3 That is, "It is not at all difficult for Allah to send down a Sign which would make all the disbelievers yield and submit. If, however, He does not send one, it does not mean that such a thing is beyond His powers, but the reason is that . belief under compulsion is not acceptable to Him. Allah wants that people should use their common-sense and recognize the Truth through the verses of the Divine Book and the Signs which are scattered all over the universe and are found even in their ownselves. Then, when their hearts are satisfied that the message of the Prophets contains the Truth, and the beliefs and the creeds which are opposed to it, are false, they should willingly give up falsehood and adopt the Truth. This voluntary belief, acceptance of the Truth and rejection of falsehood, is what Allah demands from man. It is for this reason that Allah has bestowd upon man choice and free will, and freedom to follow any way, right or wrong, that he pleases. For the same reason He has placed in his nature both the tendencies, towards good and towards evil, and opened up before him both the ways, to piety and to sin. For the same purpose He has given Satan the freedom and respite to mislead him and has made arrangements of Prophethood, Revelation and invitation to goodness to guide him to the right way, and has placed man on trial to see whether he adopts the way of belief and obedience or of disbelief and sin. On the other hand, if Allah had adopted a method of coercing people to believe and obey, it would have defeated the very purpose of the trial and test. Then there was no need to send down the Signs for the purpose, but He would have created man with a pure nature, without any inclination for evil, disbelief and sin, and made him obedient by birth like the angels. This has been referred at several places in the Qur'an, for instance in Yunus: 99: `Had your Lord willed aII the dwellers of the earth would have believed in Him;" and in Hud: 118: '"Your Lord could have made mankind one community had He so willed, but now they will continue to follow different ways, but only those on whom Allah has His mercy (escape wrong ways). It will be so because He has created them for this (very freedom of choice and action)." For further explanation, see E.N.'s 101,102 of Yunus and E.N. 116 of Hud.
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :3
یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کر دینا جو تمام کفار کو ایمان و طاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے ، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ان آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہیٰ میں پیش کی گئی ہیں ، جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں ۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے ، اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں ، تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں ۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے ۔ اسلیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے ۔ اسی بنا پر اس نے انسان کو یہ قدرت عطا کی ہے کہ صحیح اور غلط ، جس راہ پر بھی وہ جانا چاہے جاسکے ۔ اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں ، فجور اور تقویٰ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں ، شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے ، نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لیے قائم کیا ہے ، اور انسان کو انتخاب راہ کے لیے ساری مناسب حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان و طاعت کا ۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کر دینے والی ہو ۔ جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کی کیا حاجت تھی ، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر ، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا ، بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرماں بردار ہوتا ۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً فرمایا : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعاً اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّیٰ یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ O ۔ اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے ۔ اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے ؟ ( یونس ، آیت 99 ) ۔ اور : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ۔ اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا ۔ وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے ( اور بے راہ رویوں سے ) صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے ۔ اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا ۔ ( ہود ۔ آیت 119 ) ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ( یونس ، حواشی 101 ۔ 102 ۔ ہود ، حاشیہ 116 ) ۔