Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 72

سورة النمل

قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ رَدِفَ لَکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۷۲﴾

Say, "Perhaps it is close behind you - some of that for which you are impatient.

جواب دیجئے! کہ شاید بعض وہ چیزیں جن کی تم جلدی مچا رہے ہو تم سے بہت ہی قریب ہوگئی ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ ... Say, (`O Muhammad,') ... عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you. Ibn Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat: وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا And they say: "When will that be!" Say: "Perhaps it is near!" (17:51) يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers. (29:54) ... عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم ... may be close behind you. means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

721اس سے مراد جنگ بدر کا وہ عذاب ہے جو قتل اور اسیری کی شکل میں کافروں کو پہنچایا یا عذاب قبر ہے رَدِفَ ، قرب کے معنی میں ہے، جیسے سواری کی عقبی نشست پر بیٹھنے والے کو ردیف کہا جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] کافروں کا جلد عذاب لانے کا مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ فی الواقعہ یہ چاہتے تھے کہ ان پر عذاب نازل ہو۔ بلکہ اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے ان وعدوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ تو آپ انھیں کہہ دیجئے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایسے عذاب کا کچھ حصہ عنقریب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے۔ عذاب کے اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر سے ہی ہوگیا تھا۔ پھر آپ کی زندگی میں ہی اس کچھ حصے کی کئی اقساط سے ان کافروں کو سابتہ پیش آتا رہا۔ اور اس عذاب کا زیادہ حصہ بلکہ اصل عذاب تو انھیں آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ اس آیت میں عسی کا لفظ ان معنوں میں نہیں کہ شاید تم پر عذاب آجائے نہ آئے بلکہ یہ شاہانہ انداز کلام ہے اور بڑے لوگ جب اس انداز سے خطاب کریں۔ تو وہ بات یقینی ہی سمجھی جاتی ہے اور اگر ایسا کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو پھر اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور فعل میں کچھ فرق نہیں۔ ارادہ تو دور کی بات ہے اللہ تعالیٰ تو جو کچھ چاہے وہ بھی ہو کے رہتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ ۔۔ : ” ردیف “ اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر کسی شخص کے پیچھے بیٹھا ہو۔ یعنی جلدی نہ مچاؤ، جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، وہ ہر حال میں آکر رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب آپہنچا ہو۔ اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر ہی سے ہوگیا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں اس کچھ حصے کی کئی قسطوں سے کفار کو سابقہ پیش آتا رہا، پھر قبر کا عذاب بھی قریب ہے اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ) [ النحل : ١ ] ” اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۝ ٧٢ عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین في ذلك . فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، عَسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ [ التحریم/ 5] ، وَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ [ البقرة/ 216] ، فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ [ محمد/ 22] ، هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتالُ [ البقرة/ 246] ، فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً [ النساء/ 19] . والمُعْسِيَاتُ «1» من الإبل : ما انقطع لبنه فيرجی أن يعود لبنها، فيقال : عَسِيَ الشّيءُ يَعْسُو : إذا صَلُبَ ، وعَسِيَ اللّيلُ يَعْسَى. أي : أَظْلَمَ. «2» . ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا استعمال صحیح نہیں ہے مگر یہ ان کی تاہ نظری ہے کیونکہ جہاں کہیں قرآن میں عسی کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کیساتھ لہذا آیت کریمہ : ۔ عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اسی طرح فرمایا : ۔ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے عَسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ [ التحریم/ 5] اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ انکار پروردگار وَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ [ البقرة/ 216] مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو ۔ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ [ محمد/ 22] تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ ۔ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتالُ [ البقرة/ 246] کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً [ النساء/ 19] اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کر دے ۔ المعسیانشتر مادہ جس کا دودھ منقطع ہوگیا ہو اور اس کے لوٹ آنے کی امید ہو ۔ عسی الیل یعسو رات کا تاریک ہوجانا ۔ ردف الرِّدْفُ : التابع، ورِدْفُ المرأة : عجیزتها، والتَّرَادُفُ : التتابع، والرَّادِفُ : المتأخّر، والمُرْدِفُ : المتقدّم الذي أَرْدَفَ غيره، قال تعالی: فَاسْتَجابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ [ الأنفال/ 9] ، قال أبو عبیدة : مردفین : جائين بعد «1» ، فجعل رَدِفَ وأَرْدَفَ بمعنی واحد، وأنشدإذا الجوزاء أَرْدَفَتِ الثّري وقال غيره : معناه مردفین ملائكة أخری، فعلی هذا يکونون ممدّين بألفین من الملائكة، وقیل : عنی بِالْمُرْدِفِينَ المتقدّمين للعسکر يلقون في قلوب العدی الرّعب . وقرئ مُرْدِفِين أي : أُرْدِفَ كلّ إنسان ملکا، ( ومُرَدَّفِينَ ) يعني مُرْتَدِفِينَ ، فأدغم التاء في الدّال، وطرح حركة التاء علی الدّال . وقد قال في سورة آل عمران : أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ بَلى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمِينَ. وأَرْدَفْتُهُ : حملته علی رِدْفِ الفرس، والرِّدَافُ : مرکب الرّدف، ودابّة لا تُرَادَفُ ولا تُرْدَفُ وجاء واحد فأردفه آخر . وأَرْدَافُ الملوکِ : الذین يخلفونهم . ( ر د ف) الردف تابع یعنی ہر وہ چیز جو دوسرے کے پیچھے ہو اور ردف المرءۃ کے معنی عورت کے سرین کے ہیں ۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا ۔ ایک دوسرے کی پیروی کرنا ۔ الرادف ۔ متاخر یعنی پچھلا ۔ المردف اگلا جس نے اپنے پیچھے کسی کو سوار کیا ہو ۔ قرآن میں ہے : فَاسْتَجابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَالْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ [ الأنفال/ 9] سو اس نے تمہاری سن لی ( اور فرمایا ) کہ ہم لگاتار ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے ۔ ابو عبیدہ کے نزدیک ردف واردف یعنی مجرد اور مزید فیہ ایک ہی معنی میں آتے ہیں اس لئے انہوں نے مردفین کا معنی بعد میں آنے والے کیا ہے ۔ اور یہ شاید پیش کیا ہے ۔ (179) |" اذا الجوزاء اردفت الثریا |" جب ثریا کے پیچھے جوزاء ستار نگل آیا ۔ مگر ابو عبیدہ کے علاوہ دوسرے علماء نے مردفین کے معنی یہ کئے ہیں کہ |" دوسرے فرشتوں کو پیچھے لانے والے |" تو اس لحاظ سے گویا دو ہزار فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کی گئی تھی ۔ بعض نے کہا ہے مردفین سے مراد وہ فرشتے ہیں ۔ جو اسلامی لشکر کے آگے چلتے تھے تاکہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیں ۔ اور ایک قرات میں مردفین فتح دال کے ساتھ ہے یعنی ہر ایک مسلمان فوجی کے پیچھے اس کی مدد کے لئے ایک فرشتہ متعین تھا ۔ ایک اور قرآت میں مردفین بتشدید دال ہے جو دراصل مردفین باب افتعال سے ہے ۔ صرفی قاعدہ کے مطابق تاء کو دال میں ادغام کر کے اس کی حرکت دال کو دے دی گئی ہے ۔ سورة آل عمران میں ہے : أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ بَلى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمِينَ. کیا تم کو اتنا کافی نہیں کہ تمہارا رب ( آسمان سے ) تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرمائے ( ضرور کافی ہے ) بلکہ اگر تم ثابت قدم رہو ( اور خدا اور رسول کی نافرمانی سے ) بچو اور دشمن ( ابھی ) اسی دم تم پر چڑھ آئیں تم تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جو بڑی سج دھج سے آموجود ہوں گے ۔ وأَرْدَفْتُهُ : میں نے اسے اپنے پیچھے سوار کیا ۔ والرِّدَافُ : سواری پر ردلف کے بیٹھنے کی جگہ ۔ ودابّة لا تُرَادَفُ ولا تُرْدَفُ : سواری جو ردیف کو سوار نہ ہونے دے ۔ وجاء واحد فأردفه آخر : ایک کے بعد دوسرا آیا ۔ وأَرْدَافُ الملوکِ : بادشاہوں کے جانشین ، نائب ۔ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٢) آپ ان سے فرما دیجیے کہ عجب نہیں جس عذاب کے بارے میں تم جلدی مچا رہے ہو وہ تمہارے قریب ہی آگیا ہو۔ یعنی بدر کا دن۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٢ (قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) ” ” رَدِفَ “ کے معنی گھوڑے پر دوسری سواری کے طور پر سوار ہونے کے ہیں۔ اس طرح پچھلا سوار اپنے آگے والے کی پیٹھ کے ساتھ جڑ کر بیٹھنے کی وجہ سے ” ردیف “ کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم جس عذاب کے بارے میں بےصبری سے بار بار پوچھ رہے ہو وہ اب تمہاری پیٹھ کے ساتھ آ لگا ہے ‘ بس اب تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ ان الفاظ میں غالباً غزوۂ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں مشرکین مکہ کو عذاب الٰہی کی پہلی قسط ملنے والی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

