Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 9

سورة الشعراء

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹﴾٪  5

And indeed, your Lord - He is the Exalted in Might, the Merciful.

اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ ... And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, means, the One Who has power over all things, to subdue and control them, ... الرَّحِيمُ the Most Merciful. means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم بھی ہے اس لئے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مؤاخذہ کرتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] یعنی اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایسے ضدی اور معاند لوگوں کو فوراً صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ مگر چونکہ وہ رحیم بھی ہے۔ لہذا وہ انھیں فوراً تباہ نہیں کردیتا بلکہ سمجھنے، سوچنے اور سنبھلنے کے لئے مہلت دیئے جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : ” اِنَّ “ کے اسم ” رَبَّكَ “ اور خبر ” الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ “ دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے اور درمیان میں ” لَھُو “ ضمیر لانے سے قصر میں مزید زور پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی تیرا رب ہی ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے سوا کوئی غالب نہیں، وہ زبردست قوت والا ہے، جو چاہے کرسکتا ہے، ان کی نافرمانیوں پر انھیں آنکھ جھپکنے میں پکڑ سکتا ہے، مگر وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے، توبہ کرنے پر عمر بھر کی نافرمانیوں کو معاف کردیتا ہے۔ اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے موقع پر موقع دیے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝ ٩ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ (وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) ” یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ” العزیز “ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت ٤ میں فرمایا گیا ہے : (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ) ” اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں “۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 That is, "He has the power and ability to annihilate completely anyone whom He wills to punish, but it is His mercy that He dces not hasten to punish the wrung-doer, but gives him respite for years and centuries to allow him time to think, understand and mend his ways, and is ever ready to forgive the sins of a lifetime if the sinner offers repentance but once."

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :6 یعنی اس کی قدرت تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے ۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا ۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے ، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے ، اور عمر بھر کی نا فرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کر دینے کے لیے تیار رہتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:9) العزیز۔ زبردست۔ غالب ۔ گرامی قدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

11 ۔ یعنی وہ زبردست قوت والا ہے۔ وہ انہیں جو چاہے اور جب چاہے سزا دے سکتا ہے۔ مگر وہ رحم والا بھی ہے۔ لہٰذا انہیں سنبھلنے کے لئے موقع پر موقع دیئے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔ اس کے بعد عبرت کے لئے چند واقعات بیان فرمائے جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کی تکذیب و استہزا کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے آیت سابقہ ” فسوف یاتیھم انبا ما کانو بہ یستھزٔون “ کی تقریر و تائید مقصود ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اس کی رحمت عامہ دنیا میں کفار سے بھی متعلق ہے، اس کا اثر یہ ہے کہ ان کو مہلت دے رکھی ہے، ورنہ کفر یقینا مزموم اور مقتضی عذاب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

و……الرحیم (٩) ۔ “ یعنی وہ زبردست ہے اور قسم قسم کی معجزانہ مخلوق کی پیدائش ، قسم قسم کے معجزات دکھانے اور مکذبین اور منکرین کو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور وہ الرحیم بھی ہے کہ وہ اپنی کتاب میں اپنی مخلوقات میں سے۔ ان عجائب وغرائب کی کو پیش کرتا ہے اور دلائل و معجزات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اس طرح جن کا دل مائل بہدایت ہوتا ہے وہ ایمان لے آتے ہیں اور پھر وہ مکذبین کو بھی مہلت دیتا ہے اور جب تک ان کے پاس کوئی واضح پیغام دینے والا نہیں بھیجتا۔ اس وقت تک سزا بھی نہیں دیتا۔ حالانکہ اس کائنات کے نشانات میں بہت ہی وافر مقدار میں چیزیں موجود ہیں۔ مزید کسی دلیل وبرہان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ضمیر کو روشن کرنے کے لئے ، ان کو بصیرت فراہم کرنے کے لئے اور ان کو اچھے انجام کی بشارت دینے کے لئے اور برے انجام سے خبردار کے لئے رسول بھی بھیجتا ہے اس لئے وہ رحیم ہے کریم ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور آپ کا رب عزیز ہے غلبہ والا ہے) منکرین دین اور معاندین یہ نہ سمجھیں کہ ہم یوں ہی انتقام اور عذاب سے چھوٹے ہوئے رہیں گے نیز اللہ تعالیٰ رحیم بھی ہے جو لوگ ابھی کفر و شرک سے باز آجائیں ایمان قبول کرلیں ان پر رحم فرمائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ تیرا پروردگار بڑا زبردست ہے وہ جب چاہے منکرین کو پکڑ لے، لیکن وہ رحیم و مہربان ہے اس لیے مجرموں کو مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں سوچنے سمجھنے کا مزید موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ کافروں سے انتقام لینے میں زبردست اور توبہ کرنے والوں کے لیے مہربان ہے۔ (مظہری) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اور بیشک آپ کا پروردگار ہی کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ جب ان صاف اور کھلے دلائل پر توجہ نہیں کرتے اور ان میں کے اکثر ایمان نہیں لاتے تو معلوم ہوتا ہے سخت معاند اور متعصب ہیں پھر ان کے پیچھے غم سے جان دینے میں کیا فائدہ اور آپ کا پروردگار کمال قوت کا مالک ہے چاہے تو ابھی ان کی گرفت کرسکتا ہے لیکن قوت کے ساتھ بڑی رحمت والا بھی ہے اس لئے عقوبت میں تعجیل نہیں کرتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نہ ماننے پر جلد عذاب نہیں بھیجتا