Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 61

سورة النمل

اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾

Is He [not best] who made the earth a stable ground and placed within it rivers and made for it firmly set mountains and placed between the two seas a barrier? Is there a deity with Allah ? [No], but most of them do not know.

کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: أَمَّن جَعَلَ الاَْرْضَ قَرَارًا ... Is not He Who has made the earth as a fixed abode, meaning, stable and stationary, so that it does not move or convulse, because if it were to do so, it would not be a good place for people to live on. But by His grace and mercy, He has made it smooth and calm, and it is not shaken or moved. This is like the Ayah, اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً وَالسَّمَأءَ بِنَـأءً Allah, Who has made for you the earth as a dwelling place and the sky as a canopy. (40:64) ... وَجَعَلَ خِلَلَهَا أَنْهَارًا ... and has placed rivers in its midst, means, He has placed rivers which are fresh and sweet, cutting through the earth, and He has made them of different types, large rivers, small rivers and some in between. He has caused them to flow in all directions, east, west, south, north, according to the needs of mankind in different areas and regions, as He has created them throughout the world and sends them their provision according to their needs. ... وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ ... and has placed firm mountains therein, means, high mountains which stabilize the earth and make it steadfast, so that it does not shake. ... وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ... and has set a barrier between the two seas, means, He has placed a barrier between the fresh water and the salt water, to prevent them from mixing lest they corrupt one another. Divine wisdom dictates that each of them should stay as it is meant to be. The sweet water is that which flows in rivers among mankind, and it is meant to be fresh and palatable so that it may be used to water animals and plants and fruits. The salt water is that which surrounds the continents on all sides, and its water is meant to be salty and undrinkable lest the air be corrupted by its smell, as Allah says: وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخاً وَحِجْراً مَّحْجُوراً And it is He Who has let free the two seas, this is palatable and sweet, and that is salty and bitter; and He has set a barrier and a complete partition between them. (25:53) Allah says: ... أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ ... Is there any god with Allah! meaning, any god who could do this, or who deserves to be worshipped Both meanings are indicated by the context. ... بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ Nay, but most of them know not! means, in that they worship others than Allah.

کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی صداقت٭٭ زمین کو اللہ تعالیٰ نے ٹھہری ہوئی اور ساکن بنایا تاکہ دنیا آرام سے اپنی زندگی بسر کرسکے اور اس پھیلے ہوئے فرش پر راحت پاسکے ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( اللہ الذی جعل لکم الأرض قرارا الخ ) ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی ساکن بنایا اور آسمان کو چھت بنایا ۔ اس نے زمین پر پانی کے دریا بہادئیے جوادھر ادھربہتے رہتے ہیں اور ملک ملک پہنچ کر زمین کو سیراب کرتے ہیں تاکہ زمین سے کھیت باغ وغیرہ اگیں ۔ اس نے زمین کی مضبوطی کے لئے اس پر پہاڑوں کی میخیں گاڑھ دیں تاکہ وہ تمہیں متزلزل نہ کرسکے ٹھہری رہے ۔ اسکی قدرت دیکھو کہ ایک کھاری سمندر ہے اور دوسرا میٹھا ہے ۔ دونوں بہہ رہے ہیں بیچ میں کوئی روک آڑ پردہ حجاب نہیں لیکن قدرت نے ایک کو ایک سے الگ کر رکھا ہے اور نہ کڑوا میٹھے میں مل سکے نہ میٹھاکرڑوے میں ۔ کھاری اپنے فوائد پہنچاتا رہے میٹھا اپنے فوائد دیتا رہے اس کا نتھرا ہوا خوش ذائقہ مسرورکن خوش ہضم پانی لوگ پئیں اپنے جانوروں کو پلائیں کھتیاں باڑیاں باغات وغیرہ میں یہ پانی پہنچائیں نہائیں دھوئیں وغیرہ ۔ کھاری پانی اپنی فوائد سے لوگوں کو سود مند کرے یہ ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے تاکہ ہوا خراب نہ ہو ۔ اور اس آیت میں بھی ہے ان دونوں کا بیان موجود ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 53؀ ) 25- الفرقان:53 ) یعنی ان دونوں سمندروں کا جاری کرنے والا اللہ ہی ہے اور اسی لئے ان دونوں کے درمیاں حد فاصل قائم کر رکھی ہے ۔ یہاں یہ قدرتیں اپنی جتاکر ۔ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے یہ کام کئے ہوں یا کرسکتاہو؟ تاکہ وہ بھی لائق عبادت سمجھا جائے ۔ اکثر لوگ محض بےعلمی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ عبادتوں کے لائق صرف وہی ایک ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

611یعنی ساکن اور ثابت، نہ ہلتی ہے، نہ ڈولتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین پر رہنا ممکن ہی نہ ہوتا زمین پر بڑے بڑے پہاڑ بنانے کا مقصد بھی زمین کو حرکت کرنے سے اور ڈولنے سے روکنا ہی ہے۔ 612اس کی تشریح کے لئے دیکھیں (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا) 25 ۔ الفرقان :53) کا حاشیہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٢] اس ایک جملہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں ہیں۔ یہ بات تو ہزار ہا ہزار سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرہ زمین گول ہے اور فضائے بسیط میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے۔ اور زمین کے گول ہونے کے باوجو ود پانی اس سے گر نہیں جاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کرہ سماوی کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے۔ جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں ماسوائے گیسوں اور ابخرات آبی کے کہ ان کا کرہ ہی زمین سے اوپر ہے۔ اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہوگی زمین سے بھی نکلے گا تو از خود اوپر اٹھ جائے گی۔ یہ عجائبات ہی کیا کم تھے اب مزید علم ہیئت کی تحقیقات نے ان عجائبات میں بےپناہ اضافہ کردیا ہے۔ مثلاً ایک یہ کہ ہماری زمین سورج کے سامنے رہتے ہوئے اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزارمیل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ اور اس کا چکر ایک دن رات یا ٢٤ گھنٹوں میں پورا ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین سورج سے ٩ کروڑ ٣٠ لاکھ میل دور ہے اور اس کے گرد بھی ایک سال میں ایک گردش پوری کرتی ہے تو یا سورج کے گرد اس کی گردش کی رفتار چھیاسٹھ ہسار چھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ ان دون قسم کی گردشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ ہم مسحوس تک نہیں کرسکتے اور آرام سے اس پر چلتے پھرتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ زمین کے جائے قرار ہونے کا ایک مفہوم یہ ہوا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ ہماری زمین پہلی ان گردشوں کی وجہ سے ( ہچکولے کھاتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف اطراف میں پہاڑ ایسی مناسبت سے رکھ دیئے کہ ہچکولے کھانا بند ہوگئی اور انسان اور دوسری تمام اشیاء کے لئے قرار بن گئی۔ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمین ہمیشہ سورج کے سامنے رہتی تو زمین کے نصف حصہ پر تو ہمیشہ دن ہی چڑھا رہتا اور باقی نصف پر ہمیشہ رات ہی رہتی۔ اس طرح پوری کی پوری زمین نباتات اور سب جانداروں کے لئے بالکل ناکارہ ثابت ہوتی۔ اس لئے کہ نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کے لئے جیسے دن کی ضرورت ہے ویسے ہی رات کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رات اور دن کا نظام قائم فرما کر اسے تمام مخلوق کے لئے جائے قرار بنادیا اور اس کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ زمین سے سورج کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا تو تمام مخلوق گرمی کی شدت اور تپش سے مرجھا جاتی اور بالاخر ختم یا تباہ ہوجاتی اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا تو اتنی زیادہ سردی ہوتی کہ تمام تر مخلوق سردی سے ٹھٹھر جاتی اور بالاخر تباہ یا ہلاک ہوجاتی۔ اس طرح بھی یہ زمین مخلوق کے لئے جائے قرار نہ بن سکتی تھی۔ اس کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد ٦٦ ڈگری درجے کا زاویہ بنتے ہوئے گھوم رہی ہے۔ جس سے ایک تو دن اور رات کے اوقات میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں بتدریج چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔ اور کبھی اس کے برعکس معاملہ شروع ہوجاتا ہے پھر اس بنا پر موسموں میں تبدیلی آتی ہے کبھی موجسم گرما ہوتا ہے، کبھی سرما، کبھی بہار، کبھی خزاں اور کبھی برسات اور ان موسموں کا مختلف قسم کی اجناس، غلے اور پھل دار درختوں کے پیدا ہونے، ان کی نشوونما اور فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گہرا تعلق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ نظام قائم نہ فرماتے تو پھر اس زمین پر بسنے والوں کے لئے خوراک کا مسئلہ نہایت پریشان کن صورت اختیار کرسکتا تھا۔ اس صورت میں یہ زمین ہمارے لئے جائے قرار نہیں بن سکتی تھی اور اس کا چھٹا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سے اوپر پانچ چھ سو میل کی بلندی تک کثیف ہوا کا کرہ بنا کر زمین کو آفات سماوی یا فضاوی سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً دو کروڑ شہاب ثاقب روزانہ ٣٠ میل فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے ہماری زمین کا رخ کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ جب وہ اس کرہ ہوائی میں پہنچتے ہیں تو انھیں آگ لگ جاتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر بعض اوقات کوئی بڑی زیادہ جسامت والا شہاب زمین پر گر بھی پڑتا ہے اور زمین کے گرد گہرا گڑھا ڈال دیتا ہے لیکن ایسا کبی کبھار ہوتا ہے جیسا اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ عام حالات میں ہم ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کے گرد کرہ ہوائی کا یہ نطام نہ فرماتے تو زمین کبھی محفوظ جائے قرار نہیں بن سکتی تھی۔ غرض اس مسئلہ کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ جتنا بھی ان میں غور کیا جائے مزید پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کا بھی کچھ دخل ہے خواہ یہ دخل کتنا ہی معمول ہو ؟ اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کی عبادت میں کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے ؟۔ [٦٣] نہروں سے مراد تمام ندی، نالے اور دریا وغیرہ ہیں انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کرلیتا ہے۔ اور ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کرلیتی ہے یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کرلیتا ہے۔ انھیں کے ذریعہ ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے۔ جہاں بارش کم ہوتی ہے یا وقت پر نہیں ہوتی۔ اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لئے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی میں ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔ [٦٤] اس کی تشریح کے لئے سورة فرقان کی آیت نمبر ٥٣ کی حاشیہ نمبر ٦٦ ملاحظہ فرمائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا : یا کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ مفسر عبدالرحمان کیلانی (رض) لکھتے ہیں : ” اس ایک جملے میں اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں۔ یہ بات تو ہزاروں سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرۂ زمین گول ہے اور فضا میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے اور زمین کے گول ہونے کے باوجود پانی اس سے گر نہیں جاتا۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آسمانی کرہ کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے، جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں، ماسوائے گیسوں اور آبی بخارات کے کہ ان کا کرّہ ہی زمین سے اوپر ہے۔ اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہو، زمین سے بھی نکلے گی تو از خود اوپر اٹھ جائے گی۔ یہ عجائبات ہی کیا کم تھے کہ اب مزید علم ہیئت کی تحقیقات نے ان عجائبات میں بےپناہ اضافہ کردیا ہے، مثلاً یہ کہ ہماری زمین سورج کے سامنے رہتے ہوئے اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے اور اس کا چکر ایک دن رات یا ٢٤ گھنٹوں میں پورا ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین سورج سے ٩ کروڑ ٣٠ لاکھ میل دور ہے اور اس کے گرد بھی ایک سال میں ایک گردش پوری کرتی ہے، تو گویا سورج کے گرد اس کی گردش کی رفتار چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ ان دونوں قسم کی گردشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ ہم محسوس تک نہیں کرسکتے، بلکہ آرام سے اس پر چلتے پھرتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ زمین کے جائے قرار ہونے کا ایک مفہوم یہ ہوا اور صحیح احادیث میں وارد ہے کہ ہماری زمین پہلے ان گردشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف اطراف میں پہاڑ ایسی مناسبت سے رکھ دیے کہ ہچکولے کھانا بند ہوگئی اور دوسری تمام اشیاء کے لیے قرار بن گئی۔ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمین ہمیشہ سورج کے سامنے رہتی تو زمین کے نصف حصہ پر تو ہمیشہ دن چڑھا رہتا اور باقی نصف پر ہمیشہ رات ہی رہتی، اس طرح پوری کی پوری زمین نباتات اور سب جانداروں کے لیے بالکل ناکارہ ثابت ہوتی۔ اس لیے کہ نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشو و نما کے لیے جیسے دن کی ضرورت ہے ویسے ہی رات کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رات اور دن کا نظام قائم فرما کر اسے تمام مخلوق کے لیے جائے قرار بنادیا۔ اس کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ زمین سے سورج کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلے سے کم ہوتا تو تمام مخلوق گرمی کی شدت اور تپش سے مرجھا جاتی اور بالآخر ختم یا تباہ ہوجاتی اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا تو اتنی زیادہ سردی ہوتی کہ تمام تر مخلوق سردی سے ٹھٹھر جاتی اور بالآخر تباہ یا ہلاک ہوجاتی۔ اس طرح بھی یہ زمین مخلوق کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی تھی۔ اس کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد ٧٧ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے گھوم رہی ہے، جس سے ایک تو دن اور رات کے اوقات میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے، کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں بتدریج چھوٹی ہوتی جاتی ہیں اور کبھی اس کے برعکس معاملہ شروع ہوجاتا ہے، پھر اس بنا پر موسموں میں تبدیلی آتی ہے، کبھی موسم گرما ہوتا ہے کبھی سرما، کبھی بہار، کبھی خزاں اور کبھی برسات اور ان موسموں کا مختلف قسم کی اجناس، غلے اور پھل دار درختوں کے پیدا ہونے، ان کی نشو و نما اور فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گہرا تعلق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ نظام قائم نہ فرماتے تو پھر اس زمین پر بسنے والوں کے لیے خوراک کا مسئلہ نہایت پریشان کن صورت اختیار کرسکتا تھا۔ اس صورت میں یہ زمین ہمارے لیے جائے قرار نہ بن سکتی تھی اور اس کا چھٹا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سے اوپر پانچ چھ سو میل کی بلندی تک کثیف ہوا کا کرہ بنا کر زمین کو آفات سماوی یا فضائی سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً دو کروڑ شہاب ثاقب روزانہ ٣٠ میل فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے ہماری زمین کا رخ کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ جب وہ اس کرۂ ہوائی میں پہنچتے ہیں تو انھیں آگ لگ جاتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر بعض اوقات زیادہ بڑی جسامت والا شہاب زمین پر گر بھی پڑتا ہے اور زمین میں گہرا گڑھا ڈال دیتا ہے، لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے، جیسا اللہ کو منظور ہوتا ہے، عام حالات میں ہم ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کے گرد کرۂ ہوائی کا یہ انتظام نہ فرماتے تو زمین کبھی محفوظ جائے قرار نہیں بن سکتی تھی۔ غرض اس مسئلہ کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ جتنا بھی ان میں غور کیا جائے مزید پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کا بھی کچھ دخل ہے، خواہ یہ دخل کتنا ہی معمولی ہو ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کی عبادت میں کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے ؟ “ (تیسیر القرآن) وَّجَعَلَ خِلٰلَهَآ اَنْهٰرًا : نہروں سے مراد تمام ندی نالے اور دریا وغیرہ ہیں، انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے، بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے، باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کرلیتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں۔ سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کرلیتی ہے، یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کرلیتا ہے۔ انھی کے ذریعے سے ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے، یا وقت پر نہیں ہوتی اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لیے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشو و نما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔ (کیلانی) وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فرقان (٥٣) ۔ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر مشرکین حق کا علم نہیں رکھتے، اس لیے اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حق کا علم رکھتے ہیں، مگر عناد کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَہَآ اَنْہٰرًا وَّجَعَلَ لَہَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا۝ ٠ۭ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝ ٠ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ ٦١ۭ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ قرار قَرَّ في مکانه يَقِرُّ قَرَاراً ، إذا ثبت ثبوتا جامدا، وأصله من القُرِّ ، وهو البرد، وهو يقتضي السّكون، والحرّ يقتضي الحرکة، وقرئ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33] «1» قيل «2» : أصله اقْرِرْنَ فحذف إحدی الرّاء ین تخفیفا نحو : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، أي : ظللتم . قال تعالی: جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64] ( ق ر ر ) قرر فی مکانہ یقر قرار ا ( ض ) کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانے کے ہیں اصل میں یہ فر سے ہے جس کے معنی سردی کے ہیں جو کہ سکون کو چاہتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33 اور اپن گھروں میں ٹھہری رہو ۔ میں ایک قرات وقرن فی بیوتکن ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں اقررن ہے ایک راء کو تخفیف کے لئے خلاف کردیا گیا ہے جیسا کہ آیت ؛ فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، ہے اور ایک ) لام کو تخفیفا حذف کردیا گیا ہے ۔ القرار ( اسم ) ( ٹھہرنے کی جگہ ) قرآن میں ہے : جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64]( جس نے ) زمین کو قرار لگا دبنا یا خل ( درمیان) الخَلَل : فرجة بين الشّيئين، وجمعه خِلَال، کخلل الدّار، والسّحاب، والرّماد وغیرها، قال تعالیٰ في صفة السّحاب : فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلالِهِ [ النور/ 43] ، فَجاسُوا خِلالَ الدِّيارِ [ الإسراء/ 5] ، قال الشاعر : 143- أرى خلل الرّماد ومیض جمر وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] ، أي : سعوا وسطکم بالنّميمة والفساد . ( خ ل ل ) الخلل ۔ دو چیزوں کے درمیان کشاد گی اور فاصلہ کو کہتے ہیں مچلا بادل اور گھروں کے درمیا کا فاصلہ یا راکھ وغیرہ کا اندرونی حصہ اس کی جمع خلال ہے ۔ چناچہ بادل کے متعلق فرمایا : فَجاسُوا خِلالَ الدِّيارِ [ الإسراء/ 5] تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے بارش برسنے لگتی ہے ۔ اور گھروں کے متعلق فرمایا : اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے ۔ شاعر نے کہا ہے میں راکھ کے اندر آگ کے انگارے کی چمک دیکھتا ہوں ۔ اور آیت کریمہ : وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] اور تم میں دوڑے دوڑے پھرتے ۔ یعنی چغل خواری اور اور فساد سے تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کی کوشش کرتے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ، ( ر س و ) رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں ہے : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک پر جمی رہیں ۔ رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] اور انچے انچے پہاڑ یہاں پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] اور پہاڑوں کو ( اس میں گاڑ کر ) پلادیا ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ حجز الحَجْزُ : المنع بين الشيئين بفاصل بينهما، يقال : حَجَزَ بينهما . قال عزّ وجل : وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حاجِزاً [ النمل/ 61] ، والحِجَاز سمّي بذلک لکونه حاجزا بين الشام والبادية، قال تعالی: فَما مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حاجِزِينَ [ الحاقة/ 47] ، فقوله : حاجِزِينَ صفة لأحد في موضع الجمع، والحِجَاز حبل يشدّ من حقو البعیر إلى رسغه، وتصوّر منه معنی الجمع، فقیل : احتجز فلان عن کذا واحتجز بإزاره، ومنه : حُجْزَة السراویل، وقیل : إن أردتم المحاجزة فقبل المناجزة «1» ، أي : الممانعة قبل المحاربة، وقیل : حَجَازيك، أي : احجز بينهم . ( ح ج ز ) الحجز ( ن ض ) کے معنی دو چیزوں کے درمیان روک اور حد فاصل بنانے کے ہیں کہا جاتا ہے حجز بینھما دان کے درمیان حد ۔ فاصل قائم کردی جیسے فرمایا : وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حاجِزاً [ النمل/ 61] اور ( کس نے ) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنادی ۔ اور ھجاز کو بھی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شام اور بادیہ کے درمیان حائل ہے ۔ اور آیت کریمہ : فَما مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حاجِزِينَ [ الحاقة/ 47] پھر تم میں سے کوئی ( ہمیں ) اس سے روکنے والا نہیں ہے ۔ میں حاجزین احد کی صفت ہے کیونکہ احد کا لفظ معنی جمع ہے ۔ نیز حجانہ اس رسی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی کلائی میں ڈال کر اسے اس کی کمر کے ساتھ باند دیتے ہیں ( تاکہ ہل نہ سکے ) پھر حجز میں معنی منع کے پیش نظر احتجز فلان عن کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے رک جانیکے ہیں اھتجز بازارہٰ تہبند باندھنا ۔ اسی سے حجزۃ السرا ویل ہے جس کے معنی انار بند کے نیضہ کے ہیں مشہور محاورہ ہے ۔ ان ارد تم المحاجزۃ فقبل المناجزۃ یعنی ایک دوسرے کو روکنے اور صلح کا موقعہ لڑائی سے قبل ہوتا ہے ۔ حجازیک یعنی ان کے درمیان حائل ہو جائے كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) اور یہ بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور زمین کے ٹھہرانے کے لیے میخوں کی طرح مضبوط پہاڑ بنائے اور شیریں اور تلخ دو دریاؤں کے درمیان ایک حد بنائی جس کی بنا پر ایک دوسرے کا پانی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اب بتاؤ کہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود کی یہ کارگزاریاں ہیں بلکہ ان میں اکثر تو اس چیز کی تصدیق ہی نہیں کرتے اچھا اور سن کر بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط) ” کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟ (بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ” تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات (جن کے ُ بت انہوں نے بنا رکھے تھے) کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے ‘ چہیتے اور مقربین ہیں اور وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے : (ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ ط) (یونس : ١٨) ۔ بس ان کا شرک اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74 It is not a simple thing for the earth to be a place of rest for the countless kinds of different creations living on it. If man looks into the wise harmony and coordination with which this sphere of the earth has been established, he is simply amazed and starts feeling that these harmonies and concordances and relations could not be brought about without the grand design of an All-Wise, AllKnowing and All-Powerful God. This sphere of the earth is floating in space and is not resting on anything, yet there is no commotion and no vibration in its movement. Had there been any vibration in it, such as we experience during an earthquake, life could not exist here. This sphere comes before the sun and hides from it regularly, which causes the alternation of the day and night. Had