Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 15

سورة النمل

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ عِلۡمًا ۚ وَ قَالَا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّنۡ عِبَادِہِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵﴾

And We had certainly given to David and Solomon knowledge, and they said, "Praise [is due] to Allah , who has favored us over many of His believing servants."

اور ہم نے یقیناًداؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا اور دونوں نے کہا ، تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Dawud and Suleiman (peace be upon them), the organization of Suleiman's Troops and His passage through the Valley of the Ants Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Suleiman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says: وَلَقَدْ اتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُوْمِنِينَ And indeed We gave knowledge to Dawud and Suleiman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!"

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا ۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی ۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی ۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے ۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں ۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی ۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے ۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا ۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے ۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی ۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں ۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے ۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی ۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کردی تھیں ۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر ۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا ۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی ۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح ۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے ۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے ۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے ۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے ۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا ۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام چلے ۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا ۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہاکہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی ۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تونے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ ۔ نیز جو نعمتیں تونے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں ۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی ۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں ۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پردار تھی ۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی ۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آگئی ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے ۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے ۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا ۔ ہلاک کردیا ۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

151سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصرا قصہ بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داؤد (علیہ السلام) و سلیمان (علیہ السلام) کا یہ قصہ ہے انبیا (علیہم السلام) کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کی صنعت کا علم اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جانوروں کی بولیوں کا علم عطا کیا گیا تھا ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] حضرت داؤد (علیہ السلام) کے چھ اور بھائی تھے آپ سب سے چھوٹے تھے۔ ریوڑ چڑایا کرتے تھے۔ پست قامت اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ تیر اندازی اور نشانہ بازی میں خوب ماہر تھے اور یہ آپ کی پیشہ ورانہ ضرورت تھی۔ جالوت سے لڑائی کے وقت یہ طالوت کے لشکر میں محض ایک سپاہی تھے۔ نشانہ بازی میں مہارت کی بنا پر آپ نے تلافن میں ایک پتھر کا نشانہ بنا کر جالوت کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ بعد طالوت نے اپنی بیٹی کا ان سے نکاح کردیا۔ اسی طرح طالوت کے بعد بادشاہی بھی ان کی طرف منتقل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور یہ تفصیل سورة بقرہ کی آیت نمبر ٢٥١ کے تحت پہلے گزر چکی ہے۔ پھر ان کی اولاد انیس بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت سلیمان ہی سب سے چھوٹے تھے اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہی کے لئے انھیں ہی منتخب فرمایا تھا۔ [١٥] علم سے مراد علم شریعت بھی ہوسکتا ہے۔ حکمرانی اور جہاں بانی کا علم بھی۔ لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا علم بھی اور یہ علم بھی اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے مزید انعامات سے نوازے۔ مندرجہ بالا مفاہیم میں سے اس مقام پر چوتھا مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا : موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ملتا ہے جنھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کیا، جیسے ابو لہب اور ابوجہل وغیرہ اور سلیمان (علیہ السلام) اور ملکہ سبا کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ہے جو حق واضح ہونے پر ایمان لے آئے اور فرعون کے طرز عمل کے برعکس ان کی سلطنت ان کے لیے حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنی۔ یہی حال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والوں کا تھا۔ یمن کا بادشاہ نجاشی ہو یا سرداران قریش میں سے ایمان لانے والے ہوں، یا مدینہ کے اوس و خزرج کے سردار۔ ” عِلْماً “ کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ مراد پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ” ہمیں ان دو پیغمبروں کے سوا کسی کے متعلق معلوم نہیں کہ ان کو یہ علم دیا گیا ہو۔ “ اور یہ تنوین تعظیم کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یعنی ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان علم عطا کیا، جس میں نبوت و حکمت، قضا و سلطنت، پرندوں کی بولی اور سائنس کے علوم شامل تھے۔ جن کی بدولت ان کے زمانے میں ان کی سلطنت برّی، بحری اور فضائی اعتبار سے اپنے دور کی سب سے طاقت ور حکومت تھی، بلکہ سلیمان (علیہ السلام) کو تو وہ حکومت عطا کی کہ قیامت تک آنے والی کوئی سلطنت بھی ان کی سلطنت جیسی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ) [ صٓ : ٣٥ ] ” اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ “ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۔۔ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا حصہ تھا کہ ان تمام نعمتوں پر مغرور ہونے کے بجائے انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور اس کا شکر ادا کیا۔ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰي كَثِيْرٍ ۔۔ : ” جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی “ سب پر فضیلت کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا تھا اور داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) جو موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر چلتے تھے، یہ جانتے ہوئے تمام بندوں پر فضیلت کا دعویٰ نہیں کرسکتے تھے اور اس لیے کہ تمام اولاد آدم پر فضیلت تو صرف خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو حاصل ہے، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ أَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ ) [ مسلم، الفضائل، باب تفضیل نبینا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی جمیع الخلائق۔۔ : ٢٢٧٨ ] ” میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی اور پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا And surely We gave knowledge to Dawud and Sulaiman. (27:15) The knowledge given to Sayyidna Dawud and Sulaiman (علیہما السلام) was obviously the special knowledge normally given to the prophets about their functions and obligations as prophets, but at the same time it may also include other sciences and arts, as Sayyidna Dawud (علیہ السلام) was given the art of making armors. Sayyidna Dawud and Sulaiman (علیہما السلام) enjoyed a special position among the prophets in that they were also bestowed with the empire along with the prophethood. The empire was of a very special nature in that they ruled over not only the humans but also the Jinns and animals. While relating all these graces, knowledge is mentioned first, which is a clear hint that knowledge is superior and paramount among them all. (Qurtubi)

خلاصہ تفسیر اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو (شریعت اور حکمرانی کا) علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے (ادائے شکر کے لئے) کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت دی اور داؤد (علیہ السلام کی وفات کے بعد ان) قائم مقام سلیمان (علیہ السلام) ہوئے (یعنی ان کو سلطنت وغیرہ ملی) اور انہوں نے (اظہار شکر کے لئے) کہا کہ اے لوگو : ہم کو پرندوں کی بولی (سمجھنے) کی تعلیم کی گئی ہے (جو دوسرے بادشاہوں کو حاصل نہیں) اور ہم کو (سامان سلطنت کے متعلق) ہر قسم کی (ضروری) چیزیں دی گئی ہیں ( جیسے فوج، لشکر مال اور آلات جنگ وغیرہ) واقعی یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے اور سلیمان (علیہ السلام کے پاس سامان سلطنت بھی عجیب و غریب تھا چناچہ ان) کے لئے (جو) ان کا لشکر جمع کیا گیا (تھا ان میں) جن بھی (تھے) اور انسان بھی اور پرندے بھی (جو کسی بادشاہ کے تابع نہیں ہوتے) اور (پھر تھے بھی اس کثرت سے کہ) ان کو (چلنے کے قوت) روکا (جایا کرتا) تھا (تاکہ متفرق نہ ہوجاویں پیچھے والے بھی پہنچ جاویں یہ بات عادة نہایت کثرت میں ہوتی ہے کیونکہ تھوڑے مجمع میں تو اگلا آدمی خود ہی ایسے وقت رک جاتا ہے اور بڑے مجمع میں اگلوں کو پچھلوں کی خبر بھی نہیں ہوتی اس لئے اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تشریف لئے جاتے تھے) یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے ایک میدان میں آئے تو ایک چیونٹی نے (دوسری چیونٹیوں سے) کہا کہ اے چیونٹیو، اپنے اپنے سوراخوں میں جا گھسو، کہیں تم کو سلیمان اور ان کا لشکر بیخبر ی میں کچل نہ ڈالے سو سلیمان (علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور) اس کی بات سے (متعجب ہو کر کہ اس چھوٹے وجود پر یہ ہوشیاری اور احتیاط) مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور (یہ دیکھ کر کہ میں اس کی بولی سمجھ گیا جو کہ معجزہ ہونے کی وجہ سے ایک نعمت عظیمہ ہے اور نعمتیں بھی یاد آگئیں اور) کہنے لگے کہ اے میرے رب مجھ کو اس پر ہمیشگی دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں (یعنی ایمان اور علم سب کو اور نبوت خود کو اور اپنے والد داؤد (علیہ السلام) کو) اور (اس پر بھی ہمیشگی دیجئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں (یعنی عمل مقبول ہو کیونکہ اگر حقیقت میں عمل نیک ہو اور آداب و شرائط کی کمی کی وجہ سے مقبول نہ ہو وہ مقصود نہیں ہے) اور مجھ کو اپنی رحمت (خاصہ) سے اپنے (اعلی درجہ کے) نیک بندوں (انبیاء) میں داخل رکھئے (یعنی قرب کو بعد میں تبدیل نہ کیجئے۔ ) معارف و مسائل وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا، ظاہر ہے کہ اس سے مراد علوم انبیاء ہیں جو نبوت و رسالت سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کے عموم میں دوسرے علوم و فنون بھی شامل ہوں تو بعید نہیں جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زرہ سازی کی صنعت سکھا دی گئی تھی۔ حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) زمرہ انبیاء میں ایک خاص امتیاز یہ رکھتے ہیں کہ ان کو نبوت و رسالت کے ساتھ سلطنت بھی دی گئی تھی اور سلطنت بھی ایسی بےنظیر کہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ جنات اور جانوروں پر بھی ان کی حکمرانی تھی ان سب عظیم الشان نعمتوں سے پہلے حق تعالیٰ کی نعمت علم کا ذکر فرمانے سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ نعمت علم تمام دوسری نعمتوں سے فائق اور بالاتر ہے۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا۝ ٠ۚ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰي كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ١٥ داود داود اسم أعجميّ. ( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے ) علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشنار پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پرند کو ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو شریعت اور حکومت کا علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور نبوت کے ذریعے اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی اور داؤد (علیہ السلام) کے نو لڑکے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ” وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 That is, the knowledge of the Reality, the knowledge that whatever they have is not theirs but the gift of Allah and whatever rights they have been granted over those things should be used strictly according to Allah's will, for they will be held answerable before Allah, the real Owner, for the right and wrong use of those rights. This knowledge is the opposite of the ignorance in which Pharaoh was involved. The type of character built on the ignorance has been presented in the preceding verses. Now, in the following verses, the model of the character built on the knowledge is being presented. The sort of kingdom, wealth, power and grandeur were common on both the sides. The Pharaoh had been given these as well as the Prophets David and Solomon. But the distinction of the ignorance and the knowledge built and moulded them into entirely different personalities. 19 That is, "There were other believing, servants as well, who could be blessed with vicegerency. But it is only Allah's favour, not due to any special quality in ourselves, that He has chosen us to be rulers over this kingdom."

