Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 53

سورة الفرقان

وَ ہُوَ الَّذِیۡ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَّ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ۚ وَ جَعَلَ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخًا وَّ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۵۳﴾

And it is He who has released [simultaneously] the two seas, one fresh and sweet and one salty and bitter, and He placed between them a barrier and prohibiting partition.

اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ... And it is He Who has let free the two seas, this is palatable and sweet, and that is salty and bitter; means, He has created the two kinds of water, sweet and salty. The sweet water is like that in rivers, springs and wells, which is fresh, sweet, palatable water. This was the view of Ibn Jurayj and of Ibn Jarir, and this is the meaning without a doubt, for nowhere in creation is there a sea which is fresh and sweet. Allah has told us about reality so that His servants may realize His blessings to them and give thanks to Him. The sweet water is that which flows amidst people. Allah has portioned it out among His creatures according to their needs; rivers and springs in every land, according to what they need for themselves and their lands. ... وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ... and that is salty and bitter; meaning that it is salty, bitter and not easy to swallow. This is like the seas that are known in the east and the west, the Atlantic Ocean and the Straits that lead to it, the Red Sea, the Arabian Sea, the Persian Gulf, the China Sea, the Indian Ocean, the Mediterranean Sea, the Black Sea and so on, all the seas that are stable and do not flow, but they swell and surge in the winter and when the winds are strong, and they have tides that ebb and flow. At the beginning of each month the tides ebb and flood, and when the month starts to wane they retreat until they go back to where they started. When the crescent of the following month appears, the tide begins to ebb again until the fourteenth of the month, then it decreases. Allah, may He be glorified, the One Whose power is absolute, has set these laws in motion, so all of these seas are stationary, and He has made their water salty lest the air turn putrid because of them and the whole earth turn rotten as a result, and lest the earth spoil because of the animals dying on it. Because its water is salty, its air is healthy and its dead are good (to eat), hence when the Messenger of Allah was asked whether sea water can be used for Wudu', he said: هُوَ الطَّهُورُ مَاوُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُه Its water is pure and its dead are lawful. This was recorded by Malik, Ash-Shafi`i and Ahmad, and by the scholars of Sunan with a good (Jayyid) chain of narration. ... وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا and He has set a barrier and a complete partition between them. meaning, between the sweet water and the saltwater. بَرْزَخًا (a barrier), means a partition, which is dry land. وَحِجْرًا مَّحْجُورًا (and a complete partition), means, a barrier, to prevent one of them from reaching the other. This is like the Ayat: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لاَّ يَبْغِيَانِ فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ He has let loose the two seas meeting together. Between them is a barrier which none of them can transgress. Then which of the blessings of your Lord will you both deny! (55:19-21) أَمَّن جَعَلَ الاٌّرْضَ قَرَاراً وَجَعَلَ خِلَلَهَأ أَنْهَاراً وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزاً أَءِلـهٌ مَّعَ اللهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ Is not He Who has made the earth as a fixed abode, and has placed rivers in its midst, and placed firm mountains therein, and set a barrier between the two seas! Is there any god with Allah! Nay, but most of them know not! (27:61) And Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

531آپ شریں کو فرات کہتے ہیں، فَرَات کے معنی کاٹ دینا، توڑ دینا، میٹھا پانی پیاس کو کاٹ دیتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔ اُجَاج، سخت کھاری یا کڑوا۔ 532جو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتی بعض نے حجرا محجورا کے معنی کیے ہیں حراما محرما ان پر حرام کردیا گیا ہے کہ میٹھا پانی کھاری یا کھاری پانی میٹھا ہوجائے اور بعض مفسرین نے مرج البحرین کا ترجمہ کیا ہے خلق المائین دو پانی پیدا کیے ایک میٹھا اور دوسرا کھاری میٹھا پانی تو وہ ہے جو نہروں چشموں اور کنوؤں کی شکل میں آبادیوں کے درمیان پایا جاتا ہے جس کو انسان اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے اور کھاری پانی وہ ہے جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے سمندروں میں ہے جو کہتے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصہ ہیں اور ایک چوتھائی حصہ خشکی کا ہے جس میں انسانوں اور حیوانوں کا بسیرا ہے یہ سمندر ساکن ہیں البتہ ان میں مد وجزر ہوتا رہتا ہے اور موجوں کا تلاطم جاری رہتا ہے سمندری پانی کے کھاری رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے میٹھا پانی زیادہ دیر تک کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہوجاتا ہے اس کے ذائقے رنگ یا بو میں تبدیلی آجاتی ہے کھاری پانی خراب نہیں ہوتا نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے نہ رنگ اور بو اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا تو اس میں بدبو پیدا ہوجاتی جس سے انسانوں اور حیوانوں کا زمین میں رہنا مشکل ہوجاتا اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں برس سے یہ سمندر موجود ہیں اور ان میں ہزاروں جانور مرتے ہیں اور انہی میں گل سڑ جاتے ہیں لیکن اللہ نے ان میں ملاحت نمکیات کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور انکا پانی بھی پاک ہے حتی کہ ان کا مردار بھی حلال ہے کما فی الحدیث۔ موطا امام مالک۔ ابن ماجہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] مرج کا لغوی معنی دو چیزوں کو اس طرح ملانا یا ان کا آپس میں اس طرح ملنا ہے کہ ان دونوں کی انفرادی حیثیت اور خواص برقرار رہیں۔ جیسے غصن مریج باہم گتھی ہوئی ٹہنی ( مفرادت امام راغب ( اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک نہایت محیرالعقول نشانی بتلائی ہے اور وہ نشانی اتنی عام ہے جو بیشمار لوگوں کے مشاہدہ میں آچکی ہے۔ اور جغرافیہ دان حضرات اور جغرافیہ پڑھنے والے طالب علم اس حقیقت سے خوب واقف ہیں جو سمندروں کے اندر بھی ایسے۔۔ چل رہے ہیں جیسے سطح زمین پر بہہ رہے ہیں۔ کہیں گرم پانی کی روئیں چل رہی ہیں کہیں ٹھنڈے پانی کی، کہیں کھاری پانی کی، کہیں میٹھے پانی کی، اور یہ روئیں اتنی لمبی ہوتی ہیں جو سمندر کے اندر ہی اندر ایک ملک سے دوسرے ملک تک چلی جاتی ہیں۔ پھر کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اوپر کھاری پانی ہے، نیچے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک طرف کھاری پانی کا دریا بہہ رہا ہے تو اس کے ساتھ متصل میٹھے پانی کا دریا چل رہا ہے اور یہ پانی اپنی اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ باہم ملتے نہیں۔ اور ملاح حضرات اپنی واقفیت کی بنا پر سمندر میں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی بھی حاصل کرلیتے ہیں اور میں نے خود دو مقامات چترال اور کراچی میں دیکھا ہے کہ ایک طرف گرم پانی کا چشمہ ابل رہا اور ساتھ ہی متصل دوسری طرف ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ ابل رہا ہے حالانکہ سمین کے نیچے پانی کی سطح ایک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانی کی یہ مثال اسی لئے دی ہے کہ یہ بات عام لوگوں کے مشاہدہ میں آچکی ہے اب سوال یہ ہے کہ پانی یا ہر سیال چیز کی جہاں یہ خاصیت کو سلب کرلیا۔ تاکہ سمندر کے اندر یا سمندر کے کناروں پر بسنے والی مخلوق کو پینے کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی مہیا ہوسکے تاکہ وہ اپنی زندگی کو برقرار رکھ سکے۔ کیا اب بھی غافل انسان اپنی چشم بصیرت سے اللہ کی اس نشانی اور عظیم الشان نعمت اور قدرت کو نہ دیکھے گا ؟ [٦٦] یہاں حجرا محجورا کا لفظ مح اور تاً نہیں بلکہ اپنے اصل اور لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ۔۔ : ” فُرَاتٌ“ ” فَرُتَ یَفْرُتُ “ کا معنی توڑ دینا ہے، میٹھا پانی پیاس کو ختم کرتا ہے، اس لیے اسے ” فُرَاتٌ“ کہتے ہیں۔ توحید کے دلائل جو ” اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ “ سے شروع ہوئے تھے یہ ان کا چوتھا سلسلہ ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کے کمال اور انسان پر اس کے انعامات تینوں چیزوں کا بیان ہے۔ اس کی ہم معنی آیت سورة رحمن میں ہے : (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ ) [ الرحمٰن : ١٩، ٢٠ ] ” اس نے دو سمندروں کو ملادیا، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ آگے نہیں بڑھتے۔ “ ” هُوَ الَّذِيْ “ میں مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم ادا ہو رہا ہے کہ دو سمندروں کو اس طرح ملانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ زمین کے تقریباً ستر (٧٠) فیصد حصے پر سمندر ہے جس کا پانی سخت نمکین ہے، بظاہر اس کے ساتھ ملا ہوا میٹھے پانی کا کوئی سمندر نہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی۔ اس لیے مفسرین نے آیت کے کئی مصداق بیان فرمائے ہیں اور سبھی درست ہیں۔ ایک مصداق اس کا یہ ہے کہ عربی میں بحر کا لفظ پانی کے بڑے ذخیرے پر بولا جاتا ہے، اس لیے یہ لفظ سمندر اور دریا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو اس سے مراد زمین پر موجود پانی کے دو بڑے ذخیرے ہیں، ایک میٹھا جو دریاؤں، جھیلوں اور ندی نالوں کی صورت میں ہے اور دوسرا کڑوا جو سمندر کی صورت میں ہے۔ ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے زمین کی اوٹ بنادی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، نہ نمکین میٹھے پر غالب آتا ہے اور نہ میٹھا نمکین پر۔ اس کا واضح مشاہدہ جزیروں پر ہوتا ہے، جہاں سمندر کے سخت نمکین پانی کے ساتھ ہی میٹھے پانی کا دریا چل رہا ہوتا ہے۔ دوسرا مصداق اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے نیچے موجود پانی کے دو سمندر ہیں، جن میں سے ہر ایک کی رو دوسرے کی رو کے بالکل ساتھ چل رہی ہے، ایک جگہ نلکا لگائیں تو میٹھا پانی نکلتا ہے اور بعض اوقات اس کے قریب ہی دوسرا نلکا لگانے سے نمکین پانی نکلتا ہے، حتیٰ کہ دیوار کی ایک طرف کا پانی میٹھا ہوتا ہے اور دوسری طرف کا نمکین، نہ یہ اس کی نمکینی میں دخل دیتا ہے اور نہ وہ اس کی شیرینی میں۔ میری دانست میں یہ صورت سب سے واضح ہے، ہر شخص اس کا مشاہدہ کرسکتا ہے اور اس پر کسی ملحد کے لیے اعتراض کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ تیسرا مصداق اس کا وہ مقام ہے جہاں کسی بڑے دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور اس کے اندر دور تک چلا جاتا ہے، اس کا رنگ اور ذائقہ سمندر کے پانی کے رنگ اور ذائقے سے الگ رہتا ہے، دونوں کے درمیان نظر نہ آنے والی رکاوٹ حائل رہتی ہے۔ مفسر ابوحیان لکھتے ہیں : ” وَ نِیْلُ مِصْرَ فِيْ فَیْضِہِ یَشُقُّ الْبَحْرَ الْمَالِحَ شَقًّا بِحَیْثُ یَبْقٰي نَھْرًا جَارِیًا أَحْمَرَ فِيْ وَسْطِ الْمَالِحِ لِیَسْتَقِی النَّاسُ مِنْہُ “ [ البحر المحیط ] ” یعنی مصر کا دریائے نیل اپنی طغیانی کے زمانے میں نمکین سمندر کو چیرتا ہوا شور سمندر کے وسط میں سرخ رنگ کے دریا کی صورت میں دور تک بہتا چلا جاتا ہے، جس سے لوگ پینے کے لیے پانی حاصل کرتے ہیں۔ “ چوتھا مصداق اس کا یہ ہے کہ کھارے اور کڑوے سمندر کے درمیان ایسے ذخیرے موجود ہیں جن کا پانی بالکل میٹھا ہے۔ ابو حیان ہی نے لکھا ہے : ” وَ تَرَی الْمِیَاہَ قِطْعًا فِيْ وَسْطِ الْبَحْرِ الْمَالِحِ فَیَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مَاءٌ ثَلْجٌ فَیَسْقُوْنَ مِنْہُ مِنْ وَسْطِ الْبَحْرِ “ [ البحر المحیط ] ” یعنی نمکین سمندر کے وسط میں (میٹھے) پانی ٹکڑوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ برف کا پانی ہے اور وہ سمندر کے درمیان اس سے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں۔ “ تفہیم القرآن میں ہے : ” خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں، جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب ” مرأۃ الممالک “ میں (جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے) خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے، اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداءً وہ بھی خلیج فارس کے انھی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی، بعد میں ” ظہران “ کے پاس کنویں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔ “ 3 اس آیت میں نعمت کی یاد دہانی کس طرح ہے، اس کے لیے میٹھے اور نمکین سمندروں میں سے میٹھے پانی کے فوائد بیان کرنے کی تو خاص ضرورت ہی نہیں، کیونکہ خشکی کے ہر جان دار کی زندگی کا دار و مدار اسی پر ہے، البتہ نمکین سمندر میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا مشاہدہ کئی طرح سے ہوتا ہے۔ ” تفسیر احسن البیان “ میں ہے : ” سمندری پانی کھارا رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔ میٹھا پانی زیادہ دیر کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہوجاتا ہے، اس کے ذائقے، رنگ یا بو میں تبدیلی آجاتی ہے، کھارا پانی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے، نہ رنگ اور بو۔ اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا تو اس میں بدبو پیدا ہوجاتی، جس سے انسانوں اور حیوانوں کا زمین میں رہنا مشکل ہوجاتا۔ اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد۔ اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں (لاکھوں) برس سے یہ سمندر موجود ہیں، ان میں ہزاروں (لاکھوں بلکہ کروڑوں) جانور مرتے ہیں اور انھی میں گل سڑ جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں ملاحت (نمکیات) کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی، ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور ان کا پانی بھی پاک ہے، حتیٰ کہ ان کا مردار بھی حلال ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے : ( ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاءُ ہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ ) [ أبوداوٗد، الطہارۃ، باب الوضوء بماء البحر : ٨٣ ] ” اس (سمندر) کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ “ (احسن البیان) پانی کا یہ عظیم ذخیرہ ہزاروں لاکھوں ٹن وزنی سامان مختلف مقامات پر پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ بھی ہے، خوراک اور ضروریات زندگی کا لا محدود خزانہ بھی اور تمام جان داروں اور پودوں کو میٹھا پانی مہیا کرنے کے لیے بادلوں اور بارشوں کی پیدائش کا منبع بھی۔ اس کے علاوہ موسموں کے رد و بدل میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ مزید دیکھیے سورة فاطر (١٢) ، نحل (١٤) ، حج (٦٥) ، زخرف (١١، ١٢) اور جاثیہ (١٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَهُوَ الَّذِي مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَ‌اتٌ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْ‌زَخًا وَحِجْرً‌ا مَّحْجُورً‌ا ﴿٥٣﴾ And He is the One who joined the two seas - this is sweat, very sweat and this is bitter, very bitter - and made between them a buffer and a barrier, prohibited (to cross) - 25:53. The word مَرَج (maraja) means to let off or allow to roam freely and hence pasture is called رَج (maraj) that is where animals can graze and roam about. عَذْبٌ (&adhb) is sweet water, while فُراَت means delicious and pleasant; and مِلح (milh) means salty and أُجَاجٌ means bitter. Allah Ta’ ala in His own Wisdom has created two types of waters. One is enormous in size called oceans and cover up about two third of the global space while the rest of the one third space is made up of land mass on which people live. The water of the oceans and seas is extremely brackish, bitter and of a bad taste. On the other hand the water found on land in different forms is potable, pleasant and tasty. This water is just right for the needs of mankind and animals alike who drink it and use it for cleaning. If the water of the seas and oceans were not brackish, it would have decayed very quickly leaving behind a pungent and foul odor making the life unbearable for humans and animals on land. Moreover, the creatures living in ocean and sea water, and number manifold than those living on land could not have survived because when they die, they perish in the brackish water. If they were to die in sweet water their decomposition would have contaminated the water making the survival of the marine life impossible and its stink would have been unbearable for the life on land. Then the garbage of the land is generally dumped in the sea where it is decomposed (except for a few modern age items which need special treatment). Therefore, brackish water of the oceans and seas is a great blessing of Allah Ta’ ala for all creatures, whether living in the sea or on the land. Without the presence of brackish water mass, there would have been no marine or land life. In this verse it is elucidated that it is a great blessing and grace of Allah Ta` a1a to have provided two types of waters in accordance with the needs of mankind. Then it is a perfect demonstration of His complete power that when a river of sweet water falls into the sea, the two waters .(the sweet and the brackish) do not mingle immediately where they meet, but for miles they remain separated from each other, despite the fact that there is no physical curtain between them. This is yet another example of His omnipotence.

وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا، لفظ مرج آزاد چھوڑ دینے کے معنے میں آتا ہے اسی وجہ سے مرج چراگاہ کو کہتے ہیں جہاں جانور آزادی سے چلیں پھریں اور چریں۔ عذب میٹھے پانی کو کہا جاتا ہے۔ فرات خوش ذائقہ اور خوشگوار ملح نمکین اجاج تیز وتلخ۔ حق تعالیٰ نے اپنے فضل اور حکمت بالغہ سے دنیا میں دو طرح کے دریا پیدا فرمائے ہیں۔ ایک سب سے بڑا بحر محیط جس کو سمندر کہتے ہیں اور زمین کے سب اطراف اس میں گھرے ہوئے ہیں ایک چوتھائی کے قریب حصہ ہے جو اس سے کھلا ہوا ہے اس میں ساری دنیا آباد ہے۔ یہ سب سے بڑا دریا بتقاضائے حکمت سخت نمکین تلخ اور بدمزہ ہے۔ زمین کے آباد حصے پر آسمان سے اتارے ہوئے پانی کے چشمے، ندیاں نہریں اور بڑے بڑے دریا ہیں یہ سب میٹھے خوشگوار اور خوش ذائقہ ہیں۔ انسان کو اپنے پینے اور پیاس بجھانے اور روز مرہ کے استعمال میں ایسے ہی شیریں پانی کی ضرورت ہے جو حق تعالیٰ نے زمین کے آباد حصہ میں مختلف صورتوں میں مہیا فرما دیا ہے۔ لیکن بحر محیط سمندر اگر میٹھا ہوتا تو میٹھے پانی کا خاصہ ہے کہ بہت جلد سڑ جاتا ہے۔ خصوصاً سمندر جس میں خشکی کی آبادی سے زیادہ دریائی انسانوں جانوروں کی آبادی بھی ہے جو اس میں مرتے ہیں وہیں سڑتے اور مٹی ہوجاتے ہیں اور پوری زمین کے پانی اور اس میں بہنے والی ساری گندگیاں بھی بالآخر سمندر میں جاکر پڑتی ہیں۔ اگر یہ پانی میٹھا ہوتا تو دو چار دن میں ہی سڑ جاتا۔ اور یہ سڑتا تو اس کی بدبو سے زمین والوں کو زمین پر رہنا مصیبت ہوجاتا۔ اس لئے حکمت خداوندی نے اس کو اتنا سخت نمکین اور کڑوا اور تیز بنادیا کہ دنیا بھر کی گندگیاں اس میں جا کر بھسم ہوجاتی ہیں اور خود اس میں رہنے والی مخلوق بھی جو اسی میں مرتی ہے وہ بھی سڑنے نہیں پاتی۔ آیت مذکورہ میں ایک تو اس انعام و احسان کا ذکر ہے کہ انسان کی ضرورت کا لحاظ فرما کردو قسم کے دریا پیدا فرمائے۔ دوسرے اس قدرت کاملہ کا کہ جس جگہ میٹھے پانی کا دریا نہر سمندر میں جاکر گرتے ہیں اور میٹھا اور کڑوا دونوں پانی یکجا ہوجاتے ہیں وہاں یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ دونوں پانی میلوں دور تک اس طرح ساتھ لگے ہوئے چلتے ہیں کہ ایک طرف میٹھا، دوسری طرف کڑوا اور ایک دوسرے سے نہیں ملتے، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کوئی آڑ حائل نہیں ہوتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ۝ ٠ۚ وَجَعَلَ بَيْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا۝ ٥٣ مرج أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ. ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط، وأمرجت الدّابّةَ في المرعی: أرسلتها فيه فَمَرَجَتْ. ( م ر ج ) اصل میں المرج کے معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل جانے کے ۔ مرج امرھم ۔ ان کا معاملہ ملتبس ہوگیا ۔ مرج الخاتم فی اصبعی ۔ انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی ہوگئی مارج ( صفت فاعلی ) ڈھیلی انگوٹھی ۔ امر مریج گذمڈا اور پیچیدہ معاملہ ۔ غضن مریج : باہم گتھی ہوئی ٹہنی ۔ قرآن پاک میں ہے : فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] سو یہ ایک غیرواضح معاملہ میں ہیں ۔ المرجان ۔ مونگا چھوٹا موتی ۔ قرآن پاک میں ہے : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] اور آٰیت کریمہ ؛مَرَجَاس نے دودریا ر واں کے جو آپس میں ملتے ہیں ۔ میں مرج کا لفظ مرج کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور جس زمین میں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے رہیں اسے مرج کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] آگ کے شعلے ہے ۔ میں مارج کے معنی آگ کے ( دھوئیں سے ) مخلوط شعلے کے ہیں ۔ امرجت الدابۃ فی المرعیٰ : میں نے جانور کو چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا چناچہ آزادی سے چرتا رہا ۔ بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ عذب ( میٹھا پانی) ماءٌ عَذْبٌ طيّب بارد . قال تعالی: هذا عَذْبٌ فُراتٌ [ الفرقان/ 53] ، وأَعْذَبَ القومُ : صار لهم ماءٌ عَذْبٌ ، ( ع ذ ب ) ماء عذب کے معنی خوش گوار اور ٹھنڈا پانی کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ هذا عَذْبٌ فُراتٌ [ الفرقان/ 53] ایک کا پانی شیریں اور خوشگوار ہے ۔ اعذب القوم لوگوں کو شیریں پانی ملنے لگا فرت الْفُرَاتُ : الماء العذب . يقال للواحد والجمع، قال تعالی: وَأَسْقَيْناكُمْ ماءً فُراتاً [ المرسلات/ 27] ، وقال : هذا عَذْبٌ فُراتٌ [ الفرقان/ 53] . ( ف ر ت ) الفرات کے معنی شیریں یا نہایت شیریں پانی کے ہیں اور یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَسْقَيْناكُمْ ماءً فُراتاً [ المرسلات/ 27] اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا ۔ هذا عَذْبٌ فُراتٌ [ الفرقان/ 53] ایک کا پانی شیریں ہے پیس بجھانے ولا ؛ ملح المِلْحُ : الماء الذي تغيّر طعمه التّغيّرَ المعروفَ وتجمّد، ويقال له مِلْحٌ إذا تغيّر طعمه، وإن لم يتجمّد، فيقال : ماءٌ مِلْحٌ. وقلّما تقول العرب : ماءٌ مالحٌ «3» . قال اللہ تعالی: وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] ومَلَّحْتُ القدرَ : ألقیت فيها الملح، وأَمْلَحْتُهَا : أفسدتها بالملح، وسمکٌ مَلِيحٌ ، ثم استعیر من لفظ الملح المَلَاحَةُ ، فقیل : رجل ملیح، وذلک راجع إلى حسن يغمض إدراکه . ( م ل ح ) الملح اس پانی کو کہتے ہیں جو متغیر ہوکر جم جائے یعنی نمک بن جائے اور صرف متغیر پانی کو بھی ملح کہہ دیتے ہیں چناچہ کھاری پانی کو ماء ملح کہا جاتا ہے اور ماء مالح بہت کم استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] اور یہ کھاری ہے کڑوا ملحت القدر کے معنی ہانڈی میں نمک ڈالنے کے ہیں اور املح تھا کے معنی زیادہ نمک ڈال کر خراب کردینے کے اور نمک لگا کر خشک کی ہوئی مچھلی کو سمک ملیح سے استعارہ کے طور پر ملا حۃ بمعنی خو بر دلی آتا ہے اور رجل ملیح اس خوبر د آدمی کہتے ہیں جس کا حسن خوب غور کے بعد محسوس ہو ۔ أج قال تعالی: هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] : شدید الملوحة والحرارة، من قولهم : أجيج النار وأَجَّتُهَا، وقد أجّت، وائتجّ النهار . ويأجوج ومأجوج منه، شبّهوا بالنار المضطرمة والمیاه المتموّجة لکثرة اضطرابهم «2» . وأجّ الظّليم : إذا عدا، أجيجاً تشبيهاً بأجيج النار .( ا ج ج ) الاجاج ۔ کے معنی سخت کھاری اور گرم پانی کے ہیں قرآن میں ہے :۔ { هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ } [ الفرقان : 53] ایک کا پانی نہایت شیریں اور دوسرے کا سخت گرم ہے ۔ یہ ( اجاج ) اجیح النار ( شعلہ نار یا اس کی شدید تپش اور حرارت ) واجل تھا وقد اجت ۔ میں نے آگ بھڑکائی چناچہ وہ بھڑک اٹھی ( وغیرہ محاورات ) سے مشتق ہے ۔ ائتج النھار ۔ دن گرم ہوگیا ۔ اسی ( اج) سے يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ (18 ۔ 