it turned the same face perpetually towards the sun and kept the other side always hidden, no life could be possible here, for on the bright side all life would have been shrivelled up, and on the dark side all life would have been frozen to death. The sphere is enveloped by a five hundred mile thick atmosphere, which protects it against the' continual bombardment of meteors, otherwise the twenty million meteors on the average, which dart towards the earth daily at 30 miles per second, would have caused such destruction as would not have allowed any man animal or tree to survive. The same atmosphere controls the temperature, raises clouds from the oceans, carries water to different parts of the earth and provides the required gases that sustain the human, animal and plant life. Without it the earth could not become a fit place of rest for any kind of animal life. Just under the earth's surface all those minerals and chemicals which are essential to the survival of vegetable and animal life have been provided in abundance. Wherever these natural resources do not exist, the land there cannot sustain any kind of life. A great store of water has been arranged on the earth in the form of oceans, rivers, lakes, springs and underground channels and snow on the mountains which melts and flows down in the form of rivers. Without such an arrangement there could be no life. Then the earth has been endowed with an appropriate gravitational pull by which it keeps the water and the air and all other things found on it attracted to it. If this pull had been a little less strong, it could not have stopped the air and the water from escaping. It would also have so much increased the temperature that life titre would have become difficult. On the other hand, if the gravitational pull had been a little stronger, the atmosphere would have been denser, its pressure would have increased, evaporation would have become difficult and rains impossible; the cold would have increased and less areas on earth would have been inhabitable; men and animals would have been shorter in size but heavier in weight, which would have made movement difficult. Besides, this sphere has been located at a suitable distance from the sun, which is most appropriate for the population here. If the distance had been longer, the earth would have received less of heat, the climate would have been much colder, the seasons much longer and the earthwould be hardly inhabitable. On the other hand, if the distance had been shorter, the intensity of the heat along with other factors would have rendered it unfit for the kind of life man is living here. These are a few of those harmonies and concordances due to which earth has become a place of rest for its population. A man with a little common sense who is aware of these facts cannot imagine for a moment that these concordances have come into existence without the design of an All-Wise Creator, as a mere accident, nor can he ever conceive that a god or goddess, jinn or prophet, saint or angel, could have had any hand in the creation and bringing into operation of this grand design. 75 That is, the bodies of sweet and saline waters that exist on the earth but do not , intermingle. Underground water channels mostly flow separately with sweet water and saline water side by side. Even in the middle of the bitter seas there exist at some places springs of sweet water; their current remains separate from the sea water and the sea passengers obtain their drinking water from it. (For further explanation, see, E.N. 68 of Surah Al-Furqan) .

سورة النمل حاشیہ نمبر : 74 زمین کا اپنی بے حد و حساب مختلف النوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے ۔ اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں ، یہ کرہ فضائے بسیط میں معلق ہے ، کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے ، مگر اس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہں ہے ، اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا جس کے خطرناک نتائک کا ہم کبھی زلزلہ آجانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں ، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی ، یہ کرہ باقاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے آتا اور چھپتا ہے جس سے رات اور دن کا اختلاف رونما ہوتا ہے ، اگر اس کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیاہ اور غیر آباد بنا دیتی ۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردا چرھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے ۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب ، جو 30 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں ، یہاں وہ تباہی مچاتے ہیں کہ کوئی انسان ، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا ، یہی ہوا درجہ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے ، یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی اور زمین کے مختلف حصوں تک آب رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں گراہم کرتی ہے ، یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی ، اس کرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزاء بڑے پیمانے پر فراہم کردیے گئے ہیں جو نباتی ، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں ، جس جگہ بی یہ سرو سامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو سہارنے کے لائق نہیں ہوتی ، اس کرے پر سمندروں ، دریاؤں ، جھیلوں ، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کردیا گیا ہے ، اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے ، اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان نہ تھا ، پھر اس پانی ، ہوا اور