Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 75

سورة النمل

وَ مَا مِنۡ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۵﴾

And there is nothing concealed within the heaven and the earth except that it is in a clear Register.

آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا مِنْ غَايِبَةٍ ... and there is nothing hidden, Ibn Abbas said, "This means, there is nothing ... فِي السَّمَاء وَالاَْرْضِ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ in the heaven and the earth but it is in a Clear Book. This is like the Ayah, أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَأءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth! Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah. (22:70)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

751اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ان ہی غائب چیزوں میں اس عذاب کا علم بھی ہے جس کے لئے یہ کفار جلدی مچاتے ہیں لیکن اس کا وقت بھی اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے جسے صرف وہی جانتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے جو اس نے کسی قوم کی تباہی کے لئے لکھ رکھا ہے، تو پھر اسے تباہ کردیتا ہے۔ یہ مقررہ وقت آنے سے پہلے جلدی کیوں کرتے ہیں ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٩] یعنی ان لوگوں کے ظاہری اعمال سے بھی اللہ واقف ہے اور باطنی خیالات سے بھی، ان کی حالیہ کرتوتوں سے بھی اور جو کچھ یہ آوندہ کے لئے سازشیں تیار کر رہے ہیں ان سب باتوں سے صرف واقف نہیں بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی اس کے ریکارڈ میں درج ہے۔ نیز یہ بھی کہ ان لوگوں کو کتنی مہلت دی جائے گی اور کب ان پر عذاب آئے گا۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے وہ اپنے وقت پر آکے رہے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَةٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (٥٩) ” غَاۗىِٕبَةٍ “ میں تاء مبالغہ کے لیے ہے، جیسے ” کَافِیَۃٌ“ اور ” عَلاَّمَۃٌ“ میں ہے، یعنی انتہائی مخفی چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے، وہ اپنے وقت پر آکر رہے گا۔ اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ نہیں آئے گا، سرا سر حماقت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَۃٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۝ ٧٥ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے كتب) حكم) قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اور یہ جو کفر وشرک قتل و غارت گری کرتے ہیں اور آسمان والوں اور زمین والوں میں ایسی کوئی پوشیدہ چیز نہیں جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی نہ ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ (وَمَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) ” گویا اللہ تعالیٰ کے علم قدیم ہی کو یہاں کتاب مبین کہا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

92 Here by "Book" is not meant the Qur'an, but the Divine Record in which everything has been registered.

سورة النمل حاشیہ نمبر : 92 یہاں کتاب سے مراد قرآن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کا وہ ریکارڈ ہے جس میں ذرہ ذرہ ثبت ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

34: اس سے مراد لوح محفوط ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:75) غائیۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ۃ مبالغہ کی ہے مؤنث کی نہیں۔ بہت ہی چھپنے والی اور زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رہنے والی چیز۔ کتب مبین۔ موصوف و صفت۔ واضح کتاب۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے وہ اپنے وقت پر آ کر رہے گا اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ وہ نہیں آئے گا) سراسر حماقت ہے۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین (27: 75) فکر و خیال اب زمین و آسمان کے وسیع میدان میں چلا جاتا ہے۔ زمین و آسمان کے اندر چھپے ہوئے بھید تو بیشمار ہیں۔ بیشمار راز ، بیشمار قوتیں ، بیشمار عجوبے ، سب کے سب اللہ کے علم و ناموس کے پابند۔ کوئی چیز بھی علم الٰہی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اور نہ وہ بنیست علم الٰہی غائب ہے۔ یہ حاضر و غائب تو انسانی علم کی تقسیم ہے۔ اس سورت کی تذکیر تو علم پر ہے۔ پوری سورت میں علم کی طرف اشارات ہیں اور اس سبق کے اختتام پر یہ آخری اشارہ ہے۔ اللہ کے علم مطلق کے حوالے سے یہاں علم الٰہی نے کس طرح قرآن کریم میں فیصلہ کن اور دو ٹوک باتیں سامنے لاکر بنی اسرائیل کے وہ مسائل حل کر دئیے جس میں وہ صدیوں سے مختلف فیہ تھے۔ یہ قرآن اللہ کے علم کا ایک حصہ اور نمونہ ہے۔ اور اللہ کے فضل میں سے ایک فضل ہے۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک گونہ تسلی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو اللہ کے اس آخری فیصلے کی طرف بلاتے رہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ مَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنَ ) (اور آسمان اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو) کتاب مبین سے مفسرین نے لوح محفوظ مراد لی ہے، مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کتاب مبین میں محفوظ ہے، ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا علم کسی کتاب میں مندرج پر موقوف نہیں ہے لیکن پھر بھی لوح محفوظ میں درج فرما دیا ہے لوگوں کے اعمال حسنات سیئات بھی محفوظ ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے گا سزا دے گا، سزا میں دیر لگنے سے یہ نہ سمجھیں کہ سزا نہ ملے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(75) اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی پوشیدہ چیز نہیں جو کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود نہ ہو یعنی آسمان و زمین کی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے۔