Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 4

سورة الشعراء

اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۴﴾

If We willed, We could send down to them from the sky a sign for which their necks would remain humbled.

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہوجاتیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility. meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says: وَلَوْ شَأءَ رَبُّكَ لامَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُوْمِنِينَ And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers. (10:99) وَلَوْ شَأءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah... (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says: وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہوجاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لئے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیاء و رسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] اگر ان کا ایمان لانا ہی مطلوب مقصود ہوتا تو یہ کام یوں بھی ہوسکتا تھا کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نازل کردیتے۔ جس کی بنا پر یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔ مگر یہ بات ہماری مشیت کے خلاف ہے۔ ایسا جبری ایمان لانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہمیں مطلوب ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ انھیں راہ ہدایت سمجھا دینے کے بعد کون شخص اپنی عقل وتمیز کو کام میں لاکر اور اپنے ارادہ اختیار سے ایمان لاتا ہے۔ اور یہی چیز انسان کی پیدائش کا مقصود اصلی ہے ورنہ اللہ انسان کو بھی دوسری مخلوق کی طرح پیدا کرسکتا تھا۔ جو اللہ کے سامنے ہر حال میں سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ ۔۔ : آسمان سے نشانی اتارنے سے مراد وہ معجزے دکھانا ہے جن کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ (سعدی) یعنی اگر ہم چاہیں تو آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، جس کے آنے کے بعد ان کے لیے مانے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، کیونکہ دنیا امتحان کا گھر ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اپنے اختیار سے لائے، نہ کہ کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت۔ اس لیے ہم نے انبیاء و رسل بھیجے، صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ حقیقت قرآن میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (٩٩) ، ہود (١١٨، ١١٩) اور غاشیہ (٢١، ٢٢) اور ہم اس لیے بھی نشانی نہیں اتارتے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو بن دیکھے ہو، جب غیب ہی سے پردہ اٹھ گیا، پھر کوئی ایمان لائے بھی تو اسے کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ ) [ المؤمن : ٨٥ ] ” پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔ “ اور دیکھیے سورة حجر (٦ تا ٨) اور فرقان (٢١، ٢٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ If We so will, We can send down to them a sign from the sky before which their necks will stay bent in submission. - 26:4 Allamah Zamakhshari has explained that the real intent of the text is to say that the disbelievers themselves will stay in submission, but the act of submission is attributed in the verse to their |"necks|", so that the initial object of submission is pinpointed, because yielding or bowing in humility initially appears on the neck. The substance of the message of this verse is that Allah Ta’ ala also has full authority and control to evince any sign of His Oneness and Omnipotence which brings forth the religious injunctions and the Divine Truth in such a self-evident manner that no one would have the ability to reject it. But the wisdom demands that these injunctions and the understanding of God are not made self-evident but remain visionary, so that they are dependent on deliberations and pondering. This pondering and deliberation is actually the test of man on which the reward and punishment is adjudged. Acceptance of self-evident things is a natural and involuntary phenomenon which lacks the quality of deliberate obedience. (Qurtubi)

