Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 59

سورة الفرقان

ۣالَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۚ ۛ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡئَلۡ بِہٖ خَبِیۡرًا ﴿۵۹﴾

He who created the heavens and the earth and what is between them in six days and then established Himself above the Throne - the Most Merciful, so ask about Him one well informed.

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کر دیا ہے ، پھر عرش پر مستوی ہوا وہ رحمان ہے ، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ ... Who created the heavens and the earth... means, He is the Ever-Living Who never dies, He is the Creator, Sustainer and Sovereign of all things, Who by His might and power created the seven heavens with their vast height and width, and the seven earths with their great depths and density. ... وَمَا بَيْنَهُمَا ... and all that is between them, ... فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ... in six Days. Then He rose over the Throne. means, He is running all affairs and He decrees according to the truth, and He is the best of those who decide. ... ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا Then He rose over (Istawa) the Throne. The Most Gracious! Ask Him, as He is the All-Knower. meaning, find out about Him from one who knows most about Him, and follow him and take him as your example. It is known that there is no one who knows more about Allah than His servant and Messenger Muhammad, the absolute leader of the sons of Adam in this world and the Hereafter, who does not speak of his own desire, but conveys revelation revealed to him. What he says is true, and he is the leader whose decision counts; when there is a dispute, people are obliged to refer to him, and whatever is in accordance with his words and deeds is right, and whatever goes against them should be rejected no matter who says or does it. Allah says: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِى شَىْءٍ (And) if you differ in anything among yourselves... (4:59) وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. (42:10) وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. (6: 115) meaning, He has spoken the truth and is fair and just in His commands and prohibitions. Allah says here: ... فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا Ask Him, as He is Al-Knower. Condemnation of the Idolators Then Allah rebukes the idolators who prostrate to idols and rivals instead of Allah:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٢] استوی علی العرش کی تفسیر کے لئے سورة طٰہ کی آیت نمبر ٥ کا حاشیہ نمبر ٣، سورة اعراف کی آیت نمبر ٥٤ کا حاشیہ نمبر ٥٤۔ [٧٣] استوی علی العرش کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور بعص مقامات پر رحمن کی طرف جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمن بھی اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور اللہ کی باقی صفات بھی، جن کا سابقہ آیات میں ذکر ہوا ہے۔ رحمن کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں۔ [ ٧٤] یہاں خبیر سے مراد ایسا عالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی کائنات میں بکھری ہوئی آیات میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم حاصل کیا ہو۔ ایسے ہی خبیر کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر لفظ عالم سے تعبیر فرمایا ہے جہاں ایسی۔۔ آیات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ 28؀) 35 ۔ فاطر :28) ( && یعنی اللہ کے بندوں میں سے اللہ صرف عالم لوگ ہی ڈرتے ہیں && تاہم اس سے نقلی علوم وحی کو جاننے والے حضرات بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور بعض انبیاء کو بھی تو اللہ تعالیٰ نے ملکوت السموات والارض کا مشاہدہ بھی کرایا تھا۔ اس لحاظ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے بڑے عالم اور خبیر ہوئے اس کے بعد دوسرے انبیائ۔ پھر ان کے بعد اس صف میں وہ عالم دین بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اپنے علم میں راسخ ہوں۔ خواہ وہ تورات کے عالم ہوں یا کسی اور الہامی کتاب کے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا ۔۔ : اس کی تفسیر سورة یونس، ہود اور طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں ان صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کے لیے بھی ہے اور اس میں نزول قرآن میں تدریج پر اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ بھی ہے۔ فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا :” پورے باخبر “ سے مراد خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور ” بِهٖ “ سے مراد ” عَنْہُ “ (اس کے متعلق) ہے۔ اس آیت میں مزید وہ افعال و اوصاف ذکر فرمائے ہیں جن کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، یعنی اس پر توکل کر جو ہمیشہ زندہ ہے، جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوگیا، جو بیحد رحم والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، استواء علی العرش اور اس کی لا محدود رحمت کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں، ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، لہٰذا اسی سے دریافت کیجیے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ ) [ فاطر : ١٤ ] ” اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جیسا پورا باخبر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرً‌ا (So ask about Him someone who knows - 25:59). In this verse it is described that the creation of the earth and the skies, and then to place Himself on ` Arsh in consonance to His exalted position are all acts of Allah Ta’ ala. If someone wants its confirmation, he should find out from those who know the truth. Here the allusion for knowledge is toward Allah Ta’ ala or Jibra&il (علیہ السلام) . It is also possible that the reference is toward the scholars of the previous Books wherein the truth was also mentioned. (Mazhari)

فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا، یعنی آسمانوں زمینوں کو پیدا کرنا پھر اپنی شان کے مطابق ان پر جلوہ افروز ہونا سب اللہ رحمن کا کام ہے اس کی تصدیق و تحقیق مطلوب ہو تو کسی باخبر سے پوچھیے، باخبر سے مراد حق تعالیٰ یا جبریل امین ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ کے علماء ہوں جن کو اپنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس معاملہ کی اطلاع ملی ہے۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ۝ ٠ۚۛ اَلرَّحْمٰنُ فَسْـَٔــلْ بِہٖ خَبِيْرًا۝ ٥٩ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩) اور وہ ایسا ہے کہ جس نے تمام مخلوقات اور تمام عجائبات کو چھ دن میں پیدا کیا یعنی دنیا کے اول دنوں میں کہ ہر ایک دن کی مقدار ہمارے حساب سے سال بھر کے برابر تھی اتوار سے شروع فرما کر جمعہ کو پورا کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ تخت شاہی پر قائم ہوا سو اس کی شان کسی اللہ والے سے پوچھنی چاہیے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شان اہل علم سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اَلرَّحْمٰنُ فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا ) ” اللہ تعالیٰ کی صفات اور شان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو کسی صاحب علم سے پوچھو ! جب کبھی انسان اپنے متعلق سوچتا ہے یا اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ‘ اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے خالق کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ‘ اس تک رسائی چاہتا ہے ‘ اسے پانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تجسسّ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ انسانی فطرت کی اسی آواز کو کسی شاعر نے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے : ؂ مجھ کو ہے تیری جستجو ‘ مجھ کو تری تلاش ہے خالق مرے کہاں ہے تو ؟ مجھ کو تری تلاش ہے ! انسانی فطرت کی اسی جستجو اور اسی تلاش کی راہنمائی کے لیے فرمایا گیا کہ اس کے بارے میں ایسے لوگوں سے پوچھو جو اس سے آشنائی رکھتے ہوں ‘ اسے پانے کے لیے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی اس کے ساتھ دوستی ہو : (وَکُوْنُوْا مَعَ الصّدِقین۔ ) (التوبۃ) کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے ہی تمہیں اللہ کی معرفت حاصل ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72 For explanation of "Throne", see E.N.'s 41, 42 of Al-A'raf, E.N. 4 of Yunus, and E.N. 7 of Hud. It is difficult to say what exactly is mean by "six days" Here a "day" thay mean a period of time or an ordinary day of this world. For explanation of the "day", see E.N.'s 11 to 15 of Surah Ha Mim Sajdah.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :72 اللہ تعالیٰ کے عرش پر جلوہ گر ہونے کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، الاعراف ، حواشی 41 ۔ 42 ، یونس ، حاشیہ 4 ، ھود ، حاشیہ 7 ۔ زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کرنے کا مضمون متشابہات کے قبیل سے ہے جس کا مفہوم متعین کرنا مشکل ہے ۔ ممکن ہے کہ ایک دن سے مراد ایک دور ہو ۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد وقت کی اتنی ہی مقدار ہو جس پر ہم دنیا میں لفظ دن کا اطلاق کرتے ہیں ۔ ( مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، حٰم السجدہ ، حواشی 11 تا 15 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19:’’ استواء‘‘ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورۂ آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہئے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:59) الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ الرحمن فسئل بہ خبیرا۔ ترکیب کے لحاظ سے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) الذی اسم موصول ۔ محل جر ہے اور الحی (آیۃ 58) کی دوسری صفت ہے اور خلق السموت والارض ۔۔ اس کا صلہ۔ (2) الذی خلق (بصورت محل رفع۔ مبتدا ہے اور الرحمن اس کی خبر ہے۔ (3) الرحمن مبتدا ہے اور فسئل بہ خبیرا اس کی خبر ہے۔ لفظ بہ میں با بمعنی عن استعمال ہوئی ہے۔ یوں بھی سوال کا صلہ عن اور ب دونوں آتے ہیں۔ مثلاً :۔ (1) سئل سائل بعذاب واقع للکفرین (70:12) ایک مانگنے والے نے (اس ) عذاب کا سوال کیا ہے جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے۔ (2) ثم لتسئلن یؤمئذ عن النعیم (102:81) پھر اس روز تم سے (ہر) نعمت کی پوچھ ہوگی۔ بہ، خبیرا کا صلہ بھی ہوسکتا ہے۔ ای فسئل (رجلا) خبیرا بہ یعنی اس سے پوچھ جو اس کے متعلق علم رکھتا ہو۔ ان ہر دو حالتوں میں (یعنی فسئل بہ اور خبیرا بہ) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الرحمن ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اس کے متعلق پوچھ کسی خبر رکھنے والے سے۔ دوسری صورت میں : جو اس کے متعلق خبر رکھتا ہے اس سے پوچھ۔ خبیرا سے مراد من علم بہ من اہل الکتاب (اہل کتاب مٰں سے کوئی ظالم بھی ہوسکتا ہے اور بقول ابن عباس (رض) اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ یہاں ” جاننے والے “ سے مراد خود اللہ تعالیٰ ہے اور ” بہ “ بمعنی ” عنہ “ ہے اور مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور استواء علی العرش وغیرہ کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں۔ ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے لہٰذا اسی سے دریافت کیجئے۔ آیت کی جو توجیہات یہاں بیان کی گئی ہیں ان سب سے یہ توجیہہ بہتر ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پر توکل کرنے کا حکم ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے دلائل دیتے ہوئے یہ بات کئی مرتبہ بیان فرمائی ہے کہ اس نے زمینوں، آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا، زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد وہ عرش معلی پر اپنی شان کے مطابق مستوی ہوا۔ وہی رحم و کرم کا مالک اور خالق ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ کسی جاننے والے سے پوچھ لے۔ یہ جملہ کفار مکہ کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام الرّحمن کا انکار کرتے تھے۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کو الرّحمن کہہ کر پکارتے تو مشرکین مکہ اعتراض کرتے کہ ہمیں ایک خدا کو پکارنے کا حکم دیتا ہے اور خود دو خداؤں کو پکارتا ہے۔ کفار مکہ کو کہا جاتا ہے کہ الرّحمن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہوتا ہے۔” کیا ہم الرّحمن کو سجدہ کریں جسے ہم نہیں جانتے۔ “ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو الرّحمن جان کر اس کے قریب ہوتے لیکن وہ الرّحمن کی دشمنی میں آکر نفرت میں مزید دور چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے نام میں جلال اور تمکنت پائی جاتی ہے اور الرّحمن کے لفظ اور نام میں رحم و کرم کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنا جلال اختیار فرمائے تو کوئی چیز زمین پر باقی نہ رہے۔ یہ توالرّحمن کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ جس وجہ سے وہ ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی کو صرف نظر کرتا ہے۔ الرّحمن اور الرّحیم کے نام اور صفات ” اللہ “ کو اس قدر پسند ہیں کہ قرآن مجید میں الرحمن کا نام ٥٧ مرتبہ اور الرحیم کا ١١٦ مرتبہ لیا گیا ہے۔ سورۃ الاعراف آیت : ١٨٠ میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بہترین نام ہیں تم اسے کسی نام کے ساتھ بھی پکار سکتے ہو۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ (نام یاد کرنے سے مراد ان کے مطابق عقیدہ بھی ہونا چاہیے۔ ) رحمن فعلان کے وزن پر مبالغہ یعنی سپر ڈگری (Super degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے جب کہ لفظ ” الرحیم “ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ معافی اور درگزر سے کام لیتا ہے کیونکہ اس نے ابتدائے آفرینش سے لکھ رکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہ ] مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری رحمت و شفقت ہر آن ان کے قریب رہتی ہے۔ (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) [ الأعراف : ١٥٦] ” میری رحمت سب پر محیط ہے۔ “ (کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) [ الأنعام : ٥٤]” تمہارے رب نے اپنے آپ رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا عظیم نام الرّحمن ہے۔ ٢۔ مکہ کے مشرک ” الرّحمن “ کو نہیں مانتے تھے۔ تفسیر بالقرآن ” الرحمن “ کی رحمت کا ایک منظر : ١۔ اللہ ایک ہے ‘ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ( البقرۃ : ١٦٣) ٢۔ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (الاعراف : ١٥٦) ٣۔ سب کچھ جاننے کے باوجود نہایت ہی مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ (الحشر : ٢٢) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر مہربانی کرنا از خود اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ (الانعام : ٥٤) ٥۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : ٥٣) ٦۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا) استواء قائم ہونے کو اور عرش تخت شاہی کو کہا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا ہے اور (الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) بھی فرمایا ہے اس کو سمجھنے کے لیے بعض لوگوں نے مختلف تاویلیں کی ہیں۔ اس کے بارے میں حضرات سلف صالحین صحابہ وتابعین (رض) سے جو بات منقول ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہٗ کی ذات وصفات کو پوری طرح سمجھنے اور احاطہ کرنے سے عاجز ہے لہٰذا جو کچھ فرمایا ہے اس سب پر ایمان لائیں اور سمجھنے کے لیے کھول کرید میں نہ پڑیں۔ یہی مسلک بےغبار اور صاف و صحیح ہے۔ حضرت امام مالک (رح) سے کسی نے اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کا معنی پوچھا تو ان کو پسینہ آگیا اور تھوڑی دیر سر جھکانے کے بعد فرمایا کہ استوی کا مطلب تو معلوم ہے اور اس کی کیفیت سمجھ سے باہر ہے اور ایمان اس پر لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر سائل سے فرمایا کہ میرے خیال میں تو گمراہ شخص ہے اس کے بعد اسے اپنی مجلس سے نکلوا دیا صاحب معالم لفظ الرحمن کے بارے میں صاحب روح المعانی سے لکھتے ہیں کہ یہ مرفوع علی المدح ہے یعنی ھو الرحمن مطلب یہ ہے کہ ابھی جس کی شان خالقیت بیان کی گئی ہے وہ رحمن ہے جل مجدہ (فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا) (سو اے مخاطب تو اس کی شان کے بارے میں کسی جاننے والے سے دریافت کرلے) آسمانوں زمینوں کو پیدا کرنا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر استواء فرمانا سب رحمن کی صفات ہیں اس کی تحقیق مطلوب ہو تو باخبر سے پوچھئے، باخبر سے مراد حق تعالیٰ یا جبرائیل امین ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ کے علماء ہوں جن کو اپنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس معاملہ کی اطلاع ملی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ ” الذی خلق الخ “ یہ دعوی سورت پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو پیدا کر کے خود ہی اس میں متصرف ہے اور کوئی اختیار اس نے کسی کے حوالے نہیں فرمایا۔ لہذا برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ ” الرحمن “ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھو الرحمن فالرحمن خبر مبتدا محذوف (مدارک) جو سارے جہان کا خالق ومالک اور ساری کائنات میں متصرف و حکمران ہے اس کا ایک نام رحمن ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اس لیے وہی برکات دہندہ ہے اور ہر قسم کی عبادت و تعظیم اور سجود اسی ہی کے لیے روا ہے۔ ای ھو الرحمن الذی لا ینبغی السجود والتعظیم الالہ (کبیر ج 6 ص 494) ۔ ” فسئل بہ خبیرا “ کسی عارف خبیر سے اس کی رحمت کے بارے میں پوچھ دیکھو۔ ای فسئل عنہ رجلا عارفا یخبرک برحمتہ (بحر ج 6 ص 509) ۔ یا ” خبیرا “ مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ ” بہ “ کی ضمیر مذکورہ بالا اشیا کی طرف راجع ہے یعنی مذکورہ اشیاء کے بارے میں اللہ سے سوال کرو جو ان کو خوب جانتا ہے۔ ایھا الانسان لا تجع فی طلب العلم بھذا الی غیری وقیل معانہ فاسال عنہ خبیرا وھو اللہ تعالیٰ (خازن ج 5 ص 87) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(59) وہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے سب کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوہ گر ہوا وہ بڑا مہربان ہے پس اے مخاطب تو اس کی شان اور اس کی صفات کو کسی باخبر اور واقف حال سے دریافت کر اور پوچھ یعنی اے پیغمبر ! خواہ عبادت تبلیغ ہو جس کا تعلق مخلوق کی خدمت سے ہے یا عبادت لازمہ ہو جیسے اس کی تسبیح اور تحمید سو آپ ان دونوں قسموں کی عبادت میں اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھئے جو کبھی نہیں مرتا اور بندوں کے اعمال کی خبر گیری اور نگرانی اس پر چھوڑ دیجئے وہ ان کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی اور کفایت کرنے والا ہے وہ پروردگار وہ ہے جس نے تمام آسمان و زمین کو اور آسمان و زمین کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کو چھ دن کی مقدار میں بنایا اور پیدا کیا ہے پھر عرش پر اپنی شان کے لائق اس عرش پر جلو ہ گر ہوا وہ بےحد رحم کرنے والا ہے لہٰذا اے مخاطب اگر تجھ کو اس کی صفات کمالیہ کا حال معلوم کرنا ہے تو کسی باخبر اور واقف حال سے دریافت کر اور پوچھ دیکھ یہ منکر اور مشرک اس کو کیا جانیں کہ وہ کن صفات کمالیہ سے متصف ہے اگر یہ کچھ جانتے اور سمجھتے ہوتے تو اس کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو نہ پوجتے خبیر سے مراد حضرت حق تعالیٰ کی ذات ہے یا مخلوق میں سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