Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 64

سورة النمل

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾

Is He [not best] who begins creation and then repeats it and who provides for you from the heaven and earth? Is there a deity with Allah ? Say, "Produce your proof, if you should be truthful."

کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says, أَمَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ... Is not He Who originates creation, and shall thereafter repeat it, He is the One Who, by His might and power, originates creation and then repeats it. This is like the Ayat: إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِىءُ وَيُعِيدُ Verily, the punishment of your Lord is severe and painful. Verily, He it is Who begins and repeats. (85:12-13) وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him. (30:27) ... وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاء وَالاَْرْضِ ... and Who provides for you from heaven and earth, with the rain He sends down from the sky causing the blessings of the earth to grow, as He says elsewhere: وَالسَّمَأءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالاّرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ By the sky which gives rain, again and again. And the earth which splits. (86:11-12) يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَأءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا He knows that which goes into the earth and that which comes forth from it, and that which descends from the heaven and that which ascends to it. (34:2) Allah, may He be blessed and exalted, sends down water from the sky as a blessing, and causes it to penetrate the earth, and then come forth as springs. After that, by means of the water He brings forth all kinds of crops, fruits and flowers, in all their different forms and colors. كُلُواْ وَارْعَوْا أَنْعَـمَكُمْ إِنَّ فِى ذلِكَ لايَـتٍ لاٌّوْلِى النُّهَى Eat and pasture your cattle; verily, in this are signs for men of understanding. (20:54) Allah says: ... أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ ... Is there any god with Allah! meaning, who did this Or, according to another interpretation: after this who could be worth worship! ... قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ Say: "Bring forth your proofs, if you are truthful." Produce the evidence of that. But it is known that they have no proof or evidence, as Allah says: وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَـهَا ءَاخَرَ لاَ بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الْكَـفِرُونَ And whoever invokes besides Allah, any other god, of whom he has no proof; then his reckoning is only with his Lord. Surely, the disbelievers will not be successful. (23:117)

قدرت کاملہ کا ثبوت فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے ۔ پھر انہیں فنا کرکے دوبارہ پیدا کرے گا ۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے ۔ جیسے سورۃ طارق میں فرمایا پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم ۔ اور آیت میں ہے ( يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ Ą۝ ) 34- سبأ:2 ) ، یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے ۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے ۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اسکی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں ۔ یقینا یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لئے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں ۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کرسکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو؟ لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لئے دوسری آیت میں فرمادیا کہ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقینا کافر ہے اور نجات سے محروم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

641یعنی قیامت والے دن تمہیں دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا۔ 642یعنی آسمان سے بارش نازل فرما کر، زمین سے اس کے چھپے خزانے (غلہ جات اور میوے) پیدا فرماتا ہے اور یوں آسمان و زمین کی برکتوں کو کھول دیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٩] آغاز خلق اور اعادہ خلق کا مسئلہ بھی اپنے اندر اللہ کی ہزارہا قدرتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور انسان جتنا اس معاملہ میں غور کرتا ہے اس کی حیرانگی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں سب سے پہلا سوال یہ پیش آتا ہے کہ روح کیا چیز ہے جس پر زندگی کا مدار ہے۔ اور یہ سوال آج بھی ایسا پیچیدہ اور لاینمحل ہے جیسا کہ حضرت آدم کے وقت تھا۔ انسان نے یہ تو دریافت کرلیا کہ مثلاً انسان فلاں فلاں عناصر کا مرکب ہے اور انسان کے جسم میں ان عناصر کی مقدار اتنی اور اتنی ہوتی ہے۔ مگر انہی عناصر کو اسی مقدار کے مطابق ترکیب دے کر ایک زندہ انسان بن کھڑا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور یہ مسئلہ غالباً تاقیامت لاینمحل ہی رہے گا۔ پھر یہ صرف ایک انسان کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام جاندار اشیاء کا مسئلہ ہے۔ جس میں نباتات بھی شامل ہے۔ نباتات بھی جانداروں کی طرح بڑھتی ہے۔ پھلتی پھولتی ہے حتیٰ کہ احساس و شعور بھی رکھتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع اور جاندار اشیاء کی تقریباً دس لاکھ انواع انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ جو اپنی ساخت، عناصر اور تکیب کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں اور جب سے انسان نے ان انواع کو جاننا شروع کیا اس وقت سے لے کر آج تک انسان کے علم میں یہ بات نہیں آسکی۔ کہ نباتات یا حیوانات کی کوئی نوع ارتقاء کی منزل طے کرکے اپنے سے کسی اعلیٰ جنس میں تبدیل ہوگئی ہو۔ بلکہ جس حال میں انسان نے اسے پہلے دن دیکھا تھا اسی حال میں بھی یہ آج بھی پائی جاتی ہے۔ جس سے ڈارون کے نظریہ کا از خود ابکال ہوجاتا ہے اگرچہ ڈارون کے نظریہ کے باطل ہونے کے اور بھی بیشمار دلائل موجود ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے نباتات کی اور حیوانات کی جس نوع کو جس طرح پہلے دن پیدا کیا تھا آج بھی وہ اسی صورت میں پائی جاتی ہے اور انسان کی تخلیق تو ایک بالکل خصوصی نوعیت رکھتی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ (٣٨: ٧٥) اور اعادہ خلق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرے گا۔ بلکہ اعادہ خلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر آن مردہ سے زیادہ اور زندہ سے مردہ پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ نظام نباتات اور حیوانات کی تمام تر اقسام میں جاری وساری ہے۔ مثلاً ایک ننھے سے بیج کو لیجئے اس میں اس درخت کی وہ تمام تر خصوصیات سمو دی گئی ہیں جس کا وہ بیج ہے۔ جب اس بیج کو نشوونما کا موقع ملے گا تو اس میں وہ تمام تر خصوصیات مثلاً اس کا رنگ، اس کا مزا، اس کی بو، اس کا قد و قامت، اس کا پھل اسی درخت جیسا ہوگا جس کا وہ بیج تھا۔ اسی طرح کسی جاندار یا انسان کے نطفہ میں اس انسان کی شکل و صورت ہی منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کی عادات و خصائل تک منتقل ہوجاتی ہیں۔ رہا انسان کا اور جسم اور اس کے اندر پیچیدہ مشینری، اس کا عصبی، عضلاتی، لحمی اور ہڈیوں کی پیدائش کا نظام یہ سب چیزیں اس انسان کے نطفہ میں ایک خوردبینی۔۔ کی شکل میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ اور جب اسے نشوونما کا موقعہ میسر آتا ہے تو یہ سب چیزیں عملی طور پر وجود میں آجاتی ہیں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک جاندار کے جرثومہ میں کسی دوسرے جرثومہ کے خواہش منتقل ہوجائیں۔ یا مثلاً کسی عورت کے رحم میں اونٹ کا جرثومہ چلا جائے تو اس کے ہاں اونٹ کا بچہ پیدا ہوجائے اللہ کا اعادہ خلق کا نظام آغاز خلق سے بھی زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے۔ اب غور فرمائیے کہ اس آغاز خلق اور اعادہ خلق کے نظام میں اللہ کے علاوہ کسی فرشتے، کسی نبی، کسی ولی، کسی جن، کسی پیروفقیر، یا کسی سیارے یا بت کا عمل دخل ہے ؟ اگر نہیں تو پھر عبادت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں ؟ [٧٠] تمام نباتات اور حیوانات کی ضروریات زندگی اگرچہ زمین ہی سے وابستہ ہیں۔ تاہم ان کی خوراک، پیدائش میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ سب سے بڑا عامل تو زمین کی قوت روئیدگی ہے۔ مٹی کی تاریکی میں ہی بیج کی نشوونما شروع ہونے لگتی ہے۔ دوسرا عامل سورج ہے۔ جس کی گرمی سے سطح سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ تیسری عامل ہوائیں ہیں جو ان آبی بخارات کی سمت موڑتی ہیں۔ چوتھا عامل پہاڑوں کی بلندی یا کسی بلند طبقہ کی ٹھنڈک ہے جو پھر سے ان آبی بخارات کو پانی کے قطروں کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔ پھر اسی پانی کے ساتھ زمین کی قوت روئیدگی ملتی ہے۔ تب جاکر نباتات اگتی ہے اور انسان اور حیوانات کو رزق میسر آتا ہے۔ غور فرمائیے کہ ان سمدنروں، اس سورج، ان ہواؤں، ان پہاڑوں اور اس زمین کی پیدائش میں اللہ کے سوا کسی دوسرا ہستی کا کچھ عمل دخل ہے ؟ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بارش فلاں سیارے کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے پر یا اس سیارے کی روح کے مجسمے یا بت کی قربانی یا نذرانہ دینے سے ہوتی ہے تو اسے کوئی تجرباتی مشاہداتی یا نقلی دلیل پیش کرنا چاہئے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو اللہ رزاقیت میں دوسرے کیسے شامل ہوسکتے ہیں۔ اور لوگوں کے داتا کیسے بن سکتے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ : یہ سادہ سی بات، جسے ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے، اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الٰہ اور وحدت الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے، انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے ؟ ! اس وقت تک مسلّم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود سب قطعی ناکام ہوچکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز معلوم کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں ” ڈی۔ این۔ اے “ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے، جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد آگے دیکھیے، زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں، بلکہ بیشمار متنوّع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریباً ١٠ لاکھ اور نباتات کی تقریباً ٢ لاکھ انواع کا پتا چلا ہے، یہ لکھوکھہا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثیٰ مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے، اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے اور ہر وہ افسانہ جو کسی مقصود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع، حکیم، ایک الخالق، الباری، المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوّع صورتیں عطا کی ہیں۔ یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ، اب ذرا اعادۂ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل رکھ دیا ہے جو اس کے بیشمار افراد میں سے بیحد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورت نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانۂ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کے لیے ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے کے ایک حصہ میں ہوتا ہے، جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشو و نما کو حتماً اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانے سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے۔ کسی آب و ہوا یا کسی ماحول میں یہ حادثہ رونما نہیں ہوا کہ دانۂ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانۂ جو پیدا ہوتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی، بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۂ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بیشمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالدو تناسل کے اس خوردبینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بےانتہا لطیف و پر پیچ عملیات کو دیکھے کہ جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی تصوّر نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبّر اور ایک حی و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و راہ نمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانۂ خلق و اعادۂ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن) وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ : رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر کوئی شخص ان مختصر الفاظ کو پڑھ کر محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے، اور پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ گرمی، روشنی، ہوا، پانی اور زمین کے مختلف اقسام کے مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرّہ بھی وجود میں نہیں آسکتا۔ کون شخص تصور کرسکتا ہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یوں ہی اتفاقاً ہوسکتا تھا ؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جنّ ، فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی عمل دخل ہے ؟ (تفہیم القرآن) قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : یعنی اس چیز کی کوئی دلیل لاؤ کہ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ ظاہر ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ) [ المؤمنون : ١١٧ ]” اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ “ تو جب تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہی نہیں تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں، مگر عبادت اس کے سوا یا اس کے ساتھ کسی اور کی کی جائے ؟ ” بُرَھَانَکُم “ (اپنی دلیل) اس لیے فرمایا کہ فی الواقع تو کوئی دلیل نہیں، تم نے اگر کوئی دلیل بنا رکھی ہے تو پیش کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ Say, |"No one in the heavens and the earth has the knowledge of Unseen except Allah.|" - 27:65 The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was instructed to tell people that all the creatures that live in the heavens, like angels, and all the creatures that live in this world, like humans and jinns, none of them have any knowledge of the unseen (ghayb) except Allah. In the above-referred verse it has been stated very clearly that it is an exclusive attribute of Allah Ta` ala, and no one else, not even an angel or a prophet, could share this attribute. This subject has been dealt with in detail under verse No. 59 of Surah al-&am on page No.360 in the 3rd volume. In addition to that, I have written a separate treatise on the subject under the title (کشف الریب عن علم الغیب) which has been published in my book Ahkam-ul Qur&an in arabic. Those who are interested in this subject can refer to that.

