Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 44

سورة النمل

قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾  18

She was told, "Enter the palace." But when she saw it, she thought it was a body of water and uncovered her shins [to wade through]. He said, "Indeed, it is a palace [whose floor is] made smooth with glass." She said, "My Lord, indeed I have wronged myself, and I submit with Solomon to Allah , Lord of the worlds."

اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو ، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں فرمایا یہ تو شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے ، کہنے لگی میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا ... It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs. Suleiman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water. ... قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ ... He (Suleiman) said: "Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir." means a palace or any lofty construction. Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman: ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ Build me a Sarh that I may arrive at the ways. (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth. ... مِّن قَوَارِيرَ ... of Qawarir, means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Suleiman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said: ... قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ... She said: My Lord! Verily, I have wronged myself, meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah. ... وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ and I submit, together with Suleiman to Allah, the Lord of all that exists. meaning, following the religion of Suleiman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

441یہ محل شیشے کا بنا ہوا تھا، جس کا صحن اور فرش بھی شیشے کا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی نبوت کے اعجازی مظاہرے دکھانے کے بعد مناسب سمجھا کہ اسے اپنی دنیاوی شان و شوکت کی بھی ایک جھلک دکھلا دی جائے جس میں اللہ نے انھیں تاریخ انسانیت میں ممتاز کیا تھا۔ چناچہ اس محل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا، جب وہ داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پانچے چڑھا لئے۔ شیشے کا فرش اسے پانی معلوم ہوا جس سے اپنے کپڑوں کو بچانے کے لئے اس نے کپڑے سمیٹ لئے۔ 442یعنی جب اس پر فرش کی حقیقت واضح ہوئی تو اپنی کوتاہی اور غلطی کا بھی احساس ہوگیا اور اعتراف قصور کرتے ہوئے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا صاف چکنے گھڑے ہوئے پتھروں کو ممرد کہا جاتا ہے اسی سے مراد ہے جو اس خوش شکل بچے کو کہا جاتا ہے جس کے چہرے پر ابھی ڈاڑھی مونچھ نہ ہو جس درخت پر پتے نہ ہوں اسے شجرۃ مرداء کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ لیکن یہاں یہ تعبیر یا جڑاؤ کے معنی میں ہے یعنی شیشوں کا بنا ہوا یا جڑا ہوا محل۔ ملحوظہ : ملکہ سبا بلقیس کے مسلمان ہونے کے بعد کیا ہوا ؟ قرآن میں یا کسی صحیح حدیث میں اس کی تفصیل نہیں ملتی تفسیری روایات میں یہ ضرور ملتا ہے کہ ان کا باہم نکاح ہوگیا تھا لیکن جب قرآن و حدیث اس صراحت سے خاموش ہیں تو اس کی بابت خاموشی ہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] یہ بلقیس کی عقل کا دوسرا امتحان تھا۔ حصرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے محل کا صحن کچھ انداز سے بنوایا تھا جس کے اوپر شیشہ جڑا ہوا تھا۔ لیکن جب کوئی شخص محل میں داخل ہوتا تو اس کا زاویہ نگاہ ایسا ہوتا تھا کہ اسے وہ صحن ایک گہرا پانی کا حوض معلوم ہوتا تھا۔ جس میں پانی لہریں مار رہا ہو۔ اور اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے کسی دور سے دیکھنے والے کو ریت کا تودہ یا سراب ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی نظر آتا ہے۔ آپ نے بلقیس سے فرمایا کہ چلو اب محل میں چلیں۔ بلقیس نے جب صحن کا یہ نظارا دیکھا۔ تو اسے پانی کا گہرا حوض سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے اپنے پائنچے اٹھا لئے۔ تب سلیمان (علیہ السلام) نے اسے بتلایا کہ پائنچے اوپر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پانی کا حوض نہیں بلکہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ گویا وہ اس امتحان میں دھوکا کھا گئی۔ [٤٣] یعنی جس طرح میں نے شیشہ کے صحن کو پانی کا لہریں مارنے والا گہرا حوض سمجھ کر غلطی کھائی ہے۔ اسی طرح میں اور میری قوم سورج کی چمک اور دمک دیکھ کر اسے معبود سمجھنے لگے تو یہ بھی ہماری فاش غلطی اور اپنے آپ پر ظلم تھا۔ [٤٤] بلقیس جو اللہ رب العالمین پر ایمان لائی تو یہ علی وجہ البصرت تھا۔ کئی واقعات پہلے ایسے گزر چکے تھے۔ جن سے اسے یہ یقین ہوتا جارہا تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) واقعی حق پر ہیں اور اللہ کے نبی ہیں اور اس کے مذہب کی بنیاد باطل پر ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے خط کے مضمون سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس قسم کا خط بھیجنے والا کوئی عام فرمانروا نہیں ہوسکتا۔ پھر جس نامہ بر کے ذریعہ اسے یہ خط پہنچا تھا وہ بھی ایک غیر معمولی بات تھی۔ اور تحائف کی واپسی سے بھی اس نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کوئی دنیا دار فرمانروا نہیں نیز یہ کہ وہ کبھی اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکے گی۔ پھر تحائف لانے والے وفد نے جو عظیم فرمانروا کے منکسرانہ مزاج اور پاکیزہ سیرت کے حالات بیان کئے تھے تو ان باتوں سے بھی وہ شدید متاثر ہوچکی تھی۔ پھر جب وہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچی تو جس تخت کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر آئی تھی اسے اپنے سامنے پڑا دیکھ کر وہ حضرت سلیمان کی نبوت کی دل سے قائل ہوچکی تھی۔ اب محل میں داخلہ کے وقت جس چیز نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ چیز تھی کہ اتنا بڑا فرمانروا جس کے پاس اس سے کئی گناہ زیادہ مال و دولت اور عیش و عشرت کے سامان موجود ہیں وہ اس قدر اللہ کا شکر گزار اور منکسرالمزاج اور متواضع بھی ہوسکتا ہے۔ ان سب باتوں نے مل کر اسے مجبور کردیا کہ وہ حضرت سلیمان کے سامنے اب برملا اپنے ایمان لانے کا اعلان کردے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے محل میں بلقیس کے داخل ہونے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کے بارے میں بھی عقل پرستوں نے بہت سے نامعقول تاویلات پیش فرمائیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ بلقیس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا نہیں اٹھایا بلکہ اس شیش محل کی دیواروں پر جو کپڑے پڑے ہوئے تھے اس نے وہ اٹھائے تھے اور لحہ کے معنی گہرا پانی ہی نہیں بلکہ پانی جیسی چمک دمک اور آب و تاب بھی ہے جو اس شیش محل میں پائی جاتی تھی۔ ان نامعقول تاویلات کے تفصیلی تجزیہ کا یہ موقعہ نہیں مختصراً ایک دو باتیں عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فلما راقد حسبتژ لجہ و کشف عن سا قیہا بلقیس نے اس محل کو دیکھا تو اسے گہرا پانی خیال کیا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا ( گویا محل کے لئے صمیر مذکر استعمال ہوئی ہے۔ اور دیوار کا لفظ اگرچہ یہاں موجود نہیں تاہم اگر وہ بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ بھی مذکر استعمال ہوتا ہے (١٨: ٨٢) لیکن جس کی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا گیا اس کے لئے مونث کا ضمیر استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں محل کی یا کسی بھی کمرے کی چار دیواریں ہوتی ہیں دو نہیں ہوتی جبکہ یہاں تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ تیسرے یہ کہ ساق کا لفظ پنڈلی یا درخت کے تنہ کے لئے تو آتا ہے دیوار یا ہراس چیز کے نچلے حصہ کے لئے نہیں آتا جو ساری کی ساری ایک جیسی ہو۔ اور یہ معلوم ہی نہ ہوسکے کہ ساق کہا سے شروع ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۔۔ :” قَوَارِیْرَ “ ” قَارُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، شیشے۔ ” لُجَّةً “ بہت زیادہ اور گہرا پانی۔ ” مُّمَرَّدٌ“ ” ملائم، چکنا بنایا ہوا۔ “ ” صَرْحٌ“ کا معنی محل بھی ہے اور صحن بھی۔ یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز سلیمان (علیہ السلام) کا خط اور اس کا عجیب و غریب طریقے سے پہنچنا تھا، جس میں اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری چیز سلیمان (علیہ السلام) کا اس کے بیش قیمت ہدیوں کو واپس کردینا اور لشکر کشی کی دھمکی تھی۔ تیسری چیز تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے اس کے تخت کا اس کے آنے سے پہلے پہنچ جانا تھا۔ ابتدائی ملاقات اور گفتگو کے بعد اسے سلیمان (علیہ السلام) کے محل میں چلنے کے لیے کہا گیا، جب اس نے صحن کو دیکھا تو سمجھی کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا، جیسے گہرے پانی سے گزرنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ کیونکہ وہ بلور کا فرش تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی کہ شیشے کے بجائے گہر ا پانی دکھائی دیتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ پانی نہیں بلکہ نہایت صفائی کے ساتھ شیشوں کو جوڑ کر بنایا ہوا چکنا ملائم فرش ہے۔ 3 محل میں داخلے کے اس واقعہ سے سلیمان (علیہ السلام) کی کمال حکمت معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے ملکہ سبا کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اختیار فرمائی۔ شیشے کے اس محل اور صحن کا اہتمام سلیمان (علیہ السلام) نے اس لیے فرمایا کہ ملکہ کو پتا چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بہت بڑھ کر سامان موجود ہے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انھیں رب سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان (یعنی سلیمان (علیہ السلام ) کی عقل کا کمال معلوم ہوا، سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔ “ (موضح) اس چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آ رہا ہے۔ اس میں سلیمان (علیہ السلام) کی کمال حکمت کے ساتھ ملکہ کی کمال دانائی اور ذہانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) جو بات اسے اس طریقے سے سمجھانا چاہتے تھے، وہ سمجھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو ہی اس پر صحیح اثر انداز ہوتی ہے۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ۔۔ : فرش کی حقیقت سے آگاہی ملکہ کے لیے توحید سے آگاہی کا ذریعہ بن گئی۔ چناچہ اس نے کہا، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اب تک شرک میں مبتلا رہی اور تجھے بھلائے رکھا اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آئی اور اس کی مکمل فرماں بردار بن گئی۔ تنبیہ : سلیمان (علیہ السلام) کے اس قصے میں بہت سی باتیں اسرائیلیات سے داخل کردی گئی ہیں، مثلاً یہ کہ ملکہ سبا کی ماں جنات سے تھی اور یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کے پاؤں تو گدھے کے جسم جیسے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔ اس پر انھوں نے بلور کا یہ محل بنوایا، تاکہ اس کے کپڑا اٹھانے سے اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھ سکیں۔ جب اس نے کپڑا اٹھایا اور سلیمان (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ تو نہایت خوب صورت تھی، ہاں ! اس کی پنڈلیوں پر بال تھے، انھوں نے جنوں سے پوچھا کہ ان بالوں کا کیا کریں تو انھوں نے بال صفا پاؤڈر ایجاد کیا، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے نکاح کرلیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بےاصل ہیں، بلکہ سلیمان (علیہ السلام) جیسے شخص کی ذات پر لگائی گئی کمینی تہمتیں ہیں، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے : (نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ) [ صٓ : ٤٤ ] ”(سلیمان) اچھا بندہ تھا، یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ “ اصل حقیقت یہی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے جو کچھ بھی کیا اسلام کی دعوت پھیلانے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا اور ان کے یہ تمام واقعات ہمارے لیے سبق ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Did Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) marry Bilqis? The story of Bilqis has ended in the above verses on the statement that she converted to Islam after coming to Sayyidna Sulaiman ۔ (علیہ السلام) What happened after that? The Qur&an is silent on this. It is for this reason that when someone asked ` Abdullah ibn ` Uyaynah whether Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had married Bilqis, he answered that her case has finished on this أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ (I submit, along with Sulaiman (علیہ السلام) ، to Allah, the Lord of the worlds - 44). The idea behind this answer was that when Qur&an has not divulged anything after that, it is not for us to probe any further. But Ibn ` Asakir has reported on the authority of Sayyidna ` Ikrimah (رض) that Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had married Bilqis after that, and she was retained as the sovereign of her country. She was then sent back to Yemen, and Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) used to visit her every month for three days. He got three palaces made for her in Yemen, which had no parallel of their kind. (Only God knows best)

معارف و مسائل کیا بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے نکاح میں آگئی تھیں : آیات مذکورہ میں بلقیس کا واقعہ اسی پر ختم ہوگیا کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوگئی۔ اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ؟ قرآن کریم نے اس سے سکوت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص نے جب عبداللہ ابن عیینہ سے پوچھا کہ کیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے ساتھ نکاح کرلیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ اس پر ختم ہوگیا اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ مطلب یہ تھا کہ قرآن نے یہیں تک اس کا حال بیان کیا ہے اس کے بعد کا حال بتلانا قرآن نے چھوڑ دیا تو ہمیں بھی اس کی تفتیش میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر ابن عساکر نے حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ اس کے بعد بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے نکاح میں آگئی اور اس کو اس کے ملک پر برقرار رکھ کر یمن واپس بھیج دیا۔ ہر مہینے حضرت سلیمان (علیہ السلام) وہاں تشریف لے جاتے اور تین روز قیام فرماتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے لئے یمن میں تین عمدہ محلات ایسے تیار کرا دیئے تھے جس کی مثال و نظیر نہیں تھی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قِيْلَ لَہَا ادْخُلِي الصَّرْحَ۝ ٠ۚ فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّـۃً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْہَا۝ ٠ۭ قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ۝ ٠ۥۭ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٤٤ۧ صرح الصَّرْحُ : بيت عال مزوّق سمّي بذلک اعتبارا بکونه صَرْحاً عن الشّوب أي : خالصا . قال اللہ تعالی: صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، يلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ [ النمل/ 44] ، ولبن صَرِيحٌ بيّن الصَّرَاحَةِ ، والصَّرُوحَةِ ، وصَرِيحُ الحقّ : خلص عن محضه، وصَرَّحَ فلان بما في نفسه، وقیل : عاد تعریضک تَصْرِيحًا، وجاء صُرَاحاً جهارا . ( ص ر ح ) الصرح ؛بلند منقش ومزین مکان ۔ ہر قسم کے عیب سے پاک ہونے کے اعتبار سے اسے صرح کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ایسا محل ہے جس کے ( نیچے بھی ) شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔ يلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ [ النمل/ 44]( پھر اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے ۔ لبن صریح : خالص دودھ ۔ صریح الحق : خالص حق جس میں باطل کی آمیزش نہ ہو صرح فلان فی نفسہ فلاں نے اپنے دل کی بات صاف صاف بیان کردی ۔ محاورہ ہے ۔ عاد تعریضک تصریحا ۔ تمہاری تعریض نے تصریح کا کام دیا ۔ جاء صراحا : وہ کھلے بندوں آیا ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ لج اللَّجَاجُ : التّمادي والعناد في تعاطي الفعل المزجور عنه، وقد لَجَّ في الأمر يَلجُّ لَجَاجاً ، قال تعالی: وَلَوْ رَحِمْناهُمْ وَكَشَفْنا ما بِهِمْ مِنْ ضُرٍّ لَلَجُّوا فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ المؤمنون/ 75] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ومنه : لَجَّةُ الصّوت بفتح اللام . أي : تردّده، ولُجَّةُ البحر بالضّم : تردّد أمواجه، ولُجَّةُ اللیل : تردّد ظلامه، ويقال في كلّ واحد لَجَّ والْتَجَّ. قال : فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] منسوب إلى لجّة البحر، وما روي : ( وضع اللّجّ علی قفيّ ) ، أصله : قفاي، فقلب الألف ياء، وهو لغة فعبارة عن السّيف المتموّج ماؤه، واللَّجْلَجَةُ : التّردّد في الکلام وفي ابتلاع الطّعام، قال الشاعر : يُلَجْلِجَ مضغة فيها أنيض «5» أي : غير منضج، ورجل لَجْلَجٌ ولَجْلَاجٌ: في کلامه تردّد، وقیل : الحقّ أبلج والباطل لَجْلَجٌ. أي : لا يستقیم في قول قائله، وفي فعل فاعله بل يتردّد فيه . ( ل ج ج ) اللجاج ( مصدر ض س ) کے معنی کسی ممنوع کام کے کرنے میں بڑھتے چلے جاتے اور اس پر ضد کرنے کے ہیں اس سے فعل لج فی الامر استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ رَحِمْناهُمْ وَكَشَفْنا ما بِهِمْ مِنْ ضُرٍّ لَلَجُّوا فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ المؤمنون/ 75] اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں انہیں پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سر کشی پر اڑے رہیں اور بھٹکے ( پھریں ) بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ اسی سے لجۃ الصوف مشہور ہے جس کے معنی اواز کے بار بار آنے جانے اور پلٹنے کے ہیں ۔ لجۃ البحر ( بضم اللام ) سمندر کی موجوں کا تلاطم ( ان کا بار بار آنا اور پلٹنا ) لجۃ اللیل ۔ رات کی تاریکی کا آنا جان اور سخت ہونا ۔ اور لجۃ و لجۃ میں ایک لغت لج ولج بھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] دریائے عمیق میں میں لجی بھی لجۃ البحر کی طرف منسوب ہے اور روایت اس نے میری گر دن پر تلوار رکھ دی ) میں لج کے معنی آبد ار تلوار کے ہیں اور قفی اصل میں قفای ہے الف یاء سے مبدل ہو کر یاء میں ادغام ہوگیا ہے ۔ اللجلجۃ کے معنی ہکلاپن کے ہیں اور نیز لقمہ کو بغیر چبائے منہ میں پھر انے کو بھی لجلجۃ کہتے ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ۔ ( 392 ) یلجلج مضغۃ فیھا انیض یعنی منہ میں گوشت کا نیم پختہ ٹکڑا پھر ا رہا ہے ۔ رجل لجلج ہکلا رک رک کر بات کرنے والا ۔ الحق ایلج والباطل لجلج حق واضح ہے اور باطل مشتبہ یعنی کوئی شخص باطل کو نہ تو صاف طور پر بیان کرسکتا ہے اور نہ انشراح صدر کے ساتھ اسے انجام دے سکتا ہے ۔ بلکہ اس میں ہمیشہ متردور رہتا ہے ۔ كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش ف ) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔ ساق سَوْقُ الإبل : جلبها وطردها، يقال : سُقْتُهُ فَانْسَاقَ ، والسَّيِّقَةُ : ما يُسَاقُ من الدّوابّ. وسُقْتُ المهر إلى المرأة، وذلک أنّ مهورهم کانت الإبل، وقوله : إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] ، نحو قوله : وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] ، وقوله : سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : ملك يَسُوقُهُ ، وآخر يشهد عليه وله، وقیل : هو کقوله : كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] ، وقوله : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] ، قيل : عني التفاف الساقین عند خروج الروح . وقیل : التفافهما عند ما يلفّان في الکفن، وقیل : هو أن يموت فلا تحملانه بعد أن کانتا تقلّانه، وقیل : أراد التفاف البليّة بالبليّة نحو قوله تعالی: يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] ، من قولهم : کشفت الحرب عن ساقها، وقال بعضهم في قوله : يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] :إنه إشارة إلى شدّة «2» ، وهو أن يموت الولد في بطن الناقة فيدخل المذمّر يده في رحمها فيأخذ بساقه فيخرجه ميّتا، قال : فهذا هو الکشف عن الساق، فجعل لكلّ أمر فظیع . وقوله : فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] ، قيل : هو جمع ساق نحو : لابة ولوب، وقارة وقور، وعلی هذا : فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، ورجل أَسْوَقُ ، وامرأة سَوْقَاءُ بيّنة السّوق، أي : عظیمة السّاق، والسُّوقُ : الموضع الذي يجلب إليه المتاع للبیع، قال : وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] ، والسَّوِيقُ سمّي لِانْسِوَاقِهِ في الحلق من غير مضغ ( س و ق) سوق الابل کے معنی اونٹ کو سنکانے اور چلانے کے ہیں یہ سفقتہ ( ن) کا مصدر ہے اور انسان ( انفعال ) کے معنی ہنکانے کے بعد چل پڑنے کے ہیں ان جانوروں کو جو ہنکائے جاتے ہیں سیقۃ کہا جاتا ہے ۔ اور عورت کو مہر ادا کرنے کے لئے سقت المھر الی المرءۃ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب حق مہر میں وعام طور پر ) اونٹ دیا کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] میں امساق سے معنی پروردگار کی طرف چلنا کے ہیں جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] میں ہے یعنی تمہیں اپنے پروردگار کے پاس پہچنا ہے اور آیت سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک ( اس کے عملوں کی ) گواہی دینے والا ۔ میں سابق سے وہ فرشتہ مراد ہے جو اسے چلا کر حساب کے لئے پیش کرے گا اور دوسرا فرشتہ شہید بطور گواہ کے اس کے ساتھ ہوگا جو اسکے حق میں یا سکے خلاف گواہی گا بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت : ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کیطرف دھکیلے جاتے ہیں کے ہم معنی ہے اور آیت : ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] اور پنڈلی لپٹ جائے گی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں قبض روح کے وقت پنڈلیوں کا لپٹنا مراد لیا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان لپٹنے سے مراد موت ہے کہ زندگی میں وہ اس کے بوجھ کو اٹھا کر چلتی تھیں لیکن موت کے بعد وہ اس بار کی متحمل نہیں ہوسکیں گی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک شدت کا دوسری شدت سے لپٹنا مراد ہے اسی طرح آیت : ۔ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا ۔ میں پنڈلی سے کپرا ا اٹھانا صعوبت حال سے کنایہ ہے اور یہ کشفت الحرب عن ساقھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی لڑائی کے سخت ہوجانے ہیں ۔ بعض نے اس کی اصل یہ بیان کی ہے کہ جب اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو مزمر ( جنوانے والا ) اس کے رحم کے اندر ہاتھ ڈالتا ہے : ۔ اور اسے پنڈلیوں سے پکڑ کر ذور سے باہر نکالتا ہے ۔ اور یہ کشف عن الناق کے اصل معنی ہیں پھر ہر ہولناک امر کے متعلق یہ محاورہ استعمال ہوناے لگا ہے تو یہاں بھی شدت حال سے کنایہ ہے اور آیت : ۔ فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سوق ساق کی جمع ہے جیسے لابۃ کی جمع لوب اور فارۃ کی جمع فور آتی ہے ۔ اور اسی طرح آیت : ۔ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گر دنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ۔ میں بھی سوق صیغہ جمع ہے اور رجل اسوق کر معنی بڑی پنڈلیوں والے آدمی کے ہیں اسکی مؤنث سوقاء آتی ہے اور سوق کے معنی بازار بھی آتے ہیں جہاں خرید فروخت ہوتی ہے اور فروخت کے لئے وہاں سامان لے جایا جاتا ہے اس کی جمع اسواق ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے ۔ اور بازروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ السویق کے معنی ستو کے ہیں کیونکہ وہ بغیر جائے حلق سے نیچے اتر جاتے ہیں ۔ مرد قال اللہ تعالی: وَحِفْظاً مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ مارِدٍ [ الصافات/ 7] والمارد والمرِيد من شياطین الجنّ والإنس : المتعرّي من الخیرات . من قولهم : شجرٌ أَمْرَدُ : إذا تعرّى من الورق، ومنه قيل : رملةٌ مَرْدَاءُ : لم تنبت شيئا، ومنه : الأمرد لتجرّده عن الشّعر . وروي : «أهل الجنّة مُرْدٌ» «4» فقیل : حمل علی ظاهره، وقیل : معناه : معرون من الشّوائب والقبائح، ومنه قيل : مَرَدَ فلانٌ عن القبائح، ومَرَدَ عن المحاسن وعن الطاعة . قال تعالی: وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] أي : ارتکسوا عن الخیر وهم علی النّفاق، وقوله : مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] أي : مملّس . من قولهم : شجرةٌ مَرْدَاءُ : إذا لم يكن عليها ورق، وكأنّ المُمَرَّدَ إشارة إلى قول الشاعرفي مجدل شيّد بنیانه ... يزلّ عنه ظفر الظّافر ومَارِدٌ: حصن معروف وفي الأمثال : تَمرَّدَ ماردٌ وعزّ الأبلق قاله ملک امتنع عليه هذان الحصنان . ( م ر د ) المارد والمرید ۔ جنوں اور انسانوں سے اس شیطان کو کہاجاتا ہے جو ہر قسم کی خیر سے عاری ہوچکا ہو ۔ قرآن پاک میں ہے : وَحِفْظاً مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ مارِدٍ [ الصافات/ 7] اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کے لئے ۔ یہ شجر امرد سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں وہ درخت جس کے پتے نہ ہوں ۔ اور اسی سے رملۃ مرداء ہے یعنی ریت کا ٹیلہ جس پر کوئی چیز نہ اگتی ہو اور اس سے امرد اس نوجوان کو کہتے ہیں جس کے ہنوز سبزہ نہ اگاہو ۔ حدیث میں ہے اھل الجنۃ کلم مرد ) کہ اہل جنت سب کے سب امرد ہوں گے ۔ چناچہ بعض نے اس حدیث کو ظاہری معنی پر ہی حمل کیا ہے ۔ اور بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ دو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہوں گے ۔ جیسے محاورہ ہے : مرد فلان عن القیائح فلاں ہر قسم کی قباحت سے پاک ہے ۔ مرر فلان عن المجاسن وہ محاسن سے عاری ہے ۔ مرر عن للطاعۃ ۔ سرکشی کرنا ۔ پس آیت کریمہ : وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] ومن اھل المدینہ مردو ا عن النفاق کے معنی یہ ہیں ۔ کہ اہل مدینہ سے بعض لوگ ۔۔۔ نفاق پر اڑ کر ہر قسم کی خیر سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] شیشے جڑے ہونے کی وجہ سے ہموار ۔ میں ممرد کے معنی ہموار ی چکنا کیا ہوا کے ہیں ۔ اور یہ شجرۃ مردآء سے ماخوذ ہے ۔ گویا ممرد کے لفظ سے اس کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جسے شاعر نے یوں بیان کیا ہے ( سریع ) (406) فی مجلدل شید بنیانہ یزل عنہ ظفرا لطائر ایک مضبوط محل میں جس پر ایسا پلا سڑ لگا گیا ہے کہ اس سے پرند کے ناخن بھی پھسل جاتے ہیں ۔ مارد ایک مشہور قلعے کا نام ہے ۔ مثل مشہور ہے مرد مارد وعزالابلق۔ مارہ ( قلعہ ) نے سرکشی کی اور ابلق ( قلعہ ) غالب رہا ۔ یعنی وہ دونوں قلعے سر نہ ہوسکے ۔ یہ مقولہ ایک باشاہ کا ہے جو ان دونوں قلعوں کو زیر نہیں کرسکا تھا ۔ قارُورَةُ والقارُورَةُ معروفة، وجمعها : قَوَارِيرُ قال : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] ، وقال : رْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، أي : من زجاج . القارودۃ شیشہ جمع قواریر قرآن میں ہے : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] اور شیشے بھی چاندی کے ۔ صبح ممرد من قواریر یہ ایسا محل ہے جس میں ( نیچے ) شیشے جڑے ہوئے ہیں یعنی شیشے کا بنا ہوا ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اس کے بعد بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو تو جب بلقیس نے اس کا صحن دیکھا تو پانی سے بھرا ہوا سمجھا اور اندر داخل ہونے کے لیے دامن اٹھائے۔ اس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا یہ تو ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے اور یہ حوض بھی شیشہ سے پٹا ہوا ہے لہذا گھبرانے اور دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں اندر چلی آؤ اس وقت بلقیس کے دل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دینی و دنیوی عظمت کمال کو پہنچ گئی اور کہہ اٹھیں کہ اے میرے پروردگار میں نے سورج کی پوجا کر کے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور اب میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ پر رب العالمین پر ایمان لے آئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط) ” یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔ (قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55 This was the last thing that opened the queen's eyes. The tirst thing was Solomon's letter that had been begun with the name of the AII-Compassionate, the AII-Merciful AIlah, a way different front the common custom prevalent among the kings. The second was his rejection of her gifts, which made the queen understand that he was a different kind of king. The third was the report made by the queen's envoys froth which she came to know about Solomon's pious life, his wisdom and his message of the Truth. This very dung had induced her to travel to Jerusalem herself to personally meet the Prophet Solomon, and to this she had referred when she said. "We had already known this and we had become Muslims." The fourth thing was the removal of her throne from Ma'rib to Jerusalem in no time, from which the queen realized that he had allah's power at Itil hack. Now this was the last thing that removed every doubt front her mind regarding the unique and great personality of the Prophet Solomon. When she saw that in spite of possessing every means of comfort and ease and a grand palace for a dwelling, he was so free from every conceit, so God-fearing and righteous and so grateful to God that he bowed before Him far every small favour and his life so different from the life of those who were enamoured of the world, she exclaimed the words that follow. 56 This story of the Prophet Solomon and the queen of Sheba has been related in the Old and the New Testaments and the Israelite traditions in different ways, but the Qur'anic narration differs from alI others. A resume of the story as given in the Old Testament is as follows: "And when the queen of Sheba heard of the tame of Solomon, she came to prove Solomon with hard questions at Jerusalem, with a very great company . when she was come to Solomon, she communed with him of aII that was in her heart. And Solomon told her all her questions ...... And when the queen of Sheba had seen the wisdom of Solomon, and the house that he had built, and the meat of his table, and the sitting of his servants, and the attendance of his ministers, and their apparel; his cupbearers also, and their apparel; and his ascent by which he went up into the house of the Lord; there was no more spirit in her. And she said to the king, It was a true report which I heard in mine own land of thine acts, and of thine wisdom: Howbeit I believed nut their words, until I carte, and thine eves had seen it: and, behold, the one half of the greatness of they wisdom Was not told rte: for thou exceedest the (ante that 1 heard. Happy are thy men. and happy are these thy servants, which stand continually before thee, and hear thy wisdom. Blessed be the Lord they God, which delighted in thee to set thee on his throne ..... And she gave the king an hundred and twenty talents of gold, and of spices great abundance and precious stones: neither was there any such spice as the queen of Sheba gave king Solomon ..... And king Solomon gave to the queen of Sheba aII her desire, whatever she asked ..... So she turned, and went away to her own land, she and her servants." (2 Chronicles, 9: 1-12. A similar account is also found in I Kings, 10: 1-13). In the New Testament. the following sentence only has been reported from a discourse of the Prophet Jesus about the queen of Sheba . "The queen of the south shall rise up in the judgement with this generation, and shall condemn it: for she came from the uttermost parts of the earth to hear the wisdom of Solomon; and, behold, a greater than Solomon is here." (Matthew, 12: 42; Luke, 11: 31). The story of the Prophet Solomon and the queen of Sheba as given in the rabbinical traditions resembles in most parts with the Qur'anic version. The hopoe's absence, then its .arrival and reporting about Sheba and its queen, the Prophet Solomon's sending her a letter through it, the hoopoe's dropping the letter in front of the queen right at the time when she was going for sun-worship, the queen's calling for her ministers' council, then her sending of valuable gifts to Solomon, her travelling to Jerusalem and meeting him personally, her arrival in the palace and thinking that Prophet Solomon was sitting in the midst of a pool of water, tucking up her skirt in order to enter it-all this has been mentioned in these traditions as in the Qur'an. But there is no mention whatsoever in these traditions of the Prophet Solomon's reply on receipt of the gift, having the queen's th rune fetched from Ma'rib, his bowing down before God in thankfulness for every favour of His, and the queen's embracing the Faith ultimately, at his hand, his belief in the oneness of God, etc. And worst of aII, these wicked people have accused Prophet Solomon of having committed adultery, God forbid, with the queen of Sheba, giving rise to an illegitimate race, which gave birth to Nebuchadnezzar, the king of Babylon, who destroyed Jerusalem. (jewish Encyclopedia, Vol. XI, p. 443). The fact of the matter is that n section of the Jewish learned men have been highly critical of the Prophet Solomon. They have accused him of heinous crimes like violating the Commandments of the Torah, of pride of government, pride of wisdom, of being a hen-pecked husband, and of luxurious living, polytheism and idol-worship. (Jewish Encyclopedia, Vol. XI, pp. 439-441). It is due to this propaganda that the Bible presents him only as a king instead of a Prophet, a king who was lost in the love of polytheistic women against the Divine Commandments, whose heart was turned away from God, and was turned to other gods and goddesses. (I Kings, 11: 1-11). As against this it can be seen what great favour has the Qur'an done to the Israelites by cleansing the personalities of their elders of the tilth thrown at them by themselves, and yet the Israelites, ungrateful as they are, look upon the Qur'an and him who brought it as their enemies.