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ ، علامہ زمخشری نے فرمایا کہ اصل کلام فظلوا لھا خاضعین ہے یعنی کفار اس بڑی نشانی کو دیکھ کر تابع ہوجاویں اور جھک جائیں لیکن یہاں اعناق کا لفظ یہ ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ موضوع خضوع ظاہر ہوجائے کیونکہ جھکنا وغیرہ اور عاجزی کرنا سب سے پہلے گردن پر ظاہر ہوتا ہے۔ مضمون اس آیت کا یہ ہے کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ اپنی توحید اور قدرت کاملہ کی کوئی نشانی ظاہر کردیں جس سے احکام شرعیہ اور حقائق الہیہ بدیہی ہو کر سامنے آجائیں اور کسی کو مجال انکار نہ رہے مگر حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ یہ احکام و معارف بدیہی نہ ہوں بلکہ نظری رہیں کہ غور و فکر پر موقف رہیں اور یہی غور و فکر انسان کی آزمائش ہے اسی پر ثواب و عذاب مرتب ہے۔ بدیہی چیزوں کا اقرار تو ایک طبعی اور ضروری امر ہے اس میں تعبد اور اطاعت کی شان نہیں (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْہِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِيْنَ۝ ٤ شاء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی الفاعل کقوله : فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] . والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) «3» ، والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادة الإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» ، وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترک ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ما سوی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجودات اور معدومات سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ شے صرف موجود چیز کو کہتے ہیں ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق شے کا لفظ استعمال ہو تو یہ بمعنی شاء یعنی اسم فاعل کے ہوتا ہے ۔ اور غیر اللہ پر بولا جائے تو مشیء ( اسم مفعول ) کے معنی میں ہوتا ہے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ۔ میں لفظ شی چونکہ دوسرے معنی ( اسم مفعول ) میں استعمال ہوا ہے اس لئے یہ عموم پر محمول ہوگا اور اس سے کسی قسم کا استثناء نہیں کیا جائیگا کیونکہ شی مصدر بمعنی المفعول ہے مگر آیت کریمہ : ۔/ قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر ( قرین انصاف ) کس کی شہادت ہے میں شے بمعنی اسم فاعل ہے اور اللہ تعالیٰ کو اکبر شھادۃ کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری ایت ۔ فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] ( تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے ) میں ذات باری تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے ۔ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ عنق العُنُقُ : الجارحة، وجمعه أَعْنَاقٌ. قال تعالی: وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ( ع ن ق ) العنق ۔ گردن جمع اعناق ۔ قرآن میں ہے : وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/اور ہم نے پر انسان کے اعمال کو ( یہ صورت کتاب ) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے ۔ خضع قال اللہ : فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ [ الأحزاب/ 32] ، الخضوع : الخشوع، وقد تقدّم، ورجل خُضَعَة : كثير الخضوع، ويقال : خَضَعْتُ اللحم، أي : قطعته، وظلیم أَخْضَعُ : في عنقه تطامن ( خ ض ع ) الخضوع کے معنی خشوع یعنی جھکنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ رجل خُضَعَة : وہ شخص جو ہر ایک کے سامنے عاجزی اور انکساری ظاہر کرتا پھرے ۔ خضعت اللحم ۔ میں نے گوشت کاٹا ۔ ظلیم اخضع شتر مرغ جس کی گردن میں پستی اور جھکاؤ ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) کیوں کہ آپ قریش کے ایمان لانے کے بہت خواہش مند تھے اور آپ ان کے ایمان لانے کو پسند فرماتے تھے، اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک بڑی نشانی نازل کردیں کہ پھر ان کی گردنیں ان نشانی سے جھک جائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ) ” انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 That is, "It is not at all difficult for Allah to send down a Sign which would make all the disbelievers yield and submit. If, however, He does not send one, it does not mean that such a thing is beyond His powers, but the reason is that . belief under compulsion is not acceptable to Him. Allah wants that people should use their common-sense and recognize the Truth through the verses of the Divine Book and the Signs which are scattered all over the universe and are found even in their ownselves. Then, when their hearts are satisfied that the message of the Prophets contains the Truth, and the beliefs and the creeds which are opposed to it, are false, they should willingly give up falsehood and adopt the Truth. This voluntary belief, acceptance of the Truth and rejection of falsehood, is what Allah demands from man. It is for this reason that Allah has bestowd upon man choice and free will, and freedom to follow any way, right or wrong, that he pleases. For the same reason He has placed in his nature both the tendencies, towards good and towards evil, and opened up before him both the ways, to piety and to sin. For the same purpose He has given Satan the freedom and respite to mislead him and has made arrangements of Prophethood, Revelation and invitation to goodness to guide him to the right way, and has placed man on trial to see whether he adopts the way of belief and obedience or of disbelief and sin. On the other hand, if Allah had adopted a method of coercing people to believe and obey, it would have defeated the very purpose of the trial and test. Then there was no need to send down the Signs for the purpose, but He would have created man with a pure nature, without any inclination for evil, disbelief and sin, and made him obedient by birth like the angels. This has been referred at several places in the Qur'an, for instance in Yunus: 99: `Had your Lord willed aII the dwellers of the earth would have believed in Him;" and in Hud: 118: '"Your Lord could have made mankind one community had He so willed, but now they will continue to follow different ways, but only those on whom Allah has His mercy (escape wrong ways). It will be so because He has created them for this (very freedom of choice and action)." For further explanation, see E.N.'s 101,102 of Yunus and E.N. 116 of Hud.