خلاصہ تفسیر ربط آیات : اوپر نبوت کے بعد توحید کا ذکر ہوچکا، آگے معاد یعنی قیامت اور آخرت کا ذکر ہے جس کی طرف دلائل توحید میں اس قول سے اجمالی اشارہ بھی ہوا ہے (ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ) اور چونکہ کفار اس کی تکذیب کی ایک وجہ یہ بھی قرار دیتے تھے کہ قیامت کا معین وقت پوچھنے پر بھی نہیں بتلایا جاتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ یعنی وہ عدم تعیین کو عدم وقوع کی دلیل بناتے تھے اس لئے اس مضمون کو اس بات سے شروع کیا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے فرمایا قُلْ لَّا يَعْلَمُ الخ (جس میں ان کے شبہ کا جواب بھی ہوگیا) قیامت کی تعیین کا علم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر ان کے شک و انکار پر تشنیع ہے (بَلِ ادّٰرَكَ ) پھر ان کے ایک انکاری قول کی نقل ہے (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا) پھر اس انکار پر تہدید ہے (قُلْ سِيْرُوْا) پھر اس انکار پر آپ کی تسلی ہے وَلَا تَحْزَنْ پھر اس تہدید کے متعلق ان کے ایک شبہ کا جواب ہے (وَيَقُوْلُوْنَ الخ) پھر تہدید کی تاکید ہے وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ الخ جیسا تقریر ترجمہ سے ظاہر ہوگا۔ (یہ لوگ جو قیامت کا وقت نہ بتلانے سے اس کے عدم وقوع پر استدلال کرتے ہیں اس کے جواب میں) آپ کہہ دیجئے کہ (یہ استدلال غلط ہے کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ اتنا لازم آیا کہ مجھ سے اور تم سے اس تعیین کا علم غائب رہا سو اس میں اسی کی کیا تخصیص ہے غیب کی نسبت تو قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ) جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین (یعنی عالم) میں موجود ہیں (ان میں سے) کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا، بجز اللہ تعالیٰ کے اور (اسی وجہ سے) ان (مخلوقات) کو یہ خبر (بھی) نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کئے جاویں گے (یعنی اللہ تعالیٰ کو تو بےبتلائے سب معلوم ہے اور کسی کو بےبتلائے کچھ بھی معلوم نہیں مگر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے امور جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا واقع ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کا علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ چیز موجود ہی نہیں۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت سے بعض علوم کا پردہ غیب میں رکھنا منظور ہے قیامت کی تعیین بھی انہی امور میں ہے اسی لئے مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا گیا مگر اس سے عدم وقوع کیسے لازم آ گیا اور یہ عدم علم بالتعیین تو سب میں امر مشترک ہے لیکن ان کفار منکرین میں صرف یہی نہیں کہ وہ بالتعیین قیامت کو نہیں مانتے) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ) آخرت کے بارے میں (خود) ان کا (نفس) علم (بالوقوع ہی) نیست ہوگیا (یعنی خود اس کے وقوع ہی کا علم نہیں جو تعیین کے علم نہ ہونے سے بھی اشد ہے) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) یہ لوگ اس (کے وقوع) سے شک میں ہیں، بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں (یعنی جیسے اندھے کو راستہ نظر نہیں آتا اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے اسی طرح تصدیق بالاخرت کا جو ذریعہ ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ انتہائی عناد کی وجہ سے ان دلائل میں غور تامل ہی نہیں کرتے اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی۔ پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے) اور (اس تشنیع علی الکفار کے بعد آگے ان کا ایک انکاری قول نقل فرماتے ہیں کہ) یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم لوگ جب (مر کر) خاک ہوگئے اور (اسی طرح) ہمارے بڑے بھی تو کیا (پھر) ہم (زندہ کر کے قبروں سے) نکالے جاویں گے اس کا تو ہم سے اور ہمارے بڑوں سے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) پہلے سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے (کیونکہ تمام انبیاء کا یہ قول مشہور ہے لیکن نہ آج تک ہوا اور نہ کسی نے بتلایا کہ کب ہوگا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) یہ بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے نقل ہوتی چلی آئی ہیں آپ کہہ دیجئے کہ (جب اس کے امکان پر دلائل عقلیہ اور وقوع پر دلائل نقلیہ جا بجا بار بار تم کو سنا دیئے گئے ہیں تو تم کو تکذیب سے باز آنا چاہئے ورنہ جو اور مکذبین کا حال ہوا ہے کہ عذاب میں گرفتار ہوئے وہی تمہارا حال ہوگا اگر ان کی حالت میں کچھ شبہ ہو تو) تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرمین کا انجام کیا ہوا ( کیونکہ ان کے ہلاک ہونے اور عذاب آنے کے آثار اب تک باقی تھے) اور (اگر باوجود ان مواعظ بلیغہ کے پھر مخالفت پر کمربستہ رہیں تو) آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے دل تنگ نہ ہوجائے ( کہ اور انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے) اور (قُلْ سِيْرُوْا الخ میں اور اس کے امثال دوسری آیات میں جو ان کو وعید عذاب سنائی جاتی ہے تو چونکہ دل میں تصدیق نہیں اس لئے) یہ لوگ (بےباکانہ) یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب و قہر کا) کب ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ عجب نہیں کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہی آ لگا ہو اور (اب تک جو دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ کا رب لوگوں پر (اپنا) بڑا فضل رکھتا ہے (اس رحمت عامہ کی وجہ سے قدرے مہلت دے رکھی ہے) و لیکن اکثر آدمی (اس بات پر) شکر نہیں کرتے (کہ تاخیر کو غنیمت سمجھیں اور اس مہلت میں حق کی طلب کریں اور اس کو قبول کرلیں کہ عذاب سے نجات ابدی حاصل ہو بلکہ بالعکس انکار اور بطور استہزاء کے جلد بازی کرتے ہیں) اور (یہ تاخیر چونکہ بمصلحت ہے اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ ان افعال کی کبھی سزا ہی نہ ہوگی کیونکہ) آپ کے رب کو سب خبر ہے جو کچھ ان کے دلوں میں مخفی ہے اور جس کو وہ علانیہ کرتے ہیں اور (یہ صرف علم خداوندی ہی نہیں بلکہ دفتر خداوندی میں لکھا ہوا ہے جس میں کچھ ان ہی کے افعال کی تخصیص نہیں بلکہ) آسمان اور زمین میں ایسی کوئی مخفی چیز نہیں جو لوح محفوظ میں نہ ہو (اور دفتر خداوندی یہی لوح محفوظ ہے اور جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال بد کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے اور آسمانی دفتر میں بھی محفوظ ہیں اور وہ اعمال خود سزا کے مقتضی بھی ہیں اور سزا کے واقع ہونے پر سب انبیاء (علیہم السلام) کی دی ہوئی اخبار صادقہ بھی متفق ہیں۔ پھر یہ سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے چناچہ بعض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں بھی ہوئیں جیسے قحط، قتل و قید وغیرہ اور کچھ قبر و برزخ میں ہوں گی جو کچھ دور نہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔ معارف ومسائل قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہے کہ آپ لوگوں کو بتلا دیں کہ جتنی مخلوق آسمانوں میں ہے جیسے فرشتے اور جتنی مخلوق زمین میں ہے جیسے بنی آدم اور جنات وغیرہ ان میں سے کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا۔ بجز اللہ تعالیٰ کے آیت مذکورہ نے پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ بتلایا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے جس میں کوئی فرشتہ یا نبی و رسول بھی شریک نہیں ہو سکتا۔ اس مسئلہ کی ضروری تفصیل سورة انعام کی آیت نمبر 59 کے تحت صفحہ 352 جلد 3 پر آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر احقر کا ایک مستقل رسالہ بنام کشف الریب عن علم الغیب احکام القرآن (عربی) کا جزء بن کر شائع ہوچکا ہے۔ اہل علم اس کی مراجعت فرما سکتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝ ٠ۭ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ٦٤ بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو هيت هيت هَيْتَ : قریب من هلمّ ، وقرئ : هَيْتَ لَكَ «2» : أي : تهيّأت لك، ويقال : هَيْتَ به وتَهَيَّتْ : إذا قالت : هَيْتَ لك . قال اللہ تعالی: وَقالَتْ هَيْتَ لَكَ [يوسف/ 23] . يقال : هَاتِ ، وهَاتِيَا، وهَاتُوا . قال تعالی: قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ [ البقرة/ 111] قال الفرّاء : ليس في کلامهم هاتیت، وإنما ذلک في ألسن الحیرة «3» ، قال : ولا يقال لا تهات . وقال الخلیل «4» : المُهَاتَاةُ والهتاءُ مصدر هات . ( ھ ی ت ) ھیت ( ھ ی ت ) ھیت اور ھلم کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں اور آیت وقالتْ هَيْتَ لَكَ [يوسف/ 23] کہنے لگی ( یوسف ) چلا آؤ ۔ میں ایک قرات ھیت لک بھی ہے جس کے معنی تھیات لک کے ہیں ییعنی میں تیرے لئے تیار ہوں اور ھیت بہ وتھیت کے معنی ھیت لک کہنے کے ہیں ھات ( اسم فعل ) لاؤ تثنیہ اور جمع کے لئے ھائتا وھا تو ا ۔ آتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ [ البقرة/ 111]( اے پیغمبر ) ان سے تم کہدو کہ ۔۔۔۔۔ دلیل پیش کرو ۔ افتراء کا کہنا ہے کہ کلام عرب میں ھاتیت مستعمل نہیں ہے یہ صرف اہل حیرہ کی لغت ہے اور اس سے لالھات ( فعل نہیں ) استعمال نہیں ہوتا ۔ خلیل نے کہا ہے کہ المھاتاہ والھتاء ( مفاعلہ سے ) سات صیغہ امر ہے ۔ ھیھات یہ کلمہ کسی چیز کے بعید ازقیاس ہو نیکو کو بتانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس میں ھیھات ھیھات اور ھیھاتا تین لغت ہیں اور اسی سے قرآن پاک میں ہے : ۔ هَيْهاتَ هَيْهاتَ لِما تُوعَدُونَ [ المؤمنون/ 36] جس بات کا تم وعدہ کیا جاتا ہے ( بہت ) لبیدا اور ( بہت ) بعید ہے ۔ زجاج نے ھیھات کے معنی البعد کئے ہیں دوسرے اہل لغت نے کہا ہے کہ زجاج کو ( لما ) کے لام کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ اس کی اصل بعد الامر وا الوعد لما توعدون ہے اور اس میں ایک لغت ھیھات بھی ہے ۔ الفسوی نے کہا ہے کہ ھیھات کسرہ تا کے ساتھ ھیھات ( بفتح تاء ) کی جمع ہے ۔ بره البُرْهَان : بيان للحجة، وهو فعلان مثل : الرّجحان والثنیان، وقال بعضهم : هو مصدر بَرِهَ يَبْرَهُ : إذا ابیضّ ، ورجل أَبْرَهُ وامرأة بَرْهَاءُ ، وقوم بُرْهٌ ، وبَرَهْرَهَة «1» : شابة بيضاء . والبُرْهَة : مدة من الزمان، فالبُرْهَان أوكد الأدلّة، وهو الذي يقتضي الصدق أبدا لا محالة، وذلک أنّ الأدلة خمسة أضرب : - دلالة تقتضي الصدق أبدا . - ودلالة تقتضي الکذب أبدا . - ودلالة إلى الصدق أقرب . - ودلالة إلى الکذب أقرب . - ودلالة هي إليهما سواء . قال تعالی: قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] ، قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] ، قَدْ جاءَكُمْ بُرْهانٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ النساء/ 174] . ( ب ر ہ ) البرھان کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں اور یہ ( رحجان وثنیان کی طرح فعلان کے وزن پر ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ برہ یبرہ کا مصدر ہے جس کے معنی سفید اور چمکنے کے ہیں صفت ابرہ مونث برھاء ج برۃ اور نوجوان سپید رنگ حسینہ کو برھۃ کہا جاتا ہے البرھۃ وقت کا کچھ حصہ لیکن برھان دلیل قاطع کو کہتے ہیں جو تمام دلائل سے زدر دار ہو اور ہر حال میں ہمیشہ سچی ہو اس لئے کہ دلیل کی پانچ قسمیں ہیں ۔ ( 1 ) وہ جو شخص صدق کی مقتضی ہو ( 2 ) وہ جو ہمیشہ کذب کی مقتضی ہو ۔ ( 3) وہ جو اقرب الی الصدق ہو ( 4 ) جو کذب کے زیادہ قریب ہو ( 5 ) وہ جو اقتضاء صدق وکذب میں مساوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] اے پیغمبر ان سے ) کہدو کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] کہو کہ اس بات پر ) اپنی دلیل پیش کرویہ ( میری اور ) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) اور بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو نطفہ سے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا اور جو کہ آسمان سے تمہارے لیے پانی برساتا اور زمین سے نباتات اگاتا ہے کیا اللہ جل شانہ کے علاوہ اور کسی کی جرأت ہے کہ ایسا کرسکے (اور اگر اب بھی نہ مانیں) تو آپ فرما دیجیے کہ اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ اللہ کے علاوہ اور بھی معبود اور مشکل کشا ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

80 The simple fact hat has been expressed in this one sentence is so vast in meaning and detail that as one considers it more and more deeply one goes on getting new and ever new proofs of Allah's existence and His unity. to the first place, take the question of the creation itself. Man by his knowledge has not been able to discover what is life, how and whereform it comes. So far the admitted scientific fact is that the mere arrangement of inanimate matter by itself cannot bring about life. Though the atheists assume, unscientifically, that life comes into existence automatically when aII the elements essential for its creation combine together accidentally in the right proportion, yet if the athematical law of chance is applied to it, the possibility of its occurrence comes to nought. All attempts made so far to produce animate matter out of inanimate matter experimentally in the laboratory have met with utter failure in spite of employing every possible care. At the most what has been created is DNA, which is the basic constituent of the living cell. This is the essence of life but not life itself. Life in itself even now is a miracle which cannot be explained scientifically except by saying that it is the result of a Creator's will and command and