Surat us Shooaraa
Surah: 26
Verse: 23
سورة الشعراء
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾
Said Pharaoh, "And what is the Lord of the worlds?"
فرعون نے کہا رب العالمین کیا ( چیز ) ہے؟
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾
Said Pharaoh, "And what is the Lord of the worlds?"
فرعون نے کہا رب العالمین کیا ( چیز ) ہے؟
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn He tells: قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ (Fir`awn) said: "And what is the Lord of the `Alamin!" This is because he used to say to his people: مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى I know not that you have a god other than me. (28:38) فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ Thus he fooled his people, and they obeyed him. (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me!" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah, قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two!" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright." (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance (of Allah) are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا ۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے ۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت ( فمن ربکما یا موسیٰ ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے ۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا ۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا ۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں ۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ حضرت کلیم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے ، سب کا مالک ہے ، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے ۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں ۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں ۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سواکسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اسکی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے ۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان وزمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں ۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سواکسی اور کو رب کیوں مانتا ۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا ۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے ۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے ۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بےوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے ۔ اسی طرح حضرت موسی ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہاہے ۔
2 3 1یہ اس نے بطور دریافت کے نہیں، بلکہ جواب کے طور پر کہا، کیونکہ اس کا دعویٰ تو یہ تھا (مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہِ غَیْرِیْ ) (وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ۚ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْٓ اَطَّلِــعُ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰي ۙ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ) 28 ۔ القصص :38) ' میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں '
[١٦] فرعون نے پوری مملکت کے رسائل معاش اپنے قبضہ میں کر رکھے تھے۔ اسی لحاظ سے وہ اپنے آپ کو اپنی رعیت کا پروردگار یا رب سمجھے بیٹھا تھا اور اپنے رب ہونے کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ اس نے ملک بھر میں اپنے مجسمے نصب کروا رکھے تھے۔ جن کی پوجا کی جاتی تھی اس نے اپنی رعیت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی تھی کہ ان کا پرورش کنندہ میں ہی ہوں۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں فرمایا کہ ہم && رب العالمین && کے رسول ہیں تو وہ فوراً چونک اٹھا اور ازراہ حقارت کہنے لگا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ اپنی رعیت کا رب تو میں خود ہوں۔ یہ کون سے رب العالمین کی بات کرتے ہو ؟
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : فرعون نے جب دیکھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خوف زدہ نہیں کرسکا اور وہ کسی صورت توحید کی دعوت سے اور بنی اسرائیل کی آزادی کے مطالبے سے باز آنے والے نہیں تو وہ مجادلے پر اتر آیا۔ عموماً مناظرے کا کامیاب اسلوب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدّ مقابل کو سوالات میں الجھا دیا جائے۔ تو اس کے مطابق اس نے کہا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) ” اور رب العالمین کیا ہے ؟ “ واؤ عطف اس لیے ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک سوال کرچکا تھا : (اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا) یہ اس پر عطف ہے۔ یہاں مفسرین عام طور پر لکھتے ہیں کہ ” مَا “ کے ساتھ کسی چیز کی حقیقت کے متعلق سوال ہوتا ہے، چونکہ مخلوق خالق کی حقیقت کا ادراک کر ہی نہیں سکتی، اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے آثار کو اس کے تعارف کے لیے پیش فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا، لفظ ” مَا “ کے ساتھ سوال ہو تو ” مَا “ کے بعد والی چیز کی وہ حقیقت معلوم کرنا مقصود ہوتی ہے جس سے وہ دوسری چیزوں سے الگ ہوجائے۔ اس لیے کسی کی قوم یا قبیلہ معلوم کرنا ہو تو ” مَا “ کے ساتھ سوال ہوتا ہے، جیسا کہ فارس کے ساتھ ایک جنگ میں کسریٰ کے جرنیل کی مغیرہ بن شعبہ (رض) سے گفتگو ہوئی تو اس نے پوچھا : ( مَا أَنْتُمْ ؟ ) ” تم کیا ہو ؟ “ تو انھوں نے فرمایا : ( نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ ) [ بخاري، الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ ۔۔ : ٣١٥٩ ] ” ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں۔ “ 3 قبطیوں کے ہاں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، مشرکین کا علم الاصنام سراسر باطل ہونے کی وجہ سے نہایت پُر پیچ اور ناقابل فہم ہوتا ہے۔ فرعون کی سلطنت میں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، فرعون بھی ان کی خدائی کو مانتا تھا۔ (دیکھیے اعراف : ١٢٧) اس کے باوجود وہ ان تمام معبودوں کا نمائندہ بن کر اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا اور کہلواتا تھا، جیسا کہ فرمایا : ( فَحَشَرَ فَنَادٰى فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) [ النازعات : ٢٣، ٢٤ ] ” پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔ پس اس نے کہا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔ “ کبھی یہ کہتا : (يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ) [ القصص : ٣٨ ] ” اے سردارو ! میں نے اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔ “ بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ” رب العالمین “ کو نہیں جانتا تھا، اس لیے اس نے پوچھا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ” رب العالمین “ کو اچھی طرح جانتا تھا، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے فرمایا تھا : ( لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ ) [ بني إسرائیل : ١٠٢ ] ” بلاشبہ یقیناً تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کی قوم کے متعلق شہادت دی ہے، فرمایا : (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) [ النمل : ١٤] ” اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کردیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کرچکے تھے۔ “ معلوم ہوا اس کا سوال ” وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ “ تجاہل عارفانہ تھا، وہ جاننے کے باوجود ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سورة طٰہٰ میں اس کا سوال یہ نقل ہوا ہے : (فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى) [ طٰہٰ : ٤٩ ] ” تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ! ؟ “
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے : قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ٢ ٣ ۭ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔
(٢٣۔ ٢٤) فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ رب العالمین کی ماہیت اور اس سے تمہارا مقصود کیا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ رب العالمین آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو مخلوقات اور عجائبات ہیں ان سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں اس بات کا یقین ہو کہ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
آیت ٢٣ (قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) ” تم نے دعویٰ کیا ہے کہ تم رب العالمین کے رسول ہو اور اس کی طرف سے بھیجے گئے ہو ‘ تو یہ رب العالمین کون ہے ؟
19 Here the details that Prophet Moses went before Pharaoh as the Messenger of the Lord of the universe and conveyed to him His message, have been omitted, and only the conversation that took place between them has. been related. 20 This question of Pharaoh concerned the assertion of Moses that he had been sent by the Lord, Master and Ruler of all Creation with the message that he should let the Israelites go with him. This was a political message. It implied that the One, Whom Moses claimed to represent, possessed authority and sovereign rights over all the people of the world including Pharaoh and that he was not only encroaching upon his sphere of sovereignty as Supreme Ruler, but was also sending him the Command that he should hand over a section of his subjects to the representative appointed by Him, so that he should take them out of his kingdom. That is why Pharaoh asked, "Who is this Master and Ruler of aII Creation who is sending such a command to the king of Egypt through an ordinary subject of his kingdom?"