تمام ان اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں ، سمیٹے رکھنے کے لیے اس کرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے ، یہ کشش اگر کم ہوتی تو ہوا اور پانی ، دونوں کو نہ روک سکتی اور درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہوجاتی ، یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہوجاتی ، اس کا دباؤ بہت بڑھ جاتا ، بخارات آبی کا اٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہوسکتیں ، سردی زیادہ ہوتی ، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے ، بلکہ کشش ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی ، علاوہ بریں اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبای کے لیے مناسب ترین ہے ۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی ، سردی بہت زیادہ ہوتءی تو موسم بہت لمبے ہوتے ، اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا ، اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے برعکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں ۔ ہپ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے ، کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوگئی ہیں ، اور نہ یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور رو بعمل لانے میں کسی دیوی دیوتا ، یا جن ، یا نبی و ولی یا فرشتے کا کوئی دخل ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 75 یعنی میٹھے اور کھاری پانی کے ذخیرے جو اسی زمین پر موجود ہیں ، مگر باہم خلط ملط نہیں ہوتے ، زیر زمین پانی کی سوتیں بسا اوقات ایک ہی علاقے مٰں کھاری پانی الگ اور میٹھا پانی الگ لیکر چلتی ہیں ، کھاری پانی کے سمندر تک میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے رواں ہوتے ہیں اور ان کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے پینے کے لیے پانی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ( تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، سورہ الفرقان ، حاشیہ 68 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

31: جہاں دو دریا یا دو سمندر ملتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا ہے کہ دونوں کے پانی آپس میں ملتے نہیں ہیں، بلکہ دور تک دونوں دریا ساتھ ساتھ بہنے کے باوجود الگ الگ نظر آتے ہیں، گویا ان کے درمیان ایک آڑ کھڑی کردی گئی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:61) امن۔ آیت 59 سے جو توحید کا مضمون شروع ہوا تھا وہ آیت 64 تک چلا گیا ہے اور اس ذات وحدہ لاشریک کی قدرت کے مختلف کرشمے بیان کر کرے منکرین توحید کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بھلا بتاؤ قدرت کی ان صناعیوں میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوسکتا ہے۔ پھر آیات 65 ، 66 میں ان کی اس شدید گمراہی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ یہاں پھر منکرین توحید سے تنبیہا سوال ہوتا ہے کہ وہ بت (جن کی تم پوجا کرتے ہو) بہتر ہیں یا وہ ذات احد (جس کی صفات آگے گنائی گئی ہیں) قرارا۔ اسم مصدر (ٹھہراؤ) یا مصدر (ٹھہرنا) یہاں ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے بمعنی مستقرا۔ منصوب بوجہ فعل کے مفعول کے ہے یا بوجہ حال ہونے کے۔ خللھا مضاف مضاف الیہ اس کے درمیان ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ رواسی : راسیۃ کی جمع ہے یہ مادہ رسو سے مشتق ہے رسا الشیء (باب نصر) کے معنی کسی چیز کا کسی جگہ پر ٹھہرنا اور استوار ہونا ہے اور ارسی (افعال) ٹھہرانا اور استوار کردینا کے ہیں۔ پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے جیسا کہ اسی معنی کے اعتبار سے پہاڑوں کو اوتاد بھی کہا گیا ہے جیسے والجبال اوتادا (78:5) اور کیا ہم نے پہاڑوں کو میخیں (نہیں) بنادیا ہے (ای الم نجعل الجبال اوتادا) ۔ حاجرا : حجاب، پردہ، اوٹ۔ روک۔ آڑ۔ حجر سے (باب نصر۔ ضرب) جس کے معنی دو چیزوں کو آڑ کے ذریعہ ملنے سے روک دینے کے ہیں قرآن مجید میں روکنے کے معنی میں ارشاد ہے فما منکم من احد عنہ حاجزین (69:47) پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہیں۔ حجاز کو حجاز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ شام اور بادیہ کے درمیان حائل ہے۔ حاجزا اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے نصب کی وجہ یہ ہے کہ جعل کا مفعول استعمال ہوا ہے یا یہ حال ہے جس کا ذوالحال مقدر ہے۔ وجعل بین البحرین حاجزا اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل بنادی یا آڑ بنادی۔ اسی مضمون میں سورة الرحمن میں ہے مرج البحرین یلتقین بینھما برزخ لا ینغین (55:1920) اسی نے دو سمندروں کو چلا یا کہ باہم مل جاویں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ یعنی اس میں گردش، پانی، ہوا، آگ، سردی، گرمی، غرض ہر چیز کا متوازن نظام قائم کر کے اسے اس قابل بنایا کہ اس پر آدمی اور جانور آرام سے زندہ رہتے اور اس کی پیداوار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی معنی زمین کے ” وحو “ اور ” تسویہ “ کے ہیں۔ (کبیر) 4 ۔ تاکہ ڈگمگائے نہیں اور سکون سے ایک مقرر راستہ پر حرکت کرتی رہے۔ (دیکھئے سورة نمل :5، الانبیا 8، لقمان :30) 5 ۔ کہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط نہیں ہوسکتے۔ (دیکھئے فرقان :53)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ لوگو ! بتاؤ کہ کس نے زمین میں ٹھہراؤ پیدا کیا، اس میں دریا اور نہریں چلائیں، کس نے بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ بنائے اور کس نے دو سمندروں کے درمیان ایک پردہ بنایا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بنانے والا ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے یہ کام نہیں کیے۔ دلائل جاننے کے باوجود لوگوں کی اکثریت توحید کے علم سے نابلد ہے۔ سوالات کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین عظیم قدرتوں کا ذکر کیا ہے۔ قرار کے لفظ پر آپ جتنا غور کریں گے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شان ربوبیت کے کرشمے آپ کو یہاں نظر آئیں گے۔ انسانی زندگی کی بقا اور نشونما کے لیے زمین میں کس کس خاصیت کا پایا جانا ضروری ہے اور کون کون سی ایسی چیزیں ہیں جو زمین میں موجود نہ ہوں تو انسانی زندگی اپنی رعنائیوں اور مسرتوں سے یکسر خالی ہوجائے، جس سے اب اس کا دامن معمور ہے۔ کون کون سی چیزیں ہیں اگر ان کا سراغ نہ لگایا جائے تو بےپناہ قوّتیں جو زمین کی فطرت میں مضمر ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بےکار پڑی رہیں۔ قرار کے لفظ پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں گے معارف ومعانی کا ایک لا متناہی سلسلہ آپ کے سامنے بےنقاب ہوتا چلا جائے گا یہاں نیو یارک سائنس اکیڈمی کے پریذیڈنٹ اے سی موریسن کے مضمون کا مختصر اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ ” زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر کاٹ رہی ہے اگر اس کی رفتا ایک ہزار میل کی بجائے ایک سو میل ہوتی تو دن اتنے لمبے ہوتے کہ سورج کی تپش تمام کھیتوں کو بھون کر رکھ دیتی اور راتیں اتنی لمبی اور سرد ہو تیں کہ زندگی کی اگر کچھ رمق سورج کی تپش سے بچ جاتی تو رات کی سردی اسے منجمد کر کے رکھ دیتی۔ سورج کا درجۂ حرارت بارہ ہزار ڈگری فارن ہیٹ ہے لیکن زمین کو اس سے اتنی مناسب دوری پر رکھ دیا گیا ہے کہ وہاں سورج کی حرارت اس قدر ہی پہنچتی ہے جو حیات بخش ہے۔ اگر اٹھارہ ہزار ڈگری ہوتا تو ساری زمین اس کی تمازت سے جل کر راکھ ہوجاتی۔ زمین کا جھکاؤ تیئس درجے کا زاویہ بناتا ہے اور اسی جھکاؤ سے ہمارے موجودہ موسم مناسب وقفوں کے بعد باری باری آتے ہیں۔ اگر اس میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھنے والے بخارات جنوب اور شمال میں حرکت کرتے اور اتنی زور سے برف باری ہوتی کہ ساری زمین ڈھک جاتی۔ اگر چاند کی دوری زمین سے اتنی نہ ہوتی جتنی اب ہے بلکہ صرف پچاس ہزار میل ہوتی تو سمندروں میں مدجزر اس شدت سے آتا کہ پہاڑوں تک کو بھی بہا کرلے جاتا۔ اگر زمین کی سطح موجودہ سطح سے صرف دس فٹ زیادہ موٹی ہوتی تو یہاں آکسیجن ہی نہ ہوتی اور کوئی جانور زندہ نہ رہتا اور اگر سمندر چند فٹ اور گہرے ہوتے تو ساری کاربن ڈائی اکسائیڈ اور آکسیجن صرف ہوجاتی اور روئے زمین پر کوئی سبز پتہ نظر نہ آتا۔ اس حکیمانہ نظام پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کارخانۂ ہستی اتفاقاً معرض وجود میں نہیں آیا بلکہ ایک حکیم ودانا خالق نے اس کی تخلیق فرمائی ورنہ زندگی کا کوئی امکان نہ تھا۔ (بحوالہ : ضیاء القرآن ) جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ساحل کے نزدیکی مقامات پر جہاں دریا کا تازہ میٹھا اور (سمندر کا) نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں وہاں کی کیفیت ان مقامات سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ جہاں دو سمندوں کے نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں یہ دریافت ہوا ہے کہ کھاڑیوں (estuaries) میں تازہ پانی کو کھاری پانی سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ ” پکنواکلائن زون “ (Pycnocline Zone) ہے جس کی کثافت غیر مسلسل ہوتی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جو کھاری اور تازہ پانی کی مختلف پرتوں (Layers) کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ اس رکاوٹ (یعنی علاقۂ امتیاز) کے پانی میں نمک کا تناسب (شوریت) تازہ پانی اور کھاری پانی دونوں ہی سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مظہر کا مشاہدہ بھی متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ جن میں مصر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ جہاں دریائے نیل، بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (Layers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعًا غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً ٠٣٥، ٦ کلومیٹر ہے اور قشر ارض، جس پر ہم رہتے ہیں، اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی ٢ کلومیٹر سے لے کر ٣٥ کلومیٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہٰذا اس کے تھرتھرانے یا ہلنے کا امکان بھی بہت قوی ہے، اس میں پہاڑ خیمے کی میخوں کا کام کرتے ہیں جو قشرارض کو تھام لیتی ہیں اور اسے قیام پذیری عطا کرتے ہیں۔ یہی بات قرآن پاک میں ارشاد ہوئی : (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وََّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ ) [ النباء : ٦۔ ٧] ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ “ earth نام کی ایک کتاب ہے جو دنیا بھر کی کئی جامعات میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس کا بھی ہے، جو ١٢ سال تک امریکہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل جیسی شکل (Wedge Shape) سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو :earth از : پریس اور سلور ڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے، قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرز تے رہنے سے بچائیں :

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

امن جعل الارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل اکثرھم لایعلمون (61) اس کائنات کی پہلی حقیقت اور اس کے بارے میں پہلا سوال جو انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی۔ پھر جب ہم کرہ ارض پر ہیں ، تو اس زمین کا اپنی موجودہ ہیئت پر وجود میں آنا ہمارے لیے ایک اہم سوال ہے۔ پھر یہ کہ اس زمین کو زندگی کا مستقر اور سکون کی جگہ بنایا گیا ہے۔ زمین کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر زندگی وجود پا سکتی ہےٗ یہاں اسے سکون ملتا ہے اور نشوونما کے اسباب ملتے ہیں۔ اگر اس زمین کی موجودہ شکل یہ نہ ہوتی اور شمس و قمر کے مقابلے میں اس کے موجودہ فاصلے نہ ہوتے یا اس کا حجم وہ نہ ہوتا جو ہے یا اس کے عناصر اور اس کی فضا میں جو عناصر ہیں وہ نہ ہوتے ، یا زمین کی حرکت اپنے محور کے اردگرد ذرا تیز ہوتی یا سورج کے اردگرد اس کی گردش موجودہ گردش سے زیادہ تیز ہوتی یا چاند کی گردش زمین کے گرد تیز ہوتی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے حالات جو محض اتفاق سے وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ ایک مکمل ترتیب اور ہم آہنگی کے ساتھ وجود میں لائے گئے ہیں۔ اگر ان حالات میں سے کسی چیز میں کوئی ادنیٰ سا تغیر بھی آجائے تو یہ زمین ” قرار “ نہ ہوتی اور نہ اس میں انسان یا کوئی اور چیز زندہ رہ سکتی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کے پہلے مخاطب اللہ کے اس قول سے وہ باتیں نہ سمجھتے ہوں جو ہم سمجھتے ہیں : امن جعل الارض قرار (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا “۔ لیکن اس قدر وہ لوگ بھی سمجھتے تھے کہ یہ زمین زندگی کے لیے ایک جائے قرار ہے اور اس کے اوپر زندگی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ وہ اس حقیقت کو ذرا اجمال کے ساتھ سمجھتے تھے اور ہم ذرا مزید تفصیلات کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی مشرک بھی یہ دعویٰ نہ کرسکتا تھا کہ ان کے الہوں میں سے کوئی الہہ تخلیق زمین میں اللہ کے ساتھ شریک ہے۔ پس اس آیت سے ان کے لیے یہ بات کافی تھی اور اس آیت کے معنی کے اندر علم کی وسعت کے ساتھ ساتھ اب تفصیلات کی وسعت پیدا ہوگئی اور ہوتی رہے گی۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان اور طرز استدلال کا معجزہ ہے کہ اس سے سائنسی اعتبار سے پسماندہ سوسائٹی بھی اسی قدر استفادہ کرتی تھی جس طرح زمانوں بعد آج کے ترقی یافتہ لوگ کرتے ہیں۔ امن جعل الارض قرار وجعل خللھا انھرا (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے “۔ زمین کے اوپر اللہ نے جو دریا چلا رکھے ہیں وہ دراصل زندگی کے شربان ہیں۔ یہ اس کرہ ارض کی بلندیوں سے مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب کی سمتوں میں چلتے ہیں۔ اور اپنے ساتھ سرسبزی شادابی اور نشوونما لاتے ہیں۔ ان کی تشکیل ان پانیوں سے ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ زمین میں جمع فرماتا ہے ، ہر علاقے کے طبیعی حالات کے مطابق ، جس ذات نے اس زمین کو پیدا کیا ، اس نے اس کے منصوبے میں بادلوں کی تشکیل ، بارش کا نظام اور دریاؤں کا بہاؤ رکھا۔ کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نظام کی تشکیل میں خالق کائنات کے سوا کوئی اور بی شریک ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اس کرہ ارض پر بڑے بڑے دریا بہہ رہے ہیں۔ یہ سوال ایک حقیقی سوال ہے کہ آخر کون ہے جس نے ان دریاؤں کو یوں چلایا اور بہایا۔ کیا ہے کوئی الہہ اللہ کے ساتھ ؟ وجعل لھا رواسی (27: 61) ” اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں “۔ رواسی کے معنی اونچے پہاڑ کے ہیں۔ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے اور زمین پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور اکثر اوقات ان پہاڑوں ہی سے نہریں نکلتی ہیں۔ جہاں سے بارشوں کے پانی نکل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر ان دریاؤں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں شگاف اور گہرائیاں پیدا ہو کر وادیاں بن جاتی ہیں اور اونچے مقامات سے یہ دریا قوت کے ساتھ نشیبی علاقوں کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں انداز بیان میں اونچے اور جمے ہوئے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ندیاں اور دریا دکھائے گئے ہیں۔ قرآن کی تصویر کشی کے اندر یہ طرز ادا عام ہے کہ وہ ایک ہی آیت میں باہم متضاد مناظرو معانی پیش کرتا ہے ۔ یہاں بھی چلتے دریاؤں کے بعد کھڑے پہاڑ دکھائے گئے ہیں۔ وجعل بین البحرین حاجزا (27: 61) ” اور پانی کے دو سمندروں کے درمیان پردے حائل کر دئیے “۔ ایک سمندر سخت نمکین کھارا اور دوسرا میٹھا اور خوشگوار۔ دونوں کو بحرین کہا گیا۔ بطور تغلب کیونکہ دونوں کا مشترکہ مادہ پانی ہے اور دونوں کے درمیان پردہ ایک طبعی پردہ ہوتا ہے۔ اس طرح کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کے ساتھ ملتا نہیں۔ اس طرح اسے کھارا نہیں بنا دیتا۔ اس کی تفصیلات یوں ہیں کہ دریاؤں کی سطح سمندر کی سطح سے قدرے اونچی ہوتی ہے۔ جب دریاؤں کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو اس پانی کی سطح سمندر کی سطح سے اونچی ہوتی ہے ۔ یہ دریا پھر سمندر کی سطح کے اوپر دور تک چلتا رہتا ہے۔ سمندر اس کو خراب نہیں کرتا۔ اب اگر دریا کا یہ پانی سمندر کے پانی سے نیچے بھی ہوجائے تو وہ آپس میں ملتے نہیں۔ اس وجہ سے کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کی نسبت زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے دونوں پانی ایک دوسرے کے ساتھ ملتے نہیں ، جدا ہی بہتے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی سنت اپنی اس کائنات کے اندر اور اس معجزانہ انداز میں اللہ نے اپنی اس کائنات کو بنایا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ یہ معجزانہ کام کس نے کیا۔ اللہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ء الہ مع اللہ (27: 61) اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کی بابت ایسا دعویٰ کرسکتا ہے ، تو وہ سامنے آئے۔ اگر نہیں تو اس کائنات کے یہ عجوبے اور یہ منصوبے دلیل ناطق ہیں کہ اس کا ایک خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے۔ بل اکثرھم لا یعلمون (27: 61) ” بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں “۔ یہاں بھی علم کا ذکر کیا کہ ” بےعلم نتواں خدارا شناخت “۔ اور جس طرح اس سورت کے خلاصہ میں اور پارہ سابق میں ہم نے بتایا تھا کہ اس سورت کا محور ہی علم ہے۔ پوری سورت میں علم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اب روئے سخن مشاہد کائنات سے خود انسان کی نفسیاتی دنیا کی وادیوں کی طرف پھرجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

53:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ جس نے زمین کو پرسکون بنایا، اس میں دریا اور ندیاں بہا دیں، اس کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے اس پر پہاڑ رکھ دئیے اور دو مختلف الذائقہ سمندروں میں پردہ حائل کردیا۔ کیا وہ بہتر ہے یا تمہارے عاجز و بےبس معبود۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ اور کارساز ہے جو یہ مذکورہ کام کرسکے ؟

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(61) بھلا کس نے زمین کو بسنے والوں کے لئے قرار گاہ بنایا اور زمین کو ٹھہرنے کے لائق بنایا اور زمین کے درمیان ندیاں بنائیں اور اس زمین کے ٹھہرانے کے لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریائوں کے مابین ایک آڑ بنائی کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں بلکہ ان میں کے بہت سے تو اتنی موٹی بات سمجھتے بھی نہیں یعنی زمین کو ایسا بنایا کہ اس میں انسان اور حیوانات آباد ہوسکیں پھر اس زمین کے درمیان ندیاں بنائیں جس کے پانی کو پیا جاسکے اور کھیتی کے کام میں بھی آسکے اور زمین کے ٹھیرائو اور جمائو کے لئے جگہ جگہ زمین میں بھاری پہاڑ بنائے اور دودریائوں کے درمیان روک اور حاجب بنایا کہ دو دریا آپس میں مل نہ جائیں اور ایک دریا دوسرے دریا کو متاثر ن ہ کردے تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے جو اس کا ہاتھ بٹاتا ہو کوئی نہیں بلکہ واقعہ ہے کہ اکثر لوگ ان میں کے ان موٹی موٹی باتوں کو سمجھتے تک نہیں۔