Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 27

سورة الشعراء

قَالَ اِنَّ رَسُوۡلَکُمُ الَّذِیۡۤ اُرۡسِلَ اِلَیۡکُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴿۲۷﴾

[Pharaoh] said, "Indeed, your 'messenger' who has been sent to you is mad."

فرعون نے کہا ( لوگو! ) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ ... He (Fir`awn ) said: ... إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman! meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] فرعون پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بجائے درباریوں کی طرف ہی متوجہ ہو کر کہنے لگا۔ اس شخص کی حقیقت دیکھو اور اس کا مطالبہ دیکھو۔ اگر یہ رسول ہے بھی تب بھی اس کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کس ہستی سے مخاطب ہے اور کیا مطالبہ کر رہا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ : موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیل اتنی واضح اور زبردست تھی کہ فرعون اس کا جواب دینا چھوڑ کر موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات پر حملہ آور ہوگیا اور کہنے لگا، یقیناً تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر حکمت و دانائی اور نور فراست کے آثار ان کے دیوانہ یا پاگل ہونے کی نفی کر رہے تھے، اس لیے فرعون نے ” لَمَجْنُوْن “ اور ” لام تاکید “ کے ساتھ انھیں مجنون قرار دیا کہ یقیناً یہ ضرور پاگل ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ۝ ٢٧ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ جُنون : حائل بين النفس والعقل، وجُنَّ فلان قيل : أصابه الجن، وبني فعله کبناء الأدواء نحو : زکم ولقي «1» وحمّ ، وقیل : أصيب جنانه، وقیل : حيل بين نفسه وعقله، فجن عقله بذلک وقوله تعالی: مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] ، أي : ضامّة من يعلمه من الجن، وکذلک قوله تعالی: أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] جنون ( ایضا ) جنوں ۔ دیونگی ۔ قرآن میں سے : ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] کہ ان کے رفیق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی طرح کا بھی ) جنون ۔۔ نہیں ہے ۔ اور دیوانگی کو جنون اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے دل اور عقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ جن فلان ۔ اسے جن لگ گیا ۔ امراض کے معانی میں دوسرے افعال کی طرح یہ بھی فعل مجہول ہی استعمال ہوتا ہے جیسے زکم ( اسے زکام ہوگیا ) لقی ( اے لقوہ ہوگیا ) حم ( اے بخار ہوگیا ) وغیرہ ۔ بعض نے کہا ہے جن فلان کے معنی ہیں ۔ اس کے قلب کو عارضہ ہوگیا اور بعض نے کہا کہ دیوانگی نے اس کی عقل کو چھپالیا اور آیت کریمہ :۔ مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] کے معنی ہیں کہ اسے وہ جن چمٹا ہوا ہے جو اسے تعلیم دیتا ہے اور یہی معنی آیت :۔ أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] کو بھلاک ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ۔ میں شاعر مجنون کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) فرعون نہ سمجھا اس نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ یہ تمہارا رسول مجنون معلوم ہوتا ہے ان حواریوں نے کہا کہ موسیٰ کس پروردگار کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اور کون ہمارا پروردگار ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (قَالَ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ) ” گویافرعون مسلسل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کے بجائے وہ پھر اپنے درباریوں سے ہی مخاطب ہوا ہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے کہ مجھے تو یہ صاحب جو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں مجنون لگتے ہیں ‘ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کی اس بات کو بھی نظر انداز کر کے اپنی گفتگو اسی جوش اور بےباکی کے ساتھ جاری رکھتے ہیں :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ’’ یہ بالکل دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:27) قال : ای قال فرعون۔ رسولکم میں ضمیر کم جمع مذکر حاضر۔ فرعون کے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

