Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 14

سورة الشعراء

وَ لَہُمۡ عَلَیَّ ذَنۡۢبٌ فَاَخَافُ اَنۡ یَّقۡتُلُوۡنِ ﴿ۚ۱۴﴾

And they have upon me a [claim due to] sin, so I fear that they will kill me."

اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا ( دعویٰ ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے مار نہ ڈالیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa!" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me." So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha: قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me." (20:25-26) until: قَدْ أُوتِيتَ سُوْلَكَ يمُوسَى You are granted your request, O Musa! (20:36) وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me. because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

141یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لئیے فرعوں اس کے بدلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعہ پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینے کی کوشش کرے۔ اس لئے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہوچکی ہے۔ جاکر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سرفہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام سنانے کا تصور کیا تو سینہ میں گھٹن سی محسوس ہوئی۔ چناچہ اللہ کے حضور یہ خطرات بیان بھی کردیئے۔ مگر انکار کی مجال نہ تھی۔ اور یہی اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے ہوتے ہیں کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی اللہ کا پیغام پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔ التبہ اتنی گزارش ضرور کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما کر میرے ہمراہ کردیجئے۔ جو اس کام میں میرا معاون و مددگار ہو اور ہم کم از کم ایک کے بجائے دو تو ہوجائیں گے جو ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہوں۔ علاوہ ازیں میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی۔ جبکہ میرا بھائی ہارون فصیح اللسان ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ۔۔ : یعنی مجھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہوگیا ہے، جو ان کے کہنے کے مطابق میرا جرم ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة قصص (١٥) میں آرہی ہے، مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر گھونسا مار دیا، جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی، پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلا لینے کے لیے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر انبیاء ( علیہ السلام) کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَہُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ۝ ١٤ۚ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤) اور میں نے قبطی کو قتل کردیا تھا اس کا بدلہ بھی میرے ذمہ ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ مجھے قتل نہ کر ڈالیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ (وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ) ” مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 The allusion is to the incident of Prophet Moses' giving a blow to an Egyptian, who was fighting with an Israelite, and thus causing his death. Then as soon as Moses came to know that the report had reached Pharaoh and his people and they were planning to take revenge, he fled the country and took refuge in Midian. (See Al-Qasas: 15-21) Now when after a period of almost ten years of hiding he was suddenly called upon and commanded to go before Pharaoh, who had already a charge of murder against him, with the message, Prophet Moses rightly felt apprehensive that he would immediately be involved in the murder case even before he was able to convey the message as commanded by Allah.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :11 یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو سورہ قصص رکوع 2 میں بیان ہوا ہے ۔ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیل سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا ۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع قوم فرعون کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ملک چھوڑ کر مَدْیَن کی طرف فرار ہو گئے تھے ۔ اب جو آٹھ دس سال کی روپوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغام رسالت لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہوا کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانس لے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مظلوم کو بچاتے ہوئے ظالم کو ایک مکا مارا تھا جس سے وہ مر ہی گیا۔ اس وجہ سے ان پر قتل کا الزام لگ گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ سورۂ قصص میں آنے والا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:14) ولہم علی ذنب۔ اور ان کا میرے ذمہ ایک جرم (بھی) ہے یہاں اشارہ ہے ایک قبطی کے قتل کا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مکہ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔ (ملاحظہ ہو 28:15)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ یعنی مجھ سے ان کا آدمی قتل ہوگیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل سرہ قصص رکوع 2 میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی۔ پھر جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلہ لینے کے لئے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین بھاگ گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر کبھی انبیا کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ جرم ایک قبطی کے قتل کا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ اور ان کو مجھ پر ایک قبطی کے خون کا دعوی بھی ہے اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر ڈالیں کہ یہ وہی شخص ہے جو ہمارا ایک آدمی قتل کر کے کہیں بھاگ گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظاہری اسباب کے تحت اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا شرک نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اور میرے ذمے ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے تو مجھ کو یہ اندیشہ ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں مجھ کو قتل کر ڈالیں یعنی مصر سے ایک قبطی کو قتل کرکے بھاگا تھا جب سے اب تک گرفتار نہیں ہوا اس لئے بھی مجھ کو خوف ہے کہ وہ مجھ کو دیکھتے ہی قتل کر ڈالیں اور تبلیغ رسالت کی نوبت ہی نہ آئے اور تبلیغ رسالت سے پہلے ہی قتل کردیاجائوں۔