Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 57

سورة الفرقان

قُلۡ مَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۵۷﴾

Say, "I do not ask of you for it any payment - only that whoever wills might take to his Lord a way."

کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راہ پکڑنا چاہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ... Say: "No reward do I ask of you for this..." `for conveying this message and this warning, I do not ask for any reward from your wealth; I am only doing this for the sake of Allah, may He be exalted.' لِمَن شَأءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ To whomsoever among you who wills to walk straight. (81:28) ... إِلاَّ مَن شَاء أَن يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلً save that whosoever wills, may take a path to his Lord. means, a way and a methodology to be followed. The Command to the Messenger to put his Trust in Allah, and some of His Qualities Then Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

571یعنی یہی میرا اجر ہے کہ رب کا راستہ اختیار کرلو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] انبیاء کی دعوت اور کفار کے انکار کے سلسلہ میں انبیاء کی طرف سے جواب کے طور پر یہ جملہ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ اور اس جواب کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تمہیں میرا یہ دعوت الی اللہ کا کام پسند نہیں آتا تو میں تم سے کوئی معاوضہ یا تنخواہ تھوڑے لے رہا ہوں جو تم اسے بند کردو گے اور میں اپنا کام چھوڑ دوں گا اور نہ ہی تم سے میرا اس قسم کا مطالبہ ہے۔ لہذا تمہیں یہ کام پسند ہو یا نہ ہو یا میں اپنا کام کئے ہی جاؤں گا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں بالکل بےلوث اور بےغرض ہو کر تمہاری بھلائی کی خاطر تمہیں سیدھے راستے کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور میں تم سے لیتا بھی کچھ نہیں بلکہ الٹا تم سے مذاق اور استہزاء سنتا اور تکلیفیں اٹھا رہا ہوں پھر بھی تمہیں اتنا خیال تک نہیں آتا کہ کم از کم اس کی بات پر بھی کچھ غور و فکر تو کرلیں۔ اس آیت کا اگلا حصہ اسی پہلو یا اسی مطلب کی تائید کر رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ نے چاہا اور تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ہدایت کی راہ پر آگیا تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت کا صلہ یا معاوضہ مجھے مل گیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : قرآن مجید میں یہ جملہ کئی جگہ آیا ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ کفار جو آپ کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے تمہارے پاس جو پیغام لے کر آیا ہوں، اسے پہنچانے میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تم اپنے اموال بچانے کی خاطر مجھ پر ایمان لانے سے گریز کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : (اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ ) [ ھود : ٥١ ] ” میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔ “ اس سے بڑی نادانی کیا ہوگی کہ جو شخص تمہاری دین و دنیا کی بہتری کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے اور اس پر تم سے کسی مزدوری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا، تم اسی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا : مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں فرمائی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ میں اس دعوت پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، لیکن تم میں سے جو شخص چاہے کہ جہاد اور دوسرے خیر کے کاموں میں خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور اسے اس کی رحمت اور ثواب کے حصول کا ذریعہ بنائے تو وہ ایسا کرے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ التوبۃ : ٩٩ ] ” اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو ! بیشک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ “ اس صورت میں ” اِلَّا “ بمعنی ” لٰکِنْ “ ہے اور استثنا منقطع ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں تم سے اس دعوت پر اس شخص کے سوا کوئی مزدوری نہیں مانگتا جو اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہے۔ میری مزدوری بس ایسے لوگوں کا حصول ہے، اس کے سوا اللہ تم سے کسی مال یا جاہ یا کسی بھی مزدوری کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں، ایسے لوگوں کا حصول میرے لیے بہت بڑی مزدوری اور اجرت ہے، کیونکہ ایک شخص بھی ایمان لے آئے تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، پھر میری دعوت پر ایمان لانے والے جو بھی صالح عمل کریں گے سب کا اجر ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ملے گا، میرے لیے یہی اجرت بہت ہے۔ اس صورت میں استثنا متصل ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ إِلَّا مَن شَاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ سَبِيلًا ﴿٥٧﴾ Say, |"I do not demand from you any fee, except that whoever so wills, should adopt a way to his Lord - 25:57. Allah Ta’ ala advised the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to say that he has no personal interest in inviting to accept and follow Allah&s message in order to be profitable in this world and the Hereafter. He does not seek any reward from them for his efforts. His reward is only that they turn towards Allah. It is but obvious that if someone moves to the righteous path it is he who will be the gainer. As for the Holy Prophet , it was his love for the people that he was striving, and has considered the gain of the people as his own. It is just like an old father asks his children to eat and drink and be merry, and declares to them that their eating and drinking is a reward for himself. It is also possible that the correct attitude of the people is taken as a reward for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) because he will also be rewarded if the people take up to right path. Some authentic traditions say that if someone asks people to take up the righteous path and they oblige, then not only those who have acted righteously will be rewarded for the good acts, but also the one who has persuaded them to follow the righteous path. (Mazhari)

