Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 12

سورة الشعراء

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّکَذِّبُوۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾

He said, "My Lord, indeed I fear that they will deny me

مو سٰی ( علیہ السلام ) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا ( نہ ) دیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَى هَارُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ : یعنی اتنے بڑے کام کے لیے جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ : یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ : تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھیے طٰہٰ : ٣١۔ قصص : ٣٤) موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کا تعاون حاصل کرنے کے لیے درخواست کی نہ کہ رسالت سے سبکدوشی کے لیے۔ (شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Request for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excuses قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿١٢﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِ‌ي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْ‌سِلْ إِلَىٰ هَارُ‌ونَ ﴿١٣﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿١٤﴾ He (Musa) said, |"My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;|" [ 14] This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some resources to help them in carrying out his mission. It leads to the principle that so far as the objective is to obey Allah&s command, praying for some helping resources cannot be regarded as seeking ruses and excuses to escape from the required act. The request of Sayyidna Musa علیہ السلام was only to facilitate the implementation of Allah&s command which is quite lawful. The meaning of the word dalal used for Sayyidna Musa (علیہ السلام) قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ He said, |"I did that at that time when I was one of the unaware people. (26:20) This was the answer of Musa (علیہ السلام) to the objection of the Pharaoh that Musa (علیہ السلام) had killed an Egyptian. The gist of the answer is that it was not a deliberate murder; in fact the Egyptian was killed by mistake, because Musa (علیہ السلام) had only struck him with a blow which, by accident, caused his death. The word used, by the present verse, for this mistake is derived from ضَلَال (dalal) which is commonly used for intentional error. But the word is also used for &unawareness& (which includes unintentional mistakes) It is this meaning that is intended here. This interpretation is supported by Qatdah and Ibn Zaid رحمۃ اللہ علیہم . It is impossible for man to comprehend fully the entity and reality of the magnificence of Allah Ta’ ala قَالَ فِرْ‌عَوْنُ وَمَا رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ Pharaoh said, |"And what is the Lord of the worlds?|" (26:23) This verse proves that it is not possible to know the exact reality of Allah&s Being. Since the Pharaoh had asked a question regarding Allah Ta’ ala&s intrinsic-self and reality, Sayyidna Musa (علیہ السلام) instead of giving a direct answer to his query, described the attributes of Allah Ta’ ala in reply. He hinted in his reply that it is not possible for a man to perceive the essence and reality of Allah Ta’ ala. Hence, it was a futile question. (Ruh)

معارف و مسائل اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں : قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم قبول کیوں نہ کیا ؟ اور توقف کیوں فرمایا ؟ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا وہ تعمیل حکم ہی کے سلسلہ میں کیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۝ ١٢ۭ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری رسالت کو جھٹلا دیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:12) رب : ای یا ربی۔ ان یکذبون : ان مصدریہ ہے یکذبون اصل میں یکذبونی ہے کہ وہ مجھے جھٹلائینگے۔ (میری تبلیغ کے تمام ہونے سے قبل ہی میری تکذیب شروع کردیں گے۔ (الماجدی، روح المعانی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو مشکلات نظر آئیں اور فرعون سے جو انہیں خدشہ تھا اس کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے معاون حاصل کرنا اور فرعون کے شر سے تحفظ طلب کرنا مقصود تھا۔ امر الٰہی کے امتثال میں توقف مقصود نہیں تھا۔ ولم یکن ھذا الالتماس من موسیٰ (علیہ السلام) توقفا فی الامتثال بل التماس عون فی تبلیغ الرسالۃ (مدارک ج 3 ص 137) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے پروردگار ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے اور اس سے مجھے سخت ذہنی اذیت پہنچے گی طبیعت ملول و حزین ہوجائے گی اور دل میں انقباض پیدا ہوگا اور پھر میری تائید کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا اور میری زبان صاف نہ چل سکے گی اس لیے ہارون کے پاس پروانہ نبوت بھیج کر اسے معاون بنا دے کیونکہ اس کی زبان بھی صاف ہے اور وہ میری تائید بھی کرے گا زبان نہ چل سکنے کی وجہ یہ تھی کہ بچپن ہی سے آپ کی زبان میں رکاوٹ سی تھی عام گفتگو میں اگرچہ اس کا کوئی اثر ظاہر نہ تھا لیکن انہیں اندیشہ تھا کہ جب قوم کی تکذیب کی وجہ سے ان کی طبیعت میں انقباض رونما ہو تو کہیں ان کی زبان اس معمولی لکنت کی وجہ سے لڑکھڑا نہ جائے۔ التکذیب سبب لضیق القلب و ضیق القلب سبب لتعسر الکلام علی من یکون فی لسانہ حبسۃ الخ (کبیر ج 6 ص 508) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) موسیٰ (علیہ السلام) نے عر ض کیا اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں اور میری تکذیب کریں۔