94) (21 ۔ 94) ہے ان کے کثرت اضطراب کی وجہ سے مشتعل آگ یا موجزن اور متلاطم پانی کے ساتھ تشبیہ دے کر یاجوج ماجوج کہا گیا ہے ۔ اج الظلیم اجیحا ۔ شتر مرغ نہایت سرعت رفتار سے چلا ۔ یہ محاورہ اشتعال نار کے ساتھ تشبیہ دے کر بولا جاتا ہے ۔ برزخ البَرْزَخ : الحاجز والحدّ بين الشيئين، وقیل : أصله برزه فعرّب، وقوله تعالی: بَيْنَهُما بَرْزَخٌ لا يَبْغِيانِ [ الرحمن/ 20] ، والبرزخ في القیامة : الحائل بين الإنسان وبین بلوغ المنازل الرفیعة في الآخرة، وذلک إشارة إلى العقبة المذکورة في قوله عزّ وجل : فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ [ البلد/ 11] ، قال تعالی: وَمِنْ وَرائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ [ المؤمنون/ 100] ، وتلک العقبة موانع من أحوال لا يصل إليها إلا الصالحون . وقیل : البرزخ ما بين الموت إلى القیامة . ( ب ر ز خ ) البرزخ کے معنی دو چیزوں کے درمیان حد فاصل اور روک کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ دراصل یہ برزۃ ( پردہ ) سے معرب ہے قرآن میں ہے بَيْنَهُما بَرْزَخٌ لا يَبْغِيانِ [ الرحمن/ 20] دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کہہ سکتے ۔ اور برزخ اس کا وٹ کو بھی کہا گیا ہے جو آخرت میں انسان اور اس کے منازل رفیقہ تک پہنچنے کے درمیان حائل ہوگی جسے قرآن نے آیت : فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ [ البلد/ 11] مگر وہ گھاٹی پر سے ہوکر نہ گزرا ۔ میں عقبۃ کہا ہے چناچہ فرمایا وَمِنْ وَرائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ [ المؤمنون/ 100] اور ان کے پیچھے برزخ ہے ( جہاں وہ ) اس دن تک کہ ( دوبارہ ) اٹھائے جائیں گے ( رہنیگے ) 23 ۔۔۔۔ ا ) لہذا عقبۃ سے مراد وہ موانع ہیں جو بلند درجات تک پہنچنے سے روک لیتے ہیں جن تک کہ نیک لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں برزخ سے موت اور حشر کے مابین کی مدت مراد ہے ۔ حجر الحَجَر : الجوهر الصلب المعروف، وجمعه : أحجار وحِجَارَة، وقوله تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ( ح ج ر ) الحجر سخت پتھر کو کہتے ہیں اس کی جمع احجار وحجارۃ آتی ہے اور آیت کریمہ : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا اندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٣) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا جن میں ایک تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک شور تلخ ہے۔ اور باوجود اس کے ان دونوں یعنی شیریں اور تلخ کے درمیان ایک حجاب اور ایک دوسرے کے پانی کے اختلاط سے ایک مانع قوی رکھ دیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج) ” اس کی قدرت سے نمکین اور کھارے سمندر کے اندر میٹھے پانی کی رو بھی بہہ رہی ہے۔ (وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ) ” یہ پردہ ‘ آڑ یا روک نظر آنے والی کوئی چیز تو نہیں ہے ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی صناعیّ کا شاہکار ہے کہ میٹھا پانی کڑوے پانی کے ساتھ سمندر کے اندر دور تک ملنے نہیں پاتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

68 This phenomenon has been perceived in many places in the sea and on the land that sweet water and bitter water has existed side by side. Turkish Admiral Syedi Ali Ra'is, in his book Mir 'at-al-Mamalik, written in the 16th century, has mentioned a place in the Persian Gulf, where springs of sweet waver exist under the bitter waters of the sea, where he could get drinking water for his fleet. The American Oil Company at first obtained water from the same springs in the Persian Gulf, before they dug up wells near Dhahran for supply of drinking water. Near Bahrain also there exist springs of sweet water at the sea bed from which people have been taking water until quite recently. Besides this apparent meaning which gives a rational proof of Allah's being the One and the only Lord of the universe, the verse contains a subtle suggestion as well: When Allah wills, He can raise up a righteous community from among a large wicked society just as He can cause springs of palatable and sweet water to gush out from under the salty waters of the sea.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :68 یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آ کر گرتا ہے ۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے ۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس ( کاتب رومی ) اپنی کتاب مرآۃ الممالک میں ، جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے ۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں ، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں ۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداءً وہ بھی خلیج فارس کے ان ہی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی ۔ بعد میں ظہران کے پاس کنوئیں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا ۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں ۔ یہ تو ہے آیت کا ظاہری مضمون ، جو اللہ کی قدرت کے ایک کرشمے سے اس کے الٰہ واحد اور رب واحد ہونے پر استدلال کر رہا ہے ۔ مگر اس کے بین السطور سے بھی ایک لطیف اشارہ ایک دوسرے مضمون کی طرف نکلتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کا سمندر خواہ کتنا ہی تلخ و شور ہو جائے ، اللہ جب چاہے اس کی تہ سے ایک جماعت صالحہ کا چشمہ شیریں نکال سکتا ہے ، اور سمندر کے آب تلخ کی موجیں خواہ کتنا ہی زور مار لیں وہ اس چشمے کو ہڑپ کر جانے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: دریاؤں اور سمندروں کے سنگھم پر یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دو الگ الگ قسم کے پانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں ؛ لیکن ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے، بلکہ دور تک ان کی خصوصیات الگ الگ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہیں، یہی وہ عجیب وغریب آڑ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کی سرحد عبور کرنے نہیں دیتی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٣:۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ زمین کے نیچے پانی ہے کس واسطے کہ جہاں سے زمین کو کھودا جائے ‘ وہاں سے پانی نکلتا ہے ‘ پھر کہیں سے کھارا پانی نکلتا ہے اور کہیں سے میٹھا اور زمین کے نیچے دونوں پانی ملنے نہیں پاتے ‘ اسی طرح زمین کے اوپر میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں ان میں کھاری پانی کا کوئی چشمہ ابل کر نہیں مل سکتا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ آیت میں میٹھے دریا سے زمین کے نیچے کا دریا مراد ہے جس میں سے بیٹھے کنویں کھودنے سے نکلتے ہیں اور میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں کھاری پانی کے دریائوں میں دریائے ہند دریائے یمن ‘ دریائے چین اور دریائے روم وغیرہ سب داخل ہیں ‘ تھمے پانی کا کوئی میٹھا دریا زمین پر نہیں ہے ‘ بعض مفسروں نے یہ جو کہا ہے کہ میٹھے پانی کا تھما ہوا دریا کوئی شدید زمین کے اوپر ایسا ہو جو لوگوں کی نظروں سے غائب ہو ‘ یہ قول درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی پیدا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ لوگو اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر اللہ کا شکر ادا کریں پھر جو چیز آنکھوں کے سامنے ہی نہیں وہ کیونکر پہچانی جاسکتی ہے اور بغیر پہچانے اس کا شکریہ کیا ادا ہوسکتا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے میٹھے اور کھاری دریا زمین کے اوپر اور نیچے پیدا کئے اور وقت مقررہ تک ایک دوسرے کے ملنے سے روک دیا اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ میں آوے گا کہ پہلے صور کے وقت زمین جب اڑ جاوے گی تو میٹھے کھاری سب دریا مل جاویں گے ‘ اس سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ میٹھے اور کھاری دریاؤں کے نہ ملنے کا انتظام ایک وقت مقررہ تک ہے ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمندر کے پانی کو پاک فرمایا ہے ‘ عبداللہ بن عمر (رض) کی یہ ایک روایت جو مشہور ہے کہ سمندر کے پانی کے نیچے آگ ہے ‘ اس سمندر کے پانی سے وضو ‘ غسل کچھ جائز نہیں ہے ‘ یہ روایت ابوداؤد میں ہے لیکن اس روایت کو امام بخاری اور خود ابوداؤد نے ضعیف قرار ١ ؎ دیا ہے ‘ صحیح مسلم وترمذی وغیرہ میں سفینہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پانی کے پیمانے کے اختلاف کے سبب سے دس سیر پانی کے اندازہ سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایا کرتے تھے اس حدیث سے علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ آدمی کو دریا کے کنارے پر بھی زیادہ پانی سے نہ نہانا چاہیے ‘ اس لیے بعض علماء نے دریا کے کنارہ پر بھی زیادہ پانی سے نہانے کو حرام کہا ہے اور بعضوں نے مکروہ ‘ یہ سفینہ (رض) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردہ ہیں جس طرح کشتی پر بوجھ لادتے ہیں اسی طرح یہ سفینہ (رض) اپنے ساتھ سفر میں بوجھ بہت رکھتے تھے ‘ اس لیے لوگوں نے ان کا نام سفینہ (رض) رکھ دیا ‘ اصلی نام ان کا مہران ہے ‘ سفینہ عربی زبان میں کشتی کو کہتے ہیں۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ مع تنقحر الرواۃ ص ٥٨ جلد اول باب احکام المیاہ۔ ) (١ ؎ نیل الا وطارص ٢ جلد اول ) (٢ ؎ المنتقی للمجدا بن تیمیہ مع نیل الاوطار ص ٣١٤ جلد اول )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:53) مرج۔ المرج کے اصل معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں۔ المروج مل جانا۔ اختلاط۔ اسی معنی میں قول حق تعالیٰ ہے۔ فھم فی امر مریج (50:5) سو یہ ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ وھو الذی مرج المحرین اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ھذا عذب فرات : ھذا یعنی ان دونوں میں سے ایک۔ عذب میٹھا پانی۔ شیریں، عذوبۃ سے جس کے معنی اپنی کے میٹھا اور خوشگوار ہونے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ فرات بمعنی شدید العذوبۃ۔ نہایت شیریں پانی، فروتہ (باب کرم فرت یفرت سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ھذا عذب فرات یہ شیریں ولذیذ پانی۔ وھذا ملح اجاج : ملح (ملح یملح باب کرم سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت نمکین۔ اجاج بھی اج یؤج اجوج فھو اجاج سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی ملح مر۔ کڑوا کھاری پانی۔ وھذا ملح اجاج اور یہ نہایت کھاری اور کڑوا پانی۔ برزخا۔ برزخ، رکاوٹ، دو چیزوں کے درمیان کی حد۔ حد فاضل ۔ یا موت اور حشر کی درمیانی مدت کو بھی برزخ کہتے ہیں۔ حجر محجورا۔ قوی روکاوٹ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 25:22) ان دونوں سمندروں کے متعلق متعدد واقول اور روایات ہیں۔ اور ان کی کتب تفسیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ جس کی وجہ سے دونوں پانی آپس میں ملنے نہیں پاتے۔ میٹھا میٹھا رہتا ہے اور کھاری کھاری۔ یہ کیفیت ان جگہوں میں اکثر پیش آتی ہے جہاں وہ دریا یا نالوں کا ایک دوسرے سے ملاپ ہوتا ہے یا جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں گرتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مراد ان دو دریاوں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں، وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقی کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ، چناچہ بنگال میں بھی ایسا موقع موجود ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفر کے خلاف جہاد کبیر کرنے کا حکم دینے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ اشارۃً یہ بھی سمجھا دیا کہ جس طرح سمندر کا پانی کڑوا اور میٹھا ہوتا ہے اور اس کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ اسی طرح لوگوں کا معاملہ ہے کچھ نیک ہوتے ہیں اور کچھ برے ہوتے ہیں۔ وہی ذات کبریا ہے جس نے دو سمندروں کو باہم ملا رکھا ہے۔ ایک طرف نہایت میٹھا پانی چل رہا ہے اور اس کے ساتھ، ساتھ نہایت کڑوا پانی بہہ رہا ہے۔ ایک ہی سمندر میں چلنے والے دونوں پانیوں کے درمیان ایک غیرمری پردہ حائل کردیا گیا ہے۔ نہ میٹھا پانی کڑوے کے ساتھ ملتا ہے اور نہ کڑوا میٹھے پانی میں دخل انداز ہوتا ہے۔ دونوں پانی اپنی اپنی رفتار کے ساتھ صدیوں سے ایک ہی جانب رواں دواں ہیں۔ کیا مجال کہ وہ آپس میں تحلیل ہو سکیں۔ ایک سائنسدان زیادہ سے زیادہ یہ توجیہہ کرسکتا ہے کہ ایک پانی بھاری اجزاء پر مشتمل ہے اور دوسرا اپنے اندر ہلکے اجزاء لیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ان کا آپس میں ملنا دشوار ہے۔ کیا سائنسدانوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ایک ہی سمندر میں چلنے والے دو پانیوں کے اجزاء میں یہ فرق قائم کرنے والی ذات کون ہے ؟ پھر ہر علاقے کے سمندر میں اس بات کے بھی مشاہدات موجود ہیں کہ سمندر کے مخصوص علاقے میں دونوں پانی الگ الگ چل رہے ہیں جبکہ اس علاقہ میں داخل ہونے سے پہلے یہی پانی اکٹھا بہہ رہا ہوتا ہے اور مخصوص علاقہ سے گزرنے کے بعد ددنوں پانی پھر آپس میں تحلیل ہوجاتے ہیں جس کا مظاہرہ پاکستان میں اٹک کے قریب دریائے سندھ، بنگلہ دیش میں چٹاگانگ کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر یہ بھی مشاہدات ہیں سینکڑوں میل تک چلنے والا سمندر کا پانی اوپر سے کڑوا ہے اور اس کی نچلی سطح میں بہنے والا پانی نہایت ہی میٹھا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس قسم کے چشمے کئی مقامات پر پائے جاتے ہیں کہ ایک ہی پہاڑ اور زمین میں ایک جگہ سے گندھک کا چشمہ ابل رہا ہے اور بالکل اس کے قریب ہی پانی کا ایسا چشمہ ہے جو برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ آخر وہ کون سا دست قدرت ہے جو دونوں پانیوں کو ایک دوسرے میں تحلیل نہیں ہونے دیتا ؟ غور کیجیے ! کہ کڑوئے پانی میں رہنے والی مچھلی کا گوشت کڑوا نہیں ہوتا۔ وہ ایک ہی ذات کبریاء ہے جس نے دو پانیوں کے درمیان ایک نہ دکھائی دینے والا پردہ حائل کر رکھا ہے۔ اگر کوئی حقیقت کی نگاہ سے دیکھنے والا ہو تو وہ اس ذات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا لہٰذا اسی حقیقت پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ ) [ الرّحمٰن : ١٩۔ ٢٠] ” اسی نے دو دریا رواں کیے۔ دونوں میں ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتے۔ “ (وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآءِغٌ شَرَابُہٗ وَ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَ مِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًاطَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن) [ فاطر : ١٢] ” اور دونوں دریا برابر نہیں ہیں ایک شیریں پیاس بجھانے والا ہے اس کا پینا آسان اور ایک شور تلخ ہے۔ ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو اس میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتے دیکھتا ہے تاکہ تم اس کی (دی ہوئی) روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی دو پانیوں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی میٹھا اور کڑوا پانی پیدا کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن پانی کی اہمیّت اور اس کی ضرورت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پانی سے پید افرمائی ہے۔ (الانبیاء : ٣٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تاکہ تم طہارت حاصل کرو۔ (الانفال : ١١) ٣۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : ١١) ٤۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : ٩٩) ٥۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٠) ٦۔ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : ٣٧) ٧۔ اللہ تعالیٰ پانی کو زیادہ گہرا کر دے تو کون ہے جو اسے اوپر لے آئے۔ (الملک : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد روئے سخن اس کائنات کے مناظر کی طرف پھرجاتا ہے۔ چناچہ ہوائوں کے منظر ، پاک و صاف پانی کے منظر ، سمندروں میں میٹھے اور کھارے پانی اور ان کے درمیان پائے جانے والے قدرتی پردے کے مناظر بیان کئے جاتے ہیں۔ وھو الذی ……محجوراً (٥٤) یعنی وہ ذات جس نے وہ سمندروں کو چلا رکھا ہے ، ایک میٹھا ہے اور دوسرا نمکین اور کھارا ہے ، دونوں ایک جگہ باہم ملے ہئے ہیں لیکن وہ باہم مخلوط نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان قدرت نے ایک پردہ قائل کردیا ہے۔ دونوں کی فطرت ایسی بنا دی ہے کہ وہ باہم مل ہی نہیں سکتے۔ کڑوے سمندروں کے اوپر میٹھے پانی کی نہریں ہیں۔ میٹھے پانی کی ایک نہر سطح سمندر کے اوپر چلتی ہے۔ اس کے برعکس کم ہی ہوتا ہے۔ یعنی میٹھے سمندر پر کڑوے پانی کی نہر نہیں بہتی۔ اس دقیق انتظام کی وجہ سے سمندر کا کڑوا پانی صاف اور میٹھے پانی کے اوپر نہیں آتا۔ حالانکہ کڑوا سمندر بہت بڑا اور گہرا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں میٹھی نہر چھوٹی ہوتی ہے لیکن اس میٹھی نہر سے انسانوں ، جانوروں اور نباتات کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ میٹھے اور کڑوے پانیوں کی یہ جولائی محض اتفاق سے نہیں ہوتی بلکہ خلاق کائنات نے بوقت تخلیق ان کو اس طرح پیدا کیا اور اس سے خلاق کے پیش نظر کچھ مقاصد تھے۔ اللہ نے قوانین قدرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ کڑوے پانی ، ان نہروں کی راہ نہ روکیں اور نہ یہ سمندر خشکی پر چڑھ آئیں۔ یہاں تک کہ سمندر کے حالات مدو جزو میں بھی یہ میٹھا پانی اور کڑوے سمندر ایک دو سے جدا رہتے ہیں حالانکہ مدو جزر میں سمندر کا پانی بہت ہی اونچا ہوجاتا ہے۔ کتاب ” سائنس دعوت ایمان دیتی ہے “ کے مصنف کہتے ہیں :” چاند ہم سے دو صد چالیس ہزار میل دور ہے۔ مد جو دو مرتبہ پیدا ہوتا ہے ہمیں چاند کے وجود کا لطیف احساس دلاتا ہے۔ مد کی وجہ سے بعض مقامات پر سطح سمندر ساٹھ قدم بلند ہوجاتی ہے بلکہ زمین کی بالائی سطح بھی دو متربہ باہر کی طرف چاند کی اس کشش کی وجہ سے کئی انچ باہر نکلتی ہے لیکن ہمیں تمام چیزیں ایسی منظم نظر آتی ہیں کہ ہمیں اس قوت کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ جس نے اس عظیم سمندر کو کئی قدم بلند کردیا ہے اور زمین کی سطح جو ہمیں بہت مضبوط نظر آئی تو اسے بھی کئی انچ دہرا کردیا ہے۔ “ ” سیارہ مریخ کا ایک اپنا چاند ہے۔ یہ چھوٹا چاند ہے۔ یہ مریخ سیچھ ہزار میل دور ہے۔ اگر ہمارا یہ چاند ہم سے پچاس ہزار میل دور ہوتا بمقابلہ اس بعید دوری کے جو اس وقت ہم سے ہے ، تو مدو جزر کا عمل اس قدر شدید ہوتا کہ سمندر کے نیچے جو زمین ہے وہ دن میں دو مرتبہ اس مدو جزر کے عمل سے دوچار ہو کر اپنے تمام پہاڑوں کو اپنی جگہ سے زائل کردیتی۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہنے سے دنیا میں سے تمام خشکی ختم ہوجاتی اور زمین پر ایک عظیم اضطراب ہمیشہ رہتا۔ نیز ہوا کے اندر مدو جزر کے عمل کے نتیجے میں سخت آندھیاں آتی رہتیں اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ اپنی کا یہ مدو جزر خشکی کو دھو لے گیا ہے تو پھر ہمیں یہ فرض کرنا ہوگا کہ اب پوری زمین کے اوپر پانی ڈیڑھ میل تک چڑھ گیا ہے۔ اس صورت میں زندگی کا اگر کوئی مکان ہوتا تو وہ سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا اور یہ بھی محض وجود حیات کا احتمال ہے۔ “ لیکن اس کائنات کو ایک مدبر کائنات نے اس طرح بنایا ہے کہ سمندر کے اندر بھی میٹھا اور کھارا پانی ایک دوسرے پر دست درازی نہیں کرسکتے۔ اور ان کے طبیعی مزاج اور ان کی ساخت کے اندر یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملیں ۔ یہ ہے کام صانع حکیم کا جس نے اس کائنات کو منظم کیا ہے ، ایک خاص قانون قدرت کے مطابق چلایا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر، میٹھے اور کھارے سمندر میں امتزاج، نطفہ سے انسان کی تخلیق ان دونوں آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں، جو لوگوں کی نظر کے سامنے ہیں اور ان چیزوں کو لوگ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں، ان میں سے ایک تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو سمندروں کو اس طرح ملا دیا کہ دونوں ساتھ چلتے ہیں ان میں سے ایک میٹھا ہے جس سے خوب اچھی طرح پیاس بجھتی ہے اور ایک خوب زیادہ شور ہے کڑوا ہے، ان دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک آڑ بنا دی ہے اور رکاوٹ لگا دی ہے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے میں گھلتے ملتے نہیں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ظاہری کوئی آڑ نہیں ہے، بس اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی نے ان کو اس طرح جاری کر رکھا ہے کہ میٹھے دریا کا پانی شور دریا کے پانی میں نہیں ملتا اور شور دریا کا پانی میٹھے دریا میں نہیں ملتا، سورة الرحمن میں فرمایا ہے (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَّ یَبْغِیَانِ ) (اس نے دو دریاؤں کو اس طرح ملادیا کہ وہ باہم ملے ہوئے ہیں، ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے وہ دونوں اپنی مقررہ بہنے کی جگہ سے تجاوز نہیں کرتے) بظاہر دیکھنے میں کوئی آڑ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک دوسرے میں ملتا بھی نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کو اس حال میں رکھا ہے کہ ایک دوسرے میں نہیں ملتے یہی قدرتی آڑ ہے اور ظاہری کوئی آڑ نہیں ہے۔ جس نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اسے پورا اختیار ہے کہ جس مخلوق کو جس طرح چاہے رکھے جو طبیعتیں ہیں وہ بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں، عموماً مخلوقات اپنی طبیعت کے مطابق چلتی رہتی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو طبیعت کے خلاف بھی ظہور ہوجاتا ہے، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ نے نہیں جلایا، پانی کا مزاج یہ ہے کہ ایک پانی دوسرے پانی میں گھل مل جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے دو سمندر ساتھ ساتھ جاتے ہیں دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے میں نہیں گھستا، حضرت مولانا شبیر احمد صاحب (رض) تفسیر عثمانی میں تحریر فرماتے ہیں۔ بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ارکان سے چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانب بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں، ایک کا پانی سفید ہے، ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے کشتی سفید پانی میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا، اھ۔ اور مجھ سے باریسال کے بعض طلبہ نے بیان کیا کہ ضلع بار یسال میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں۔ ایک کا پانی کھارا بالکل کڑوا اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آج کل مقیم ہے (ڈالک بھیل سملک سورت) سمندر تقریباً دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے ادھر کی ندیوں میں برابر مدو جزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے بکثرت ثقات نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر پانی کھاری رہتا ہے، نیچے پانی میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باو جود بھی کس طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں دریا الگ الگ اپنے اپنے مجری میں چلائے اور دونوں کے بیچ میں بہت جگہ زمین حائل کردی، اس طرح آزادانہ چھوڑا کہ دونوں زور لگا کر درمیان سے زمین کو ہٹا دیتے اور اس کی ہستی کو تباہ کردیتے، پھر دونوں میں ہر ایک کا جو مزہ ہے وہ اسی کے لیے لازم ہے۔ یہ نہیں کہ میٹھا دریا کھاری، یا کھاری میٹھا بن جائے، گویا باعتبار اوصاف کے ہر ایک دوسرے سے بالکل الگ رہنا چاہتا ہے۔ وقیل غیر ذلک، والراجح عندی ھو الاول، واللہ اعلم۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ ” وھو الذی مرج الک “ یہ دعوی سورت پر نویں عقلی دلیل ہے یہ بھی اس کی توحید اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ دو سمندر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ایک کا پانی نہایت میٹھا اور خوشگوار ہے اور دوسرے کا پانی نہایت تلخ ہے اور ان کے درمیان برزخ اور ایک ایسا پردہ حائل ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا یعنی کوئی مرئی پردہ نہیں محض قدرتی پردہ ہے مگر اس کے باوجود دونوں آپس میں ملتے نہیں حاجز اغیر مرئی من قدرتہ (ابو السعود) جو اللہ ایسی زبردست قدرت والا ہے وہی برکات دہندہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(53) اور وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے دو دریائوں کو ملا کر چلایا ان میں سے ایک کا پانی شیریں اور خوش ذائقہ اور تسکین بخش ہے اور دوسرے کا پانی ان میں سے کھاری ہے سخت کڑوا اور اسی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور ایک مضبوط آڑ کردی ہے یہ بات ہندوستان میں جہاں سمندر کا پانی کسی ندی سے ملتا ہے یا ندی سمندر میں ملتی ہے وہاں ایسا ہوتا ہے نہ صرف مزا بلکہ سفید و سیاہ رنگت بھی پانیوں کی ممتاز ہوتی ہے اور یہ کمال قدرت ہے کہ دریا اور سمندر کا پانی مل کر بہے اور ایک دوسرے سے مزے اور رنگ میں جدا رہے اور ایک دوسرے پر غالب نہ آئے دیکھنے والوں کو دونوں دریائوں کے بیچ میں ایک دھاری نظر آتی ہے پنجاب کے بعض کنوئوں میں ایک طرف کا پانی میٹھا اور دوسری طرف کا پانی کھاری دیکھنے میں آیا ہے ایک طرف کے پانی سے عمدہ چیز پکتی ہے اور دوسری طرف کے پانی سے دال بھی نہیں گلتی اور ایک کنویں میں ہونے کے باوجود ایک پانی دوسرے پانی سے ممتاز پایا جاتا ہے تاپتی ندی میں اور ارکان اور چاٹگام کے مابین جو دریا بہتا ہے اس میں یہ بات صاف پائی جاتی ہے۔