Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 28

سورة النمل

اِذۡہَبۡ بِّکِتٰبِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقِہۡ اِلَیۡہِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَا ذَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

Take this letter of mine and deliver it to them. Then leave them and see what [answer] they will return."

میرے اس خط کو لے جاکر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return. Suleiman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said: إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَلاَّ تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ it is from Suleiman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).' So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

281یعنی ایک جانب ہٹ کر چھپ جا اور دیکھ کہ وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد کا جواب یا اس کی معذرت سن کر فرمایا : میں تمہیں ایک خط لکھ کردیتا ہوں۔ یہ خط لے جاکر دربار میں ملے اور اس کے درباریوں کے سامنے پھینک دو ۔ پھر انتظار کی خاطر ایک طرف ہٹ جاؤ۔ پھر دیکھنا کہ اس خط کا ان پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔ اور واپس آکر مجھے اس رد عمل کے مطابق اطلاع بھی دو ۔ اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ اس یقینی خبر کو ہم تک پہنچانے میں کہاں تک سچے ہو۔ وہاں ان لوگوں کے ردعمل سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ کس ژہنیت کے مالک ہیں۔ بعض عقل پرست نے اس ہدہد کی پیغام رسانی کے قصہ کو بھی عقل کے مطابق بنانے کی کوشش فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طیر سے طیارے مراد لیا، ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ ہدہد اس طیارے کا پائلٹ تھا۔ اور جن لوگوں نے طیر کے معنی طیارہ لینا حماقت سمجھا وہ کہتے ہیں کہ ہدہد کسی فوجی افسر کا نام تھا۔ اور یہ دستور ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ لوگ بعض انسانوں کے نام درختوں یا پرندوں کے نام رکھ لیتے ہیں۔ اس توجیہ میں یہاں تک تو بات کسی حد تک قابل تسلیم ہے۔ اب مشکل یہ پیش آتی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ہدہد سے کہتے ہیں کہ میرا یہ خط لے جا اور ان کے آگے پھینک دے یا ڈال دے۔ فالفژ الیہم یہ کام پرندہ تو کرسکتا ہے۔ لیکن کوئی انسان سفیر کی حیثیت سے جاکر اگر ایسا کام کرے تو یہ انتہائی بدتمیزی کی بات ہوگی اور کچھ عجب نہیں کہ وہ اس بدتمیزی کی پاداش میں قید میں ڈال دیا جائے یا قتل ہی کر ڈالا جائے۔ دوسری مشکل یہ پیش آتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہدہد کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ یہ خط ان کے آگے پھینک دے۔ پھر ان سے پرے ہٹ کر دیکھ کہ اس خط کا ان پر رد عمل کیا ہوتا ہے ؟ اب تو یہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکومت کسی غیر ملکی سفیر کے سامنے اپنے اندرونی معاملات کے مشورے نہیں کرسکتی۔ البتہ کسی پرندہ کی صورت میں یہ بات ممکن ہے۔ ہمارے خیال میں ان لوگوں کی یہ تاویلات خود ان کی اپنی ذات کو بھی مطمئن نہیں کرسکتیں۔ چہ جائیکہ دوسرے ان سے مطمون ہوں۔ کیونکہ قرآن کے الفاظ پکار پکار کر ایسے لوگوں کی تاویلات کی تردید کر رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا ۔۔ : سلیمان (علیہ السلام) نے فوراً ہی خبر کی تحقیق کا آغاز کردیا، چناچہ خط لکھا اور ہد ہد کو حکم دیا کہ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف پھینک، پھر ان سے لوٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یعنی ایک طرف رہ کر ان کی باتیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ، پھر آ کر مجھ سے بیان کر۔ یہاں بات کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے کہ ہد ہد وہ خط لے کر گیا اور اسے ملکہ سبا کے پاس لے جا کر پھینک دیا۔ ملکہ اس خط کی آمد کا طریقہ اور اس کا مضمون پڑھ کر حیران رہ گئی۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد سے عام معلومات کی بہم رسانی کے علاوہ خط رسانی کا کام بھی لیتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Letters and writings are enough proof on religious matters in the normal circumstances اذْهَب بِّكِتَابِي هَـٰذَا (Go with this letter of mine - 28). Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) considered it enough to write to the queen of Saba& (Sheba) for the fulfillment of his duty to invite her to faith, and hence sent her a letter. This shows that in the normal circumstances the letter or writing is an acceptable proof. The religious jurists did not accept a letter as an evidence only where a proper personal evidence is required under Islamic law, because testimony is not allowed on telephone or by letter. It has been made mandatory for the witnesses to appear in person before the court. There is a lot of wisdom in this law. Under any law of the world prevalent in any country it is compulsory for the witnesses to appear before the court in person, and the testimony through letter or telephone is not accepted. Writing letters and sending them to the disbelievers is permissible Another matter that has been pro-ved by the letter of Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) is that in preaching of religion and invitation to Islam it is permissible to write letters to disbelievers and infidels. According to many Sahih ahadith it is established that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had also written letters to many infidels. Social etiquettes should always be observed, no matter if it is a gathering of infidels فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ Throw it down to them, then turn back from them - 27:28 When Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) made use of the hoopoe as a courier, he also taught him the social etiquette that after delivering the letter to Queen of Saba& it should move out of her court, which is the norm of the royal courts. This shows that observance of social etiquettes and good human behavior is desirable as a general rule.

