Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 25

سورة النمل

اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۲۵﴾

[And] so they do not prostrate to Allah , who brings forth what is hidden within the heavens and the earth and knows what you conceal and what you declare -

کہ اسی اللہ کے لئے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَلاَّ يَسْجُدُوا لِلَّهِ ... and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah. They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah: وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him. (41:37) ... الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth, Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying: ... وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ and knows what you conceal and what you reveal. means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah: سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day. (13:10) His saying: اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

251یعنی آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے اس کی مخفی چیزیں نباتات، معدنیات اور دیگر زمینی خزانے ظاہر فرماتا اور نکالتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] آیت نمبر ٢٥ اور ٢٦ کو بعض مفسرین نے ہدہد کے جواب کا ہی تتمہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ہدہد کے کلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف مناسب اضاف قرار دیا ہے۔ اس آیت میں یعلم ما تخفون وما تعلنون سے دوسرا قول ہی راحج معلوم ہوتا ہے۔ خب معنی پوشیدہ اور مخفی خزانہ ( مفردات القرآن) اور اس سے مراد ایسا پوشیدہ اور مخفی خزانہ ہے جس کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہو اور خبا بمعنی کسی چیز کو چھپا رکھنا اور خابا بمعنی کسی سے چیستان، پہیلی یا معمہ پوچھنا اور خب الارض بمعنی زمین کی نباتات جو ابھی ظہور میں نہ آوی ہو۔ قوت روئیدگی اور خب السماء بمعنی بارش اور آکرج حب السماء خب الارض بمعنی آسمان کی بارش نے سمین پر روئیدگی پیدا کی اور پودوں کو اگایا۔ اسی طرح زمین میں سے اگر کہیں سے تیل یا جلنے والی گیسیں یا معدنیات وغیرہ نکل آئیں تو یہ سب چیزیں خب الارض میں شمار ہوں گی۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کرنے کے لائق تو وہ ذات ہے جو زمین و آسمان سے ان کی پوشیدہ چیزوں اور مخفی قوتوں کو روئے کار لاکر ان کی روزی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ نہ کہ سورج اور اس جیسی دوسری بےجان یا مخلوق و محتاج اشیاء نیز سجدہ کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہو جو صرف زمین و آسمان ہی کی پوشیدہ قوتوں اور اشیاء کو جانتا ہے بلکہ وہ تمہارے بھی سب ظاہری اور پوشیدہ اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ ۔۔ : ” الْخَبْءَ “ مصدر بمعنی اسم مفعول ” اَلْمَخْبُوْءُ “ ہے، چھپی ہوئی چیز، یعنی یہ لوگ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیز نکالتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے۔ ہُد ہُد نے اس بنیادی حقیقت کے ثبوت کے لیے تین عظیم الشان دلیلیں پیش کیں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے، اس کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مخفی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کے عموم میں سورج، چاند، ستارے، سیارے، بارش، ہوا اور بجلی وغیرہ سب ہی داخل ہیں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں میں تمام نباتات، پودے، درخت، دریا، چشمے، زیر زمین پانی، تیل، گیس اور بیشمار معدنیات سب آجاتے ہیں۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ہد ہد کی خوراک عام طور پر وہ کیڑے ہوتے ہیں جو درختوں کی چھال یا زمین کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اس بظاہر معمولی سے پرندے نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل اپنی سمجھ اور تجربے کے مطابق دی کہ عبادت اور سجدے کے لائق وہ اللہ ہے جو ہر مخلوق کو اس کی چھپی ہوئی روزی تک رسائی دیتا ہے۔ سورج جسے اپنی گردش ہی سے فرصت نہیں، نہ اس نے کوئی چیز پیدا کی کہ وہ اسے چھپانے یا ظاہر کرنے کا علم یا اختیار رکھتا ہو، وہ عبادت یا سجدے کے لائق کیسے ہوگیا ؟ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا، نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔ “ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ : یہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنے کی دوسری دلیل ہے، یعنی سجدے کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین ہی کی پوشیدہ قوتوں اور چیزوں کو جانتا ہے بلکہ وہ سب کچھ بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو یا پوشیدہ رکھتے ہو۔ سورج یا کسی اور مخلوق کو کسی کے ظاہر یا پوشیدہ حالات کی کیا خبر کہ وہ سجدے کے لائق ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلہِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ۝ ٢٥ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ خبء يُخْرِجُ الْخَبْءَ [ النمل/ 25] ، يقال ذلک لكلّ مدّخر مستور، ومنه قيل : جارية مُخْبَأَة، والخُبأة : الجارية التي تظهر مرّة، وتخبأ أخری، والخِبَاءُ : سمة في موضع خفيّ. ( خ ب ء ) الخب ( ف ) کسی چیز کے پوشیدہ اور مخفی ذخیرہ کو خباء کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ يُخْرِجُ الْخَبْءَ [ النمل/ 25] جو چھپے ہوئے خزانے نکالتا ہے ۔ اسی سے جاریۃ خباۃ ( طلعۃ ) کا محاورہ ہے یعنی وہ لڑکی جو کبھی پردہ میں چلی جاتی ہو اور کبھی باہر نکل آتی ہو ۔ الخباء ۔ وہ نشان جو ( اونٹنی کے ) کیس خفیہ مقام پر لگایا ہو علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ علن العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر ما يقال ذلک في المعاني دون الأعيان، يقال : عَلَنَ كذا، وأَعْلَنْتُهُ أنا . قال تعالی: أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ، أي : سرّا وعلانية . وقال : ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] . وعِلْوَانُ الکتابِ يصحّ أن يكون من : عَلَنَ اعتبارا بظهور المعنی الذي فيه لا بظهور ذاته . ( ع ل ن ) العلانیہ ظاہر اور آشکار ایہ سر کی ضد ہے اور عام طور پر اس کا استعمال معانی یعنی کیس بات ظاہر ہونے پر ہوتا ہے اور اجسام کے متعلق بہت کم آتا ہے علن کذا کے معنی میں فلاں بات ظاہر اور آشکار ہوگئی اور اعلنتہ انا میں نے اسے آشکار کردیا قرآن میں ہے : ۔ أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] میں انہیں بر ملا اور پوشیدہ ہر طرح سمجھا تا رہا ۔ ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں علوان الکتاب جس کے معنی کتاب کے عنوان اور سر نامہ کے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ علن سے مشتق ہو اور عنوان سے چونکہ کتاب کے مشمو لات ظاہر ہوتے ہیں اس لئے اسے علوان کہہ دیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥۔ ٢٦) اور میں نے ان سے کہا کہ اس اللہ کو کیوں سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے جن میں سے بارش اور نباتات بھی ہیں۔ یا یہ کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ہو کہ ہدہد سے سن کر انہوں نے ایسا فرمایا ہو اور تم لوگ جو کچھ نیکی و برائی دل میں چھپا کر رکھتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو وہ سب کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33 That is, He is bringing continuously into existence those things which before their ' birth were hidden here and there: He is bringing out continuously countless kinds of vegetation and minerals from the bowels of the earth: He is manifesting from upper space such things as could not even be conceived by Ruman mind before their manifestation. 34 That is, His knowledge embraces everything; the open and hidden are alike for Him; He is aware of everything. By citing these two attributes of AIIah the object is to impress that if they had not been deluded by Satan, they could have seen the right way clearly: they could have perceived that the hot burning sphere of the sun which has no sense of its own existence, did not deserve to be worshipped but worship was due to Him alone Who is the All-Knowing and the AlI-Wise Being, and Whose power is bringing into existence new and ever stew phenomena every moment.