design. Furthermore, life does not exist in a solitary form but in a limitless variety of forms. Man has so far discovered more or less a million species of animals and two hundred thousand species of plants on the earth, which in their constitution and special characteristics are so clearly and absolutely different from one another, and thave been maintaining their distinctive features since the earliest known times so consistently that no Darwin could ever give any rational explanation of this great variety of life except the existence of the creative design of One God. Not a link has so far been discovered between any two species, which might have broken up the form of the characteristics and constitution of one species and might be struggling to attain the characteristics and constitution of another species. The whole record of the fossils is without such a precedent, and among the existing animals also thereis no such "eunuch" in its physical form. Any member of any species that exists is found with thedistinctive features of its own species, and every story that is invented and announced from time to tune about the discovery of some missing link is destroyed by the facts themselves. Therefore, the inevitable fact is that it is the All-Wise Designer, the Planner of creation, its Enforcer and its Fashioner, Who has endowed life with all its countless different forms. This was about the beginning of the creation.Now let us consider its reproduction. The Creator has placed inthe constitution and snake-up of every animal and vegetable species such a wonderful mechanism, which goes on producing through its countless members an endless race exactly with its own distinctive form and nature and characteristics, and it never has happened even by mistake that in these millions and millions of tiny sex workshops a certain workshop of a species may have turned out a specimen of a different species. The observations of modern Genetics in this connection present wonderful facts. Every plant has been so endowed with the capability of procreating its species that the new generation should possess all the distinctive characteristics of its own species and its every member should be distinguished in its special features from the members of aII other species. This element for the survival of the species and its procreation is contained in a part of a cell of every plant, which can be seen with effort only through a most powerful microscope. This tiny engineer directs the whole development the plant precisely and definitely on the way which is the way .of its own distinctive species. That is why alI the plants that have emerged from a grain of wheat arty where in the world have in turn produced only wheat. In no climate and in no region has it ever happened that from the whole race of a grain of wheat even a single grain of barley might have emerged. The same is the case with animals and men. None of them has been created just for once, but on an inconceivably high scale a huge factory of reproduction is functioning every where, which is constantly bringing into existence, from the members of every species, countless other members of the same species. If one considers the microscopic germ of procreation which along with aII the distinctive features and hereditary characteristics of its species is found in a small portion of its tiny self and thou looks at the extremely delicate and complex physiological system and the subtle, intricate processes by which the procreative seed of every member of every species produces a member of the same species, one cannot conceive for a moment that such a tine and subtle system could come into being by itself, and then keep on functioning by itself in millions and millions of the members of different species. This thing stands in need of an All-Wise Designer not only for its beginning but for its proper and perpetual functioning also it needs an Administrator Who is at once Wise and Ever-Living and Self-Subsistent, Who is ever watching and guiding the work of these workshops. These facts destroy the very basis of an atheist's denial of God as also of a polytheist's creed of polytheism. A foolish person only can think that an angel or a jinn or a prophet or a saint has any hand in this work of God, but no unbiased person possessed of a little common sense can ever say that this huge workshop of production and reproduction with all its underlying wisdom and order started working just accidentally and has since been working so automatically. 81 The question of the provision of sustenance also is not so simple as a person may feel it to be from a cursory study of this brief sentence. There exist on this earth millions of animal and vegetable species, each comprising billions of members having different food requirements. The Creator has arranged the means of sustenance for each species in such abundance and so within easy reach that members of no species ever go without food. Then the agencies of the earth and sky which combine and work together in this system are varied and countless. Unless there is the right kind of coordination and harmony between the heat, light, air, water and the diverse substances of the earth, not a single particle of food can be produced. ' Can anyone conceive that this wise system could come about just accidentally. without the intelligent planning and design of an All-Wise Creator? And can anybody in his senses imagine that in this system there could be any hand of a Jinn or an angel or the spirit of a pious man? 82 That is, "You should either bring a proof to show that someone else is an associate of Allah in these works, or, if that is not possible, you should at least explain by an argument why you should worship and serve any other god beside Allah, when One Allah alone has done, and is doing, all these works."