تحریر اور خط بھی عام معاملات میں حجت شرعیہ ہے : اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے نام خط بھیجنے کو اس پر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں تحریر و خط قابل اعتبار ثبوت ہے۔ فقہاء (رح) نے صرف ان مواقع میں خط کو کافی نہیں سمجھا جہاں شہادت شرعیہ کی ضرورت ہے کیونکہ خط اور ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ شہادت نہیں لی جاسکتی۔ شہادت کا مدار شاہد کا عدالت کے سامنے آ کر بیان دینے پر رکھا گیا جس میں بڑی حکمتیں مضمر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بھی دنیا کی کسی عدالت میں خط اور ٹیلیفون پر شہادت لینے کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔ مشرکین کو خط لکھنا اور ان کے پاس بھیجنا جائز ہے : دوسرا مسئلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس خط سے یہ ثابت ہوا کہ تبلیغ دین اور دعوت اسلام کے لئے مشرکین اور کفار کو خطوط لکھنا جائز ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مختلف کفار کو خطوط بھیجنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ انسانی اخلاق کی رعایت ہر مجلس میں چاہئے اگرچہ وہ مجلس کفار ہی کی ہو : فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد سے نامہ بری کا کام لیا تو اس کو یہ ادب مجلس بھی سکھایا کہ خط ملکہ سبا کو پہنچا کر وہیں سر پر سوار نہ رہے بلکہ وہاں سے ذرا ہٹ جائے جو عام شاہی مجلسوں کا طریقہ ہے۔ اس میں آداب معاشرت اور انسانی اخلاق کا عام مخلوقات کے ساتھ مطلوب ہونا معلوم ہوا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْہَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَيْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ۝ ٢٨ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) میرا یہ خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دینا پھر ذرا وہاں سے ہٹ جانا کہ وہ دیکھ نہ سکیں پھر دیکھنا کہ میرے خط کے بارے میں وہ آپس میں کیا گفتگو اور سوال و جواب کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (اِذْہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ) ” چنانچہ وہ ہدہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لے گیا اور جا کر ملکہ کے آس پاس یا شاید اس کی خواب گاہ میں پھینک دیا۔ ملکہ نے یہ غیر معمولی خط پڑھا تو فوری طور پر قوم کے بڑے بڑے سرداروں کو مشورے کے لیے دربار میں طلب کرلیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36 Here ends the role of the hud-hud (hoopoe). The rationalists deny its being a bird for the reason that a bird could not possibly be endowed with such powers of observation, discrimination and expression that it should pass over a country and should come to know that it is the land of Saba`, it has such and such a system of government, it is ruled by a certain woman, its religion is sunworship, that it should have worshipped One God instead of having gone astray, and then on its return to the Prophet Solomon it should so clearly make a report of aII its observations before him. Due to these very reasons the open atheists object that the Qur'an is a book of fables and legends; then those who try to interpret the Qur'an rationally misconstrue its clear words in order to prove that the hud-hud was not at all a bird but he was a man. But the question is: What scientific information have these gentlemen got by which they could tell with absolute certainty what powers and abilities the different species of animals and their different individuals have got? The information that they possess only consists of the results interred froth the grossly insufficient observation made cursorily by them of the life and behaviour of the animals. In fact, man has not so far been able to know through any certain means what different animals know and what they see and hear. and what they feel and think and understand, and how the mind of each one of them works. Yet, whatever little observation has been made of the life of the different species of animals, it has revealed some of their wonderful abilities. Now, when AIIah, Who is the Creator of these animals, tells us that He had taught the speech of the birds to one of His Prophets and blessed him with the ability to speak to them, and the Prophet's taming and training had so enabled a hud-hud that it could make certain observations in the foreign lands and could report theta to the Prophet, we should, in fact, be prepared to revise our little knowledge about the animals in the light of Allah's statement. But, instead, we commit the folly of taking our this insufficient knowledge as the criterion and belie this statement of AIIah or distort it out of its true meaning.

