Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 17

سورة النمل

وَ حُشِرَ لِسُلَیۡمٰنَ جُنُوۡدُہٗ مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ وَ الطَّیۡرِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾

And gathered for Solomon were his soldiers of the jinn and men and birds, and they were [marching] in rows.

سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے ( ہر ہر قسم ) کی الگ الگ درجہ بندی کردی گئی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And there were gathered before Suleiman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order. means, all of Suleiman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings. ... فَهُمْ يُوزَعُونَ and they all were set in battle order. The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

171اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اس انفرادی خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے، جس میں وہ پوری تاریخ انسانیت میں ممتاز ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہ تھی بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتٰی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے تمام لشکر یعنی جنوں، انسانوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ یعنی کہیں جانے کے لئے یہ لاؤ لشکر جمع کیا گیا۔ 172یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم (قسم وار) کردیا جاتا تھا، مثلًا انسانوں، جنوں کا گروہ، پرندوں اور حیوانات کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] یہ دراصل سابقہ آیت میں کل شئی کی تفصیل ہے۔ یعنی آپ کا لشکر تین انواع پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس میں انسان بھی شامل تھے، جن بھی اور پرندے بھی اور ان سے آپ مختلف قسم کے کام لیتے تھے اور یہ لشکر ملا جلا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ جب آپ کسی مہم پر جاتے تو انسانوں کا لشکر الگ، جنوں کا الگ اور پرندوں کا لشکر الگ الگ ساتھ چلتا تھا۔ بھاری اور زیادہ مشقت طلب کام آپ جنوں سے لیتے تھے اور پیغام رسانی، سراغ رسانی اور پانی وغیرہ کی تاش کا کام آپ پرندوں سے لیتے تھے۔ نیز بعض دفعہ پرندوں کے جھنڈ سے لشکر پر سایہ کرنے کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ جو لوگ معجزات اور خرق عادت امور سے گھٹن محسوس کرتے ہیں اور ایسے واقعات کی تاویلات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کی تاویلات کے مطابق یہاں جن سے مراد جفاکش دیہاتی لوگ ہیں۔ اور الطبیر سے وہ طیارے مراد لیتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہوائی فوج بی موجود تھی ایسی تاویلات دراصل تاویلات نہیں بلکہ تحریفات ہیں جن کا قرآن کریم کا سیاق وسباق نہیں دیتا اسی تاویلات کا تجزیہ کرنا یہاں مشکل ہے۔ البتہ ایسی تمام تر تاویلات کا تفصیلا تجزیہ میں نے اپنی تصنیف && عقل پرستی اور انکار معجزات && میں پیش کردیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ ۔۔ : ” فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ “ اگر ” وَزَعَ یَزَعُ “ بروزن ” وَضَعَ یَضَعُ “ سے ہو تو اس کا معنی روکنا ہے اور اگر ” أَوْزَعَ یُوْزِعُ “ (افعال) سے ہو تو اس کا معنی تقسیم کرنا ہے۔ (قاموس) اس میں سلیمان (علیہ السلام) کی اس خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے جس میں وہ پوری انسانی تاریخ میں منفرد ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں ہی پر نہ تھی، بلکہ جنّات، حیوانات اور پرندے حتیٰ کہ ہوا تک ان کے تابع فرمان تھی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے تمام لشکروں یعنی انسانوں، جنوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اہتمام جہاد فی سبیل اللہ ہی کے لیے کیا جاتا تھا، تاکہ ساری دنیا میں اللہ کا دین غالب اور اس کا بول بالا ہوجائے۔ اس کی دلیل آگے آرہی ہے کہ کس طرح ملکہ سبا اور اس کی قوم کے شرک کا علم ہونے پر سلیمان (علیہ السلام) نے اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا اور حکم عدولی کی صورت میں اسے اپنے لشکروں کی دھمکی دی، فرمایا : (فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا ) [ النمل : ٣٧ ] ” اب ہر صورت ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہیں۔ “ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ : یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، مثلاً جنوں کا گروہ الگ، انسانوں کا گروہ الگ اور پرندوں کا گروہ الگ، پھر فوجی ترتیب کے مطابق ان کی تقسیم کی جاتی، مثلاً دس دس آدمیوں پر ایک امیر، پھر سو آدمیوں پر امیر، پھر ہزار پر۔ غرض تمام لشکر بہترین تقسیم کے ساتھ مرتب تھے، جس سے نہایت مختصر وقت میں ان کا جائزہ بھی لیا جاسکتا تھا اور جنگی احکام پر عمل درآمد بھی ہوجاتا تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَہُمْ يُوْزَعُوْنَ۝ ١٧ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔ وزع يقال : وَزَعْتُهُ عن کذا : کففته عنه . قال تعالی: وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ إلى قوله : فَهُمْ يُوزَعُونَ [ النمل/ 17] فقوله : يُوزَعُونَ [ النمل/ 17] إشارةٌ إلى أنهم مع کثرتهم وتفاوتهم لم يکونوا مهملین ومبعدین، كما يكون الجیش الکثير المتأذّى بمعرّتهم بل کانوا مسوسین ومقموعین . وقیل في قوله : يُوزَعُونَ أي : حبس أولهم علی آخرهم، وقوله : وَيَوْمَ يُحْشَرُ إلى قوله : فَهُمْ يُوزَعُونَ [ فصلت/ 19] فهذا وَزْعٌ علی سبیل العقوبة، کقوله : وَلَهُمْ مَقامِعُ مِنْ حَدِيدٍ [ الحج/ 21] وقیل : لا بدّ للسّلطان من وَزَعَةٍ وقیل : الوُزُوعُ الولوعُ بالشیء . يقال : أَوْزَعَ اللهُ فلاناً : إذا ألهمه الشّكر، وقیل : هو من أُوْزِعَ بالشیء : إذا أُولِعَ به، كأن اللہ تعالیٰ يُوزِعُهُ بشكره، ورجلٌ وَزُوعٌ ، وقوله : رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ [ النمل/ 19] قيل : معناه : ألهمني وتحقیقه : أولعني ذلك، واجعلني بحیث أَزِعُ نفسي عن الکفران . ( و ز ع ) وزعتہ عن کذا کے معنی کسی آدمی کو کسی کام سے روک دینا کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ إلى قوله : فَهُمْ يُوزَعُونَ [ النمل/ 17] اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنون اور انسانوں کے لشکر جمع کئے گئے اور وہ قسم دار کئے گئے تھے ۔ تو یوزعون میں نے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عسا کر باوجود کثیر التعداد اور متفاوت ہونے کے غیر مرتب اور منتشر نہیں تھے جیسا کہ عام طور پر کثیر التعداد افواج کا حال ہوتا ہے بلکہ وہ نظم وضبط میں تھے کہ کبھی سر کشی اختیار نہیں کرتے تھے اور بعض نے یو زعون کے یہ معنی کئے ہیں کہ لشکر کا اگلا حصہ پچھلے کی خاطر رکا رہتا تھا ۔ اور آیت : ۔ وَيَوْمَ يُحْشَرُ إلى قوله : فَهُمْ يُوزَعُونَ [ فصلت/ 19] جس دن خدا کے دشمن دو زخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے ۔ میں یوزعون سے انہیں عقوبت کے طور پر روک لینا مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَلَهُمْ مَقامِعُ مِنْ حَدِيدٍ [ الحج/ 21] اور ان کے مارنے ٹھوکنے ) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہو نگے محاورہ ہے کہ سلطان کے لئے محافظ دستہ یا کار ندوں کا ہونا ضروری ہے ۔ جو لوگوں کو بےقانون ہونے سے روکیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ وزوع کے معنی کسی چیز پر فریضۃ ہونے کے ہیں اور محاورہ ہے : ۔ اوزع اللہ فلانا اللہ تعالیٰ نے فلاں کو شکر گزرای کا الہام کیا بعض نے کہا کہ یہ بھی اوزع باالشئی سے ماخوز ہے جس کے معنی کسی چیز کا شیدائی بننے کے ہیں تو اوزع اللہ فلانا سے مراد یہ ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی شکر گزاری کا شیدائی بنادیا اور رجل وزوع کے معنی کسی چیز پر فریضۃ ہونے والا کے ہیں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ [ النمل/ 19] اے پروردگار مجھے توفیق عنایت کر کہ جو احسان تونے مجھے کئے ہیں ان کا شکر کروں ۔ میں بعض نے اوزعنی کے معنی الھمنی کئے ہیں یعنی مجھے شکر گزاری کا الہام کر مگر اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مجھے شکر گزاری کا الہام کر مگر اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مجھے شکر گزاری کا اس قدر شیفۃ بنا کہ میں اپنے نفس کو تیر ی ناشکری سے روک لوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧) اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو ان کا تمام لشکر جمع کیا گیا تو اس کو چلنے کے وقت روکا جایا کرتا تھا تاکہ سب جمع ہوجائیں اور متفرق نہ ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ) ” ہر قسم اور ہر جنس کے لشکر کی علیحدہ علیحدہ جماعتیں (battalians) بنا کر انہیں ہر طرح سے منظم کیا گیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 The Bible dces not either make any mention that there were jinns also in the Prophet Solomon's armies, and he took service from them; but the Talmud and the rabbinical traditions contain details of this. (Jewish Encyclopedia, Vol. XI, p. 440). Some of the present-day writers have strained every nerve to prove that the words jinn and fair do not refer to the jinns and birds but to men who performed different duties in the Prophet Solomon's army. They say that the Jinn haply the people of the mountain tribes whom Prophet Solomon had subdued and who performed teats of great strength and skill under him; and fair implies cavalry which could move much faster than the infantry. But these are indeed the worst examples of misinterpreting the Qur'an. The Qur'an here mentions three distinct kinds of the army consisting of the men, the jinns and the birds, and all the three gave been qualified by the prefix a1 (alif-!am) to denote a class. Therefore, al jinn and al--tair could not be included in al-ins (the men), but could be two separate and different classes from the men. Moreover, a person who has a little acquaintance with Arabic cannot imagine that in this language the mere word a/ Jinn could ever imply a group of the men, or al--tair troops mounted on horses, nor could any Arab understand these meanings from these words. Calling a man a jinn only figuratively because of some supernatural feat of his, or a woman a fairy because of her beauty, or a fast moving person a bird dces not mean that the words Jinn and fairy and bird will henceforth be taken to mean a powerful man and a beautiful woman and a fast moving person respectively. These are only the metaphoric and not the real meanings of these words. In a discourse, a word is used in its figurative instead of its real meaning, and the listeners also will take it in that meaning, only when there exists in the context a clear pointer to its being figurative. What, after all, is the pointer in the context here from which one may understand that the words jinn and tair have been used not in their real and lexical meaning but in their figurative meaning? Contrary to this, the work and the state of a member each of the two groups that have been mentioned in the following verses, fall entirely against the purport of this interpretation. If a person dces not want to believe in something stated in the Qur'an, he should frankly say that he does not believe in it. But it would be moral cowardice and intellectual dishonesty if one should force the clear words of the Qur'an to give the meaning that he wants them to give, and tell the world that he believes in what the Qur'an says, whereas he dces not, in fact, believe in it but believes in his own distorted meaning.

سورة النمل حاشیہ نمبر : 23 بائیبل میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ جن حضرت سلیمان کے لشکروں میں شامل تھے اور وہ ان سے خدمت لیتے تھے ، لیکن تلمود اور تبیوں کی روایات میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے ( جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 11 صفحہ 440 ) موجودہ زمانہ کے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ جن اور طیر سے مراد جنات اور پرندے نہیں ہیں بلکہ انسان ہی ہیں جو حضرت سلیمان کے لشکر میں مختلف کام کرتے تھے ، وہ کہتے ہیں کہ جن سے مراد پہاڑی قبائل کے وہ ولگ ہیں جنہیں حضرت سلیمان نے مسخر کیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت کے کام کرتے تھے ، اور طیر سے مراد گھوڑ سواروں کے دستے ہیں جو پیدل دستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تیزی سے نقل و حرکت کرتے تھے ۔ لیکن یہ قرآن مجید میں بے جا تاویل کی بدترین مثالیں ہیں ، قرآن یہاں جن ، انس اور طیر ، تین الگ الگ اقسام کے لشکر بیان کر رہا ہے اور تینوں پر الف ل تعریف جنس کے لیے لایا گیا ہے ، اس لیے لا محالہ الجن اور الطیر الانس میں شامل نہیں ہوسکے بلکہ وہ اس سے مختلف دو الگ اجناس ہی ہوسکتی ہیں ۔ علاوہ بریں کوئی شخص جو عربی زبان سے ذرہ برابر بھی واقفیت رکھتا ہو یہ تصور نہیں کرسکتا کہ اس زبان میں محض لفظ الجن بول کو انسانوں کا کوئی گروہ یا محض الطیر بول کر سواروں کا رسالہ کبھی مراد لیا جاسکتا ہے اور کوئی عرب ان الفاظ کو سن کر ان کے یہ معنی سمجھ سکتا ہے ، محض محاورے میں کسی انسان کو اس کے فوق العادۃ کام کی وجہ سے جن یا کسی عورت کو اس کے حسن کی وجہ سے پری ، اور کسی تیز رفتار انسان ہی کے ہوجائیں ، ان الفاظ کے یہ معنی تو مجازی ہیں نہ کہ حقیقی ، اور کسی کلام میں کسی لفظ کو حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنوں میں صرف اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے ، اور سننے والے بھی ان کو مجازی معنوں میں صرف اسی وقت لے سکتے ہیں جبکہ آس پاس کوئی واضح قرینہ ایسا موجود ہو جو اس کے مجاز ہونے پر دلالت کرتا ہو ۔ یہاں آخر کون سا قرینہ پایا جاتا ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ جن اور طیر کے الفاظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں؟ بلکہ آگے ان دونوں گروہوں کے ایک ایک فرد کا جو حال اور کام بیان کیا گیا ہے وہ تو اس تاویل کے بالکل خلاف معنی پر صریح دلالت کررہا ہے ۔ کسی شخص کا دل اگر قرآن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہتا ہو تو اسے صاف کہنا چاہیے کہ میں اس بات کو نہیں مانتا ۔ لیکن یہ بڑی اخلاقی بزدلی اور علمی خیانت ہے کہ آدمی قرآن کے صاف صاف الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے من مانے معنی پر ڈھالے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو مانتا ہے حالانکہ دراصل قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اسے نہیں بلکہ خود اپنے زبردستی گھڑے ہوئے مفہوم کو مانتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جو سلطنت عطا فرمائی تھی، وہ صرف انسانوں پر ہی نہیں، بلکہ جنات اور پرندوں پر بھی تھی، چنانچہ جب ان کا لشکر چلتا تھا تو اس میں جنات، انسان اور پرندے سب شامل ہوتے تھے، اور اس طرح لشکر کے افراد اتنے زیادہ ہوجاتے تھے کہ انہیں قابو میں رکھنے کا خاص اہتمام کرنا پڑتا تھا، لیکن نظم و ضبط پھر بھی قائم رہتا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:17) حشر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اکٹھا کیا گیا ۔ جمع کیا گیا۔ حشر مصدر سے۔ یوزعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وزع (نصر) مصدر ہے۔ جس کے معنی روک لینا۔ باز رکھنا۔ لشکر کو ترتیب دینا۔ چناچہ وزع الحبش کے معنی ہیں اس نے لشکر کو صفوں اور گروہوں میں ترتیب دیا۔ یہاں یوزعون (وہ ترتیب دئیے گئے) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عساکر باوجود کثیر التعداد اور متفاوت ہونے کے غیر مرتب ومنتشر نہ تھے بلکہ نظم و ضبط میں تھے کہ کبھی سرکشی اختیار نہ کرتے تھے۔ وحشر ۔۔ فھم یوزعون اور (ایک موقعہ پر حضرت سلیمان کے حکم پر) اس کے لشکر مشتمل برجن و انس والطیر اکٹھے کئے گئے اور وہ گروہوں اور صفوں پر ترتیب دئیے گئے ہوئے تھے۔ یعنی منظم اور مترتب طریقہ پر جن و انس اور پرندوں پر مشتمل لشکر جمع کیا گیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فھم یوزعون (41:19) جس دن خدا کے دشمن اکٹھے کرکے دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے۔ تو ترتیب وار کر دئیے جائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ یعنی ان کی جماعتیں بنائی گئیں اور ہر جماعت کو ایک خاص نظم اور ترتیب میں رکھا گیا تاکہ جس کی جو جگہ ہے وہیں رہے اور بلا اجازت اس سے آگے پیچھے نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ تاکہ متفرق نہ ہوجاویں، پیچھے والے بھی پہنچ جاویں، یہ بات عادة غایت کثرت میں ہوتی ہے، کیونکہ تھوڑے مجمع میں تو اگلا آدمی خود ہی ایسے وقت رک جاتا ہے، اور بڑے مجمع میں اگلوں کو پچھلوں کی خبر بھی نہیں ہوتی، اس لئے اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نہ صرف پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا بلکہ انھیں جنوں، انسانوں اور پرندوں پر حکومت کرنے کا اختیار بھی عطا ہوا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پہلے پیغمبر اور حکمران ہیں جو بیک وقت جنوں، انسانوں اور پرندوں پر عملاً حکمران بنائے گئے۔ اس کے لیے ” حُشَرِ لِسُلَیْمٰنَ “ کے الفاظ لا کر ثابت کیا گیا کہ جن وانس اور پرندوں کو مسخر کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا ورنہ ایسا کرنا سلیمان (علیہ السلام) کے بس کی بات نہ تھی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اقتدار کی معاونت اور عوام کی خدمت کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ معجزاتی اختیارات دیے گئے تھے۔ معجزہ کسی پیغمبر کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوتی ہے۔ معجزہ کا معنٰی ہے لوگوں کو عاجز کردینے والا، یعنی عام انسان اور کوئی مخلوق ایسا کام نہیں کرسکتی جو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے کرواتا ہے۔ معجزہ انسان کی عقل کو دنگ کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کی عقل اس قدر ماؤف ہوجاتی ہے کہ وہ معجزات کا انکار کرتے ہیں یا پھر ان کی تاویلات کے درپے ہوتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جن معجزات کا یہاں ذکر ہے کچھ لوگوں نے ان کی ناقابل فہم تاویلات کی ہیں۔ جن کا ذکر کرنا بےسود ہے۔ مسائل ١۔ سلیمان (علیہ السلام) کو جنات، انسانوں اور پرندوں پر حکمرانی عطا کی گئی۔ ٢۔ سلیمان (علیہ السلام) نے تینوں طبقات کو الگ الگ منظم کرر کھا تھا۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں جنات کا تذکرہ : ١۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ (الذاریات : ٥٦) ٢۔ جنات غیب نہیں جانتے۔ (سبا : ١٤) ٣۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ٤۔ جن و انس مل کر قیامت تک ایک سورة بھی اس جیسی نہیں بناسکتے۔ (البقرۃ : ٢٣۔ ٢٤) ٥۔ اے انسانوں اور جنوں اگر تم خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو نکل جاؤ۔ ( الرّحمن : ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وحشر ……یوزعون (٧١) یہ تھا حضرت سلیمان کا لشکر۔ بہت بڑی تعداد میں ہر طرف سے اٹھایا ہوا۔ جن انس اور پرندوں پر مشتمل۔ انسان تو معلوم ہیں ، جن وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں خود قرآن نے معلومات دی ہیں اور ان کی حقیقت کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ آگ کے شعلے سے پیدا شدہ ہیں۔ یعنی ایسے شعلے جو موجوں کی شکل میں اٹھتے ہیں۔ بشر ان کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ بشر کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہ یراکم و قبیلہ من حیث لاترونھم ” وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھتے۔ “ یہ آیت اگرچہ ابلیس کے بارے میں ہے لیکن وہ جنوں میں سے تھا۔ پھر ان جنوں کے اندر یہ قوت ہے کہ یہ انسانوں کے دلوں میں برائی کے وسوسے ڈالتے ہیں اور پھر یہ انسانوں کو اللہ کی معصیت پر آمادہ کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی تفصیلی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے اور جنوں کا ایک طائفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان بھی لایا تھا۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں نہیں دیکھا۔ نہ آپ نے ان کے ایمان کو سنایا دیکھا۔ البتہ اللہ نے اس بات کی اطلاع حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی ۔ قل اوحی ……احداً (٢) (٢٨ : ١-٢) ” اے پیغمبر کہہ دے ، میری طرف یہ وحی کی گئی ہے۔ ایک گروہ جس نے کان لگا کر سنا اور پھر کہا ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ، جو راہنمائی کرتا ہے عقلمندی کی راہ کی طرف تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے والے نہیں ہیں۔ “ ہمیں اس کا علم ہے کہ جنوں کا ایک گروہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیرنگیں تھا۔ جو آپ کے لئے محرابی عمارات ، تصویریں اور بڑے بڑے حوضوں جیسے کھانے کے لگن بناتا تھا اور یہ جن آپ کے لئے سمندر میں غوطے بھی لگاتے تھے اور آپ کے دوسرے احکام بجالاتے تھے اور یہ سب آپ کے لشکر میں انسانوں اور پرندوں کے ساتھ موجود تھے۔ اور یہ جو ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں اور انسانوں کا ایک گروہ مسخر کردیا تھا تو اس لئے کہ تمام روئے زمین کے جن و انس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں شامل نہ تھے کیونکہ حضرت سیمان کی حکومت کی حدود فلسطین ، شام ، عراق تک محدود تھیں۔ اسی طرح تمام جن اور تمام پرندے بھی آپ کے لئے مسخر نہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ آپ کے لئے مسخر کردیا گیا تھا۔ جن سب کے سب مسخر نہ تھے۔ اس لئے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا ، اس کی ذریت بھی جن تھی جس طرح قرآن مجید میں ہے۔ کان من الجن اور سورت الناس میں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور حضرت سلیمان کے زمانے میں بھی شیطان جنات لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، لوگوں کو گمراہ کرتے تھے اور تمام شر کے کاموں پر آمادہ کرتے تھے۔ لہٰذا تمام جن حضرت سلیمان کے لئے مسخر نہ تھے ورنہ ان کی تسخیر میں ہوتے ہوئے وہ کس طرح فسادی کام کرتے۔ کیونکہ حضرت سلیمان ایک نبی تھے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ جنات کا ایک گروہ ان کے تابع تھا۔ پرندوں کے سلسلے میں بھی یہی استدلال ہے کہ جب پرندہ حاضر نہ پایا گیا ، تو معلوم ہوا کہ تمام پرندے مسخر نہ تھے ورنہ ہزار ہا پرندوں میں سے ایک کا ہونا نہ ہونا محسوس نہ ہونا۔ جب ہد ہد نہ پایا گیا تو آپ نے فرمایا۔ مالی لا اری الھدھد (٨٢ : ٢) ” یہ ہد ہد کہاں گیا میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ “ معلوم ہوا کہ یہ ایک مخصوص ہد ہد تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی ہد ہد ہو۔ یا یہ کہ جو ہد ہد ڈیوٹی پر تھا وہ موجود نہ تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ہد ہد یا مسخر ہدہدوں کو اللہ نے ادراک کی ذرا زیادہ قوت دے رکھی تھی جو اور ہدہدوں میں نہ تھی۔ اور یہ قوت مدر کہ صرف ان کے پرندوں کے لئے تھی جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان آیات سے ہد ہد کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ذہین اور نیک پرندہ تھا۔ غرض حضرت سلیمان کے لئے جن و انس اور وحوش و طیور کی ایک عظیم فوج اٹھائی گئی تھی۔ یہ ایک عظیم فوج تھی اور یہ سب کے سب بےحد منظم تھے۔ یہ غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نہ تھی۔ اس لئے ان کو افواج کہا گیا ہے اور جنود کے لفظ سے دونوں مفہوم ظاہر ہوتے ہیں یعنی کثرت تعداد اور تنظیم ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جنوں، انسانوں اور پرندوں کا لشکر جمع کیا گیا اور کوچ سے پہلے اسے ایک خاص ترتیب سے مرتب کر کے متعدد دوستوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر دستے پر ایک سردار مقرر کردیا گیا تاکہ کثرت ازدحام کی وجہ سے نقل و حرکت میں آسانی ہو اور نظم و ضبط قائم رہ سکے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) آگے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر اور اس کی ترتیب کا بیان ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اس کا لشکر جنات میں سے اور انسانوں میں سے اور پر وندوں میں سے جمع کیا گیا اور ان کو روکاجاتا تھا یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب سفر کرتے تو ان کے لشکر میں جنات بھی ہوتے اور انسان بھی ہوتے اور پرندے بھی شامل ہوتے اور ان کی روانگی سے قبل اس تمام لشکر کو ترتیب و تنظیم کی غرض سے روکاجاتا تھا پھر روانگی میں بھی اس ترتیب کو مدنظر رکھاجاتا تھا کہ پہلی صف والے آگے نہ نکل جائیں یا آگے والے پیچھے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ میں فرق نہ آئے دائیں والے بائیں طرف نہ ہوجائیں اور بائیں والے دائیں طرف نہ آجائیں جیسا کہ آج کل منظم حکومتوں کی فوج بھی منظم ہوا کرتی ہے اور اس کا چلنا اور ٹھہرنا اور دائیں بائیں مڑنا ایک قاعدے اور ضابطے کے ماتحت ہوتا ہے آج کل صرف انسانوں کی فوج ہوتی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں انسانوں کے ساتھ جنات اور طیور بھی ہوتے تھے۔