Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 69

سورة الفرقان

یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ یَخۡلُدۡ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾

Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated -

اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... The torment will be doubled for him on the Day of Resurrection, i.e., repetitive and intensified. ... وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا and he will abide therein in disgrace; scorned and humiliated.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٦] یعنی جو لوگ ایسے جرائم میں مبتلا ہیں۔ ایک تو انھیں ان کی سزا مل کے رہے گی۔ دوسرے ان کے عذاب میں کبھی وقفہ نہیں آئے گا۔ اور تیسرے یہ کہ ان کے عذاب میں دم بدم اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔ پھر اس جہنم سے نکلنے کی بھی کوئی صورت اس کے لئے ممکن نہ ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۔۔ : ” فِيْهٖ “ میں ہائے ضمیر کے کسرہ کے ساتھ یاء ملا دی گئی ہے، اسے اشباع کہتے ہیں۔ ان تینوں برائیوں کو ایک ہی ” اَلَّذِیْنَ “ کے صلے کے طور پر ذکر کیا ہے، گویا ان کے مجموعے کو ایک برائی قرار دیا ہے۔ ” ذٰلِكَ “ کا اشارہ بھی اس مجموعے کی طرف ہے۔ مراد اس سے کفار ہیں، کیونکہ مومن نہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، نہ وہ ابدی جہنمی ہے، جبکہ ان تینوں کے مرتکب کے لیے دگنے عذاب کی اور اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہنے کی وعید ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verse mentions some details of the punishment to be faced by the aforementioned sinners. In the context of these verses it is certain that this chastisement will be exclusive to those who were infidels and also indulged in adultery or homicide. In the first place the phrase يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ (The punishment will be doubled for him - 69) cannot be applied on Muslim sinners because they are told both in the Qur&an and in the Sunnah that they will get only one punishment against a sin. Any increase in the intensity of chastisement will not be in the case of believers. Doubling of chastisement will be exclusive to infidels i.e. the first chastisement will be for infidelity and in case they have also committed sins the chastisement will be doubled. Secondly, it is also mentioned about this chastisement that it will be perpetual وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا - 25:69) i.e. the punished will be placed there forever after being disgraced and condemned. On the other hand no believer will be condemned for ever in the Jahannam, no matter how big a sin he has committed. Muslims will be taken out of the Jahannam when they have completed their term there. In brief, those infidels who reject monotheism and also commit adultery and homicide will be awarded doubled chastisement which will increase in intensity and will last forever. In the next verse there is a solace for the above type of sinners in that if they seek Allah&s forgiveness and act righteously, then Allah Ta’ ala is expected to change their sins into righteous deeds. In other words, once they have repented on their past sins and accepted Islam, their past sins will be taken away from their record and all that will be left in the record would be nothing but righteous deeds. It is because Allah Ta&ala has promised that when an infidel accepts Islam, all sins he might have committed during infidelity are pardoned. Hence their previous record which was full of sins and evil deeds will be forgiven and scraped, and will be replaced with a fresh record of good and righteous deeds which they would perform after submitting to Islam. This explanation of conversion of sins into virtues is given by Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، Hasan al-Basri, Said Ibn Jubair and Mujahid رحمۃ اللہ علیہم (Mazhari). Ibn Kathir has given another explanation for conversion of sins into virtues. He says that when they will remember all those sins which they had committed during the period of their infidelity, they will repent and seek Allah&s forgiveness. This act of repentance will replace their sins into virtues. In support of this explanation some traditions have also been quoted.

