Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 67

سورة النمل

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴿۶۷﴾

And those who disbelieve say, "When we have become dust as well as our forefathers, will we indeed be brought out [of the graves]?

کافروں نے کہا کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی ۔ کیا ہم پھر نکالے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Scepticism about the Resurrection and Its Refutation Allah tells: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَيِذَا كُنَّا تُرَابًا وَابَاوُنَا أَيِنَّا لَمُخْرَجُونَ And those who disbelieve say: "When we have become dust -- we and our fathers -- shall we really be brought forth!" Allah tells us about the idolators who deny the Resurrection, considering it extremely unlikely that bodies will be re-created after they have become bones and dust. Then He says:

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں ۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں ۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا ۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے ۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر ۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا ۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں ۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ۔۔ : پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ کفار آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس آیت میں بتایا کہ وہ اپنے اندھے پن میں کیسے بےکار اعتراض کرتے ہیں۔ یہاں بظاہر ” قَالُوْا “ کہنا ہی کافی تھا کہ ” انھوں نے کہا “ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ) ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا “ یعنی ان کی اس بات کا سبب ان کا کفر، یعنی حق کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔ دوبارہ زندہ کرنے پر تعجب کے اظہار کے لیے کفار نے دو مرتبہ ہمزہ استفہامیہ استعمال کیا ہے اور دوسرے ہمزہ کے بعد مزید تعجب کے اظہار کے لیے إِنَّ اور لام تاکید کا لفظ استعمال کیا ہے کہ ” کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں۔ “ ان کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کے نزدیک قبروں میں جانے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکالا جانا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا جواب دیا ہے کہ جس نے پہلی دفعہ بنایا وہ دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ءَ اِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَاۗؤُنَآ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۝ ٦٧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ ترب التُّرَاب معروف، قال تعالی: أَإِذا كُنَّا تُراباً [ الرعد/ 5] ، وقال تعالی: خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] ، یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] . ( ت ر ب ) التراب کے معنی مٹی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] کہ اے کاش کے میں مٹی ہوتا ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧) یہ کفار یوں کہتے ہیں کہ ہم لوگ جب مر کر خاک ہوگئے اور اسی طرح ہمارے آباؤ اجداد بھی تو کیا پھر ہمیں زندہ کر کے قبروں سے نکالا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:67) ء اذا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اذا اسم ظرف زمان کیا جب۔ کنا ماضی جمع متکلم ۔ اذا کنا ترابا۔ کیا جب ہم خاک ہوگئے۔ اذا مستقبل کے واسطے آتا ہے اور ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے لہٰذاء اذا کنا ترابا کا ترجمہ ہوگا کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے۔ ء اباء نا۔ واؤ عطف کا ہے اباء نا کا عطف اسم کان پر ہے (یعنی ضمیر کنا : ای نحن) ۔ ء انا میں ضمیر جمع متکلم نحن واباء نا (یعنی منکرین اور ان کے آباء و اجداد) کی طرف راجع ہے۔ ء اذا کنا اورء انا لمخرجون میں ہمزہ استفہام کی تکرار انکار میں تاکید اور مبالغہ کے لئے ہے (ای للمبالغۃ والتشدید فی الانکار) ۔ لمخرجون ۔ میں لام تاکید کے لئے ہے مخرجون اسم مفعول جمع مذکر نکالے ہوئے نکالے گئے۔ اخراج مصدر یہاں اخراج سے مراد قبروں سے نکالنا یا حالت فناء سے نکال کر دوبارہ زندہ کر اٹھانا ہے۔ یعنی کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں قبروں سے نکالا جائے گا (یا دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں اگر آپ واقعی سچ کہ رہے ہیں وقت بتا دیجیے کہ قیامت کس روز واقع ہوگی یعنی اگر آپ وقت ہی نہیں بتا سکتے تو پھر یہ کیسے مان لیں کہ ضرور واقع ہوگی آپ فرما دیجیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت کے کچھ آثار یعنی اللہ کے عذاب بالکل تمہاری پیٹھ پیچھے موجود ہوں یعنی آیا ہی چاہے ہوں لہذا تم عذاب کی طلب میں جلدی نہ دکھاؤ۔ یہ تو رب دوالجلال کا احسان ہے کہ مہلت عطا فرماتا ہے اس لیے کہ آپ کا پروردگار لوگوں پر بہت مہربان ہے یہ تو لوگ ہی ہیں کہ ان کی اکثریت اللہ کا شکر ادا نہیں کرتی۔ اور تیرا پروردگار تو ایسا ہے کہ جو کچھ لوگوں نے دلوں کی گہرائیوں میں چھپا رکھا ہے اسے بھی جانتا ہے ایسے ہی جیسے جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں جانتا ہے اور اس کا علم تو اس کی شن کے مطابق ہے زمینوں اور آسمانوں کے سب بھید اور غائب باتیں تو لوح محفوظ تک میں لکھی ہیں۔ بلکہ بہت سے غیب تو قرآن نے بیان کردیئے کہ بنی اسرائیل کے علماء میں جن واقعات پر اختلاف تھا اور کوئی فریق بھی یقینی بات نہ بتا سکتا تھا ان واقعات کو صحت کے ساتھ بیان کردیا اور یہ کتاب جس طرح گزشتہ واقعات کی حقیقت بیان کرتی ہے اسی طرح آئندہ کے لیے بھی درست رہنمائی کرتی ہے کہ یہ صرف کتاب نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے انکے لیے جو بھی اس پر ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوں۔ اور وہ وقت آرہا ہے جو فی الحال لوگوں سے غائب اور الللہ کے علم میں ہے کہ اللہ لوگوں کے درمیان اپنے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے اور وہ غالب ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور جانتا ہے کچھ بھی اس سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ اگر یہ آپ کی بات نہیں سنتے تو ان کی مثال مردوں کی ہے آپ مردوں کو کیا سنائیں گے یا اس بہرے کی ہے جو بہرا بھی ہو اور پیٹھ پھیر کر چل بھی دے یا ایسے انسان کی ہے جو اندھا ہو اور وہ سن کر کیسے راہ پاسکتا ہے ہاں آپ کی بات سن کر مستفید ہونا یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو ہماری آیات پر ایمان لائیں اور مسلمان ہوں ، فرمانبردار ہوجائیں۔ سماع موت : ان آیات کا تعلق مردوں کے سننے سے براہ راست نہیں اس لیے کہ یہاں کفار کو مردہ سے تشبیہ دی گئی اور یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں سنتے تھے ہاں انہیں سن کر فائدہ نہیں ہوتا تھا جیسے مردہ نیک بات سن کر اس پر عمل نہیں کرسکتا وہی حال ان کا تھا گویا مراد ایسا سننا ہے جو مفید ہو یعنی " سماع نافع " پھر مقابل بھی زندہ نہیں لایا گیا بلکہ فرمایا آپ ان لوگوں کو سنوا سکتے ہیں جو ایمان لائے۔ یعنی آپ کے ارشادات سن کر فائدہ حاصل کرنا مومن کا کام ہے اس مسئلہ میں کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں صحابہ کرام سے اختلا روایت کیا جاتا ہے س کو بہت آسان انداز میں مفتی محمد شفیع (رح) نے بھی حل فرما دیا ہے اور حق یہ ہے کہ یہ اختلاف مختلف مواقع اور افراد کے بارے ہے مطلق مردہ سنتا ہے یا نہیں کے بارے نہیں ہے کہ قرآن میں جس قدر آیات اس موضوع پر ہیں وہ صرف کفار کے حق میں ہیں اور اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مردے سنتے نہیں ہیں اور مردوں کے سننے کے حق میں موجود ہے جیسے شہداء کے بارہ کہ وہ زندہ ہیں رزق دئے جاتے ہیں اور یہ بھی ہے ویستبشرون بالذی لم یلحقوبھم۔ کہ ان لوگوں کے احوال سے خوش ہوتے ہیں جو ان کے پسماندگان ابھی دنیا میں ہیں یعنی ان کی نیکی پر خوشی کرتے ہیں یعنی روح میں نہ صرف شعور و ادراک ہوتا ہے بلکہ پچھلوں کے حالات سے واقف بھی ہوسکتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو صرف شہداء کی بات ہے تو یہ ثابت ہوگیا کہ سارے مردے سننے سے محروم نہیں ہوتے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی ان صحیح احادیث پہ اعتبار کر کے سماع موتی کا جواز بتاتے ہیں جن میں ارشاد ہے کہ مسلمان بھائی کی قبر پر گزرو تو سلام کہو وہ سلام کا جواب بھی دیتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ نہ تو سارے مردے سنتے ہیں اور نہ ہر کوئی سنا سکتا ہے اللہ چاہے تو جسے سنوا دے اور جس کی بات سنوا دے اور یہی اصول زندوں میں بھی ہے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ دابتہ الارض : جب قیامت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور پھر انہیں پتہ چلے گا جو یقین نہیں کرتے تھے مگر تب وقت گزر چکا ہوگا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کی نشانیوں میں سورج کا مغرب سے نکلنا اور اس جانور کا زمین سے نکلنا ارشاد فرمایا ہے مگر تب توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا اور لوگ اس عجیب جانور کو جو زمین سے برآمد ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گا اور بہت بڑا اور عجیب و غریب ہوگا دیکھ کر حیران ہوں گے اور اللہ کی قدرت کا اندازہ کرسکیں گے مگر ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہوگا کہ اس کر فورا بعد قیامت قائم ہوجائے گی انسانی مزاج آج اسی سمت رواں ہے کہ کتاب اللہ اور انبیا کی حکمت آموز باتوں پہ اعتراض کرتے ہیں اور شعبدہ بازی پر یقین کرلیتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ گذر گیا ہے وہ دوبارہ کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی باتیں ہیں جنہیں ہم اور ہمارے باپ دادا سنتے چلے آرہے ہیں اگر اس بات میں کوئی وزن ہوتا تو آخر اس دنیا سے جانے والا کوئی ایک آدمی تو آکر بتاتا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کو کفار و مشرکین کہتے چلے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ کفار کے ان جملوں کو نقل کرکے جواب دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ عالم برزخ سے تو کوئی آکر وہاں کی کیفیات بیان نہیں کرسکتا البتہ اللہ و رسول کی نافرمانی کرنے والے مجرموں کی بنائی ہوئی عمارتیں اور ان کے کھنڈرات کو جا کر دیکھیں کہ وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ ایسے مجرموں کو جڑ و بنیاد سے کھود ڈالتا ہے اور ان کی بلند وبالا عمارت اور مال و دولت کی کثرت انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتیں۔ کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہہ زندگی پر یقین نہیں رکھتے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہ ان کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اپنے مشن اور مقصد کو پھیلاتے رہیے اور ان کفار کے اعتراضات اور دشمنی کی نہ تو پروا کیجئے اور نہ آپ کسی طرح کا رنج اور افسوس کیجئے۔ کیونکہ وہ دن بہت دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم کر کے ایک نئی دنیا بنائے گا اور پھر ہر شخص سے اس کے کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا۔ یہ وعدہ الہٰی کب پورا ہوگا اس کا علم تو اللہ کو ہے البتہ ایسا لگتا ہے کہ اب اس وعدے کے پورا ہوے کا وقت بہت دور نہیں ہے بلکہ قریب آگیا ہے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن کریم ایک ایسی معیاری کتاب ہے جو اس سے پہلے نازل کی جانے والی کتابوں کے لئے کسوٹی کا درجہ رکھتی ہے یعنی بنی اسرائیل جنہوں نے اپنی کتابوں میں اپنی طرف سے اتنی جھوٹی باتوں کو گھڑ لیا تھا جس سے ان کی کتابیں تضاد اور اختلاف کا نمونہ بن کر رہ گئی ہیں لیکن قرآن کریم نے ان تمام اختلافات کو دور کر کے انسچائیوں کو بیان کیا ہے جو اصل حقائق ہیں۔ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت و رہنمائی اور رحمت کا سبب ہے۔ اگر قرآن کریم کی آیات نازل نہ ہوتیں تو ان بنی اسرائیل کی من گھڑت باتوں سے ساری دنیا گمراہ ہو کر رہ جاتی۔ قرآن کریم نے ہر سچائی کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ ان کے اختلافات کی قلعی تو اللہ نے کھول کر رکھ دی ہے وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور آپ کھلی ہوئی سچائی پر ہیں۔ یقیناً وہ لوگ جو آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے بنے ہوئے ہیں ان کو آپ راہ ہدایت دکھا نہیں سکتے۔ البتہ آپ اپنی کوشش کرتے رہیے۔ قیامت کب آئے گی اس کا تعین تو نہیں کیا گیا البتہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانہ میں دجال کا خروج ابتہ الارض کا ظہور ‘ دخان (دھواں) اور سورج کا مغرب سے نکلنا جب یہ سب علامتیں پوری ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت قریب ہے۔ دابتہ الارض زمین سے پیدا ہونے والا ایک خوفناک جانور ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوگوں سے باتیں کرے گا اور جو لوگ قیامت کا یقین نہ کرنے والے ہوں گے ان کو یقین آجائے گا۔ لیکن اس وقت کا یقین اور ایمان قبول نہیں کیا جائے گا

