرر کیا ( مطلب یہ کہ اگرچہ روشنی اور سایہ اور ان کے گھٹنے بڑھنے کی اصل علت حق تعالیٰ کا ارادہ اور مشیت ہے، آفتاب یا کوئی دوسری چیز موثر حقیقی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پیدا ہونے والی چیزوں کے لئے کچھ ظاہری اسباب بنا دیئے ہیں اور اسباب کے ساتھ ان کے مسببات کا ایسا رابطہ قائم کردیا کہ سبب کے تغیر سے مسبب میں تغیر ہوتا ہے) پھر ( اس تعلق ظاہری کی وجہ سے) ہم نے اس (سایہ) کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا (یعنی جوں جوں آفتاب اونچا ہوا وہ سایہ زائل اور معدوم ہوتا گیا اور چونکہ اس کا غائب ہونا محض قدرت الٰہیہ سے بلا شرکت غیرے ہے اور عام لوگوں کی رویت سے غائب ہونے کے باوجود علم الٰہی سے غائب نہیں ہے اس لئے یہ فرمایا گیا کہ اپنی طرف سمیٹ لیا) اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ کی چیز اور نیند کو راحت کی چیز بنایا اور دن کو (اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے گویا) زندہ ہونے کا وقت بنایا اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کرنے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کریں اور ہم اس (پانی) کو (بقدر مصلحت) ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ غور کریں ( کہ یہ تصرفات کسی بڑے قادر کے ہیں کہ وہی مستحق عبادت ہے) سو (چاہئے تھا کہ غور کرکے اس کا حق ادا کرتے لیکن) اکثر لوگ بغیر ناشکری کئے نہ رہے ( جس میں سب سے بڑھ کر کفر و شرک ہے لیکن آپ ان کی اور بالخصوص اکثر کی ناشکری سنا کر یا دیکھ کر سعی فی التبلیغ سے ہمت نہ ہاریئے کہ میں تنہا ان سب سے کیسے عہدہ برآ ہوں گا بلکہ آپ تنہا ہی اپنا کام کئے جائیے کیونکہ آپ کو تنہا ہی نبی بنانے سے خود ہمارا مقصود یہ ہے کہ آپ کا اجر اور قرب بڑھے) اور اگر ہم چاہتے تو (آپ کے علاوہ اسی زمانہ میں) ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے (اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے) سو (اس نعمت کے شکریہ میں) آپ کافروں کو خوشی کا کام نہ کیجئے (یعنی کافر تو) اس سے خوش ہوں گے کہ تبلیغ نہ ہو یا کمی ہوجائے اور ان کی آزادی سے تعرض نہ کیا جاوے) اور قرآن ( میں جو دلائل حق کے مذکور ہیں جیسا اسی مقام پر دلائل توحید کے ارشاد ہوئے ہیں ان) سے ان کا زور شور سے مقابلہ کیجئے (یعنی عام اور مکمل دعوت و تبلیغ کیجئے، یعنی سب سے کہیئے اور بار بار کہیئے اور ہمت قوی رکھئے جیسا اب تک آپ کرتے رہے ہیں اس پر قائم رہئے۔ آگے پھر بیان ہے دلائل توحید کا) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو (صورة) ملایا جن میں ایک (کا پانی) تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک ( کا پانی) شور تلخ ہے اور (باوجود اختلاط صوری کے حقیقتہ) ان کے درمیان میں (اپنی قدرت سے) ایک حجاب اور (اختلاط حقیقی سے) ایک مانع قوی رکھ دیا ( جو خود خفی غیر محسوس ہے مگر اس کا اثر یعنی امتیاز دونوں پانی کے مزہ میں محسوس اور مشاہد ہے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقیٰ کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ۔ دنیا میں جہاں جس جگہ شیریں پانی کی نہریں چشمے سمندر کے پانی میں گرتے ہیں وہاں اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ میلوں دور تک میٹھا اور کھاری پانی الگ الگ چلتے ہیں، دائیں طرف میٹھا بائیں طرف تلخ کھاری یا اوپر نیچے شیریں اور تلخ پانی الگ الگ پائے جاتے ہیں (حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ارکان سے چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبین بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطلم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے۔ کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا، اھ، اور مجھ سے باریسال کے بعض طلباء نے بیان کیا کہ ضلع باریسال میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں، ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آجکل مقیم ہے (ڈابھیل سملک ضلع سورت) سمندر وہاں سے تقریباً دس بارہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر کی ندیوں میں برابر مد و جزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے بکثرت ثقافت نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر کھاری رہتا ہے نیچے میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں میٹھا باقی رہ جاتا ہے۔ واللہ اعلم، ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باوجود بھی کسی طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں) اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے ( یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا ( چناچہ باپ دادا وغیرہ شرعی خاندان اور ماں، نانی وغیرہ عرفی خاندان ہیں جن سے پیدائش کے ساتھ ہی تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں پھر شادی کے بعد سسرالی رشتے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ دلیل قدرت بھی ہے کہ نطفہ کیا چیز تھا پھر اس کو کیسا بنادیا کہ وہ اتنی جلد خون والا ہوگیا اور نعمت بھی ہے کہ ان تعلقات پر تمدن اور امداد باہمی کی تعمیر قائم ہے) اور (اے مخاطب) تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے اور (باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایسا کامل ہے جیسا بیان ہوا اور یہ کمالات مقتضی ہیں کہ اسی کی عبادت کی جاوے مگر) یہ (مشرک) لوگ (ایسے) خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ( جو عبادت کرنے پر) نہ ان کو کچھ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ (درصورت عبادت نہ کرنے کے) اور کو کچھ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور کافر تو اپنے رب کا مخالف ہے (کہ اس کو چھوڑ کر دوسرے کی عبادت کرتا ہے اور کفار کی مخالفت معلوم کرکے آپ نہ تو ان کے ایمان نہ لانے سے غمگین ہوں کیونکہ) ہمنے آپ کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ (ایمن والوں کو جنت کی) خوشخبری سنائیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کرکے فکر میں پڑیں کہ جب یہ حق تعالیٰ کے مخالف ہیں تو میں جو حق تعالیٰ کی طرف دعوت کرتا ہوں اس دعوت کو یہ لوگ خیر خواہی کب سمجھیں گے بلکہ میری خود غرضی پر محمول کرکے التفات بھی نہ کریں گے تو ان کے گمان کی کیونکہ اصلاح کی جاوے تاکہ مانع مرتفع ہو۔ سو اگر آپ کو ان کا یہ خیال قرینہ سے یا زبانی گفتگو سے معلوم ہو تو) آپ (جواب میں اتنا) کہہ دیجئے (اور بےفکر ہوجائے) کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی معاوضہ (مالی یا جاہی) نہیں مانگتا ہاں جو شخص یوں چاہے کہ اپنے رب تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے ( تو البتہ میں یہ ضرور چاہتا ہوں چاہے اس کو معاوضہ کہو یا نہ کہو) اور (نہ اس مخالفت کفار کو دریافت کرکے ان کی ضرر رسانی سے اندیشہ کیجیئے بلکہ تبلیغ میں) اس حی لایموت پر توکل رکھئے اور (اطمینان کے ساتھ) اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیئے اور (نہ مخالفت سن کر تعجیل عقوبت کی اس خیال سے تمنا کیجئے کہ ان کا ضرر دونوں کو نہ پہنچ جاوے کیونکہ) وہ (خدا) اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی (طور پر) خبردار ہے ( وہ جب مناسب سمجھے گا سزا دیدے گا۔ پس ان جملوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حزن و فکر اور خوف کو زائل فرمایا ہے آگے پھر توحید کا بیان ہے) وہ ایسا ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا ( جو کہ اس کی شان کے لائق ہے جس کا بیان سورة اعراف کے رکوع ہفتم کے شروع آیت میں گزر چکا) وہ بڑا مہربان ہے سو اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنا چاہیئے ( کہ وہ کیسا ہے کافر مشرک کیا جانیں اور اس معرفت صحیحہ کے نہ ہونے سے شرک کرتے ہیں کما قال اللہ تعالیٰ وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ) اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو (بوجہ جہل وعناد کے) کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے (جس کے سامنے ہم کو سجدہ کرنے کو کہتے ہو) کیا ہم اس کو سجدہ کرنے لگیں گے جس کو تم سجدہ کرنے کے لئے ہم کو کہو گے اور اس سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے (لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو محاورات اور بول چال میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس کی بھی مخالفت کر بیٹھے) وہ ذات بہت عالیشان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور (ان ستاروں میں سے دو بڑے نورانی اور فائدہ بخش ستارے بنائے یعنی) اس (آسمان) میں ایک چراغ (یعنی آفتاب) اور نورانی چاند بنایا (شاید آفتاب کو سراج بوجہ تیزی کے کہا) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے بنائے ( اور یہ سب کچھ جو دلائل توحید اور اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے) اس شخص کے (سمجھنے کے) لئے (ہیں) جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہئے ( کہ اس میں سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں) ورنہ اگر صد باب حکمت پیش ناداں بخوانی آیدش بازیچہ در گوش معارف ومسائل مخلوقات الٰہیہ میں اسباب و سببات کا رشتہ اور ان سب کا قدرت حق کا تابع ہونا : مذکور الصدر آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بندوں پر اس کے انعامات و احسانات کا ذکر ہے جس سے حق تعالیٰ کی توحید اور استحقاق عبادت میں اس کے ساتھ کسی کا شریک نہ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ، دھوپ اور چھاؤں دونوں ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر انسانی زندگی اور اس کے کاروبار نہیں چل سکتے۔ ہر وقت ہر جگہ دھوپ ہی دھوپ ہوجائے تو انسان اور ہر جاندار کے لئے کیسی مصیبت ہوجائے۔ یہ تو ظاہر ہے اور سایہ کا بھی یہی حال ہے کہ اگر ہر جگہ ہر وقت سایہ ہی رہے کبھی دھوپ نہ آوے تو انسان کی صحت و تندرستی نہیں رہ سکتی، اور بھی ہزاروں کاموں میں خلل آئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں نعمتیں اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمائیں اور انسانوں کے لئے ان کو موجب راحت و سکون بنایا۔ لیکن حق تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے اس دنیا میں پیدا ہونے والی تمام اشیاء کو خاص خاص اسباب کے ساتھ مربوط کردیا ہے کہ جب وہ اسباب موجود ہوتے ہیں تو یہ چیزیں موجود ہوجاتی ہیں جب نہیں ہوتے تو یہ چیزیں بھی نہیں رہتیں۔ اسباب قوی یا زیادہ ہوتے ہیں تو ان کے مسببات کا وجود قوی اور زیادہ ہوجاتا ہے، وہ کمزور یا کم ہوتے ہیں تو مسببات بھی کمزور یا کم ہوجاتے ہیں۔ غلہ اور گھاس اگانے کا سبب زمین اور پانی اور ہوا کو بنا رکھا ہے روشنی کا سبب آفتاب مہتاب کو بنا رکھا ہے۔ بارش کا سبب بادل اور ہوا کو بنا رکھا ہے اور ان اسباب اور ان مرتب ہونے والے اثرات میں ایسا مستحکم اور مضبوط ربط قائم فرما دیا ہے کہ ہزاروں سال سے بغیر کسی ادنی فرق کے چل رہے ہیں۔ آفتاب اور اس کی حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے دن رات اور دھوپ چھاؤں پر نظر ڈالو تو ایسا مستحکم نظام ہے کہ صدیوں بلکہ ہزاروں سال میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ نہ کبھی آفتاب و ماہتاب وغیرہ کی مشینری میں کوئی کمزوری آتی ہے، نہ کبھی ان کو اصلاح و مرمت کی ضرورت ہوتی ہے جب سے دنیا وجود میں آئی ایک انداز ایک رفتار سے چل رہے ہیں حساب لگا کر ہزار سال بعد تک کی چیزوں کا وقت بتلایا جاسکتا ہے۔ سبب اور مسبب کا یہ مستحکم نظام جو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی عجیب و غریب شاہکار اور اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی برہان قطعی ہے اس کے استحکام ہی نے لوگوں کو غفلت میں ڈال دیا کہ ان کی نظروں میں صرف یہ اسباب ظاہرہ ہی رہ گئے اور انہی اسباب کو تمام چیزوں اور تاثیرات کا خالق ومالک سمجھنے لگے۔ مسبب الاسباب کی اصلی قوت جو ان اسباب کی پیدا کرنے والی ہے وہ اسباب کے پردوں میں مستور ہوگئی۔ اس لئے انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں انسان کو بار بار اس پر تنبہ کرتی ہیں کہ ذرا نظر کو بلند اور تیز کرو، اسباب کے پردوں کے پیچھے دیکھو کون اس نظام کو چلا رہا ہے، تاکہ حقیقت تک راہ پاؤ۔ اسی سلسلے کے ایہ ارشادات ہیں جو آیات مذکورہ میں آئے۔ آیت اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ میں غافل انسان کو اس پر تنبیہ کیا گیا ہے کہ تو روزانہ دیکھتا ہے کہ صبح کو ہر چیز کا سایہ جانب غرب دراز ہوتا ہے، پھر وہ گھٹنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ نصف النہار کے وقت معدوم یا کالعدم ہوجاتا ہے پھر زورال کے بعد یہی سایہ اسی تدریجی رفتار کے ساتھ مشرق کی جانب میں پھیلنا شروع ہوتا ہے۔ ہر انسان اس دھوپ اور چھاؤں کے فوائد ہر روز حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ یہ سب کچھ آفتاب کے طلوع ہونے پھر بلند ہونے پھر غروب کی طرف مائل ہونے کے لازمی نتائج وثمرات ہیں، لیکن آفتاب کے کرہ کی تخلیق پھر اس کے ایک خاص نظام کے تحت باقی رکھنے کا کام کس نے کیا، یہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا اس کیلئے دل کی آنکھیں اور بصیرت درکار ہے۔ آیت مذکورہ میں یہی بصیرت انسان کو دینا مقصود ہے کہ یہ سایوں کا بڑھنا گھٹنا اگرچہ تمہاری نظروں میں آفتاب سے متعلق ہے مگر اس پر بھی تو غور کرو کہ آفتاب کو اس شان کے ساتھ کس نے پیدا کیا اور اس کی حرکت کو ایک خاص نظام کے اندر کس نے باقی رکھا، جس کی قدرت کاملہ نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ ہی درحقیقت اس دھوپ چھاؤں کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اگر وہ چاہتا تو اس دھوپ چھاؤں کو ایک حالت پر قائم کردیتا جہاں دھوپ ہے وہاں ہمیشہ دھوپ رہتی، جہاں چھاؤں ہے ہمیشہ چھاؤں رہتی مگر اس کی حکمت نے انسانی ضروریات فوائد پر نظر کرکے ایسا نہیں کیا وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا کا یہی مطلب ہے۔ انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے سایہ کے واپس لوٹنے اور گھٹنے کو آیت مذکورہ میں اس عنوان سے تعبیر فرمایا ہے کہ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا، یعنی پھر سایہ کو ہم نے اپنی طرف سمیٹ لیا، یہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور جہت اور سمت سے بالاتر ہے، اس کی طرف سایہ کا سمٹنا، اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس کی قدرت کاملہ سے یہ سب کام ہوا۔