آگے اس عذاب کا بیان ہے جو جرائم مذکورہ کے کرنے والوں پر ہوگا اور آیات کے سیاق وسباق سے یہ بات متعین ہے کہ یہ عذاب کفار کے لئے مخصوص ہے جنہوں نے شرک و کفر بھی کیا اور اس کے ساتھ قتل و زنا میں بھی مبتلا ہوئے۔ کیونکہ اول تو يّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ کے الفاظ مسلمان گناہگاروں کے لئے نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے ایک گناہ پر ایک ہی سزا کا وعدہ قرآن و سنت میں منصوص ہے۔ سزا میں تضاعف یعنی کیفیت یا کمیت میں زیادتی مومنین کے لئے نہیں ہوگی۔ یہ کفار کی خصوصیت ہے کہ کفر پر جو عذاب ہونا تھا اگر کفر کے ساتھ اور گناہ بھی کئے تو عذاب دوہرا ہوجاوے گا۔ دوسرے اس عذاب میں یہ بھی مذکور ہے وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا، یعنی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اس عذاب میں ذلیل و خوار ہو کر۔ کوئی مومن ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں نہیں رہے گا، کتنا ہی بڑا گناہگار ہو اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال لیا جاوے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ شرک و کفر میں بھی مبتلا ہوئے اور قتل و زنا میں بھی، ان کا عذاب مضاعف یعنی دوہرا، شدید بھی ہوگا اور پھر یہ عذاب دائمی بھی رہے گا۔ آگے یہ بیان ہے کہ ایسے سخت مجرم جن کا عذاب یہاں مذکور ہوا ہے اگر وہ توبہ کرلیں اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے سیئات کو حسنات سے یعنی برائیوں کو بھلائیوں سے تبدیل کردیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس توبہ کے بعد ان کے اعمال نامہ میں حسنات ہی حسنات رہ جائیں گی کیونکہ شرک و کفر سے توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ بحالت شرک و کفر جتنے گناہ کئے ہوں اسلام و ایمان قبول کرلینے سے وہ پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس لئے پچھلے زمانے میں جو ان کا نامہ اعمال سیئات اور معاصی ہی سے لبریز تھا اب ایمان لانے سے وہ تو سب معاف ہوگئے۔ آگے ان معاصی اور سیئات کی جگہ ایمان اور اس کے بعد کے اعمال صالحہ نے لے لی۔ سیئات کو حسنات میں تبدیل کرنے کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس، حسن بصری، سعید بن جبیر، مجاہد وغیرہ ائمہ، تفسیر سے منقول ہے۔ (مظہری) ابن کثیر نے اس کی ایک دوسری تفسیر یہ بھی نقل کی ہے کہ انہوں نے جتنے گناہ زمانہ کفر و جاہلیت میں کئے تھے، ایمان لانے کے بعد ان سب گناہوں کے بجائے نیکیاں لکھ دی جاویں گی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد جب کبھی ان لوگوں کو اپنے پچھلے گناہ یاد آویں گے تو ان پر نادم ہوں گے اور توبہ کی تجدید کریں گے ان کے اس عمل سے وہ گناہ نیکیوں میں تبدیل ہوجاویں گے، اس کی دلیل میں بعض روایات حدیث بھی پیش فرمائی ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَيَخْلُدْ فِيْہٖ مُہَانًا۝ ٦٩ۤۖ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ «1» ، ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ، وقال : مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] ، والمُضَاعَفَةُ علی قضيّة هذا القول تقتضي أن يكون عشر أمثالها، وقیل : ضَعَفْتُهُ بالتّخفیف ضَعْفاً ، فهو مَضْعُوفٌ ، فَالضَّعْفُ مصدرٌ ، والضِّعْفُ اسمٌ ، کا لثَّنْيِ والثِّنْيِ ، فَضِعْفُ الشیءِ هو الّذي يُثَنِّيهِ ، ومتی أضيف إلى عدد اقتضی ذلک العدد ومثله، نحو أن يقال : ضِعْفُ العشرةِ ، وضِعْفُ المائةِ ، فذلک عشرون ومائتان بلا خلاف، وعلی هذا قول الشاعر : 293- جزیتک ضِعْفَ الوِدِّ لمّا اشتکيته ... وما إن جزاک الضِّعف من أحد قبلي «3» وإذا قيل : أعطه ضِعْفَيْ واحدٍ ، فإنّ ذلک اقتضی الواحد ومثليه، وذلک ثلاثة، لأن معناه الواحد واللّذان يزاوجانه وذلک ثلاثة، هذا إذا کان الضِّعْفُ مضافا، فأمّا إذا لم يكن مضافا فقلت : الضِّعْفَيْنِ فإنّ ذلك يجري مجری الزّوجین في أنّ كلّ واحد منهما يزاوج الآخر، فيقتضي ذلک اثنین، لأنّ كلّ واحد منهما يُضَاعِفُ الآخرَ ، فلا يخرجان عن الاثنین بخلاف ما إذا أضيف الضِّعْفَانِ إلى واحد فيثلّثهما، نحو : ضِعْفَيِ الواحدِ ، وقوله : فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ، وقوله : لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] ، فقد قيل : أتى باللّفظین علی التأكيد، وقیل : بل المُضَاعَفَةُ من الضَّعْفِ لا من الضِّعْفِ ، والمعنی: ما يعدّونه ضِعْفاً فهو ضَعْفٌ ، أي : نقص، کقوله : وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، وکقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، وهذا المعنی أخذه الشاعر فقال : زيادة شيب وهي نقص زيادتي وقوله : فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] ، فإنهم سألوه أن يعذّبهم عذابا بضلالهم، وعذابا بإضلالهم كما أشار إليه بقوله : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] ، وقوله : لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] ، أي : لكلّ منهم ضِعْفُ ما لکم من العذاب، وقیل : أي : لكلّ منهم ومنکم ضِعْفُ ما يرى الآخر، فإنّ من العذاب ظاهرا و باطنا، وكلّ يدرک من الآخر الظاهر دون الباطن فيقدّر أن ليس له العذاب الباطن . ( ض ع ف ) الضعف الضعف ۔ یہ اسمائے متضایقہ سے ہے یعنی وہ الفاظ جو اپنے مفہوم ومعنی کے تحقیق میں ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے نصف وزوج اور ضعف ( دوگنا) کے معنی ہیں ایک چیز کے ساتھ اس کے مثل کامل جانا اور یہ اسم عدد کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور اضعفت الشئی وضعتہ وضاعفتہ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کردینا بعض نے کہا ہے کہ ضاعفت ( مفاعلۃ ) میں ضعفت ( تفعیل ) سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ان کو دگنی سزادی جائے گی ۔ اور آیت : ۔ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] اور اگر نیکی ( رکی ) ہوگی تو اس کو دو چند کر دیگا ۔ میں یضاعف ( مفاعلۃ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نیکیوں کے دس گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آیت : ۔ مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ضعفتہ ضعفا فھوا مضعوف ۔ تخفیف عین کے ساتھ آتا ہے اس صورت میں ضعف مصدر ہوگا اور ضعف اسم جیسا کہ شئی اور شئی ہے اس اعتبار سے ضعف الشئی کے معنی ہیں کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور جس سے وہ چیز دوگنی ہوجائے اور جب اس کی اضافت اسم عدد کی طرف ہو تو اس سے اتنا ہی اور عدد یعنی چند مراد ہوتا ہے لہذا ضعف العشرۃ اور ضعف المابۃ کے معنی بلا اختلاف بیس اور دو سو کے ہوں گے چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) جز نیتک ضعف الواد لما اشتیتہ وما ان جزاک الضعف من احد قبلی جب تونے محبت کے بارے میں شکایت کی تو میں نے تمہیں دوستی کا دو چند بدلہ دیا اور مجھ سے پہلے کسی نے تمہیں دو چند بد لہ نہیں دیا ۔ اور اعطہ ضعفی واحد کے معنی یہ ہیں کہ اسے سر چند دے دو کیونکہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہا یک اور اس کے ساتھ دو اور دے دو اور یہ کل تین ہوجاتے ہیں مگر یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب ضعف کا لفظ مضاعف ہو ورنہ بدوں اضافت کے ضعفین کے معنی تو زوجین کی طرح دوگنا ہی ہوں گے ۔ لیکن جب واحد کی طرف مضاف ہوکر آئے تو تین گنا کے معنی ہوتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ایسے لوگوں کو دوگنا بدلہ ملے گا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] تو ان کی آتش جہنم کا دوگنا عذاب دے ۔ میں دوگنا عذاب مراد ہے یعنی دوزخی بار تعالٰ سے مطالیہ کریں گے کہ جن لوگوں نے ہمیں کمراہ کیا تھا انہیں ہم سے دو گناہ عذاب دیا جائے گا ایک تو انکے خود گمراہ ہونے کا اور دوسرے ، ہمیں گمراہ کرنے کا جیسا کہ آیت کریمہ : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] یہ قیامت کے ادن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے ۔ پھر اس کے بعد لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] کہہ کر بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کو تم سے دگنا عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ تم اور ان میں سے ہر ایک کو اس سے دگنا عذاب ہور ہا ہے جتنا کہ دوسرے کو نظر آرہا ہے ۔ کیونکہ عذاب دو قسم پر ہے ظاہری اور باطنی ، ظاہری عذاب تو ایک دوسرے کو نظر آئے گا مگر باطنی عذاب کا ادراک نہیں کرسکیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی اندرونی طور پر کچھ بھی عذاب نہیں ہورہا ہے ( حالانکہ وہ باطنی عذاب میں بھی مبتلا ہوں گے ۔ اور آیت ؛لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] بڑھ چڑھ کر سود در سود نہ کھاؤ ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اضعافا کے بعد مضاعفۃ کا لفظ بطور تاکید لایا گیا ہے مگر بعض نے کہا ہے کہ مضاعفۃ کا لفظ ضعف ( بفتح الضاد ) سے ہے جس کے معنی کمی کے ہیں پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ سود جسے تم افزونی اور بیشی سمجھ رہے ہو یہ ، دراصل بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے جیسے فرمایا : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] کہ اللہ تعالیٰ سود کو کم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (286) زیادۃ شیب وھی نقض زیادتی کہ بڑھاپے کی افرزونی دراصل عمر کی کمی ہے قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ هين الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے المؤمن هَيِّنٌ ليّن» کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کر اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو۔ کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے ولاا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ یہ مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ قاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) اور جو اس کو حلال سمجھے یعنی کافر تو اس کو دوزخ کی وادی یا گڑھے سے ہمیشہ کے لیے سابقہ پڑے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٩ (یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُہَانًا ) ” یہ آیت اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اس سے قیامت کے دن سے پہلے کا عذاب ثابت ہوتا ہے ‘ یعنی جو عذاب اس شخص کو اس سے پہلے دیا جا رہا ہوگا قیامت کے دن اس عذاب کو دو گنا کردیا جائے گا۔ منکرین حدیث عذاب قبر کو نہیں مانتے۔ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید میں عذاب قبر کا ثبوت نہیں ملتا۔ اگرچہ قرآن میں صراحتاً عذاب قبر کا ذکر نہیں ہے ‘ لیکن بعض آیات سے واضح طور پر برزخی زندگی کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ِ آیت زیر مطالعہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے مجرمین عذاب جھیل رہے ہوں گے اور یقیناً اس عذاب سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ہی مراد ہے۔ بہر حال احادیث میں عذاب قبر کے بارے میں بہت تفصیلات ملتی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ اور یہ کہ قبر میں یا تو جنت کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے ٹھنڈی ہوا اور خوشبو آتی ہے ‘ یا پھر دوزخ کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے آگ کی لپٹ اور لو آتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

85 This can have two meanings: (1) His punishment will never come to an end, but it will continue being inflicted relentlessly over and over again; and (2) the person who in addition to the sins of disbelief, shirk and atheism, would have committed murders, adultery and other sins, will get separate punishment for rebellion and for each other sin. He will be accountable for each of his major and minor sins none of which will be pardoned. For instance, for each murder and for each act of adultery he will be given a separate punishment, and likewise, there will be a separate punishment for every sin committed by him.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :85 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ عذاب کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے گا ، بلکہ پے در پے جاری رہے گا ۔ دوسرے یہ کہ جو شخص کفر یا شرک یا دہریت و الحاد کے ساتھ قتل اور زنا اور دوسری معصیتوں کا بوجھ لیے ہوئے جائے گا اس کو بغاوت کی سزا الگ ملے گی اور ایک ایک جرم کی سزا الگ الگ ۔ اس کا ہر چھوٹا بڑا قصور حساب میں آئے گا ۔ کوئی ایک خطا بھی معاف نہ ہو گی ۔ قتل کی سزا ایک نہیں ہو گی بلکہ ہر فعل قتل کی الگ سزا اس کو بھگتنی ہو گی ۔ زنا کی سزا بھی ایک نہیں ہو گی بلکہ جتنی بار وہ اس جرم کا مرتکب ہوا اس کی جداگانہ سزا پائے گا ۔ اور یہی حال دوسرے تمام جرائم اور معاصی کے معاملے میں بھی ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:69) یضعف۔ مضارع مجہول مجزوم واحد مذکر غائب (باب مفاعلہ) وہ دو گناہ کیا جائیگا۔ یلق سے بدل ہے مبدل منہ کی مطابقت میں مجزوم ہے۔ یخلد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب خلود مصدر باب نصر۔ وہ ہمیشہ رہیگا۔ مجزوم بوجہ یضاعف کے معطوف ہونے کے۔ فیہ ای فی ذلک العذاب المضاعف۔ اس دو چند کئے گئے عذاب میں۔ مھانا اسم مفعول واحد مذکر اھانۃ مصدر (باب افعال) ھون مادہ۔ ذلیل کیا ہوا ۔ یخلد سے حال ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 25:63)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلدفیہ مھانا (٢٥ : ٦٩) ” قیامت کے روز اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔ “ یعنی نہ صرف یہ ہوگا کہ اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا بلکہ وہ توہین آمیز بھی ہوگا اور اس طرح یہ عذاب زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ بن جائے گا۔ ہاں یہ نہیں ہے کہ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب ایک بار کرایا تو اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ وہ توبہ اور عمل صالح کے ذریعے اس عذاب سے بچ سکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(69) کہ اس کو قیامت کے دن دو چند عذاب کیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل ہوکر رہے گا۔