سورة النمل حاشیہ نمبر : 80 یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنےا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں ، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے ۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے ، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بے جان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی ، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے ، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق ( law of Chance ) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا ، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں ( Labo ratories ) میں بے جان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں ، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں ( D.N.A ) کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے ۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے ۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے ۔ اس کے بعد آگے دیکھیے ۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بے شمار متنوع صورتوں میں پائی جاتی ہے ، اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریبا 10 لاکھ اور اور نباتات کی تقریبا دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے ۔ یہ لکوکھا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں ، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے ( Design ) کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے ۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو ۔ متحجرات ( Fossils ) کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثی مشکل کہیں نہیں ملا ہے ۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے ، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے ہم پہنچ جانے کا وقتا فوقتا سنا دیا جاتا ہے ۔ تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں ۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم ، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں ۔ یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ ۔ اب ذرا عادۃ خلق پر غور کیجیے ۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل ( Mechanism ) رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حد و حساب نسل ٹھیک کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے ۔ جدید علم تناسل ( Genetics ) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں ۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو ۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے ( Cell ) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہ چھوٹا سا انجینیر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتما اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے ۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے گہیوں ہی پیدا کیا ہے ، کسی آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانہ جو پیدا ہوجاتا ، ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہوکر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۃ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلا جارہا ہے ۔ اگر کوئی شخص توالد و تناسل کے اس خورد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے ، اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بے انتہا لطیف و پر پیچ عملیات ( Progresses ) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے ، تو اہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے ۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چالہتی ہے ، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک نظام و مدبر اور ایک حی و قیوم کی طلاب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو ۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی ، کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدا کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے ، اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہوکر یہ کہہ سکتا ہے کہ سارا کارخانہ خلق و اعادۃ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقا شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جارہا ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 81 رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر ان مختصر سے الفاظ کو پڑھ کر کوئی شخص محسوس کرتا ہے ۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں ۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے ۔ پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے ، گرمی ، روشنی ، ہوا ، پانی ، اور زمین کے مختلف الاقسام مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرہ بھی وجود میں نہیں آسکتا ۔ کون شخص تصور کرسکتا ہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یونہی اتفاقا ہوسکتا تھا ؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جن یا فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی دخل ہے؟ سورة النمل حاشیہ نمبر : 82 یعنی یا تو اس بات پر دلیل لاؤ کہ ان کاموں میں واقعی کوئی اور بھی شریک ہے ، یا نہیں تو پھر کسی معقول دلیل سے یہی بات سمجھا دو کہ یہ سارے کام تو ہوں صرف ایک اللہ کے مگر بندگی و عبادت کا حق پہنچے اس کے سوا کسی اور کو یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:64) یبدؤا : یدء یبدء ویبدؤ۔ بدء (باب فتح) سے مجارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ابتدائی تخلیق کرتا ہے یعنی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ نیست سے ہست کرتا ہے۔ اسی سے ابتداء ہے شروع کرنا۔ اور بادی الرای (11:27) رائے فطری یعنی وہ رائے جو ابتداء سے قائم کرلی جائے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ کما بدأکم تعودون (7:29) اس نے جس طرح ابتدا میں تم کو پیدا کیا تھا اس طرح تم پھر پیدا ہوجاؤ گے۔ یعیدہ مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر۔ وہ دوبارہ پیدا کر دے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب خلق کی طرف راجع ہے۔ یرزقکم من السمائ : ای المطر اور (من) الارض : ای النبات ۔ قل۔ خطاب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ ھاتوا۔ ھات اسم فعل۔ بمعنی امر ہے۔ لا ۔ اس سے تثنیہ صیغہ ھاتیا اور جمع کا صیغہ ھاتوا آتا ہے پس ھاتوا (اسم فعل) امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے تم لاؤ ھیت مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ آسمان سے مینہ برساتا ہے اور زمین سے غلے اور پھل اگاتا ہے۔ 10 ۔ یعنی اس چیز کی دلیل لائو کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی معبود ہے اگر دلیل نہیں لاسکتے۔ اور ظاہر ہے کہ اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں مگر عبادت اور بندگی اس کے علاوہ کسی اور کی جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : تو حد کے دلائل جاری ہیں۔ مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنا اور پھر اسے اپنی طرف لوٹانا، لوگوں کو زمین و آسمان سے رزق مہیا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اور شریک اور سہیم نہیں ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت ١١٧ میں ارشاد ہے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمینوں، آسمانوں کو بغیر کسی نقشے اور پہلے سے موجود میٹریل کے پیدا فرمایا۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف ” کُن “ فرماتا ہے اور وہ چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة الانعام آیت ١٠١ میں یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ اللہ ہی ذات واحد ہے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد، اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے وہ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کامل اور اکمل علم رکھتا ہے اور وہی ابتداء سے ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر ایک کو اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا۔ نہ صرف اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کو اس کی ضروریات بھی فراہم کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے ہوا میں، ستارے فضا میں، اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک اور ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ زندگی کے لیے ہوا اور پانی اس قدر لازمی عناصر ہیں کہ ان کے بغیر زندگی لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہ اتنے ارزاں اور وافر ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ اس لیے قرآن نے اللہ کی ہستی اور اس کے نظام ربوبیت سے بات کا آغاز کیا ہے تاکہ انسان کا وجدان پکار اٹھے کہ مجھے اس ہستی کا شکر ادا کرنا اور اسی کے تابع فرمان رہنا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہ نظام اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کسی منتظم کے بغیر جاری اور قائم نہیں رہ سکتا۔ ایک زندہ ضمیر شخص جب اپنے چاروں طرف رب کی ربوبیت کے اثرات و نشانات دیکھتا ہے تو اس کے دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے۔ (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) [ المؤمنون : ١٤] ” اللہ تعالیٰ برکت والا اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “ ان حقائق اور دلائل کے بعد مشرکین سے یہ استفسار کیا گیا ہے کہ بتائیں موت وحیات کا مالک اور مخلوق کی ضروریات پوری کرنے والا کون ہے ؟ اگر تمہارے زندہ یا مردہ، جاندار یا غیر جاندار معبودوں میں کسی ایک نے یا سب نے مل کر کوئی ایک کام کیا ہے یا کسی کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے تو دلیل پیش کرو۔ ” کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں سے جس کے لیے چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے کم کردیتا ہے۔ وہ یقیناً ہر بات سے خوب واقف ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس پانی سے مردہ زمین کو کس نے زندہ کیا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ ” اللہ نے “ کہیے پھر ہر طرح کی حمد بھی اللہ ہی کے لیے ہے مگر اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ “ [ العنکبوت : ٦٠ تا ٦٣] مسائل دو سوال مشرک ان کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو اپنی طرف لوٹانے والا ہے۔ ٣۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی رازق ہے اس کے بغیر کوئی رزق دینے والا نہیں۔ ٤۔ مشرکین کے پاس شرک کی کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہیں۔ ٥۔ مشرک اپنے عقیدہ اور مؤقف میں سراسر جھوٹا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرکین کا اقرار : ١۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : ٦١) ٢۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً کہیں گے کہ انہیں زبردست اور سب کچھ جاننے والے نے ” اللہ “ پیدا کیا ہے۔ (لزخرف : ٩ ) ٣۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی ہے۔ (المومنون : ٨٨۔ ٨٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

امن یبدوا الخلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (64) اس کائنات و مخلوقات کا آغاز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ نہ تخلیق کائنات کے مسئلے کو اللہ وحدہ کے وجود کو تسلیم کیے بغیر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کائنات کا وجود ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ اللہ موجود ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے اس کائنات کے وجود کے مسئلے کو وجود باری تعلیم کرنے کے بغیر حل کرنے کی سعی کی ہے ، درآں حالیکہ اس کائنات کے وجود ہی میں ایک معمم ارادہ اور ایک قصد اور ایک منصوبہ نظر آتا ہے تو ایسے لوگ مسئلہ کائنات کے حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت اس لیے ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کے تمام آثار کے اندر وحدت نظر آتی ہے ، اس کی تدبیر ایک ہے ، تقدیر ایک ہے اور اس پوری کائنات کی اسکیم میں ایک ایسا ربط اور ہم آہنگی ہے کہ اس کا ایک ہی خالق تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ یہ تو تھا آغاز ، رہا یہ معاملہ کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی تخلیق کا دوبارہ اعادہ کرے گا تو اس بارے میں تمام کفار اور مشرکین کو خلجان تھا۔ لیکن جو شخص اس کائنات کے آغاز کے بارے میں اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ ایک صاحب ارادہ و تدبیر ذات کی تخلیق ہے اور وہ اس کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور ربط کی وجہ سے ایک ہے تو اس کے لیے یہ تسلیم کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی کہ وہ ذات اسے دوبارہ پیدا کرے گی تاکہ اس دنیا میں آنے والے لوگ اپنے اعمال کی جزا پوری کی پوری وہاں پائیں گے کیونکہ اس دنیا میں اچھے برے عمل پر انسان کو اگرچہ جزاء و سزا ملتی ہے مگر وہ پوری جزاء و سزا نہیں ہوتی۔ لہٰذا مکمل مکافات عمل کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جہاں ہو جس میں مکمل جزاء و سزا ہو۔ اس کے بغیر اس دنیا کی زندگی کی تکمیل ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ایک آنے والی زندگی کی تصدیق ضروری ہے جس میں مکمل ہم آہنگی ، مکمل کمال نصیب ہو۔ سوال یہ ہے کہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق جزاء و سزا اس جہاں میں کیوں نہ ہوئی۔ تو یہ ان حکمتوں کی وجہ سے جن کو خالق کائنات ہی خوب جانتا ہے۔ کیونکہ اپنی مخلوق کے تمام راز خالق ہی کے پاس ہیں۔ اور یہ وہ غائبانہ راز ہیں جن کی اطلاع اللہ نے انسان کو نہیں دی۔ یہی اصول ہے جس کے مطابق اس آیت میں سوال کیا گیا ہے کہ کس نے ابتداء اس کائنات کو پیدا کیا اور کون ہے جو دوبارہ پیدا کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ہے۔ ء الہ مع اللہ (27: 64) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔ رزق دینے کا تعلق ، آغاز تخلیق سے بھی متعلق ہے اور اعادہ تخلیق سے بھی وابستہ ہے۔ اللہ کے بندوں کے رزق کا انتظام بالکل ظاہر و باہر ہے۔ نباتات کی شکل میں اور حیوانات کی شکل میں۔ پانی اور ہوا ، کھانے پینے اور سانس لینے کے لیے ضردری ہیں۔ زمین کے معدنی ذخائر اور دھاتیں بھی انسانوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں ، جن میں مقناطیسی قوت اور بجلی کی قوت بہت ہی اہم ہے ۔ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسانی زندگی کے لیے اس کے علاوہ اور بھی بےحدوحساب ایسی قوتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں لیکن انسان کو ابھی تک ان کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ وقفے وقفے سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے بارے میں بتاتا جاتا ہے ۔ آسمانوں سے انسان کو کس طرح رزق فراہم ہوتا ہے ؟ دنیا میں انسان کو آسمانوں سے روشنی فراہم ہوتی ہے ، حرارت فراہم ہوتی ہے ، بارش فراہم ہوتی اور تمام دوسری چیزیں جن کا مرکز آسمانوں میں ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جو درجات بلند اور جو انعامات دے گا وہ بھی معنوی اعتبار سے ایک آسمانی رزق ہے کیو ن کہ قرآن بھی آسمان ارتفاع اور بلندی سے آتا ہے اور بلندی کے لیے آتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے تخلیق اور اعادہ تخلیق کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے کہ آغاز تخلیق کے ساتھ زمین کے ارزاق کا واضح تعلق ہے ۔ تمام مخلوق زمین کے ارزاق کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ اور آخرت کے ساتھ ان ارزاق کا تعلق بھی آغاز تخلیق سے واضح ہے۔ دنیا میں حیات انسانی کے لیے آسمانوں کے ارزاق اور سامان زیست کی ضرورت ہے اور آخرت میں یہ انعامات انسان کے جزاء و فاقا ” پوری پوری جزا “ کی صورت میں ہوں گے ۔ لہٰذا آغاز تخلیق اور زمین و آسمان کے ارزاق سے اس کا تعلق واضح ہے اور کلام الٰہی باہم حیرت انگیز انداز میں مربوط ہے۔ آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق تو درحقیقت پیش پا افتادہ حقائق ہیں۔ اسی طرح زمین و آسمان سے انسانوں اور تمام مخلوقات کے لیے رزق کا سامان بھی دراصل معلوم حقائق ہیں لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے قرآن نہایت زوردار اور تحدی یعنی چیلنج کے انداز میں ان کو اس طرح متوجہ کرتا ہے۔ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین (27: 64) ” کہو لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو “۔ بیشک اس وقت بھی مخالفین اس قسم کی کوئی دلیل لانے سے عاجز رہے اور آج تک کوئی اس قسم کی کوئی دلیل نہیں لاسکا۔ یہ ہے نظریاتی مباحث میں قرآن کا انداز کلام۔ قرآن کریم کائنات کے مناظر و مشاہد پیش کرتا ہے۔ انسانی نفس کے اندر موجود حقائق کو پیش کرتا ہے۔ اس طرح قرآن جو منطق پیش کرتا ہے اس کا دائرہ اس پوری کائنات تک وسیع ہوتا ہے۔ انسانی فکر و نظر کو پوری کائنات میں گھماتا ہے۔ انسان کی فطرت کو میقل کرتا ہے تاکہ انسانی دماغ اور انسانی فطرت خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں جو واضح اور سادہ ہو۔ اور انسانی شعور پر جوش ہو اور اسکی وجدانی قوت اچھی طرح کام کر رہی ہو ، کیونکہ دلائل تو خود انسانی نفس اور انسانی فطرت میں موجود ہیں لیکن غفلت اور نسیان کی وجہ سے انسان ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور کفر اور انکار ان دلائل پر پردے ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ ان وجدانی اور کائناتی دلائل سے اور اپنی اس فطری منطق کے بل بوتے پر قرآن کریم انسان کو اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عظیم حقائق تک پہنچاتا ہے۔ یہ حقائق اس طرح واضح ہوجاتے ہیں کہ ان میں وہ شکوک و شبہات نہیں رہتے جو کسی خشک منطقی استدلال سے بذریعہ صغریٰ و کبریٰ ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ کتابی منطق ہم تک یونانی ثقافت کے ذریعے آتی ہے اور ہمارے علم الکلام کا حصہ بن گئی حالانکہ اس کا انداز قرآنی نہ تھا ۔ اس نے ہمیں قرآنی منطق سے دور کردیا۔ انفس وآفاق کی وا دیوں میں سیر کرتے ہوئے اور عقیدہ تو حید اور نفی شرک کو وجدانی طور پر ثا بت کرنے کے بعد ، اب قران کر یم ہمیں اس وادی میں لے جاتا ہے جو عا لم غیب کے اندر مستور ہے اور جس کے حالات صرف وہ خالق اور مدبر ہی بتا سکتا ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے یعنی یہ کہ موت بعد کیا ہوگا ۔ آخرت کس طرح کیونکہ یہ اللہ کے غیوب میں ایک غیب ہے ۔ اور قرآن منطقٰ وجد انی ہدایت اور انسانی فطرت اس کے و قوع کی شہادت دیتی ہیں اور انسان علم وادراک کے ذریعہ اس بات کے تعین سے قاصر ہیں کہ یہ گھڑی کب آئے گی ؟ قل لایعلم من فی السوتوالارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والارض الا فی کتب مبین (75) ” ان سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔ یہ منکرین کہتے ہیں ” کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا ؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباؤ اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے رہے ہیں “۔ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر دل تنگ ہو۔ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم سچے ہو ؟ “ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو ، اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ بلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو “۔ غیب پر ایمان لانا ، موت کے بعد اٹھایا جانا اور پوری زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب دینا اسلامی عقائد کے اندر ایک بنیادی عنصر ہے۔ اسلامی زوایہ سے زندگی کا کوئی نظام ان عقائد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آنے والے جہان پر ایمان لائے ، جہاں اعمال کی مکمل جزاء و سزا ہو اور عمل اور اس کی اجرت کے درمیان مکمل توازن ہو۔ یہ عقیدہ انسان کے دل میں جاگزیں ہو ، انسانی نفس اس کے بارے میں حساس ہو ، اور اس دنیا میں انسان کی تمام سرگرمیاں اس عقیدے پر قائم ہوں کہ اس نے آخرت میں اپنی زندگی کا پورا حساب و کتاب دینا ہے۔ انسانیت نے اپنی طویل تاریخ میں عقیدہ آخرت کے بارے میں مختلف رسولوں کے مقابلے میں عجیب و غریب موقف اختیار کیے ، حالانکہ یہ عقیدہ بہت ہی سادہ ہے اور ہادی النظر میں بہت ہی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی رسول آیا اور اس نے لوگوں کو عقیدہ آخرت کی طرف متوجہ کیا تو لوگوں نے اس دعوت کو بہت ہی عجیب و غریب سمجھا۔ حالانکہ یہ کائنات موجود تھی ، اس کے اوپر یہ رنگا رنگ حیات موجود تھی ، وہ کود موجود تھے کیا ان معجزات کو پہلی مرتبہ صادر کرنا اور پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری مرتبہ ان کو دہرانا مشکل تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ انسانوں نے آخرت کے بارے میں ڈرانے والوں کی دعوت سے منہ موڑا۔ وہ اس دعوت کے بارے میں بکواس کرتے رہے۔ اور کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ قیام قیامت ایک غیب ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے ، اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔ کفار نے ہمیشہ نبیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ قیامت کے وقوع کے وقت کا تعین کردیں۔ جب یہ یقین نہ ہوا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اسے محض پرانے وقتوں کی ایک کہانی سمجھا کہ یہ ایک بات ہے جو پرانے وقتوں سے کہی جا رہی ہے لیکن ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔ یہاں پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا علم آخرت کے بارے میں محدود ہے اور آخرت کا وقوع ان غیبی امور میں سے ایک ہے جس کا انسان کو علم نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

56:۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے۔ جس نے سب کو پیدا فرمایا، جو سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور جو زمین و آسمان سے مخلوق کی روزی کا انتظام کرتا ہے کیا اس کے سوا کوئی اور کارساز ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ قل ھاتوا برھانکم، یہ مذکورہ پانچوں دلیلوں سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے تو اپنے دعوے پر دلائل واضحہ بیان کردئیے ہیں اگر اب بھی تم نہیں مانتے ہو تو اپنے شرک پر کوئی دلیل پیش کرو۔ پہلی دلیل کے آخر میں فرمایا۔ بل ھم قوم یعدلون، یہ لوگ توحید سے اعراض کرتے ہیں۔ دوسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے فرمایا بل اکثرھم لا یعلمون بلکہ ان کی اکثریت تو بالکل جاہل ہے توحید کو جانتی ہی نہیں۔ تیسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے فرمایا قلیلا ما تذکرون، ان کی ضد و جہالت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود وہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ چوتھی دلیل کے بعد فرمایا تعالیٰ اللہ عما یشرکون، مذکور بیان سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہر شریک سے پاک ہے آخر میں پانچویں دلیل کے بعد مشرکین کو چیلنج دیدیا کہ ھا توا برھانکم الخ اگر اب بھی تم نہیں مانتے ہو تو اپنے دعوے پر کوئی دلیل تو پیش کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(64) بھلا کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے آپ ان سے فرمائیے ا چھا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی برہان اور دلیل پیش کرو یعنی پہلی بار اس کا پیدا کرنا تو سب کو تسلیم ہے اور دوبارہ پیدا کرنے پر براہین اور دلائل قطعیہ پر قائم ہیں آسمان سے پانی برسا کر زمین سے ہر قسم کے رزق کا سامان پیدا کرتا ہے اللہ کے ساتھی اور مددگار بھی نہیں بناتے پھر ان اصنام کو استحقاق عبادت پر تمہارے پاس جو دلیل ہو وہ پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں صادق اور سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ یہ بھی عبادت اور پوجا کے مستحق ہیں وہ متقضیات عبادت پیش کرو اور دلائل سے ثابت کرو جن سے غیر اللہ کا حق عبادت ثابت ہوتا ہے لفظ امن جو بار بار آیا ہے یہ اصل میں ام من ہے پہلا میم دوسرے میم میں مدغم ہوگیا ہے ام استفہامیہ کی دو قسمیں ہیں ایک ام متصلہ دوسری ام منقطعہ بعض حضرات نے ام متصلہ معادلۃ للہمزہ کے موافق ترجمہ کیا ہے اور بعض نے ام منقطعہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ صاحب روح المعانی سے اقتباس کرنے والوں نے ام متصلہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے لیکن ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کے خاندان کا ترجمہ پیش نظررکھا ہے اور ہم نے ترجمہ میں انہی کا اتباع کیا ہے مطلب یکساں ہے۔