سورة النمل حاشیہ نمبر : 36 یہاں پہنچ کر ہدہد کا کردار ختم ہوتا ہے ، عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سے انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کے اس قوت مشاہدہ ، قوت تمیز اور قوت بیان سے بہرہ ور ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے ، اس ملک کا نظام حکومت یہ ہے ، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے ، اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے ، اس کو خدائے واحد کا پرستار ہونا چاہیے تھا ، مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے ، اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آکر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمان سے بیان کردے ، انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملاحدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کلیلہ و منہ کی سی باتیں کرتا ہے ، اور قرآن کی عقلی تفسیریں کرنے والے اس کے الفاظ کو ان کے صریح معنی سے پھیر کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ حضرت ہدہد تو سرے سے کوئی پرندے تھے ہی نہیں ، لیکن ان دونوں قسم کے حضرات کے پاس آخر وہ کیا ساٹنٹفک معلومات ہیں جن کی بنا پر وہ قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہوں کہ حیوانات اور ان کی مختلف انواع اور پھر ان کے مختلف افراد کی قوتیں اور استعدادیں کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں ۔ جن چیزوں کو وہ معلومات سمجھتے ہیں وہ درحقیقت اس نہایت ناکافی مشاہدے سے اخذ کردہ نتائج ہیں جو محض سرسری طور پر حیوانات کی زندگی اور ان کے برتاؤ کا کیا گیا ہے ، انسان کو آج تک کسی یقینی ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مختلف قسم کے حیوانات کیا جانتے ہیں ، کیا کچھ دیکتے اور سنتے ہیں ، کیا محسوس کرتے ہیں ، کیا سوچتے اور سمجھتے ہیںِ اور ان میں سے ہر ایک کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے ، پھر بھی جو تھوڑا بہت مشاہدہ مختلف انواع حیوانی زندگی کا کیا گیا ہے اس سے ان کی نہایت حیرت انگیز استعدادوں کا پتہ چلا ہے ، اب اگر اللہ تعالی جو ان حیوانات کا خالق ہے ہم کو یہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنے ایک نبی کو جانوروں کی منطق سمجھنے اور ان سے کلام کرنے کی قابلیت عطا کی تھی ، اور اس نبی کے پاس سھائے جانے اور تربیت پانے سے ایک ہدہد اس قابل ہوگیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے یہ کچھ مشاہدے کر کے آتا اور پیغمبر کو ان کی خبر دیتا تھا ، تو بجائے اس کے کہ ہم اللہ تعالی کے اس بیان کی روشنی میں حیوانات کے متعلق اپنے آج تک کے تھوڑے سے علم اور بہت سے قیاسات پر نظر ثانی کریں ، یہ کیا عقلمندی ہے کہ ہم اپنے اس ناکافی علم کو معیار قرار دے کر اللہ تعالی کے اس بیان کی تکذیب یا اس کی معنوی تحریف کرنے لگیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:28) القہ : الق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو ڈال دے۔ الیہم۔ ان کے پاس۔ ان کے سامنے۔ تول عنھم تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی مصدر۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہو تو اس کے درج ذیل معنی ہوسکتے ہیں (1) کسی سے دوستی رکھنے۔ (2) کسی کام کو اٹھانے۔ (3) والی اور حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے (1) ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔ (2) والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے کہ اٹھایا اس بڑی بات کو۔ (3) فہل عسیتم ان تولیہم ۔۔ (47:22) پھر کیا تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو ۔۔ اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو۔ یا پوشیدہ منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی ہوتے ہیں۔ پھر منہ پھیرنے کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک وہاں سے ٹل جانا۔ دوسرے توجہ نہ کرنا اور حکم نہ ماننا۔ تولی عنہم : تو ان سے ایک طرف ہٹ جا۔ فانظر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دیکھ۔ یا انتظار کر جیسے انظرونا نقتبس من نورکم (57:13) ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ حاصل کرلیں ۔ ماذا یرجعون : ما ذا کلمہ استفہامیہ ہے۔ کیا (چیز ، بات) ہے ترجعون مضارع جمع مذکر غائب رجع ورجوع مصدر (باب ضرب) وہ رجوع کرتے ہیں۔ وہ جواب دیتے ہیں۔ یا ماذا یرد بعضھم علی بعض من القول وہ ایک دوسرے سے کیا بات چیت کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی جو باتیں وہ آپس میں کریں انہیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ اور پھر مجھ سے آ کر بیان کر۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یعنی آپ کو معلوم نہ کروا لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ، ہد ہد (وہ خط) لے گیا۔ بلقیس جہاں اکیلی سوتی تھی روزن (روشندان) میں سے جا کر اس کی چھاتی پر رکھ دیا۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے دوسروں کا کلام بھی سمجھتا تھا، سو یہ بھی معجزہ سلیمانی ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(28) جا میرا یہ خط لے جا اور اس خط کو ان کے پاس ڈال دے خط ڈالنے کے بعد ان کے پاس سے ہٹ جا اور دیکھتا رہ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ کو معلوم نکروا لیکن لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ ہُد ہُد لے گیا بلقین جہاں اکیلی سوتی تھی روزن سے جاکر اس کی چھاتی پر رکھ دیا 12