Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 21

سورة النمل

لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَااَذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۱﴾

I will surely punish him with a severe punishment or slaughter him unless he brings me clear authorization."

یقیناً میں اسے سخت سزا دونگا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا ، یا میرے سامنے کوئی صریح دلیل بیان کرے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لاَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا ... I will surely punish him with a severe torment, Al-A`mash said, narrating from Al-Minhal bin `Amr from Sa`id that Ibn Abbas said: "He meant, by plucking his feathers." Abdullah bin Shaddad said: "By plucking his feathers and exposing him to the sun." This was also the view of more than one of the Salaf, that it means plucking his feathers and leaving him exposed to be eaten by ants. ... أَوْ لاََذْبَحَنَّهُ ... or slaughter him, means, killing him. ... أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ unless he brings me a clear reason. i.e., a valid excuse. Sufyan bin Uyaynah and Abdullah bin Shaddad said: "When the hoopoe came back, the other birds said to him: "What kept you, Suleiman has vowed to shed your blood." The hoopoe said: "Did he make any exception (did he say `unless!')." They said, "Yes, he said: لاَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لاَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ (I will surely punish him with a severe torment or slaughter him, unless he brings me a clear reason). The hoopoe said, "Then I am saved."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کسی موقع پر ہدہد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہدہد کی متعلق مشہور ہے کہ جس مقام پر پانی سطح زمین سے نزدیک تر ہو اسے معلوم ہوجاتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ انھیں یہی ضرورت تھی یا کچھ اور تھی، انہوں نے پرندوں کے لشکر میں ہدہد کو تلاش کیا لیکن وہ وہاں نہ ملا۔ آپ کو اس بات کا سخت رنج ہوا اور فرمایا کہ یا تو وہ اپنی غیر حاضری کا کوئی معقول وجہ پیش کرے۔ ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح ہی کر ڈالوں گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا ۔۔ : ہُد ہُد کا بلا اجازت غائب ہونا صریح نافرمانی تھا، اس لیے سلیمان (علیہ السلام) نے واضح عذر پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے دو سزائیں سنائیں، ایک ذبح کردینا اور دوسری ذبح سے کمتر کوئی سخت سزا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سلطان کی بلاعذر نافرمانی پر تعزیر ہونی چاہیے، اگر کوئی مجاہد بلا اجازت غائب ہوتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ آیا یہ اس کا معمول ہے یا اتفاق سے ایسا ہوا ہے، پھر معمول ہونے کی صورت میں اس کی غیر حاضری اگر لشکر پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے طرز عمل سے امیر کے احکام کی قدر و قیمت باقی نہ رہنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا جرم بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس موقع کو بھی دیکھا جاتا ہے جس سے وہ غائب ہوا ہے، اگر اس کی ذمہ داری ایسی ہے کہ اس کے غائب ہونے یا سو جانے سے پورے لشکر کی تباہی کا خطرہ ہے تو ایسی کوتاہی معاف کرنے کا مطلب اپنے لشکر کو آپ ہی برباد کردینا ہے۔ اس کے باوجود سلیمان (علیہ السلام) کا کمال انصاف اور تحمل دیکھیے کہ واضح دلیل پیش کرنے کی صورت میں اس سزا سے مستثنیٰ قرار دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ I will punish him with a severe punishment - 27:21 It is part of the political sagacity to punish the absentee after making due scrutiny. It is permissible to punish a lethargic animal moderately Allah Ta’ ala had permitted Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) to punish the animals in the same way, as He had permitted people of all ages, a permission which is still valid, to slaughter them to make use of their flesh, bones, skin etc. Similarly, if the domestic animals, such as cow, horse, camel, donkey etc., do not perform their normal duty, then it is permissible even now to punish them moderately for disciplining. Punishing animals, other than domestic, is not permissible under Islamic law. (Qurtubi) أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ Unless he brings to me a clear plea. - 27:21 That is, if the hoopoe offers a plausible excuse for its absence, then it will be saved from the punishment. There is a subtle hint in it that it is expected of a ruler or an administrator that if someone falters doing something, then it should be thoroughly investigated before punishing him. The punishment should be enforced only when the guilt is established, otherwise he should be forgiven.