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا، یعنی تمہیں ایمان کی دعوت اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے اور دنیا وآخرت میں تمہارے لئے فلاح کی کوشش کرنے میں میرا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ میں اپنی اس محنت کا تم سے کوئی اجر و معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا فائدہ اس کے سوا نہیں کہ جس کا جی چاہے اللہ کا راستہ اختیار کرلے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص راہ پر آجاوے تو فائدہ اسی کا ہے اس کو اپنا فائدہ قرار دینا پیغمبرانہ شفقت کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے فائدہ ہی کو اپنا فائدہ سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی بوڑھا ضعیف باپ اولاد کو کہے کہ تم کھاؤ پیو اور خوش رہو، یہی میرا کھانا پینا اور خوش رہنا ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کو اپنا فائدہ اس لحاظ سے فرمایا ہو کہ اس کا ثواب آپ کو ملے گا جیسا کہ احادث صحیحہ میں آیا ہے کہ جو شخص کسی کو نیک کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور وہ اس کے کہنے کے مطابق نیک عمل کرے تو اس کے عمل کا ثواب خود کرنے والے کو بھی پورا پورا ملے گا اور اتنا ہی ثواب ہدایت کرنے والے شخص کو بھی ملے گا۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّہٖ سَبِيْلًا۝ ٥٧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ( ا ج ر ) الاجروالاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دینوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا جر تو خدا کے ذمے ہے ۔ شاء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی الفاعل کقوله : فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] . والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) «3» ، والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادة الإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» ، وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترک ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ما سوی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجودات اور معدومات سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ شے صرف موجود چیز کو کہتے ہیں ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق شے کا لفظ استعمال ہو تو یہ بمعنی شاء یعنی اسم فاعل کے ہوتا ہے ۔ اور غیر اللہ پر بولا جائے تو مشیء ( اسم مفعول ) کے معنی میں ہوتا ہے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ۔ میں لفظ شی چونکہ دوسرے معنی ( اسم مفعول ) میں استعمال ہوا ہے اس لئے یہ عموم پر محمول ہوگا اور اس سے کسی قسم کا استثناء نہیں کیا جائیگا کیونکہ شی مصدر بمعنی المفعول ہے مگر آیت کریمہ : ۔/ قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر ( قرین انصاف ) کس کی شہادت ہے میں شے بمعنی اسم فاعل ہے اور اللہ تعالیٰ کو اکبر شھادۃ کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری ایت ۔ فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] ( تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے ) میں ذات باری تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے ۔ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٧) آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید وقرآن کریم پر تم سے کسی قسم کا کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ جو چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے یا یہ کہ جو چاہے وہ توحید کا قائل ہوجائے اور اس کے ذریعے سے اپنے رب تک پہنچنے کا رستہ اختیار کرے اور وہاں پہنچ کر اس ایمان و توحید پر ثواب حاصل کرے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٧ (قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ) ” آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ میں تمہیں دعوت دینے اور قرآن سنانے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہوں ‘ لیکن میں نے اس کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجرت نہیں مانگی ‘ کبھی کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا۔ تم لوگ مجھ پر شاعر ‘ کاہن اور جادوگر ہونے کا الزام تو دھرتے ہو ‘ مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ شاعر ‘ کاہن ‘ جادوگر وغیرہ سب تو ہر وقت معاوضے اور انعام کے لالچ میں رہتے ہیں ‘ جبکہ میں تو محض اخلاص اور تمہاری خیر خواہی کی بنیاد پر دعوت دین کی خدمت سر انجام دے رہا ہوں۔ اس میں میرا اجر یا معاوضہ ہے تو صرف اس قدر کہ تم میں سے کسی کو اپنے رب کے راستے پر آنے کی توفیق مل جائے ‘ اور اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے نہ کہ میری کوئی غرض یا منفعت !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71a. For explanation, see E.N. 70 of Al-Mu'minun.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :71 ( الف ) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم المومنون ، حاشیہ ۷۰ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:57) علیہ : علی تبلیغ الرسالۃ او علی المذکور من التبشیر : والانذار علی القران۔ احکام رسالت کی تبلیغ یا بشارت دینے اور ڈرانے کے فرائض کی ادائیگی ۔ یا تبلیغ قرآن۔ یعنی ان میں سے کسی کام کی تم سے اجرت نہیں مانگتا۔ الا۔ حرف اسثنائ۔ اجر مستثنی منہ۔ من شاء مستثنیٰ منقطع (کیونکہ یہ مستثنیٰ کی جنس سے نہیں ہے) ۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کہہ دیجئے کہ میں اس (خوشخبری سنانے یا ڈرانے) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔ یتخذ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان ناصبہ۔ اتخاذ (افتعال) سے مصدر۔ اختیار کرتا ہے ان یتخذ کہ اختیار کرے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ تو یہ البتہ چاہتا ہوں، چاہئے اس کو معاوضہ کہو یا نہ کہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو باتوں کی تلقین۔ یہ اعلانِ حق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کروایا گیا کہ آپ اپنی قوم کو دو ٹوک انداز میں فرما دیں کہ میں نبوت کی ذمہ داریوں کے بدلے تم سے کسی قسم کا اجر اور معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ اس میں ایک طرف کفار اور مشرکین کے لیے پیغام ہے کہ سوچو اور غور کرو ! کہ جس شخصیت کا نبوت سے پہلے اس قدر احترام اور مقام تھا کہ ہر کوئی اس کا اعتراف کرتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے مقام اور احترام کو جس مشن پر قربان کیا ہے اسے اس کے بدلے میں کیا مل رہا ہے ؟ اس کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر کے طالب نہیں۔ جسے بوجھ سمجھ کر یہ آپ کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ آپ تو ان کی اصلاح اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے مصائب اور مشکلات برداشت کرر ہے ہیں۔ جب سب کچھ آپ اپنے رب کی وجہ سے کر رہے ہیں تو اس رب پر بھروسہ کیجیے جو ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ سے زندہ اور قائم و دائم ہے اور قائم ودائم رہے گا بس زندہ اور قائم و دائم رہنے والے رب کی حمد و ستائش کرتے رہیں۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب واقف ہے۔ اس میں بھی آپ کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ یہ خیال نہ فرمایں کہ آپ کا رب آپ کے مخالفوں کے جرائم سے غافل ہے ایسا ہرگز نہیں وہ لوگوں کے جرائم سے پوری طرح آگاہ ہے، لیکن اس نے جبر کرنے کی بجائے لوگوں کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنے رب کا راستہ اختیار کریں، اگر نہ چاہیں تو اس کے مخالف چلتے رہیں تاہم انھیں یہ بات ہر لمحہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا رب ان کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ان الفاظ میں مجرموں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا کَرَبَہُ أَمْرٌ قَالَ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیثُ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی عَقْدِ التَّسْبِیح بالْیَدِ ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ دعا کرتے اے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں۔ “ مسائل ١۔ تمام انبیاء نبوت کا کام بلامعاوضہ کیا کرتے تھے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم تھا کہ آپ ہر حال میں اپنے رب کی حمد و ستائش کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والا ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ ٤۔ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے رب پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اچھے اور برے راستے پر چلنے کا اختیار دے رکھا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) بلامعاوضہ نبوت کا کام اور لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے : ١۔ حضرت نوح نے فرمایا میں تم سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : ٢٩) ٢۔ حضرت ہود نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : ١٢٧) ٣۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : ١٤٥) ٤۔ میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : ٤٧) ٥۔ میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : ٥١) ٦۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تجھ سے نہ تم سے اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : ٨٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(57) آپ ان سے کہہ دیجئے میں اس تبلیغ میں دین حق پر تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا اور کوئی اجرت نہیں چاہتا مگر ہاں جو چاہے اپنے پروردگار تک پہونچنے کا راستہ اختیار کرلے یعنی میں کوئی مزدوری اپنی تبلیغ پر نہیں مانگتا ہاں میری یہ خواہش ضرور ہے کہ تم میں سے جو اپنے پروردگار تک پہونچنے کی راہ اختیار کرنی چاہئے وہ اختیار کرلے اس کو تم میرا معاوضہ کہو یا میری اس خواہش اور خوشی کا کچھ اور نام رکھو گویا آپ کی شفقت کا یہ عالم ہے کہ جس طرح کوئی مزدور مزدوری لیکر راضی ہوتا ہے اسی طرح پروردگار کی راہ اختیار کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