سورة النمل حاشیہ نمبر :55 یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں ، پہلی چیز حضرت سلیمان کا وہ خط تھا جو عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمان و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا ، دوسری چیز اس کے بیش قیمت ہدیوں کو رد کرنا تھا جس سے ملکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ بادشاہ کسی اور طرز کا ہے ، تیسری چیز ملکہ کی سفارت کا بیان تھا جس سے اس کو حضرت سلیمان کی متقیانہ زندگی ، ان کی حکمت اور ان کی دعوت حق کا علم ہوا ، اسی چیز نے اسے آمادہ کیا کہ خود چل کر ان سے ملاقات کرے ، اور اسی کی طرف اس نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا کہ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہوچکے تھے ۔ چوتھی چیز اس عظیم الشان تخت کا آناً فاناً مارب سے بیت المقدس پہنچ جانا تھا جس سے ملکہ کو معلوم ہوا کہ اس شخص کی پشت پر اللہ تعالی کی طاقت ہے ، اور اب آخری چیز یہ تھی کہ اس نے دیکھا جو شخص یہ سامان عیش و تنعم رکھتا ہے اور ایسے شاندار محل میں رہتا ہے وہ کس قدر غرور نفس سے پاک ہے ، کتنا خدا ترس اور نیک نفس ہے ، کس طرح بات بات پر اس کا سر خدا کے آگے شکر گزاری میں جھکا جاتا ہے ، اور اس کی زندگی فریفتگان حیات دنیا کی زندگی سے کتنی مختلف ہے ، یہی چیز تھی جس نے اسے وہ کچھ پکار اٹھنے پر مجبور کردیا جو آگے اس کی زبان سے نقل کیا گیا ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 56 حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کا یہ قصہ بائیبل کے عہد عتیق و جدید اور روایات یہود ، سب میں مختلف طریقوں سے آیا ہے ، مگر قرآن کا بیان ان سب سے مختلف ہے ، عہد عتیق میں اس قصے کا خلاصہ یہ ہے: اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے ، اور وہ بہت بڑی جلو کے ساتھ یروشلم میں آئی ۔ جب وہ سلیمان کے پاس پہنچی تو اس نے ان سب باتوں کے بارہ میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی ، سلیمان نے ان سب کا جواب دیا ۔ اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دسترخوان کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور اس کے ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی ، تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آخر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیا ، اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے ۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں ۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا ۔ اور اس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مسالے سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے ۔ اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہو٤ی اور جو کچھ اس نے مانگا دیا ، پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی ۔ ( سلاطین ۔ 10 ۔ 1 ۔ 13 ۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون 2 تواریخ 9 ۔ 1 ۔ 12 میں بھی ہے ۔ عہد جدید میں حضرت عیسی کی ایک تقریر کا صرف یہ فقرہ ملکہ سبا کے متعلق منقول ہوا ہے : دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ اٹھ کر ان کو مجرم ٹھہرائے گی ، کیونکہ وہ دنیا کے کنارے سے سلیمان کی حکمت سننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے ۔ ( متی 12 ۔ 43 ۔ لوقا 11 ۔ 31 ) یہودی ربیوں کی روایات میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کا قصہ اپنی بیشتر تفصیلات میں قرآن سے ملتا جلتا ہے ۔ ہدہد کا غائب ہونا ، پھر آکر سبا اور اس کی ملکہ کے حالات بیان کرنا ، حضرت سلیمان کا اس کے ذریعہ سے خط بھیجنا ، ہدہد کا عین اس وقت وہ خط ملکہ کے آگے گرانا جبکہ وہ آفتاب کی پرستش کو جارہی تھی ، ملکہ کا اس خط کو دیکھ کر اپنے وزراء کی کونسل منعقد کرنا ، پھر ملکہ کا ایک قیمتی ہدیہ حضرت سلیمان کے پاس بھیجنا ، خود یروشلم پہنچ کر انسے ملان ، ان کے محل میں پہنچ کر یہ خیال کرنا کہ حضرت سلیمان پانی کے حوض میں بیٹھے ہیں ، اور اس میں اترنے کے لیے پانچے چڑھا لینا ، یہ سب ان روایات میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح قرآن میں بیان ہوا ہے ، مگر ہدیہ وصول ہونے پر حضرت سلیمان کا جواب ملکہ کے تخت کو اٹھوا منگانا ، ہر موقع پر ان کا خدا کے آگے جھکنا اور آخر کار ملکہ کا ان کے ہاتھ پر ایمان لانا ، یہ سب باتیں بلکہ خدا پرستی اور توحید کی ساری باتیں ہی ان روایات میں ناپید ہیں ، سب سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ ان ظالموں نے حضرت سلیمان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ملکہ سبا کے ساتھ معاذ اللہ زنا کا ارتکاب کیا اور اسی حرامی نسل سے بابل کا بادشاہ بخت نصر پیدا ہوا جس نے بیت المقدس کو تباہ کیا ( جیوش انسائیکلو پیڈیا ج 11 صفحہ 443 ) اصل معاملہ یہ ہے کہ یہودی علماء کا ایک گروہ حضرت سلیمان کا سخت مخالف رہا ہے ، ان لوگوں نے ان پر توراۃ کے احکام کی خلاف ورزی ، غرور حکومت ، غرور عقل و دانش ، زن مریدی ، عیش پرستی اور شرک و بت پرستی کے گھناؤنے الزامات لگائے ہیں ( جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 11 ص 439 ۔ 441 ) اور یہ اسی پروپیگنڈے کا اثر ہے کہ بائیبل انہیں نبی کے بجائے محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور بادشاہ بھی ایسا جو معاذ اللہ احکام الہی کے خلاف مشرک عورتوں کے عشق میں گم ہوگیا ، جس کا دل خدا سے پھر گیا اور جو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی طرف مائل ہوگیا ( سلاطین 11 ۔ 1 ۔ 11 ) ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے بنی اسرائیل پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اکابر کا دامن کود ان کی پھینکی ہوئی گندگیوں سے صاف کیا ، اور یہ بنی اسرائیل کتنے احسان فراموش ہیں کہ اس پر بھی یہ قرآن اور اس کے لانے والے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: حضرت سلیمان علیہ السلام نے دُنیا پرستوں پر رعب ڈالنے کے لئے ایک ایسا شیش محل بنوایا تھا جس کے صحن میں ایک پانی کا حوض تھا، اور اُس پر بھی مہین اور شفاف شیشے کی چھت اِس طرح ڈال دی تھی کہ غور سے دیکھے بغیر شیشہ نظر نہیں آتا تھا، اور سرسری نظر سے دیکھیں تو وہ کُھلا ہوا حوض معلوم ہوتا تھا، محل میں داخل ہونے کے لئے اِسی حوض کے اوپر سے گزرنا پڑتا تھا، چنانچہ جب بلقیس محل میں داخل ہونے کے لئے چلی تو سامنے وہ حوض نظر آیا جس کا پانی گہرا نہیں تھا، اس لئے اس نے حوض سے گزرنے کے لئے اپنے پائینچے چڑھالئے۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُسے بتایا کہ پائینچے چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اِس حوض کے اوپر شیشہ چڑھا ہوا ہے، اور اس پر سے گزرتے ہوئے پانی میں بھیگنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ 20: ملکہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کی سچائی کی تو پہلے ہی قائل ہوچکی تھی، محل کی یہ شان وشوکت دیکھ کر اس کے دل میں آپ کی مزید عظمت پیدا ہوئی کہ اﷲ تعالیٰ نے اِن کو دُنیا کے لحاظ سے بھی ایسی شان وشوکت سے نوازا ہے اس لئے وہ بالکل فرماں بردار ہو کر رہی۔ اس واقعے کو ذکر فرماکر اﷲ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دِلائی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندے دُنیا کے مال ودولت اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ناشکری کرنے کے بجائے اﷲ تعالیٰ کی اور زیادہ اطاعت اختیار کرتے ہیں اور دُنیا کی رنگینیاں اُن کو اﷲ تعالیٰ کی اطاعت سے نہیں روکتیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤۔ جب ابلیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں اپنے آنے کا یہ پیغام کہلا بھیجا تو بلقیس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی قدرت اور اپنا معجزہ دکھلانے کو دو کام کئے ایک تو بلقیس کا تخت جس کو وہ سات قفلوں میں بند کر کے اور کنجیاں اپنے ساتھ لے کر آئی تھی منگوالیا اور اس کے جواہرات کو جگہ بدل کر جڑوا دیا دوسرے پانی کے اوپر یہ شیشہ کا محل بنوایا اور اس محل کے بیچوں بیچ میں اپنا تخت بچھوایا بعض تفسیروں میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی دعا سے یہ تخت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا تھا اصل میں یہ قول عبداللہ (رض) بن لہیعہ قاضی مصر کا ہے اور اس عبد اللہ کو ابن معین اور نسائی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے اکثر مفسروں کا قول یہی ہے کہ وہ تخت آصف بن برخیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وزیر کی دعا سے دو مہینہ کے راستہ سے آنکھ جھپکانے میں اس طرح آیا کہ بلقیس کے ساتوں قفل قائم رہے اور جس مکان میں وہ تخت رکھا تھا اس مکان کی زمین پھٹ کر وہ تخت زمین میں سما گیا اور زمین کے اندر ہی اندر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس یوں آگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت کے پاس ایک چوکی رکھی رہتی تھی جس پر پیر رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھا کرتے تھے ایک دفعہ ہی اس چوکی کے پاس کی زمین پھٹ کر وہ تخت نمودار ہوا یہ بات جو مشہور ہے کہ شیشہ کا محل حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس واسطے بنوایا تھا کہ بلقیس کی پنڈلیوں پر بالوں کے ہونے کا حال جو انہوں نے سنا تھا وہ حال اس شیشے کے محل میں آتے وقت بلقیس کی پنڈلیاں کھلنے سے معلوم ہوجاوے گا کیونکہ اس محل کے صحن کا پانی کا پاٹ جان کر بلقیس اپنے پائینچے ضرور اونچے کرے گی اس قصہ کی روایت کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے اگرچہ روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ایک راوی عطاء بن السائب ہے جس کے حافظہ میں فتور ہے دوسری روایت یزیدبن رومان کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ نادر محل اپنا معجزہ بلقیس کو دکھلانے کے لیے بنایا تھا گو کہ عطا بن السائب اور یزیدبن رومان ایک طبقے کے تابعی ہیں مگر یزیدبن رومان بہ نسبت عطا بن السائب کے زیادہ ثقہ راوی ہیں صدھا ما کانت تعبد من دون اللہ کے ایک معنی تو مفسرین نے یہی بیان کئے ہیں جس کی صراحت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ میں کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا معجزہ دکھا کر بلقیس کو مسلمان کیا جس سے انہوں نے آیندہ اس کی آفتاب پرستی چھڑوا دی اور ایک معنے یہ ہیں کہ بلقیس آفتاب پرستی جو کرتی تھی اس آفتاب پرستی نے اس کو خدا کی فرما نبرداری اور اسلام سے آج تک باز رکھا لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے پہلے معنوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت بلقیس کے شیشہ کے محل میں داخل ہونے سے پہلے حالت کے بیان میں ہے اور قرآن شریف کے طرز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیشہ کے محل کا معجزہ دیکھنے کے بعد تھا اس اعتراض کے سبب سے حافظ ابن کثیر (رح) نے دوسرے معنوں کو پسند کیا ہے اوپر بیان ہوچکا ہے کہ مجاہد کے قول کا تفسیر کے باب میں بڑا اعتبار ہے اس لیے حافظ ابن کثیر (رح) نے جو معنے پسند کئے ہیں وہی قوی معلوم ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:44) ادخلی۔ امر واحد مؤنث حاضر، تو (عورت) داخل ہو۔ دخول مصدر۔ (باب نصر) الصرح۔ محل ۔ قصر۔ ہر وہ عمارت عالیشان کہ جس میں نقش و نگار ہوں صرح کہلاتی ہے۔ یہاں بمعنی صحن الدرا ہے۔ محل کے صحن میں داخل ہو۔ رأتہ۔ رأت صحن الدار۔ حسبتہ۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب (صحب کے لئے ہے) اس نے اس کو گمان کیا۔ اس نے اسے خیال کیا۔ حسبان (حسب و سمع) گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب یحسب (نصر) حسب و حساب وحسبان وحسبان گننا۔ شمار کرنا۔ وحسب یحسب (کرم) حسب وحسابۃ شریف الاصل ہونا ۔ لجۃ۔ اسم مفرد۔ دریا میں بڑا پانی۔ دریا کا وسطی حصہ جہاں پانی بہت ہوتا ہے یہاں آیت میں پانی کا حوض مراد ہے۔ لج و لجاج ولجاجۃ (باب سمع و ضرب) جھگڑا کرنا ۔ کشفت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے کھولا۔ اس نے کپڑا ہٹایا۔ الکشف کشفت الثوب عن الوجہ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں چہرہ وغیرہ سے کپڑا اٹھانا۔ مجازا دکھ۔ تکلیف۔ غم و اندوہ کو دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے فکیشف ما تدعون الیہ (6:41) جس دکھ کے لئے تم اسے پکارتے ہو وہ اس کو دور کردیتا ہے۔ کشفت عن ساقیہا اس نے اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا۔ پائنچہ اٹھایا ۔ ساق پنڈلی۔ ساقین دو پنڈلیاں اضافت کی وجہ سے نون حذف ہوگیا۔ ممرد۔ اسم مفعول واحد مذکر تمرید (تفعیل) مصدر۔ مرد مادہ۔ چکنا ۔ صاف ، ہموار۔ قواریر : قارورۃ کی جمع۔ بمعنی شیشہ۔ یا شیشہ کا برتن۔ گلاس ، صراحی وغیرہ۔ بوجہ غیر متصرف ہونے کے مفتوح ہے۔ قواریر من فضۃ (76:16) اور شیشے بھی چاندی کے۔ یعنی شیشے کے برتن۔ چاندی کی طرح سفید۔ صرح ممرد من قواریر : ایسا محل یا صحن جس میں شیشے جڑے ہوئے ہوں۔ یعنی شیشے کا بنا ہوا ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ جیسے پانی کی گہرائی معلوم نہ ہو تو اس میں گھسنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ 6 ۔ حضرت سلیمان نے اس سے یہ بات اس لئے فرمائی کہ اسے پتہ چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا یہاں اس سے بڑھ کر سامان موجود ہے۔ اور ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انہیں خدا سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی (یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا) سمجھی کہ ان میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں سو ہی صحیح ہے۔ “ (موضح) اسی چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آرہا ہے۔ 7 ۔ جو اب تک شرک میں مبتلا اور تجھے بھولی رہی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ملکہ بلقیس کو حقیقت کا مزید ادراک کرانے کے لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ایک اور حکیمانہ کوشش۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کے تحائف مسترد کیے اور اسے ان الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر تم نے تابعداری اختیار نہ کی تو ہم تمہیں رسوا کر ڈالیں گے لیکن جونہی ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انھوں نے اسے مسلمان کرنے کے لیے جبر کی بجائے حکمت کا انداز اختیار فرمایا۔ پہلے اس کے تخت میں تبدیلیاں کروائیں، پھر ملکہ سے اس تخت کے بارے میں استفسار فرمایا۔ ملکہ نے بغیر کسی دقّت کے اپنا تخت پہچان لیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے تھے اسے کھل کر سابقہ عقیدہ کے باطل ہونے کا ادراک ہوجائے۔ اس لیے انھوں نے ملکہ اور اس کے وفد کو ایسے محل میں ٹھہرنے کا حکم دیا کہ جس کے میں دروازے کے سامنے شیشے کا فرش لگا ہوا تھا۔ ملکہ نے پانی سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے پانچے اوپر کرلیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے توجہ دلائی کہ پانی نہیں بلوری فرش ہے۔ اس بات سے اس کے دماغ پر ٹھوکر لگی اور فوراً کہہ اٹھی اے میرے رب میں نے تیرے ساتھ شرک کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اس رب کی تابع ہوئی جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے شیشے کے فرش کے ذریعے یہ حقیقت باور کروائی کہ شرک ایک واہمہ ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دانا عورت تھی اشارہ سمجھ کر فوراً توحید باری تعالیٰ کا اعتراف کرتی ہے اور مسلمان ہوگئی۔ بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات کے تحت لکھا ہے کہ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے اپنے حرم میں شامل کرلیا۔ (اللہ اعلم ) البتہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد تاریخ سے اس کی حکمرانی ثابت نہیں ہوتی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قیل لھا ادخلی ……رب العلمین (٣٤) یہ غیر متوقع محتان یوں تھا کہ حضرت سلیمان نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا تھا۔ یہ شیش محل تھا۔ اس کے فرش کے نیچے سے پانی گزارا گیا تھا اور فرش شیشے کا بھی اب فرش یوں نظر آ رہا تھا کہ گویا پانی کی لہر ہے۔ جب ملکہ کو کہا گیا کہ آپ اس محل میں داخل ہوں تو اس نے سمجھا کہ اسے پانی سے چل کر گزرنا ہے۔ اس پر اس نے شلوار کے پائنچے اٹھا دیئے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بتایا۔ قال انہ صرح ممرد من قواریر (٨٢ : ٣٣) ” انہوں نے کہا کہ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ “ یہاں ملکہ حیران رہ گئی کہ حضرت سلیمان کے پاس تو حیران کن عجائبات ہیں اور یقینا یہ قوتیں فوق الفطرت ہیں۔ یوں اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اور اللہ کو پکار اٹھی کہ اس نے اس سے قبل جو غیر اللہ کی عبادت کی ہے وہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔ چناچہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا کہ میں اب سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔ اس نے سوچ لیا کہ اسلامی نظام زندگی کیا چیز ہے۔ یہ کہ اس میں کوئی انسان کسی انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ بلکہ سب انسان اللہ کے آگے جھکتے ہیں۔ سلیمان اگرچہ نبی ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں یعنی سلیمان کی معیت تو ہے جس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کا ساتھی ہوتا ہے لیکن اطاعت رب العالمین کی ہوتی ہے۔ اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (٨٢ : ٣٣) قرآن کریم نے یہاں اس بات کو خصوصی طور پر ریکارڈ کیا ہوا ہے کہ اسلام اللہ کے لئے ہوتا ہے اور اسلام قبول کرنے سے ایک انسان ایک ایسی صف میں جا کر کھڑا ہوجاتا ہے جو مقتدر اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اسلام میں آ کر غاب اور مغلوب اور محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دونوں بھائی ہوتے ہیں کوئی غالب و مغلوب نہیں ہوتا۔ سب مساوی طور پر رب العالمین کے آگے جھکتے ہیں۔ اہل قریش اسلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے حالانکہ رسول اللہ انہیں اسلام اور رب العالمین کی اطاعت کی طرف بلاتے تھے۔ محمد ابن عبداللہ کی اطاعت کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک سربراہ مملکت بن جائیں۔ قریش کو ملکہ سبایہ تعلیم دیتی ہے کہ کس نبی کی دعوت قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اس نبی کی معیت میں اللہ رب العالمین کا مطیع ہوجاتا ہے ۔ داعی اور مدعو برابر ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کریں تو رسول اللہ کے ساتھ وہ رب العالمین کے مطیع ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ ) (اس سے کہا گیا تو محل میں داخل ہوجا) (فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً ) (سو جب اس محل کو دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا پانی ہے) (وَّکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا) (اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں تاکہ صحن میں پانی سے گزرتے ہوئے کپڑے تر نہ ہوجائیں) ۔ (قَالَ اِِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَاریْرَ ) (سلیمان نے کہا کہ یہ تو محل ہے جسے شیشوں سے جو ڑکر بنایا گیا ہے) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اعجاز نبوت کے ساتھ ملکہ سبا کو ظاہری سلطنت اور شوکت بھی دکھا دی جائے۔ تاکہ وہ عورت دنیا کے اعتبار سے بھی اپنی بادشاہت اور سلطنت کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مقابلہ میں بڑی نہ سمجھے، اس کے آنے سے پہلے انہوں نے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوا دیا تھا پھر اس حوض میں پانی بھر دیا پھر اس کو شیشوں ہی سے پاٹ دیا اور وہ شیشے ایسے شفاف تھے کہ نیچے کا پانی اس طرح نظر آتا تھا کہ گویا اسی پانی سے ہو کر گزرنا ہوگا جب ملکہ سبا نے گزرنے کے لیے پنڈلیاں کھول دیں تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو شیشے کا محل ہے پنڈلیاں کھولنے کی حاجت نہیں، پانی جو نظر آ رہا ہے وہ شیشہ کے نیچے ہے اس سے ملکہ سبا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عظمت اور سلطنت کا مزید پتہ چل گیا اور سمجھ میں آگیا کہ جیسی صنعت کاری یہاں ہے وہ تو میں نے کبھی دیکھی ہی نہیں ہے۔ (قَالَتْ رَبِّ اِِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اے رب میں نے اب تک اپنی جان پر ظلم کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کرتی رہی، اب تو میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبر دار بنتی ہوں۔ یعنی سلیمان کا جو دین ہے اب میرا بھی وہی ہے) ۔ فوائد : (١) قرآن مجید میں ملکہ سبا کا اور اس کے اقتدار کا اور آفتاب کی پرستش کا پھر سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے لیکن اس ملکہ کا نام کیا تھا قرآن مجید میں ان کا ذکر نہیں ہے عام طور پر مشہور ہے کہ اس ملکہ کا نام بلقیس تھا۔ (٢) جب بلقیس نے اسلام قبول کرلیا تو آگے کیا ہوا قرآن مجید اس سے بھی ساکت ہے، جب بلقیس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی امت میں داخل ہوگئی تو اب ان کے ملک میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حکم جاری ہوگیا۔ (٣) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جب بلقیس نے یہ سمجھ کر کہ پانی میں گزرنا ہوگا اپنی پنڈلیاں کھول دیں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی آنکھیں پھیر کر فرمایا کہ یہ تو شیشوں کا بنا ہوا محل ہے۔ اور ایک نبی کی بلکہ ہر صالح مومن کی یہی شان ہے کہ وہ ایسی جگہ نظر نہ ڈالے جہاں نظر ڈالنے کی اجازت نہیں۔ اگر نظر پڑجائے تو اسی وقت نظرکو پھیر لے حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیجا نظر پڑنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ نظر پھیر لو اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ پہلی نظر کے بعد دوسری نظر باقی نہ رکھو بلا اختیار جو پہلی نظر پڑجائے اس پر تمہارا مواخذہ نہیں ہوگا، اور دوسری نظر پر مواخذہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) (٤) ملکہ سبا نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو ہدیہ بھیجا تھا اسے انہوں نے واپس فرما دیا کیونکہ واپس کرنے میں مصلحت تھی اور اسے یہ بتانا تھا کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت ہے اس نے جو کچھ تمہیں دیا ہے مجھے اس سے بہتر عطا فرمایا ہے، اس میں بھی ایک طرح سے اپنے اقتدار کی شان و شوکت کو اس کے اقتدار سے اعلی وارفع بتانا مقصود تھا تاکہ اس پر مزید ہیبت قائم ہوجائے اور اسے بات کے سمجھنے میں اور فرماں بردار ہو کے آنے میں تامل کرنے کا ذرا بھی موقعہ نہ رہے، اس میں ایک نکتہ اور بھی ہے جسے علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہدیہ قبول کرلیتے تو یہ ہدیہ رشوت بن جاتا اور گویا اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بلقیس اپنے ملک اور اپنے دن شرک پر قائم رہے اور اس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے اس طرح سے حق کو باطل کے عوض بیچنے کی ایک صورت بن جائی، لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کا ہدیہ واپس فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدیہ دیتے بھی تھے اور ہدیہ قبول بھی فرماتے تھے اور جو شخص ہدیہ دیتا تھا اس کا بدلہ بھی دیدیتے تھے اور آپس میں ہدیہ لینے دینے کا حکم بھی فرماتے تھے موطا مالک میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تصافحوا یذھب الغل و تھادوا تحابوا و تذھب الشحنا (آپس میں مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ہدیہ لیا کرو اس سے آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی چلی جائے گی) آپس میں مسلمانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ ہدیہ لیا دیا کریں اور اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے ہدیہ نہ لیا جائے مثلاً رشوت بصورت ہدیہ دی جا رہی ہو یا کوئی شخص مال حرام سے ہدیہ دے رہا ہو یا اور کوئی عذر ہو تو یہ دوسری بات ہے، رہی یہ بات کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل مختلف رہا ہے آپ نے ان کا ہدیہ قبول بھی فرمایا ہے اور رد بھی کیا ہے آپ کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کا ہدیہ علی الا طلاق نہ قبول کرنا ہے اور نہ رد کرنا ہے دینی مصلحت کو دیکھا جائے۔ کسی کافر مشرک کا ہدیہ قبول کرنے سے اسلام قبول کرنے کی امید ہو تو اس کا ہدیہ قبول کرلیا جائے کیونکہ یہ ایک دینی مصلحت ہے اور اگر کافر و مشرک کا ہدیہ قبول کرنے میں ان کی طرف سے کسی سازش یا دھوکہ دہی اور فریب کاری کا ندیشہ ہو یا اور کوئی بات خلاف مصلحت ہو تو ان کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے۔ لفظ (فَمَا اَتَانِیَ اللّٰہُ ) ہندوستان و پاکستان کے جو مطبوعہ مصاحف ہیں ان میں نون کے بعد لمبی (ے) لکھ کر فتحہ دے دیا گیا ہے تاکہ حضرت حفص کی روایت فی الوصل پر دلالت کرے، وہ اس میں وصل کرتے ہوئے رسم قرآنی کے خلاف مفتوحہ ظاہر کر کے پڑھتے ہیں جیسا کہ ہندو پاک کے حفاظ و قراء میں معروف و مشہور ہے (رسم عثمانی میں صرف ن ہے ے نہیں ہے) اب رہی وقف کی حالت تو اس میں حضرت حفص (رح) سے دونوں روایتیں ہیں وقف بالاثبات یعنی فما آتانی اور وقف بالذف بھی یعنی فما آتان اس میں انہوں نے بحالت وصل رسم کی مخالفت کی ہے کیونکہ ی کو ظاہر کر کے پڑھا ہے اور وقف کی ایک صورت میں بھی مخالفت کی ہے اور وہ یہ کہ ی کو واپس لا کر ساکن کر کے پڑھا، اس کو خوب غور کر کے سمجھیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے سامنے اپنی عظمت شان اور برتری ظاہر کرنے کے لیے ایک محل بنوایا جس کا فرش شیشے کی موٹی چادر سے بنوایا گیا اس کے نیچے پانی کا حوض تھا جس میں مچھلیاں اور دیگر پانی کے جانور چھوڑ دئیے۔ اسی محل میں تخت بچھوایا اور بلقیس کو اس میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ بلقیس جب اس میں داخل ہونے لگی تو اس نے سمجھا کہ اس میں پانی ہے اس لیے پنڈلیوں سے کپڑا سمیٹ لیا۔ قال انہ صرح الخ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا یہ پانی نہیں بلکہ صاف و شفاف فرش ہے اور شیشے سے تیار کیا گیا ہے۔ قالت رب انی ظلمت نفسی الخ، بلقیس نے جب یہ دیکھا تو فورًا بول اٹھی میرے پروردگار ! میں شرک کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کرتی رہی۔ اب میں اس سے توبہ کرتی ہوں اور سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا انی ظلمت نفسی الخ، یعنی جس طرح میں نے یہاں غلطی کھائی ہے کہ شیشے کے فرش کو پانی سمجھ لیا اسی طرح سورج کی پرستش میں بھی میں غلطی پر تھی بعض روایتوں میں ہے کہ جنوں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں سلیمان (علیہ السلام) بلقیس سے شادی نہ کرلیں اس لیے انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس سے متنفر کرنے کے لیے کہا کہ بلقیس کے پاؤں نہایت بھدے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مذکورہ بالا محل بنوایا تاکہ جب وہ پنڈلیوں سے کپڑا اوپر کرے وہ اس کی پنڈلیا اور پاؤں دیکھ سکیں۔ یہ سراسر غلط اور بےاصل روایت ہے اور عصمت انبیاء (علیہم السلام) کے منافی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) بلقیس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے محل کے صحن کو دیکھا تو اس کو لہریں پڑتا ہوا گہرا پانی سمجھا اور اس نے پانی کو عبور کرنے کے لئے اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک محل ہے جس کے فرش میں شیشے لگے ہوئے اور جڑے ہوئے ہیں اس پر بلقیس کہنے لگی اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی جو تمام جہانوں کا پالن ہار اور پرورش کرنے والا ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے ٹھہرنے کو ایک محل بنوایا جس میں شیشے لگائے گئے یہاں تک کہ صح ن میں بھی شیشے جڑوائے اور صحن میں جو بڑا حوض تھا جس کو عبور کرکے دیوان خانے میں داخل ہوتے تھے اسے بھی شیشے سے پاٹ دیا حوض کا شیشہ اس کو نظر نہ آیا شیشے میں سے پانی کی لہریں نظر آئیں اس نے پایاب سمجھ کر پانی میں سے گزر ناچاہا اپنی دونوں پنڈلیاں کھولیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دیوان خانے میں سے فرمایا یہ ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے اور حوض پر بلکہ تمام صحن میں شیشے لگے ہوئے ہیں تب اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے کہا اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر زیادتی اور ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اور ان کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے رب العالمین پر ایمان لائی اور اسلام قبول کرلیا۔ بلقیس چونکہ آفتاب کو پوجا کرتی تھی اس لئے اس کو حوض پر شیشہ پاٹ کر دکھایا کہ آفتاب میں جو نور نظر آتا ہے اس نور کی وجہ سے افٓتاب خدا نہیں ہوسکتا جس طرح شیشے میں سے پانی کا نظر آنا حقیقی پانی نہیں ہے جو لوگ عام طور سے مظاہر پرستی کے قائل ہیں ان سب کے لئے اس سورت میں تنبیہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دیوان خانے میں بیٹھے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس میں پتھروں کی بجائے شیشے کا فرش تھا دور سے لگتا پانی گہرا اس نے پنڈلیاں کھولیں پانی میں بیٹھے کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پکارا یہ شیشوں کا فرش ہے پانی نہیں اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی عقل کا کمال معلوم ہوا کہ دین یہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے 12 بعض مفسرین نے اس موقع پر بعض ایسی باتیں بیان کی جن کا مبنیٰ محض اسرائیلی روایات ہیں اور وہ قابل اعتنا نہیں ہیں۔