Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 37

سورة النمل

اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَ لَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾

Return to them, for we will surely come to them with soldiers that they will be powerless to encounter, and we will surely expel them therefrom in humiliation, and they will be debased."

جا ان کی طرف واپس لوٹ جا ، ہم ان ( کے مقابلہ ) پر وہ لشکر لائیں گے جن کے سامنے پڑنے کی ان میں طاقت نہیں اور ہم انہیں ذلیل و پست کرکے وہاں سے نکال باہر کریں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ارْجِعْ إِلَيْهِمْ ... Go back to them, means, with their gift, ... فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لاَّ قِبَلَ لَهُم بِهَا ... We verily, shall come to them with armies that they cannot resist, they have no power to match them or resist them. ... وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً ... and we shall drive them out from there in disgrace, `we shall drive them out in disgrace from their land.' ... وَهُمْ صَاغِرُونَ and they will be abased. means, humiliated and expelled. When her messengers came back to her with her undelivered gift, and told her what Suleiman said, she and her people paid heed and obeyed him. She came to him with her troops in submission and humility, honoring Suleiman and intending to follow him in Islam. When Suleiman, peace be upon him, realized that they were coming to him, he rejoiced greatly.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

371یہاں صیغہ واحد سے مخاطب کیا جب کہ اس سے قبل صیغہ جمع سے خطاب کیا تھا کیونکہ خطاب میں کبھی پوری جماعت کو ملحوظ رکھا گیا ہے کبھی امیر کو۔ 372حضرت سلیمان (علیہ السلام) نرے بادشاہ ہی نہیں تھے، اللہ کے پیغمبر بھی تھے۔ اس لئے ان کی طرف سے لوگوں کو ذلیل خوار کیا جانا ممکن نہیں تھا، لیکن جنگ و قتال کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کیونکہ جنگ نام ہی کشت و خون اور اسیری کا ہے اور ذلت و خواری سے یہی مراد ہے، ورنہ اللہ کے پیغمبر لوگوں کو خواہ مخواہ ذلیل خوار نہیں کرتے۔ جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طرز عمل اور اسوہ، حسنہ جنگوں کے موقع پر رہا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ ۔۔ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، یعنی یہ تحفے تحائف لے کر واپس چلے جاؤ اور انھیں بتاؤ کہ اگر وہ تابع فرمان ہو کر حاضر نہ ہوئے تو ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہ ہوگی۔ وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَآ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ : ذلت یہ کہ سلطنت اور حکومت چھن جائے گی اور ” صغار “ (حقارت اور پستی) یہ کہ غلام اور قیدی بنیں گے، یا جلاوطن کیے جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف ملکہ سبا کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مسلمانوں کو تمام دنیا کے کفار سے لڑتے رہنے کا حکم ہے، حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دینے کی ذلت قبول کریں اور مسلمانوں کے سامنے پست اور حقیر ہوں، جیسا کہ فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ ) [ التوبۃ : ٢٩ ] ” لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ “ افسوس ! اس کتاب ہدایت نے تو سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کے ساتھ بھی اور صریح الفاظ میں بھی مسلمان کو حکم دیا تھا کہ تمام دنیا کے کفار سے لڑتے رہو، حتیٰ کہ وہ اسلام قبول کرلیں یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دے کر مسلمانوں کے ماتحت ہو کر زندگی بسر کریں، مگر مسلمانوں نے یہ سبق بھلا دیا اور شہادت اور جنت کی لذتوں کی طلب کے بجائے دنیائے فانی کے عیش و عشرت میں کھو گئے اور جہاد سے ہاتھ اٹھا بیٹھے۔ نتیجہ کفار کی ذلّت و پستی کے بجائے مسلمانوں کی ذلّت و پستی کی صورت میں سب کے سامنے ہے اور بقول امام مالک (رض) : ” لَنْ یَّصْلُحَ آخِرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ إِلَّا بِمَا صَلُحَ بِہِ أَوَّلُھَا “ [ شرح سنن أبي داوٗد لعبد المحسن العباد : ٢؍٣٣٤ ] ” اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی نسخے کے ساتھ ہوگی جس کے ساتھ اس امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِرْجِعْ اِلَيْہِمْ فَلَنَاْتِيَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَآ اَذِلَّۃً وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ۝ ٣٧ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ ( قبل) مُقَابَلَةُ والتَّقَابُلُ : أن يُقْبِلَ بعضهم علی بعض، إمّا بالذّات، وإمّا بالعناية والتّوفّر والمودّة . قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلَيْها مُتَقابِلِينَ [ الواقعة/ 16] ، إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ [ الحجر/ 47] ، ولي قِبَلَ فلانٍ كذا، کقولک : عنده . قال تعالی: وَجاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ [ الحاقة/ 9] ، فَمالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ [ المعارج/ 36] ، ويستعار ذلک للقوّة والقدرة علی الْمُقَابَلَةِ ، المقابلۃ والتقابل کے معنی ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں خواہ وہ توجہ بذریعہ ذات کے ہو یا بذریعہ عنایت اور سورت کے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ مُتَّكِئِينَ عَلَيْها مُتَقابِلِينَ [ الواقعة/ 16] آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے ۔ إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ [ الحجر/ 47] بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ لی قبل فلان کذا کے معنی ہیں میرے فلاں کی جانب اتنے ہیں اور یہ عندہ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ«7» [ الحاقة/ 9] اور فرعون اوع جو لوگ اس سے پہلے تھے سب ۔۔۔۔ کرتے تھے ۔ فَمالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ [ المعارج/ 36] تو ان کا فروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑتے چلے آتے ہیں ۔ اور استعارہ کے طور پر قوت اور قدرت علی المقابل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ذلت يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس «6» ، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] ، بغیر تاء کے ذل اور تار کے ساتھ ذلتہ کہا جاتا ہے جیسا کہ قل اور قلتہ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور ( آخری کار ) زلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( اور بےتوانائی ) ان سے چنٹادی گئی ۔ سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور ذلت ( نصیب ہوگی ) منہ زوزی کے بعد سواری کا مطیع ہوجانا اور اس قسم کی مطیع اور مئقاد سواری کا ذلول ( صفت فاعلی ) کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ۔ نہ تو زمین جوتتا ہو ۔ صغر والصَّاغِرُ : الرّاضي بالمنزلة الدّنيّة، قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صاغِرُونَ [ التوبة/ 29] . ( ص غ ر ) الصغریہ صغر صغر وصغار ا کے معنی ذلیل ہونے کے ہیں اور ذلیل اور کم مر تبہ آدمی کو جو اپنی ذلت پر قائع ہو صاغر کہتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صاغِرُونَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جز یہ دیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧) اپنے تحائف لے کر ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا بھی مقابلہ نہیں ہو سکے گا اور ہم ان کو ملک سبا سے اطاعت کا طوق ان کی گردنوں میں ڈال کر نکال دیں گے اور وہ ذلت کے ساتھ ہمیشہ ہمارے ماتحت ہوجائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧ (اِرْجِعْ اِلَیْہِمْ فَلَنَاْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَآ اَذِلَّۃً وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ ) ” یعنی انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننا پڑے گی کہ وہ مسلم (مطیع) ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ‘ ورنہ ہم ان پر لشکر کشی کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 There is a subtle gap between this and the previous sentence, which one can easily till up by a careful study of the discourse. It means this: "O Messengers, take ties gift back to the people who nave sent you. They will either have to yield to our first proposal, i. e. they should come before us as Muslims, or we shall bring forces against them."

سورة النمل حاشیہ نمبر : 42 پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے ، یعنی پوری بات یوں ہے کہ اے سفیر یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ، انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہوکر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ورنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:37) ارجع امر۔ واحد مذکر حاضر۔ جا واپس چلا جا۔ جا لوٹ جا۔ رجوع مصدر باب ضرب یہاں خطاب قاصد سے ہے جس کے لئے آیت 36 میں فلما جاء واحد کا صیغہ ہی استعمال ہوا ہے۔ اور جہاں اس وفد کے لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں قاصد کے ہمراہ جو تحائف بردار تھے ان کو بھی خطاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔ الیہم یعنی ان کی طرف جو تمہارے بھیجنے والے ہیں۔ یعنی ملکہ اور اس کے رؤسائے سلطنت۔ ای الیٰ بلقیس وقومھا۔ فلناتینھم۔ لام تاکید کا ہے ناتین مضارع بانون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم۔ تعدیہ یہ باء (بجنود) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ضرور ان پر (چڑھا) لائیں گے (فوج) ۔ صاحب روح المعانی رقم طراز ہیں :۔ فلناتینھم ای فو اللہ لناتینھم (بجنود) خدا کی قسم ہم ضرور (چڑھا) لائیں گے ان پر (فوج) ۔ اسی بناء پر لنأتینھم جواب قسم اور ولنخرجنھم کا عطف اس جواب قسم پر بیان کرتے ہیں۔ ارجع الیہم اور فلناتینہم کے درمیان ایک خلاء ہے جس کو صاحب تفسیر ماجدی یوں بیان کرتے ہیں :۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا :۔ میں نے دعوت تو اطاعت و اسلام کی دی تھی یہ بلا اطاعت و قبول دعوت محض اظہار دوستی کیسا ؟ یہ تو ایک صورت رشوت کی ہوئی۔ مال و قوت دونوں کے لحاظ سے تو میری سلطنت اللہ کے فضل و کرم سے بلقیس کے ملک سے کہیں بڑھی ہوئی ہے میں ان تحائف و ہدایا کو واپس کرتا ہوں اور عنقریب فوج کشی کرکے ان بےدینوں کو کچل ڈالوں گا : یا دونوں کے درمیان شرط محذوف ہے ای ارجع الیہم فلتاتونی مسلمین والا فلنا نینہم الخ۔ لاقبل لہم بھا۔ قبل یقدیم کے لئے استعمال ہوتا ہے خواہ یہ تقدم زمانی ہو یا تقدم مکانی یو یا مرتبہ میں تقدم ہو یا ترتیب فنی میں تقدم ہو۔ اور استعارہ کے طور پر قوت اور مقابلہ کرنے کی قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے لاقبل لی بکذا میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ آیۃ ہذا میں لاقبل لہم بھا کا معنی بھی اس طرح ہے :۔ جس کے مقابلہ کی ان کو طاقت نہ ہوگی ! ولنخرجنھم واؤ عطف کا ہے اور لنخرجنہم کا عطف جواب قسم پر ہے (ملاحظہ ہو اوپر فلنأتینھم) لام تاکید کا ہے نخرجن مضارع بانون تاکید تقیلہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (یعنی ملکہ بلقیس کی قوم) ہم ضرور ان کو نکال باہر کریں گے۔ منھا : ای من سبا۔ اذلۃ : ذلیل کی جمع قلت ہے۔ متواضع اور نرم دل کے لئے بھی مستعمل ہے حال ہے ضمیر مفعول سے۔ وہم صغرون ۔ یہ بھی حال ہے صغرون، صغر واحد صغار سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے بمعنی ذلیل و خوار۔ الصغر الکبر کی ضد ہے۔ صغر۔ یصغر (سمع) صغر کے معنی چھوٹا ہونے کے بھی ہیں اور صغر یصغر (کرم) صغر و صغار کے معنی ذلیل ہونے اور ذلت پر قانع ہونے کے ہیں اور اسی سے ہے صغر کے معنی ذلیل اور کم مرتبہ آدمی جو اپنی ذلت پر قانع ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

32:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے ایلچیوں کے لیڈر کو حکم دیا کہ تم واپس جاؤ اور بلقیس اور امراء سلطنت سے کہہ دو کہ وہ مومن ہو کر میرے پاس آجائیں ورنہ ایسے بےحساب لشکروں سے ان پر چڑھائی کروں گا جن کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں اور ان کو ملک سبا سے ذلیل و رسوا کر کے نکال دوں گا۔ یہاں عبارت میں حذف و تقدیر ہے کانہ قیل ارجع الیھم فلیاتونی مسلمین والا فلناتینھم الخ (روح ج 19 ص 201) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) اے ایلچی تو انہی اہل سبا کی طرف واپس ہوجا اور لوٹ جا اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لیکر پہنچتے ہیں کہ ان لوگوں سے اس لشکر کا مقابلہ اور سامنا نہ ہوسکے گا اور ہم ان کو شہر سبا سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ ذلیل اور محکوم ہوجائیں گے یعنی ہم نے تو اس لئے پیغام بھیجا تھا کہ وہ مشرکانہ افعال کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیتے لیکن اگر وہ مال کا لالچ دے کر دین حق سے بچناچاہتے ہیں تو تو واپس جا اور ان کو اطلاع دے دے کہ اب جو بات ہوگی میدان جنگ میں ہی ہوگی اور وہ ہمارے لشکرکا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہمیشہ کے لئے محکوم اور ذلیل ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور کسی پیغمبر نے اس طرح بات نہیں فرمائی ان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زور تھا جو یہ فرمایا 12