15 ۔ یعنی اس کا دماغ چل گیا ہے اس لئے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یا جو میں سوال کرتا ہوں اس کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری دلیل یہ دی کہ میں اس رب کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس دلیل کا صاف مطلب تھا کہ ” اے فرعون ! میں تجھے رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ “ جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ تو مصر کے لوگوں کا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے کہ تجھے اور تیرے آباء و اجداد کو کس نے پیدا کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو نے اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ ہی پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ فرعون اس دلیل کی وجہ سے جھنجھلاہٹ میں آکر اپنے درباریوں سے کہنے لگا کہ تمہاری طرف جو رسول بھیجا گیا وہ تو پاگل ہے۔ فرعون یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی شخص اتنی بےباکی کے ساتھ میرے سامنے بات کرسکتا اور مجھے ترکی بہ ترکی جواب دے سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسری دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو مشرق سے مغرب تک اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے۔ اس میں یہ بتانا مقصود ہے تو تو ایک ملک کا حکمران ہے یہ بتا مشرق سے لے کر مغرب تک کس کی بادشاہی ہے اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو۔ گویا کہ اس میں یہ جواب مضمر تھا مجھے پاگل کہنے والے ! حقیقتاً تو خود پاگل ہیں۔ کفار اور مشرکین کا شروع سے طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے خلاف جرأت سے بات کرنے والے کو پاگل کہتے ہیں۔ یہی وہ پہلا الزام ہے جو ہر پیغمبر کی ذات اقدس پر لگایا گیا۔ انبیاء کو پاگل کہنے کی چند وجوہات 1 ۔ اس شخص کی معاشرے میں بڑی تکریم تھی لیکن اس نے صرف اس دعوت کے بدلے اپنا احترام و مقام کھو دیا ہے۔ 2 ۔ یہ پاگل ہے کہ صرف توحید، توحید کی رٹ لگائے جا رہا ہے۔ 3 دعوت توحید کے مقابلے میں انبیاء کرام کو بڑی بڑی مراعات پیش کی گئیں مگر انہوں نے سب کو ٹھکرا دیا جس بنا پر لوگ انہیں پاگل کہتے تھے۔ 4 انبیاء کرام نے دنیا کی عزت کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی جس وجہ سے دنیا دار انہیں پاگل کہتے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ پہلے، موجود اور آنے والے لوگوں کا رب ہے۔ ٢۔ لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو پاگل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ ٣۔ عقل کی بات یہ ہے کہ عقیدہ توحید سمجھا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی سب کا رب ہے : ١۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : ١) ٢۔ اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٣۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : ٥١، مریم : ٣٦) ٤۔ اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و آسمان میں رزق دیتا ہے ؟ (الفاطر : ٢) ٥۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے کیا اس کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے ؟ (غافر : ٦٢) ٦۔ ہر چیز اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ (یٰسٓ : ٨٣) ٧۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا رب ہے۔ (الدخان : ٨) ٨۔ حضرت ہود نے فرمایا میں نے اپنے اللہ پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ (ہود : ٥٦) ٩۔ اللہ ہی مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازسمجھو۔ (المزمل : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (٢٧) یہ رسول جو بزعم خود تمہارے پاس بھیجا گیا ہے اس کا دماغ خراب معلوم ہوتا ہے۔ یہ شخص رسول خدا کے بارے میں یہ توہین آمیز ریمارکس اس لئے پاس کر رہا ہے کہ لوگوں پر اثر نہ ہوجائے اور یقین نہ کرلیں۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ حضرت فی اوالقعہ رسول بھیجے گئے۔ یہ بات وہ بطور مذاق کہتا ہے کہ یہ شخص جو باتیں کرتا ہے وہ تو ہمارے مستحکم نظام سے متصادم ہیں اور ہمارا نظام تو صدیوں سے چل رہا ہے جس کے مطابق ہم رب ہیں اور یہ کسی دوسرے رب العالمین کی طرف بلا رہا ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ہمارے آباء کا بھی رب العالمین ہے۔ لیکن اس مذاق اور استہزاء کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا اثر ہوگا۔ وہ تو اس پیغمبرانہ اعتماد سے بات کرتے ہیں۔ جس کے مقابلے میں بڑے بڑے جباروں کی ذہنی دنیا میں زلزلہ آجاتا ہے۔ چناچہ آپ فرماتے ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اس پر فرعون نے اپنے لوگوں سے کہا یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقینا ہم کنہ اور حقیقت دریافت کرتے ہیں رب العٰلمین کی اور یہ بالوجہ معرفت کرانی چاہتا ہے۔