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗٓ، ابتدائی غور و فکر کے بعد یہ حاکمانہ سیاست کا مظاہرہ ہے کہ غیر حاضر رہنے والے کو سزا دی جائے۔ جو جانور کام میں سستی کرے اس کو معتدل سزا دینا جائز ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے حق تعالیٰ نے جانوروں کو ایسی سزائیں دینا حلال کردیا تھا جیسا عام امتوں کے لئے جانوروں کو ذبح کر کے ان کے گوشت پوست وغیرہ سے فائدہ اٹھانا اب بھی حلال ہے۔ اسی طرح پالتو جانور گائے، بیل، گدھا، گھوڑا، اونٹ وغیرہ اپنے کام میں سستی کرے اس کو تادیب کے لئے بقدر ضروتر مارنے کی معتدل سزا اب بھی جائز ہے۔ دوسرے جانوروں کو سزا دینا ہماری شریعت میں ممنوع ہے۔ (قرطبی) اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ، یعنی اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کا کوئی عذر واضح پیش کردیا تو وہ اس سزا سے محفوظ رہے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ حاکم کو چاہئے کہ جن لوگوں سے کوئی قصور عمل میں سرزد ہوجائے ان کو عذر پیش کرنے کا موقع دے، عذر صحیح ثابت ہو تو سزا کو معاف کر دے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّہٗٓ اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝ ٢١ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ ذبح أصل الذَّبْح : شقّ حلق الحیوانات . والذِّبْح : المذبوح، قال تعالی: وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] ، وذَبَحْتُ الفارة شققتها، تشبيها بذبح الحیوان، وکذلك : ذبح الدّنّ «3» ، وقوله : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، علی التّكثير، أي : يذبح بعضهم إثر بعض . وسعد الذّابح اسم نجم، وتسمّى الأخادید من السّيل مذابح . ( ذ ب ح ) الذبح ( ف ) اصل میں اس کے معنی حیوانات کے حلق کو قطع کرنے کے ہیں اور ذبح بمعنی مذبوح آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو ۔ ذبحت الفارۃ ۔ میں نے نافہ مشک کو کو چیرا ۔ یہ حیوان کے ذبح کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذبح الدن کا محاورہ ہے جس کے معنی مٹکے میں شگاف کرنے کسے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے ۔ میں صیغہ تفعیل برائے تکثیر ہے یعنی وہ کثرت کے ساتھ یکے بعد دیگرے تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے ۔ سعد الدابح ( برج جدی کے ایک ) ستارے کا نام ہے اور سیلاب کے گڑھوں کو مذابح کہا جاتا ہے ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١) تو میں اس کے پر اکھاڑ دوں گا پرندوں کی یہی سزا تھی یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ اپنی غیر حاضری کا معقول عذر پیش کرے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ (لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّہٗٓ ) ” اس اجتماعی حاضری (parade) کے موقع سے غیر حاضر ہو کر اس نے بہت بڑا جرم کیا ہے اور اسے اس جرم کی سزا ضرور بھگتنا ہوگی۔ (اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ) ” ہاں اگر وہ کوئی ٹھوس عذر پیش کر کے اپنی اس غیر حاضری کا جواز ثابت کر دے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 Some people of the modern time say that the hud-bud (hoopoe) does not mean the bird commonly known by this name, but is the name of a man who was an officer in the army of Solomon. This claim is not based on any historical research in which they might have found a person named hud-hud included in the list of the officers of the government of the Prophet Solomon, but they base their claim on the argument that the custom of naming human beings after animals is prevalent in Arabic as in other languages and was also found in Hebrew. Moreover, the, work that has been ascribed to the hud-hud in the following verses and its conversation with the Prophet Solomon, can, according to them, be only performed by a human being. But if one keeps in view the context in which this thing occurs in the Qur'an, it becomes evident that this is no commentary of the Qur'an but its distortion. After aII, why should the Qur'an put the intellect and intelligence of man to the test by using enigmatic language '? Why should it not clearly say that a soldier of the Prophet Solomon's cavalry, or platoon, or communication department, was missing, whom he ordered to be searched out, and who came and gave this news and whom he despatched on such and such a mission? Instead, it uses such language that the reader, from the beginning