سورة النمل حاشیہ نمبر :18 یعنی حقیقت کا علم ۔ اس بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے اور اس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے ، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہیں مالک حقیقی کے حضور جواب دہی کرنی ہے ، یہ علم اس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا ، اس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی اس کا نمونہ وپر مذکور ہوا ، اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتاہے ، بادشاہی ، دولت ، حشمت ، طاقت ، دونوں طرف یکساں ہے ، فرعون کو بھی یہ ملی تھی اور داؤد و سلیمان علیہما السلام کو بھی ۔ لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کردیا ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر :19 یعنی دوسرے مومن بندے بھی ایسے موجود تھے جن کو خلافت عطا کی جاسکتی تھی ، لیکن یہ ہماری کو٤ی ذاتی خوبی نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس مملکت کی فرمانروائی کے لیے منتخب فرمایا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٥ تا ٢٦ بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا باقی رہ جائے گی اس لیے کہ انسان کی بولی کو تو ہر انسان سمجھ سکتا ہے غرض صحیح بات یہی ہے کہ دنیا کے پیدائش سے آج تک چرند وپرند جانوروں کی حالت وہی ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے حضرت سلیمان جن اور انسان دونوں پر حکومت کرتے تھے اور چرند اور پرند سب جانوروں کی اصلی بولی سمجھتے تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو پرواز جانوروں اور پہاڑروں کی تسبیح کے سمجھنے کا اور سلیمان (علیہ السلام) کو پرند اور چرند کی ہر ایک بولی کے سمجھ لینے کا علم جو اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمایا تھا اسی کو فرمایا کہ ہم نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو ایک علم دیا نبوت بادشاہت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر جن انسان اور پرند کو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ پرندوں اور جانوروں پر بھی سلیمان (علیہ السلام) کی اسی طرح کی حکومت تھی جس طرح جن اور انسان پر ان کی حکومت تھی فھم یوزعون کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق لشکر کے باقاعدہ صف بندی کے ہے یہی قول شاہ صاحب نے ترجمہ میں لیا ہے قتادہ (رح) کے قول کے موافق یہ چیونٹیوں کا میدان ملک شام میں تھا۔ چیونٹیوں کی سمجھ داری کی بات سے سلیمان (علیہ السلام) کو تعجب ہوا اس لیے ان کو ہنسی آئی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا صحیح قول ہے کہ ہد ہد کی نظر زمین کے اندر دور تک پہنچتی ہے اس لیے بغیر پانی کے جنگل میں جہاں کہیں سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اترتا تھا تو ہد ہد سے پانی کے نکلنے کا اندازہ پوچھا جاتا اور جنات سے پانی چشمہ کھودوایا جاتا تھا ایک روز ایسے ہی جنگل میں سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اترا اور تلاش کے وقت ہد ہد غیر حاضر نکلا اسی واسطے ہد ہد کی غیر حاضری پر سلیمان (علیہ السلام) کو غصہ آیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق پرند جانوروں کی سزا سلیمان (علیہ السلام) نے یہ مقرر کی تھی کہ قصور وار جانوروں کے پر اکھیڑ کر ان جانوروں کو دھوپ میں ڈال دیا جاتا تھا اسی کو عذاب شدید فرمایا اور زیادہ غصہ کی حالت میں یہ بھی فرمایا کہ اس معمولی سزا سے بڑھ کر ہد ہد کو یہ سزادی جاوے گی کہ اس کو ذبح کر ڈالا جاوے گا۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٣١ ج ٣۔ ) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ سبا ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ملک یمن میں یہ جگہ ہے یہ بڑی شاداب جگہ تھی پھر یہاں کے لوگوں کی سرکشی کے سبب سے و یران ہوگئی یہ قصہ سورة سبا میں تفصیل سے آوے گا قتادہ کے قول کے موافق سبا کی بادشاہ زادی کا نام بلقیس تھا سبا کے لوگ آتش پرست پارسی تھے اسی واسطے یہ لوگ آگ اور سورج کی پرستش کرتے تھے کیونکہ ان لوگوں کے مذہب میں آگ کی بڑی تعظیم ہے ان لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ دنیا میں آگ سورج کی شعاع سے پیدا ہوئی ہے آسمان کی پوشیدہ چیز مینہ ہے زمین کی پوشیدہ چیز پیداوار ہے کیونکہ سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں کہ مینہ کب برسے گا اور اس سے کس قدر پیدا وار ہوگی ہد ہد نے بلقیس کے تخت کا ذکر کیا تھا اس لیے اس کی شان گھٹانے کے لیے عرش معلی کا تذکرہ کیا۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوٰۃ باب بدء الخلق وذکر الانبیائ (علیہ السلام) کہ داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی مزدوری میں اپنی گزر بسر کرتے تھے سورة صٓ میں آوے گا کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک دن کچھ گھوڑوں کے دیکھنے میں لگ گئے جس سے ان کی نماز کو دیر ہوگئی اس پر غصہ ہو کر انہوں نے ان گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ باوجود اتنی بڑی بادشاہت کے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دنیا کو ہیچ سمجھتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی دین و شریعت کا علم۔ (قرطبی) 8 ۔ یعنی ہمیں علم و نبوت عطا فرما کر اور پرندوں، جنوں اور انسانوں کو ہمارے تابع فرمان بنا کر اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔ ” بہت سے “ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ نہیں بہت سوں پر ہی فضیلت دی گئی تھی ” سب پر “ نہیں کیوں کہ سب پر فضیلت تو صرف آنحضرت خاتم الانبیاء کو ہی حاصل ہوئی ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم الشان سلطنت کے لیے ضروری ہے اور یہ اللہ کریم کا خاص احسان ہے۔ وراثت انبیاء : سلیمان (علیہ السلام) حضرت داود (علیہ السلام) کے علوم نبوت کے وارث ہوئے یہاں وراثت مال مراد لینا درست نہیں کہ مفسرین کرام کے مطابق داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تے جو مال کے وارث تھے مگر نبوت صرف سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی لہذا حکومت و سلطنت پر بھی وہی فائز ہوئے کہ حکومت وراثت میں نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ملنا چاہیے تھی۔ اس سب کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اور واضح کردیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ہم انبیاء کی جماعت نہ کسی سے وراثت پاتے ہیں نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔ یعنی دولت دنیا اور روپے پیسے میں وراثت انبیاء میں ہوتی ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کو تو علوم عطا ہوئے ان میں اضافہ کردیا گیا اور انہیں جنات اور چرند و پرند نیز وحوش پر بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم الشان سلطنت کے لیے ضروری ہے اور یہ اللہ کریم کا خاص احسان ہے۔ وراثت انبیاء : سلیمان (علیہ السلام) ضرت داود (علیہ السلام) کے علوم نبوت کے وارث ہوے یہاں وراثت مال مراد لینا درست نہیں کہ مفسرین کرام کے مطابق داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جو مال کے وارث تھے مگر نبوت صرف سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی لہذا حکومت و سلطنت پر بھی وہی فائز ہوئے کہ حکومت وراثت میں نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ملنا چاہیے تھی۔ اس سب کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اور واضح کردیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ہم انبیاء کی جماعت نہ کسی سے وراثت پاتے ہیں نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔ یعنی دولت دنیا اور روپے پیسے میں وراثت انبیاء میں نہیں ہوتی بلکہ فرمایا انبیاء کے وارث علما ہوتے ہیں کہ ان کی وراثت دراہم و دنانیر میں نہیں علم میں ہوتی ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کو تو علوم عطا ہوئے ان میں اضافہ کردیا گیا اور انہیں جنات اور چرند و پرند نیز وحوش پر بھی حکومت و سلطنت اور ان سب کی زبانیں سمجھنے کا علم عطا ہوا۔ اور پھر یہ روایت موجود ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلیمان (علیہ السلام) کے وارث ہوئے جبکہ درمیان میں کم و بیش سترہ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور پھر انہوں نے اپنا لاؤ لشکر جمع فرمایا اپنی سلطنت میں کسی جانب نکلنے کو جس میں انسانوں کے علاوہ جنات اور جانور ، پرندے وغیرہ اپنی اپنی جماعت میں حاضر تھے۔ اور ایک سمت کو نکلے حتی کہ ایک وادی پر گذر ہوا جہاں چیونٹیاں کثرت سے تھیں تو ایک چیونٹی نے لشکر کو آتا جان کر باقی چیونٹیوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان (علیہ السلام) تمہیں روندتا ہوا گذر جائے اور انہیں تمہارے حال کی خبر بھی نہ ہو کہ کوئی پاؤں کے نیچے مسلا گیا ہے۔ جانوروں میں بھی شعور ہے : اس سے ثابت ہے کہ جانوروں میں بھی شعور ہے اگرچہ ایسا کامل نہیں کہ وہ شریعت کے مکلف ٹھہرائے جاتے مگر شعور ضرور ہے اور فطری علوم جو انہیں بخشے گئے ہیں جیسے گھر بنانا غذا تلاش کرنا بچے پالنا اور اپنے خاندان کو سنبھالنا یہ سب فرائض وہ بخوبی انجام دیتے ہیں شہد کے چھتے میں اور شیروں کے کنبے میں ہاتھیوں کے ریوڑ اور کو وں کی ڈار میں ہر جگہ یہ بات نظر آتی ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بات سن بھی لی اور سمجھ بھی لی۔ ظاہر ہے ان کا سن لینا بھی معجزہ تھا کہ پاس تو نہ کھڑے تھے اور سمجھ لینا بھی اور اس پر بہت خوش بھی ہوئے کہ اللہ نے مجھے یہ علم عطا فرمایا اور میریرعیت میں چیونٹی کو بھی احساس ذمہ داری بخشا ہے کہ ان کی سردار ان کو بچانے کی فکر کر رہی ہے۔ تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ بارے الہا اپنی ان نعمتوں کو دوام عطا فرما اور مجھے توفیق عطا کر کہ شکر ادا کرسکوں کہ مجھ پر بھی اور میرے والد پر بھی یہ کتنے عظیم احسان فرمائے گئے اور نیک اعمال کی توفیق کے ساتھ انہیں قبول بھی فرما۔ اور مجھے ہمیشہ اپنے نیک اور صالح بندوں میں ہی شامل رکھ۔ نیک عمل اور قبولیت : انبیاء (علیہم السلام) کی دعا ایک طریق تعلیم بھی ہوتا ہے یہاں یہ تعلیم فرما دیا کہ عمل کا صالح ہونا الگ بات ہے اور قبول ہونا الگ مثلاً جو عمل بھی ظاہراً شریعت کے مطابق ہے صالح ہے مگر قبول تو باطنی ارادے اور خلوص سے اور اللہ کریم کی مرضی سے ہوگا لہذا نیکی کے ساتھ بھی عجز کی ضرورت ہے۔ ایک جگہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے بارے میں خبر لی تو پتہ چلا ہدہد غیر حاضر ہے۔ فرمایا یہ ہدہد کہاں غائب ہوگیا بلا اجازت غیر حاضری پر تو اسے بہت سخت سزا دی جائے گی یا ہوسکتا ہے سزائے موت دے دی جائے اور اسے ذبح کردیا جائے۔ یا پھر کوئی معقول وجہ بیان کرے گا۔ خدام کو رعایا کی خبر گیری اور انتظامی امور : حضرت ابن عباس کے مطابق ہدہد میں یہ خصوصیت ہے کہ زیر زمین پانی کی گذرگاہوں کو بھانپ لیتا ہے اور لشکر جہاں پہنچا تھا وہاں بظاہر پانی نہ تھا اب اس کی ضرورت پڑی کہ جگہ کی نشاندہی کرے اور جنات پل بھر میں کھود نکالیں تو وہ غائب جبکہ لشکر میں سے بعض کا پیاس سے مرنے کا اندیشہ تھا تو اس کی غیر حاضری پر بھی سزائے موت تک کا امکان بیان ہوا لہذا امور سلطنت میں خدام اور رعایا کی خبرگیری نیز ذمہ دار لوگوں پر انتظامی امور می دیانتداری کا اور پابندی سے کرنے کا اہتمام ضروری ہے یہاں عجیب بات نقل فرماتے کہ ہدہد زیر زمین تو دیکھ لیتا ہے مگر زمین پر ڈالے گئے جال میں بہت جلد پھنس جاتا ہے وہ نہیں دیکھ پاتا سبحان اللہ سب قدرت اللہ ہی کے لیے ہے اور مخلوق بہرحال محتاج۔ سو ہدہد بہت جلد حاضر ہوگیا اور عرض کرنے لگا کہ حضور غلام ایک بہت ایک بہت اہم خبر لایا ہے کہ دوران پرواز ایک شاداب ملک دیکھ کر ادھر چلا گیا اور وہاں جا کر ایسی عجیب حالت دیکھی جس کی آپ کو ابھی اطلاع نہیں کہ علم غیب تو خاصہ باری تعالیٰ ہے اور انبیاء کو اطلاع دی جاتی ہے لہذا جس بات کی خبر اللہ کی طرف سے نہ پہنچے اس کا پتہ نہیں ہوسکتا یہاں اللہ نے ہدہد کو ذریعہ بنا دیا۔ اور وہ خبر یہ تھی کہ میں سباء سے جو یمن کا بہت بڑا شہر تھا یہ اطلاع لایا ہوں اور پورے وثوق سے عرض کر رہا ہوں کہ وہاں اس قوم پر ایک خاتون کی حکومت ہے جس کے پاس حکومت وسلطتنت کے تمام لوازم موجود ہیں اور وہ ایک بہت بڑے اور عظیم الشان تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ عورت کی حکومت : اسلام میں عورت کی حکومت کے بارے میں کوئی ابہام نہیں اور اس بات پر اجماع ہے کہ عورت حکومت کی اہل نہیں بلکہ نماز تک میں امامت نہیں کرسکتی چہ جائیکہ امامت کبری پہ فائز ہو۔ بلقیس کی حکومت سے دلیل لینا درست نہیں کہ وہ آتش پرستوں کی حکمران تھیں اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان سے شادی کرکے انہیں حکومت پر فائز رکھنا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں دوسرے یہ کہ اگر ایسا ہو تو حکومت شادی کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کی ہوئی وہ تو ان کے تابع ہوگئی اور حق یہ ہے کہ ہمیں آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنا ہے پہلی امتوں کی نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت نہیں دی نہ کسی عورت کو امام یا حاکم مقرر فرمایا۔ بلقیس کے حالات : مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ ان کے دادا اس علاقہ کے بہت بڑے سلطان تھے پھر بلقیس کے باپ نے ایک جنی عورت سے شادی کی تھی جس کی یہ بیٹی تھی لہذا اس کے ساتھ بھی جنات ہوتے تھے۔ جنات کے ساتھ شادی کا امکان اور جواز اس پر اختلاف ہے کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں یہ حالات۔ آکام المرجان فی احکام جان۔ نامی کتاب میں موجود ہیں کہ یہ کیسے ممکن اور کس دور میں ایسا ہوا۔ جہاں تک جنات کے توالد و تناسل کا تعلق ہے تو وہ انسانوں کی طرح سے ہے اور جن مردوں کے انسانی خواتین پر جنسی حملے یا جنی خواتین کے انسان مردوں سے جنسی تعلقات فقیر کے ذاتی علم میں بھی ہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور بکثرت ہوتا ہے ہاں نکاح کے جواز میں تردد ہے علماء کا یہ ارشاد بہت وزن رکھتا ہے کہ اگر اسے جائز کہا جائے تو ہر ناجائز حمل رکھنے والی عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے جن سے شادی کی ہے پھر اس کی تحقیق کیا ہوسکے گی بہرحال ایک طبقہ جواز کا قال بھی ہے۔ نیز ہدہد نے یہ اطلاع بھی دی کہ وہ عظیم الشان ملکہ اور اس کی قوم سورج کی پوجا کرتی ہے یعنی آتش پرست ہیں جو سورج آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرنے لگتے ہیں اور شیطان نے انہیں اس راستے پر ایسا ڈال دیا ہے کہ وہ اسی کو بہت خوبصورت راستہ یعنی راہ ہدایت سمجھے ہوے ہیں اور یوں انہیں اللہ کی راہ سے روک دیا ہے اور وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ کریں جو آسمان و زمین سے پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور بندوں کے ظاہر و باطن سے بھی خوب واقف ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں صرف اللہ پروردگار ہے عرش عظیم کا بھی۔ یعنی ہدہد نے بھی بھی خواہش ظاہر کی کہ انہیں ہدایت کی طرف بلایا جائے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا ابھی تصدیق ہوجاتی ہے کہ تم سچ کہہ رہے ہو یا جان بچانے کے حیلے کر رہے ہو۔ میرا یہ خط لے جاؤ اور ملکہ اور اس کی قوم کو دو ملکہ کو دے کر الگ ہوجانا یعنی آداب شاہی کا لحاظ رکھنا پھر دیکھتے ہیں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ کفار کو دعوت بذریعہ تحریر : بذریعہ تحریر بھی دعوت نہ صرف درست بلکہ مسنون ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے بادشاہوں کو خطوط روانہ فرمائے مگر اس میں مہذب انداز اختیار کرنا ضروری ہے جیسا کہ یہاں ہدہد کو تعلیم دیا جا رہا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کے عمل سے واضح ہے چناچہ ہدہد نے خط لے جا کر ملکہ کے ذاتی کمرہ میں ہاں وہ اکیلی تھی دیا اس نے پڑھا اور اپنے ساتھ دربار میں لائی اور امرء دربار سے کہا کہ مجھے ایک خط ملا ہے جو کسی نے میرے کمرے میں ڈال دیا ہے مگر وہ خط بہت خوبصورت جامع اور لائق ستائش ہے یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے اور میرے مقابلے میں کبھی قوت کا اظہار نہ کرنا بلکہ اطاعت اختیار کرکے پاس حاضر ہوجاؤ۔ خط کے آداب : اول تو خط پہ مہر تھی جو خط کی عظمت کی دلیل ہوتی ہے اور دنیا کے سب حکمران استعمال کرتے ہیں حتی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی خطوط پہ مہر ثبت فرماتے تھے۔ لکھنے والے کا نام پہلے ہونا کہ مکتوب الیہ جان لے خط کس کا ہے آج کل پیڈ جو چھپتے ہیں وہ یہ دونوں کام کردیتے ہیں تیسرے یہ کہ خط اللہ کے نام سے شروع کیا جائے اور چوتھے یہ کہ جامع مضمون کم الفاظ ہوں فضول جملے لکھ کر خط طویل نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خواہ کافر کو لکھا جائے شروع اللہ کے نام اور اس کی عظمت کے بیان سے ہو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 : فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 : حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند بھی جھوم اٹھتے اور ان کی حمد و ثنا سے پہاڑ گونج اٹھتے تھے۔ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے اخراجات اپنے ہاتھ کی محنت سے پورے فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا وہ جس طرح چاہتے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے لوہے کو گرم کئے بغیر باریک اور نازک زنجیروں کے حلقے بناکرایسی زر ہیں تیار کرتے تھے جن سے ایک سپاہی میدان جنگ میں آسانی سے نقل و حرکت کرسکتا تھا اور اس طرح ایک جنگی ضرورت بھی پوری ہوجاتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ تمام اولاد میں صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی ان کے علم کے وارث تھے۔ وقت کے عظیم نبی اور عالی شان حکومت و سلطنت کے مالک تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” الہٰی مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو میسر اور حاصل نہ ہو (سورۃ ص) اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرمایا اور ان کو وہ سلطنت عطا فرمائی جو اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ نے ان کو انسانوں اور جنات کے علاوہ چرند ‘ پرند ‘ رند اور ہواؤں پر بھی حکومت عطا کی تھی۔ ہوا ان کے اسی طرح تابع اور مسخر کردی گئی تھی کہ وہ آپ کے تخت کو لے کر اڑ جاتی ۔ تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ ایک مہینے کا سفر آدھے دن میں طے ہوجایا کرتا تھا۔ ان کا لشکر زبردست قوت و طاقت کا مالک تھا جس میں چرند ‘ پرند ‘ درند ‘ انسان اور جنات سب ہی شامل تھے۔ اور آپ ہر مخلوق کی بوی سمجھتے تھے۔ چناچہ ایک مرتبہ آپ اسی زبردست لشکر کے ساتھ جا ہے تھے کہ آپ کے کان میں ایک چیونٹی کی آواز پڑگئی جو اپنی ساتھی چیونٹیوں سے کہہ رہی تھی کہ تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جائو کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آرہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لشکر تمہیں اپنے پاؤں سے روند ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس چھوٹے سے جانور کی بات سن پر بےساختہ ہنس پڑے اور شکر کے طور پر اللہ کے سامنے جھک گئے اور عرض کیا “ الہٰی میں کس منہ سے آپ کا شکر یہ اداکروں۔ واقعی آپ نے مجھے اور میرے والدین کو اپنی بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ عاجزی اور انکساری سے عرض کیا کہ اے اللہ مجھے اپنے صالح بندوں میں شالم فرما لیجئے گا۔ اپنی خاص رحمت اورا علیٰ درجات سے نواز دیجئے گا ۔ مجھے ایسے اعمال کی توفیق عطا فرمایئے گا کہ جس سے آپ راضی ہوجائیں۔ اللہ نے ان آیات میں چند باتوں کو ارشاد فرمایا ہے (1) اللہ نے حکومت تو فرعون کو بھی دی تھی مگر وہ اس قوت و طاقت کو اپنا ذاتی کمال سمجھ کر نافرمان بن گیا اور اللہ کے مقابلے میں اس نے لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا شروع کردیا۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زبردست قوت و طاقت ‘ حکومت و سلطنت عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے اس کو اپنا ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کی عطائو بخشش سمجھا اسی لیے وہ ہر آن ہر نعمت پر اللہ کا شکرادا کرتے تھے۔ (2) اتنی بڑی سلطنت و حکومت کے باوجود حضرت دائود لوہے کی زر ہیں بنا کر اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ٹوکریاں بناکر اپنی گذراوقات کرتے تھے۔ یہ وہ ہاتھ کی کمائی تھی جو انسان کو اللہ کا محبوب بنادیتی ہے۔ اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بلاشبہ حضرت دائود اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔ (3) اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حضرت دائود ؐ کا وارث بنایا اس سے مراد ” وراثت علم “ ہے مال و دولت کی وراثت نہیں ہے کیونکہ انبیاء کرام کی وراثت مال و دولت نہیں ہوتی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہم انبیاء کرام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور انھوں نے اپنی نبوت اور اقتدار کے بارے میں لوگوں کو ان الفاظ میں آگاہ فرمایا۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو یہ پہلا خطاب تھا۔ جس میں انھوں نے اپنی نبوت، اقتدار اور اختیار کے بارے میں عوام کو آگاہ فرماتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں سے لے کر چیونٹیوں تک کی زبان اور عادات کا علم عنایت کیا تھا۔ یہ علم ان کے والد گرامی حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حاصل نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنے خطاب میں اسے خاص طور پر ذکر کیا۔ جہاں تک ورا ثت کا تعلق ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند اقتدار اور ان کے علم اور روایات کے وارث ہوئے۔ لیکن نبوت ایسا منصب ہے جو وراثت اور محنت سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب۔ جسے چاہتا ہے اپنا رسول منتخب کرتا ہے۔ اب سلسلہ نبوت کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر ختم کردیا ہے۔ لہٰذا قیامت تک کوئی رسول اور نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔ جہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے باپ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا وارث بننا ہے وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ذاتی مال کے وارث نہ تھے کیونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی وفات کے وقت کسی قسم کی جائیداد اور مال نہیں چھوڑتے۔ یہ انبیاء (علیہ السلام) کی خصوصیت ہے لیکن کسی امتّی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی پوری کی پوری جائیداد فی سبیل اللہ وقف کر دے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ کی مسند اقتدار پر بٹھائے گئے تھے۔ جس بنا پر فرمایا گیا کہ وہ اپنے باپ کے وارث بنے اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہت بری چیز نہیں بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق کی جائے کیونکہ اسلام میں حکومت کرنے کا ہر وہ طریقہ جائز ہے جس میں نظام حکومت شریعت کے مطابق چلایا اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے جس شخص کو دنیا میں حکمرانی اور دین مل جائے اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہوتا ہے۔ مسائل ١۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ کے اقتدار اور علم کے وارث بنے۔ ٢۔ اقتدار اور نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے جس پر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن علم والوں کے فضائل : ١۔ جہاد کے ساتھ ساتھ دین کا فہم حاصل کرنا لازم ہے۔ (التوبۃ : ١٢٢) ٢۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزمر : ٩) ٣۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر : ٢٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : ١١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ (النمل : ١٥) ٦۔ جو مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں عالم لوگ ہی ان کو سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : ٤٣) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خود علم عطا فرمایا۔ ( البقرۃ : ٣١) ٨۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پہلی وحی علم کے بارے میں نازل ہوئی۔ ( العلق : ١ تا ٥) ٩۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کو قرآن، حکمت اور آداب سکھلانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ ( الجمعۃ : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٧١ ایک نظر میں ” یہاں حضرت دائود کی طرف صرف ایک اشارہ ہے لیکن پورا قصہ صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور اس سے قبل حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مختصر کڑی دی گئی ہے۔ یہ سب حضرات انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور اس سورت کے آغاز ہی میں قرآن کریم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا۔ ان ھذا ……یختلفون (٨٢ : ٦٨) اس سورت میں حضرت سلیمان علیہالسلام کے قصے کی سب سورتوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات دی گئی ہیں ، یعنی جہاں جہاں حضرت سلیمان کا تذکرہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں ان کے حالات زندگی میں سے قصہ ہد ہد اور ملکہ سبا کی تفصیلات ہیں۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علہی السلام یہ اعلان فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو خصوصی طور پر پرندوں کی باتیں سکھانی ہیں اور ہر چیز عطا کی ہے اور اللہ نے ان پر جو فضل و کرم کیا ہے وہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک منظر آتا ہے جس میں حضرت سلیمان اپنے لائو لشکر سمیت چلتے نظر آتے ہیں۔ اس عظیم لشکر میں جن ، انس اور پرندے سب شامل ہیں۔ جب یہ لشکر چلتا ہے تو ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی قوم کو خبردار کرتی ہے کہ ایک عظیم لشکر جرار اس علاقے کا رخ کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو بچائو۔ حضرت سلیمان یہ الفاظ سنتے ہیں اور اس پر بھی رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس بات کو پاتے ہیں کہ نعمت تو باتلا ہے ۔ اس لئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو اس ابتلا میں مجھے شکر اور کامیابی کی توفیق عطا فرما۔ یہ قصہ اس سورت میں کیوں لایا گیا ہے۔ سورت کے آغاز میں بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور پھر اسی سورت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر موضوعات پر کلام رتا ہے جن کے بارے میں ان کے اندر اختلاف رائے ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں اور حضرت موسیٰ ، حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے قصص تاریخ بنی اسرائیل کی اہم کڑیاں ہیں۔ یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی جو کڑی پیش کی گئی ہے اس کی اس سورت کے مضمون سے مناسبت کیا ہے۔ یہ کڑی کئی پہلوئوں کے اعتبار سے مناسبت رکھتی ہے۔ اس سورت کا مرکزی مضمون علم ہے جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرے میں کہا ہے۔ اور حضرت دائود و سلیمان کے قصے میں سب سے پہلا اشارہ ہی اسطرف ہے۔ ” یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر باتوں کی تفصیلات بیان کرتا ہے جس میں وہ مختلف الرائے ہیں۔ “ وقد اتینا دائود و سلیمان علماً (٨٢ : ٥١) ” ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ “ اور پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کڑی میں منطق الطیر کے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کی نعمت کا اعتراف کیا ہے۔ وقال یایھا الناس علمنا منطق اطیر (٨٢ : ٦١) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں ۔ “ اور اس قصے کے درمیان ہد ہد اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرتے ہوئے یہ کہتا ہے۔ احطت بمالم تحظ ……یقین (٨٢ : ٢٢) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو تیرے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ “ اور پھر اس قصے میں ہے کہ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا ، اس نے کہا کہ میں ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکتے لاتا ہوں۔ سورت کے افتتاح میں تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک کتاب مبین ہے اور اس کو مشرکین مکہ کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ لیکن وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک خط کا ذکر ہے جو ملکہ سبا کے نام لکھا گیا۔ لیکن وہ جبم علوم کرلیتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سچائی کی دعوت دیتے ہیں تو وہ اور اس کی قوم اسے جلد ہی قبول کر کے مطیع فرمان ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جان و انس اور پرندوں کی قوتیں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دیگئی ہیں اور یہ اللہ ہی ہے جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوتیں عطا کی ہیں۔ وہی ہے اقتدار اعلیٰ کا مالک ۔ پھر اس سورت میں انسانوں پر اللہ کے انعامات کا بھی ذکر ہے۔ اس کائنات میں اس کے جو نشانات ہیں ان کا بھی ذکر ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور شکر نعمت بجا نہیں لاتے۔ اس قصے میں بھی ایک بندہ شکر گزار کا ذکر ہے ، جو اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیری انعامات کا شکر بجا لائوں۔ جو اللہ کی آیات پر غور کرتے ہیں اور ان سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے اور نہ وہ اللہ کے انعامات کی وجہ سے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ نہ قوت کی وجہ سے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس قصے کی مضمون سورت کے ساتھ کئی ربط اور مناسبتیں ہیں اور سورت کے موضوع اور قصے کے اندر جا بجا واضح اشارات موجود ہیں۔ حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کی کہانی کو جس طرح قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہ اس بات کا نمونہ ہے کہ قرآن مجید قصص کو کس طرح لاتا ہے اور اس کا قصص کا فنی انداز بیان کیسا ہوتا ہے۔ اس قصے میں تگ و دو ، جذبات و تاثرات ، مختلف مناظر اور مشاہد پائے جاتے ہیں۔ پھر مختلف مناظر کے درمیان گیپ جن میں غیر ضروری حصوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اور اس کے دوسرے فنی کمالات ہیں۔ اب ذرا آیات کی تفصیلات درس نمبر ٢٧١ تشریح آیات ٥١……تا……٤٤ ولقد اتینا دائود ……المومنین (٥١) ”(یہ اشارہ ہے کہ اب قصے کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ افتتاحی کلمات ہیں۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس قصے کے بڑے کرداروں کو ہم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا تھا اور سب سے بڑا اعزاز تو علم ہوتا ہے جو حضرت دائود اور سلیمان (علیہم السلام) کو دیا گیا ۔ حضرت دائود کو جو علوم دیئے گئے تھے قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ یہ کہ زبور کی آیات کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا فن ان کو دیا گیا تھا ، وہ اس فن میں اس قدر ماہر تھے کہ جب وہ زبور کی آیات پڑھتے تھے تو یہ پوری کائنات انکے ساتھ گنگناتی تھی۔ پہاڑ کی گونج اور پرندوں کی چہچہاہٹ ان کے ساتھ زبور کو گاتے کیونکہ آپ کی آواز بےحد میٹھی تھی۔ وہ سوز دل سے پڑھتے تھے اور اپنے رب کے ساتھ مناجات میں وہ غرق ہوجاتے تھے۔ پھر ان کو اللہ نے جنگی ساز و سامان کی بنیادی ٹیکنالوجی دی تھی۔ وہ اچھی زر ہیں بناتے تھے ، دھاتوں کو پھگلانے میں مہارت رکھتے تھے اور ان سے ہر قسم کی چیزیں بناتے تھے اور وہ ایک بہترین جج تھے اور اس کام میں حضرت سلیمان ان کے مشیر خاص تھے۔ رہے سلیمان (علیہ السلام) تو اس سورت میں وہ پوری تفصیلات دی گئی ہیں جو اللہ نے انکو سکھائیں یعنی پرندوں کی بولیاں اور جس طرح دوسری سورتوں میں ذکر ہے کہ وہ ایک بہترین جج تھے اور ان کے لئے ہوائوں کو بھی مسخر کردیا گیا تھا اور اس قصے کا آغاز بھی اسی اشاریے سے ہوتا ہے۔ ولقد اتینا دائودو سلیمان علماً (٨٢ : ٥١) ” یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا۔ “ لیکن آیت ختم ہونے سے پ ہے حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہم السلام) کی جان سے یہ بات آجاتی ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور علم کی نعمت کی ان کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے اس معاملے میں ان کو اپنے مومن بندوں کی ایک بڑی تعداد کے مقابلے میں ترجیح دی ہے۔ یوں وہ علم کی قدر و قیمت اور پھر اس عظیم احسان کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہاں اس علم کی نوعیت اور تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اللہ کے ہاں مطلق علم ایک فضل الٰہی ہے۔ عام علم کو اللہ کی نعمت بتانا مقصود ہے۔ ہر قسم کا اور ہر نوع علم مطلوب مومن ہے۔ پھر ہر عالم کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرے۔ اور اللہ کا شکر اور اس کی حمد بیان کرتا رہے اور یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ یہ علم میرے لئے نافع ہو۔ یہ نہ ہو کہ علم انسان کو اللہ سے دور کر دے ، اللہ کو بھلانے کا سبب بنے حالانکہ علم دینے الا اللہ ہے۔ وہ علم جو قلب انسانی کو اللہ سے دور کرے ، وہ فاسد علم ہے۔ وہ اپنے مقصد اور اپنے ہدف سے دور اور ایک طرف ہوگیا ہوتا ہے۔ ایسا علم صاحب علم کے لئے فلاح و نجات اور سعادت مندی کا باعث نہیں ہوتا اور نہ ایسا علم انسانوں کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ ایسا علم انسانوں کے لئے مصیبت ، بدبختی ، خوف ، قلق ، بےچینی اور بالاخر ہلاکت کا سبب بنتا ہے ۔ کیونکہ یہ علم اپنے مصدر و منبع سے کٹ گیا ہے ، اس کی سمت غلط ہے اور اس نے اللہ تک پہنچنے کی راہ گم کردی ہے۔ اس وقت انسانیت علم کے ایک اعلیٰ مرتبے تک پہنچ چکی ہے۔ خصوصاً ایٹم کے توڑنے کے بعد۔ اور پھر اسے مختلف مفید کاموں میں استعمال کرنے کے بعد۔ لیکن جن لوگوں کے ہاتھ یہ ایٹمی علم آیا اور جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہ تھا۔ ان کے ہاتھوں انسانیت نے کس قدر کڑوا پھل چنا اور کھایا۔ یہ اس لئے کہ ان لوگوں کے دل میں خدا کا خوف خدا کی تعریف اور خدا کی طرف توجہ نہ تھی۔ چناچہ اس علم نے اور ایسے علماء نے ہیرو شیما کا رنامہ سر انجام دیا۔ ناگاسا کی کی تباہی مچائی اور ان واقعات کے بعد اب شرق و غرب کے تمام انسان رات دن اس کرہ ارض اور تمام انسانیت کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس تمہید کے بعد کہ حضرت دائود سلیمان دونوں کو ہم نے علم سے نوازا اور انہوں نے اللہ کو حمد اور تعریف کی کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور علم کی قدر و قیمت کو محسوس کیا۔ اب صرف حضرت سلیان (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے برابر ہوتے تھے اور بڑی بڑی ہانڈیاں بنواتے تھے جو زمین میں گڑی رہتی تھیں، دونوں باپ بیٹے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے۔ دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کی اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی، دونوں باپ بیٹے نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ علوم نبوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) ملک کے وارث ہوئے اور یہ حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ان کی حکومت جنات اور وحوش و طیور سب پر تھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مسخر فرما دیا تھا۔ یہ سب آپ کے حکم کے تابع تھے۔ چرندوں اور پرندوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جس کے لیے مسخر کردیئے جائیں اس کے حکم کو سمجھیں اور اس کی فرمانبر داری کریں ہر ایک کو اس کے احوال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے شعور عطا فرمایا ہے جانور اس کو سمجھتے ہیں کہ ہمارا کون دشمن ہے آدمی پتھر اٹھائے تو کوا اور کتا دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ چھپکلی ادھر ادھر چھپ جاتی ہے۔ چیونٹی کی قوت شامہ دیکھو جہاں ذرا سا کچھ میٹھا پڑا ہوگا ذرا دیر میں وہیں حاضر ہوجائے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، زبان تو دوسرے حیوانات کی بھی سکھائی گئی تھی لیکن چونکہ آگے ہد ہد کا قصہ آ رہا ہے اس لیے خصوصیت کے ساتھ جانوروں کی بولی کا تذکرہ فرما دیا انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ (وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ) (اور ہمیں ہر چیز دی گئی ہے) اس سے اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہر چیز مراد ہے جو معیشت اور حکومت میں کام آئے اس کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے یوں کہا کہ ہمیں ہر چیز دی گئی ہے۔ عن ابن عباس (رض) ھو ما یھمہ من امور الدنیا و الاخرۃ و قد یقال انہ ما یحتاج الملک من آلات الحرب وغیرھا (روح المعانی ص ١٧٤ ج ١٩) (ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْن) (یہ کھلا ہوا فضل ہے) ۔ شکر ادا کرتے ہوئے یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے اس میں یہ بتادیا کہ ہم سے افضل بھی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے ہیں۔ ان سے وہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مراد ہیں جو ان دونوں سے افضل تھے اور اس سے ایک یہ بات معلوم ہوئی کہ اصل افضلیت وہی ہے جو ایمان کے ساتھ ہو اور اہل ایمان میں باہمی اخلاص اور اعمال کے اعتبار سے تفاضل ہے کافر اس قابل نہیں ہے کہ اسے مفضل علیہ قرار دیا جائے۔ یعنی وہ اس قابل بھی نہیں کہ کوئی مومن بندہ یہ کہے کہ میں فلاں کافر سے افضل ہوں فضیلت بتانے کے لیے کوئی وجہ تو ہو کافر میں تو خیر ہے ہی نہیں۔ پھر کیسے کہیں کہ ہم اس سے افضل ہیں اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے لشکر میں جنات بھی تھے اور انسان بھی، اور پرندے بھی، جنہیں چلنے کے وقت روکا جایا کرتا تھا۔ روکے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بڑی بھاری بھاری تعداد میں لشکر ہونے کی وجہ سے متفرق ہوجانے کا اندیشہ تھا لہٰذا ان کو روک روک کر چلایا جاتا تھا تاکہ پچھلے لشکر والے بھی آگے والے لشکروں تک پہنچ جائیں ایسا نہ ہو کہ آگے والے آگے نکل جائیں اور پچھلوں کو خبر بھی نہ ہو۔ قال القرطبی معناہ یرد اولھم الی آخرھم و یکفون قال قتادۃ کان لک صنف وزعۃ فی رتبتھم و من الکرسی و من الارض اذا مشوا فیھا یقال ورزعنہ اوزعہ وزعا ای کففتہ و الوازع فی الحرب الموکل بالصفوف یزع من تقدم منھم۔ اس کے بعد ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے لشکر کو لے کر جا رہے تھے ایک چیونٹی کو ان کا پتہ چل گیا اس نے چیونٹیوں سے کہا کہ تم اپنے اپنے رہنے کے ٹھکانوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر بےعلمی میں تمہیں روند ڈالیں جس سے تم پس کر رہ جاؤ اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی بات سن لی اور سمجھ لیا اور اس کی بات سن کر ایسے مسکرائے کہ ہنسی تک نوبت پہنچ گئی۔ اور اللہ پاک کے حضور میں یوں دعا کی کہ اے رب مجھے اپنے اس کام میں لگائے رکھیئے کہ آپ نے جو مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمایا ہے میں اس کا شکر ادا کرتا رہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل رکھیئے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ چیونٹیاں سمجھتی بھی ہیں اور بولتی بھی ہیں گو ہم ان کے بولنے کو نہ سن سکیں اور نہ سمجھ سکیں، ایک چیونٹی نے جو اپنی جنس کو خطاب کر کے کہا اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سمجھ لیا، حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی اپنے امتیوں کو لے کر (آبادی سے باہر) بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے، اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چیونٹی آسمان کی طرف اپنی ایک ٹانگ اٹھائے ہوئے ہے، یہ دیکھ کر انہوں نے فرمایا کہ چلو واپس ہوجاؤ اس چیونٹی کی وجہ سے ہمارے حق میں دعا قبول ہوگئی۔ (رواہ الدار قطنی کمافی المشکوٰۃ ص ١٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ انبیائے کرام میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے حکم دیا کہ چیونٹیوں کی آبادی کو جلا دیاجائے، چناچہ وہ جلا دی گئی، اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے وحی بھیجی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اس کی وجہ سے تم نے تسبیح پڑھنے والی امتوں میں سے ایک امت کو جلا دیا۔ (رواہ البخاری ص ٢٦٧) شریعت میں ایذا دے والی چیونٹی کو مار دینا جائز تو ہے جلا کر ہلاک کرنا جائز نہیں۔ سنن ابو داؤد شریف میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چیونٹیوں کی ایک آبادی کو دیکھا جسے حضرات صحابہ نے جلا دیا تھا، آپ نے فرمایا کہ اسے کس نے جلایا ؟ حاضرین نے عرض کیا کہ ہم نے جلایا ہے آپ نے فرمایا لاَ یَنْبَغِیْ اَنْ یَّعَذِّبَ بالنَّار الاَّ رَبُّ النَّار بلاوجہ چیونٹی کو قتل کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار جانوروں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (١) چیونٹی (٢) شہد کی مکھی (٣) ہدہد (٤) صرد۔ (رواہ ابو داؤد)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور اس کے ضمن میں بھی پہلی علت کا بیان مقصود ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے جلیل الشان پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا علم و فضل عطا فرمایا تھا۔ انسانوں کے علاوہ وحوش و طیور اور جن بھی ان کے تابع تھے مگر اس کے باوجود وہ غیب داں نہ تھے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہدہد کہاں غائب ہوگیا ہے نیز وہ ملکہ سبا اور اس کی قوم کے حالات سے بھی واقف نہ تھے۔ اسی طرح ملکہ سبا کا تخت لانے پر بھی قادر نہ تھے۔ اسی لیے “ یا ایہا الملا ایکم یاتینی بعرشھا الخ ” فرمایا۔ اس واقعہ میں بھی مومنوں کے لیے رہنمائی اور ہدایت ہے کہ سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں “ علماً ” سے علم دین اور دوسرے علوم مراد ہیں جن کی ان کو ضرورت تھی۔ تنوین تقلیل کے لیے یا تعظیم و تفخیم کے لیے۔ یعنی علوم و فنون کا ایک حصہ جو ان کے مناسب حال تھا۔ یا عظیم الشان اور کثیر المنفعت علم ای اتینا کل واحد منہما طائفۃ من العلم لائقۃ من علم الشرائع والاحکام وغیر ذلک مما یختص بکل منہما کصنعۃ لبوس و منطق الطیر او علما سن یا غزیرا فالتنوین علی الاول للتقلیل و علی الثانی للتعظیم (روح ملخصا ج 19 ص 169) ۔ “ و قال الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین ” داؤود و سلیمان دونوں ہمارا شکر بجا لاتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) اب آگے حضرت دائود و سلیمان (علیہا السلام) کے ذکر میں ایک ایسی عورت کا ذکر جو نشاناتِ الٰہی کو دیکھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مشرف بہ سلام ہوئی اور شرک سے توبہ کرنے کا اعلان کیا یعنی مکہ سبا کے اسلام کا ذکر چناچہ ارشاد ہوتا ہے ار بلاشبہ ہم نے دائود ار سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا اس پر ان دونوں باپ بیٹوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزا وار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر بزرگی اور فضیلت عطا فرمائی یعنی ان کو علم شریعت اور حکم رانی کا طریقہ سکھایا اس پر انہوں نے ہمارا شکر ادا کرتے ہوئے کہا الحمد للہ اذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین کثیر کی قید شاید اس لئے لگائی کہ بندگان خدا کی اکثریت پر برتری ظاہر ہو نہ کہ جملہ انسانوں پر کیونکہ تمام مخلوقات پر برتری اور بزرگی حصہ ہے جناب سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا