Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 58

سورة الفرقان

وَ تَوَکَّلۡ عَلَی الۡحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِہٖ ؕ وَ کَفٰی بِہٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرَا ﴿۵۸﴾ۚ ۛ ۙ

And rely upon the Ever-Living who does not die, and exalt [ Allah ] with His praise. And sufficient is He to be, with the sins of His servants, Acquainted -

اس ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ تعالٰی پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں ، وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لاَ يَمُوتُ ... And put your trust in the Ever Living One Who dies not, meaning, in all your affairs, put your trust in Allah, the Ever-Living Who never dies, the One Who الاَْوَّلُ وَالاْخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (is the First and the Last, the Most High and the Most Near. And He is the All-Knower of everything. (57:3) The Eternal, Ever-Lasting, Ever-Living, Self-Sufficient One, the Lord and Sovereign of all things, the One to Whom you should always turn. Allah is the One in Whom you should put your trust and to Whom you should turn for refuge, He will be sufficient for you and will be your helper and supporter, and will cause you to prevail. As Allah says: يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَأ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ O Messenger! Proclaim which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message. Allah will protect you from mankind. (5:67) ... وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ ... and glorify His praises, means, combine praising Him with glorifying Him. Hence the Messenger of Allah used to say: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِك Glory be to You, O Allah, and with Your praise. So the Ayah means: be sincere in worshipping Him and putting your trust in Him. This is like the Ayat: رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلً The Lord of the east and the west; there is no God but He. So take Him as a Trustee. (73:9) فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ So worship Him and put your trust in Him. (11:123) قُلْ هُوَ الرَّحْمَـنُ ءَامَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا Say: "He is the Most Gracious, in Him we believe, and in Him we put our trust." (67:29) ... وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا and sufficient is He as the All-Knower of the sins of His servants. means, by His perfect knowledge nothing is hidden from Him nor can anything be hidden from Him, not even a speck of dust's weight.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧١] یعنی میں اس ہستی پر توکل کرتا ہوں جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم و دائم ہے اور قائم دائم اور زندہ ہی رہے گی۔ تمہارے معبودوں کی طرح مخلوق نہیں، نہ وہ اس قدر محتاج ہے کہ اسے اپنی ذات کو قائم رکھنے کے لئے بھی اپنے عقیدت مندوں کی احتیاج ہو اور جو اپنے بھی نفع و نقصان کی مالک نہیں وہ تمہارا کیا بگاڑ یا سنوار سکتی ہے۔ مجھے ایسی ہستی کی عبادت کا حکم ہے اور وہ تمہارے جیسے منکروں کی کرتوتوں سے پوری طرح واقف ہے اور ان کرتوتوں پر تمہیں سزادینے پر قادر بھی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ : یہ بتانے کے بعد کہ تمام کفار آپ کی دشمنی میں یک جان اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں، ان کی دشمنی اور ایذا سے بچنے کا طریقہ بتایا کہ آپ ان کی دشمنی پر صبر کریں، نہ کسی کا خوف رکھیں نہ کسی سے امید، اپنے ہر کام میں اس پر بھروسا رکھیں جو ہمیشہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، وہی آپ کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) [ المائدۃ : ٦٧ ] ” اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ “ بعض اہل علم نے فرمایا، اس کے بعد کسی عاقل کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی مخلوق پر بھروسا کرے، کیونکہ مخلوق کو مرنا ہے۔ یاد رہے، توکل کا معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کردیا جائے، بلکہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حسب استطاعت تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد بھروسا صرف اللہ پر رکھا جائے۔ 3 اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ” الْـحَيِّ “ اور ” لَا يَمُوْتُ “ کے ساتھ مشرکین پر چوٹ بھی ہے کہ وہ ان ہستیوں کی عبادت کرتے اور انھیں اپنا داتا و دستگیر مانتے ہیں جو نہ زندہ ہیں اور نہ موت سے محفوظ، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ ) [ النحل : ٢٠، ٢١ ] ” اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خودپیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔ “ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهٖ : تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہر ایسی چیز کی نفی ہے جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، جس میں سب سے پہلی چیز اس کا کوئی شریک ہونا ہے اور حمد سے مراد اس کے لیے ہر خوبی ثابت کرنا ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ یعنی اللہ پر توکل کے ساتھ اس کی تسبیح و تحمید آپ کو ہر دشمن سے محفوظ رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو بھی حکم دیا ہے وہ آپ کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہے، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ آپ کے ساتھ خاص ہے۔ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرَۨا : اس میں دو عموم ہیں، تمام بندے اور ان کے تمام گناہ اور ” خبِیْراً “ میں مبالغے کی وجہ سے ” علم “ کا بھی عموم ہے اور ” كَفٰى“ کے فاعل کی تاکید ” باء “ کے ساتھ کرنے میں کفایت میں بھی عموم ہے، یعنی وہ اپنے تمام بندوں کے تمام گناہوں کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہونے کے لحاظ سے ہر طرح کافی ہے، کیونکہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ دیکھیے سورة انعام (٥٩) اور سورة سبا (٣) ۔ 3 اس جملے میں کفار کے لیے وعید اور دھمکی بھی ہے، جیسے کوئی بڑا اپنے ماتحت کو کہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ۝ ٠ۭ وَكَفٰى بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِيْرَۨا۝ ٥ ٨ۚۙۛ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشنار پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پرند کو ہے ۔ كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل . ( ک ف ی ) الکفایۃ وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] اور خدا مومنوں کے لئے جنگ کی ضرور یات کے سلسلہ میں کافی ہوا ۔ إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچا نے کے لئے جو تم سے استہزا کرتے ہیں کافی ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] اور حق ظاہر کرنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے میں بعض نے کہا ہے کہ باز زائد ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی گواہ ہونے کے لئے کافی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ با اصلی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ پر ہی اکتفاء کرو الکفیۃ من القرت غذا جو گذارہ کے لئے کافی ہو ۔ ج کفی محاورہ ہے ۔ کافیک فلان من رجل یعنی فلاں شخص تمہارے لئے کافی ہے اور یہ حسبک من رجل کے محاورہ کے ہم معنی ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر «3» : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٨) اور آپ ان حی لا یموت پر توکل رکھیے اور ایسے زندوں پر بھروسا نہ کیجیے جن کو موت آجاتی ہے جیسا کہ حضرت خدیجہ (رض) اور ابو طالب اور نہ مردوں پر جن میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں اور اس کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور اللہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا ) ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے کرتوتوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے۔ وہ اللہ جو الحی اور القیوم ہے اور اپنے بندوں کے حال پر ہر آن نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان لوگوں کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک بات جواب دہی کے لیے اس کے ہاں ریکارڈ ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اہل ایمان کے نیک اعمال کی بھی ایک ایک تفصیل لکھی جا رہی ہے تاکہ انہیں ان کا بھر پور بدلہ دیا جاسکے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٨۔ ٦٠:۔ توکل کے معنی اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ہیں ‘ وعظ ونصیحت پر اجرت لینے کی مناہی فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم تو اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ دیر ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب جنت میں جاویں گے ‘ بخاری ومسلم میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے کہ صبر سے بہتر کوئی چیز دنیا میں انسان کو نہیں دی گئی ‘ مطلب یہ ہے کہ جب تک آدمی کے مزاج میں صبر نہ ہو تو نہ آدمی گناہ سے بچنے کی برداشت کرسکتا ہے ‘ نہ نیک کاموں کے کرنے کی تکلیف گوارا کرسکتا ہے کہ مثلا جاڑہ میں وضو کرے یا گرمی میں روزہ رکھے ان حدیثوں سے توکل اور صبر کی فضیلت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ توکل کے لیے صبر لازمی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم کو خاتم الانبیاء بنانے کی نعمت جو دی ہے اس کے شکریہ میں تم کثرت سے اللہ کی عبادت کیا کرو صحیح بخاری ومسلم میں مغیرۃ بن شعبہ سے روایت ٣ ؎ ہے کہ تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں تک کھڑے ہوتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا ‘ یہ حالات دیکھ کر لوگوں نے آپ سے کہا کہ حضرت اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیئے ہیں ‘ پھر آپ عبادت میں اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کروں ‘ نبوت کے شکریہ میں کثرت سے عبادت کرنے کا جو حکم ہے اس کی تعمیل میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قدر کوشش کرتے تھے اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ؎ ہے کہ لوگوں کے رات کے عملوں کا اعمال نامہ رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتا ہے ‘ آگے یہ جو فرمایا کہ لوگوں کے سب گناہوں کی اللہ کو خبر ہے ‘ اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے مگر قیامت کے دن لوگوں کو قائل کرنے اور ہر شخص کو اس کے عمل یاد کرنے کے لیے ہر روز صبح وشام لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے روبرو میں پیش ہوجاتے ہیں قیامت کے دن ان ہی اعمال ناموں کے موافق جزا وسزا کا فیصلہ ہوجاوے گا ‘ آگے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا ‘ اس واسطے آسمان و زمین میں کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی ‘ اے رسول اللہ کے تم کو جو بات معلوم نہ ہو وہ اللہ ہی سے پوچھو کہ تمام مخلوقات اس کی پیدا کی ہوئی ہے اور اسی کو تمام مخلوقات کا پورا حال معلوم ہے اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان و زمین سب کچھ پیدا کردیتا لیکن چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام سہولت سے کرے کسی کام میں عادت سے بڑھ کر جلدی نہ کرے کہ اس طرح کی جلدی شیطان کی عادت میں داخل ہے چناچہ مسندابی یعلی میں انس بن مالک کی صحیح روایت ١ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر کام میں سہولت عادت الٰہی ہے اور حد سے زیادہ جلدی عادت شیطانی ہے ‘ استواء علی العرش اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور اس طرح کی صفات کی آیتیں متشابہات کہلاتی ہیں ‘ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اس طرح کی آیتوں پر ایمان لانا اور ان کی تفصیلی کیفیت کو علم الٰہی پر منحصر رکھنا ‘ صحابہ (رض) اور تابعین (رح) کا طریقہ ہے ‘ اوپر اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی مہربانی سے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اور یہ بھی ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور نعمتوں کا شکریہ یہی ہے کہ خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے آخر آیت میں فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی صفت کے سبب سے اس کا نام رحمان بھی ہے لیکن ان مشرکین مکہ کے روبرو جب اللہ تعالیٰ کا یہ نام لیا جاتا ہے تو یہ لوگ بہت بدکتے ہیں حالانکہ یہ مشرک لوگ اہل کتاب سے ملتے رہتے ہیں جس سے ان کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ تورات میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام موجود ہے ‘ اس آیت کے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہیے۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٦٢ باب من لاتحل لہ المسـٔلۃ ومن تحل لہ ) (٣ ؎ مشکوٰۃ باب التحریض علیٰ قیام اللیل۔ ) (؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٢١۔ ) (١ ؎ الترغیب والترہیب ص ٤١٨ جلد ٣ کتاب الآداب۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:58) توکل : توکل (تفعیل) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ توکل کر بھروسہ رکھ۔ اعتماد کر۔ الحی۔ زندہ۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ (باب ضرب) یہ صیغہ ماضی کا ہے۔ لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر بھی ہے اور اسم مصدر بھی ہے۔ کفایۃ اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو ضرورت پوری کر دے۔ کفی ۔ کفی ۔ کافی۔ سب کے معنی ضرورت پوری کرنے والا۔ جس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کفی کا استعمال لغت عرب میں دو طرح آیا ہے :۔ (1) متعدی، مثلاً کفاک الشیئ۔ تیرے لئے وہ چیز کافی ہے یا جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ وکفی اللہ المؤمنین القتال (33:25) اور جنگ میں اللہ اہل ایمان کے لئے کافی ہوگیا۔ اس صورت میں فاعل کے ساتھ باء حرف جر نہیں آتا۔ (2) لازم۔ فاعل کے ساتھ باء حرف جر لایا جاتا ہے یہ باء زائدہ ہے محض تاکید کے لئے آتا ہے مثلاً وکفی باللہ نصیرا (4:45) اور بطور مددگار اللہ ہی کافی ہے۔ فاعل مجرور بالباء (جس فاعل سے قبل باء حرف جر ایا ہو) کے بعد تمیز لایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ نصیرا۔ وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ بہ ضمیر فاعل کے ساتھ باء زائدہ ہے اور خبرا تمیز ہے۔ اور اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے کے لئے وہی (اللہ) کافی ہے یعنی وہ اس قدر باخبر ہے کہ اس کے بعد کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے : سبحانک اللھم ربنا وبحمدک۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی تبلیغ کی کہ طاعت متعدیہ ہے اور تسبیح وتحمید کہ عبادت لازمہ ہے ان کو بےفکری سے ادا کیجئے۔ 7۔ ان جملوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حزن و فکر و خوف کو زائل فرمایا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا) (اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر دار ہونے کیلئے کافی ہے) جو لوگ کفر و شرک پر جمے ہوئے ہیں آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے آپ کو تکلیفیں دیتے ہیں ان کا حال ذات پاک حی لایموت کو معلوم ہے وہ ان سب کو سزا دے دے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت بیان فرماتے ہوئے آسمان و زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان کے اندر ہیں سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا ان چھ دنوں کی تفسیر سورة حم سجدہ ع ٢ میں مذکور ہے اس کے بارے میں وہیں عرض کیا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ ” و توکل الخ “ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے یعنی آپ مشرکین کے عناد و انکار اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اس زندہ جاوید رب پر بھروسہ کریں جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر قسم کی برکات و خیرات جس کے قبضہ و اختیار میں ہیں آپ اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں وہ آپ کا حافظ و ناصر ہے فانہ الحقیق بان یتوکل علیہ دون الاحیاء الذین من شانھم الموت فانھم اذا ماتوا ضاع من توکل علیھم (ابو السعود ج 6 ص 498) ۔ ” و کفی بہ الخ “ یہ کفار کیلئے تخویف اخروی ہے اللہ تعالیٰ ان معاندین کے جرم و گناہ سے بیخبر نہیں بلکہ خوب جانتا ہے اور ان کو پوری پوری سزا دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(58) اور آپ اس پر بھروسہ رکھئے اور توکل کیجئے جو زندہ ہے اور جو مرے گا نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور وہ خود اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی ہے۔