to the end, is compelled to regard it as a bird. Let us, in this connection, consider the tarts in their sequence as presented in the Qur'an. First of aII, the Prophet Solomon expresses his gratitude to AIIah for His this bounty: "We have been taught the speech of the birds." In this sentence, firstly, the word Lair has been used absolutely which every Arab and scholar of Arabic will take in the meaning of a bird, because there is nothing in the context that points to its being figurative; secondly, if tair implied a group of men and not a bird, the ward language or tongue would have been used concerning it and not speech. 'Then, a person's knowing the tongue of another people is not so extraordinary a thing that it should be specially mentioned. Today there are among us thousands of men and women, who can speak and understand many foreign languages. This is in no way an unusual achievement which may be mentioned as an extraordinary gift of God. Then the Qur'an says, "For Solomon were gathered hosts of jinns and then and birds." In this sentence, firstly, the words Jinn and ins (men) and tair have been used as names for three well-known and distinct species denoted by these words in Arabic. Then they have been used absolutely and there is nothing in the context that may point to any of them being used metaphorically, or as a simile. hecause of which one may take them in another meaning than their well- known lexical meaning. Then the word ins has occurred between the words jinn and Lair which does not allow taking it in the meaning that the Jinn and the tair were, in tact, two groups included in the species of ins (men). Had this been meant the words would have been: ul jinn wat-tair min-al-ins and not min-al- Jinn wal-ins W at-tair. A little further un the e Qur'an says that the Prophet Solomon said this when-during his review of the birds hr found the hud-hud missing. If the fair were human beings and hud-hud also was the name of a man, a word or two should Dave been there to indicate this so that cite poor reader should not have taken the word for a bird. When the group being mentioned is clearly of the birds and a number of it is called hud-hud. how can it be expected that the reader will of his own accord understand them to be human beings'? Then the Prophet Solomon says, "1 will punish him severely, or even slaughter him, unless he presents before me a reasonable excuse." A man is killed, or hanged, or sentenced to death, but never slaughtered. Some hard-hearted person may even slaughter another person out of vengeance, but it cannot be expected of a Prophet that he would sentence a soldier of his army to be slaughtered only for the offence of desertion, and Allah would mention this heinous act of the Prophet without a word of disapproval. A little further on we shall again see that the Prophet Solomon sends the same hud-hud with a letter to the queen of Sheba and tells him "to cast it before her". Obviously, such an instruction can be given to a bird but not at all to a man when he is sent as an envoy or messenger. Only a foolish person will believe that a king would send his envoy with a letter to the queen of another country and tell him to cast or throw it before her. Should we suppose that the Prophet Solomon was not aware of the preliminary social etiquette which even common people like us also observe when we send our servant to a neighbour? Will a gentleman tell his servant to carry his letter to the other gentleman and throw it before him? All these things show that the word hud-hud here has been used in its lexical meaning, showing that he was not a man but a bird. Now, if a person is not prepared to believe that a hud-hud can speak those things that have been ascribed to it in the Qur'an, he should frankly say that he does not believe in this narrative: of the Qur'an. It is sheer hypocrisy to misconstrue plain and clear words of the Qur'an according to one's own whims only in order to cover up one's lack of faith in it.