سورة النمل حاشیہ نمبر :33 یعنی جو ہر آن ان چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں کہاں پوشیدہ تھیں زمین کے پیٹ سے ہر آن بے شمار نباتات نکال رہا ہے اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے ، عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لارہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر :34 یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ، اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں ، اس پر سب کچھ عیاں ہے ۔ اللہ تعالی کی ان دو صفات کو بطور نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آسکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دہکتا ہوا کرہ جو پیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا ، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، بکہ صرف وہ ہستی اس کا استحقاق رکھتی ہے جو علیم و خبیر ہے اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لارہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:25) الا یسجدوا : ای لئلا یسجدوا لام تعلیل محذوف ۔ تاکہ نہ سجدہ کریں۔ بدیں وجہ وہ سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ اور یا تو زین لہم سے متعلق ہے۔ یا فصدھم سے۔ یعنی شیطان نے ان کے اعمال (گمراہی و شرک) کو ان کی نظروں میں مزین کر رکھا ہے اس لئے وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یا شیطان نے ان کو راہ راست سے روک رکھا ہے اور ہدیں وجہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے۔ الذی : ای اللہ تعالیٰ ۔ الحب کسی چیز کے پوشیدہ اور مخفی ذخیرہ کو خبا کہتے ہیں یہاں مصدر بمعنی مفعول مخبوء مستعمل ہے یخرج الخب جو پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔ ما تخفون وما تعلنون جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو ۔ اس کی دوسری قرات ما یخفون وما یعلنون ہے (بیضاوی) اس سے ظاہر ہے کہ یہاں خطاب عام و لوگوں سے ہے کوئی خاص گروہ مخاطب نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ ” جو آفتاب پرستی کو چھوڑ کر توحید کی سیدھی راہ اختیار کرسکیں۔ “ 3 ۔ مثلاً آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کے اندر سے بیشمار نباتات اور طرح طرح کی معدنیات نکالتا ہے اور یہ تمام اقسام کے ارزاق و اموال کو شامل ہے۔ (کبیر) 4 ۔ یعنی اسے تمہاری ہر چیز کا علم ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو سورج کی پرستش کرتے تھے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ اس سے پہلے لام تعلیل مقدر ہے اور وہ “ فصدھم ” کے متعلق ہے ای فصدھم عن السبیل لئلا یسجدوا فحذف الجار مع ان وادغمت النون فی اللام (مدارک ج 3 ص 159) ۔ ہدہد نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا شیطان نے ان کو راہ توحید سے روک رکھا ہے تاکہ وہ اس خالق کائنات اور مالک ارض و سماء کو سجدہ نہ کریں جو آسمان اور زمین سے پوشیدہ چیزیں ظاہر کرتا اور ہر ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔ آسمان کی پوشیدہ چیز سے بارش اور زمین کی پوشیدہ چیز سے نبات مراد ہے۔ قال اکثر المفسرین خبء السماء المطر و خبء الارض النبات (معالم ج 5 ص 119) ۔ ہدہد کا چونکہ کام ہی یہی ہے کہ وہ زمین کو کرید کر اس میں چھپے ہوئے کیڑے مکوڑوں کو نکال کر کھاتا ہے اس لیے اس نے اللہ تعالیٰ کی یہی صفت بیان کی کہ یہ چھپی چیزیں وہی نکالتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) وہ کیوں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم دلوں میں چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے آخر یہ لوگ اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں نہیں بجا لاتے اور اس کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں کی اور زمین کی چھپی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے جیسے بارش اور نباتات وغیرہ اور زمین کی بیشمار معدنیات وغیرہ اور عالم ایسا کہ جو بات سینوں میں چھپی ہے وہ بھی جانتا ہے اور جو زبان سے اور دیگر جوارح سے کرتے ہیں اس کو بھی جانتا ہے اس کو چھوڑ کر ایک کرے کی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہُد ہُد کی روزی ریت میں سے کیڑے نکال نکال کھاتا ہے نہ دانہ کھاوے نہ میوہ اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے 12 برسات کے موسم میں گیلی زمین کو کھود کھود کر کینچوے بھی نکال کر کھاتا ہے اور ایک ایک دو دو فٹ زمین میں کھود ڈالتا ہے زمین کے اوپر سے دیکھ لیتا ہے کینچو وں کو شاید یخرج الخبء اسی قدرت خداوندی کی جانب اشارہ ہو (واللہ اعلم)