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :3 یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کر دینا جو تمام کفار کو ایمان و طاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے ، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ان آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہیٰ میں پیش کی گئی ہیں ، جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں ۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے ، اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں ، تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں ۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے ۔ اسلیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے ۔ اسی بنا پر اس نے انسان کو یہ قدرت عطا کی ہے کہ صحیح اور غلط ، جس راہ پر بھی وہ جانا چاہے جاسکے ۔ اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں ، فجور اور تقویٰ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں ، شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے ، نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لیے قائم کیا ہے ، اور انسان کو انتخاب راہ کے لیے ساری مناسب حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان و طاعت کا ۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کر دینے والی ہو ۔ جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کی کیا حاجت تھی ، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر ، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا ، بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرماں بردار ہوتا ۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً فرمایا : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعاً اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّیٰ یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ O ۔ اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے ۔ اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے ؟ ( یونس ، آیت 99 ) ۔ اور : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ۔ اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا ۔ وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے ( اور بے راہ رویوں سے ) صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے ۔ اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا ۔ ( ہود ۔ آیت 119 ) ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ( یونس ، حواشی 101 ۔ 102 ۔ ہود ، حاشیہ 116 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہئے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:4) نشائ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع متکلم۔ شاء یشاء (باب فتح) شیء مشیئۃ مصدر (اگر) ہم چاہیں۔ ننزل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ جمع متکلم ۔ ہم اتاردیں۔ ہم نازل کردیں۔ فظلت۔ فاء تعقیب کے لئے ہے۔ ظلت۔ افعال ناقصہ میں سے ہے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے بمعنی صار۔ وہ ہوگیا۔ آیا ہے فظلت پس وہ ہوگئی۔ اعناقھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گردنیں ۔ اعناق کا واحد عنق وعنق وعنق ہے۔ عنق بمعنی رئیس لوگ۔ لوگوں کی جماعت بھی ہے۔ لہا : ظلت کا صلہ ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایۃ کی طرف راجع ہے۔ خاضعین خضوع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ الخضوع کے معنی خشوع یعنی جھکنے کے ہیں۔ رجل خضعۃ وہ شخص جو ہر ایک کے سامنے عاجزی اور انکساری ظاہر کرنا پھرے۔ خضع یخضع (فتح) خضوع وخضع وخضعان عاجزی کرنا۔ فروتن ہونا۔ سرفگندہ ہونا۔ خاضعین عاجزی کرنے والے۔ جھکنے والے۔ فظللت اعناقھم لہا خضعین : ظلت فعل ناقص اعناقھم مضاف مضاف الیہ مل کر ظلت کا اسم لہا ظلت کا صلہ۔ خضعین خبر۔ اگر اعناق بمعنی رؤسا لیا جائے تو یہ ترکیب کسی تاویل یا تشریح کی محتاج نہیں ۔ ورنہ خبر خضعۃ چاہیے تھی اور ایک قرات اس طرح بھی ہے فظلت اعناقھم لہا خاضعۃ لیکن اس کی تاویل طویل ہے ۔ ملاحظہ ہو ضیاء القرآن حاشیہ آیت ہذا۔ پہلی صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہم افر چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی نازل کریں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے بالکل جھک جائیں ۔ دوسری صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی نازل کریں پھر ان کے اکابر عاجز و درماندہ ہوکر اس کے سامنے جھک جائیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ یعنی اس پر ایمان لانے کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہے۔ لین ہم ایسا نہیں کرتے کیونکہ دنیا دار ابتلا ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اختیاری طور پر لائے نہ کہ کسی دبائو یا مجبوری کے تحت۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کتاب مبین کی واضح آیات اور ٹھوس دلائل کے باوجود لوگ ایمان نہیں لاتے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےمثال جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس اور بیّندلائل کے باوجود۔ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک سے ایک بڑھ کر معجزہ لانے کا مطالبہ کرتے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایسا معجزہ نازل کریں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں۔ اور یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کو جبراً ایمان لانے پر مجبور کرے۔ اس نے لوگوں کے سامنے کتاب مبین رکھ دی ہے۔ جس کی تلاوت کرنے سے حق اور باطل واضح ہوجاتا ہے۔ اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رغبت سے حق قبول کرتے ہیں یا نخوت سے اسے مسترد کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی منکرین حق کے سامنے کوئی نئی دلیل پیش کی جاتی ہے تو وہ اسے استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں۔ اگر ان کا یہی وطیرہ رہا تو وقت دور نہیں جب ان پر ایسے حالات وارد ہوں گے۔ جن سے حق کی تکذیب اور اسے استہزاء کا نشانہ بنانے والوں کو نیست ونابود کردیا جاتا ہے۔ مسائل ١۔ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ حق بات سے اعراض کرتی رہی ہے۔ ٢۔ انبیاء (علیہ السلام) کو مذاق کرنے والوں کا ہمیشہ سے برا انجام ہوا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایک ایسی بڑی نشانی نازل کردیں جس نشانی کے سامنے ان کی گردنیں پست ہوکر رہی جائیں یعنی ہم کوئی ایسا زبردست نشان آسمان سے نازل کردیں کہ یہ بےبس اور لاچار ہوجائیں اور ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں یعنی چونکہ ایمان قبول کرنے میں جبرو اکراہ غیر صحیح اور غیر مفید ہے بلکہ ان کو دلائل سے سمجھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایمان کا قبول کرنا بندے کے اختیار میں رہے کیونکہ مقصود یہی ہے اور ایسی کوئی نشانی جس سے بندہ مجبور اور ایمان قبول کرنے پر بےبس ہوجائے تو اس طر اس کا اختیار ہی سلب ہوجائے گا جو مقصد کے خلاف ہے۔