89 This is a royal way of saying a thing. When words like "perhaps", "no wonder", etc. occur in the Divine discourse, they do not contain any sense of doubt, but express Allah's Independence and Self-Sufficiency. Allah's power is so great that His willing a thing and its happening is one and the same thing. It is inconceivable that He should will a thing and it should not happen. Therefore, when He says, "No wonder it may well be so", it means, "It will certainly be so if you do not mend your ways."

سورة النمل حاشیہ نمبر : 89 یہ شاہانہ کلام کا اندازہ ہے ۔ قادر مطلق کے کلام میں جب شاید اور کیا عجب اور کیا بعید ہے جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بے نیازی کا اظہار ہوتا ہے ، اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہوجانا گویا ایک ہی بات ہے ۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے ، اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ کیا عجب ایسا ہو یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا ہوکر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے ، ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکار رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں آتی ، کجا کہ قادر مطلق کسی سے کہہ دے کہ تمہارا برا وقت کچھ دور نہیں ہے اور پھر وہ بے خوف رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اِس کا کچھ حصہ دُنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بُری طرح شکست ہوئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:72) عسی۔ عنقریب ہے۔ ستاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ اس کے استعمال کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تفصیل کیلئے ملاحظہ وہ لغات القرآن حصہ چہارم از مولنا عبد ارزید نعمانی بدوۃ المصنفین دہلی۔ ردف۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ پیچھے لگا۔ وہ پیچھے ہوا۔ ردف مصدر باب سمع رادف پچھلا۔ کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والا۔ اور ردف اپنے پیچھے کسی کو سواری پر بٹھانے والا۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے۔ انی ممدکم بالف من المئکۃ مردفین (8:9) کہ ہم لگاتار آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے۔ لکم میں لام تاکید کے لئے ہے یا زائدہ ہے جیسا کہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195) میں باء تاکید کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور زائدہ بھی۔ ردف عموما بغیر صلہ کے استعمال ہوتا ہے یعنی یہ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ ان یکون ردفکم کہ تمہارے پیچھے آہی لگا ہو۔ بعض الذی۔ بعض بمعنی اس کا کچھ حصہ ۔ یہ یکون اور ردف کا فاعل ہے۔ بعض سے مراد بعض عذاب۔ عذاب کا کچھ حصہ تستعجلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جلدی کرتے ہو۔ تم عجلت کرتے ہو۔ تم جلدی مچاتے ہو۔ استعجال (استفعال) مصدر۔ عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون۔ ہوسکتا ہے کہ اس عذاب کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آہی لگا ہو جس کی تم جلدی مچا رہے ہو !

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

۔ یعنی قریب ہی پہنچ گیا ہو۔ اس ” کچھ عذاب “ سے مراد قبر کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے مشرکین مکہ بدر کے دن دوچار ہوئے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔ مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : ٧٨۔ ٧٩ کا) اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہو تو قیامت لاؤ یا عذاب کا وعدہ پوراکرو ؟ اے پیغمبر ! فرمادیجیے کہ جس کی تم جلدی کرتے ہو امید ہے کہ وہ قریب ہی آن پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے فضل و کرم کی بناء پر ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ تائب ہوجائیں مگر لوگ ڈھیل سے فائدہ اٹھانے اور مزید مہلت ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں۔ حالانکہ جو کچھ لوگ چھپاتے ہیں اور جو وہ اعلانیہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے نہ صرف وہ زمینوں، آسمانوں کے غیب سے واقف ہے بلکہ اس نے ایک کھلی کتاب میں ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ گناہ چھپانے یا اعلانیہ کرنے کا ذکر فرما کر لوگوں کو بتلایا ہے کہ عذاب نازل نا کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ تعالیٰ تمہارے جرائم سے ناواقف ہے ہرگز نہیں ! جو کچھ تم لوگوں سے چھپاتے ہو یا جو تم سر عام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے، کیونکہ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، ناصرف کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بلکہ سب کچھ اس نے اپنے ہاں کھلی کتاب میں لکھ رکھا ہے۔ اس خطاب میں عسٰی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ” اُمید “ ہے۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی سے امید ہے۔ اللہ تعالیٰ کے منکر اس لفظ کی غلط توجیہہ کرسکتے تھے۔ اس لیے اسے ” قُلْ “ کہہ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ کہیں کہ مجھے امید ہے جس عذاب کی تم جلدی کرتے ہو وہ تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے قریب ہی آن پہنچا ہے۔ چناچہ یہی کچھ ہوا کہ اہل مکہ بہت جلد ہر قسم کی ذلّت اور عذاب سے دو چار ہوئے۔ مسائل ١۔ دلائل سننے اور جاننے کے باوجود منکرین آخرت کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ ٢۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر اس لیے فضل کرتا ہے تاکہ لوگ اس کا شکر ادا کریں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید اور لوگوں کے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے۔ ٥۔ زمینوں، آسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہو۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بات لوح محفوظ پر درج کر رکھی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں اور اگلے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا غیب تو مستور ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردے حائل ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ پردوں کے پیچھے کیا ہے۔ بعض اوقات چند قوموں کے فاصلے پر ایک خوفناک صورت حالات ہوتی ہے۔ عقلمند شخص تو ہر وقت چوکنا رہتا ہے ، ڈرتا ہے اور ہر وقت اور ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہتا ہے کہ کوئی صورت بھی پیش آسکتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(72) آپ کہہ دیجئے کہ جس عذاب کی تم جلدی کر رہے ہو کیا عجب ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو یعنی جس عذاب کو جلدی مانگ رہے ہو اس کا کچھ حصہ شاید تمہاری پیٹھ کے پیچھے آلگا ہو اور عنقریب پہنچ جائیگا آگے تاخیر کی وجہ بیا ن کی جاتی ہے۔