Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 35

سورة النمل

وَ اِنِّیۡ مُرۡسِلَۃٌ اِلَیۡہِمۡ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌۢ بِمَ یَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾

But indeed, I will send to them a gift and see with what [reply] the messengers will return."

میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھ لوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return. meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

351اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ سلیمان (علیہ السلام) کوئی دنیا دار بادشاہ ہے یا نبی مرسل، جس کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے۔ اگر ہدیہ قبول نہیں کیا تو یقینا اس کا مقصد دین کی اشاعت و سر بلندی ہے، پھر ہمیں بھی اطاعت بغیر چارہ نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] ملکہ کی اس تقریر سے یہ تو صاف واضح تھا کہ وہ مقابلہ کے لئے تیار نہیں۔ مگر وہ فوری طور پر مطیع فرمان ہونے پر بھی آمادہ نہ تھی۔ لہذا اس نے ایک دانشمندانہ قوم اٹھاتے ہوئے درمیانی راستہ اختیار کیا۔ جو یہ تھا کہ حضرت سلیمان کے پاس ایک وفد بھیجا جائے اور ساتھ کچھ تحفے تحائف بھی بھیجے جائیں ان لوگوں کے ردعمل سے ان کی ذہنیت پوری طرح واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس نے ہدید کی صورت میں بہت سامان و دولت کچھ سونے کی اینٹیں اور کچھ نوادرات بھیجے اور وفد کے لئے ایسے آدمی انتخاب کئے جو بہت خوبصورت تھے اور اس سے دراصل ہو حضرت سلیمان کا امتحان لینا چاہتی تھی وہ کس قسم کی اشیاء کا شوق رکھتے ہیں۔ نیز یہ کہ اگر وہ دنیا دار بادشاہ ہے تو تحائف قبول کرلے گا۔ اندریں صورت اس سے جنگ بھی لڑی جاسکتی ہے اور نبی ہے تو تحفے قبول نہیں کرے گا نہ اس سے مقابلہ ممکن ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ ۔۔ : اس کے بعد اس نے طے کیا کہ حالات کا جائزہ لیتی رہے اور سلیمان (علیہ السلام) سے موافقت کرکے صلح کرلے۔ چناچہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ میں اس کی طرف ان کے شایان شان تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے قاصدوں کو کیا جواب دیتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ تحفہ قبول کرلیں اور ہم ہر سال کچھ رقم بطور جزیہ بھیجتے رہیں اور وہ ہم پر چڑھائی کا خیال ترک کردیں۔ یہ خاتون اپنے شرک کی حالت اور اسلام کی حالت دونوں میں بہت عقل مند تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کسی کے شوق کے مطابق تحفہ وہ چیز ہے جو لوہے کو بھی نرم کردیتا ہے، اور اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں، اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں، پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں، پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مُضِر ہے۔ مفسرین نے ان تحائف کی عجیب و غریب تفصیلات بیان کی ہیں جو سب اسرائیلیات ہیں، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَإِنِّي مُرْ‌سِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَ‌ةٌ بِمَ يَرْ‌جِعُ الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿٣٥﴾ And I am going to send a gift to them, then see, what response the envoys will bring back.|" 27:35. Appearance of envoys of Bilqls in the court of Sulaiman (علیہ السلام) Historical Isra&ili legends describe in great detail the incident of the visit of the envoys of Bilqis and the gifts they had taken with them. All versions of the legends agree on that the gifts included some gold bricks, some precious stones, one hundred slaves and one hundred slave girls. But the slave girls were dressed in men&s clothes and the slaves were dressed in ladies outfits. There was also a letter from Bilqis, in which there were some questions for testing Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) the selection of gifts also, his test was intended. Allah Ta’ ala had passed on detailed information of gifts to Sulaiman (علیہ السلام) even before their arrival. Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) commanded the Jinns to lay out a floor of gold and silver bricks over a thirty miles stretch from his court, and that strange looking animals be lined up on either side of this pathway. Their excrement of bowels was also to be placed on the floor of gold and silver. Similarly, his court was decorated with special attention. Four thousand chairs of gold were placed on the left side and four thousand on the right side of the main hall for the scholars, ministers, and other officials of the court. The entire hall was bedecked with precious stones. When Bilqis&s envoys saw animals standing on the floor of gold bricks, they were embarrassed with the gifts they had brought with them. It is reported in some narrations that they threw away their gold bricks. Then as they proceeded, they saw rows of beasts and birds on either side of the pathway. After that they came across the rows of jinns. Seeing them, they were browbeaten. Ultimately, when they reached the court and stood before Sayyidna Sulaiman he received them with dignity, and entertained them with veneration. But he returned all their gifts and presents, and answered all the questions sent up by Bilqis. (Qurtubi)

وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ، یعنی میں حضرت سلیمان اور ان کے ارکان دولت کے پاس ایک ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ جو قاصد یہ ہدیہ لے کر جائیں گے وہ واپس آ کر کیا صورت حال بیان کرتے ہیں۔ بلقیس کے قاصدوں کی دربار سلیمانی میں حاضری : تاریخی اسرائیلی روایات میں بلقیس کی طرف سے آنے والے قاصدوں اور تحفوں کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں۔ اتنی بات پر سب روایات متفق ہیں کہ تحفہ میں کچھ سونے کی اینٹیں تھیں کچھ جواہرات اور ایک سو غلام اور ایک سو کنیزیں تھیں مگر کنیزوں کو مردانہ لباس میں اور غلاموں کو زنانہ لباس میں بھیجا تھا اور ساتھ ہی بلقیس کا ایک خط بھی تھا جس میں سلیمان کے امتحان کے لئے کچھ سوالات بھی تھے، تحفوں کے انتخاب میں بھی ان کا امتحان مطلوب تھا۔ حضرت سلیمان کو حق تعالیٰ نے اس کے تحفوں کی تفصیلات ان کے پہنچنے سے پہلے بتلا دی تھیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے جناب کو حکم دیا کہ دربار سے نو فرسخ تقریباً تیس میل کی مسافت میں سونے چاندی کی اینٹوں کا فرش کردیا جائے اور راستہ میں دو طرفہ عجیب الخلقت جانوروں کو کھڑا کردیا جائے جن کا بول و براز بھی سونے چاندی کے فرش پر ہو۔ اسی طرح اپنے دربار کو خاص اہتمام سے مزین فرمایا، دائیں بائیں چار چار ہزار سونے کی کرسیاں ایک طرف علماء کے لئے، دوسری طرف وزراء اور عمال سلطنت کے لئے بچھائی گئیں۔ جواہرات سے پورا ہال مزین کیا گیا۔ بلقیس کے قاصدوں نے جب سونے کی اینٹوں پر جانوروں کو کھڑا دیکھا تو اپنے تحفہ سے شرما گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ اپنی سونے کی اینٹیں وہیں ڈال دیں، پھر جوں جوں آگے بڑھتے گئے دو طرفہ وحوش و طیور کی صفیں دیکھیں، پھر جنات کی صفیں دیکھیں تو بےحد مرعوب ہوگئے مگر جب دربار تک پہنچے اور حضرت سلیمان کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ خندہ پیشانی سے پیش آئے، ان کی مہمانی کا اکرام کیا مگر ان کے تحفے واپس کردیئے اور بلقیس کے سب سوالات کے جوابات دیئے۔ (ملخصًا از تفسیر قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنِّىْ مُرْسِلَۃٌ اِلَيْہِمْ بِہَدِيَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌۢ بِمَ يَرْجِـــعُ الْمُرْسَلُوْنَ۝ ٣٥ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ هَدِيَّةُ والهَدِيَّةُ مختصّة باللُّطَف الذي يُهْدِي بعضنا إلى بعضٍ. قال تعالی: وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ [ النمل/ 35] ، بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ [ النمل/ 36] والمِهْدَى الطّبق الذي يهدى عليه، والْمِهْدَاءُ : من يكثر إِهْدَاءَ الهديّة، قال الشاعر۔ وإنّك مهداء الخنا نطف الحشا والْهَدِيُّ يقال في الهدي، وفي العروس يقال : هَدَيْتُ العروسَ إلى زوجها، وما أحسن هَدِيَّةَ فلان وهَدْيَهُ ، أي : طریقته، وفلان يُهَادِي بين اثنین : إذا مشی بينهما معتمدا عليهما، وتَهَادَتِ المرأة : إذا مشت مشي الهدي . الھدیۃ ان تحائف کو کہا جاتا ہے جو ہم ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ [ النمل/ 35] اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہون ۔ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ [ النمل/ 36] بلکہ اپنے تحفے سے تم ہی خوش ہوتے ہوں گے ۔ المھدی طباق وغیرہ جس میں ہدیہ بھیجا جاتا ہے اور اس شخص کو جو بہت زیادہ تحائف پیش کرنے کا عادی ہو اسے مھداء کہا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے وانک مھداء الخنانطف النشا بیشک تو فحش گو اور بد باطن ہے ۔ لھدی کے معنی قربانی کا جانور اور دلہن اور سیرت کے آتے ہیں چناچہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ ھدیت العروس الیٰ زوجھا دلہن کو شوہر کے پاس بھیجا ما احسن ھدیۃ فلان وھدیۃ یعنی اس کی سیرت کتنی اچھی ہے فلان یھا ویٰ بین اثنین فلاں دو آدمیوں چلتا ہے ۔ تھا دت امرء ۃ عورت کا قرابانی کے جانور کی طرح لڑ کھڑا کر چلنا ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور سردست میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد وہاں سے کیا جواب لاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌم بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ) ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیج کر وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آیا دنیوی مال و دولت کا حصول ہی ان کا مقصد و مدعا ہے یا اس سے آگے بڑھ کر وہ کچھ اور چاہتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:35) ھدیۃ۔ تحفۃ، ہدیہ۔ صفت مشبہ بمعنی مھدیۃ (اسم مفعول) فنظرۃ۔ ف عطف کی ہے نظرۃ معطوف اور مرسلۃ معطوف علیہ ۔ بم۔ باء حرف جر ہے اور ما استفہامیہ ہے حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف ہوگیا ہے۔ بم کسی چیز کے ساتھ۔ بم یرجع المرسلون ۔ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور ان کے لشکر والوں کو 3 ۔ شاید وہ ہدیہ قبول کرلیں اور ہم سے لڑائی کا جو ارادہ رکھتے ہیں اس سے باز آجائیں یا ہم پر خراج عائد کردیں جسے ہم ہر سال ادا کرتے رہیں۔ “ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے قوم کو مشورہ دیا کہ اگر سلیمان ( علیہ السلام) نے تحفہ قبول کرلیا تو وہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح ایک بادشاہ ہیں اور اگر انہوں نے تحفہ قبول نہ کیا تو وہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں جن کی پیروی ضروری ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ بلقیس نے امراء سے کہا میں سلیمان کے پاس تحفے تحائف بھیج کر معلوم کرلوں کہ وہ محض ایک بادشاہ ہے یا واقعی اللہ کا پیغمبر ہے۔ اگر اس نے میرے تحائف قبول کرلیے تو وہ ایک بادشاہ ہے میں اس سے مقابلہ کروں گی اور اگر اس نے تحائف واپس کردئیے تو وہ اللہ کا پیغمبر ہے پھر ہمیں اس کی پیروی اور اس کی اطاعت قبول کرلینی چاہیے۔ قالت لقومہا ان کان ملکا دنیویا ارضاہ المال وعملنا معہ بحسب ذلک وان کان نبیا لم یرضہ المال و ینبغی ان نتبعہ علی دینہ (روح ج 19 ص 198) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(35) اور میں سردست ان لوگوں کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور ا ن لوگوں کے پاس اپنے آدمیوں کے ہاتھ ہدیہ ارسال کرتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے فرستادے کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہا کہ ان بادشاہ کا شوق معلوم کرے جس طرح پر ہے 12 یعنی ان کا ذوق معلوم ہوجائے کہ وہک یا چیز پسند کرتے ہیں اگر کچھ دے کر پیچھا چھوٹ جائے تو اچھا ہے چناچہ ہر قسم کے تحائف روانہ کئے اور جب وہ فرستادہ بیش قیمت جواہرات، گھوڑے، خوبصورت باندیاں وغیرہ لیکر حضرت سلیمان سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں حاضر ہوا۔