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ قیامت کے منکروں اور اللہ کے باغیوں کا کیا انجام ہوا ؟ بار بار دلائل دینے اور سمجھانے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ان کے انکار اور شرارتوں پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں آخرت کے منکروں کے لیے مجرم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب آدمی یہ عقیدہ بنا لیتا ہے کہ مجھے اپنے اعمال کا مرنے کے بعد کسی کو جواب نہیں دینا ایسا شخص ظلم اور جرم کرتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ بالخصوص وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح لوگوں کی گرفت اور سزا سے بچنے کے اسباب رکھتا ہے۔ ایسا شخص انسانیت کی حدود سے نکل کر درندوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ آخرت کا انکار جرائم کا سب سے بڑا سبب ہے انسان کو آخرت کی جوابدہی کا فکر ہو تو وہ اقتدار اور اختیار رکھنے کے باوجود ظلم کرنے سے بچتا ہے۔ کیونکہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے اگر میں کسی سبب قانون اور لوگوں سے بچ نکلا تو قیامت کے دن ضرور پکڑا جاؤں گا۔ مسائل ١۔ منکرین آخرت کے پاس آخرت کے انکار کی کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہے۔ ٢۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ ٣۔ لوگوں کو تاریخ کا مطالعہ اور زمین پر چل پھر کر مجرموں کا انجام دیکھنا چاہیے۔ ٤۔ الدَّاعِیْ کو لوگوں کے کفر و شرک پر حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے فکری اور عملی ثبوت : ١۔ اس بات پر تعجب ہے یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : ٥) ٢۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦ ) ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : ٦) ٤۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کیا۔ ( المائدہ : ١١٠) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چار پرندے ذبح کروا کر انہیں زندہ کیا۔ ( البقرۃ : ٢٦٠) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر اور اس کے گدھے کو سو سال مردہ کرنے کے بعد زندہ کیا۔ ( البقرۃ : ٢٥٩ ) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت کے بعد دوبارہ زندہ فرمایا۔ ( البقرۃ : ٢٤٣) ٩۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو 309 سال بعد نہیں اٹھایا تھا۔ (الکہف : ٢٥ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ انا لمخرجون (27: 67) ۔ کفار کے سامنے یہی عقیدہ تھا کہ جب ہم مرجائیں گے اور قبروں میں ہمارے جسم مٹی ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جیسا کہ یہ مشاہدہ ہے کہ تمام مردے دفنائے جانے کے کچھ عرصہ بعد اسی طرح ہوتے ہیں۔ شاذو نادر ہی جسم محفوظ رہتے ہیں۔ جب ہم بھی ایسے ہوجائیں گے اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ نکالا جائے گا ، زندہ کیا جائے گا جبکہ ہمارے اجسام کے ذرے مٹی میں مل چکے ہوں گے۔ یہ تو بڑی مسعبد بات ہے۔ وہ یہ بات کرتے ہیں اور مادہ کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ ان کے لیے حیات اخروی کے تصور کو مشکل بنا رہا ہے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کو پہلے بھی پیدا کیا گیا اور اس پیدائش سے قبل وہ کچھ بھی نہ تھے۔ کسی کو پتہ نہ تھا کہ اس کے جسم میں جو خلئے اور جو ذرات ہیں اور جن سے ان کی زندگی کا یہ ہیکل بنا ہوا ہے۔ یہ کہاں کہاں سے جمع ہوئے ، یہ زمین کے اطراف اور سمندر کی گہرائیوں میں بکھرے ہوئے تھے اور یا اس کائنات کی فضاؤں میں اڑ رہے تھے۔ زمین سے مٹی لی گئی ، ہواؤں سے ذرات لیے گئے ، پانی کے ذرات کہاں کہاں سے کس کس بادل نے اٹھا کر لائے ، اور بعض ذرات تو سورج سے آئے۔ پھر جو بدستور بذریعہ تنفس ، نباتات نیز ، حیوانات کے دودھ اور گوشت ، پھر بخارات کے ذریعہ جس میں داخل ہوتے ہیں ، پینے کے ذریعے جو چیزیں جسم کا حصہ بنتی ہیں۔ پھر سورک کی گرمی سے جو جسم اثر لیتا ہے۔ یہ سب متفرق چیزیں جن کی تعداد تو صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسانی جس میں جمع ہوجاتی ہیں اور یہ انسان اس چھوٹے سے خوردبینی انڈے سے یہاں تک پہنچتا ہے ، اور یہ انڈا رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور بڑا ہوکر ، مر کر کفن کے اندر یہ سب اجزاء جمع ہوتے ہیں۔ یہ تو ہے اس کی پہلی تخلیق۔ تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس مخلوق کو اللہ قبر سے دوبارہ اٹھالے۔ لیکن وہ لوگ یہ بات بہر حال کرتے تھے اور اس قسم کے لوگوں میں سے بعض آج بھی موجود ہیں جو ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ وہ یہ باتیں کرتے تھے اور اس کے بعد مزید مزاح اور ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے وہ یہ کہتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چلو پھرو سو دیکھ لو مجرمین کا کیا انجام ہوا) اس میں منکرین قیامت کو تنبیہ فرمائی ہے مطلب یہ ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے اور وقوع قیامت کے منکر ہو تم سے پہلے بھی تکذیب کرنے والے گزرے ہیں جو اسی دنیا میں رہتے تھے تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب آیا اور ہلاک ہوئے، ان کی آبادیوں کے نشان اب تک زمین کے مختلف گوشوں میں موجود ہیں، چلو پھرو انہیں دیکھو تاکہ تمہیں ان لوگوں کا انجام معلوم ہوجائے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اور تکذیب کر کے مجرم بنے، اگر تمہاری تکذیب جاری رہی تو سوچ لو تمہارا بھی یہی انجام ہوگا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی اور فرمایا کہ (وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ) (اور آپ ان کی باتوں پر رنج نہ کیجیے اور ان کے مکر کی وجہ سے تنگ دل نہ ہوجایئے اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا) (وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) جب ان سے کہا گیا کہ زمین میں چل کر دیکھ لو کہ مجرمین کا کیا انجام ہوا تو بطور تمسخر اور استہزاء یوں کہا کہ جو عذاب آنا ہے وہ کب آئے گا ؟ اگر سچے ہو تو اس کا وقت بتادو ! چونکہ عذاب کا یقین نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایسی بات کہی، اس کے جواب میں فرمایا (قُلْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ تم جس عذاب کی جلدی مچا رہے ہو عنقریب اس کا بعض حصہ تم سے آ ہی لگا ہے) ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے غزوہ بدر مراد ہے، غزوہ بدر میں مشرکین مکہ مکرمہ سے آئے اور شکست کھائی ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمیوں کو قید کر کے مدینہ لایا گیا یہ لوگ بڑے طمطراق سے نکلے تھے بالآخر دنیاوی عذاب بھی دیکھ لیا اور قبر کے عذاب میں بھی مبتلا ہوئے، اور یوم القیامہ کا عذاب اپنی جگہ باقی رہا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین کہتے یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ لقد وعدنا ھذا الخ، آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے یہ بات کہتا ہے اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی کہنے والوں نے اس بات سے ڈرایا ہمیں تو یہ بات بالکل ایک افسانہ اور بےحقیقت معلوم ہوتی ہے جو پہلے لوگوں کی من گھڑت ہے۔ آج تک ہم نے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ تو نہیں دیکھا۔ ذکروا انھم وعدوا ذلک ھم واباءھم فلم یقع شیء من ھذا الموعود ثم جزموا و حصروا ان ذلک من اکاذیب من تقدم (بحر ج 7 ص 94) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(67) آگے منکرین دین حق کے ان شبہات کا ذکر ہے جو وہ قیامت کے وقوع پر کیا کرتے ہیں اور یہ دین حق کے کیا منکر یوں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مرنے کے بعد خاک ہوگئے تو کیا ہم پھر زندہ کرکے قبروں سے نکالے جائیں گے۔ یعنی جب ہم مرگئے اور ہمارے باپ داد مر کر خاک میں مل گئے اور ہم سب مٹی ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے پھر نکالے جائیں گے۔