Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 68

سورة النمل

لَقَدۡ وُعِدۡنَا ہٰذَا نَحۡنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶۸﴾

We have been promised this, we and our forefathers, before. This is not but legends of the former peoples."

ہم اور ہمارے باپ دادوں کو بہت پہلے سے یہ وعدے دیئے جاتے رہے ۔ کچھ نہیں یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَقَدْ وُعِدْنَا هَذَا نَحْنُ وَابَاوُنَا مِن قَبْلُ ... Indeed we were promised this -- we and our forefathers before, meaning, `we and our forefathers have been hearing this for a long time, but in reality, we have never seen it happen.' ... إِنْ هَذَا إِلاَّ أَسَاطِيرُ الاَْوَّلِينَ verily, these are nothing but tales of ancients. the promises that bodies will be restored are إِلاَّ أَسَاطِيرُ الاَْوَّلِينَ (nothing but tales of ancients), meaning that they were taken by the people who came before us from books which were handed down from one to the other, but they have no basis in reality. Responding to their thoughts of disbelief and their belief that there would be no Resurrection, Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

681یعنی اس میں حقیقت کوئی نہیں، بس ایک دوسرے سے سن کر یہ کہتے چلے آ رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ : اس بات کا یعنی قبروں سے نکالے جانے کا وعدہ ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کیا گیا۔ یہاں ” ھٰذَا “ کا لفظ ” نَحْنُ “ سے پہلے ہے، جب کہ سورة مومنون میں ” نَحْنُ “ کا لفظ پہلے ہے، فرمایا : (لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا ) [ المؤمنون : ٨٣ ] اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ہر مقام کے لحاظ سے جو لفظ زیادہ اہم ہوتا ہے وہ پہلے لایا جاتا ہے۔ دونوں مقامات کا مقابلہ کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے بھی یہی وعدے کیے گئے تھے، وہی باتیں یہ پیغمبر نقل کر رہے ہیں، در حقیقت یہ محض فرضی قصے کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے دنیا کا نظام چلانے اور سرکشوں کو قابو میں رکھنے کے لیے گھڑیں اور نسل در نسل بیان ہوتی چلی آرہی ہیں۔ ہم نے آج تک نہ دیکھا، نہ سنا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد زندہ ہوا ہو، اسے نیکی پر جزا یا بدی پر سزا ملی ہو۔ ہمارے زمانے میں بھی جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہے، حالانکہ اس کا تعلق دیکھنے یا سننے سے نہیں، بلکہ اس کا تمام تر انحصار ایسے سچے (پیغمبر) کی خبر پر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ۝ ٠ۙ اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۝ ٦٨ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ سطر السَّطْرُ والسَّطَرُ : الصّفّ من الکتابة، ومن الشّجر المغروس، ومن القوم الوقوف، وسَطَّرَ فلان کذا : كتب سطرا سطرا، قال تعالی: ن وَالْقَلَمِ وَما يَسْطُرُونَ [ القلم/ 1] ، وقال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وقال : كانَ ذلِكَ فِي الْكِتابِ مَسْطُوراً [ الإسراء/ 58] ، أي : مثبتا محفوظا، وجمع السّطر أَسْطُرٌ ، وسُطُورٌ ، وأَسْطَارٌ ، قال الشاعر : 233- إنّي وأسطار سُطِرْنَ سطرا«6» وأما قوله : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ الأنعام/ 24] ، فقد قال المبرّد : هي جمع أُسْطُورَةٍ ، نحو : أرجوحة وأراجیح، وأثفيّة وأثافي، وأحدوثة وأحادیث . وقوله تعالی: وَإِذا قِيلَ لَهُمْ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قالُوا أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، أي : شيء کتبوه کذبا ومینا، فيما زعموا، نحو قوله تعالی: أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَها فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] ( س ط ر ) السطر والسطر قطار کو کہتے ہیں خواہ کسی کتاب کی ہو یا درختوں اور آدمیوں کی ۔ اور سطر فلان کذا کے معنی ایک ایک سطر کر کے لکھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ ن وَالْقَلَمِ وَما يَسْطُرُونَ [ القلم/ 1] ن قلم کی اور جو ( اہل قلم ) لکھتے ہیں اس کی قسم ۔ وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] اور کتابت جو لکھی ہوئی ہے ۔ یہ حکم کتاب ( یعنی قرآن میں لکھ دیا گیا ہے ۔ یعنی غفو ذا اور ثابت ہے ۔ اور سطر کی جمع اسطر وسط ور واسطار ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( رجز ( 227 ) انی واسطار سطرن سطرا یعنی قسم ہے قرآن کی سطروں کی کہ میں اور آیت کریمہ : ۔ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ الأنعام/ 24] پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ۔ میں مبرد نے کہا ہے کہ یہ اسطرۃ کی جمع ہے جیسے ارجوحۃ کی جمع اراجیع اور اثقیۃ کی جمع اثانی اور احد وثہ کی احادیث آتی ہے ۔ اور آیت : ۔ وَإِذا قِيلَ لَهُمْ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قالُوا أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] اور جب ان ( کافروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ۔ تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں یعنی انہوں نے بزعم خود یہ کہا کہ یہ جھوٹ موٹ کی لکھی ہوئی کہانیاں ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ان کے قول کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَها فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] اور کہتے ہیں کہ یہ ( پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو اس نے جمع کر رکھا ہے وہ صبح وشام ان کو پڑھو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨) جس کا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہم سے وعدہ کر رہے ہیں اس چیز کا تو ہمارے آباؤ و اجداد سے آپ کے وعدہ سے پہلے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو اگلے لوگوں سے روایت ہوتی چلی آئی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:68) وعدنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ وعد مصدر ہم سے وعدہ کیا گیا ۔ من قبل۔ من قبل ھذا اس سے قبل۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر : اسطورۃ کی جمع ۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطورہ کہلاتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی بےبنیاد اور بےحقیقت افسانے ہیں جو لوگوں نے دنیا کا نظام چلانے اور سرکشوں کو قابو میں رکھنے کے لئے گھڑ لئے تھے۔ اور پھر یہ پیغمبر ( علیہ السلام) ان ہی کی نقل کئے جا رہے ہیں۔ ہم نے آج تک کبھی دیکھا نہ سنا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو نیکی پر جزا یا بدی پر سزا ملی ہو۔ (وحیدی) ہمارے زمانہ میں بھی جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہے حالانکہ اس کا تعلق دیکھنے یا سننے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تمام تر انحصار تو کسی ایسے سچے آدمی (پیغمبر ( علیہ السلام) کی خبر پر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67) یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی کی جلد بازی سے جلدی آسکتا ہے اور نہ کسی کی غفلت کی وجہ سے موخر ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم اور مقرر وقت پر ہوگا اور اس کا علم زمین و آسمان دونوں کی مخلوقات سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے یہی کہا ، جب انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ” اس کے بارے میں پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا “ یہاں ان لوگوں کو ان لوگوں کی قتل گاہوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جو ان سے قبل ہلاک کیے گئے ، جنہوں نے سچائی کا انکار کیا اور قرآن میں یہاں ان کو مجرمین سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(68) یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ تو پہلے ہی سے ہمارے اور ہمارے باپ دادوں سے ہوتا رہا ہے مگر یہ کچھ نہیں محض اگلے لوگوں کے بےسروپا اور بےسند باتیں ہیں جو نقل ہوتی چلی آئی ہیں یعنی ہمارے بڑوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اور انبیاء کے بھی ایسے ہی وعدے ہوتے چلے آئے ہیں اور اب یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہم سے وعدے کر رہا ہے یہ باتیں محض بےسند ہیں جو اوپر سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ان میں واقعیت بالکل نہیں ہیں۔