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :19 بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ کو ربّ العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کر کے فرعون کو وہ پیغام پہنچایا جس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے ۔ یہ بات آپ سے آپ ظاہر ہے کہ نبی نے ضرور وہ پیغام پہنچا دیا ہو گا جس پر وہ مامور کیے گئے تھے ، اس لیے اس کا ذکر کرنے کی حاجت نہ تھی ۔ اسے چھوڑ کر اب وہ گفتگو نقل کی جاتی ہے جو اس پیغام کی تبلیغ کے بعد فرعون اور موسیٰ کے درمیان ہوئی ۔ سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :20 یہ اس کا سوال حضرت موسیٰ کے اس قول پر تھا کہ میں رب العالمین ( تمام جہان والوں کے مالک و آقا اور فرماں روا ) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے ۔ اس پیغام کی نوعیت صریح طور پر سیاسی تھی ۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ حضرت موسیٰ جس کی نمائندگی کے مدعی ہیں وہ سارے جہاں والوں پر حاکمیت و اقتدار اعلیٰ رکھتا ہے اور فرعون کو اپنا تابع قرار دے کر اس کے دائرہ حکومت و اقتدار میں ایک بالا تر فرمانروا کی حیثیت سے نہ صرف یہ کہ مداخلت کر رہا ہے بلکہ اس کے نام یہ فرمان بھیج رہا ہے کہ تو اپنی رعایا کے ایک حصے کو میرے نامزد کردہ نمائندے کے حوالے کر دے تاکہ وہ اسے تیری سلطنت سے نکال کر لے جائے ۔ اس پر فرعون پوچھتا ہے کہ یہ سارے جہاں والوں کا مالک و فرمانروا ہے کون جو مصر کے بادشاہ کو اس کی رعایا کے ایک ادنی فرد کے ہاتھوں یہ حکم بھیج رہا ہے ۔
(٢٣ تا ٣٠) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیوانہ خیال کیا اور فرعون سے جاکر یہی کہا کوئی دو شخص دیوانے دروازے پر آئے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتے ہیں فرعون نے کہا اچھا ان کو بلا لو کوئی گھڑی ان دیوانوں سے مسخراپن کر کے دل بہلاویں گے پھر جب حضرت موسیٰ اور ہارون سے باتیں ہوئیں اور اس وقت فرعون نے تعجب سے یہ کہا کہ عالم کا پروردگار کون ہے جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ سوا فرعون کے اور کوئی عالم کا پروردگار نہیں چناچہ آگے آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے اس کے قول کی صراحت فرمائی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے اخیر کو کہا کہ تم اگر میرے سوا کسی اور کو معبود قرار دو گے تو میں تم کو قید کردوں گا غرض مفسر ابن سلف نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے جو بیان کی گئی سوا اس تفسیر کے مفسرین متاخرین نے تفسیر قرآنی میں علم مطلق کو دخل دے کر یہ جو کہا ہے کہ فرعون کا مطلب اس سوال سے یہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) فرعون کی خدا کی کچھ ماہیت اور اصلیت بتلاویں یہ قول قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہے قرآن شریف کی چند آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون خدا کے وجود کا منکر تھا اور لوگوں سے صاف کہتا تھا انا ربکم الاعلیٰ ۔ ماعلمت لکم من اللہ غیری پھر جو شخص کسی چیز کے موجود ہونے کا ہی منکر ہو وہ انکار چیز کی ماہیت اور اصلیت کیا پوچھے گا حاصل کلام یہ ہے کہ صحیح طریقہ قرآن کی تفسیر کا یوں ہے کہ اول تو قرآن کی تفسیر خود قرآن سے کی جاوے پھر حدیث صحیح سے پھر آثار صحابہ (رض) سے اس آیت کی تفسیر جب خود قرآن کی دوسری آیتوں میں موجود ہے تو قوائد عقلی کی مداخلت کی کیا ضرورت ہے فرعون کی بادشاہت کچھ دور دور تک نہیں تھی چناچہ ملک مصر میں فرعون کی بادشاہت تھی اور ملک شام عمالقہ کی حکومت اور بادشاہت تھی اسی واسطے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو یوں قائل کیا کہ اتنے چھوٹے سے ملک کی بادشاہت اور حکومت پر تیرا خدائی کا دعویٰ بالکل غلط ہے خدا تو وہ ہے جس کی بادشاہت آسمان اور زمین میں مشرق سے مغرب تک ہے آسمان سے جب وہ چاہتا ہے مینہ برستا ہے نہیں تو قحط پڑجاتا ہے زمین مشرق سے مغرب تک بڑے بڑے بادشاہوں کو جب وہ چاہتا ہے بیمار ڈال دیتا ہے مار ڈالتا ہے تجھ سے پہلے جو تیرے بڑے بوڑھے مصر کے بادشاہ تھے اخیر وہ کہاں گئے اور ان کی بادشاہت تجھ کو کیوں کر مل گئی ‘ ان آنکھوں سے دکھائی دیتی ہوئی چیروں کے سمجھنے اور ان پر یقین لانے کی اگر تجھ کو اور تیرے درباریوں کو عقل ہے تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر ہر عقلمند دھیان کر کر خدا کو پہچان سکتا ہے ‘ فرعونی لوگ ایک مدت سے فرعون کو خدا کہتے تھے اس لیے فرعون نے پہلے تو اپنے دربار کے فرعونیوں کو الا تسمعون کہہ کر ابھارا جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان درباری فرعونیوں کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان لوگوں کے بڑوں کے اور ان کے اعتقاد کے برخلاف ہے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو باؤلا بتلا کر ان لوگوں کے دل سے موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کو نکال دینا چاہا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ڈرایا کہ ان لوگوں کے ایک مدت کے اعتقاد کے برخلاف میرے سوا تم کسی کو خدا مانو گے تو میں تم کو قید کر دوں گا۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان باتوں کے جواب میں کوئی بات ایسی نہیں کہی تھی جس سے حق وناحق اچھی طرح کھل