Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 30

سورة الشعراء

قَالَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکَ بِشَیۡءٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۳۰﴾

[Moses] said, "Even if I brought you proof manifest?"

مو سٰی ( علیہ السلام ) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

(Musa) said: Even if I bring you something manifest! meaning, clear and definitive proof. قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301یعنی ایسی چیز یا معجزہ جس سے واضح ہوجائے کہ میں سچا اور واقعی اللہ کا رسول ہوں، تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہیں کرے گا ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : && اگر میں اللہ کی عطا کردہ نشانیاں تمہیں دکھلا کر یہ ثابت کردوں کہ میں فی الواقع اللہ رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں تو کیا پھر بھی تمہارا یہی فیصلہ ہوگا ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ : جب فرعون لاجواب ہوگیا اور قید خانے کی دھمکی دینے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے معجزے پیش کرنے کی پیش کش کی اور اس کے لیے نہایت نرم الفاظ اور نرم لہجہ اختیار فرمایا کہ ہوسکتا ہے وہ ان کے صدق کی واضح دلیل دیکھ کر ہی ایمان لے آئے۔ ” اَوَلَوْ جِئْتُكَ “ میں واؤ سے پہلے ایک لفظ محذوف ہے : ” أَتَفْعَلُ بِيْ ذٰلِکَ وَلَوْ جِءْتُکَ ۔۔ “ یعنی کیا اگر میں تمہارے سامنے بالکل واضح چیز پیش کر دوں، پھر بھی تم نہیں مانو گے اور میرے ساتھ یہی سلوک کرو گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ۝ ٣ ٠ۚ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ اگر میں اپنے دعوی پر کوئی صریح دلیل پیش کردوں تب بھی نہ مانے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 That is, "Will you still deny me and send me to prison, even if I present a convincing Sign to prove that I am really the Messenger of God, Who is Lord of all Creation , Lord of the heavens and the earth and Lord of the east and the west?

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :25 یعنی کیا تو اس صورت میں بھی میری بات ماننے سے انکار کرے گا اور مجھے جیل بھیجے گا جبکہ میں اس امر کی ایک صریح علامت پیش کر دوں کہ میں واقعی اس خدا کا فرستادہ ہوں جو رب العالمین ، رب السمٰوات و الارض اور رب المشرق و المغرب ہے ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:30) اولو جئتک بشیء مبین۔ میں واؤ حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہامیہ داخل کیا گیا ہے۔ ای اتفعل ذلک ولو جئتک بشیء مبین۔ کیا تو پھر بھی (میرے ساتھ) ایسا کرے گا (یعنی قید کرے گا) جب کہ میں تیرے سامنے ایک کھلی ہوئی چیز (یعنی معجزہ) پیش کروں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ تو کیا پھر بھی تو میری بات نہ مانے گا اور مجھے قید کرے گا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال اولوجئتک بشیء مبین (٣٠) ” موسیٰ نے کہا ” اگرچہ میں لے آئوں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی۔ “ یعنی اگر میں اپنی رسالت پر ایک صریح اور واضح دلیل بھی پیش کر دوں تو بھی میری یہی سزا ہے کہ جیل جائوں۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعون کو ، اس کے سرداروں کے سامنے جو یہ تمام گفتگو سنا رہے تھے ، سخت مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر وہ حضرت موسیٰ کی بات نہیں سنتا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ فرعون لاجواب ہوگیا حالانکہ وہ کہہ چکا ہے کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔ چناچہ مجبور ہو کر اس نے ہا اچھا لائو دلیل۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ناصح مشفق تھے اور چاہتے تھے کہ فرعون ایمان لے آئے اس لیے اس کی ہر اوچھی، غیر معقول اور متکبرانہ بات کا معقول اور حکیمانہ جواب دیا اور کسی موقع پر بھی متانت کا دامن نہ چھوڑا۔ فرعون کی دھمکی کے جواب میں کس قدر محکم بات ارشاد فرمائی۔ کیا اگر میرے پاس اپنے دعوے پر واضح دلائل موجود ہوں تب بھی تم مجھے قید کر ڈالو گے اور ان دلائل میں غور وفکر کر کے میری صداقت کو جانچنے کی کوشش نہیں کرو گے۔ والمعنی اتفعل ذلک ولو جئتک بحجۃ بینۃ وانما قال ذلک موسیٰ لان من اخلاق الناس السکون الی الانصاف والاجابۃ الی الحق بالبیان (معالم و خازن ج ص 96) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا اگر میں کوئی صاف وصریح چیز تیرے پاس لایا ہوں اور کوئی صحیح دلیل پیش کروں یعنی میں اگر صاف اور صریح دلیل پیش کروں کیا تب بھی میں قید خانے کیا مستحق قرار دیا جائوں گا۔