سورة النمل حاشیہ نمبر : 28 موجودہ زمانے کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہدہد سے مراد وہ پرندہ نہیں ہے جو عربی اور اردو زبان میں اس نام سے معروف ہے بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جو حضرت سلیمان کی فوج میں ایک افسر تھا ، اس دعوے کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کہیں ہدہد نام کا کوئی شخص ان حضرات کو سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے افسروں کی فہرست میں مل گیا ہے ، بلکہ یہ عمارت صرف اس استدلال پر کھڑی کی گئی ہے کہ جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام رکھنے کا رواج تمام زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے اور عبرانی میں بھی تھا ، نیز یہ کہ آگے اس ہدہد کا جو جام بیان کیا گیا ہے اور حضرت سلیمان سے اس کی گفتگو کا جو ذکر ہے وہ ان کے نزدیک صرف ایک انسان ہی کرسکتا ہے ، لیکن قرآن مجید کے سیاق کلام کو آدمی دیکھے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ اس کی تحریف اور اس سے بھی کچھ بڑھ کر اس کی تغلیط ہے ۔ آخر قرآن کو انسان کی عقل و خرد سے کیا دشمنی ہے کہ وہ کہنا تو یہ چاہتا ہو کہ حضرت سلیمان کے رسالے یا پلٹن یا محکمہ خبر رسانی کا ایک آدمی تھا جسے انہوں نے تلاش کیا اور اس نے حاضر ہوکر یہ خبر دی اور اسے حضرت موصوف نے اس خدمت پر بھیجا ، لیکن اسے وہ مسلسل ایسی چیتان کی زبان میں بیان کرے کہ پڑھنے والا اول سے لیکر آخر تک اسے پرندہ ہی سمجھنے پر مجبور ہو ، اس سلسلہ میں ذرا قرآن مجید کے بیان کی ترتیب ملاحظہ فرمایئے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے اللہ کے اس فضل پر اظہار امتنان کیا کہ ہمیں منطق الطیر کا علم دیا گیا ہے اس فقرے میں اول تو طیر کا لفظ مطلق ہے جسے ہر عرب اور عربی دان پرندے ہی کے معنی میں لے گا ، کیونکہ کوئی قرینہ اس کے استعارہ و مجاز ہونے پر دلالت نہیں کر رہا ہے ۔ دوسرے اگر طیر سے مراد پرند نہیں بلکہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو تو اس کے لیے منطق ( بولی ) کے بجائے لغت یا لسان ( یعنی زبان ) کا لفظ زیادہ صحیح ہوتا ، اور پھر کسی شخص کا کسی دوسرے انسانی گروہ کی زبان جاننا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے کہ وہ خاص طور پر اس کا ذکر کرے ۔ آج ہمارے درمیان ہزارہا آدمی بہت سی غیر زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں ، یہ آخر کونسا بڑا کمال ہے جسے اللہ تعالی کا غیر معمولی عطیہ قرار دیا جاسکے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ سلیمان کے لیے جن اور انس اور طیر کے لشکر جمع کیے گئے تھے ۔ اس فقرے میں اول تو جن اور انس اور طیر ، تین معروف اسمائے جنس استعمال ہوئے ہیں جو تین مختلف اور معلوم اجناس کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہیں ، پھر انہیں مطلق استعمال کیا گیا ہے اور کوئی قرینہ ان میں سے کسی کے استعارہ و مجاز یا تشبیہ ہونے کا موجود نہیں آیا ہے جو یہ معنی لینے میں صریحا مانع ہے کہ جن اور طیر دراصل انس ہی کی جنس کے دو گروہ تھے ، یہ معنی مراد ہوتے تو الجن والطیر من الانس کہا جاتا نہ کہ من الجن والانس والطیر ۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان طیر کا جائزہ لے رہے تھے اور ہدہد کو غائب دیکھ کر انہوں نے یہ بات فرمائی ۔ اگر یہ طیر انسان تھے اور ہدہد بھی کسی آدمی کا نام ہی تھا تو کم از کم کوئی لفظ تو ایسا کہہ دیا جاتا کہ بے چارہ پڑھنے والا اس کو جانور نہ سمجھ بیٹھتا ۔ گروہ کا نام پرندہ اور اس کے ایک فرد کا نام ہدہد پھر بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم آپ سے آپ اسے انسان سمجھ لیں گے ۔ پھر حضرت سلیمان فرماتے ہیں کہ ہدہد یا تو اپنے غائب ہونے کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کردوں گا ، انسان کو قتل کیا جاتا ہے ، پھانسی دی جاتی ہے ، سزائے موت دی جاتی ہے ، ذبح کون کرتا ہے؟ کوئی بڑا ہی سنگدل اور بے درد آدمی جوش انتقام میں اندھا ہوچکا ہو تو شاید کسی آدمی کو ذبح بھی کردے ، مگر کیا پیغمبر سے ہم یہ توقع کریں کہ وہ اپنی فوج کے ایک آدمی کو محض غیر حاضر ( Deserter ) ہونے کے جرم میں ذبح کردینے کا اعلان کرے گا ، اور اللہ میاں سے یہ حسن ظن رکھیں کہ وہ ایسی سنگین بات کا ذکر کر کے اس پر مذمت کا ایک لفظ بھی نہ فرمائیں گے؟ کچھ دور آگے چل کر ابھی آپ دیکھیں گے کہ حضرت سلیمان اسی ہدہد کو ملکہ سبا کے نام خط دے کر بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اسے ان کی طرف ڈال دے یا پھینک دے ، ( القہ الیھم ) ظاہر ہے کہ یہ ہدایت پرندے کو تو دی جاسکتی ہے لیکن کسی آدمی کو سفیر یا ایلچی کا قاصد بنا کر بھیجنے کی صورت میں یہ انتہائی غیر موزوں ہے ، کسی کی عقل ہی خبط ہوگئی ہو تو وہ مان لے گا کہ ایک ملک کا بادشاہ دوسرے ملک کی ملکہ کے نام خط دے کر اپنے سفیر کو اس ہدایت کے ساتھ بھیج سکتا ہے کہ اسے لے جاکر اس کے آگے ڈال دے یا اس کی طرف پھینک دے ، کیا تہذیب و شائستگی کے اس ابتدائی مرتبے سے بھی حضرت سلیمان کو گرا ہوا فرض کرلیا جائے جس کا لحاظ ہم جیسے معمولی لوگ بھی اپنے کسی ہمسائے کے پاس اپنے ملازم کو بھیجتے ہوئے ملحوظ رکھتے ہیں؟ کیا کوئی شریف آدمی اپنے ملازم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ خط لے جاکر فلاں صاحب کے آگے پھینک آ ؟ یہ تمام قرائن صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں ہدہد کا مفہوم وہی ہے جو ازروئے لغت اس لفظ کا مفہوم ہے ، یعنی یہ کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک پرندہ تھا ، اب اگر کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ایک ہدہد باتیں کرسکتا ہے جو قرآن اس کی طرف منسوب کررہا ہے تو اسے صاف صاف کہنا چاہیے کہ میں قرآن کی اس بات کو نہیں مانتا ، اپنے عدم ایمان کو اس پردے میں چھپانا کہ قرآن کے صاف اور صریح الفاظ میں اپنے من مانے معنی بھرے جائیں ، گھٹیا درجے کی منافقت ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ لاعذبنہ سے معلوم ہوا کہ حیوانات کو تعلیم کے لئے تادیب جائز ہے، اور دفع اذی کے لئے قتل بھی جائز ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) یقینا میں اس کو سخت سزا دوں گا اس کو ذبح کرڈالوں گا یا وہ میرے روبرو اپنی غیرحاضری پر کوئی معقول دلیل پیش کردے یعنی ضرورت کے وقت اس کا غیرحاضر ہوجانا موجب سزا ہے تادیباً جو تعزیر مناسب سمجھوں گا وہ دوں گا خواہ وہ کوئی سخت سزا ہو یا ذبح ہو یا کوئی معقول دلیل لائے اپنی غیرحاضری پر