جاتا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے بےٹھکانے بکواس کا اتنا جواب دیا کہ اگر حق وناحق کی کھول دینے والی کوئی چیز میں دکھا دوں تو کیا پھر بھی ناانصانی سے تو مجھ کو قید کر دے گا صحیح بخاری ١ ؎ ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب ہر شخص دنیا میں اسی کے موافق کام کرتا ہے اور وہی کام اس کو اچھے نظر آتے ہیں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو ایسی باتوں سے قائل کیا تھا جو آنکھوں سے دکھائی دیتے ہوئے موٹی موٹی باتیں تھیں مگر علم الٰہی میں فرعون اور اس کے ساتھی دوزخ کے قابل ٹھہر چکے تھے اس لیے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان سچی باتوں کو بےٹھکانے بکواس سے اڑا دیا اور اس کے ساتھی بھی اس کے بہکانے بہک گئے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر فصل اول )
12 ۔ یعنی اس کی حقیقت بتائو کہ وہ کیا چیز ہے ؟۔ فرعون نے یہ سوال اس بنا پر کیا کہ وہ خود خدا ہونے کا دعویدار تھا اور اس کی قومے بھی اس کا دعویٰ تسلیم کرلیا تھا اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس دعویٰ پر کہ مجھے سارے جہان کے رب نے بھیجا ہے۔ “ اس نے ہٹ دھرمی سے یہ سوال کیا۔
لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پانی سے نکال کر بڑی محبت اور شفقت سے اس کے محل میں عیش و آرام سے رکھ کر ان کی پرورش کی گئی تھی۔ دوسری بات یہ یاد دلائی گئی کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر ارادہ کے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا اور اس خوف سے کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری ان سے ناحق بدلہ نہ لے لیں مدین کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ فرعون کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان مہر بانیوں کو یاد تو کرو جو ہم نے آپ کو پال پوس کر اتنا بڑا کیا تھا اور تم نے احسان ماننے کے بجائے ایک قبطی کو بھی قتل کردیا تھا۔ کیا احسانات کا بدلہ اسی طرح دیا جاتا ہے ؟ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے فرعون مجھ سے تو بغیر کسی قصد و ارادے کے ایک قبطی کا قتل ہوگیا تھا لیکن تو نے سارے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا کر ان کے بچوں کو ذبح کیا تھا۔ اگر میری والدہ نے مجھے ایک صندوق یا ٹوکرے میں رکھ کر دریا میں نہ بہادیا ہوتا اور (ایک لاوارث) بچہ سمجھ کر مجھے تمہارے محل میں پرورش نہ کرایا ہوتا تو میرا حشر بھی بنی اسرائیل کے اور بچوں کی طرح ہوتا۔ فرعون سمجھ گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان باتوں کا کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے اس نے فوراً انداز گفتگو بدل دیا اور کہنے لگا کہ ساری دنیا کا ” رب اعلی “ تو میں ہوں۔ میرے علاوہ یہ رب العالمین کون ہے ؟ کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کرنا شروع کیا۔ فرعون درمیان درمیان میں ٹوکتارہا تاکہ آپ کی گفتگو بےاثر ہوجائے اور درباری اس سے متاثر نہ ہوں لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا خطاب جاری رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم یقین کرنے والے ہو تو یہ بات سن لو زمین ‘ آسمان اور اس کے درمیان جو بھی مخلوق ہے ان سب کا پروردگار صرف اللہ رب العالمین ہے۔ فرعون نے طنز بھرے انداز میں درباریوں سے کہا کہ تم نے یہ ایک عجیب بات سنی ہے کہ میرے سوا بھی کوئی رب العالمین ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گفتگو اور خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا پروردگار ہے یعنی جب فرعون نہیں تھا وہ اس وقت بھی رب العالمین تھا اور جب یہ فرعون نہیں رہے گا اس وقت بھی صرف اسی ایک اللہ کی حکومت اور سلطنت ہوگی۔ فرعون پھر بولا کہ لوگو ! اس کی بات مت سنو مجھے تو ایسا گتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر دیوانگی طاری ہے اور وہ اپنی عقل کھو بیٹھا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ وہ رب العالمین ہر سمت کا مالک ہے خواہ وہ مشرق ہو یا مغرب یا اس کے درمیان کی ہر طرح کی مخلوق وہی سب کا رب العالمین ہے اگر تم ذرا بھی عقل سے کام لو گے تو یہ حقیقت تمہارے اوپر کھل جائے گی۔ جب فرعون نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا اثر درباریوں پر ہورہا ہے تو اب وہ غصہ میں آگیا اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر تم میرے سوا کسی کو بھی اپنا معبود کہا تو میں تمہیں جیل میں سڑادوں گا اور سخت سزا دوں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو فرمایا کہ اچھا یہ بتا کہ اگر میں تیرے سامنے سچائی کی دلیل پیش کروں کیا اس وقت بھی تو میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرے گا ؟ فرعون کہنے لگا کہ اگر تم واقعی کسی رب العالمین کے نمائندے ہو تو تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے اگر تم اپنے وعدے میں سچے ہو تو وہ دلیل اور معجزہ پیش کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا جیسے ہی زمین پر پھینکا تو وہ ایک بڑا خوف ناک اژدھا بن گیا۔ فرعون اور درباری سناٹے میں آگئے۔ جب اس اژدھے نے ادھر ادھر دوڑنا اور پھنکار نا شروع کیا تو پورے دربار میں بھگدڑ مچ گئی اور ایک دوسرے پر گرتے ‘ پڑتے ‘ چیختے ‘ چلاتے سب کے سب بھاگ نکلے۔ جب اس بڑے سانپ اژدھے نے فرعون کے شاہی تخت کی طرف رخ کیا تو فرعون مارے خوف کے تخت شاہی کے پیچھے چھپ گیا۔ کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سب سے پہلے اس مصیبت کو دور کرو جس نے پورے دربار میں تباہی مچارکھی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس اژدھے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ سانپ پھر سے عصا بن گیا۔ جب خوف جاتارہا تو فرعون اور اس کے درباری پھر سے جمع ہوگئے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے داہنے ہاتھ کو بغل میں ڈال کر نکالا تو آپ کا ہاتھ چاند سورج کی طرح چمکنے لگا۔ یہ وہ دومعجزات تھے جن کو فرعون اور درباریوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ مگر ان معجزات کو دیکھ کر بھی وہ ایمان نہ لائے تھے جس کے نتیجے میں اللہ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو اسی پانی میں غرق کردیا تھا جس پانی نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسری طرف حفاظت سے پہنچانے کا انتظام کردیا تھا۔ اہل مکہ سے کہا جارہا ہے کہ تم جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر روز کسی نہ کسی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کرتے ہو۔ کیا فرعون اور اس کے درباری بھی ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لائے تے ؟ البتہ اللہ نے جب جادوگروں کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی تو وہ اس ظالم فرعون کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور فرعون کی دھمکیوں سے ان کے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کفار مکہ کو بتایا جارہا ہے کہ جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والے صحابہ کرام (رض) اپنے ایمان کی طاقت سے پورے عرب کے کفار کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور صبر و تحمل سے ہر طرح کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ کفار مکہ کی دھمکیاں اور تکالیف ان کو راہ حق سے بھٹکا نہ سکیں گی جب ایمان دل میں پختہ ہو کر آجاتا ہے تو پھر اہل ایمان کے دل میں سوائے اللہ کے خوف کے کسی اور کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ اللہ نے کفار مکہ کے سامنے اس آئینہ کو رکھ کر فرمایا ہے کہ تم فرعون اور اس کے دربار یوں کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہو یا ان سچے مسلمانوں کی طرح جنہوں نے اپنے ایمان کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں ؟ ۔
فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ جمانے اور اپنے وزیروں، مشیروں پر اثر ڈالنے کے لیے کہا جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہا ہے اسے سن رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ فرعون اپنے وزیروں اور مشیروں سے اپنی ہاں میں ہاں ملوانا چاہتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وزیروں، مشیروں کو بولنے کا موقعہ دیے بغیر فرمایا کہ ہاں میں اس رب کی بات کرتا ہوں جس نے تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو پیدا کیا۔ ہوسکتا ہے فرعون یہ مغالطہ دینے میں کامیاب ہوجاتا کہ میں بھی اپنے ملک میں رہنے والوں کی ضروریات پوری کررہا ہوں اس لیے مجھے رب کہلوانے کا حق پہنچتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دلیل دے کر ثابت کیا میری مراد وہ رب ہے کہ جس نے تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کچھ پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرعون سے اس سوال کا جواب بھی نہ بن سکا۔ جس سے اس کی خفت میں مزید اضافہ ہوا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا رب ہے۔ ٢۔ سرکش قسم کے لوگ دلائل کو نہیں مانتے۔
قال فرعون و ما رب العلمین (٢٣) اس کا خانہ خراب ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے تم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اس انداز کا سوال ہے کہ گویا وہ رب العالمین کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں لیکن یہ غرور کا ایک انداز ہے۔ وہ گویا حضرت موسیٰ کے دعویٰ کو ایک عجیب و غریب دعویٰ تصور کر کے اسے ناممکن الوقوع تصور کرتا ہے اور یہ تاثر قائم کرتا ہے کہ ایسے دعویٰ پر تو بات کرنا بھی فضول ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح جواب دیتے ہیں کہ رب العالمین وہ ہے جس کی الوہیت تمام دکھائی دینے والی کائنات پر مشتمل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب۔
15:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دعوے میں کہا تھا ” انا رسول رب العلمین “ اب فرعون نے ان سے سوال کیا وہ ” رب العلمین “ کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں ؟ ” قال رب السموات الخ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” رب العلمین “ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا مالک ہے۔ اگر تم ماننا چاہو تو یہی کافی ہے کیونکہ جو ساری کائنات کا مالک ہو وہی کارساز، برکات دہندہ اور ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے۔